عقل و فکر کی حدود اور راہِ حق کا تعین

دفتر اول حکایت نمبر 23 - (اشاعتِ اول)، منگل، 13 اگست، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      عجز اور قدرت کا فلسفہ (جبر و قدر کا اعتدال)

·      عقلِ سلیم بمقابلہ عقلِ نفسانی

·      فکری و فلسفیانہ غور و فکر کے حدود

·      شریعت و طریقت میں مرشد کی اہمیت

فطرت اور خواہشِ نفس میں فرق

اجتہاد اور ذاتی رائے کی حدود

قلب کی اصلاح اور طریقِ صحابہ کا اتباع

استلذاذِ روح اور استلذاذِ طبع کا فرق

وحدت و کثرت کے فکری مباحث

 

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

معزز خواتین و حضرات! آج منگل ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوتا ہے اور یہ درس ماشاء اللہ بہت سارے حقائق کو سمجھانے والے دروس ہوتے ہیں

10

ایک کو بولا اپنا عجز دیکھنا نہیں وہ ہے احسان فروشی کرنا نہیں

(بر عکس اس کے) ایک (دفتر) میں کہا اپنا عجز مت دیکھ (بلکہ عمل میں مشغول رہ) خبردار! وہ عجز (کا عقیدہ) احسان فراموشی ہے۔

مطلب یہ کہ عاجزی کو سستی کہا کہ بھائی عاجزی نہ کرنا یعنی کہ سستی نہ کرنا، وہ اس کے ساتھ جو ہے نا دھوکے والی بات ہے، مطلب تو یہ احسان فراموشی ہے تو یہاں پر یہ عقیدہ کر لیا۔

11

اپنی قدرت دیکھ کہ یہ اُس کی ہی ہے اس کی نعمت ہے کہاں تیری ہی ہے

اپنی قدرت کو دیکھ (جو تجھے عمل پر حاصل ہے) یہ قدرت اسی کی طرف سے ہے۔ اپنی قدرت اسی (ذات پاک) کا عطیہ سمجھ کہ وہی وہ ہے۔

مطلب: اپنے آپ کو قادر سمجھ عاجز نہ سمجھ۔ کیونکہ قدرت رکھتے ہوئے اپنے آپ کو عاجز سمجھنا خدا کی عطا کردہ قدرت کا انکار اور اس کی نعمت کا کفران ہے۔

تنقیح: اوپر بندہ کو مجبورِ محض قرار دیا تھا۔ اب اس کو مطلقًا صاحبِ قدرت بتاتا ہے۔

وہ جو، قدریہ۔ ایک ہوتا ہے نا، مطلب جبریہ اور ایک قدریہ۔ قدریہ مطلب وہ جو، وہ لوگ، وہ کہتے ہیں بس ہم مختار ہیں۔ ہم لوگ، مطلب ہمارے ساتھ اس کے مطابق یہ بات ہوگی۔ تو وہ بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ انسان کچھ مجبور ہے، کچھ مختار ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ جی، ہم کتنے مجبور ہے، کتنا مختار ہے؟ فرمایا، میں ایک پیر اٹھاؤ۔ اس نے اٹھا دیا، کہا دوسرے بھی ساتھ اٹھاؤ۔ اس نے کہا، یہ تو نہیں کر سکتا۔ انہوں نے فرمایا کہ اتنے مجبور ہے، اتنے مختار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ، یہ کر سکتے ہو یا نہیں کر سکتے ہو؟ تو ہر چیز کا اپنا اپنا، مطلب پہچان ہے ان کی،

تو ایک کو کہا کہ اپنی عجز مت دیکھ بلکہ عمل میں مشغول رہے خبردار وہ عجز کا عقیدہ انسان فراموشی ہے۔

11

اپنی قدرت دیکھ کہ یہ اُس کی ہی ہے اس کی نعمت ہے کہاں تیری ہی ہے

اپنی قدرت کو دیکھ جو تجھے عمل پر حاصل ہے۔ یہ قدرت اسی کی طرف سے ہے، اپنی قدرت اسی ذاتِ پاک کا عطیہ سمجھ کے وہی ہے، یعنی اپنے آپ کو قادر سمجھ، عاجز نہ سمجھ کیونکہ قدرت رکھتے ہوئے اپنے آپ کو عاجز سمجھنا خدا کی قدرت، عطا کردہ قدرت کا انکار اور اس کی نعمت کا کفران ہے۔ اوپر بندہ کو مجبوریِ محض قرار دیا تھا اب اس کو مطلقا صاحبِ قدرت بتاتا ہے،

یہ اعتقاد فرقۂ قدریہ کا ہے جس کے نزدیک بندہ کو قدرتِ کامل حاصل ہے۔ حتی کہ وہ خود خالق اور جاعلِ خیر و شر ہے۔ اہلِ حق کا عقیدہ یہ ہے کہ بندہ کو قدرت و اختیار تو حاصل ہے مگر مطلقًا نہیں۔

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ، اسی میں سارا کچھ طے ہو جاتا ہے نا کہ سارا کچھ حاصل نہیں ہے مطلب یہ کہ "إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ" اللہ چاہے گا تو ہو گا، تو وہی بات ہے کہ اللہ پاک اس چیز کو ہونے دینا چاہے گا جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ میرے پوری طاقت ہو گی، میں نے ابھی مثال دی کہ مثال کے طور پر میں یہاں پر میں نے کہہ دیا کہ میں نے برمنگھم کل ضرور جانا ہے صبح اور اتنی بارش ہو جائے کہ راستے Block ہو جائیں، میں نہ جا سکوں تو آدمی کیا کہے، کیا کر سکتا ہے، کچھ بھی نہیں کر سکتا، تو اسی طریقے سے انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ مجھے جو حکم ہے اس میں نے تو ضرور عمل کرنا ہے لیکن ہو گا وہی جو اللہ چاہے گا۔ ہو گا وہی جو اللہ چاہے گا۔ وہ حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے، بہت بڑے اونچے اللہ والے تھے، ایک دفعہ فرمایا -بہت شکار کے بہت زبردست ہوتے تھے نا مطلب تیر اندازی کے- تو فرمایا کہ کوئی پرندہ اگر اڑ رہا ہو اس کو میں اگر تیر ماروں تو بچ نہیں سکتا۔ تو کسی نے کہا: "حضرت! اگر وہ اس کی موت قسمت میں نہ ہو تو پھر؟" فرمایا: "پھر وہ اس راستے پہ نہیں آئے گا۔" پھر وہ اس طرف نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو بچا دے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً اگر اللہ پاک چاہے گا تو کام ہو گا، اللہ نہیں چاہے گا تو کام نہیں ہو سکتا، یہ بات صحیح ہے۔

اہلِ حق کا عقیدہ یہ ہے کہ بندہ کو قدرت و اختیار تو حاصل ہے مگر مطلقًا نہیں اور نہ مستقل طور پر۔ بلکہ اس اختیار میں وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور اسی نے یہ اختیار اس کو بخشا ہے اور اختیار بھی صرف اس قدر کہ وہ صرف کاسبِ افعال ہے نہ کہ خالقِ افعال۔ جیسے کہ اوپر مفصّل بیان ہو چکا۔ پس بندہ قادر ہے۔ مگر مرتبۂ کسب میں نہ کہ مرتبۂ خلق میں۔ وزیر نے عیاری سے اس کو مطلقًا قادر بنا دیا۔

پہلے کو مطلقاً مجبور بتا دیا، دوسرے کو مطلقاً قادر بتا دیا، تو اختلاف کے بیج تو بو دیے نا۔

12

ایک کو وہ بولا یہ کہ دونوں چھوڑ دو بُت ہیں گر دل میں اِن کو توڑ دو

ایک (دفتر) میں کہا ان (عجز و قدرت) دونوں کو چھوڑو۔ ان دونوں میں سے جو تیرے دل میں سمائے گا وہ بت (یعنی غیر خدا) ہے۔ ان کو چھوڑ دو۔

تنقیح: یہ مضمون پہلے دونوں سے معارض ہے یعنی کہتا ہے۔ جبر و قدر کا جھگڑا ہی چھوڑ دے، ان مباحث پر غور و فکر کرنا بمنزلہ بُت ہے۔ جو بندے کو توجہ الٰی اللہ سے باز رکھتا ہے۔ یہ بات بھی وزیر نے جس عموم و اطلاق کے ساتھ کہی، غلط ہے۔ بلکہ تفصیلًا یوں کہنا صحیح ہے کہ جو باتیں داخلِ عقائد ہیں ان کو سوچنا اور دل میں محکم رکھنا تو فرض ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر بِنائے مذہب بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ مگر ہر وقت انہی باتوں کے بحث و تکرار میں پڑے رہنا البتہ خلافِ مصلحت اور مورثِ وساوس ہے۔

مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ ان باتوں میں انسان کو یعنی ڈیٹیل میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ تقدیر کی باتیں ہیں، تقدیر کی باتوں میں تو اجمال ہے تفصیل نہیں ہے۔ تفصیل پہ انسان پہنچ ہی نہیں سکتا۔ تفصیل میں انسان پہنچ ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا جب تفصیل میں نہیں پہنچ سکتا، کل حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہم سن رہے تھے، فرمایا "تقدیر اصل میں اللہ جل شانہٗ کی صفات کا استحضار کا نتیجہ ہے"۔ کہ اللہ پاک کے جو صفاتِ کاملہ ہیں انسان کو اگر اس پر عقیدہ ہو تو اس کو کوئی وسوسہ تقدیر کا نہیں آئے گا۔ وسوسہ اس وقت آتا ہے کہ اس میں مطلب اس کا استحضار کسی چیز کا نہ ہو اور کسی چیز کا ہو تو اس وجہ سے پھر وہ تقدیر کے بارے میں وسوسہ آتا ہے اور دوسرے لفظوں میں اگر کسی کی معرفت صحیح حاصل نہ ہو وہ تقدیر کے بارے میں بحث و مباحثہ کر سکتا ہے۔ جس کو معرفت کامل ہو وہ اس مسئلے میں بولتے ہی نہیں، اس کو پتا ہوتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے، لہٰذا اس مسئلے کو چھیڑتے ہی نہیں، تو یہ بات ہے۔

13

ایک کو بولا دونوں اور سب ہیں خیال کچھ نہیں کرنا گزر جائیں گے خیال

ایک (دفتر) میں کہا تیرا عجز اور قدرت اور (ان کے علاوہ) جو کچھ تمہارے خیال میں ہے سب (خود بخود) گزر جائے گا (تم کو ان کے ترک کے اہتمام کی ضرورت نہیں)۔

14

ترک کرنا کام نفس کی تابع داری کا ہے ہر ملت میں کام ذلت و خواری کا ہے


(کیونکہ کسی چیز کا ترک کرنا بھی خواہشِ نفس کا اتباع ہے اور) ہر مذہب میں جو لوگ اپنی خواہش کے تابع ہوتے ہیں وہ ذلت و خواری میں گرفتار ہوتے ہیں۔

مطلب: اوپر جو کہا تھا کہ عجز و قدرت دونوں کو چھوڑ دے۔ ان دونوں شعروں میں بھی وہی مضمون ہے کہ جبر و قدر دونوں قابلِ التفات نہیں ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہاں ان کے ترک کرنے کی ترغیب تھی اور یہاں کہا ہے کہ ان کے ترک کرنے کا بھی اہتمام نہ کرو کیونکہ وہ خود زائل ہو جائیں گے۔

تنقیح: اس طومار میں جو یہ کہا ہے کہ ان امور کو ترک کرنے کا ارادہ نہ کر بلکہ یہ خود زائل ہو جائیں گے، یہ بایں معنٰی تو صحیح ہے کہ ارادہ مؤثرِ حقیقی نہیں۔ مگر یہ کہنا کہ ارادہ نہ کیا جائے، ایک مغالطہ ہے۔

کیونکہ ارادہ سببِ عادی ہے اور بندہ کاسب ہے۔ کما مرّ۔ البتہ جو ارادہ و تدبیر مذموم ہے وہ قابلِ ترک ہے اور جو تدبیر و ارادہ مرضیِ حق کے موافق بلکہ مامور بہ ہو، اس کا ترک محمود نہیں بلکہ مذموم ہو گا۔

در یکے گفتہ مکش ایں شمع را

کایں نظر چوں شمع آمد جمع را

15

ایک کو بولا اِس پہ رکھنا ہے نظر شمع ِ غور و فکر کو گُل نہ کر

مطلب یہ ہے کہ برخلاف اس کے ایک دفتر میں کہا کہ اس غور و فکر کی شمع کو گل نہ کر کیونکہ طریقہ نظر ایسا ہے جیسے محفل کے لیے شمع۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ جو غور و فکر ہے اس کی ضرورت ہے اس کو ختم نہ کر کیونکہ یہی اصل میں ہمارے کاموں کا ذریعہ ہے۔

16

چھوڑ دے گا تو اگر فکر و خیال نیم شب میں بجھے جیسے شمعِ وصال

جب تو غور و فکر اور خیال کو چھوڑ دے گا تو گویا تو نے آدھی رات کو شمعِ وصال بجھا دی۔

تنقیح: یہ مضمون پہلے مضمون سے معارض ہے، وہاں عقائدِ مذہب پر غور و فکر کرنے سے منع کیا تھا۔ اب کہتا ہے غور و فکر جاری رکھو اگر اس کو بند کر دیا تو مقصد فوت ہو جائے گا۔ مطلقًا یہ بات بھی ٹھیک نہیں۔ کیونکہ فکر و نظر دو طریق سے ہو سکتا ہے۔ ایک تو فلسفیانہ طریق سے۔ جس کے سبب سے آدمی میں دہریت اور الحاد پیدا ہو جاتا ہے، یہ تو بے شک مذموم ہے۔ ایک یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے کارخانہ کو اعتبار و استبصار کی نظر سے دیکھے۔ جس سے اس کے دل کو مزید ایقان و طمانیت حاصل ہو۔ غور و فکر کی یہ صورت محمود بلکہ قرآن میں جا بجا مامور بہا ہے۔

"لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ" بار بار کہا جاتا ہے اس میں کیا ہے "إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ" (آل عمران: 190-191)

یہ تو محمود ہے۔ اللہ پاک نے خود فرمایا کہ مطلب یہ ہے نا جو اولوالالباب ہے وہ ایسا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دیکھیں ہم نے خود یہاں پر کل بھی بات اس پر ہوئی ہے جس میں میں نے عرض کیا کہ اے سائنسدانوں! آدھا کام تو تم کر ہی رہے ہو۔ اب یہ آدھا کام بھی ساتھ کر لو، وہ آدھا کام تم کر رہے ہو کہ سوچ بچار تو کر ہی رہے ہو، غور و فکر تو کر ہی رہے ہو، کائنات کے اندر تم غور و فکر کرتے ہو، یہ تمہارے سارے کاموں کے لیے ذریعہ ہے لیکن اگر تم ان کے ساتھ ذکر کو بھی ملا دو گے، یعنی کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد رکھو گے، تو پھر کیا ہو گا؟ یہ اللہ تعالیٰ کے قدرتوں پر آپ کا جو ہے مطلب عقیدہ مضبوط ہو جائے گا اور اللہ جل شانہٗ کے تمام اس صفات کا استحضار آپ کو حاصل ہو جائے گا اور یہ معرفت بڑھے گی اور یہی اولوالالباب ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کو حاصل کرنے کا آدھا کام تو تمہارے ساتھ ہو رہا ہے لیکن چونکہ تمہاری نظر اللہ پر نہیں ہے، اللہ یاد نہیں ہے، لہٰذا تم وہ سب کچھ اپنے لیے استعمال کر رہے ہو۔ یعنی اپنے عجب میں مبتلا ہو کہ ہم نے یہ کر دیا، ہم نے یہ کر دیا، ہم نے یہ کر دیا، حالانکہ اللہ پاک نے تم لوگوں کو موقع دیا۔ مثال کے طور پر دیکھو اور تو چھوڑیں، کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان ہے اس کے دماغ کا جو ہے نا ایک چھوٹا سا رگ ہے پھٹ جائے، وہ کیا کر سکتا ہے؟ کدھر جائے گا؟ ظاہر ہے ہسپتال جائے گا، پتا نہیں پھر بات بھی کر سکے، نہ کر سکے گا، سوچنا تو بڑی بات ہے۔ تو اس کا مطلب سارا کچھ اس کا ختم ہو جائے گا۔ تو اللہ پاک نے اس کو کرنے دیا تو یہ جو ہے نا یہ اللہ پاک کی طرف سے ہے، پھر جو اسباب اختیار کر رہے ہو، اسباب سارے اللہ نے بنائے ہوئے ہیں۔ مجھے بتاؤ ہائیڈروجن اور آکسیجن نہ ہو اور تو بنانا چاہتا ہے پانی، ہاں! تو پانی کیسے بنے گا اگر ہائیڈروجن آکسیجن نہ ہو؟ وہ ہو گا تو اس کے Combination سے پانی بنے گا نا؟ یا پانی سے تم ہائیڈروجن آکسیجن بنانا چاہتے ہو، تو پانی نہیں ہو گا تو کیسے بناؤ گے؟ مطلب یہ کہ آپ کو جو Raw material ہے وہ اللہ نے دی ہے، آپ ایک ذرہ بھی نہیں بنا سکتے، بنا کر دکھا دیں۔ ایک ایٹم بھی نہیں بنا سکتے، بنا کر دکھا دیں خود اپنے طور سے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ پاک کی ساری چیزیں ہیں اور اللہ پاک کی چیزوں کو تو نے استعمال کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے ذہن کو استعمال کر کے کیا ہے، تو بتاؤ تو نے کیا کیا؟ وہ تو سب کچھ اللہ نے کیا، ہاں تجھے اللہ پاک نے اس کے اظہار کا سبب بنا دیا کہ تم اس کے لیے کام کر رہا تھا۔ اب اگر تیری نظر اللہ پر ہوتی تو یہی معرفت ہے۔ اور اگر تیری نظر اللہ سے ہٹ کر اپنے آپ پر آ گئی تو یہ الحاد ہے، یہ اس سے تم ظاہر ہے مطلب اپنے حق راستے سے ہٹ گئے ہو۔ تو جو چیز تم مطلب معمولی محنت سے اس کو الحاد سے معرفت میں تبدیل کر سکتے ہو، تو کیوں نہیں کرتے ہو؟ اس کو کرو نا۔ تو یہی بات ہے کہ یہ مطلب یہ ہے کہ جو غور و فکر ہے یہ کوئی باطل چیز نہیں ہے، لیکن غور و فکر الحادی طور پر نہیں کرنا، غور و فکر فلسفیانہ طور پر نہیں کرنا، الحادی طور پر نہیں کرنا کیونکہ اس سے پھر جو ہے نا تم... یہ یونان کے جو فلسفی تھے، یہ کیوں مطلب دینِ مسلمان نہیں ہوئے تھے، مسلمان نہیں ہوئے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ الحادی طور پر کام کر رہے تھے، فلسفیانہ طور پر کام کر رہے تھے، کام ٹھیک کر رہے تھے غلط نہیں کر رہے تھے، لیکن چونکہ فلسفیانہ طور پر نتیجہ غلط نکل رہا تھا۔ تو یہی بات ہے کہ اگر ہم لوگ صحیح طریقے سے کام کریں تو پھر ماشاء اللہ کوئی مسئلہ...

17

ایک کو بولا شمع پر رکھنا مدار ایک عمل پر یوں ملے عقلیں ہزار

ایک (دفتر) میں (پھر) اس کے (بر خلاف) کہا (اس شمع کو) بجھا دے، گھبرا مت۔ تاکہ تو ایک (عقل) کے عوض میں لاکھ (عقلیں) پائے۔

مطلب یہ کہ ایک عقل کو چھوڑ دے جو تجھے ملا ہے تو تجھے لاکھ عقلیں ملیں گی۔ یعنی اس غور و فکر کو چھوڑ دے۔

18

شمع کے بجھنے سے دل بیدار ہو عشق سے معشوق تجھ پہ نثار ہو

تاکہ شمع (عقل) کے بجھانے سے روح ترقی کرے (اور) تیرا محبوبِ (حقیقی جادۂ عشق پر تیری) ثابت قدمی دیکھ کر مجنوں کی طرح (خود تیرا مشتاق) ہو جائے (اور تو محبّ سے محبوب بن جائے)۔

تو دیکھو مطلب کیسے چکر دے دیا اس کو، لوگوں کو چکر دے دیا۔

19

ترکِ دنیا سے بڑھے دنیا مزید پس سمجھنا خوب یہ قول سدید

(چنانچہ) جس شخص نے اپنے زہد سے دنیا ترک کر دی۔ دنیا (خود) اس کے آگے حاضر ہوتی ہے اور (پہلے سے) زیادہ۔

اس میں وہی مغالطہ ہے کہ مطلق عقل کی مذمت کی ہے۔ حالانکہ عقلِ دنیوی مذموم ہے نہ کہ عقلِ دینی، جو محمود ہے اور دل کی نورانیت اور اضافاتِ غیب کی موجب ہے۔

اصل میں یہاں پر عقل سے مراد کیا ہے؟ عقل اصل میں ہمارے اندر اللہ جل شانہٗ نے ایک نظام رکھا ہوا ہے جس کے ذریعے سے ہم سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، علم حاصل کرتے ہیں، اندازہ کر سکتے ہیں، فیصلہ کر سکتے ہیں، یہ تمام چیزیں عقل کے ذریعے سے ہوتی ہیں اور یہ اللہ پاک نے ہمارے جسم کے اندر ایک نظام رکھا ہوا ہے۔ اچھا! اب یہ جو نظام ہے ایک کمپیوٹر کی طرح ہے، مطلب ہے کمپیوٹر ایک پورا مکمل نظام ہے لیکن اس کو Input اور Output سے تعلق ہے۔ آپ اس کو Input دیتے ہو وہ آپ کو Output دیتا ہے، اگر آپ اس کو Input غلط دیں تو Output صحیح آئے گا؟ ظاہر ہے Output بھی غلط ہی آئے گا۔ تو اس وجہ سے اگر آپ Input اگر آپ آپ کو اپنی وہ دے دیں، یعنی جس کو کہتے ہیں نفس کی خواہشات کے مطابق، تو نتیجہ بھی نفس کی خواہشات کے مطابق آئے گا۔ اس صورت میں آپ کا جو عقل ہے عقلِ نفسانی بن جائے گا۔ عقلِ نفسانی بن جائے گا کیونکہ وہ نفس، وہ عقل آپ کے نفس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، نفس سے اثر لیتا ہے اور نفس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، نفس کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔ یہ جتنے بھی اللہ معاف فرمائے یہ یہاں پر جو یورپ اور امریکہ کے اندر جو سائنٹسٹ وغیرہ ہیں، ڈاکٹرز ہیں حتیٰ کہ جو، ان حضرات لوگوں کی کچھ complications ہیں، ان لوگوں کے نفس کی کچھ خواہشات ہیں، ان خواہشات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ اپنی ریسرچ بھی غلط بنا دیتے ہیں، اپنی ریسرچ بھی غلط بنا دیتے ہیں۔ میں نے خود اس کا Analysis کیا ہے، مطلب ہے کہ میں بغیر ثبوت کے بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں آپ کو صرف، معاف کیجیے یہ کوئی بات کرنا اس فورم پہ مشکل تھا، لیکن یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ لوگوں نے ایسا کیا ہے۔ مثلاً Masterbation ہے، حکیم لوگوں نے جو حکیم لوگ جو مذہب سے متاثر ہیں مطلب مذہب کو ماننے والے ہیں، ان لوگوں نے اس کو بہت بیماریوں کا ایک جو وہ بنا ہے، Source بتایا ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کچھ بھی نہیں، اس سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اب ریسرچ دیکھ لو انٹرنیٹ پر آپ کو سارا کچھ مل جائے گا۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ They are influenced by their own desires. So therefore they say what their nafs tells them

یہی مطلب یہ وہ کر رہے ہیں، یہ میں نے بہت ساری چیزوں میں دیکھا ہے کہ ان لوگوں کے جو decisions ہیں وہ polluted ہیں۔ ہمارے الفریڈ ساتھی الحمدللہ جو جرمنی کے ساتھی تھے وہ بھی ان سے بہت نالاں تھے اور کہتے تھے "These polluted ideas..." مطلب اس کو کہتے تھے "These polluted ideas tell them..." مطلب وہ جو ہے نا کہ مطلب یہ کرو وہ کرو یہ کرو وہ کرو، تو وہ بہت مثالیں دیتا تھا، ظاہر ہے اس کا Experience تھا کیونکہ خود ہی یورپین تھے، مطلب یہیں پر پلے بڑھے تھے بعد میں مسلمان ہوئے تھے لہذا ان کو تو بہت ساری چیزوں کا Experience تھا اور تھے بھی آرکیٹیکٹ۔ تو یہ چیز مطلب ہوتی ہے کہ ان بیچاروں کی جو عقل ہے polluted ہے، ان کے decisions صحیح نہیں ہیں، ان کے decisions صحیح ہونے کے لیے آسمانی کتب کا Input چاہیے، آسمانی کتب کا Input چاہیے یعنی قرآن اور سنت کے مطابق اگر یہ سوچیں تو پھر صحیح جواب آئے گا۔ یعنی Input ادھر سے لیں، تو جو لوگ Input لیتے ہیں قرآن اور سنت سے مسلمان ہو کر ان کا جواب بالکل پھر صحیح آتا ہے اس کے مطابق جو کہ قرآن و سنت ہے اس کے مطابق۔ تو سب سے پہلے عقیدہ کی Importance اس وجہ سے ہے کہ عقیدہ آپ کے سسٹم کو سب سے پہلے calibrate کرتا ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا، میں ایک بہت بڑے انڈسٹری میں چلا گیا لاہور میں، مشین ٹول انڈسٹری، بڑے زبردست قسم کے Sofisticated systems تھے اس میں۔ تو انہوں نے مطلب ہم مینیجر جو تھا اس نے ہمیں یہ سارے وزٹ کرائے، پھر ہمیں اپنے آفس میں لے گئے چائے پلانے کے لیے۔ تو بڑی زبردست پریسیشن precision 0.00001 تک مطلب پریسیژن جو ہے مطلب وہ کچھ، تو جس وقت میں بیٹھ گیا تو میں نے کہا:

(Sir, how do you calibrate your instruments)"

وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگے، کہتے ہیں:

"This is the first time someone has asked this question."

کہتے ہیں: "We don't have means for this."

میں نے کہا

: "I don't believe in your precision then.

" میں نے کہا اس کا precision کا کیا مطلب ہے؟ اس میں تو اس کا ویلیو ہے ہی نہیں، کہتے ہیں: "You are right." خود اس نے مان لیا کہ "Yes, you are right." تو مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی Calibiration غلط ہے تو مجھے بتاؤ precision اب کیا دے گا، اگر آپ 8 decimal point تک جو ہے نا مطلب رزلٹ دے رہے ہیں،

(That will be 8 decimal point) تک غلط۔ مطلب صحیح تو نہیں ہو گا، ٹھیک ہے نا! تو اس طرح مطلب یہ کہ یہ جو چیز ہے مطلب اگر کوئی آدمی صحیح Input نہیں لے قرآن و سنت سے، تو اس کا جو رزلٹ ہو گا وہ wrong ہو گا۔ ہمارے پہلے عقیدہ درست ہونا چاہیے، جب عقیدہ درست ہوتا ہے تو ہمارا عقل Calibirate ہو جاتا ہے۔ آپ جو کرتے ہیں نا وہ جو قبلہ معلوم کرتے ہیں تو کیا کرتے ہیں اس کو؟ اس طرح اس طرح منہ کرتے ہیں نا Calibirate کرنے کے لیے تاکہ وہ کم از کم اپنے آپ کو ہلا جلا کر سیدھا کر لے جو ٹھیک رزلٹ بتائے، تو اسی طریقے سے ہمیں اپنے آپ کو Set کرنا چاہیے ہوتا ہے صحیح رزلٹ کے لیے، ٹھیک ہے نا!

20

ایک کو بولا جو ملے ہے دادِ حق تجھ پہ جائز ہے یہ ایجادِ حق


یعنی تو جو کچھ کرتا ہے کرنے دے، کوئی مسئلہ نہیں ہے، آپ کے لیے جائز ہے، اس کو اباحیت کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اباحیت۔ یعنی

(1) ایک (دفتر) میں کہا جو کچھ تجھے خدا نے دیا ہے (اور) اس کو (آفرینشِ عالم سے لے کر) تیرے لیے خوشگوار بنایا ہے (اور) تیرے لیے اس کو سہل الحصول اور پسندیدہ ٹھہرایا ہے اس کو حاصل کر لے (نا حق) اپنے آپ کو (رنجِ ناداری سے) پیچش میں مبتلا نہ کر۔

(2) ایک (دفتر) میں یوں کہا کہ جو کچھ تجھے خدا نے دیا ہے۔ اس کو آفرینشِ عالم سے تیرے لیے مزے دار بنایا ہے (پس) اس کو تجھ پر سہل اور خوش گوار کر دیا ہے اس کو حاصل کر۔ الخ۔

تنقیح: اس میں یہ تعلیم دی ہے کہ تم کو جو کچھ ملے اور جس طریقے سے ملے وہ تمہارے لیے جائز و خوشگوار ہے اور کوئی تخصیص استحقاق اور حلّت و حرمت کی نہیں۔ "وَ ہٰذَا بَاطِلٌ" ورنہ نزولِ شریعت اور نظامِ حکومت کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

تو یہ اباحیت ہے۔ آج کل جو یہاں کے Crischan ہیں Usually اباحیت کے ہیں، مطلب ہر چیز کو جائز، ہر چیز کو جائز، مطلب جو ہے نا جو چیز ان کے مذہب میں جائز نہیں کچھ عرصے کے بعد جائز ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد پادری وہی کہتے ہیں

"No problem, it is also allowed."

ٹھیک ہے، (Under these conditions it is allowed) پھر اگر وہ کنڈیشن جو لگائے ہوئے ہیں نا وہ مزید چیلنج ہو جائے مطلب خواہشات کی وجہ سے، تو پھر ان کو بھی Relax کر لیتے ہیں "اچھا ٹھیک ہے

Under these conditions it is allowed۔ میں آپ کو اس پر ایک مثال دیتا ہوں، زبردست مثال ہے۔ مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص جا رہا تھا مسافر تھا، اس کے پاس توشہ تھا۔ وہ مسافر ظاہر ہے کسی جگہ تھک گیا سو گیا، آ کر کتے نے اس توشے کے اوپر جو ہے نا پیشاب کر دیا۔ اب اس جب اٹھا تو اس نے دیکھا کتے نے اس پر پیشاب کیا ہے، تو بڑا پریشان ہو گیا کیا کریں، اب سفر میں تھا، کچھ وسائل تھے بھی نہیں، جب بھوک لگ گئی تو اس نے سوچا "نہیں! یہاں نہیں لگا ہو گا، یہاں نہیں لگا ہو گا، یہاں نہیں لگا ہو گا"۔ تو وہاں سے اٹھا اٹھا کے کھا لیا۔ پھر اس کے بعد مزید بھوک لگی اور کوئی چیز نہیں، تو پھر انہوں نے "یہاں بھی نہیں لگا ہو گا، یہاں بھی نہیں لگا ہو گا، یہاں بھی..." اس طرح ہوتے ہوتے اپنے میں ظاہر ہے سارا کھا لیا۔ تو بس یہ اباحیت ہے۔ ٹھیک ہے نا! مطلب جیسے جیسے ان کو پرابلم ہو مسائل کا، اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا تو اتنا اتنا وہ فتویٰ Relax کرتے جاتے ہیں، Relax کرتے جاتے ہیں، نتیجہً چیز کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے، وہ چیز جو کہ پہلے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا وہ بھی ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا! یہ والی بات ہے۔

21

ایک کو بولا چھوڑ جو پسندیدہ ہے کہ پسند تیری لاش سر بریدہ ہے

(برخلاف اس کے) ایک (دفتر) میں کہا تو اپنی حاصل کردہ چیزوں کو چھوڑ دے، کیونکہ تیری دل پسند (چیز) ناقابلِ قبول اور بری ہے۔

22

رستے یہ مختلف آسان ہوئے جو پسند لائے وہ جانِ جاں ہوئے

(اور صرف قبولِ طبع کسی چیز کے جواز کی دلیل نہیں، بلکہ یہ فرقہ بندیوں کی باعث ہے کہ جس کو جو رستہ پسند آیا اختیار کر لیا۔ چنانچہ) یوں (مذہبی) طریقے (نکالنے سب کے لیے) آسان ہو گئے۔ ہر شخص کو ایک خاص مذہب جان کی طرح (عزیز) ہو گیا۔ (حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ کثرتِ مذاہب کی آسانی کوئی امرِ صواب نہیں ہے)۔

23

گر آسان کرنا ہی رہِ حق ہوتا ہر یہودی آتش بر حق ہوتا

اگر اللہ تعالیٰ کا (کسی امر کو) آسان کر دینا ہی (شناختِ حق کا صحیح) طریقہ ہوتا تو ہر یہودی اور آتش پرست خدا کا شناسا ہوتا (یا اس طریقہ سے واقف ہوتا۔)

تنقیح: مذکورہ دونوں مسئلوں میں بھی خلطِ حیثیات کا فریب ہے، اسی لیے وہ دونوں معارض ہیں۔ پہلے دفتر کا مضمون یہ ہے کہ حلال و حرام جائز و ناجائز جو کچھ ہاتھ لگ جائے اُڑا لو، تمہارا حق ہے۔ دوسرے دفتر میں کہا جو کچھ تمہارے پاس ہے اگرچہ حلال و طیب اور بقدرِ ضرورت ہی ہے سب سے دستبردار ہو جاؤ۔ اور دوسری بات کی دلیل یہ پیش کی کہ دیکھو تم نے جو کچھ کمایا ہے وہ اپنی خواہش اور پسند سے حاصل کیا اور پسندیدگی تو کسی چیز کے اچھا ہونے کا صحیح معیار نہیں۔ چنانچہ ہر شخص نے ایک الگ مذہب پسند کر رکھا ہے۔ اور سب اپنے اپنے مذہب کو اچھا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ سب مذاہب حق نہیں ہو سکتے۔ معلوم ہوا پسندیدگی کوئی قابلِ اعتبار نہیں۔ پہلے مضمون کی تہہ میں سرقہ و غضب و تعدّی کی تعلیم ہے۔ دوسرے میں حق النفس کی پائمالی اور نعمائے الٰہیہ سے محرومی کی ترغیب ہے۔ وَ کِلَاہُمَا بَاطِلَانِ۔

ہمارے مذہب کے اندر دونوں چیزوں کی رعایت ہے یعنی ایک تو ہوتا ہے نا اللہ تعالیٰ کا حق، کہ اللہ پاک نے جیسے فرمایا ہے اسی طریقے سے کرنا، دوسرا اللہ پاک نے جو تمہارے نفس کی جو ضروریات رکھی ہیں ان ضروریات کو پورا کرنا وہ نفس کا حق ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے منع نہیں کیا "وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّا" اور تمہارے نفس کا تمہارے اوپر حق ہے، تو یا دوسرے اس طرح لفظوں میں کہو عیسائی مذہب میں یہ شادی راہب لوگ نہیں کرتے، تو وہ (unnatural) ہے تو اس سے جو مسائل ہیں وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو جبکہ مذہب اسلام میں شادی سنتِ رسول ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے، چونکہ وہ پریکٹیکل ہے، natural ہے، تو مطلب یہ کہ خواہ مخواہ نفس کے لیے اللہ پاک کے حق کو پامال کرنا یہ بھی ٹھیک نہیں ہے اور اپنے طور پر اپنے نفس کے حقوق سے بھی دستبردار ہونا جس کو ہم لوگ کیا کہتے ہیں رہبانیت۔ رہبانیت، وہ بھی ٹھیک نہیں۔ لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ، اسلام کے اندر کوئی رہبانیت نہیں ہے، تو یہ دونوں چیزیں مطلب ہمیں سامنے رکھنی چاہئیں۔

24

گر ہو آساں حق تو باطل ہے کیا حق و باطل میں پھر حائل ہے کیا

ہاں! ایک کو بولا حق وہی آساں ہے

جو حیاتِ دل غذائے جاں ہے


ایک (دفتر) میں کہہ دیا کہ وہ آسان امر (مطابقِ حق) ہے جو دل کی زندگی اور جان کی غذا ہو۔

25

جو ہو ذوقِ طبع جب زائل ہو یہ جو نتیجہ ہو اُس کا حاصل ہے یہ

(بخلاف اس کے) جو چیز (محض) طبیعت کو مزہ دینے والی ہو جب وہ زائل ہو جاتی ہے تو شور زمین کی طرح کوئی نتیجہ اور ثمرہ نہیں دیتی۔

اوپر جس مضمون میں اپنے تمام مال سے دست بردار ہونے کی ترغیب دی تھی۔ اس میں یہ بات بطور استدلال کہی تھی۔ ع

کاں قبولِ طبعِ تو ردّست و بد۔ یعنی تم نے اس کو پسندِ خاطر سے جمع کیا ہے اور من مانی بات اچھی نہیں ہوتی۔ اور اس کی نظیر میں کثرتِ مذاہب کو پیش کیا کہ دیکھو جس کو جو راستہ پسند آیا اختیار کر لیا۔ اس طرح فرقہ بندیاں آسان ہوتی گئیں پس نفس کا کسی چیز کو پسند کرنا اور اس چیز کا نفس کے لیے آسان و میسر ہونا اس کے اچھا ہونے کا صحیح معیار نہیں۔ اب ایک اور دفتر میں اس استدلال کی بھی کانٹ چھانٹ کرتا ہے کہ نہیں نہیں جو چیزیں روح اور قلب کے نزدیک گوارا اور سہل الحصول ہیں۔ وہ اچھی ہیں ان کو تقاضائے فطرت کہتے ہیں۔ طبیعت اور نفس کے نزدیک کسی چیز کا پسندیدہ یا خوشگوار ہونا معتبر نہیں۔ کیونکہ روح کا استلذاذ دائمی اور پائیدار ہے اور طبیعت کا استلذاذ عارضی اور ناپائیدار۔ روح نیکی کو اختیار کرتی ہے اور نیکی کا لطف و ذوق دائمی ہے مگر طبیعت گناہ کرتی ہے گناہ کا لطف تھوڑی دیر کا ہے اور اس کی تلخی دائمی ہے۔ اس مضمون کا بقیہ ابھی رہتا ہے پھر بتایا جائے گا کہ اس خیال میں بھی اس وزیر کی کیا عیاری پنہاں تھی۔

26

اُس کا حاصل بے پشیمانی نہیں بے خسارہ چیز کوئی پانی نہیں

اس کا یعنی (استلذاذِ طبع کا) پھل پشیمانی کے سوا اور کچھ نہیں۔

یعنی نفسانی خواہش کا جو ذریعہ ملتا ہے،

اس کے سودے سے نقصان کے سوا کچھ پیش نہیں آتا۔


27

ہو نہ ثابت وہ کوئی سہل الحصول آخرش ثابت ہو یہ عبث و فضول

آخر وہ سہل الحصول (ثابت) نہیں ہوتی (بلکہ) انجام کار اس کا نام دشوار یاب ٹھہرتا ہے۔

28

فرق تعسر اور تیسر میں تو جان ہو نظر انجام یہ میری تو مان

تجھ کو دشوار و سہل میں فرق سمجھنا چاہیے (اور بلحاظِ) انجام اس کی اور اس کی صورت (نتیجہ) پر نظر کرنی چاہیے۔

تنقیح: اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ روح اور قلب جس امر کو بآسانی اختیار کر لیں اس کو کارِ ثواب سمجھیں، وہ عین دین ہے اور طبع اور نفس کا پسند و اختیار قابلِ التفات نہیں۔ کیونکہ ان سے گناہ کے سوا کوئی کام سرزد نہیں ہوتا۔ وہ جس چیز کو پسند کریں ضرور اس میں خرابی ہوگی۔ اس مضمون کا زیادہ حصہ تو قابلِ گرفت نہیں ہے۔کیونکہ ہمارے مذہب کے مطابق ہے. مگر یہ ایک خیالِ باطل اس میں شامل ہے کہ روح و قلب جس بات کو پسند اور جس کو نا پسند کریں ان کو حلال و حرام سمجھ لینا چاہیے۔ گویا احلال و تحریم اشیا کا معیار اپنا دل ہوا۔ یہ ایک ملحدانہ تعلیم ہے۔ صحیح امر یہ ہے کہ تمام امور کی فرضیت، وجوب و استحباب اور حلت و حرمت کا حکم دینا شرع کا حق ہے۔ قلب و روح کا کوئی حق نہیں کہ اپنی خواہش سے کسی چیز کو اختیار اور کسی کو ترک کرے۔ ہاں جو روحِ سلیم اور جو قلبِ مستقیم ہو اس کو خود تشریعی امور پر عمل کرنا سہل اور موجبِ لذت ہوتا ہے اور طبعِ خسیس اور نفسِ خبیث کو اس پر عمل پیرا ہونا دشوار نظر آتا ہے۔

اس کو میرے خیال میں تشریح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ذرا عمیق مطلب جو ہے نا وہ حصہ ہے۔

وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بھی فرمایا: "اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ، اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ، اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ" (مسند احمد) یعنی اپنے دل سے پوچھو، اپنے دل سے پوچھو، اپنے دل سے پوچھو، بے شک لوگ فتویٰ دیں، اس کی وجہ کیا ہے اور یہ کیا چیز ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کا دل بن جائے، میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ یہ کس سے کہا تھا اس وقت بات کس سے کی تھی؟ صحابہ سے کی تھی۔ صحابہ کا دل ایسا تھا نا کہ وہ تو یہ حالت تھی کہ ایک کہتا تھا "یہ میری زمین نہیں"، دوسرا کہتا تھا "میری زمین نہیں"۔ اس پر لڑائی تھی کہ "میری نہیں ہے"، اس پر لڑائی نہیں تھی کہ "میری ہے"۔ تو ان کا معاملہ تو ایسا تھا۔ تو اس میں جو ہے نا مطلب ہے کہ ان کے لیے جو فرمایا کہ "اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ" تو پہلے اپنا دل اس طرح بنا لو نا، پہلے اپنا دل اس طرح بنا لو تو اس کا دل بنانے کا کیا ہے؟ طریقِ صحابہ حاصل کرو۔ طریقِ صحابہ کیا ہے؟ یہ ہے... مطلب سیر فی اللہ، یعنی سیر الی اللہ سے گزر جاؤ پھر سیر فی اللہ آتا ہے نا۔ سیر الی اللہ تک ہم لوگ ہیں۔ سیر الی اللہ تک ہم لوگ ہیں یعنی ہم لوگ جیسے ہیں اس میں نفس کی خواہشات اور قلب کے خیالات اور عقل کے فسادات، مطلب یہ سب شامل ہیں۔ ٹھیک ہے نا! وہ موجود ہیں۔ جب یہ ساری چیزیں ٹھیک ہو جائیں، عقل عقلِ فہیم ہو جائے، نفس نفسِ مطمئنہ ہو جائے، قلب قلبِ سلیم ہو جائے، اس کا جو لازمی نتیجہ ہے کہ ہم لوگ صحیح معیار پر آ جائیں گے، گویا کہ اب ہم اپنے نفس کے غلامی سے ہاں نکل کے اب ہم طریقِ صحابہ پر آ جائیں گے۔ جو صحابہ کرام ان چیزوں سے اثر نہیں لیتے تھے ہم بھی پھر ان چیزوں سے اثر نہیں لیں گے، اب جو بھی عمل کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں گے اور شریعت کے مطابق کریں گے اور اس میں ہی ہمیں آسانی اور راحت ہو گی، وہ سہل الحصول ہوں گے۔ تو یہ وہاں پر "اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ" اس لیے ضروری ہے کہ تم کسی مفتی سے پوچھو، مفتی کو ساری چیزوں کا پتا نہیں۔ جتنا آپ نے بتا دیا اتنا بتا دیا۔ تجھے خود پتا ہے کہ تو نے کیا کیا ہے۔ یعنی تو جو اپنی برائیوں کو جانتا ہے اتنا مفتی تیری برائیوں کو نہیں جانتا، لہٰذا "اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ" کا مطلب ہے کہ تو اپنے تمام چیزوں کو دیکھ لو کہ تو حق پر ہے یا حق پر نہیں ہے۔ اب اگر تیرا حق، دل گواہی دے کہ تو حق پر نہیں ہے تو مفتی بے شک بتا دے کہ تو حق پر ہے، اس وقت آپ اس سے بچنے کی کوشش کر لو کیونکہ تجھے اپنے آپ کا پتا ہے، اس کو اتنا پتا نہیں ہے۔ تو یہ اصل میں وہ بنیادی بات ہے جس کو واقعی ہمارے لوگ بھی وہ آسانی سے نہیں سمجھ پاتے، اس میں مسائل کے شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن بہرحال یہاں پر مطلب انہوں نے اس پہ بات چھیڑی ہے۔

29

ایک کو بولا کردو مرشد کی تلاش ذات کی بنیاد پر فارغ مباش

یعنی اپنی ذاتی صلاحیتوں کے اوپر بھروسہ نہ کرو بلکہ مرشد کی تلاش کرو تاکہ وہ تجھے گائیڈ کر لے۔

30

جس نے چاہا حق بغیرِ انبیاء آخر سرزد ہوئی ان سے خطا

یعنی بغیر انبیاء کے جنہوں نے حق کو تلاش کیا تو آخر میں غلطی پر ہی پہنچ گئے۔ مطلب ان کو صحیح بات نہیں ملی۔ یہ بات تو صحیح ہے، لیکن کیا کس لیے وہ آگے...

31

کب ہے آساں حق کا جو دریافت ہے اس لئے تو سارا اختلاف ہے

مطلب یہ کہ جو ہے نا آسان جو حق کا جو مطلب پانا ہے وہ اس کا دریافت کرنا کب آسان ہے، اس لیے تو سارے اختلافات وجود میں آتے ہیں۔

32

ایک کو بولا تو ہی خود استاد ہے

اب مرشد کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک کو بولا تو ہی خود استاد ہے تجھ کو اپنا فائدہ خود یاد ہے

ٹھیک ہے نا!

33

مرد بنو خود ہی سب تحقیق کر دوسروں کی تحقیق پیچھے تو نہ مر

مطلب اپنی تحقیق، یہ آج کل ہمارے ماڈرن لوگ یہی ہیں۔ وہ بغیر مولانا روم کے، مولانا روم اس کتاب کو کھول کے اس پہ ہی عمل کر رہے ہیں۔ ان کو اس کا مولانا روم کا پتا نہیں ہے کہ مولانا روم نے کہا ہے، وہ کہتے ہیں "بس ٹھیک ہے نا ہم سب خود جانتے ہیں نا، یہ مرشد کیا ہوتا ہے؟ استاد کیا ہوتا ہے؟ میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے، میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے"۔ یہ سب چیزوں کو اپنے خیال کے مطابق کرنا چاہتے ہیں۔ تو یہاں پر خیال کی بازی نہیں چلتی، یہاں تو شریعت کا حکم چلتا ہے اور شریعت پر آنے کے لیے جو طریقت ہے اس میں مرشد کی بات پہ عمل کرنا پڑتا ہے، ورنہ پھر مسئلہ خراب ہو جاتا ہے۔ تو یہاں انہوں نے ایک دفعہ ایک کو مرشد کی بات کی، وہ تو صحیح تھی، دوسرے کو کہا تو خود ہی استاد ہو یعنی ان چیزوں میں نہ پڑو، تو دونوں رائے ہو گئے، لہٰذا اختلاف ہو گیا،

34

اپنی ذاتی رائے پر رکھ تُو نظر تا وصال دوسروں سے تُو پرہیز کر

جب تک تو کامل نہ ہو جائے ان چیزوں سے پرہیز کر، کسی اور کے پیچھے نہ جا، یعنی الٹی بات کی، یعنی انسان کامل ہونے تک مرشد کی بات مانے نا، یہاں الٹی بات ہے، کہتے ہیں "تو جب تک کامل نہ ہو جائے تو دوسروں کی بات نہ کر، یہ اپنی رائے پہ چلو"۔ استغفر اللہ!

اوپر کے دونوں مضمون بھی آپس میں لڑ گئے۔ پہلے کہا مرشد کا اتباع کر۔ پھر کہتا ہے تو خود ہی مرشد ہے۔ کسی کا اتباع مت کر۔ بلکہ اپنی ذاتی رائے پر عمل کر کہ یہی راستہ مُوصِل الٰی الحق ہے۔ یہاں بھی اجمال و تعمیم کا فریب ہے کیونکہ نہ تو من کل الوجوہ اتباعِ مرشد فرض ہے اور نہ مطلقًا عدمِ اتباع جائز ہے۔ اسی طرح نہ عمومًا اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لینا درست ہے اور نہ کلیتًا تعطیلِ نظر و ترکِ فکر جائز ہے۔ بلکہ جو باتیں وحی کے ذریعے ثابت ہیں ان کا اتباع واجب ہے اور جن باتوں میں اجتہاد کی گنجائش ہے ان میں ایک مجتہدانہ قابلیت کا آدمی خود نظر و فکر کے بعد حکم لگا سکتا ہے۔ ہاں جو شخص قوۃِ اجتہاد نہیں رکھتا اس کو ان امور میں بھی کسی دوسرے مجتہد کی تقلید کرنی چاہیے۔

35

ایک میں لکھا سارا ہی ایک ذات ہے وہ جو دو سمجھے یہ کمینی بات ہے

اب یہ ماشاء اللہ وہ دوسری طرف نکل گیا۔ یعنی وحدت الوجود ان چیزوں کی طرف نکلا۔

ایک (دفتر) میں کہا یہ سارا عالم ایک ہی (ذات) ہے جو شخص (اس کو) الگ الگ سمجھے وہ کمینہ شخص بھینگا ہے۔

یعنی ایک (دفتر) میں کہا یہ سارا عالم تو خود ہے۔ ہمارے (تمہارے) درمیان جدائی کی گنجایش نہیں، ہمارا یہ تمام آغاز و انجام ایک ہے۔ جو نا لائق آدمی ان کو جدا سمجھے وہ احول ہے۔ ہاں!

36

ایک میں لکھا سو کہاں پر ایک ہو ایسا سوچ کر کیوں تو دیوانہ بنو

مطلب یہ کہاں سو ایک کو کہہ دیا کہ سو ایک کیسے ہو سکتے ہیں اور یہ مطلب ایسی چیزوں کے پیچھے کیوں دیوانہ بنتے ہو۔

تو میرے خیال میں آج کے لیے کافی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تفصیلات تو بہت ہیں آگے جو آ رہے ہیں، لیکن یہ ہے کہ (step by step approach is better than)... یک دم سارا کچھ، تو ٹھیک ہے ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ توفیق دے دے، ان شاء اللہ اس کو آئندہ پھر کریں گے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم وتُب علينا إنك أنت التواب الرحيم۔ سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين برحمتك يا أرحم الراحمين۔

عقل و فکر کی حدود اور راہِ حق کا تعین - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور