ایک ہی
ایک ہی ہے کہ جو کھلاتا ہے
حق کا وہ راستہ دکھاتا ہے
جو کہ دشمن ہے ازلی اپنا
جس کو وہ چاہے وہ بچاتا ہے
ہم اگر رستے سے بھٹک جائیں
وہ ہمیں راستے پہ لاتا ہے
اس کو آنکھوں سے کوئی دیکھ نہ سکے
اپنے عاشق کے دل میں آتا ہے
حُسنِ دنیا پہ جو دھوکہ کھائیں
ان کو بھی وہ ہی تو سمجھاتا ہے
یہ بھی اس کا ہی فضل ہے اے شبیؔر
یہ جو تو لوگوں کو بتاتا ہے