الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد۔
أعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
وَ عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَةِ، اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَهٗ عِنْدَ الْغَضَبِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وَالصُّرَعَةُ بِضَمِّ الصَّادِ وَ فَتْحِ الرَّاءِ وَ اَصْلُهُ عِنْدَ الْعَرَبِ مَنْ یَصْرَعُ النَّاسَ کَثِیْرًا۔
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دیتا ہے طاقتور تو صرف وہ انسان ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔"
الصرعة: صاد پر پیش اور را پر زبر کے ساتھ اس کی اصل عربوں میں یہ ہے کہ جو اکثر لوگوں کو پچھاڑ دے۔
اس حدیثِ شریف سے معلوم ہوا کہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کو اپنے قابو میں رکھے۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ جسمانی قوت و طاقت پر شجاعت کا دارومدار نہیں۔ شجاعت کا مدار صرفِ قوتِ نفس پر ہے، اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ آدمی انتہائی غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اس وقت میں وہ اپنے آپ پر قابو میں رکھے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ نفس کو پچھاڑنے والے کو بڑا پہلوان اس لیے کہا گیا ہے کہ جسمانی کی روح باقی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اب جو اپنے نفسِ امارہ کو پچھاڑ دے گا اس کی حیثیت شریعت کی نگاہ میں جسم کے پچھاڑنے والے سے زیادہ ہوتی ہے۔
یعنی گویا کہ انسان کا اپنا روح اتنا طاقتور ہو کہ وہ اس نفس کو پچھاڑ دے، یعنی یہ آپ کہہ سکتے ہیں۔
نیز یہ کہ سامنے والا پہلوان اتنی طاقت والا نہیں جتنا کہ اس کا نفسِ امارہ طاقت والا ہے جیسے کہ حدیث میں فرمایا گیا "اَعْدٰی عَدُوِّكَ نَفْسُكَ الَّتِيْ بَيْنَ جَنْبَيْكَ" (1) کہ تمہارے دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو تمہارے پہلو میں ہے۔ اس کو پچھاڑنے والا زیادہ طاقتور ہوگا۔
بھروسہ کچھ نہیں اس نفسِ امارہ کا اے زاہد
فرشتہ بھی ہوجائے تو اس سے بدگمان رہنا
تخریجِ حدیث: رواہ البخاری فی الادب (باب الحذر من الغضب) و مسلم فی البر باب فضل من يملك نفسه عند الغضب اخرجہ امام مالک فی مؤطا 1681 و احمد 7223/3 والطيالسی 2520، و ابن حبان 717 والبیهقی
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو بھی اپنے غصہ پر قابو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
واقعتاً اس میں تین چیزیں ہیں اصل میں اور ہر وقت ہمارے لیے سامنے ہوتی ہے کسی بھی مرحلے میں، وہ ہے ایک عقل ہے، ایک نفس ہے اور ایک قلب ہے۔
تو نفس میں انسان کا جو غصہ ہوتا ہے وہ پنہاں ہوتا ہے۔ جب انسان کو غصہ آتا ہے تو نفس بپھر جاتا ہے۔ اب دو چیزیں اس کو پچھاڑ سکتی ہیں۔ یا تو یہ بات ہے کہ اس کا جو Will Power ہے جس کو یعنی دل کی قوت کہتے ہیں، وہ اتنی زیادہ ہو، روحانی قوت، کہ اس کو پچھاڑ دے۔ تو یا پھر یہ ہوتا ہے کہ اس کی عقلی قوت اتنی زیادہ ہو۔ کہ وہ اس کو پچھاڑ دے۔ مثلاً ایک شخص ہے، اس کے ہاتھ میں پسٹل ہے، لڑائی میں، مطلب یہ ہے کہ وہ پسٹل نکال کر مار سکتا ہے اپنے دشمن کو، لیکن اس کے اندر اتنی عقل ہو کہ اس وقت وہ سوچے کہ میں اس کو مار تو لوں گا، لیکن اس کے بعد جو Consequnces ہیں وہ بہت خطرناک ہوں گے۔ اس وقت وہ پھر اپنے آپ کو بچاتا ہے اس سے۔ اس وقت اس کی عقلی قوت اتنا زیادہ ہے کہ وہ اپنے غصے کو پچھاڑ رہا ہے۔ یہ جو غیر مسلم ہوتے ہیں، ہوشیار ہوتے ہیں دنیاوی لحاظ سے، وہ مطلب اس چیز سے وہ کرتے ہیں۔ ہمارے فارن آفس والے لوگ جو ہوتے ہیں، تو وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور اس وقت بھی اپنے آپ پر کنٹرول رکھا ہوتا ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں کرتے، جس سے ان کے اوپر بات آ جائے۔ اور جو ایسی بات کر لیتے ہیں تو اپنے ملک کے لیے بڑا نقصان بن جاتا ہے نقصان دہ ہو جاتے ہیں اور اپنے لوگ بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔
ابھی جیسے کسی نے مطلب چیلنج کر دیا، تمھیں شرم نہیں آتی، یہ نہیں، تو زیادہ اپنے لیے مصیبت بنا لی۔ تو اس طرح مطلب یہ کہ ہوتا ہے کہ جس میں غصہ آتا ہے اس کو اور وہ اس کو پچھاڑ نہ سکتا، اس کو جو ہے نا وہ کنٹرول نہ کر سکتا ہو، تو اس سے پھر بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ عقلی قوت سے اس کو دبا لیں یہ بھی مطلب کمال ہے۔ کمال تو ہے، اور جو روحانی قوت سے اس کو پچھاڑ دے تو یہ بھی کمال ہے۔ روحانی قوت کے لحاظ سے ایمان کے زور سے پچھاڑ رہا ہے۔ اور جو دوسری عقلی والی بات ہے، تو وہ اس کو اپنی عقل کے زور پر پچھاڑ رہا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ نفس کی اس قوت کو ان دو قوتوں سے زیر کرنا یہ ممکن ہے۔ اور جس میں یہ ہو، وہ باقی کے مقابلہ کمال ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اپنے غصوں کو یعنی قابو میں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنے نفسوں کو قابو، کیونکہ آپ ﷺ نے بھی فرمایا کہ عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا، تو اس کا مطلب ہے کہ جو نفس کو قابو کرتا ہے وہ عقلمند ہے۔ ٹھیک ہے نا! اور یہ عقلمندی اگر ایمان کے زور سے ہو تو ماشاءاللہ، یہ روحانی طور پر بھی کمال ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو روحانی طور پر عقلمند کر دے۔
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.