اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات!
آج پیر کا دن ہے۔
پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میں فلاں بات کر رہا ہوں جہلم سے، ان شاء اللہ خیریت سے ہوں گے۔ حضرت جی آپ نے مجھے ذکر دیا تھا {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} 200 مرتبہ، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ} 400 مرتبہ، {حَقْ} 600 مرتبہ، {اَللہُ، اَللہُ} 1500 مرتبہ۔ دو مہینے پہلے میں نے کیا، پہلے مہینے میں کچھ ناغے ہوئے تھے اور رمضان میں بھی ناغے ہوئے ہیں لیکن دوسرے اذکار کاقرآن مجید پر کافی توجہ رہتی ہے، میری رہنمائی فرما دیں۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: اب آپ اس طرح کر لیں کہ {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} 200 مرتبہ، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ} 400 مرتبہ، {حَقْ} 600 مرتبہ اور {اَللہُ، اَللہُ} دو ہزار مرتبہ کر لیں، اور ایک مہینہ کے بعد پھر مجھے اطلاع کر دیں ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم محترم حضرت جی! میرے سارے اذکار پورے ہو گئے اس مہینے کے لیے، 200، 400، 600، 4000۔ تمام لطائف پر دس دس منٹ مراقبہ، "وَھُوَ مَعَکُمْ اَيْنَ مَا كُنتُمْ" کا مفہوم 15 منٹ چند ماہ سے جاری ہے۔ اس مراقبہ کو بھی، مجھے وقوفِ قلبی والی کیفیت مزید بڑھ گئی ہے اور موت کا خیال بھی ہمیشہ رہتا ہے، میرے اندر صبر بھی بہت زیادہ بڑھ گیا، الحمدللہ۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: اب ماشاء اللہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کر کے شکر کا مراقبہ کریں کہ کتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں، اس پر شکر اگر کم ہے تو اس پہ شکر کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو سمجھانا چاہیے کہ اللہ پاک کی جو نعمتیں بغیر استحقاق کے ہمیں دے رہے ہیں اس پر شکر کرنا چاہیے۔ باقی چیزیں یہی جاری رکھیں۔
سوال: حج کے دوران عورتوں کو سلے ہوئے کپڑا پہننا کیسا ہے؟جواب: آپ کے اوپر سلے ہوئے کپڑے کی پابندی نہیں ہے، وہ مردوں کے اوپر ہوتی ہے۔ تو آپ تو سلا ہوا کپڑا پہن سکتی ہیں، البتہ یہ ہے کہ چہرہ جو کھلا رکھنے والی بات ہوتی ہے، اس کے لیے میں نے آپ کو بتایا کہ ایک چھجے والی ٹوپی آپ اس کو پہن لیں اور پھر اس کے اوپر اپنا نقاب لٹکا دیں۔ تو عورتوں کے لیے نصاب الگ ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
سوال: منزل جدید پڑھنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟
جواب: جو منزلِ جدید ہے وہ مغرب کے بعد جو ہے نا بہتر ہے کیونکہ رات شروع ہو رہی ہوتی ہے اور یہ چیزیں رات کو ہی زیادہ ہوتی ہیں۔ البتہ اگر مغرب کے وقت آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو عشاء کے بعد کر لیں، تو یہ بھی ممکن ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! احوال: حضرت جی معمولات الحمدللہ معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ذکر: حضرت جی میرا ذکر ایک مہینے کے لیے 200، 400، 600، ساڑھے 16 ہزار تھا۔ پانچ منٹ کے لیے یہ سوچنا کہ اللہ مجھے محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے مکمل ہو گیا۔ کیفیت میں کچھ خاص تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی، نمازیوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ بھی جاری ہے، الحمدللہ۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: اب آپ یہ کریں کہ روزانہ صبح اٹھتے وقت یہ سوچا کریں کہ میں آج لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا کر سکتا ہوں جائز بھلائی کے لیے۔ اور پھر رات کو سونے سے پہلے اس کا محاسبہ کر لیں کہ میں نے کیا کیا ہوا ہے۔ یہ شروع فرما لیں، تقریباً 15 منٹ کے لیے سوچیں کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ وہ باقی چیزیں وہی رہیں گی ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم! حضرت آپ نے جو اذکار دیے تھے ان کو ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے، الحمدللہ۔ لیکن کچھ دن اذکار کی تعداد مکمل نہیں کر سکا، مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔ {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} 200، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ} 400، {حَقْ} 600 اور {اَللہُ} 13 ہزار۔ اس کے ساتھ پانچ منٹ تصور کرنا کہ دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے لیکن حضرت ابھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ دل اللہ کر رہا ہو۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: تو آپ اس طرح کر لیں کہ پھر {اَللہُ، اَللہُ} جو ہے نا ساڑھے 13 ہزار کر لیں اور یہ باقی وہی چیزیں رکھیں۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میرا Month complete ہو گیا ہے، مراقبہ کا بتانا تھا آپ کو، پانچ پانچ منٹ چار لطائف پہ اور لطیفہ خفی کے اوپر خاص فیض، لطیفہ خفی کے اوپر خاص فیض 15 منٹ کا۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: یہ میرے خیال میں تھوڑی سی آپ سے غلطی ہوئی ہے، یہ پانچ پانچ منٹ جو ہے نا وہ سب لطائف پر ہے، چار لطائف پر۔ اور 15 منٹ جو ہے نا وہ آپ کا لطیفہ خفی پر وہ خاص فیض والا نہیں ہے، یہ بھی اللہ اللہ والا ہے۔ اگر وہ خاص فیض والا ہے تو دل کے اوپر ہوتا ہے اور اس کے بعد ہوتا ہے یعنی پانچ لطائف کے بعد۔
سوال: السلام علیکم حضرت! آپ نے ایک ماہ کے لیے مجھے 20 منٹ کا مراقبہ دیا، تصور کرنا میرے دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ ابھی تک مجھے کچھ محسوس نہیں ہوا۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: آپ اس کو جاری رکھیں اور ناغہ بالکل نہ کریں۔
سوال: اگر خانقاہ میں وقت لگانے کے لیے آنا ہو تو اپنے ساتھ کیا کیا سامان لانا ہوتا ہے؟جواب: سامان یہ ہے کہ موسم کے لحاظ سے اگر آپ کو، کوئی اپنے ساتھ بستر لانا چاہے تو لائیں اور ضرورت کا جو آپ کے اپنی ذاتی ضرورت کے سامان ہوں وہ لے آ سکتے ہیں۔ بہرحال یہاں Foam تو مل جاتا ہے، Foam نیچے بچھانے کے لیے، لیکن ویسے مطلب اپنے طور پہ لوگ بعض اپنی چیزیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرتِ اقدس، مزاج بخیر و عافیت ہوں گے۔ بندہ کی اہلیہ کو جو ذکر دیا تھا اس کے ایک مہینہ بلا ناغہ پورا ہوا اور وہ یہ تھی پانچ منٹ تک "اللہ اللہ" کا مراقبہ جو کہ محسوس ہوتا ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: ما شاء اللہ! اب اس کو 10 منٹ کے لیے دل کا بتائیں اور 15 منٹ کے لیے لطیفہ روح کا بتائیں۔ لطیفہ روح اگر آپ کو معلوم نہ ہو تو بتا دیں میں بتا دوں گا ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میرا نام فلاں ہے، میرا ذکر 200، 400، 600 اور 1000 ہے، ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے مزید رہنمائی فرمائیں۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: اب 200، 400، 600 اور 1500 کر لیں۔
Question: Assalamu Alaikum. I pray you are well, dear Sheikh. I wanted to ask a question about understanding of Tasawwuf. Why is understanding Tasawwuf (Fahm-ut-Tasawwuf) important and what benefits are there for the Salik in its understanding? Also, how deep should a Salik try to understand it because Tasawwuf is obviously a practical field! Jazakallah Khair. A humble request for your Duas.
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: ماشاء اللہ بڑی اچھی بات ہے آپ نے یہ سوال کیا۔ اصل میں فہم التصوف جو ہے یہ اس لیے ضروری ہے کہ آج کل فتنوں کا دور ہے اور فتنوں کے دور میں تصوف کو مختلف رنگوں میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں بعض بالکل ہی غلط ہیں۔ تو اگر وہ کسی کو معلوم نہ ہو تو ان کی ساری کوششیں پریکٹیکل جو ہیں وہ رائیگاں چلی جاتی ہے۔ ہاں جی! مثلاً کوئی آدمی کشف کو ضروری سمجھتا ہے، اب وہ کشف کو ہی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو، تو اس کی ساری کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی کیونکہ ظاہر ہے کشف تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ کچھ چیزیں اختیاری ہوتی ہیں وہ اس کی کوشش جیسے معاملات کی صفائی ہوتی ہے وہ اختیاری چیز ہے، لیکن اس کی پرواہ نہیں کرتا اور کشفوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اس طرح بہت ساری چیزیں ہیں جس میں غلط فہمی بڑی نقصان دہ ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے آج کل مطلب Understanding اتنی ضروری ہے کہ مطلب یہ ہے کم از کم کوئی اس کو دھوکہ نہ دے سکے اور خود دھوکہ نہ کھا سکے، اس وجہ سے اس کی ضرورت ہے۔
Question: The question I have to
حضرت والا مرشدی یہ ایک سوال ہے نائجیرین ڈاکٹر صاحب کا۔ رہنمائی درکار ہے۔
The question I have to, do with my profession. I am a medical doctor and I am the only one in my hospital. I attend to female clients in clinic. I do ultrasound for pregnant women and perform CS for those who require it. I sometimes being called upon by my midwife to conduct delivery if they failed to do it. All these mean I have to touch them with with gloves without desire. Sir my question is, will all these affect my progress in my training to attain Qurb of Allah Subhanahu Wa Ta’ala. You gave me 40 days Zikr, I am at 15th day of the Zikr. Sir I want you know to, that I always remember you in my five daily prayers. Please Sir kindly pray for my success and pray for me, pay me your tawajjuh. Wassalam Sir.
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
Answer: As far as your Zikr is concerned, I think it's okay, you should continue it and till it becomes 40 days, so then you will inform after that. And as far as this question is concerned, this is regarding Fatwa. So I shall contact some Ulama for this purpose and when they will answer me, I shall inform you Insha’Allah.
سوال: شیخ طریقت حضرت شاہ شبیر کاکاخیل صاحب خلیفہ مجاز عارف باللہ ڈاکٹر صوفی اقبال صاحب مہاجر مدنی دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!شَیْخُنَا امید ہے کہ آپ با عافیت ہوں گے۔ سیدی بندہ عبدالمالک ندوی دہلی سے ہے، بندہ نے سوشل میڈیا پر آپ کے بیانات سنے اور آپ کی تصنیفات و تالیفات سے استفادہ کیا، تو آپ سے قلبی مناسبت محسوس ہوئی اور دل میں آپ سے روحانی رشتہ جوڑنے کی خواہش ہوئی۔ بندہ سوشل میڈیا پر آپ کے بیانات سے استفادہ کرتا ہے، آپ کے بیانات و تحریریں واقعی چشم کشا اور معلومات افزاء ہوتی ہیں اور سامعین کے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ خاص طور پر تصوف کے حوالے سے آپ کے مضامین قرآن و سنت پر مبنی اور نفع بخش ہوتے ہیں۔ واقعی یہ ہے کہ اس دور میں حقیقی تصوف کو عام کرنے والے خال خال ہی لوگ ملتے ہیں ورنہ اکثر غیر مستند باتیں ہی نشر کرتے ہیں۔ سیدی بندہ اہلِ اللہ اور مشائخ طریقت سے قلبی محبت رکھتا ہے۔ بندہ کا بیعت و ارشاد کا تعلق شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ عبدالقادر مظاہری گجراتی سے رہا ہے۔ الحمدللہ چار سال سفر و حضر میں آپ کی رفاقت رہی، حتّی المقدور استفادہ کیا، انہوں نے احقر کی نالائقی اور نااہلی کے باوجود سلاسل اربعہ عالیہ چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ، سہروردیہ میں اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ ان کے علاوہ عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ منیر احمد کالینا ممبئی نور اللہ مرقدہ، شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا فرید الدین دیوبندی خلیفہ حکیم الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اجازت و خلافت کی نعمت حاصل ہے۔ سیدی بندہ کو اکابر مشائخ کی نسبتوں کی بہت قدر ہے، بندہ کا خیال ہے کہ اکابر سے وابستہ رہنے سے نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور ایمان پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔ سیدی چونکہ آپ شیخ المشائخ حضرت صوفی محمد اقبال مدنی مہاجر کے سلسلہ میں نسبت و اجازت حاصل ہے۔ اس طرح حضرت اقدس تنظیم الحق حلیمی سمیت دیگر متعدد مشائخ کے سلسلہ میں بھی نسبت کے بھی امین ہیں۔ خواہش ہے کہ آپ کے سلسلے کی فیوض و برکات اس ناکارہ کو نصیب ہوں، آپ اس ناکارہ پر دستِ شفقت فرما دیجئے گا۔ اکابر کا شیوہ ہے کہ چھوٹوں پر شفقت کرنا، اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ کے فیضانِ روحانی کو چار دانگِ عالم میں عام فرمائے۔ حق تو یہ تھا کہ آپ کی خدمت میں براہِ راست حاضر ہو کر استفادہ کرتا لیکن بعدِ مکانی کی بنا پر اس سے محروم رہا ہوں۔ بندہ دہلی میں قرآن پاک کی تعلیم میں مشغول ہے، اسکول کے طلباء پر زیادہ فوکس ہے، ان کے عقیدہ و ایمان کے سلسلے میں زیادہ محنت ہو رہی ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مبارک محنت کے لیے قبول فرما دے۔ طلباء کے اوپر بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، سٹوڈنٹس پہ، نوجوانوں پر۔ اس وقت نوجوانوں میں بہت زیادہ بداخلاقیاں اور مطلب اعمال کے لحاظ سے غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں قصداً۔ اور لوگ نشوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، تو اس کو دور کرنا یہ آپ کی اور ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی یہی کام تھا، یونیورسٹی میں تھے۔ یونیورسٹی میں ماشاء اللہ ان سے ہم سب نے استفادہ کیا اور وہ اصل میں ماشاء اللہ سٹوڈنٹس کے درمیان سٹوڈنٹس ہی کی طرح کام کرتے تھے اور ان کے ساتھ گپ شپ میں بہت ساری باتیں ان کو پہنچاتے تھے۔ تو آپ اگر چاہیں تو ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو مقالے ہیں وہ ان شاء اللہ میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو میں Send کر دوں، آپ ان سے استفادہ کریں اور ماشاء اللہ سٹوڈنٹس کے اندر کام کریں اور اس طریقے سے آپ کو ہمارے سلسلے کے برکات نصیب ہوتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ میں آپ کے لیے دعا گو ہوں اور آپ میرے لیے بھی دعا کریں اور مجھے بھی اپنے دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
تو یہ بات تو ہو گئی ہمارے خیال میں، تو ابھی اگر کچھ سوال آپ حضرات کرنا چاہتے ہیں تھوڑا ٹائم تو ہے، کر سکتے ہیں۔ حاضرین کر سکتے ہیں یا کوئی باہر سے بھی اگر کوئی سوال کرنا چاہتا ہو تو وہ ابھی فون وغیرہ پہ کر سکتے ہیں یا واٹس ایپ پر کر سکتے ہیں۔
سوال: حضرت رمضان شریف میں قرآن پاک سنانے کا سلسلہ ہوتا رہا، تو اس میں یہ ہوا کہ کچھ ناغے رہ گئے ذکر میں۔ ذکر بالجہر تو چلتا رہا لیکن جو باقی لطائف کے تھے اس میں ناغہ رہ گیا تھا۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: بس اس کو شروع فرما لیں اور مطلب یہ ہے کہ کوشش کر لیں کہ اس سے اس کی تلافی ہو جائے۔ بہرحال رمضان شریف میں تو قرآن پاک کے انوارات اللہ تعالیٰ نے نصیب فرما دیے، یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ البتہ یہ جو ذکر تو جہاں سے ناغے ہوئے ہیں وہیں سے آپ شروع فرما لیں، ان شاء اللہ واپس ہو جائیں گے۔
سوال: حضرت دو باتیں پوچھنی تھیں، ایک تو ہمیشہ بس ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ایسے میرے گردے ختم ہو جائیں گے، بیماری لگ جائے گی، بیوی بچوں کا کیا بنے گا؟ یہ پریشانی ذہن سے نکلتی نہیں ہے، زیادہ تر تو یہ رہتی ہے۔ ایک تو اس کا کچھ بتا دیں اور دوسرا ذکر بھی پوچھنا تھا، وہ مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ 200 دفعہ ہے، 200، 400، 600 اور 300 دفعہ۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: ذکر تو 200، 400، 600 اور 500 دفعہ کر لیں اور باقی ایک آیت کریمہ ہے وہ {وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ} (غافر: 44)، اس کو جو ہے نا آپ 111 مرتبہ پڑھیں اور مطلب یہ جو ہے نا وہ ہر نماز کے بعد گیارہ دفعہ {سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ} (یس: 58)، یہ پڑھ لیا کریں تاکہ بلاوجہ جو وساوس ہیں وہ مطلب یہ نہ آئے۔ یہ بلاوجہ وساوس شیطان صرف ڈراتا ہے۔ {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} (البقرۃ: 268) شیطان تمہیں جو ہے نا وہ فقر سے ڈراتا ہے، تو وہ تو اس کا کام ہی یہی ہے، تو کبھی آپ کو بیماریوں سے ڈرائے گا، کبھی فقر سے ڈرائے گا، کبھی کس چیز سے ڈرائے گا، کبھی کس چیز سے ڈرائے گا، تو آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔
سوال: 111 دفعہ کتنا ٹائم کرنا ہے جو 111 دفعہ ہے؟
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: یہ ابھی مطلب چلتے رکھیں جب تک کہ آپ ان شاء اللہ بیمار اس چیز سے نکل جائیں گے پھر چھوڑ دیں، ٹھیک ہے ابھی فی الحال آپ کرتے رہیں۔
سوال: شیخ صاحب میرا یہ سوال ہے کہ جیسے اذان ہوتی ہے ہم ان کا جواب دیتے ہیں ساتھ کے ساتھ نا، جیسے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" اس میں ہم کہتے ہیں کہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"۔ تو اسی طرح جیسے فجر کی اذان ہوتی ہے تو اس میں "اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ" ہے اس کی جگہ کیا کہا جائے؟
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: "صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ"۔ آپ نے سچ کہا اور ٹھنڈک پہنچائی۔
سوال: حضرت یہ ایک چیز یہ دیکھی، دیکھنے میں آئی ہے کہ جب آپ اللہ کے رستے میں چل رہے ہوتے ہیں، چاہے جس طرح سے بھی نا، تو بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں، ملتے ہیں جو مایوسیاں پھیلاتے ہیں۔ مثلاً مسجد میں ہوں یا تصوف میں ہوں یا وہ ایسی سی باتیں کرتے ہیں نا جس طرح ایک بندہ بعض بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں بندہ بہت آگے، بعض مایوسیاں اتنی پھیلا دیتے ہیں کہ وہ پھر دائیں بائیں دیکھتا ہے۔ مثال کے طور پر جس لائن پہ آپ چل رہے ہیں وہ اس میں جو غلط قسم کے لوگ ہیں ان کو بھی سامنے لے آتے ہیں کہ دیکھیں فلاں آدمی تھا اس نے یہ کیا، وہ غلط آدمی تھا، فلاں غلط آدمی تھا۔ آپ اس میں چل کے کون سے تیر چلا لیں گے؟ تو یہ بعض دفعہ انسان مایوس ہو جاتا ہے لیکن وہی بات ہے اللہ کا راستہ تو حق اور سچ ہے، یہ ایک۔۔۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: دیکھیں بات سنیں! اگر کوئی غلط کام کر رہا ہے تو اس غلط کام کی وجہ سے یہ تو نہیں کہ جو صحیح کام کرنے والے ہیں وہ بھی کام کرنا چھوڑ دیں۔ بلکہ اس وقت تو صحیح کام کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا! بازار میں اگر لوگ غلط طریقے سے تجارت کر رہے ہوں تو صحیح تجارت کرنے والوں کو ثواب و اجر بھی زیادہ ملے گا، تو ان کی کوششوں میں اللہ تعالیٰ مدد بھی بہت فرمائیں گے۔ تو اس وقت تو زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ مطلب یہ تو عجیب بات ہے کہ مطلب یہ ہے کہ بروں کی وجہ سے اچھے بھی اپنا کام چھوڑ دیں، کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے؟ دنیا میں تو اس طرح نہیں کرتے تو پھر دین میں اس طرح کیوں کرتے ہیں؟ یہ صرف اور صرف شیطانی وساوس ہیں کیونکہ شیطان جو ہے نا مختلف لوگوں کو استعمال کرتا ہے، کبھی بھائی کو کرے گا، کبھی ماں کو کرے گا، کبھی باپ کو، کبھی دوست کو، کبھی یار مطلب جس کو جس طریقے سے بھی وہ کرتے ہیں کیونکہ شیطان کا کام مایوسی پھیلانا ہوتا ہے۔ مایوسی شیطان کا کام ہے۔ اور ہمت دلانا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اللہ جل شانہٗ ہمت دلاتا ہے۔ اور نیک لوگ جو ہوتے ہیں یہ بھی ہمت دلاتے ہیں۔ تو باقی یہ ہے کہ ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، ہم لوگ ان کے لیے تو کام نہیں کر رہے، ہم تو اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اللہ کے لیے جو کام کرتے ہیں اگر وہ ناکام بھی ہو جائیں تو ناکام نہیں ہیں۔ بزرگوں نے اس کے لیے جو شعر پڑھا ہے وہ یہ ہے:
مے خانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے
مے خانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ یعنی کام شروع کر لے اور بالکل ناکام ہو جائیں، پھر بھی وہ اللہ کے ہاں بہت بڑا انعام پائیں گے کیونکہ وہ یہاں کے لیے تو کام نہیں کیا تھا، انہوں نے تو اللہ کے لیے کام کیا، تو اللہ تعالیٰ تو الحی القیوم ہیں، لہذا مطلب اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ بعض پیغمبر ایسے ہیں جنہوں نے ابھی بس بعثت کا اعلان ہی کیا تھا کہ ان لوگوں نے ان کو شہید کر دیا۔ تو کیا وہ پیغمبر نہیں رہے؟ ظاہر ہے پیغمبر ہیں ان کا مقام تو ویسا ہی رہا۔ تو اس طرح مطلب ہے باقی یہ ہے کہ جو مطلب یہ ہے کہ جو ہم کہتے ہیں خراب لوگ ہیں، تو خراب لوگوں کا علاج یہ ہے کہ اور اچھے لوگوں کو Produce کرو۔ تاکہ وہ غالب آ جائیں۔ اس کی وجہ سے مطلب مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ مایوسی شیطان پہ ہے، {لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ} (الزمر: 53) یہ جو ہے نا مطلب اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، ہمیں ہمت سے کام کرنا چاہیے۔
سوال: شیخ صاحب یہ جو نماز کے جو بنے ہوئے ہیں اوقات تو اس میں جیسے اشراق سے پہلے وہ دیا ہوا ہے جیسے آپ کو وہ ہے تو شاید یہ وہ تو نہیں ہے جو پہلے جیسے وہ بزرگ جو ہوتے تھے وہ اس وقت میں آدھے سر کا جو درد ہوتا تھا اس کا علاج کرتے تھے، چائے کی چھننی جیسے آٹا چھننی نہیں ہوتی!وہ لگا کر اس کا کوئی علاج۔۔ وہ والا یہ ٹائم تو نہیں ہے آدھا ایک منٹ دیا ہوا ہے آپ کے اس میں؟ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: وہ عامل لوگ کرتے تھے، بزرگ نہیں کرتے تھے عامل لوگ کرتے تھے۔ عامل لوگ تو شاید اب بھی کرتے ہوں گے۔ لیکن ہمارا عملیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سائل: تو یہ اس وقت مطلب اشراق کا نماز پڑھ سکتے ہیں؟جواب: اشراق کی نماز اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب اشراق کا وقت داخل ہو جائے یعنی مکروہ وقت ختم ہوجائے۔ مکروہ وقت جو ہوتا ہے یہ سورج طلوع ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور تقریبا یہ 12 13 منٹ کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ بہر حال اس میں جو اشراق کا وقت لکھا ہے وہ اصل میں یہی ہے کہ اس پہ وہ مکروہ وقت ختم ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ اچھی چیزوں کو بھی بعض دفعہ ترک کرنا پڑتا ہے مجبورا، کیونکہ اس کے ساتھ اور بہت ساری چیزیں Confusing ہو جاتی ہیں۔ مثلاً بزرگوں نے بعض دفعہ عملیات کیں تاکہ لوگ برے عاملوں کے پاس نہ چلے جائیں۔ لیکن وہ چیز اتنا عام ہو گیا کہ اب لوگ پیروں کو عامل سمجھنے، عامل کو پیر سمجھنے لگے۔ تو ان کے لیے ہم جیسے لٹھ قسم کے لوگ بھی چاہیے جو فرق کر لیں کہ بھئی پیر پیر ہوتا ہے، عامل عامل ہوتا ہے، ہم عامل نہیں، وہ پیر نہیں۔ مطلب یہ فرق واضح ہونا چاہیے تاکہ جو ہے نا یہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ وہ مجھے بعض دفعہ کوئی فون پہ بات کرتے ہیں نا، تو کوئی اپنا کوئی نفسیاتی مسئلہ بتا دے، میں نے کہا بھئی میں نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہوں۔ کوئی عملیات کے بارے میں کچھ بات کریں، میں کہتا ہوں بھئی میں عامل نہیں ہوں۔ کوئی اپنی کوئی بیماری بتائے، میں نے کہا بھئی میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔ مجھ سے تو اگر بات کرتے ہو اصلاح کے لیے کر لو۔ اصلاح اگر آپ چاہتے ہو تو بسر و چشم حاضر ہیں، الحمدللہ۔ اس کے لیے بزرگوں نے ہمیں بٹھایا ہے۔ باقی ذمہ داریاں ہماری نہیں ہیں۔ ہاں جی! اس کے لیے ڈاکٹر موجود ہیں، اس کے لیے ماشاء اللہ یعنی جو اچھے نیک عامل ہیں وہ موجود ہیں، وہ آپ کام کریں، مطلب وہ اپنا اپنا کام کریں۔ ہم لوگ جو ہے نا صرف اور صرف ایک ہی چیز کے لیے ہیں اور وہ کیا ہے؟ جو بندہ اخلاص سے اپنی اصلاح کے لیے آتا ہے، ان کی خدمت ہمارے ذمہ لازم ہے اگر وہ ہمارے پاس آتا ہے۔ یہ کوشش ہم کر سکتے ہیں اور یہ ایسی چیز ہے میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ چیز سمجھ تو نہیں آئے گی جو میں تو عرصہ دراز سے باتیں کر رہا ہوں لیکن سمجھ لوگوں کو نہیں آتی، تو شاید ابھی بھی سمجھ میں نہ آئے لیکن بات تو میں کرتا ہوں۔ اگر آپ کی اصلاح ہو جائے تو آپ کا "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھنا، عاملوں کے چلوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ صرف "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھنا، وہ آپ کا عاملوں کے چلوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ کیونکہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" میں جو طاقت ہے، وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنے آپ کو بنائیں تو سہی نا۔ لیکن اس میں یہ نیت نہ کریں کہ میرے بسم اللہ میں طاقت آ جائے کیونکہ پھر وہ عملیات کی نیت ہو جائے گی۔ آپ نے صرف اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لو، جب اللہ کے ساتھ تعلق، "بسم اللہ"، بسم اللہ "ب" اور "س" میں آپس میں ملے ہوئے ہیں، یہ تو "باسمِ اللہ" ہے نا، مطلب ہے اس کو ملا دیا گیا "بسم اللہ" ہو گیا۔ تو وہ جو ہے نا اس طرح جس طرح ملے ہوئے ہیں، تو اس طرح اپنا تعلق جوڑ دو اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ اب جب ہو جائے گا تو بس اس میں پھر یہ طاقت آ جائے گی۔ پھر سبحان اللہ، پھر ماشاء اللہ پھر کیا چیز ہے یہ، اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تو یہ جو مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ شروع کھانے میں شروع کر لیں بسم اللہ سے شروع کر لیں، کپڑے پہننا شروع کرو، کوئی اور نیک کام کرنا شروع کر دیں بسم اللہ سے شروع کر لیں، تو آخر کیوں ہے؟ کیونکہ اس میں ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی ضرورت ہے۔ تو یہ ہم اگر ہم صحیح معنوں میں، اس طرح دیکھیں نا ہم کہتے ہیں "سبحان اللہ"، اس "سبحان اللہ" میں طاقت آ جائے کہنے میں۔ "الحمدللہ" کہنے میں طاقت آ جائے، "اللہ اکبر" کہنے میں طاقت آ جائے، جو صحیح معنوں میں ادا ہو، دل سے ادا ہو اور آپ کا اس پر یقین ہو۔ تو پھر یہ چیزیں ایسی ہوں گی کہ سبحان اللہ یہ پھر کہاں سے کہاں ہی آپ کو پہنچا دیں گے۔ لیکن میں نے اس لیے کہا کہ بھئی نیت ان کی نہیں کرنی اس طرح، نیت تو کرنی ہے اللہ تعالیٰ کے تعلق کی، وہ تو پھر اللہ تعالیٰ خود ہی ڈال لیتے ہیں: {مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللهُ لَهٗ} جو اللہ کا ہو گیا اللہ اس کا ہو گیا، تو اللہ کی ساری خدائی اس کے لیے استعمال ہوتی رہے گی پھر۔ پھر کوئی پریشانی نہیں ہے، پریشانی اس وقت ہے جب اس سے دور ہے۔ پھر شیطان سوار ہو جاتا ہے، نفس سوار ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ پھر مسائل ہونے لگتے ہیں۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
سوال: شیخ صاحب ایک جیسے مسجد بنی ہوئی ہے نا، پر وہ گورنمنٹ کی زمین پر بنی ہوئی ہے غصب کر کے۔ جی! تو اس میں مطلب نماز، بس عبادت کر سکتے ہیں؟
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، یہ چونکہ میں بہت دور ہوں مجھے تو پتا نہیں کہ وہ کیا معاملہ ہے۔ اصل میں جو لوگ باتیں کرتے ہیں وہ اپنی اپنی سوچ کے مطابق کرتے ہیں، حقیقتِ حال کیا ہے وہ تو اللہ کو پتا ہے نا۔ تو اس علاقے کے جو مفتیانِ کرام ہیں، صحیح مخلص مفتیانِ کرام، ان سے اس کے بارے میں پوچھو وہ تحقیق کر کے بتائیں کہ کیا بات ہے۔ پھر اس میں مسئلہ بھی معلوم ہو جائے گا۔
سوال: وہ مطلب کراچی بنوریہ سے مطلب آیا تھا، انہوں نے کہا کہ صحیح نہیں ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: بس پھر ان کے اوپر عمل کرو۔ مطلب ظاہر ہے اس میں میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے کیا پتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ مطلب میں اس کے بارے میں نہیں جانتا، وہ لوگ جانتے ہیں جو، جو لوگ وہاں اس کو دیکھ چکے ہیں، ان کے حالات ان کو معلوم ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ دشمنیاں بھی کر لیتے ہیں نا، تو اپنی طرف سے بات بنا لیتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ایسی بات کی ذمہ داری ہم کیوں لیں۔
سوال: تو اب اس علاقے کے جو ابھی عالم ہیں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین تو مطلب اللہ کی ہے، کہاں، یہ ہر جگہ مطلب۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669 - حصہ دوم)
جواب: پھر آپ ہر ایک کے گھر پہ قبضہ کرو نا پھر، پھر پتا چل جائے گا، کر کے دکھاؤ، ہے کہ زمین تو ساری اللہ کی ہے۔ مسجد نبوی کیسے بنی تھی، وہ پھر اس کا دیکھ لو۔