حضرت ام سلیم رضي الله عنها کا عظیم صبر، شوہر کے لیے زیب و زینت اور خواتین کا جہاد میں کردار

حدیث نمبر 44 - باب الصبر -(اشاعتِ اول)، 30 اگست، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• حضرت ام سلیم رضي الله عنها کا اپنی نرینہ اولاد کی وفات پر بے مثال اور عظیم الشان صبر۔

• شوہر کی خوشنودی کے لیے غم کے باوجود اپنے آپ کو سنوارنا اور حکمت کے ساتھ خبر دینا۔

• مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے صبر کی مدد مانگنا اور بہترین نعم البدل کی امید رکھنا۔

• عورت کا صرف اپنے شوہر کے لیے زیب و زینت اختیار کرنے کا جواز اور اس کی حدود (نامحرموں، مردوں، اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت مثلاً Boy cut وغیرہ سے اجتناب)۔

• غزوات اور میدانِ جنگ میں صحابیات رضي الله عنهن کا کردار (زخمیوں کی مرہم پٹی اور مجاہدین کو پانی پلانا)۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا: لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهٖ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهٗ، فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَ شَرِبَ، ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهٗ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا، فَلَمَّا أَنْ رَأَتْ أَنَّهٗ قَدْ شَبِعَ وَ أَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ؟ قَالَ: لَا فَقَالَتْ: فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: تَرَكْتِنِي حَتَّى إِذَا تَلَطَّخْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي، فَانْطَلَقَ حَتّٰى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللهُ فِي لَيْلَتِكُمَا قَالَ: فَحَمَلَتْ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهٗ وَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: إِنَّكَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ أَنَّهٗ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ وَ أَدْخُلَ مَعَهٗ إِذَا دَخَلَ وَ قَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى، تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا وَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ: لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعُهٗ أَحَدٌ تَغْدُوا بِهٖ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهٗ فَانْطَلَقْتُ بِهٖ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَ ذَكَرَ تَمَامَ الْحَدِيثِ۔

مسلم کی روایت میں ہے کہ اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک لڑکا فوت ہوگیا، اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر والوں سے کہا اس بیٹے کے بارے میں تم ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ نہ بتانا میں خود ہی ان کو بتاؤں گی۔ چنانچہ جب وہ آئے تو اس نے ان کے سامنے رات کا کھانا پیش کیا اس نے کھانا کھایا اس کے بعد اُمّ سلیم نے زیب و زینت لگانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی پہلے سے زیادہ بن سنور کر سامنے آئی، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے ساتھ ہمبستری کی، جب اُمّ سلیم نے دیکھا کہ وہ سیراب ہوگیا ہے اور اس کی حاجتِ نفسانی پوری ہوچکی ہے تو اپنے خاوند سے کہنے لگیں ابوطلحہ! مجھے بتاؤ اگر کوئی قوم کسی کو اپنی کوئی چیز عاریۃً دے دیتی ہے پھر اس کو واپس طلب کرے تو کیا انہیں اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ عاریۃً چیز کو واپس لوٹانے سے انکار کر دیں؟ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا نہیں، اُمّ سلیم نے کہا آپ اپنے بیٹے کے بارے میں اللہ سے ثواب طلب کریں (اس کا انتقال ہوگیا) ابوطلحہ (ناراض ہو کر) کہنے لگے تم نے مجھے بتایا ہی نہیں۔ جب میں مجامعت کر بیٹھا تو پھر تم نے بیٹے کے فوت ہونے کا تذکرہ کیا، یہ کہا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ کہہ سنایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو برکت فرمائے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اُمّ سلیم حاملہ ہوگئیں۔ رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں تھے، اُمّ سلیم بھی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھیں اور رسول اللہ ﷺ جب سفر سے مدینہ تشریف فرما ہوتے تو رات کو نہ آتے۔ چنانچہ مدینہ کے قریب پہنچے تو اُمّ سلیم کو دردِ زہ شروع ہوگیا، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُمّ سلیم کے پاس رکنا پڑا اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے اے اللہ بے شک تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلیں تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلوں اور جب آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوں تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہوں، تجھے معلوم ہے کہ میں اب رک گیا ہوں۔ اُمّ سلیم کہنے لگیں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب مجھے وہ تکلیف نہیں رہی جس کو میں پہلے محسوس کرتی تھی لہٰذا ہم بھی چلیں ہم وہاں سے چلے۔ مدینہ پہنچے تو دردِ زہ شروع ہوگیا اور لڑکا پیدا ہوا۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے کہا کہ اس بچے کو کوئی دودھ نہ پلائے، کل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جائیں گے۔ چنانچہ صبح کے وقت میں نے بچے کو اٹھایا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پہلی تمام حدیث کو بیان کیا۔

یہ ام سلیم رضي الله عنها کے عظیم الشان صبر و تحمل کے بارے میں حدیث شریف ہے۔ اس میں حضرت ام سلیم رضي الله عنها کے صبر و تحمل اور شوہر کے ساتھ وفاشعاری کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ بچے کا انتقال ہو گیا اور وہ بھی نرینہ اولاد کا۔

اور تو ظاہر ہے مطلب اس وقت اتنا صبر کیا کہ اپنے شوہر کے لیے زینت بھی کیا اور پھر اس کو بتایا۔ تو یہ ماشاء اللہ... اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت صبر عطا فرمایا تھا۔ اس وجہ سے صبر جو ہے نا یہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اور اللہ پاک فرماتے ہیں وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ تو صبر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنی چاہیے۔ تو اس نے صبر کیا تو اللہ پاک نے ان کو ایک اور بیٹا... ماشاء اللہ دے دیا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو بھی یہ اپنانا چاہیے، روش، کہ اگر کوئی اس قسم کی بات ہو تو سب سے پہلے کام ہمارا یہ ہو کہ اس پہ صبر کریں اور پھر اللہ پاک سے اس کا بہترین نعم البدل مانگیں۔ تو اللہ پاک کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو اس... مطلب جیسے حالات میں... جو ہے نا مطلب سنتوں پر اور صحابہ کرام کے طریقوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

عورت کا اپنے شوہر کے لئے زینت کرنا جائز ہے

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت زیب و زینت کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ یہ زیب و زینت شوہر کے لئے ہو، نامحرم نہ دیکھیں اور یہ زینت اس طرح نہ ہو کہ بالکل حلیہ ہی بدل جائے

یا یہود و نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہو جائے۔ کیونکہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ رِجا... مطلب جو ہے نا وہ رجال کے ساتھ مشابہت نہیں ہونی چاہیے جیسے Boy cut وغیرہ ہے۔ اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ مطلب نہیں ہونی چاہیے۔

اور یہ بھی بات ہے کہ

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن بھی میدانِ جنگ میں شریک ہوتی تھیں مگر ان کا کام زخمیوں کی مرہم پٹی، بیماروں کی تیمارداری اور کھانے پینے کا انتظام وغیرہ کرنا ہوتا تھا۔ امام ترمذیؒ نے اسی وجہ سے ایک باب باندھا ہے جس کا عنوان ہے بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ یعنی عورتوں کا جہاد میں نکلنا اس کے بعد یہ روایت نقل کی ہے۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَ نِسْوَةٍ مَّعَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَسْتَقِينَ الْمَاءَ وَ يُدَاوِينَ الْجَرْحَی۔ (5)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ اُمّ سلیم اور انصار کی عورتوں کو ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں۔

تخریج حدیث: رواہ البخاری فی الجنائز (باب من لم یظھر حزنہ عند المصیبة و فی العقیقة (باب تسمیة المولود) رواہ مسلم فی الادب (باب استحباب تحنیک المولود عند ولادتہ، و فی فضائل الصحابة (باب من فضائل ابی طلحة الانصاری رضی اللہ تعالی عنہ)

اللہ پاک ہم سب کو آپ ﷺ کی سنتوں کو سمجھنے اور پھر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


حضرت ام سلیم رضي الله عنها کا عظیم صبر، شوہر کے لیے زیب و زینت اور خواتین کا جہاد میں کردار - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور