اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللهِ لِيُرِيَكُمْ مِنْ آيَاتِهٖ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ۔
وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔
وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: وَسَيَجْزِي اللهُ الشَّاكِرِينَ۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ۔
وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهٗ خَيْرٌ حَمِدَ اللهَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللهَ وَصَبَرَ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهٖ حَتّٰى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهٖ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ: يَا عِيسٰى! إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً، إِذَا أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللهَ، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ! كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ، وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُوتِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهٗ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ فَلَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهٖ، أَوْ فِي مَالِهٖ، أَوْ فِي وَلَدِهٖ، ثُمَّ صَبَّرَهٗ عَلَى ذَلِكَ، حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! الحمد للہ، اللہ پاک نے ہم سب کو روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائی، شکر ہے الحمد للہ۔ اور پھر اللہ جل شانہ نے عیدالفطر کی جو خوشی بھی ہے وہ بھی نصیب فرمائی، اس پر بھی شکر ہے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ پوری زندگی جو ہماری ہے نا یہ دو چیزوں سے عبارت ہے۔ خوشگوار حالات اور ناخوشگوار حالات۔ دونوں ہر ایک کو پیش آتے ہیں۔ کسی وقت خوشگوار حالات ہوتے ہیں تو اس وقت شکر کرنا پڑے گا۔ اور کسی وقت ناخوشگوار حالات ہوتے ہیں تو صبر کرنا پڑے گا۔ یعنی گویا کہ تکوینی احکامات کے ذریعے سے جو حالات انسان پر آتے ہیں، ان حالات میں ہم اختیاری طور پر کیسے اپنا حال بنائیں؟ وہ جو ہے نا اس کے لیے احکامات اللہ پاک نے جو اتارے ہیں اس کو "شریعت" کہتے ہیں۔ اور شریعت پر عمل کرنا سب کو لازم ہے۔ لہٰذا جو حالت اللہ پاک نے ہمارے لیے تجویز فرمائی ہے، وہی ہمارے فائدے کے لحاظ سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ کس چیز کے ساتھ ہمیں فائدہ زیادہ ملے گا۔ یہی بات حضرت عمر رضی الله عنه نے کی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے صبر کی اونٹنی پر زیادہ فائدہ ہے یا شکر کی اونٹنی پر زیادہ فائدہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بھی نہیں معلوم کہ صبر سے ہمیں بہت زیادہ فائدہ مل رہا ہے یا شکر کے ذریعے سے ہمیں زیادہ فائدہ مل رہا ہے۔ اور دونوں چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے حالات ہوتے ہیں، اور دونوں میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہم لوگ اپنا عمل بناتے ہیں، تو ظاہر ہے دونوں کی بات تو ایک ہی ہے۔ یعنی جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔ تو صبر اور شکر یہ بالکل دو ساتھ ساتھ چیزیں ہیں، جو چلتی رہتی ہیں، جیسے کہ رات اور دن ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں، اور اس کے ساتھ زمانہ گزرتا ہے۔ تو ہمارا بھی زندگی جو ہے نا اسی طریقے سے گزرے گا۔ اور ہم لوگوں کو اس بات کو سمجھ جانا چاہیے، کہ مشکل حالات میں ہم صبر کا دامن نہ چھوڑیں اور اچھے حالات میں ہم شکر کو بھول نہ جائیں۔ یہی عقلمندی ہے، اور یہی ہوشیاری ہے، اسی کو ہم لوگوں نے اپنانا ہے۔
اب جو آیات مبارکہ گزری ہیں، اور جو احادیث شریفہ گزری ہیں، اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ اصل تو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات قرآن میں ہیں یا پھر احادیث شریفہ میں ہیں۔ تو ہمیں تو ظاہر ہے اس کے مطابق ہی چلنا ہوگا۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ "صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا"۔ "صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا"۔ اور یہ ارشاد فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا"۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ "تم صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ "میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو"۔ شکر کرنے میں محبوبیت ہے اور صبر کرنے میں معیت ہے۔
تو اللہ تعالیٰ کا ساتھ دینا کتنی بڑی دولت ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننا کتنی بڑی دولت ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں اللہ پاک نے جو نعمتیں دی ہیں اس میں ہم اللہ کو نہ بھول جائیں۔ اب عید کا دن جو ہوتا ہے نا اس میں مسئلہ یہی ہوتا ہے۔ بہت اہم بات ہے، لیکن پتا نہیں کیوں اس کی طرف ہم توجہ نہیں دیتے۔ دو قسم کی خوشیاں ہیں۔ دو قسم کی۔ ایک خوشی ہے دل کی خوشی، ایک خوشی ہے نفس کی خوشی۔ جو دل کی خوشی ہے وہ دیرپا ہوتی ہے، اور جو نفس کی خوشی ہوتی ہے وہ وقتی ہوتی ہے۔ اب جیسے مثال کے طور پر میں کھانا کھاتا ہوں، بہت لذیذ کھانا ہے۔ وہ جو لذیذ کھانا میں کھاتا ہوں، مجھے آپ بتائیں کتنی دیر کے لیے مجھے اس کا مزہ آئے گا؟ یعنی ہونٹوں سے لے کر حلق تک، اس سے زیادہ نہیں ہے۔
اچھا میں کسی چیز کو دیکھ رہا ہوں خوبصورت چیز کو۔ کتنی دیر مجھے اس کا مزہ آئے گا؟ جب تک میری آنکھیں اس پر ہیں اس وقت تک ہیں۔ آنکھیں اس سے ہٹ گئی بس چیز ہٹ گئی۔ اس طریقے سے اگر کوئی خوشبو ہے تو کتنی دیر تک؟ ظاہر ہے جب تک اس خوشبو کے Domain میں ہوں تو مجھے خوشبو آئے گی، اس کا مزہ ہوگا، ورنہ نہیں، اس کے فوراً بعد اگر کوئی بدبودار چیز آ جائے تو ساری چیزیں کرکرا ہو جائے گی۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ جو نفس ہے نا، نفس کی جو خوشی، یہ بالکل وقتی ہے۔ اس کو اس طرح بتاتے ہیں کہ نفس جو ہے، یہ اعمال کی فیکٹری ہے۔ یہ اعمال کی فیکٹری ہے، مسلسل اس سے اعمال نکلتے ہیں۔ تو اعمال اچھے بھی ہوتے ہیں، برے بھی ہوتے ہیں۔
اب مثال کے طور پر ایک آدمی ہے، وہ اسی نفس کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے، اپنے نفس کے اوپر جبر کر کے، نفس کی نہ مان کر وہ نماز پڑھ رہا ہے۔ وہ تقویٰ ہے۔ اور ایک آدمی نفس کی مان کر سینما دیکھ رہا ہے، فلم دیکھ رہا ہے، لہو و لعب میں مبتلا ہے۔ اچھا موبائل کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ یہ بھی نفس کی کارگزاری ہے۔ تو اس کی وجہ سے فجور برآمد ہو رہے ہیں۔ وہ گناہ مسلسل اس سے نکل رہے ہیں۔ اچھا اب دیکھیں یہ جو گناہ ہیں جو نفس کے... وہ نفس کے ساتھ Store نہیں ہوتے۔ نفس ان کو گزار دیتا ہے۔ اب کہاں Store ہوتے ہیں؟ وہ دل پر Store ہوتے ہیں۔ اس کی اچھائی یا اس کی برائی۔ نماز ہم نے پڑھی، تو نماز کا جو اثر ہے وہ ہمارے دل کے اوپر Store ہو گیا۔ اور جو ہم نے کوئی گناہ کیا، اس گناہ کا اثر ہمارے دل کے اوپر Store ہو گیا۔
حدیث شریف میں آتا ہے، صاف صاف بات عرض کرتا ہوں، فرماتے ہیں کہ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا سیاہ نقطہ دل کے اوپر لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے تو معاف ہو جاتا ہے اور صاف ہو جاتا ہے۔ اور اگر توبہ نہیں کرتا تو رہ جاتا ہے، صاف نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اور گناہ کر لیتا ہے، وہ دوسرا گناہ بھی اس کے اوپر ایسے ہی رہ جاتا ہے۔ اب اگر توبہ کرتا ہے تو دونوں معاف ہو جائیں گے، نہیں توبہ کرتا تو وہ ظاہر ہے وہی رہے گا۔ اس طریقے سے اگر کوئی غفلت میں ہے اور گناہوں پہ گناہ کر رہے ہیں اور اس کو توبہ کی توفیق نہیں ہو رہی تو کیا ہوگا؟ ایک وقت آ سکتا ہے جب یہ سارا دل ان نقطوں کے ساتھ سیاہ ہو جائے۔
ایسا دل جو ہوتا ہے نا یہ پھر مسلوب الہدایت ہو جاتا ہے۔ اس کو پھر وہ جو کرن ہے روشنی کی وہ گزر ہی نہیں سکتی اس میں۔ نتیجتاً وہ مسلوب الہدایت ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے پھر بہت بڑے جھٹکے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جھٹکا، اس کو پھر دیا جاتا ہے اور جھٹکے سے وہ باہر نکلتا ہے۔ ورنہ صحیح بات ہے کہ معمولی چیز اس کو اثر نہیں کرتی۔ ہاں وہ جھٹکا اس کو لگانا پڑتا ہے۔ نہیں ہوتے ہمارے ڈاکٹر حضرات، یہ دل جب بالکل بند ہو جائے، تو پھر اس کو جھٹکے لگاتے ہیں۔ حالانکہ اس کی ماں کیوں نہ ہو، وہ کرتا ہے، کیونکہ ظاہر ہے اس کو پتا ہے بغیر جھٹکے کے یہ ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب ساتھی ہیں۔ اس نے واقعہ سنایا کہ میں مریضوں کو دیکھ رہا تھا، تو Patients میں عورت بیٹھی ہوئی تھی، وہ گر گئی اور اس کو ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ اب اس وقت آپریشن تھیٹر تو میرے پاس نہیں تھا۔ تو اس وقت میں فوراً Jump کر کے اس کے پاس چلا گیا اور اس کو وہ دل پہ پیر کا انگوٹھا رکھ کر اس کو جھٹکا دیا۔ بالکل، جھٹکا دیا تو اس کا دل چل پڑا۔ لیکن اس کی دو پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
دو پسلیاں ٹوٹ گئیں تو ان کے بیٹوں نے میرے اوپر کیس کر دیا کہ آپ نے ہماری ماں کے پسلیاں توڑی ہیں۔ میں نے کہا میں نے کہا بالکل توڑی ہیں، آپ کسی بھی عدالت میں چلے جائیں میں انکار نہیں کروں گا۔ مجھے آپ بتائیں آپ کو صحیح پسلیوں کے ساتھ لاش چاہیے تھی ماں کی، یا ٹوٹی ہوئی پسلیوں کے ساتھ زندہ ماں چاہیے تھی؟ میرے لیے حکم تو یہ تھا کہ بے شک پسلی ٹوٹ جائے لیکن زندہ ہونی چاہیے۔ اور آپ کا اگر یہ بات ہے تو میرے اوپر کیس کر لیں میں جواب دے دوں گا۔ تو ان کو لوگوں نے سمجھایا کہ بھئی کیا خوامخواہ اپنے آپ کو خراب کر رہے ہو، چھوڑو، تو بہرحال یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ جھٹکا لگانا پڑتا ہے۔ تو وہ بھی خوش قسمت کو جھٹکا لگایا جاتا ہے۔ وہ جس کو جھٹکا لگا دیا جائے اور اس جھٹکے کی وجہ سے واپس آ جائے اور وہ نیک اعمال کرنا شروع کر لے تو پھر بڑی بات ہے۔ ہاں ایسے بات ہوتی ہے۔
یہ ہمارے ایک رشتہ دار تھے، بہت بڑے عالم تھے، بہت اللہ والے تھے۔ ان کا بھتیجا اس کے والد صاحب بھی بہت بڑے عالم تھے۔ تو وہ گناہوں کی زندگی میں مبتلا تھے۔ بس ان کے بقول خود کے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے کوئی ایسا گناہ نہیں جو میں نے کیا نہ ہو۔ اچھا، گناہوں کی زندگی میں لت پت تھے۔ اب گناہوں کی زندگی میں تو اطمینان نہیں ہے نا، گناہوں کی زندگی میں تو اطمینان نہیں ہے۔ تو بے اطمینانی کی وجہ سے اس نے ارادہ کیا خودکشی کرنے کا۔ اب اندازہ کر لیں ایک انسان اپنے ہاتھ سے اپنی زندگی تباہ کرنا چاہے تو کیسی حالت ہوگی؟ وہ بے اطمینانی کی کیا کیفیت ہوگی؟ تو اس نے خودکشی کا ارادہ کیا، تو اس کے چچا موجود تھے والد تو فوت ہو گئے تھے۔ تو اس نے کہا کہ میں یہ کر دیتا ہوں کہ اپنے چچا کو صرف مل لیتا ہوں۔ کیونکہ آخر جانا تو ہے تو چلو اس سے آخری ملاقات کر کے چلے جائیں، یہی ان کی خوش قسمتی تھی۔ چچا کے پاس گئے۔ چچا کو سارا واقعہ سنایا۔
چچا بہت بڑے بزرگ تھے۔ انہوں نے اس سے کہا جا جا کیا بکواس کرتے ہو، جاؤ، نماز پڑھو۔ بس اس کو یہ کہا مطلب ہے اس انداز میں کہا بھئی کوئی اس طرح تسلی یا کوئی اس طرح نہیں ہے۔ تو اس نے کہا چلو آخری بات ہے تو نماز پڑھ ہی لوں۔ تو نماز پڑھ لوں، تو گھر جا کے صاف کپڑے لے لیے، مسجد کے غسل خانہ ہے اس میں غسل کیا، اور صاف کپڑے پہن کے، مسجد کے اندر، نماز کا وقت تو تھا نہیں۔ تو ظاہر ہے کوئی نفل نماز ہی پڑھتا ہوگا۔ تو نماز پڑھنے کے لیے نیت باندھی اور جیسے سجدے میں گیا تو بس رونا شروع ہو گیا۔ روتا رہا، روتا رہا، روتا رہا، روتا رہا، روتا رہا، حتیٰ کہ اتنا رویا کہ بس وہ جس وقت اٹھا ہے دوبارہ سجدے سے، تب بالکل بدل چکا تھا۔ بالکل بدل چکا تھا۔ اور پھر اس کے بعد ماشاء اللہ اس کی زندگی ہم نے دیکھی۔ الحمدللہ، مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہو گئے، اور ہر وقت ذکر کرتے تھے، ان کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی تھی۔ ہر وقت ذکر کرتے تھے۔
اور اس کی اچھی خاصیت جو بہت زبردست تھی، ایک تو یہ کہ لوگوں کی خدمت کرتے تھے۔ لوگوں سے بازار کے لیے... بازار لوگوں کے لیے بازار سے سودا سلف لایا کرتے تھے۔ مفت میں، بس یہ ان کا وہ کام تھا۔ حالانکہ بڑی عمر کے تھے۔ اور دوسری بات یہ تھی، غیبت بالکل نہیں سن سکتے تھے۔ کرتے تو ظاہر ہے خود ہی نہیں تھے، لیکن سن بھی نہیں سکتے تھے۔ اور جیسے کوئی ان کے سامنے کسی کی غیبت شروع کر لیتا، اس کو یہ نہیں کہتے کہ آپ کیا کر رہے ہیں، اٹھ کے دوسرے کے پاس چلے جاتے۔ بس وہ بات اس کا ادھوری چھوڑ کے جا کے کسی اور کے پاس بیٹھ جاتے۔ یا جا کے تنہائی میں بیٹھ جاتے۔ مطلب اس طریقے سے مطلب ان کی زندگی گزر رہی تھی۔ اخیر میں بھی الحمدللہ، اللہ نے بڑی اچھی موت دی تہجد کے وقت۔
یہ جو بات میں عرض کرتا ہوں، کہ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل۔ کالے دل کو اللہ کیسے نورانی دل بنائے؟ یہ اس کا کرم ہے، اس کا فضل ہے، جس کے اوپر بھی فضل فرمائے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ وہ اس کے لیے پھر بہت بڑے Source کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ہماری بیٹریاں نہیں جو خراب ہو جاتیں، تو کہتے ہیں جی اس کو بہت بڑے چارجر کے ساتھ لگاؤ۔ تو پھر اس کے بعد یہ چل پڑیں گی۔ تو یہ سب چیزیں بالکل وہی... اصول بالکل سارا ایک ہی ہے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ یہ دل جو ہے نا یہ اسٹوریج ہے۔ اس کے اندر تقویٰ Store ہوتا ہے، اس کے اندر فجور Store ہوتے ہیں۔ دونوں باتیں ہیں۔ تو جو تقویٰ Store ہوتا ہے تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا نا... کہ التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى الْقَلْبِ، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔ اور دل کی طرف اشارہ فرما دیا۔
یہ اصل میں یہی بات ہے۔ کہ جو انسان نیک کام کرتا ہے اس کا اثر دل پر Store ہو جاتا ہے۔ اور ماشاء اللہ وہ، الحمدللہ اس کا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح دیکھو نا، ہم لوگ جو نعت شریف سنتے ہیں، اس کا اثر ہوتا ہے۔ ہم جو لوگ قرآن سنتے ہیں، اس کا اثر ہوتا ہے۔ ہم جو کوئی اچھا کلام سنتے ہیں، اس کا اثر ہوتا ہے۔ ہم کوئی درود شریف پڑھتے ہیں، اس کا اثر ہوتا ہے۔ ہم کوئی نیک مجلس میں جاتے ہیں، اس کا اثر ہوتا ہے۔ یہ ساری چیزیں اسی قبیل کی ہیں۔ یہ دل کو صاف کرنے کے ذرائع ہیں۔ ذکر جو کرتے ہیں اس سے بھی مطلب دل صاف ہوتا ہے۔ تو یہ سب چیزیں اللہ جل شانہ نے ہمیں دی ہیں۔
لیکن شیطان بھی تو ساتھ ہے نا، اللہ پاک نے تو سب کچھ دیا ہے، لیکن شیطان ہمیں اس کی طرف جانے کیوں دے گا؟ یعنی جو چیز بھی اللہ کو راضی کرنے والا ہے، شیطان اس کے بارے میں وسوسے ڈالے گا۔ شیطان اس سے ہٹائے گا۔ اور خوامخواہ اس کو کسی اور طرف جانے کے لیے کہے گا۔ ہاں، تاکہ اس کی طرف جائے نہیں۔ میں آپ کو بالکل مثال دے سکتا ہوں، صاف صاف بات عرض کرتا ہوں۔ یہاں کوئی آدمی ڈگڈگی والا آ جائے، اور یہاں ڈگڈگی شروع کر لے۔ تھوڑی دیر میں دیکھو کتنے لوگ کھڑے ہوں گے اس کے ساتھ۔50، 60 کے تو کوئی بات ہی نہیں ہے، بالکل فوراً مطلب جو ہے نا وہ سارے... حالانکہ اس کا کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ لیکن بہرحال بس لوگ جو ہے نا اس کی طرف آنا شروع کر لیں گے۔
اور اگر کوئی دینی بات ہو تو پھر کیا ہوگا؟ پھر گھڑی دیکھیں گے کہ پتا نہیں کیا پھر کتنا ٹائم گزر گیا۔ وہ ایک دفعہ ایک سیاح آئے تھے، یہاں پاکستان میں، باہر ملکوں سے۔ تو وہ ریلوے پھاٹک تھی نا، تو ریلوے پھاٹک بند تھی۔ تو ایک آدمی آیا تو وہ سائیکل تھا اس کے پاس، تو اس سے انتظار نہ ہو سکا، تو وہ جو اس میں وہ نہیں ہوتا چرخا... وہ ہاتھ میں سائیکل کو اٹھا کر اس چرخے میں سے گزر گیا۔ تو سیاح اس کو دیکھ رہے ہیں، کہتے ہیں بہت ڈیوٹی فل آدمی ہے، کوئی بہت اہم کام اس کے ذمے ہیں۔ تاکہ فوراً چلے جائے اور یہ کام کر لے، یہ بہت بڑا ڈیوٹی فل آدمی ہے۔ خیر بہرحال۔ تھوڑی دیر کے بعد پھاٹک کھل گیا۔ اب پھاٹک کھل گیا تو سیاح بھی چلا گیا۔ چلا گیا، تو وہاں کوئی ڈگڈگی وغیرہ بجا رہا تھا، کوئی تماشا کر رہا تھا۔ وہاں کھڑے تھے۔ تو وہ کہتے ہیں، یہ کیا بات ہے، اب اس کے لیے اتنا بڑا رسک لے لیا تھا۔ اس چیز کے لیے مطلب اتنی جلدی تھی اس کو۔ مطلب یہ کیا بات ہے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی شیطان اس کو Distroy کرتا ہے۔ خوامخواہ ہمیں وہ غلط چیزوں کی طرف ہمیں لے جاتا ہے، اور اچھی چیزوں سے بھگاتا ہے۔ یہ اس کا طریقہ ہے۔ اور اس کو الزام بھی ہم نہیں دے سکتے۔ اس نے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بات کی ہے۔ ہاں، اس نے تو کہہ دیا کہ یا اللہ، میں ان کے سیدھے راستے میں بیٹھ جاؤں گا۔ ان... دائیں طرف سے آؤں گا، بائیں طرف سے آؤں گا، آگے سے آؤں گا، پیچھے سے آؤں گا، ان کو تجھ تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ اور تو ان میں بہت کم کو شکرگزار پائے گا۔ ہاں مگر جو خاص تیرے چنے ہوئے لوگ ہیں، ان کے اوپر میرا بس نہیں چلے گا۔ ان کے اوپر میرے بس نہیں چلے گا۔ تو اللہ پاک نے بھی فرمایا، ہو گئی بات فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ مطلب یہ ہے، ہو گئی بات۔ ہو گئی Done، جسے ہم کہتے ہیں نا Done ہو گیا۔ تو جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور جو تیری بات مانیں گے، تو تجھ سے اور تیرے متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔
یہ بات طے ہو گئی ہے۔ اب مطلب یہ ہے کہ، اللہ جل شانہ کے جو ہیں، وہ کون لوگ ہیں؟ آخر وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے ہیں؟ یعنی اللہ نے جن کے اوپر... یعنی گویا کہ فرمایا یعنی غیرت، کہ جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ وہ کون لوگ ہیں؟ پورے قرآن کے اندر جوابات موجود ہیں لیکن ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے کہ وہ سارے منتشر ہیں نا، ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ تو اس کا جواب سورۂ شمس میں ملتا ہے۔ اور وہ کون ہے؟ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔ یہ یعنی نفس کی قسم۔ اور جیسے کہ اس کو سنوار دیا۔ اور پھر فرمایا کہ اس کے اندر ہم نے الہام کی، کون سی چیزیں؟ دو، ایک فجور اور ایک تقویٰ۔ پھر فرمایا، پس یقیناً فلاح پائی اس نے، جس نے اپنے نفس کو رذائل سے پاک کر دیا۔ اور پس تباہ و برباد ہو گیا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا اور تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص، جس نے اپنے نفس کو خاک میں ملا دیا۔ یعنی کہ اس کے ساتھ کرنا چاہیے تھا نہ کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں کیا، اس کو خاک میں ملا دیا، وہ تباہ و برباد ہو۔
اب یہ اللہ پاک نے قَدْ کے صیغے کے ساتھ بات فرمائی ہے، قَدْ کا لفظ ہے نا جو یقینی والی بات ہے۔ اس کے ساتھ فرما دیا، کہ اس کی اب کامیابی میں کوئی شک نہیں ہے، جو پہلے والا گروہ ہے۔ اور دوسرے گروہ کی ناکامی میں کوئی شک نہیں۔ اچھا، تو کامیابی جس کے لیے فرمائی گیا ہے یقینا، تو وہاں بھی فرمایا جو میرے ہیں تو ان کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ یہ وہی لوگ ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں۔ تو جو اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اس کو کہتے ہیں سیر الی اللہ۔ اصل میں لوگ الفاظ میں گم ہو جاتے ہیں نا، الفاظ میں گم ہو جاتے ہیں۔ الفاظ بے شک کچھ بھی ہوں، حقیقت کی طرف جانا چاہیے۔ سیر الی اللہ۔ اللہ تعالیٰ تک تو کوئی نہیں جا سکتا۔ اللہ پاک کی ذات تو وراء الوراء ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اعمال کی طرف۔ مطلب جو جاتا ہے، وہ سیر الی اللہ ہے۔
وہ سیر الی اللہ ہے، تو سیر الی اللہ جو ہے، مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے دس مقامات طے کرنے ہوتے ہیں۔ دس مقامات، ان دس مقامات میں ایک مقام صبر کا بھی ہے۔ انسان صبر والا ہو جائے۔ صبر پہ قائم رہے، استقامت رکھے۔ یعنی جب بھی کوئی مشکل آئے تو اس وقت صبر ہی کرے۔ یہ ہے مقام صبر۔ جب بھی مشکل وقت آئے تو اس وقت صبر ہی کرے۔ اور پھر ان دس مقامات کا جو نتیجہ ہے وہ شکر ہے۔ دس مقامات، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے راضی وہی ہوگا جو شکر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے وہی راضی ہوگا نا۔ مقام رضا جو ہے بالکل اخیر میں آتا ہے۔ تو یہ جو ہے نا مطلب ہے، دس مقامات جس نے طے کر لیے، ان کو یہ چیز مل سکتی ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ حاصل تو یہی ہیں، البتہ ان کو حاصل کرنے کے لیے دوسرے مقامات ہیں۔ جیسے مقام قناعت ہے۔ مقام ریاضت ہے۔ مقام تقویٰ ہے۔ یہ سب اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ کہ ہماری جو زندگی ہے، اس کے اندر چاہے خوشگوار حالات ہوں، چاہے ناخوشگوار حالات ہوں، ہم اس میں اللہ کی مانیں، شیطان کی طرف نہ جائیں۔ بس یہی بات ہے۔
تو یہ روزہ، رمضان شریف اور عید، یہ دونوں ہمیں اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ رمضان شریف میں صبر کا مہینہ ہے۔ اچھا، اس میں بھی شکر کا، فرحت کا وقت ہوتا ہے۔ فرمایا، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، فرحتیں ہیں۔ ایک وہ کیا ہے؟ ایک اس کا افطار کے وقت خوشی۔ اور ایک جو ہے نا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت خوشی۔ کیونکہ اللہ پاک نے خود فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اَلصَّوْمُ لِي روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ تو باقی اعمال کی جزا جو ہے وہ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دلواتے ہیں۔ روزوں کی جزا جو ہے اللہ تعالیٰ خود دیں گے۔ اب جب خود دیں گے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات تو ہوگی۔ تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات سب سے بڑا Achievement ہے۔ تو یہ خوشی ان کو حاصل ہوگی۔ یہ خوشی ان کو حاصل ہوگی۔
اب ذرا غور فرمائیے! ایک افطار انسان کا روزانہ ہے، رمضان شریف میں۔ اور ایک افطار پورے مہینے کا ہے۔ جو افطار روزانہ کا ہے، یہ وہ تو ہے ہمارا روزانہ کا یعنی روزہ کھولنا۔ اور جو افطار ہمارا مہینے کا ہے، تو اس پورے مہینے کے بعد ہم اس دن روزہ نہیں رکھتے۔ حرام ہے۔ اس دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ یہ ہے افطار مہینے کا۔ یعنی مہینے بھر روزہ رکھ کر، اب ہم اللہ کے حکم سے مطلب روزہ نہیں رکھ کر، خوشی مناتے ہیں اور اللہ پاک کی بڑائی بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شکر کے طور پر عید کی نماز پڑھتے ہیں۔ کیسی زبردست! تو مطلب یہ ہے کہ، یہ جو دن ہے، اب دیکھیں گویا کہ صبر تو پورا مہینہ کیا۔ اور اس دن شکر کر لیں۔ تو سبحان اللہ! اس نصاب پورا ہو گیا۔ تو ایسے لوگوں کے لیے فرمایا کہ بخشے بخشائے چلے جاؤ۔ مطلب ان کے لیے پھر جو ہے نا وہ ماشاء اللہ حکم ہو جاتا ہے، کہ بخشے بخشے۔
اب ذرا بات یہ ہے کہ، یہ جو ہے نا، یہ جو ہم لوگوں نے، ماشاء اللہ جو ایک مہینہ گزارا ہے، اور اس کے ساتھ یہ ایک دن بھی ہے، اس کا اثر ہماری باقی زندگی پر کیا ہونا چاہیے؟ کیونکہ دیکھیں، جب آپ نے فرمانبرداری کی، اور اس کے بعد نافرمانی کی، شکر ختم ہو گیا۔ شکر ختم ہو گیا نا؟ شکر تو آپ نے جو کیا تھا وہ شکر تو ختم ہو گیا۔ اور یہ بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم تھا اس میں کوئی مشکل تھی، آپ نے اس وقت صبر نہیں کیا، تو صبر کا وہ ختم ہو گیا۔ تو اب اس چیز کو ختم ہونے سے کیسے بچایا جائے؟ یہ بھی تو ایک بات ہے نا، یہ بھی تو اس کی ضرورت ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ یہ دنیا جو ہے نا، اس میں اللہ تعالیٰ ویسے بھی ہمیں معاف کر سکتے ہیں، اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اپنا ایک انتظام بنایا ہوا ہے۔ ایک امتحان کا نظام بنایا ہوا ہے۔ تو اس امتحان کے لیے ہم پر حالات بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس میں ہمیں دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ، لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا کہ تاکہ مطلب یہ دیکھیں کہ وہ کون جو ہے نا اچھا عمل کرتا ہے۔ تو اس قسم کے جو مطلب ہمارے پاس جو مختلف قسم کے مطلب حالات آتے ہیں، اس میں پھر آزماتے ہیں، کہ ہم کیا کرتے ہیں اس میں۔ تو ایسی صورت میں اس کیفیت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، اسی کو وہ کہتے ہیں نا، یعنی قیام کہتے ہیں مقام کہتے ہیں، کہ وہ چیز مستحکم ہو جائے اور دوبارہ زائل نہ ہو۔
اچھا تو اس کے لیے پھر یہ بات ہے، کہ چونکہ عید کے دن نفس کی خوشی، دل کی خوشی ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ نفس کی خوشی اور دل کی خوشی ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ آپ کے پاس Choice ہے، کہ آپ دل کی خوشی لیتے ہیں یا نفس کی خوشی لیتے ہیں۔ اور یہ بہت بڑا امتحان ہے۔ کہ آپ نفس کی خوشی لیتے ہیں یا دل کی خوشی لیتے ہیں۔ تو نفس کی خوشی جو لیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پرواہ نہیں کرتا۔ اور جو دل کی خوشی لیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق لیتا ہے۔ یعنی اللہ پاک کی فرمانبرداری کے ساتھ۔ تو اس لیے دیکھو نا، ہمیں کیا حکم ہے، کہ جاؤ تو جس راستے سے جاؤ، پھر دوسرے راستے سے آؤ۔ اور ذکر کرتے ہوئے جاؤ، الله اكبر، الله اكبر، لا إله إلا الله، والله اكبر، الله اكبر، ولله الحمد۔ یعنی وہ کر لو تاکہ مطلب وہ چیز ہماری مستقل ہوتی رہے۔ خیر بہرحال، اس کے بعد جو یہ مطلب ہمارا جو شکر کا جذبہ ہے، اس کو ختم نہ کیا جائے۔ اور اس کو ہم پوری زندگی کے لیے حاصل کر لیں۔ اور جو صبر کا جذبہ جو رمضان شریف میں پیدا ہوا تھا، اس کو بھی ہم ضائع نہ کریں، اور پوری زندگی کے لیے اس کو لیا جائے۔
تو اس کے لیے پھر ہمیں کچھ بندوبست کرنا پڑے گا۔ اچھا اب بات کرتا ہوں کہ جیسے میں نے عرض کیا کہ نفس کی خوشی بھی ہوتی ہے، اور دل کی خوشی بھی ہوتی ہے، تو یہ Chance زیادہ تر ابتدائی دنوں میں ہوتا ہے۔ ابتدائی، چار، پانچ دن، دس دن، بیس دن جو بھی مطلب ابتدائی دن ہیں۔ اس میں زیادہ تر امکان ہوتا ہے۔ اس میں انسان اپنے آپ کو قابو رکھے۔ ایسی مجلسوں میں نہ جائیں جس میں یہ چیزیں ضائع ہو سکتی ہوں۔ ایسے چیزیں نہ دیکھیں، موبائل وغیرہ پہ، جس سے یہ چیزیں زائل ہو سکتی ہو۔ ایسی کتابیں نہ دیکھیں جس سے یہ چیز زائل ہو سکتی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو قابو رکھیں۔ اور جو اچھائی والی چیزیں ہیں، وہ جاری رکھیں۔ اچھائی کی چیزیں کیا ہیں؟ دیکھو ایک ہوتا ہے کہ انسان خود عمل کرے، یہ بھی اچھائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اوپر وہ چیزیں لازم کی ہیں۔ مثلاً نماز ہے، پانچ وقت نماز تو پڑھنی پڑتی ہے۔ تو نماز ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو قرآن پاک کی تلاوت ہے، ذکر اذکار ہیں، یہ تو انسان کرتا ہی ہے، اس کی اپنی پرسنل نیکی ہے۔ اور ایک ایسی چیز ہے، جو اس کو اللہ تعالیٰ نصیب فرماتے ہیں صحبتِ صالحین کے ذریعے۔ یعنی جن لوگوں نے محنتیں کی ہیں، انہوں نے اپنے آپ کو بچایا ہوا ہے، اب اس کے ذریعے سے اللہ پاک دوسرے لوگوں کو بچاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا۔ اس کے لیے باقاعدہ حکم قرآن پاک میں دیا ہے۔ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔ صادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔
اس کے بارے میں اشارہ موجود ہے سورۂ فاتحہ میں۔ سورۂ فاتحہ میں اشارہ موجود ہے کہ اللہ پاک سے ہم مانگتے ہیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ یہ ہم لوگ ہر رکعت کے اندر پڑھتے ہیں۔ یا امام ہمارے لیے پڑھتا ہے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ ہمارے ہر رکعت کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اچھا اب دیکھو اس کا مطلب کیا ہے؟ جب ہم نے اللہ پاک سے مانگا کہ یا اللہ، ہمیں سیدھا راستہ ہدایت فرما دے، راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے تیرا انعام ہے۔ تو اس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ انعام کن پر ہے؟ فرماتے ہیں وہ انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں اور صالحین ہیں۔ یعنی انبیاء کے اوپر اللہ پاک کا انعام ہوا ہے۔ صدیقین کے اوپر ہوا ہے، شہداء کے اوپر ہوا ہے اور صالحین کے اوپر ہوا ہے۔
اب یہ انبیاء کرام تو اس دنیا سے تشریف لے گئے، اب تو انبیاء کرام واپس نہیں آئیں گے۔ ان کی تعلیمات موجود ہیں، لیکن انبیاء کرام واپس نہیں آئیں گے۔ اچھا صدیقین بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ اور شہداء کا پتا ہی اس وقت چل جاتا ہے، جس وقت دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اب بتاؤ کون رہ گئے؟ صالحین رہ گئے۔ اس لیے فرماتے ہیں صُحبتِ صالحین اختیار کرو۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "میں فتویٰ دیتا ہوں کہ آج کل کے دور میں صحبتِ صالحین فرضِ عین ہے"۔ لوگ تصوف کے بارے میں کہتے ہیں نا کہ یہ کیا ہے... جب کہتے ہیں بھئی اپنی اصلاح فرضِ عین ہے، تو اس پہ لوگ شکایتیں کرتے ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں، صُحبتِ صالحین فرضِ عین ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر ایمان بھی قائم نہیں رہتا، یہ حضرت نے فرمایا۔ اعمال تو دوسری بات ہے، اس کے بغیر ایمان بھی قائم نہیں رہتا۔ کیسے؟ اگر صُحبتِ صالحین نہ ہو۔ تو صحبتِ فاسقین تو ہے؟ صحبتِ فجار تو ہے؟ مطلب اس سے تو آپ نہیں بچ سکتے نا۔ بازار میں جاؤ تو سب ملا جلا معاملہ چل رہا ہے۔ آپ کسی بس میں جائیں تو سارا معاملہ چل رہا ہے۔ آپ کسی سکول میں چلے جائیں تو سب معاملہ چل رہا ہے۔ کسی کالج میں، کسی یونیورسٹی میں۔ ہر جگہ مسائل ہیں۔ اب ان مسائل سے آپ بچ تو نہیں سکتے۔ تو صحبتِ فساق و فجار تو ہے موجود۔
اب اگر آپ یہ نہیں کرتے تو یہ تو ہو رہا ہے۔ لہٰذا یہ آپ کو کھینچ لیں گے اپنی طرف۔ کھینچ لیں گے، تو کسی وقت ایمان بھی سلب ہو سکتا ہے۔ یہ مطلب یہ والی بات ہے۔ یعنی وہ مطلب یہ Magnets ہیں نا، یہ Magnets ہیں۔ تو آپ اگر صحیح Magnet کی طرف نہیں جاتے، تو برے Magnets تو موجود ہیں، وہ تو اپنا کام کر رہے ہیں۔ تو یہ جو چیز ہے، مطلب یہ ہے کہ ہمیں صحبتِ صالحین کو اختیار کرنا پڑے گا۔ اور میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ کس طرح اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ یعنی جو Wrong inputs ہیں، جو غلط چیزوں کی طرف بلانا ہے، وہ ہر وقت ہے۔ کون سا وقت ہے جس اس سے فارغ ہے؟ وہ ہر وقت برائی کی طرف جو بلا رہے ہیں وہ ہر وقت موجود ہیں۔ ہمارے نفس کی خواہشات ہی لے لو، برائی کی دعوت ہر وقت موجود ہے یا نہیں ہے؟ ہر وقت موجود ہے۔ اچھا تو یہ جو نیک لوگوں کی صحبتیں، اور اچھی دعوت ہے، یعنی نیک لوگوں کی جو دعوت ہوتی ہے، جو اچھی باتوں کی طرف دعوت ہے، وہ تو کبھی کبھی ہوتی ہے۔
وہ تو کبھی کبھی ہوتی ہے۔ اب اس کبھی کبھی دعوت پہ بھی کوئی اعتراض کر لے کہ یہ کیوں ہے؟ تو پھر کیا سمجھیں؟ ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس دور کی بات کر رہا ہوں، اس دور کی، اس وقت جو فسق و فجور کی باتیں ہیں، اس کے دلائل دیے جاتے ہیں کہ یہ فسق و فجور نہیں ہیں۔ جو فسق و فجور کی باتیں ہیں، اس کے دلائل باقاعدہ دیے جاتے ہیں، اور ان میں بعض علماء ہوتے ہیں، جو دلائل دیتے ہیں، یہ نہیں اس میں تصویر حرام نہیں ہے، موسیقی جو ہے نا وہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یا اس طرح یہ باقاعدہ آج کل چل رہا ہے، میڈیا کے اوپر سب چیزیں چل رہی ہیں۔ تو اس کے تو دلائل دیے جا رہے ہیں، اور جو اچھائی کی چیزیں ہیں ان کے اوپر اعتراضات ہو رہے ہیں، ذکر کے اوپر اعتراضات ہو رہے ہیں، صُحبتِ صالحین کے اوپر اعتراضات ہو رہے ہیں۔ مختلف چیزوں پہ اعتراضات ہو رہے ہیں، اب بتاؤ یہ کون سا ڈرامہ ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے دنیا میں ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟
اسی لیے تو معاملہ خراب ہوتا جا رہا ہے۔ اب تھوڑا سا دیکھیں آج سے 50 سال پہلے لوگ کیسے تھے؟ آج سے 20 سال پہلے لوگ کیسے تھے؟ آج سے 10 سال پہلے لوگ کیسے تھے؟ اور اس وقت کیسے ہیں؟ یہ حالات بالکل... جن لوگوں کے سامنے گزرے ہیں ان کو تو پتا ہے۔ ہمیں پتا ہے مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ہم نے دیکھا تھا، اس کی طرح کوئی نظر آئے نا۔ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا تھا، اس کی طرح کوئی نظر آئے نا۔ مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ہم نے دیکھا تھا اس کے اندر کوئی نظر آئے نا۔ کہاں ہیں وہ لوگ؟ وہ چلے گئے۔ تو حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے، عجیب بات ہے، خود بھی حلیمی صاحب بھی چلے گئے۔ فرمایا، دیکھو First divisioner تو چلے گئے۔ اب جو Second divisioner ہیں ان کے اوپر آپ کو ان کی طرف آنا پڑے گا۔ اور اگر کچھ دیر کی تو پھر Third divisioner کے پاس جانا پڑے گا۔ اگر کچھ دیر کی تو پھر Third divisioner کے پاس جانا پڑے گا۔ یہ بات ہے۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے۔
بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں، اوہ جی مجھے جب وقت ملے گا تو پھر ان کے پاس جاؤں گا یہ ہوگا... اور ہوتے ہوتے وہ اٹھ جاتے ہیں دنیا سے۔ وہ آپ کے لیے انتظار تھوڑی کر رہا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جتنی عمر دی ہے اسی کے... اسی کے مطابق ہی ہوگا نا۔ وہ آپ کے لیے انتظار تو نہیں کرے گا۔ تو اس طرح دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔ پھر بعد میں افسوس کرتے ہیں، اوہو! یہ کیا ہوا؟ یہ کیا ہوا؟ یہ کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ایک تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔ عجیب و غریب شخصیت تھے۔ فاضل دیوبند تھے۔ اور مٹے ہوئے آدمی تھے، اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اور اتنے مٹے ہوئے تھے کہ اپنی اولاد نے بھی ان کو پہچانا نہیں۔ اپنی اولاد نے بھی ان کو نہیں پہچانا۔ اپنے بھتیجوں... نے بھی ان، سوائے صرف چند کے ہاں انہوں نے نہیں پہچانا۔ میں کہتا تھا ان کو... خدا کے بندوں یہ بہت بڑی ہستی ہے۔ اوہ میں کہتے نہیں نہ یہ کس طرح ہے، یہ تو اس طرح کرتے ہیں، یہ تو یہ کرتے ہیں، یہ تو یہ کرتے ہیں، اعتراضات۔ جس وقت اٹھ گئے، تو ایک... ایک میرے کزن رونے لگا، کہتے سب کچھ اپنے ساتھ لے گئے۔ میں نے کہا، جھوٹ نہ بولو، میں نے سارا کچھ کہا تھا، میں نے سب کو بتایا تھا۔ میں نے اپنی ڈیوٹی پوری کی ہے سب کو بتایا تھا کہ بھئی وہ یہ ہیں۔ یہ خود تو نہیں کہیں گے نا کہ میں ہوں۔ یہ تو آپ لوگوں نے پہچاننا ہے۔
وہ خود تو کہے گا میں نہیں ہوں۔ وہ ایک دفعہ میں نے کہا حضرت کو، سبحان اللہ، میرے ساتھ الحمدللہ حضرت بہت زیادہ شفقت فرماتے تھے، الحمدللہ۔ تو میں نے ان سے کہا حضرت، آپ حضرات جیسے بزرگوں سے سنا ہے، کہ جو اپنے آپ کو کہتا ہے کہ میں اچھا ہوں، تو وہ تو اچھا نہیں ہے۔ ہاں، لیکن جو یہ کہتا ہے کہ میں نہیں ہوں، تو ان میں تو اچھا ہو سکتا ہے نا؟ کہتے، ہاں۔ تو میں نے کہا، پھر آپ کہتے ہیں نا کہ میں نہیں ہوں؟ تو حضرت مسکرائے۔ فرمایا کہ تو نے تو میرے ساتھ وہ حرکت کی ہے جو قومِ زط والوں نے علی رضی الله عنه کے ساتھ کیا تھا۔ کہ وہ آئے اور انہوں نے کہا، اے علی! تو خدا ہے۔ علی رضی الله عنه بہت سخت ناراض ہوئے، تو ان کے لیے گڑھے کھود دیے، اس میں آگ جلائی۔ اور حکم دیا کہ ان کو اس میں پھینکو۔ تو انہوں نے کہا، اب تو ہمیں یقین ہو گیا کہ آپ خدا ہیں، کیونکہ آگ کی سزا کوئی اور نہیں دیتا، وہ صرف خدا ہی دیتا ہے۔ تو نے تو میرے ساتھ وہی بات کر لی۔ تو بات بالکل صحیح ہے، وہ اتنا یعنی اپنے آپ کے لیے وہ Touchy تھے، کہ اپنے بارے میں نہیں وہ کرتے تھے۔
ایک دفعہ غلطی سے منہ سے نکل گیا، کہ میرے پاس جو تھا وہ میں نے دے دیا۔ پھر فوراً اس کے توڑ کے لیے خالی جیب کو نکال دیا، کہتے، جس کا خالی جیب ہے وہ تو کسی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح انہوں نے بچا کے رکھا ہوا تھا۔ تو اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں، جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ نہیں بتاتے۔ وہ نہیں بتاتے۔ ان کو خود دیکھنا ہوتا ہے، ان کے اعمال سے دیکھنا ہوتا ہے، ان کے ظاہر ہے مطلب ان کے بارے میں جو مشائخ ہوتے ہیں، جو بولتے ہیں ان کو دیکھنا ہوتا ہے۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ ہم نے خود سوچنا ہے کہ کن کے پاس جائیں؟ کون ہے اس وقت؟ ایک بات تو یاد رکھیں، دنیا قیامت تک خالی نہیں ہوگی۔ ٹھیک ہے، کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ نہیں کہ مطلب وہ، اتنے جتنے پہلے تھے۔ وہ، لیکن خالی نہیں ہے۔ لیکن خالی نہیں ہے کا مطلب، دیکھو پھر کام کیسے ہوگا؟ یعنی لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا، اس وقت یہ تو فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیتے جس کو انسان یعنی وہ مطلب حاصل نہ کر سکتا ہو، یعنی پورا نہ کر سکتا ہو۔ ایسا حکم نہیں دیتا۔ تو یہ پھر کیا بات ہے؟ تو اگر لوگ تھوڑے... ذرائع زیادہ ہو گئے۔
اس وقت میرا جو یہ بیان ہے نا، یہ امریکہ میں بھی سنا جا رہا ہے۔ یورپ میں بھی سنا جا رہا ہے، سعودی عرب میں بھی سنا جا رہا ہے، ایسے لوگ ہیں نا جو اس کو سنتے ہیں۔ اچھا... آسٹریلیا میں بھی سنا جا رہا ہے۔ اب یہ مجھے بتاؤ، یہ چیزیں پہلے تھیں؟ آپ یقین کیجیے، یہ جو ٹیپ ریکارڈر ہے نا، ٹیپ ریکارڈر، جب سے ہم نے بیان شروع کیا تو بہترین ٹیپ ریکارڈر اللہ تعالیٰ نصیب فرما دیتے ہیں اس وقت کے حساب سے۔ تو خیر... اس وجہ سے ہمارے سارے بیانات ریکارڈ ہوتے ہیں۔ اس پر میں کبھی کبھی کہتا، کہ یا اللہ! کاش یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں ہوتا، یہ ٹیپ ریکارڈر، اس طرح کا۔ حضرت مدنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں ہوتے۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ... ان کے ہیں لیکن بہت تھوڑے بیانات۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتنے بیانات کیے، غالباً صرف دس، پندرہ منٹ کا ایک ٹکڑا محفوظ ہے، اس کے علاوہ سارا... نہیں۔ وہ نہیں ہے۔
اس طریقے سے تو اب ہمارے لیے اللہ پاک نے اتنے انتظام کر دیے کہ دیکھو یعنی اندازہ کریں ہماری کیا حیثیت ہے ان کے مقابلے میں؟ لیکن چونکہ لوگ اب کم ہیں، حفاظت زیادہ ہو گئی، نظام بن گئے۔ یعنی ایک مطلب یہ ہے کہ کسی بھی جگہ... کہتے ہیں دنیا Global village بن گیا نا۔ یعنی اب جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ، کوئی بھی شخص امریکہ سے آپ کو اطلاع کر دے گا، فون کر دے گا، جی اس کا مطلب کیا ہے؟ بیان کے فوراً بعد، پوچھ لے گا اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ جواب دے دیں گے۔ WhatsApp، یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے نا، اس میں تو چیزیں ہوتی رہتی ہیں مطلب یہ تو آتی رہتی ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے اس وقت یہ سہولتیں بھی دی گئی ہیں نا۔ تو یہ بات ہم نہیں کہہ سکتے کہ نہیں اب... نہیں ہو سکتا۔ نہیں، ہو سکتا ہے، کیونکہ جن کے لیے ہو رہا ہے تو وہ اسی ماحول میں ہو رہا ہے نا۔ کسی اور ماحول میں تو نہیں ہو رہا؟ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے اولیاء اللہ موجود ہیں، اولیاء اللہ موجود ہیں۔ تو وہ جو اولیاء اللہ ہیں وہ کیسے موجود ہیں، آخر انہی ماحولوں میں ہیں نا؟ اور برائی، بڑے بڑے برائیوں کی جگہوں پر موجود ہیں۔ یہ بھی ہے۔ مطلب یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ جو علاقہ بہت برا ہے وہاں پر اچھے لوگ موجود نہیں ہوں گے۔
نہیں، مطلب اللہ پاک نے وہاں پر بھی ایک نظام بنایا ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو مایوس تو نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ عمل کرنا چاہیے۔ عمل کرنا چاہیے۔ "پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ"۔ مطلب آپ کو کام کیا ہے؟ اپنے لیے کوئی ذریعہ ڈھونڈو۔ اپنے لیے کوئی ذریعہ ڈھونڈو اپنی حفاظت کا۔ اچھا دوسری بات، ایک بہت خوشخبری کی بات آپ حضرات کو سناتا ہوں۔ بزرگوں نے یہ باتیں بتائی ہیں، صرف میں جمع کر رہا ہوں ان کی باتیں آپ لوگوں کو سنا رہا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جو چھوٹا ولی ہے، بڑا ولی ہے، اس میں نہ جاؤ۔ جس کو اللہ قبول فرما دے نا اور اس سے کام لے۔ تو اس کو صرف... Tool بناتا ہے۔ ذریعہ بناتا ہے۔ باقی دیتا تو اللہ ہی ہے۔
یہ ہمارا عقیدہ ہے، اَلْكَرَامَاتُ حَقٌّ۔ کرامات حق ہیں۔ لیکن کرامت کیا ہے؟ کرامت فعل کس کا ہوتا ہے؟ ولی کا ہوتا ہے یا اللہ کا ہوتا ہے؟ اللہ کا ہوتا ہے۔ اب کرامت حق ہے، اور وہ فعل اللہ کا ہے، تو اللہ کے... کل کیا نہیں کر سکتا؟ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ لہٰذا جس اللہ والے کو اللہ نے چن لیا کام کے لیے، اب اس کے ساتھ آپ کا رابطہ ہے، تو آپ کے دل پر منحصر ہے۔ کہ آپ کا دل اس کی طرف کتنا مائل ہے۔ اور آپ کتنی اصلاح چاہتے ہیں۔ وہ چیز جتنی ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے... وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا، مطلب وہ... وہ اللہ دیکھ رہا ہے، کہ آپ نے کتنی کوشش کی؟ لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا، اللہ پاک راستے خود ہی کھولتے ہیں۔ اس کی زبان پر کھول دیں گے، اس کی تحریر پہ کھول دیں گے، یا اس کے مطلب جو ہے نا فہمائش پہ کھول دیں گے، وہ ساری چیزیں جو ہے نا اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کھول لیں گے۔ اور آپ کو ماشاء اللہ وہ ملتی رہے گی۔ تو اصل تو بات اللہ تعالیٰ کی ہے نا۔ تو ہم لوگوں کا کام کیا ہے کہ ہم، ہم جو ہے نا اپنی ذہنی توجہ اس طرف مرکوز کر لیں کہ ہمیں اب مختلف بننا ہے، یعنی اللہ والا بننا ہے۔
ہمیں اللہ کا بندہ بننا ہے۔ اللہ والے میں ذرا تھوڑا سا دعویٰ ہے۔ اور اللہ کا بندہ بننے میں ذرا تھوڑی سی اپنی حیثیت کے مطابق بات ہے کہ مطلب اللہ کا بندہ بننا ہے۔ تو اللہ کا بندہ بننے کے لیے، ہمیں علم کی بھی ضرورت ہے۔ کہ ہمیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ ایک بادشاہ تھے۔ اس نے ایک مدرسہ بنایا۔ بڑا شاندار مدرسہ بنایا۔ اس کو پتا چل گیا کہ اس میں جو لوگ آتے ہیں، وہ سارے دنیاوی چیزیں چاہتے ہیں، مطلب کوئی قاضی بننا چاہتا ہے، کوئی مقرر بننا چاہتا ہے، کوئی کیا... اس کو بہت پریشانی ہو گئی، کہ میں نے اتنی محنت کی کہ اللہ والے بن جائیں، یہ اس میں یہی لوگ بن رہے ہیں تو چلو میں اس کا Visit کرتا ہوں۔ آیا مدرسے میں، طلباء پڑھ رہے ہیں۔ کوئی ادھر پڑھ رہا ہے، کوئی ادھر بیٹھے، کوئی تکرار کر رہے ہیں۔ ایک کے ساتھ بیٹھ گیا، بطورِ... ویسے مطلب بادشاہ کے طور پر تو نہیں، ایک عام آدمی کے طور پر۔
بیٹا کیا کر رہے ہو؟
میں پڑھ رہا ہوں۔
کس لیے پڑھ رہے ہو؟
بچے تو کھیلتے ہیں، تم کھیلتے نہیں ہو، تم کس لیے پڑھ رہے ہو؟
وہ، میرا باپ قاضی ہے نا، میں بھی قاضی بننا چاہتا ہوں۔
اچھا کوئی اور، مطلب جو ہے نا وہ، میں فلاں بننا چاہتا ہوں، میں فلاں بننا چاہتا ہوں۔ بادشاہ بڑے پریشان ہو گئے، کہ یہ تو لوگ صحیح باتیں کرتے ہیں۔ ایک بچہ، علیحدہ سب سے بیٹھا ہوا تھا اور کتاب کے مطالعے میں محو تھا۔ ان کے پاس گیا۔
بیٹا، آپ کیا کر رہے ہو؟
کہتے ہیں، آپ کو نظر نہیں آ رہا میں کیا کر رہا ہوں؟ میں کتاب دیکھ رہا ہوں۔
کس لیے دیکھ رہے ہو؟
جواب سنیں۔ بچہ ہے۔ حضرت! میں اس لیے یہاں پر وہ کر رہا ہوں کہ اللہ پاک نے مجھے بھیجا ہے یہاں پر، اور میرے ذمے کچھ کام لگائے ہیں۔ تو میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ پاک نے میرے ذمے کیا کام لگائے ہیں، تاکہ میں وہ کام کروں۔ جس سے اللہ پاک مجھ سے خوش ہو جائے۔ سبحان اللہ! بادشاہ اتنے خوش ہو گئے۔ بس... وہی ایک ہیرا مل گیا، ہیرا مل گیا۔ تو اس پر جو ہے نا وہ... انہوں نے کہا، تو آپ کو پتا ہے میں کون ہوں؟ اس نے کہا، مجھے کیا پتا ہے؟ کہتا، میں بادشاہ ہوں، میں آپ کے پاس... کہتا ہے، مجھے آپ سے کیا غرض ہے، میں بادشاہ سے ملنے کے لیے تو نہیں آیا نا ادھر۔ میں تو یہاں پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔ سبحان اللہ! یہ صاحب کون تھے؟ یہ بچہ؟ یہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
یہ بن گئے امام غزالی۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ اللہ پاک نے اس کو ایسا بنا دیا، کہ اس کے ذریعے سے پھر کتنے مدرسے چل رہے تھے، بعد میں کتنی خانقاہیں چل رہی تھیں۔ اخیر میں بعد میں تو بڑا اللہ کے ولی بن گئے تھے۔ تو اتنے ان کے ذریعے سے کتنی خانقاہیں چل رہی تھیں، وہ سارا کچھ... پہلے بادشاہی کا نظام تھا، شاہی انداز تھا، کیونکہ ظاہر ہے علماء کی اس دنوں بڑی قدر تھی۔ تو لوگ جو ہے نا وہ بہت نذرانے اور بہت پتا نہیں کیا کیا تو، ان کی بڑی عالیشان زندگی گزر رہی تھی۔ پھر جب ان کو پتا چل گیا کہ یہ تو میرے تباہی کے آثار ہیں، تو ایک دن چپکے سے نکل گیا۔ اور توریہ کر کے کہ ادھر جانا چاہتا تھا، تو اشارے ایسے دیے جیسے ادھر جانا چاہتے ہو۔ تو لوگ ادھر ڈھونڈ رہے تھے اور حضرت بہت دور چلے گئے تھے۔ اور پھر کیا ہوا؟ 14 سال غائب رہے۔
14 سال غائب رہے۔ 14 سال کے بعد جو آئے، تو امام غزالی، بادشاہ امام غزالی نہیں تھا، فقیر امام غزالی تھا۔ اور ایسے فقیر امام غزالی تھا کہ ان کے ساتھ جن بادشاہوں کا تعلق تھا، وہ بھی فقیر بن گئے۔ وہ بھی فقیر بن گئے۔ ایسے مطلب اللہ پاک نے ان کے ساتھ وہ... تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو، یہ جو بات ہے، کہ ایک انسان ہے اس کو دیتا تو اللہ ہے۔ اس کے لیے بس صرف کوشش کرنی ہے، اس کے لیے جو Available ذرائع ہیں، ان ذرائع کو اختیار کرنا ہے۔ باقی... ہم... کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ باقی تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، اور کس طرح دیتا ہے، یہ اس کا کرم ہے۔ اس کا احسان ہے۔ وہ جس طرح دیتا ہے، وہ اس کے لیے جیسے راستے بنا دے۔ وہ پھر اس کا کرم ہے۔ مطلب اس میں جو ہے نا ہم لوگ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہر شخص کی اپنی تفصیل ہے۔ یہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی تفصیل ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی تفصیل ہے۔ حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی تفصیل ہے۔ پتا نہیں کس کس کی کیا کیا ہے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے طریقے سے دیا ہے۔ تو یہ میں اس لیے کہتا ہوں، کہ ہم لوگوں کا کام پیش ہونا ہے۔ اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ قبولیت اس کے ہاتھ میں ہے۔
اگر قبول ہو جائے، پھر اس کے بعد وہ ایسے کچھ عطا فرماتے ہیں جس کا انسان... ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عجیب بات فرمائی۔ فرمایا، ہمارے ہاں تو سیدھی سادی مَلائیت ہے۔ ہمارے ہاں تو... مَلائیت کا مطلب شریعت پر چلنا ہے۔ یہ ذرا لفظ کچھ اس طرح ہے نا، تو اپنے لیے عاجزی کا لفظ استعمال کیا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ شریعت پہ چلنا ہے۔ اور پھر اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جس کو جتنا دینا چاہتا ہے، تو اتنا کہ نہ کسی کان نے سنا ہے، نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی دل پر اس کا خیال گزرا ہے۔ اتنا اللہ تعالیٰ نواز دیتا ہے۔ تو بات تو صحیح ہے، ہمارا کام کیا ہے؟ جب آئے ہیں اس دنیا میں، اس دنیا میں اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کے مطابق کام کرنا ہے۔
یہ دن ہمیں اسی میں پورے کرنے ہیں۔ تو یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے جو، آثار نصیب فرماتے ہیں، اور وہاں پر، سبحان اللہ! وہاں پر بھی ہوں گے۔ تو ہمیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ "لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ"۔ اللہ تعالیٰ کسی کا محنت ضائع نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کسی کی کوشش ضائع نہیں فرماتے۔ تو جب یہ بات ہے، اللہ کے ساتھ ہمارا معاملہ ہے، تو پھر ڈرنے کی بات کیا ہے؟ آدمی اپنے آپ کو پیش کرے، آئے، اور دیکھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نوازتے ہیں۔ کس طرح اللہ پاک دیتے ہیں۔ یہ ہماری ایک... خاتون ہیں، یہاں تشریف لاتی ہیں۔ بہت، مطلب ظاہر ہے بوڑھی خاتون ہیں، اس کے شوہر فوت ہو گئے۔
وہ بڑی پریشان ہو گئی اور بس بقول اس کے بس میری زندگی تو تباہ ہو گئی، روتی رہتی تھی۔ تو ایسا ہوا کہ پتا نہیں ان کے بچوں نے ان کو کہا، یا کیا، کیا، بیعت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر اتنا فضل فرما دیا، کہ اس کو تو بالکل جیسے کہ وہ مل گیا، جو وہ چاہتی تھی۔ وہ چمٹ گئی اس کے ساتھ۔ اب الحمدللہ وہ جو مراقبات اور جو ذکر اذکار، وہ جو... وہ ماشاء اللہ ہر وقت جو ہے نا ان کا ذکر، ہر وقت ان کی تلاوت، ہر وقت ان کا جو ہے وہ... وہ چیزیں چل رہی ہیں۔ اور جب بھی مجھے فون کرتی ہیں تو... میرے لیے دعائیں کرتی ہیں، بہت زیادہ دعائیں کرتی ہیں۔ کہتی ہیں میں ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتی ہوں کہ جو اللہ پاک نے آپ کے ذریعے سے میرا ذہن، دل کیسے بدل لیا۔ میں نے کہا یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بدلتا ہے نا۔ کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ ہاں، یہ والی بات ایک چینل ہے، ایک چینل سے آپ کو گزروا دیا۔ بس ٹھیک ہے جی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے ذریعے سے دلوا دیا۔ تو یہ چیز ہے کہ مطلب، اور اس طرح کئی لوگ ہیں۔ میں صرف ایک کی بات نہیں کر رہا ہوں، ایک کا تو میں صرف اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ ذرا تھوڑا سا ادھر موجود ہیں۔ ورنہ بہت سارے لوگ ہیں جن کی اللہ پاک نے زندگیاں بدل دیں۔
تو ان کی محنت اور کوششوں کے ذریعے سے بدلیں۔ اس میں ہمارا Contribution نہیں ہے، Contribution ان کا ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ ان کو کسی طرف تو جانا تھا نا۔ کہیں سے تو مطلب اس کو رابطہ کرنا تھا، تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں رابطہ کروا دیا تو اللہ پاک نے ان کو وہ چیز دے دی جو اس میں حاصل ہوتی ہے۔ تو بہرحال میں تو یہی بات کروں گا کہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاؤ۔ زندگی بہت محدود ہے۔ ذرا تھوڑا سا پیچھے ہم دیکھیں کہ ہم نے کتنی زندگی گزاری۔ اور ہمیں وہ کتنی نظر آ رہی ہے۔ تو جو باقی زندگی ہے اس کا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔ تو ہم نے اپنی زندگی کو صحیح معنوں میں استعمال کرنا ہے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے، کہ میں نے زندگی کی قدر ایک برف بیچنے والے سے حاصل کی ہے۔
تو لوگوں نے کہا حضرت، یہ کیسے برف بیچنے والے سے کیسے حاصل کی؟ کہتے ہیں، وہ میرے دوست تھے۔ کبھی کبھی میں ان کے ساتھ جا کر دکان پہ بیٹھ کر گپ شپ لگاتا تھا۔ تو ایک دن میں گیا ہوں تو گرمی کے دن ہی میں برف بیچی جاتی ہے۔ تو بڑے پریشان نظر آتے تھے۔ میں نے کہا، کیا بات ہے؟ آپ پریشان نظر آتے ہیں؟ کہتے ہیں، پریشان نہیں ہوں گا، میری برف پگھل رہی ہے اور گاہک نہیں آ رہے۔ میری برف پگھل رہی ہے اور گاہک نہیں آ رہے۔ تو زندگی بھی ایسی ہی تو ہے۔ کہ زندگی تو گزر رہی ہے نا، زندگی آپ کے لیے انتظار تو نہیں کر رہی ہے۔ یہ تو گزر رہی ہے۔ اب دیکھو نا، یہ، ابھی میں بات کر رہا ہوں، یہ حال ہے اور یہ ماضی ہو گیا۔ اب ماضی ہو گیا۔ اس کے بعد جو مستقبل ہے وہ حال بن جائے گا۔ اور یہ بالکل ایک لڑی چل رہی ہے۔ کوئی بھی مطلب ظاہر ہے... یعنی ابھی تک سائنسدان ٹائم کی صحیح Defination نہیں کر سکے۔ ٹائم ہے کیا چیز؟ کیوں کہ یہ ساکت چیز تو ہے نہیں۔ تو چل رہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جو، یہ جو اللہ پاک نے ہمیں زندگی دی ہے، جتنے بھی سیکنڈز ہیں، اس کو ہم کہاں صرف کر رہے ہیں؟ اس کے بارے میں سوچنا ہے۔
حضرت جس عالم کا میں نے ذکر کیا تھا نا ابھی تھوڑی دیر پہلے، ان کے واقعہ بتاتا ہوں، ان کی بیوی، ایک بیوی انگریز تھی۔ مسلمان ہو گئی تھی۔ شاہی خاندان کی تھی۔ وہ انگریز تھی۔ اس کا ایک بیٹا تھا۔ دس سال کا اس وقت، پہلی بیوی سے۔ تو اس انگریز بیوی نے اس کو ٹریننگ دی پاسِ انفاس کی۔ سانس کے ذریعے سے ذکر کرنا۔ یعنی سانس کے ساتھ "لا الہ الا اللہ" کا ہونا۔ یا "اللہ ھو" کا ہونا یا کوئی اور ذکر۔ یہ ذکر سکھایا اس کو۔ اور یہ فرماتی تھی ان کو لٹا کے، بیٹا سیکھ لو، یہ اتنی سانسیں بغیر ذکر کے لو گے؟ اتنی سانسیں بغیر ذکر کے لو گے؟ تو اس کو 10 سال کی عمر میں سکھایا۔ اب غور کریں، 70 سال کی عمر میں وہ شخص فوت ہوئے۔ وہ بچہ۔ 60 سال اس نے سانس کے ساتھ، ہر سانس کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ کتنا فائدہ ہوا اس کو؟ ایک ولیہ عورت کی وجہ سے۔
اب صحبتِ صالحین کا مزہ آگیا؟ ٹھیک ہے نا، یہی تو بات ہے۔ تو مطلب یہ 70 سال جو ہے نا وہ، ماشاء اللہ یعنی اس کا... وہ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نا "یک زمان در صحبت با أولیاء، بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا"۔ تو یہ اصل میں یہی بات ہے، کہ اگر واقعتاً ہم اللہ والوں کی صحبت میں ہوں، تو ہمیں بعض دفعہ کوئی ایسا گُر مل جاتا ہے، جو پورے زندگی کام آتا ہے۔ پورے زندگی کام آتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو، یعنی اللہ تعالیٰ سے امید رکھ کر ان سلاسل میں سے کسی نہ کسی سلسلے میں اپنے آپ کو شامل کرنا چاہیے۔ اور اس نیت کے ساتھ کہ میری اصلاح ہو جائے۔ کیونکہ یہاں بھی شیطان نہیں چھوڑے گا۔
یہاں بھی شیطان اور چیزوں پہ ڈالے گا۔ کبھی خلافتوں کا چکر، کبھی دنیاوی چیزوں کے حصول کا چکر، کبھی کیا، کبھی کیا، میں آپ کو خود بتا دوں، ہم اسٹوڈنٹ تھے، طالب علم تھے۔ کالج کے۔ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بیٹھتے تھے۔ اب جیسے طالب علم ہوتے ہیں، اس طرح ہم بھی تھے۔ تو کبھی سر میں درد ہو گیا تو حضرت سے عرض کیا، حضرت سر میں درد ہے، دم فرما دیں۔ حضرت نے دم کر دیا۔ سر کا درد ٹھیک ہو گیا۔ کبھی پیپر ہو رہے ہیں، جی حضرت پیپر ہو رہے ہیں، دعا فرما دیں۔ حضرت دعا فرما دیتے۔ یہ سلسلہ ہمارا چل رہا تھا، جو کہ آج کل ہمارا ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح ہی ہوتا ہے۔ تو خیر، ایک دن میں نے حضرت سے کہا، حضرت سر میں درد ہے آپ دم فرمائیں۔ حضرت نے دم فرما دیا، کچھ، مہمان تشریف لائے تھے۔ مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔
تو اس میں سے ایک مہمان نے، حضرت سے عرض کیا، کہ حضرت، آپ کے پاس کتنے لوگ دین کے لیے آتے ہیں، اور کتنے لوگ دنیا کے لیے آتے ہیں؟ میرا تو سر چکرا گیا۔ میں نے کہا، اوہو! یہ تو میرے بارے میں بات ہو گئی۔ یہ تو واقعی میں یہی کر رہا ہوں، تو یہ تو غلط بات ہے۔ تو میں نے اسی وقت توبہ کی، میں نے کہا اب میں حضرت سے دنیا کے لیے کچھ نہیں کہوں گا۔ دنیا کے لیے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اب دیکھو جب میں نے توبہ کیا، اور میں نے یہ ارادہ کر لیا، تو اب اللہ پاک کا کا فضل دیکھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا کہ مولانا صاحب خود مجھ سے پوچھتے تھے۔ بیٹا! طبیعت تو ٹھیک ہے نا، کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ اب ظاہر ہے پھر وہ جو ہوتا تھا وہ بتانا ہوتا تھا۔ حضرت دعا فرماتے تھے۔ کبھی امتحان ہو رہے ہیں۔ بیٹا! پیپرز تمہارے سنا ہے ہو رہے ہیں، کیسے ہو رہے ہیں؟ آپ خود بخود پوچھ رہے ہیں۔ پھر ظاہر ہے ہم بتاتے، اور حضرت کے بارے میں ہماری یہ تھا کہ حضرت اپنی طرف سے جب دعا کرتے تو وہ پیشن گوئی ہی ہوتی تھی۔ یعنی ایسا قبول ہوتا کہ مطلب جیسے بس پیشن گوئی ہو رہی ہو۔ ہاں، اپنے، کوئی اور ان کو دعا کے لیے کہتا تو ان میں چانس ہوتا، کبھی قبول کبھی نہ قبول۔ لیکن یہ ہے کہ اگر خود کر لے، تو اب وہ دعائیں خود پہ آ گئیں۔
اب کون سی دعائیں مفید تھیں جو خود پہ تھیں؟ لیکن کیوں ہوئیں؟ کس وقت ہوئیں؟ جب Surrender کر لیا۔ حضرت کے پاس کشمیر کے ایک تبلیغی جماعت کے ایک سادہ آدمی قیام پذیر تھے۔ سادہ آدمی اس طرح تھے کہ ان سے لوگوں نے دھوکے سے ان کی جائیدادیں ہتھیا لی تھیں۔ وہ بیچارہ بالکل ہی ایسے رہ گیا تھا۔ حضرت نے اس کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ ہم چلو ان کا دل بہلا رہے، لیکن وہ Jolly طبیعت کے آدمی تھے، گپ شپ والے آدمی تھے، لطیفے سناتے تھے، اور کافی ماشاء اللہ وہ محفل کو بنایا کرتے تھے۔ ایک دن کہتے ہیں، تشریف لائے، ایک ساتھی نے مجھے بتایا، تشریف لائے، عشاء کے بعد وہ آتے تھے اور حضرت کو ہنساتے تھے، کہ حضرت مفلوج تھے نا، بیماریاں تھیں بہت زیادہ، تو حضرت کو ہنساتے تھے تاکہ جو ہے نا ذرا Rest ملے۔ تو وہ فرمایا اس دن Serious تھے۔ کہتے ہیں مولانا! میں ایک بات کرتا ہوں۔ کیا؟ میں نے آپ کے ساتھ سالوں کا چلہ لگایا، یعنی چالیس سال گزارے۔ سالوں کا چلہ لگایا۔ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کے پاس اکثر لوگ دنیا کے لیے آتے ہیں، اور دین کے لیے بہت تھوڑے لوگ آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس پر کہتے ہیں، مولانا صاحب نے پہلے حسبِ حال، جیسے حضرت کا طریقہ تھا، مسکرائے۔ پہلے مطلب یہ Response دے دیا۔
مسکرائے، تھوڑی دیر کے بعد روئے اور پھر خاموش ہو گئے۔ یہ تقریباً ہر جگہ کا یہ حال ہے۔ ہر جگہ کا یہ حال ہے۔ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، دنیا کے مانے ہوئے اللہ والے تھے۔ ان کو ٹیلی فون کرتے ہیں مولانا عطاء المومن جو سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے، ٹیلی فون کرتے ہیں، حضرت کیا حال ہے خانقاہ کا کیا حال ہے؟ فرمایا، کوئی حال نہیں، جو لوگ آتے ہیں یا تعویزوں کے لیے آتے ہیں یا سفارش کروانے کے لیے آتے ہیں۔ یہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات بتا رہا ہوں۔ یہ ان کے ساتھ لوگ اس طرح کرتے تھے۔ حضرت کے صرف پانچ خلفاء ہیں، اور مریدین شاید لاکھوں میں ہوں گے۔ یہ کیا بات ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ تو یہ، یہ مسائل ہیں۔ یہ مسائل ہیں آج کل کے دور کے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک بہت بڑے بزرگ تھے۔
کسی جگہ تشریف لائے تھے، تو بہت ایک خلقت استقبال کے لیے آئی تھی۔ تو ان کا ایک پرانا شناسائی بھی اس شہر میں تھا، وہ ملنے کے لیے آیا۔ کہتا ہے، واہ جی واہ! آج تو بڑے لوگ آپ کے ساتھ ملنے کے لیے آئے، کیا بات ہے، کیا شان ہے آپ کی! مطلب اس طرح بے تکلفی میں بات کی نا۔ انہوں نے کہا حضرت، اللہ کے لیے صرف ایک آیا تھا۔ اللہ کے لیے صرف ایک آیا تھا، باقی تو دنیا کے شوشہ۔ یہ چیزیں Facts ہیں۔ اس وقت شیطان کی کارگزاری یہ ہے، کہ اول تو اس راستے کی طرف آنے نہیں دیتا۔ پورے Borders بند کر دیے ہوتے ہیں۔ کوئی یہاں اس طرف آئے نہیں، کوئی اس کی طرف سوچے نہیں۔ اور جو آئے، پھر اس کو دنیا کی طرف لگا دیتے ہیں۔ اوہ! یہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا۔ تو ان کو دنیا کی چیزوں کی طرف لگا دیتے ہیں، اصل چیز رہ جاتی ہے۔ حالانکہ آپ یقین جانیے! جتنی محنت ہم دنیا کے لیے...کرتے ہیں، خدا کی قسم اس کا دسواں بھی کر لے تو ولی اللہ بن جائے۔ دسواں بھی کر لے تو ولی اللہ بن جائے۔ کیا بات ہے! ہم نے ان چیزوں کی قدر و قیمت سمجھی ہی نہیں۔ کہ اس کی، اس کی قدر و قیمت کیا ہے؟ کیا یہی قدر و قیمت ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے آپ کو سکون مل جائے؟ بہت سارے لوگ ہیں جنہیں وظیفہ دیتا ہوں، مجھے جب وہ جواب میں لکھتے ہیں، کہتے ہیں جی بڑا سکون مل گیا۔ میں خدا کے بندے میں نے سکون کے لیے دیا تھا؟ یہ تو اصلاح کے لیے ہے، سکون تو اس کا Side effect ہے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ کے پاس کوئی آ جائے، اور دوائی آپ اس کو دے دیں، اور اس کا جو سائیڈ ایفیکٹ Side effect ہے، وہ آ کر آپ کو سنا دے کہ جی مجھے تو وہ چیز مل گئی، تو آپ کیا کہیں گے؟ ظاہر ہے کہیں گے میں نے دوائی اس لیے دی تھی؟ تو یہ، یہ چیز مطلب یہ ہے کہ لوگ Side effects پہ مر مٹے ہیں۔ وہ جو اصل چیز ہے اس کی طرف دھیان ہی نہیں ہے۔
وہ ٹیلی فون مجھے آتے ہیں جی، کسی خاتون کا ٹیلی فون آتا ہے۔ میرا نام یہ ہے، میری ماں کا نام یہ ہے۔ تو میں اس سے کہتا ہوں، نہ تیری ماں کے نام کی ضرورت ہے، نہ تیرے نام کی ضرورت ہے۔ وہ مجھے عامل سمجھتی ہے۔ اور آپ یقین کیجیے! اس وقت پیر عامل ہے، اور عامل پیر ہے۔ ہر عامل کو پیر سمجھا جاتا ہے، ہر پیر کو عامل سمجھایا جاتا ہے۔ اور یہ دونوں غلط ہیں۔ نہ ہر پیر عامل ہے، نہ ہر عامل پیر ہے۔ ہاں، ہو سکتا ہے کبھی کبھی، کوئی عامل بھی ہو، کوئی پیر بھی ہو، ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا ضروری نہیں ہے۔ تو میرے پاس جب اس قسم کی کوئی بات آتی ہے، ٹیلی فون وغیرہ آتا ہے، واٹس ایپ آتا ہے، میں اسے کہتا ہوں کہ میں نہ عامل ہوں، نہ ڈاکٹر ہوں، نہ نفسیاتی ماہر ہوں۔ کیا آپ مجھ سے یہ کام لینا چاہتے ہیں؟ بھئی مجھے تو بزرگوں نے صرف ایک خاص مقصد کے لیے بٹھایا ہوا ہے اور وہ کیا ہے؟ ہماری اصلاح ہو جائے۔ بس! اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ By product کے طور پر بہت کچھ دے دے، وہ اللہ پہ دیتا ہے، وہ ہم نہیں دے سکتے، نہ ہمارا کام ہے۔ وہ پھر اللہ تعالیٰ مثلاً آپ کو سکون بھی دیتا ہے، تو چلو ٹھیک ہے اللہ کی مرضی۔ بہت اچھی بات ہے۔ سکون بھی مل گیا آپ کو، آپ کے دنیاوی حالت بھی مثلاً اچھے ہو گئے، تو یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی دے دیا، مطلب اس میں نیت تو اس کی نہیں کرنی چاہیے۔
آپ کمال کی بات میں عرض کرتا ہوں، جو دنیا... جیسے نماز میں، میں آپ کو بتا دوں، نماز۔ نماز ہم پڑھتے ہیں نا پانچ وقت، الحمدللہ۔ کیا نماز کے دنیاوی فائدے نہیں ہیں؟ ہیں نا! یہ ڈاکٹروں سے پوچھیں، مطلب جو اس کے لیے کیا کیا دنیاوی فائدے ہیں؟ وہ ہیں۔ لیکن کیا اس دنیاوی فائدے کی نیت اگر ہم نہ کریں تو دنیاوی فائدے نہیں ملیں گے؟ ملیں گے، وہ ظاہر ہے وہ تو اس کے اندر Built-in ہیں، مطلب ظاہر ہے۔ چاہے ہم اس کو مانیں بھی نہیں، پھر بھی ملیں گے۔ لیکن جو اصل چیز ہے، اللہ کی رضا۔ وہ اگر آپ نے نیت نہیں کی، تو وہ کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اب بتاؤ! جس چیز کی نیت کی ضرورت ہے، وہ نیت تو نہیں ہے، اور جس چیز کی نیت کی ضرورت نہیں ہے، اس کی نیت کر لو، یہ الٹی بات ہے یا نہیں ہے؟ تو اس طرح کسی اللہ والے کے پاس جاؤ، تو اس کے جو دنیاوی فوائد ہیں اس سے انکار نہیں ہے، لیکن اس کی نیت کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کی نیت نہ کرو، وہ خود ہی مل جائیں گے۔ اور جو اصل بات ہے، کہ میری اصلاح ہو جائے، وہ لازم ہے۔ اس وجہ سے میرا پہلا قدم یہی ہونا چاہیے کہ میری اصلاح ہو جائے۔
اور ایک بات حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے۔ کہ ایک پیر صاحب تھے، ان کے پاس ایک مرید صاحب آئے۔ اس مرید کو جو، جو حضرت کوشش کر رہے تھے، کوششیں کامیاب نہیں ہو رہی تھیں۔ حضرت ڈر گئے، یا اللہ کیا بات ہے، اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ میں جتنا کوشش کر رہا ہوں، فن کے لحاظ سے وہ اس پہ کامیاب نہیں ہو رہے۔ تو ہی بتا دے، تو ہی میرے دل پہ ڈال دے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہے۔ ان کے دل میں بات آ گئی۔ اس سے پوچھو نیت کیا ہے۔ اس کو بلایا۔ اس سے کہا آپ جو ہمارے خانقاہ میں آئے تھے، آپ کی کیا نیت تھی؟ کس لیے آئے تھے؟ اس نے کہا حضرت، آپ کا فیض بہت زیادہ چل رہا ہے۔ پوری دنیا میں چل رہا ہے۔ لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا اگر مجھے بھی یہ چیز مل جائے، میں بھی پوری دنیا کے اندر یہ چیز پھیلا دوں۔ اچھا؟ ابھی سے تو نے پیر بننے کی ٹھانی ہے؟ نکالو اس کتے کو اپنے دل سے! توبہ کرو اور صرف اپنی اصلاح کی نیت کرو۔ تو بس اس سے، جس وقت اس نے توبہ کروا دیا اور صرف اصلاح، پھر اللہ پاک نے ماشاء اللہ، جلدی جلدی جلدی وہ ساری چیزیں... مطلب ہونے لگیں۔ یہ میں عرض کرتا ہوں، ہمیں یہ چاہیے۔
اس کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ جو دوسری چیزیں ہیں وہ بغیر نیت کے مل جاتی ہیں دنیاوی چیزیں۔ دنیا کے ساتھ اللہ پاک نے وعدہ کیا: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ چاہے آدمی کوشش کرے نہ کرے، جو اس کے رزق مقدر ہے، وہ اس کو مل کے رہے گا۔ لیکن یہ جو بات ہے، یہ جو... وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا... جس کے لیے کوشش لازمی قرار دی گئی ہے۔ جو لوگ کوشش کرتے ہیں، ان کو ضرور بالضرور ہم ہدایت کے راستے سجھائیں گے۔ تو کوشش اس کے لیے ہے۔ اس کے لیے کوشش نہیں کرنا، اور جن چیزوں کے لیے کوشش نہیں، اس کے لیے نیت کی ضرورت ہے، وہ خود بخود ملنے والی چیزیں ہیں، اس کے لیے رونا دھونا، اس کے لیے کوشش کرنا، یہ الٹی بات ہے۔ اس وجہ سے اگر ہم صرف آج یہ مراقبہ سیکھ لیں۔ یہ مراقبہ سیکھ لیں، کہ میں اپنی اصلاح کی نیت سے یہاں رابطہ رکھوں گا۔ کہ میری اصلاح ہو جائے۔ اپنی اصلاح کے لیے میں اس جگہ سے رابطہ رکھوں گا۔ کسی اور نیت کے ساتھ میں رابطہ... وہ باقی فیصلے اللہ کے ہیں۔ میں اللہ پاک سے مانگوں گا۔ مجھے بتاؤ اللہ تعالیٰ سے دنیا مانگنا جائز ہے یا ناجائز؟ جائز ہے نا، خوش بھی ہوتا ہے۔ تو اللہ سے مانگو نا۔ اب پیر صاحب نے تو آپ کو روکا تو نہیں کہ اللہ سے نہ مانگو۔ آپ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ لیکن یہ بات ہے کہ اس کو اس سلسلے کی کڑی نہ بنانا۔ اس کی نیت میں شامل نہ کرنا۔
یہ معاملہ بالکل خالص ہونا چاہیے۔ وہ اس میں شرک فی الطریقت نہیں ہونا چاہیے۔ یہ باقاعدہ اصطلاح ہے، شرک فی الطریقت۔ یعنی طریقت کے اندر شرک کرنا، اس میں ایک اور نیت دنیا کی شامل کرنا۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے!
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ. يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ. يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ. اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا. اَللّٰهُمَّ اشْفِ مَرْضَانَا وَمَرْضَى الْمُسْلِمِينَ. رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا.
یا اللہ! اپنے فضل و کرم سے، جتنے بھی ہم لوگ یہاں پر موجود ہیں، یا اللہ ہم سب کو قبول فرما لے۔ یا اللہ اپنے فضل و کرم سے صحیح سوچ اور صحیح فکر عطا فرما دے۔ یا اللہ اس کے اوپر صحیح عمل عطا فرما دے۔ یا الہ العالمین! اپنے، اپنے ہاں مقبول بندوں میں شامل فرما دے۔ یا یا الہ العالمین! اپنے حبیب پاک ﷺ کی مبارک سنتوں پر دل سے چلنے اور چلانے والا بنا دے۔ اپنے حبیب پاک ﷺ کی معیتِ پاک میں اپنے دیدارِ پاک عطا فرما! یا اللہ! جب تو فرمائے کہ میں تم سے راضی ہوا پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ! خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما دے۔ اعمال نامہ دائیں ہاتھ سے نصیب فرما! حُسنِ خاتمہ کی نعمت اور دولت سے سرفراز فرما! موت کی سختی سے، عذابِ قبر سے، پُل صراط کی مشکلات سے، جہنم کی آگ اور دھوئیں سے اور حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔
جتنے مسلمان فوت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرما! جو ہمارے اکابر دنیا سے گئے ہیں ان کے درجات بہت بلند فرما۔ ان سب کے فیوض و برکات سے مکمل اور وافر حصہ عطا فرما۔ اور جو ہمارے اکابر ابھی حیات ہیں، ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرما۔ پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام کا قلعہ بنا۔ جس مقصد کے لیے پاکستان بنا، اس مقصد کے لیے قبول فرما لے۔ اور جو بھی اس مقصد سے اس کو ہٹانا چاہتا ہے، اولاً ان کو ہدایت عطا فرما۔ اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں، تو ان کو عبرت کا نمونہ بنا۔
یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے حرمین شریفین کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! حرمین شریفین ہمیں بار بار، حج اور عمرے کے لیے، سعادت کے لیے، قبولیت والے حج اور عمرے اور... یا اللہ! زیارت کے لیے، یا اللہ حاضری نصیب فرما دے۔ اور یا الہ العالمین! تو اپنے فضل و کرم سے اس نعمت کو ہم سے دور نہ فرما۔ یا یا الہ العالمین! ہمیں یا اللہ بار بار یہ نعمتیں نصیب فرما دے۔ اور یا اللہ! ہمیں اپنے مقربین میں، محبین میں، محبوبین میں، صدیقین میں، صادقین میں شامل فرما۔ ان لوگوں میں جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے، جن کے بارے میں تو فرماتا ہے کہ جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ یا اللہ! یا اللہ! یا اللہ! تو ہم سے راضی ہو جا، ہم سے کبھی ناراض نہ ہو۔ ہمارے دل کے اندر جو جائز حاجات ہیں، ان کو پورا فرما۔ اور جو ناجائز حاجات ہیں ان سے ہمارے دلوں کو فارغ فرما۔ ہمیں مستجاب الدعوات بنا! جن لوگوں نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، سوچا ہے، توقع رکھتے ہیں، سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔
اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.