عید الفطر کی حقیقی خوشی: روحانیت، شرعی حدود اور ہماری ذمہ داریاں

عید الفطر بیان، اشاعت اول: 13 مئی، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

اہم موضوعات (Key Topics):

  • رمضان کا مقصد اور عبادات میں رسوم و رواج: رمضان المبارک کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ افطار جیسی عبادت کا نمود و نمائش (Show business)، نامحرموں کے اختلاط اور نمازوں کے ضیاع کے سبب رسم بن جانے کی مذمت۔
    • روحانی خوشی بمقابلہ نفسانی خوشی: عید کے دن محض اچھے لباس اور کھانوں پر فخر کرنے کے بجائے روحانی خوشی کو ترجیح دینا اور گناہوں سے بچنے کے مجاہدے کو جاری رکھنا۔
      • تفریح کے شرعی اصول: سیر و تفریح اسلام میں منع نہیں، لیکن اس کی آڑ میں نمازیں چھوڑنا، بے پردگی کرنا اور بازاروں کا رخ کرنا ناجائز ہے۔ (اس ضمن میں مری کے سفر کی بہترین مثال پیش کی گئی)۔
        • خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت حرام: فقہی اصول "لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ" کی تشریح اور حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کے واقعے سے شریعت کی پاسداری کا سبق۔
          • گناہوں کی بے سکونی اور مسجد کا اطمینان: ہاسٹل میں فحش گانے سننے والے ایک بے چین طالب علم کا واقعہ، جسے مسجد کے ماحول نے یکسر بدل دیا اور اسے روحانی سکون ملا۔
            • تکبیرات کی روحانی تاثیر: راستے میں تکبیرات (اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ...) پڑھنے کی حکمت، کہ یہ دل میں موجود خواہشات کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو توڑ کر انسان کا تعلق اللہ کی ذات سے جوڑتی ہیں۔
              • نیک ماحول کی تلاش پر غیبی مدد: حضرت شیخؒ کا اپنا 1984 کے دورۂ امریکہ کا واقعہ، جب انہوں نے غیر شرعی ماحول سے بچنے کے لیے ہوٹل چھوڑا تو اللہ نے حلال اور بہترین متبادل کا غیبی انتظام فرما دیا۔
                • مرحومین سے تعلق اور ایصالِ ثواب: عید کے دن قبرستان جانے کی اہمیت۔ شیخ صاحب نے اپنی مرحومہ بچی (آسیہ) کا حیرت انگیز اور عبرت آموز واقعہ بیان کیا کہ وفات کے بعد بھی روحیں اپنے پیاروں کی منتظر رہتی ہیں۔
                  • شوال کے چھ روزے: عید کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی ترغیب اور ان کی فضیلت۔

                    اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

                    وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

                    أَمَّا بَعْدُ:

                    أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

                    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


                    يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔

                    قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهٗ.

                    وَمِنْهَا إِحْيَاءُ لَيْلَةِ الْعِيْدِ فَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيْدَيْنِ مُحْتَسِبًا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهٗ يَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ.

                    وَمِنْهَا صَدَقَةُ الْفِطْرِ فَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَنِ اثْنَيْنِ صَغِيْرٍ أَوْ كَبِيْرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثٰى.

                    وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ... وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدّٰى قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ.

                    وَمِنْهَا صَلَاةُ الْخُطْبَةِ... فَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰى إِلَى الْمُصَلّٰى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُوْمُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوْسٌ عَلٰى صُفُوْفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوْصِيْهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ...

                    أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

                    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                    يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔

                    صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

                    معزز خواتین و حضرات! اللہ تعالیٰ کا بہت، بہت شکر ہے الحمدللہ کہ اللہ پاک نے ہمیں اس دفعہ کا رمضان عطا فرمایا۔ یہ اللہ پاک کا احسان ہے کہ پورا مہینہ ایک آبشار کی طرح اللہ کی رحمت برس رہی ہوتی ہے۔ اور جو جاننے والے حضرات ہوتے ہیں، وہ اس سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ غافل لوگ تو ہر جگہ ہو سکتے ہیں لیکن جو بھی جاننے والے لوگ ہوتے ہیں، وہ چاہے کچھ بھی ہو، کسی نہ کسی طریقے سے ان راتوں کو، ان دنوں کو پا لیتے ہیں اور کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں۔

                    تو یہ ایک مجاہدہ ہے جو کہ اللہ پاک نے فرض قرار دیا ہے اس امت پر۔ گزشتہ امتوں پر بھی تھا لیکن یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ اس ذریعے سے اپنے نفس کی اصلاح کر لے، تقویٰ حاصل کر لے۔ لہٰذا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس پیغام کو سمجھ لیں اور اس میں وہ جو اصل مقصود ہے اس کو حاصل کر لیں، یعنی تقویٰ۔

                    اصل میں ہمارے ہاں مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ واقعی بڑی اچھی نیت سے کام شروع کر لیتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ وہ رسمی بن جاتا ہے۔ اور رسمی چیز میں یہ ہوتا ہے کہ اس میں وہ جو اصل چیز ہے وہ گم ہو جاتی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر افطار، یہ ایک ماشاءاللہ ایک دینی اور شرعی طریقہ ہے، افطار کرتے ہیں ہم۔ لیکن افطاری کرانا، ایک وہ جو صحیح طریقہ ہے، مسنون طریقہ ہے کہ آپ کسی کو افطاری دے دیں اور وہ افطار کرے اس کے ساتھ۔ ظاہر ہے اس پر اجر بھی ہے اور اس کا اجر بتایا بھی گیا ہے۔ ایک افطاری اجتماعی طور پر کرانا، اس میں بھی اگر تکلفات نہ ہوں تو وہ چیز باقی رہتی ہے۔ لیکن جس وقت افطاری رسم کی شکل اختیار کر لے، تو پھر وہ تعلقات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور ظاہر ہے تکلفات اس میں شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر اس میں اصل چیز نہیں رہتی بلکہ وہ وہی صرف Show business والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

                    مثلاً بہت سارے لوگوں کی نمازیں اس میں رہ جاتی ہیں۔ حالانکہ دیکھیں نا، اب افطاری کیا ہے؟ زیادہ سے زیادہ سنت ہوگا نا، اس سے زیادہ تو وہ نہیں کہہ سکتے آپ کو۔ لیکن فرض نماز، آپ اس کے لیے ضائع کر دیں تو کیا مطلب؟ اور پھر نماز اگر پڑھ بھی لے تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں صحیح طریقے سے نماز پڑھنے کاامکان نہیں ہوتا، وہ حالات ایسے ہوتے ہیں۔ پھر مرد اور عورتیں بعض دفعہ اکٹھے ہو جاتے ہیں، غیر محرم۔ ان کے ساتھ اختلاط ہو جاتا ہے۔ اب غیر محرم کے ساتھ اختلاط حرام ہے۔ اب ظاہر ہے آپ ایک سنت کے لیے ایک حرام میں مبتلا ہو گئے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

                    تو اس قسم کی چیزیں پھر رسمی بن جاتی ہیں۔ یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ رمضان شریف تو گزر گیا، اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما لے ہمارے روزوں کو، لیکن اب عید ہے۔ تو عید بھی یہی صورت ہے کہ بعض دفعہ رسمی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب مثال کے طور پر عید جو ہے، یہ خوشی کا دن ہے۔ خوشی کونسی؟ روحانی خوشی کا یا نفسانی خوشی کا؟ اگر آپ اس کو روحانی خوشی کے بجائے نفسانی خوشی بنا دیں تو مسئلہ ہو جائے گا۔ اور وہ تب ہوتا ہے کہ جب یہ رسم کی صورت اختیار کر لے۔

                    اچھا کھانا منع نہیں ہے، اچھا پہننا منع نہیں ہے، لیکن تفاخر کے لیے پہننا، ظاہر ہے وہ نفس کے لیے ہو گیا۔ اس طریقے سے لوگوں کا حق چھین کر، پھر ظلم ہو گیا۔ اس طریقے سے اختلاط غیر محرم کے ساتھ، پھر کام خراب ہو گیا۔ اب یہ ساری چیزیں بالکل ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ اب آپ ان تمام چیزوں کی وجہ سے اصل چیز کو بند بھی نہیں کر سکتے۔ اور جو آپ اس کو بند نہیں کرتے تو یہ چیزیں سبھی ساتھ چلتی رہیں گی۔ تو اس وجہ سے یہ بھی ایک قسم کا مجاہدہ بن جاتا ہے۔

                    حالانکہ مشاہدہ تھا، لیکن یہ بھی ایک قسم کا مجاہدہ بن جاتا ہے کہ آدمی اس حالت میں اپنے آپ کو قابو رکھے اور کسی غیر شرعی اور کسی گناہ کے کام میں اپنے آپ کو نہ پھنسائے۔ ہوتا یوں ہے کہ چونکہ ماحول میں ایسی چیزیں چل رہی ہوتی ہیں تو جو شخص ان چیزوں کو نہیں کرتا تو وہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں یہ بڑا سخت ہے، دیکھو نا یہ کیا کر رہا ہے۔ باقی دیکھو فلاں مولوی صاحب بھی کچھ نہیں کہہ رہا، فلاں بابا جی بھی کچھ نہیں کہہ رہا، فلاں بھی نہیں کچھ کہہ رہا، یہ درمیان میں کہاں سے کلکلا خان آ گیا؟ یہ کیوں اس طرح باتیں کرتا ہے؟ اب وہ ایک Pin point ہو جاتا ہے۔ اب سب اس ڈر سے کہ ہم Pin point ہو جائیں گے، چپ۔ حالانکہ ان سے اگر آپ چپکے سے پوچھیں تو وہ کہہ دے گا غلط ہے۔ مطلب ظاہر ہے کہ وہ مان جائیں گے۔

                    تو یہ بات اس لیے میں عرض کر رہا ہوں کہ عید میں تو یہ باتیں ہوتی ہیں۔ عید میں انسان کو ان چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔ تفریح بند نہیں ہے، تفریح جائز ہے۔ لیکن جائز تفریح جائز ہے۔ ناجائز تفریح جائز نہیں ہے۔ مثلاً دیکھو مری ہے نا مری، مری میں بازار بھی ہے اور مری میں پہاڑ بھی ہیں۔ بہت سارے پہاڑ ارد گرد ایسے ہیں جہاں پر آپ کو ایک آدمی بھی نہیں ملے گا۔ موسم وہی ہوگا، موسم مری کا ہی ہوگا، موسم کوئی مختلف نہیں ہوگا لیکن وہاں کوئی آدمی نہیں ہوگا۔ مجھے بتائیں آپ آدمیوں سے ملنے کے لیے گئے ہیں یا آپ موسم کے لیے گئے ہیں؟ نیت کیا ہے؟ اگر آپ آدمیوں کے لیے گئے ہیں تو پھر راولپنڈی سے نہ جائیں وہاں تو زیادہ آدمی ہیں۔ ادھر سے پھر کیوں جاتے ہیں پشاور سے کیوں جاتے ہو؟ وہاں تو لوگ زیادہ ہیں۔ اور اگر آپ موسم کے لیے گئے ہیں، تو موسم تو پہاڑ تو ادھر بھی ہیں جہاں کوئی بھی نہیں ہے، وہاں جائیں۔ وہاں اپنے گھر والوں کو بے شک لے جائیں، وہاں پر ان کی مطلب Hiking کر لیں، آپ کھانا اپنے ساتھ لے جائیں، کھانا کھا لیں۔ کوئی مسئلہ نہیں، اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ لیکن بازاروں میں جا کے کیا کرنا ہے؟

                    تو اصل یہی بات ہے کہ اگر انسان سوچے تو جائز چیز کو جائز رکھنا اور ناجائز چیز سے اپنے آپ کو بچانا، یہ ایک مجاہدہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ ان چیزوں میں فرق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں مثال کے طور پر ناجائز تفریح کو جائز سمجھا جائے۔ وہ کہیں گے کیوں تفریح ہمارا حق نہیں ہے؟ بھئی حق ہے، آپ تفریح کریں کس نے آپ کو تفریح سے روکا ہے؟ لیکن صرف یہی چیز ہے؟ کچھ اور چیز نہیں ہے؟ اس کو بھی تو دیکھنا ہے نا۔

                    وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ کوئی بزرگ تھا تو اس نے کہا کہ دیکھو بعض ظالموں نے خانہ کعبہ کے اوپر انگریزوں کے دور میں گولہ باری کی۔ اتنے بدبخت لوگ ہیں۔ ان میں سے ایک آدمی اٹھا کہ اس میں تو میں بھی تھا، میں سپاہی تھا۔ تو اس نے کہا او بدبخت تجھے کس نے کہا ایسا کرنے کو؟ کیوں کیا؟ اس نے کہا مجھے تو حکم تھا۔ یعنی ہمیں تو حکم تھا۔ ہوتے ہیں نا آرمی والے تو بس فوراً کہتے ہیں ہمیں تو حکم تھا۔ تو اس بزرگ نے کہا کہ تمہیں اس کے علاوہ بھی کسی اور کا حکم بھی تھا یا صرف یہی حکم تھا؟ یعنی اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی حکم تھا یا نہیں تھا؟ کیوں مشہور قانون ہے فقہ کا:

                    لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ۔

                    مخلوق کی ایسی اطاعت جس میں خالق کی نافرمانی ہو جائز نہیں ہے۔ مثلاً مجھے والد کہہ دے کہ جاؤ فلاں کو قتل کر دو، میں مانوں گا اس کو؟ بے شک میرے والد ہیں لیکن میں اس بات کو تو نہیں مان سکتا۔ کیونکہ ظاہر ہے میں اس کے لیے یہ نافرمانی کیوں کروں، اللہ تعالیٰ کا قانون کیوں توڑوں؟ تو میں اتنا کر سکتا ہوں کہ بابا جی مجھے معاف کر دیں یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ لیکن اس وقت میں اگر اس کی بات مانتا ہوں، تو اللہ تعالیٰ کا قانون ٹوٹتا ہے۔ تو ایسی صورت میں، میں ایسا کوئی کام نہیں کر سکتا۔

                    تو اس طریقے سے یہاں پر اصل میں ہمارے معاشرے کے اندر چیزیں کچھ چل پڑی ہیں۔ مثلاً وہ آئے گی کوئی آپ کے ہاتھ چومے گی، دیکھو غیر محرم ہے یا محرم ہے؟ اگر غیر محرم ہے تو سائیڈ پہ۔ نہیں! میں آپ کو اس کا ایک زبردست مثال بتاتا ہوں۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ، بہت بڑے بزرگ تھے، اسیرِ مالٹا تھے۔ جیل میں تھے، مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مرضی سے قید کروایا تھا اپنے آپ کو تاکہ اپنے شیخ کی خدمت کر سکیں۔ تو اس میں پھر یہ ہوا کہ حضرت نے بڑی خدمت کی بہت زیادہ خدمت کی تو ان سے ان کی خبریں آتی رہیں ظاہر ہے اپنے ملک میں۔ تو جس وقت پہنچ گئے واپسی رہائی ہو گئی تو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی بوڑھی تھی، وہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ سے کہہ رہی ہیں کہ حسین احمد نے آپ کی اتنی خدمت کی ہے، اتنی خدمت کی ہے، اتنی خدمت کی ہے کہ اتنا تو تیرا بیٹا بھی کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اس کے سر کو بوسہ دوں۔ یہ بوڑھیاں بوسہ دیتی ہیں نا سر کو، یہ ویسے بھی ہندوستان وغیرہ میں تو یہ ہے۔ تو میں ان کے سر کو بوسہ دے دوں۔ تو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ہاں بالکل اس نے تو اتنی خدمت کی، اتنی خدمت کی، اتنی خدمت کی کہ اتنا کوئی کسی کا بیٹا بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن شریعت، شریعت ہے۔ شریعت، شریعت ہے۔ یعنی شریعت کے قانون کو نہیں توڑا جا سکتا۔ تو دیکھیں نا ایسی حالت میں بھی اگر وہ یہ بات کرتے ہیں تو کیا ہم یہ بات نہیں کر سکتے کہ شریعت شریعت ہے؟ ہم کیوں ایسا کام کر لیں جس میں جو ہے نا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو اور وہ بھی اتنے مبارک دن، عید کے دن؟ ایسا کام کیوں کریں؟

                    دوسری بات میں آپ کو بتاؤں کہ تفریح جائز ہے۔ لیکن تفریح کے لیے نماز چھوڑنا، جائز ہے؟ تفریح کے لیے نماز چھوڑنا تو جائز نہیں ہے۔ تو اب ذرا غور فرمائیں، آج ذرا دیکھ لیں مساجد میں کتنی صفیں ہیں اور رمضان شریف میں کتنی صفیں تھیں؟ بالکل پتا چل جائے گا۔ اگر رمضان شریف میں تین صفیں تھیں، تو اس میں ایک ملے گی۔ یا ایک سے بھی کچھ کم ہوگا۔ کدھر گئے لوگ؟ اِدھر اُدھر کے بازاروں میں لگے ہوئے ہیں۔ بھئی بات سنو! روحانی خوشی جو ہوتی ہے نا، وہ روحانیت سے ملتی ہے۔ نفسانی خوشی، نفسانیت سے ملتی ہے۔ نفسانی خوشی آپ کے نفس کو خوش کرے گی لیکن آپ کے دل کو زخمی کرے گی۔ لہٰذا آپ کی بے اطمینانی بڑھے گی۔ جب دل زخمی ہوتا ہے تو بے اطمینانی بڑھتی ہے۔ وہ بے اطمینانی آپ خود بعد میں Feel کریں گے لیکن آپ کو پتا نہیں وہ بے اطمینانی ہے کس وجہ سے؟ یہ پتا آپ کو نہیں ہوگا۔ اور عین ممکن ہے کہ آپ اس بے اطمینانی کو دور کرنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کریں جس میں مزید بے اطمینانی بڑھے۔ مثلاً بعض لوگوں کی بے اطمینانی جب بڑھتی ہے، وہ Music سنتے ہیں۔ حالانکہ Music بذاتِ خود اس بے اطمینانی کو بڑھانے والی چیز ہے، وہ مزید بڑھتی ہے اس سے۔ تو یہ اس طریقے سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو ظاہر ہے جو لوگ ہیں میں آپ کو کیا بتاؤں، الحمدللہ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں یہ چیزیں دکھائی ہیں۔

                    ہمارے Hostel میں ایک Student تھا۔ اس کا کمرہ تقریباً Exact تو سامنے نہیں تھا لیکن کچھ تقریباً محاذ میں تھا ہمارے۔ اور وہ فحش گانے سنتا تھا، فحش Music چلاتا تھا۔ اور زور سے چلاتا تھا، ڈیک وغیرہ لگایا ہوا تھا۔ اور لڑاکو تھا بہت زیادہ، کوئی بھی اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ورنہ لڑائی ہو جاتی تھی۔ لوگ بڑے تنگ تھے اس سے۔ ایک دن ہم گشت کر رہے تھے، ڈاکٹر فدا صاحب تشریف لائے تھے، گشت کر رہے تھے۔ تو میں متکلم تھا، ظاہر ہے اس کا کمرہ بھی کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آیا، کہتا ہے

                    My heart does not want to go to Mosque .

                    یہ بالکل اس طرح Straight-way کہہ دیا۔

                    My heart does not want to go to Mosque.

                    ڈاکٹر صاحب پیچھے سے دیکھ رہے تھے مجھے کہا تھا کہ آپ چلے جائیں بس، میں بات کر لوں گا۔ وہ ڈاکٹر صاحب پتا نہیں اس کے ساتھ کیا باتیں کیں وہ ہم تو آگے چلے گئے۔ جب بیان ہو رہا تھا، ڈاکٹر صاحب بیان کر رہے تھے، تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا تو بائیں طرف وہ لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا اچھا وہ آیا ہوا ہے! ڈاکٹر صاحب نے اس کو وصول کیا ہوا ہے۔

                    خیر بہرحال یہ ہے کہ بیان سننے کے بعد اس آدمی کے خود اپنے Remarks یہ تھے۔ کہتا ہے "آج میرا دل بڑا خوش ہوا۔ آج میرا دل بڑا خوش ہوا۔ مجھے بڑا سکون ملا"۔ وہ شخص جو تقریباً گھنٹہ پہلے کہہ رہا تھا:

                    My heart does not want to go to Mosque.

                    یہ بھی فقرہ تھا، اور یہ بھی اسی کا فقرہ تھا کہ آج میرا دل بڑا خوش ہوا۔ ان دو کے درمیان غور کر لیں کہ کیا چیز تھی؟ کوئی بات تو درمیان میں ہے نا جو سمجھ میں آنی چاہیے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ پہلے وہ ایک گناہ کے ماحول کے اندر لپٹا ہوا تھا اور وہ اس Barrier کو کراس نہیں کر سکتا تھا۔ نتیجتاً وہ کہتا تھا کہ میں یہ نہیں کر سکتا۔ لیکن پھر اللہ پاک نے اس پہ فضل کیا، کسی کی برکت سے، مسجد آ گیا۔ مسجد نے اپنا کام کر دکھایا۔ دینی ماحول نے اپنا کام کر دکھایا۔ اس کے دل میں چیر کر وہ اطمینان کی لہر پہنچ گئی، جس کی اس کو تلاش تھی۔ اگرچہ اس کو جانتا نہیں تھا۔ اگرچہ اس کو جانتا نہیں تھا لیکن اس کو اس کی تلاش ضرور تھی۔ تو وہ جب اس کو مل گیا تو اس کو کہنا پڑا کہ آج میرا دل بڑا خوش ہو گیا۔

                    تو بالکل یہی بات ہے، ہم گناہوں کے ماحول کے اندر اگر پلے بڑھیں، ہمیں صحیح بات ہے کہ ابھی روحانیت کا احساس ہی نہیں۔ روحانیت کس کو کہتے ہیں؟ لیکن جس وقت روحانیت کے ساتھ لوگ مانوس ہو جاتے ہیں، پھر وہ گناہ کی طرف جب آتے ہیں نا، تو ان کا دل بالکل ایسا بیٹھنے لگتا ہے۔ آدمی گھبرا جاتا ہے کہ پتا نہیں کیا ہو گیا۔ یہ ایک چیز ہے جو کہ انسان کو حاصل ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔ یہ روحانیت کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ تو اب عید کی جو خوشی ہے نا اصلی وہ روحانی خوشی ہے۔ وہ روحانی خوشی ہے۔ اس روحانی خوشی کو حاصل کرنے کے لیے پہلا کام کیا ہے؟ یہ عید کی نماز۔

                    پہلا کام یہی ہے عید کی نماز جس سے شروع کرایا جاتا ہے۔ اور آتے ہوئے: اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ اور جاتے ہوئے بھی خاموشی کے ساتھ: اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ یہ پڑھتے جانا، یہ روحانی خوشی کو کھینچنے والے نظام ہیں۔ آپ کو کیا پتا کہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ سے کیا ہوتا ہے؟ مطلب آپ نے جو درمیان میں چھوٹے چھوٹے بت اپنے دلوں میں رکھے ہوتے ہیں نا کہ اوہ یہ بھی چاہیے، یہ چیز چاہیے، یہ چیز چاہیے، یہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ وہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ہاں مجھے اور کوئی نہیں چاہیے مجھے صرف اللہ چاہیے۔ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ، اور اسی کی تعریف ہے، سب کچھ اسی کی ہے۔ تو یہ نعرہ جو ہے یہ ہم خاموشی کے ساتھ بار بار لگاتے ہیں، وہ اصل میں ہم اس لیے کہتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو Spiritual خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو Attach کرنا چاہتے ہیں۔ اس کو اگر ہم رسمی طور پہ پڑھ لیں تو ٹھیک ہے فائدہ ہوگا لیکن اتنا نہیں ہوگا۔ جو اس کے ادراک کے ساتھ ہوگا۔ یعنی جب انسان ادراک کر لیتا ہے کہ آخر یہ کیوں ہے اس طرح؟ تو پھر اس کے ادراک کے ساتھ جب انسان پڑھتا ہے، شعور کے ساتھ جب انسان پڑھتا ہے، تو پھر اس کے اوپر جو اثرات ہوتے ہیں وہ علیحدہ بات ہوتی ہے۔

                    تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ کا شکر ہے، اللہ پاک نے ہمیں الحمدللہ مسجد کے ماحول میں دس دن رکھا ہے۔ یہ اس کا کرم ہے، اس کا فضل ہے، اس کا احسان ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس کا شکر کیا ہے؟ اس کا شکر یہ ہے کہ ہم اب کسی ایسے ماحول کی طرف اپنے آپ کو نہ لے جائیں، جو اس ماحول کا ضد ہو۔ یہ میں نہیں کہہ سکتا ہر جگہ مسجد ہے۔ ہر جگہ مسجد نہیں ہے، نہ ہر وقت اعتکاف ہے۔ لیکن ہر جگہ پر اچھی جگہ بھی ہوتی ہے، بری جگہ بھی ہوتی ہے۔ اچھے حالات بھی ہوتے ہیں، برے حالات بھی ہوتے ہیں۔ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں، برے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ یہ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ تو اب جہاں بھی آپ جائیں، وہاں اگر اچھی جگہ میسر ہے تو اچھی جگہ جاؤ۔ اچھے لوگ ملتے ہوں تو اچھے لوگوں کے ساتھ ملو۔ اچھی بات ہو سکتی ہو تو اچھی بات کرو۔ یعنی گویا کہ اچھائی کو تلاش کرو۔ اور ہر جگہ اچھائی مل سکتی ہے۔ ہر جگہ اچھائی مل سکتی ہے۔ کہتے ہیں شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے۔ جو لوگ اچھائی کی تلاش میں ہوتے ہیں اللہ پاک ان کو نصیب فرما دیتے ہیں۔

                    میں امریکہ گیا تھا 1984 میں۔ پہلی رات میں نے Hotel میں گزاری تھی۔ کیونکہ Booking اس کی ہوئی تھی۔ اس میں تو ظاہر ہے میں کچھ نہیں کر سکتا تھا ظاہر ہے مجھے ادھر ہی لے جانا تھا۔ لیکن اگلے دن میں نے جب اسے کہا تھا، اس Receptionist سے کہ آپ میرے اکاؤنٹس میں کلئیر کرنا چاہتا ہوں،

                    May be I will not come again to Hotel tonight .

                    تو وہ بیچاری پریشان ہو گئی کہ پتا نہیں ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے، کیا بات ہوئی ہے؟ یہ کیوں Hotel چھوڑنا چاہتا ہے؟ تو کہتی ہے

                    What's problem ?

                    میں نے کہا:

                    There is no problem, there is no problem, I want to shift to some other place.

                    اس نے پھر وہ ٹھیک ہے Dues میں نے ایک دن کے دے دیئے اور میں چلا گیا۔ اب مجھے کچھ پتا نہیں کہ کیا ہونا ہے۔ ہوٹل سے میں نے معاملہ صاف کر دیا لیکن اب مجھے پتا نہیں کہ ہونا کیا ہے۔ آگے گیا اپنے آفس میں، اس آفس کے جو تھے Director، اس کی جو PA تھی، اس سے میں نے کہا کہ یہاں تین یونیورسٹیاں ہیں، ان تین یونیورسٹیوں میں سے ایک اس نام کا کوئی شخص ہے۔ وہ طاہر شیخ نام تھا ہمارے ٹیچر تھے وہ PhD کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں نے کہا اس کو تلاش کر لو۔ کیونکہ موبائیل کا دور تو تھا نہیں، ٹیلیفون ہی ہوتا تھا۔ خدا کی بندی نے اس کو تلاش کر لیا۔ دو ڈھائی گھنٹے میں کر لیا۔ مجھے اپنے کلاس سے اٹھایا کہتے ہیں آئیے آپ اس سے بات کر لیں۔ اس نے کہا کیسے پہنچے؟ میں نے کہا یہ باتیں چھوڑو مجھے بتاؤ تم کدھر ہو؟ میں تمہارے پاس آنا چاہتا ہوں۔ تو اس نے مجھے بتایا میں نے کہا مجھے نہیں بتاؤ ان کو بتاؤ، کیونکہ میں ایڈریس کیا جانتا ہوں؟ خیر ان کو بتا دیا، میں نے ان سے کہا کہ میری گاڑی ادھر لگوائیں۔ میں ادھر ہوٹل نہیں جا رہا، میری گاڑی آپ ادھر لگوائیں۔

                    خیر اب ادھر مجھے پہنچا دیا۔ وہ دو کمرے تھے ان کے پاس اور تین آدمی تھے۔ گویا کہ میرے لیے پہلے سے Vacancy موجود تھی۔ تو میں نے کہا بھئی میں تو آیا ہوں آپ لوگوں کے ساتھ۔ تو آپ کے جو اخراجات ہوں گے وہ میں Pay کروں گا، میں نے ہوٹل میں نہیں رہنا۔ کہتے یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ بس بہرحال یہ کہ انہوں نے انتظام کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ کر لیا۔ پاس ہی اسلامک سینٹر تھا۔ ماشاءاللہ ہر وقت ہم اسلامک سینٹر جاتے تھے، عربوں کے ساتھ ملتے تھے، ایک بڑا دینی ماحول ماشاءاللہ وہاں پر موجود تھا۔ دو ہفتے کے لیے صرف میں گیا تھا نا، تو تین چار دن کے بعد، ٹیلی فون ایک آتا ہے اس کے ساتھ وہ گپ شپ لگاتا ہے۔ کہتا ہے آپ نے پشتو تازہ کرنی ہے؟ تو میں سمجھا کسی پٹھان کے ساتھ گفتگو کر رہا ہے۔ تو اس نے کہا ہوگا ہاں، تو اس نے مجھے دے دیا۔ تو اس نے کہا تم کدھر ہو؟ کہاں کے ہو؟ میں نے کہا میں زیارت کاکا صاحب کا۔ اوئے یہ تو آپ ہمارے گاؤں کے ہیں۔ اچھا کس کے ؟ میں نے اپنے چچا کا بتایا میں نے کہا فلاں کا بھتیجا ہوں۔ اوہو یہ تو آپ ہمارے رشتہ دار ہیں۔ چلو میں آ رہا ہوں۔ پہنچ گیا، تھوڑی دیر میں پہنچ گیا۔ مشتاق اس کا نام تھا۔ وہ پہنچ گیا ، جی چلتے ہیں، میں نے کہا بھئی کیا عجیب حرکت ہے۔ کس طرح چلتے ہیں؟ میں ادھر ان کے ساتھ Put up ہوں، کوئی طریقہ کار ہوتا ہے، کوئی مسئلہ ہوتا ہے آخر آپ ان کے ساتھ Discuss کر لیں۔ میں تو نہیں جا سکتا اس طرح۔ بس ٹھیک ہے ملاقات آپ کے ساتھ ہو گئی۔ ان سے کہا بھئی ان کو چھوڑو کہتے ہیں ان کو بھی مزہ آیا، کہتا ہے کیوں چھوڑیں؟ ہمارا ان کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے۔ اچھا خیر بہرحال یہ ہے کہ وہ آپس میں لگے رہے، اخیر میں فیصلہ اس پر ہوا کہ ایک ہفتہ آپ کے ساتھ رہیں گے، ایک ہفتہ پھر میرے ساتھ رہیں گے۔ ٹھیک، ایک ہفتہ ہمارا ان کے ساتھ گزر گیا۔ میں نے کہا بھئی Calculate کر لو، کتنے Dues میں نے دینے ہیں؟ تو وہ ہنسا ۔ کہتے ہیں ایک وعدہ خلافی تو نے کی ہے، ایک وعدہ خلافی ہم کریں گے۔ میں نے کہا میں نے کونسی وعدہ خلافی کی ہے؟ کہتا ہے دیکھو نا ان کے ساتھ جانے کے لیے اب تیار ہو گئے اب تو ہم کچھ بھی نہیں لیں گے۔ میں نے کہا یہ تو معاہدہ۔۔ کہتے ہیں بالکل اب Possible ہی نہیں ہے۔ اب اگر تو نے ادھر جانا ہے تو یہاں ایک پیسہ بھی ہم نہیں لیں گے۔ اچھا اب کیا میں کر سکتا تھا؟ خیر ادھر گیا تو ادھراس کے ساتھ تو پیسوں کی بات کرنا ہی لڑائی تھی۔ ظاہر ہے وہ تو اپنے تھے، تو وہ تو ان کے ساتھ تو بات ناممکن تھی کہ میں اسے پیسوں کی بات کرتا۔ تو مطلب گویا کہ پورے کے پورے پیسے میرے باقی رہ گئے۔ اور میں اسلامی طریقے سے سارا نظام وغیرہ میرا ہوتا تھا۔ بہت اچھی طرح الحمدللہ سارا کچھ ہو گیا۔ یہ میں کہتا ہوں شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے۔ آپ اپنے ماحول کو Identify کر لیں کہ میں نے یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی انتظام ہو جاتا ہے۔ آپ کو اللہ پاک ادھر ہی لے جائے گا وہی انتظام کرے گا۔ تو اس وجہ سے عید کے دن بھی آپ ایک معیار مقرر کر لیں۔ کہ میرا معیار یہ ہے، میں نے ایسے لوگوں سے ملنا ہے، ایسے لوگوں سے نہیں ملنا۔ یہ کرنا ہے، یہ نہیں کرنا۔ ایسا ہونا ہے، ایسا نہیں ہونا۔ اس تمام چیزوں کو کر لیں اور مدد کے لیے اللہ پاک سے مانگیں ہاتھ اٹھا لیں۔ ابھی دعا کریں گے ان شاءاللہ۔ ٹھیک ہے نا!

                    بس یہی بات ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔

                    واپس جاتے ہوئے ان شاءاللہ ہم کیا کریں گے راستہ بھر:

                    اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔

                    آپ حضرات بھی وہاں جب اپنی جگہ پہ جائیں تو ذرا اپنے۔۔۔ کیونکہ دیکھیں نا میں آپ کو بات بتاؤں۔ ہم لوگ فوت ہونے کے بعد سمجھتے ہیں سب کچھ ختم ہو گیا، ایسا نہیں ہوتا۔ سب کچھ ختم نہیں ہوتا بلکہ بہت کچھ شروع ہو جاتا ہے۔ تو ایسی صورت میں۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ وہ لوگ بڑے منتظر ہوتے ہیں، بڑے منتظر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے دیکھیں نا میں آپ کو بتاؤں جیسے امریکہ وغیرہ میں یہ Old house میں لوگ والدین کو رکھتے ہیں۔ تو وہ لوگ پورے سال منتظر رہتے ہیں کہ ان شاءاللہ عید کے دن آئیں گے ہمارے پاس بچے آئیں گے اور ہم ان کو دیکھیں گے۔ ہاں یہ ان کا ایک المیہ ہے۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیں جو قبروں میں ہیں نا، وہ بھی منتظر رہتے ہیں۔ کہ ہمارے پاس آئیں گے ۔

                    تو میں تو آپ کو ایک ایسا واقعہ سنا سکتا ہوں کہ آپ حیران ہو جائیں گے۔ وہ تو بڑے لوگوں کی بات ہے، میری بچی، ساڑھے چار سال کی۔ دفن ہے جہانگیرہ میں۔ تو ایسا ہوا کہ میرا بھائی طارق، وہ ایک دفعہ کسی کام سے آیا جہانگیرہ، اس کو ہمیں پتا ہی نہیں لگا کہ وہ آیا ہوا ہے۔ وہ آ گیا تھا اور پھر واپس بھی آ گیا تھا۔ صبح ناشتے پہ ہم بیٹھے ہوئے ہیں، میری والدہ نے کہا کہ ناشتے پہ کہ آج میں نے عجیب خواب دیکھا ہے۔ اس بچی کا نام آسیہ تھا، کہتی آسیہ خواب میں آئی، اور کہتی ہے چاچو آج آئے تھے لیکن میرے پاس نہیں آئے۔ چاچو آج آئے تھے لیکن میرے پاس نہیں آئے۔ کہتی ہے خفا تھی۔ تو میرا جو بھائی تھا وہ جس طرح ناشتہ کر رہا تھا، تو کہتا ہے ٹھیک کہتی ہے۔ میں گیا تھا لیکن مجھے ٹائم نہیں ملا۔ میں اکثر جایا کرتا ہوں ان کی قبر پر لیکن اس دفعہ نہیں جا سکا۔ مجھے ظاہر ہے وہ ٹائم نہیں ملا۔ اب مجھے بتائیں، میری والدہ کو تو پتا نہیں تھا نا، ہمیں بھی پتا نہیں تھا کہ وہ گیا ہوا ہے۔ لیکن Information مل گئی نا! Information مل گئی، کہ وہ بچی بھی انتظار کر رہی تھی۔ وہ بچی بھی انتظار کر رہی تھی۔ بہت عجیب دور ہے وہ، عجیب وہ جگہ ہے۔

                    وہ ایک دفعہ ایک صاحب کو ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ تو مجھے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آپ کی بیٹیاں تھیں۔ وہ آپ کو سلام کہہ رہی تھیں۔ اب دیکھو اس حد تک اللہ پاک کا ایک نظام ہے وہ چلا رہے ہیں اور اس طرح ہی ہوتا ہے سارا کچھ۔ لہٰذا ان لوگوں کا حق ہے، والدین کا حق ہے، اپنے رشتہ داروں کا حق ہے، وہاں پر جاؤ۔ اور ان کے لیے دعا کرو، ان کے لیے ایصال ثواب کرو۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ تفریح کے لیے جانا چاہتے ہو تو ویرانوں میں جاؤ، اپنے گھر والوں کو بے شک لے جاؤ۔ اور گھر کے اندر اچھے کھانے پکاؤ، لیکن کھانوں کو حرام نہ کرواؤ۔ حرام سے مراد یہ ہے کہ وہ ڈیک وغیرہ لگا لیتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ وہ کھاتے ہیں، بڑے زور سے اس کے گانے لگے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کھانوں کو زبردستی حرام کرنے والی بات ہے۔ اپنے کھانوں کو حرام نہ کیا کرو۔ حلال طریقے سے اپنی حلال کمائی کو کھاؤ۔ اور ماشاءاللہ جسمانی خوشی کے ساتھ، روحانی خوشی بھی پاؤ۔ اور یہ بات میں عرض کرتا ہوں کہ بس جو ہمارے الحمدللہ پہلا دن ہے، یہ تو خیر ہے ہی، مطلب اس میں تو ماشاءاللہ ہم نے تفریح کرنی، جو بھی ہے خوشیاں منانی ہیں۔ کل سے پھر ان شاءاللہ، اگر چاہے کوئی، تو چھ روزے رکھ سکتے ہیں شوال کے۔ یہ شوال کے روزے جو ہیں نا بڑے قیمتی روزے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی رکھے، تو ایسا ہے جیسے کہ اس نے پورے سال روزے رکھے۔

                    تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرما دے۔

                    وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَسُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

                    ۔ اب نماز پڑھیں گے ان شاءاللہ۔





                    عید الفطر کی حقیقی خوشی: روحانیت، شرعی حدود اور ہماری ذمہ داریاں - اسلامی مواقع