الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
معزز خواتین و حضرات! اس سلسلے کو continue رکھتے ہیں۔ آج کا ہے روحانیت کیا ہے؟ سوال اس کے بارے میں ہے۔
مرے استاد بتا کہ روحانیت کیا ہے؟
میں اس کو سمجھوں کیا اس کی ضرورت کیا ہے؟
کیا غیب دانی کو ہی میں روحانیت سمجھوں
کیا عملیات ہی کو اس کی حقیقت سمجھوں
مسمریزم اور ٹیلی پیتھی اس کا ست سمجھوں
پروفیسر بہت اس کے،اس کے ماہر بھی بہت
لوگ ہوتے ہیں جو ان سے متاثر بھی بہت
استاد کا جواب:
تُو ہے انساں، پہلے سمجھو انسانیت کیا ہے؟
ساتھ ہے نفس ترے، تو نفسانیت کیا ہے؟
روح بھی تجھ میں ہےتو سوچ روحانیت کیا ہے؟
ایک بات جان لے ہے روح امر رب جلیل
اس کا جو علم دیا جاتا ہے ہم کو ہے قلیل
روح طیب کا احادیث میں نام آتا ہے
روح خبیث کے بارے میں بھی بتاتا ہے
کیا اس سے کوئی اشارہ نہیں تو پاتا ہے؟
روح اعمال سےلیتی ہے اثر ٹھیک ہے نا
ہوتا اس سے متاثر ہے بشر ٹھیک ہے نا
روح ہر چیز میں موجود اس کو جان لیا
اس طرح دل میں بھی موجود اس کو مان لیا
کسی نے اس میں گر کیفیت احسان لیا
اس کا ہر عمل شریعت کے مطابق ہو پھر
صاحب دل ہو ہر اک چیز کے لائق ہو پھر
دل اگر ٹھیک ہےسارا جسم صحیح ہوگا
تب ہدایت کے لینے کا یہ قابل بھی ہوگا
یہ اگر درست نہیں ایسا پھر نہیں ہوگا
دل کی اصلاح کا عمل، روح کی اصلاح کا عمل
یہ عمل اس لئیے روحانیت کا بھی ہے اصل
ان عملیات کو روحانیت سے میل نہیں
اس طرح علم نجوم کی طرح یہ کھیل نہیں
غیب دانی وغیرہ کوئی اس کا بیل نہیں
بیٹے اب روح یعنی دل پہ ہے محنت کرنا
روحانیت ہے یہی اس کی ہی ہمت کرنا
روحانیت کی قوت دل کی صفائی سےہے
اور پھر اس کی بقاء ذکرِ دائمی سے ہے
اور کیفیت احسان بھی اسی سے ہے
یعنی اعمال میں کیفیت حضوری ہو
وہ ہمیں دیکھتا ہے، کم سے کم ضروری ہو
شاگرد کا سمجھنا:
مرے استاد آپ کا مجھ پہ ہے بہت احساں
کتنا میرے لئیے مفید ہوا آپ کا بیاں
میں کچھ سے کچھ جو سمجھتا تھا اور تھا حیراں
لفظ روحانیت میں حق کا انکشاف ہوا
آپ کے دل کی برکت سے دل بھی صاف ہوا
اب جو روحانیت میں حق ہے،کروں گا حاصل
تاکہ یہ دل جو امانت ہے، یہ بھی ہو واصل
اب مرے دل اور حق میں نہ کوئی ہو فاصل
دل کی دھڑکن میں میں الہام ربانی سمجھوں
آدم ابلیس و ملائک کی کہانی سمجھوں
استاد کی دعا:
یا الٰہی! اور مری روح کو بیدار کردے
آج کا جو ہے جواں،اس کو سمجھدار کردے
سب کو اب روح محمدﷺ کا تابعدار کردے
مرا سرمایہ ہے یہ اس کو بچانا یارب
راہ حق مجھ کو اور سب کو دکھانا یارب
راہ حق میں جو رکاوٹ ہے اس کو دور فرما
نفس کو حق پہ مطمئن و دل میں نور فرما
اپنے شبیرؔ کی دعا بھی تو منظور فرما
جن سے راضی ہوان میں اس کو بھی شامل فرما
طالبِ وصل ہے اب اس کو واصل فرما
تو یہ ہے روحانیت۔ اب ایک بہت اہم Topic ہے جو ہمارے فیلڈ ہے، پیری مریدی والا، ہاں جی؟ اس پہ بھی بڑے اعتراضات ہوتے ہیں۔ اعتراض کو میرے خیال میں علم کا ایک دروازہ سمجھو۔ اعتراض جو کرتا ہے تو وہ علم کا ایک دروازہ کھولتا ہے، ٹھیک ہے؟ تو اس پہ جو اعتراضات ہیں، سوچیں کہ اس کے علاوہ بھی کوئی اعتراض ہو سکتا ہے؟ ہم نے اپنی کوشش میں جتنے اعتراضات ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب کو شامل کیا ہے۔ لیکن اگر آپ کوئی نئے اعتراض شامل کرتے ہیں تو سوال کر سکتے ہیں پھر انشاءاللہ، ٹھیک ہے؟
شاگرد کا پیروں کے بارے میں شکوہ:
میرے استاد بتا پیری مریدی کیا ہے؟
سنتے رہتے ہیں اسے، دل کی صفائی کیا ہے؟
لوگ پیروں کا یہاں خیال بہت رکھتے ہیں
جو ہر اک کام میں کمال بہت رکھتے ہیں
کرتے اعمال نہیں حال بہت رکھتے ہیں
یہ مریدوں سے خبردار بہت ہوتے ہیں
ان سے ملنے کے بھی اسرار بہت ہوتے ہیں
ان کی خدمت سے ہر اک کام صحیح ہوتا ہے
پاس ان کے جو نہ آئے تو وہی روتا ہے
جاگتا رہتا ہے یہ پیر کہاں سوتا ہے
ان کے تعویذ سے ہر کام نکل آتا ہے
یہ نہ چاہیں تو پھر آرام کہاں آتا ہے؟
یہ شریعت پہ جو چلنا ہے وہ ہے ٹھیک مگر
ہوتا جب ذکر الٰہی سے ہے دل پر جب اثر
تو کچھ اسرار وہ پاتے ہیں پھر اپنے دل پر
مل گیا اصل تو پھر نقل سے کیا بات بنے
پھر شریعت کے تقاضوں پہ کوئی کیسے چلے؟
یہ جو ہیں پیر تو اسرار ان کا سمجھے کون؟
ہیں یہ واصل، قلب بیدار ان کا سمجھے کون؟
حب حق میں قلب سرشار ان کا سمجھے کون؟
دن کو جب رات کہیں رات سمجھنا ہے ٹھیک
الغرض ان کی ہر اک بات سمجھنا ہے ٹھیک
یہ جو چپ ہوں تو یہ چپ شاہ بنے رہتے ہیں
اور بولتے یہ معارف ہیں جو بھی کہتے ہیں
سب مریدوں کی یہ تکلیف ساری سہتے ہیں
تک نہ کوئی ہو بولنے میں تو رموز اسرار
اور کسی کے یہ مخاطب ہوں تو بنے سرکار
ان کے انداز ہر اک چیز میں نرالے ہیں
ہر غلط کام میں جب ہاتھ ان کے کالے ہیں
اس پہ سب ٹھیک سمجھتے ہیں جو متوالے ہیں
کیسے یہ ٹھیک میں سمجھوں سمجھ آتا ہی نہیں
کہ شریعت سے کوئی میل یہ کھاتا ہی نہیں
یہ نہ قرآن پہ چلتے ہیں اور نہ سنت پہ
اثر انداز یہ ہوتے ہیں سب کی قسمت پہ
مجھ کو پھر شک نہ کیونکر ہو ان کی صحت پہ
ان کی خانقاہیں مراکز ہیں کاروبار کی بس
گمرہی میں ہیں اپنے شتر بے مہار کی بس
بس شریعت پہ جو چلنا وہی ٹھیک ہے جب
چھوڑ میں دوں یہ خرافات اور یہ صوفی سب
مل سکے مجھ کو پھر نجات جعل سازی سے تب
اب سمجھ آئی مرے دل میں بس یہی اک بات
جو کہ قرآن ہے سنت ہے وہ طریق نجات
استاد کا جواب:
بیٹا ہاں ٹھیک ہے یہ سب مگر انصاف تو ہو
رہتی جو بھی غلط فہمی ہے پہلے صاف تو ہو
ایسے پیروں کی پیروی یہ ضلالت تو ہے
کہ شریعت کی مخالف ان کی حالت تو ہے
پیچھے پھر ان کےکوئی جائے حماقت تو ہے
لیکن جو ایسے نہ ہوں ان سے مفر کیسا ہے؟
جو ضروری ہے تو پھر ان سے صبر کیسا ہے؟
کیا علم رکھنا شریعت کا ہی بس کافی ہے؟
کیا تکبر کا علم اس کے لئے شافی ہے؟
کیا برائی کے جاننے پہ ہی معافی ہے؟
کتنے جانتے ہیں مگر ساتھ وہ بدکار بھی ہیں
اور اسباب علاجی سے وہ بیزار بھی ہیں
دنیا اسباب کا گھر ہے یہ جانتے ہیں ہم
ہوتے اسباب مؤثر ہیں مانتے ہیں ہم
خود کو کیوں اس سے مبرا گردانتے ہیں ہم
جو کہ دنیا کے ہیں اسباب ہم برتتے ہیں
کیسے اسباب اصلاحی کو پرے رکھتے ہیں
یہ ہے معلوم ہے دشمن بڑا شیطان اپنا
نفس امارہ کے ہاتھوں میں ہے گریبان اپنا
ان سے بچنے پہ زور دیتا ہے قرآن اپنا
خود بخود نفس امارہ ہمیں آزاد کرے
سادگی یہ تری کوئی بھی کیا یاد کرے
ہاں جی، یہ تو ایسے ہے جیسے کہ مجھے ایک ساتھی نے بتایا تھا کہ جب لوگ Driving سیکھتے ہیں نا، یہ پہلے پہلے، تو چونکہ دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر کئی سفر کر چکے ہوتے ہیں تو گاڑی تو موڑنے کے لیے تو خود بخود مڑ جاتی ہے۔ Driver موڑتا ہے نا، تم کو تو پتہ چلتا ہے خود بخود مڑ گئی۔ تو پہلی دفعہ وہ سمجھتا ہے گاڑی خود بخود مڑ جائے گی! تو بس پھر... ہاں جی؟ Accident! تو مطلب یہ ہے کہ یہ... یہ جو ہے نا مطلب خود بخود نفسِ امارہ ٹھیک ہو جائے گا؟ یہ کیسے ہو جائے گا؟
ہمیں قرآن میں زکھّٰا نظر آتا ہے
کیسے فاعل کی ضرورت ہمیں دکھاتا ہے
رستہ دسّٰھا تباہی کا ہی دکھاتا ہے
رزق اللہ پہ ہے ہم پھر بھی مشقت میں ہیں
فرض اصلاح کی چھوڑنے کی مصیبت میں ہیں
یعنی جن کا ہمیں Bound کیا گیا ہے اس کے لیے تو ہم کچھ نہیں کرتے۔ اور جس کے لیے Bound نہیں کیا گیا اس کے لیے ہم مرتے ہیں۔ ہاں جی؟
اپنی اصلاح کے لئے کوئی ہمارا تو ہو
جس پہ ہم ٹک سکیںکوئی بھی سہارا تو ہو
کاٹنے شر کی جڑوں کو کوئی آرا تو ہو
اپنے اصلاح کے لئے کوئی راہبر تو رکھیں
دلِ بیمار کے لئے دارو مؤثر تو رکھیں
وہ طریقہ جو بزرگوں کا چلا آتا ہے
جس سے ہر ایک شفا، دل کے لئے پاتا ہے
جھنڈا اصلاح کا ہر گاہ جو لہراتا ہے
ایسے دریا سے کیوں ہم بھی فیضیاب نہ ہوں؟
اور دنیا کی کثافت سے ہم خراب نہ ہوں
جو ہیں گمراہ اگر ان کی نقل کرلیں بھی
اپنے دامن میں مفادات اپنے بھر لیں بھی
اپنے جالوں میں اگر خلق بہت دھر لیں بھی
ٹھیک ہم ان کے لئے چھوڑ دیں یہ ٹھیک ہے کیا؟
اور کاموں میں غلط کیلئے ٹھیک چھوڑدیا؟
مطلب یہ کہ وہ... مطلب یہ ہے کہ جو ٹھیک ہے نا، جو صحیح نہیں ہے، تو ہم ایسے لوگوں کے لیے ان کو چھوڑیں گے؟ تو کیا خراب ڈاکٹروں کے لیے اچھے ڈاکٹروں کو چھوڑا ہے؟ خراب استادوں کے لیے اچھے استادوں کو چھوڑا ہے؟ خراب دکانداروں کے لیے اچھے دکاندار کو چھوڑا ہے؟ تو پھر ان کو کیوں چھوڑتے ہو؟
کتنوں کو کہتے قصائی ہیں ڈاکٹروں میں دیکھ
کتنے کرتے ہیں ملاوٹ ان تاجروں میں دیکھ
غلط کاموں میں کچھ مصروف استادوں میں دیکھ
ان میں جو ٹھیک ہیں ہم ان کو الگ رکھتے ہیں
ہم جدا ان کو کسوٹی سے جو کرسکتے ہیں
اسطرح پیر جو سچ ہوں اگر ان کو ڈھونڈیں
اپنی اصلاح کے لئے ان کو ہی راہبر سمجھیں
دامن اپنا منبع فیض سے اِن کے بھر لیں
ہم بھی زکھّٰا کے الفاظ عمل میں لائیں
اور دسّٰھا تباہی سے امن میں آئیں
صاحب دل سے ذرا صاف اپنا دل کرلے
فیض صحبت سے ذرا نور کو حاصل کرلے
جہد سے نفس کو پھر خیر پہ مائل کرلے
دل نورانی میں پھر نور خود ہی پائے گا
جو علم خیر ہوگا تیرے لئے وہ آئے گا
جو ہو بیمار نہ ڈاکٹر کے پاس جائے وہ
جودوائی ہے اس کو ہاتھ نہ لگائے وہ
کیسے صحت کو بے اسباب اس میں پائے وہ
اس طرح کرنے سے نقصان کس کا ہوتا ہے؟
اور نقصان اگر ہو تو کیوں روتا ہے؟
اب یہ سخت جواب ہے۔
یہ غزالی جو ہیں رومی ہیں سارے کیسے بنے؟
شیخ جیلان سہروردی ہیں سارے کیسے بنے؟
اور خواجہ معین چشتی ہیں سارے کیسے بنے؟
فخر کرتے ہیں ہم اسلاف کے مقاموں پر
اور کرتے ہیں لعن ان کے سارے کاموں پر
بھئی اگر غلط تھے تو... اگر ٹھیک تھے تو ظاہر ہے ان کے کام بھی ٹھیک ہوں گے، اور غلط تھے تو پھر کام بھی غلط ہوں گے۔ تو ان کو تو ہم بزرگ مانتے ہیں اور پھر جو ہے نا کہتے ہیں کہ جو ان کی طرح تصوف پہ چلتے ہیں تو وہ غلط ہو جائیں گے؟
چاہے مقصد اور ذریعے سے رکھتے بیر ہوں ہم
قائل... قائل کچھ بھی نہیں منہ سے تو کیسے سیر ہوں ہم
اس طرح خود سے ہی شیطان کے آگے ڈھیر ہوں ہم
یہ جو ہیں سارے ذرائع یہ تجربات ہی ہیں
یہ مشکلات میں وسائلِ نجات ہی ہیں
جس طرح طب میں ذرائع کا بدلنا ہے ضرور
مختلف لوگوں کے حالات میں چلنا ہے ضرور
پس طریقت میں بھی کچھ ایسے ہی کرنا ہے ضرور
ترک اصلاح کا منصوص نہ ہونا جائز
جس طرح طب میں اجتہاد پہ حکیم فائز
حبِ دنیا میں آخرت کی طلب ہی نہ رہے
کیسے وہ پیر کی کڑوی کسیلی اس بات سنے؟
جو کوئی دودھ کا مجنوں ہو خون کیسے دے؟
جس کو کچھ حبِ الٰہی سے سروکار نہ ہو
اس پہ حیرت نہیں اصلاح پہ وہ تیار نہ ہو
ہاں جی، یہ بس آخری... ٹائم کافی ہو گیا اس پر۔
تو اب شاگرد کہتا ہے:
میرے استاد! مرا اللہ تجھے رکھے شاد
آپ نے آباد کیا میرا دل جو تھا برباد
خود کو پہچان لیا اب کروں گا اللہ یاد
مرے اللہ مری غفلت کو اب معاف کرے
جو پڑا گند مرے دل میں ہے اس کو صاف کرے
میں نے جو نفس کی اصلاح سے منہ تھا موڑ لیا
اور مجھے جس کی ضرورت تھی اس کو چھوڑلیا
جزاک اللہ آپ نے مجھ کو جو جھنجھوڑ لیا
اب میں چاہتا ہوں کہ اب اس کی تلافی کرلوں
اب اپنے نفس کی اصلاح میں شافی کرلوں
اب Question، Genuine question ہے۔ پہلے تو ذرا غلط معلومات کی بنیاد پر Question تھے نا، اب Genuine question کر رہا ہے:
ایک مشکل میں ابھی تک مگر دوچار ہوں میں
کون ہو میرا مسیحا اگر بیمار ہوں میں؟
کیسے پہچانوں اسے جس کا طلبگار ہوں میں؟
اب مجھے ایسے بتا دیں کوئی اس کی پہچان
جس سے ہو جائے میرا کام یہ تھوڑا آسان
کیسے اس شخص کے ہاتھوں میں دوں ہاتھ اپنا؟
جانے انجانے میں ہو جائے نہ کچھ گھات اپنا؟
میں تو ہر چیز ہی اپنا چھوڑنے کو تیار ہوں میں
کس طرح خود کو بچا لوں میں دھوکہ بازوں سے؟
کچھ تو پردہ اٹھا دیں بھی ان کے رازوں سے
(یعنی غلط پیروں سے کیسے اپنے آپ کو بچاؤں؟ یہ تو میرا حق ہے نا، مطلب ظاہر ہے، غلط پیروں کے ہاتھ تو نہ چڑھ جاؤں نا۔)
تو استاد کا جواب دیتا ہے اور تسلی بھی:
یہ اعترافِ حقیقت تجھے مبارک ہو
اس پہ اللہ کی نصرت تجھے مبارک ہو
سچ کو پانے کی سعادت تجھے مبارک ہو
نشانیاں صحیح پیروں کی بتا دیتا ہوں
راستہ حق کا جو ہے وہ بھی دکھادیتا ہوں
اک صحابہؓ کے عقیدے پہ ہوں وہ پیر بالکل
فرض ہو علم میسر اور اس پر ہو عمل
اس کی صحبت کا سلسلہ ہو تا رسولﷺ اکمل
اس کو دوسروں کی تربیت کی اجازت بھی ہو
صاحبِ فیض ہو، مصلح بے مروت بھی ہو
(مصلح بھی ہو اور بےمروت بھی ہو)
اس کی صحبت سے بس اللہ کی یاد آجائے
اور دنیا کی محبت میں کمی پاجائے
عظمتِ حق جو ہے وہ دل پہ خود ہی چھا جائے
ایسا مل جائے تو دیکھ گر مناسبت بھی ہو
اس سے جڑ جائے،ہے بہتر اس سے بیعت بھی ہو
سچ تو یہ ہے کہ جوانوں پہ جب اسرار کھلیں
اور جب عشقِ الٰہی سے وہ سرشار رہیں
اور سنت کے طریقوں کو وہ اختیار کریں
کامیابی مسلمانوں کی قدم چھومے گی
چرخہ گلہائے سعادت کی خود ہی گھومے گی
کامیابی سے تجھے رب اب ہمکنار کرے
بندگی ہو جو تری اس پہ تجھے پیار کرے
جو پڑی ہم پہ خزاں ہے اسے بہار کرے
سیکھے تو رسم شبیری، مری دعا ہے یہ
اور راضی ہو خدا، اصل مدعا ہے یہ
کیا خیال ہے کچھ سمجھ میں آ گئی بات؟ ہاں جی، غلط پیروں کی وجہ سے کتنی چیزیں Confuse ہو گئی ہیں۔ اور صحیح پیروں کی ضرورت کیا ہے، ان کی پھر نشانیاں کیا ہیں؟ بنیادی بات یہ ہے۔ تو اس طرح اگر ہم لوگ ان چیزوں کو سمجھیں تو یہ سارے سوالات خود بخود ہی بیٹھ جائیں گے۔
اب ایک لڑائی ہے لوگوں میں جو Conceptual لڑائی ہے، وہ ہے عقل اور دل کی لڑائی۔ جو چلتی آ رہی ہے نا، عقل اور دل کی لڑائی۔ اس میں کون جیتتا ہے، کون ہارتا ہے؟
دنیا کو دیکھ نظر آتا ہے اسباب کا گھر
(عقل دل سے کہتی ہے، عقل اپنے آپ کو Super power کہتی ہے نا)
دنیا کو دیکھ نظر آتا ہے اسباب کا گھر
اور ان اسباب میں آتا ہے مرے دم سے اثر
دنیا ویران رہے، میں جب مؤثر نہ رہوں
خراب کام ہو، جب اس کا ہم سفر نہ رہوں
علم عالم کا ہو ضائع بھی، میں اگر نہ رہوں
غصہ آئے اگر کسی کو، میں ادھر نہ رہوں
(جس کو غصہ آئے تو عقل ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔)
میرے ہونے سے یہ دنیا جنت نظیر بنے
ہر عقلمند مری زلف کا اسیر بنے
یہ ہندوستان میں انگریز کیسے آئے تھے؟
یہاں کے لوگ مرے دم سے سب دبائے تھے
میں نے آدابِ حکمرانی جب سکھائے تھے
یہاں کے لوگ وہ عاری ہی اس سے پائے تھے
دس ہزار لوگ، کروڑوں پہ حکمران بنے
صرف حکمران نہیں، مطلق العنان بنے
(ہاں جی؟ یہ عقل اپنا دعویٰ کرتا ہے، ٹھیک ہے نا؟)
یہاں کے لوگوں نے میری قدر جو کی تھی کم
سزا کے طور پہ ان کو ملا پھر کتنا غم
جن کی کھوپڑی مجھ سے خالی ہو تو وہ ہوں بیدم
وہ اگر تیر اٹھائیں گے میں ماروں گا بم
(ان کے پاس تیر ہو گا تو میں Bomb سے... مطلب ظاہر ہے ٹھیک ہے۔)
مجھ کو پانے سے تو دنیا بھی نئی ملتی ہے
اور نہ ہونے سے، جو موجود ہے وہ بھی ہلتی ہے
(ہاں جی، یہ عقل نے...)
میرے ہونے سے یہ انسان تو انسان ہے نا
زندگی میرے ہی ہونے سے تو آسان ہے نا
معترف میری کرامات کا کل جہان ہے نا
میرا انسان پہ دیکھو بڑا احسان ہے نا
جو مجھے ساتھ نہ رکھے اس کو گرادیتی ہوں
اپنی ناقدری کا احساس دلا دیتی ہوں
میں اگر سر میں نہ ہوں سر ہی سلامت نہ رہے
میری عزت نہ کرے جو اس کی عزت نہ رہے
مجھے حاکم نہ کہے اس کی حکومت نہ رہے
علم کے ساتھ میں شامل نہ ہوں، حکمت نہ رہے
میرے والوں کو خدا نے اولو الباب کہا
میرے دشمن کو تو تاریخ نے خراب کہا
ہاں جی، بڑے Strong دلائل ہیں نا عقل کے؟ اب دل بھی تو کچھ کہے گا نا۔ دل کیا کہتا ہے؟
تیری باتوں کا میں انکار نہیں کرتا ہوں
لیکن حق بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا ہوں
عقل میں عقل تبھی ہو میں اگر ٹھیک رہوں
(عقل میں عقل ہاں تبھی ہو میں اگر ٹھیک رہوں۔)
ناس تیرا ہو اور سب کا، اگر میں نہ بنوں
میں اگر واسطہ اپنا خدا سے درست رکھوں
تو پھر میںٹھیک دیکھوں، ٹھیک کہوں، ٹھیک سنوں
میں اگر درست رہوں درست رہیں سارے نظام
تو بھی پھر ٹھیک رہے درست سارے تیرے کام
تو اگر میری نہیں، نفس کا بنے گی پھر غلام
اور سر اٹھا کے ذرا دیکھ قارون کا انجام
تو اگر میری نہیں نفس تجھ پہ سوار رہے
ترا ہر آن ظالموں میں پھر شمار رہے
سارے اعمال میں اخلاق کے بیمار رہے
انجام کار تری قسمت میں نار ہی نار رہے
سر کے بل چلنا کیا آسان نظر آۓ ہے
مرے ماننے میں یہ نخرے جو تو دکھاۓ ہے
چاہیے تجھ کو ہے جذبات پہ حکومت کرنا
فضولیات کی ہر آن مخالفت کرنا
نافذ احکام میرے حسبِ ہدایت کرنا
بےوقوفوں کو طریقے سے نصیحت کرنا
ہاں مگر مجھ سے کوئی پنگا نہیں لینا ہے
مجھ سے لیکر پھر طریقے سے آگے دینا ہے
اچھا یہ بات مطلب دل نے اسے کہی، اب شریعت دونوں کا محاکمہ کرتا ہے۔
شریعت دونوں کا محاکمہ کرتی ہے
عقل کا کام ہے جذبات پہ حکومت کرنا
اور جو ہے قلب سلیم اس کی حمایت کرنا
نفس کے شر سے بھی اعمال کی حفاظت کرنا
اور اس کے واسطے اتباعِ شریعت کرنا
عقل ناقص ہے جب مغلوب ہو جذبات سے یہ
اور ملوث ہو لغویات و خرافات سے یہ
عقل پابندِ شریعت ہو تو اک نور ہے یہ
اس وقت نورِ فراست کا اک ظہور ہے یہ
اور اگر سفلی خواہشات سے مجبور ہے یہ
پھر یہ شیطان کا آلہ ہے، حق سے دور ہے یہ
یہ فقاہت کا ذریعہء عظیم دین کا ہے
اس وقت فضل بڑا رب العالمین کا ہے
دل میں شیطان سے لینے کا راستہ بھی ہے
اور الہام کا مورد صاف ستھرا بھی ہے
آنکھ، زبان، کان کے ساتھ اس کا سلسلہ بھی ہے
گر استعمال ہوں غلط یہ، ان سے خطرہ بھی ہے
آنکھ، زبان، کان یہ سب دل سے اثر لیتے ہیں
اور یہ بھی کہ یہ سب اس کو اثر دیتے ہیں
خواہشیں نفس کی شیطان کو آتی ہیں نظر
وہ وساوس سے ہےکرتا پھر ان سے دل پہ اثر
شروع ہوتا ہے اس سے آگے گناہوں کا سفر
اور بچ جائے وساوس کا اثر نہ لے اگر
ان گناہوں سے تو بچنے پہ اجر ملتا ہے
ان تقاضوں سے تو تقویٰ کا باغ کھِلتا ہے
اصل عقلمندی
دل اگر درست نہیں کون اس کی درستگی کرلے؟
عقل کا اصلی استعمال جو ہے وہی کرلے
تربیت نفس کی جو مطلوب ہے وہ بھی کرلے
ان میں آپس میں جو رشتہ ہے وہ صحیح کرلے
یہ جو چار کام ہیں اس کو ہی طریقت کہہ دیں
جو اِس کو کرلے، اس کو اس کی بصیرت کہہ دیں
جس سے یہ کام ہے کروانا اس کو شیخ کہیں
اور اس کے واسطے اس کے ساتھ تعلق بھی رکھیں
اپنے احوال کی پھر اس کو اطلاع بھی کریں
پھر جو فرمائے علاجاً وہ تو اس پر ہی چلیں
لیکن ہوشیخ صحیح، اس کا سلسلہ ہو صحیح
اس کی پہچان میں پڑیں نہیں دھوکے میں کبھی
اک صحابہؓ کے عقیدے پہ ہوں وہ شیخ بالکل
فرض ہو علم میسر اور اس پر ہو عمل
اس کی صحبت کا سلسلہ ہو تا رسولﷺ اکمل
اس کی صحبت سے ہو، خدا کی محبت حاصل
اس کو دوسروں کی تربیت کی اجازت بھی ہو
صاحبِ فیض ہو، مصلح بے مروت بھی ہو
شیخ ملے ایسا تو پھر اور نہ انتظار کریں
شیخ کا ہاتھ پکڑ کر دل کو بیدار کریں
عقل کو اس کی ماننے پہ پھر تیار کریں
علاجِ شیخ سے شبیرؔ، درست نفسِ بیمار کریں
نفس کا انگ انگ شریعت پہ نچھاور ہوپھر
دل اپنا بحرِ معرفت کا شناور ہو پھر
اب کامیابی کی نوید:
دل خدا کے لیٔے ہو اور عقل اس کی مرید
عقل حاکم رہے جذبات کا ہو اس پہ مزید
نفس قابو میں ہو اور اس سے عقل کام لے لے
جس کی بھی ہو کامیابی کی ملے اس کو نوید
ٹھیک ہے؟ تو یہ میرے خیال میں چند چیزیں میں نے آپ کے سامنے عرض کر دیں۔ یہ Conceptual understanding ہے یعنی مطلب ہے کہ انسان ذرا تھوڑا سا ان چیزوں کے بارے میں جان لے جو ان کے لیے مفید ہے، اور جو نقصان دہ ہیں ان کو بھی جان لے تاکہ اس سے بچ جائے۔
(End of Transcription)
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: روحانیت اور پیری مریدی کی حقیقت: عقل اور دل کا معرکہ
متبادل عنوان: سچی روحانیت، جعلی پیروں کی پہچان اور تزکیہ نفس کا صحیح راستہ
اہم موضوعات:
روحانیت کا اصل مفہوم اور اس کا شریعت و کیفیتِ احسان سے تعلق۔
غیب دانی، عملیات، Mesmerism اور Telepathy کا روحانیت سے فرق اور جعلی عاملوں کی پہچان۔
نفسِ امارہ کی بیماریاں اور خود سے اصلاح کی غلط فہمی کا ازالہ۔
سچے پیر/شیخ کی علامات (عقیدہ صحابہ، علم و عمل، اتباعِ سنت، اور سلسلہ بیعت)۔
عقل اور دل (روح) کا مکالمہ: عقل کے مادی دعوے اور دل کی روحانی فوقیت۔
شریعت کی روشنی میں عقل کا صحیح مقام اور دل کے تزکیے کی اہمیت۔