اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ رمضان المبارک کی آخری رات میں سب روزہ داروں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ یہ مضمون پہلی روایت میں بھی گزر چکا ہے، چونکہ رمضان المبارک کی راتوں میں شبِ قدر سب سے افضل رات ہے، اس لیے صحابہ کرام نے یہ خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کے لیے ہو سکتی ہے، مگر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے فضائل مستقل علیحدہ چیز ہے۔ یہ انعام تو ختمِ رمضان کا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو رات بیان کی گئی ہے کہ اس پہ مزدوری دی جاتی ہے، تو وہ یہ ہے کہ وہ آخری رات ہے۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جاؤ، ہم لوگ حاضر ہو گئے۔ جب حضور ﷺ نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا "آمین"۔ جب دوسرے پر قدم رکھا تو فرمایا "آمین"۔ جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا "آمین"۔ جب آپ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ ﷺ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس وقت جبریل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے، جب پہلے درجہ پر میں نے قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین۔ پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے، میں نے کہا آمین۔ جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے اور اس کو جنت میں داخل نہ کرائے، میں نے کہا آمین۔"
اس حدیث پاک میں جبریل علیہ السلام نے تین بد دعائیں دی ہیں اور حضور ﷺ نے تینوں پر آمین فرمائی ہے۔ اول تو حضرت جبریل علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے کی بد دعائیں کیا کم تھیں، پھر آپ ﷺ کی آمین نے تو جتنی سخت بد دعا بنا دی وہ ظاہر ہے۔ اللہ ہی اپنے فضل سے ہم لوگوں کو ان تینوں چیزوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ان برائیوں سے محفوظ رکھے، ورنہ ہلاکت میں کیا تردد ہے۔
در منثور کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود جبریل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے کہا کہ آمین کہو، تو حضور ﷺ نے فرمایا آمین۔ جس سے اور بھی زیادہ اہتمام معلوم ہوتا ہے۔