آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور رزقِ حلال کے قرآنی احکامات

اشاعت اول، 5 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•         آباؤ اجداد کی رسومات اور اندھی تقلید کے نقصانات۔

•         حق و باطل کے فیصلے کے لیے علمائے حق کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت۔

•         عقل (انسانی سوچ) اور ہدایت (اللہ کی طرف سے عطا کردہ رہنمائی) کے درمیان فرق۔

•         حق بات کو تسلیم نہ کرنے والوں کی قرآنی مثال (گونگے، بہرے، اندھے)۔

•         حلال اور پاکیزہ رزق کھانے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی تلقین۔

•         حلال و حرام کے تعین میں انسانی نفس کے بجائے شریعت کی پیروی کی ضرورت۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۗ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُ ـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ (170) وَمَثَلُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّـذِىْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْـمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (171) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (172) اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْـمَ الْخِنزِيْـرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْـرِ اللّٰهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْـمَ عَلَيْهِ ۚ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (173)

صدق اللہ العلی العظیم۔ و صدق رسولہ النبی الکریم۔

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ اُس کلام کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو ان باتوں کی پیروی کریں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔

یہ ہمارے مسلمانوں میں بھی آج کل کافی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے آباؤ اجداد کے دین کو لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ رسومات اور یہ تمام چیزیں۔ جب ان کو کہتے ہیں... کہتے ہیں نہیں نہیں ہمارے آباؤ اجداد کیا غلط تھے؟ وہ یہی تو کرتے ہیں، ہم تو ان کو یہی کرتے دیکھا ہے۔ اور باقاعدہ اس پر جو ہے۔۔۔

زیارت کاکا صاحب میں کچھ ظاہر ہے چونکہ اتنے بڑے بزرگ کا مزار جب ہوتا ہے تو ان کے ساتھ پھر کچھ لوگ وابستہ کر لیتے ہیں چیزیں۔ تو وابستہ کی ہوئی تھیں چیزیں تو ہمارے چچا مولانا انوار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ فاضلِ دیوبند تھے، تو جمعہ کے بیان میں انہوں نے خوب اس کا رد کیا۔ تو وہیں دیوبند کے ایک اور مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھے، ان کا نام بھی انوار الحق تھا۔ اور ان کے والد صاحب کھڑے ہو گئے، کہتے ہیں: "کیا ہمارے آباؤ اجداد جو کر رہے تھے غلط کر رہے تھے؟ آپ یہ کہاں سے سیکھے ہوئے ہیں؟" وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ بوڑھے آدمی تھے۔

تو انوار الحق صابر صاحب جو تھے یہ کھڑے ہو گئے، کہتے ہیں: "بحیثیتِ دیوبند کے فاضل کے میں فتویٰ دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔" ادھر اس کے استاد بھی موجود تھے، مولانا عبد الحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جو دونوں کے استاد تھے، دونوں انوار الحق کے استاد تھے دیوبند میں۔ وہ چیخے، کہتے ہیں: "چپ ہو جا انوار الحق! کیا تو نے بکواس بنائی، کہاں سے تم فاضلِ دیوبند بنے ہوئے ہو؟ جو انوار الحق کہتا ہے بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔" بس وہ چپ ہو گیا۔ اس کے بعد تو اس کی آواز تو نہیں اٹھی۔ اس کی آواز نہیں اٹھی تو خیر بہرحال جب لوگ چلے گئے تو پھر اس کو بلایا، کہتے ہیں: "خبیث یہ تو نے کیا حرکت کی؟ کیوں اس طرح بات کی؟" کہتے ہیں: "بس میں والد کی محبت میں گمراہ ہو گیا۔" یہ بات ہوتی ہے۔ یعنی یہ دیکھو یہ تو ہمارے گاؤں کی بات ہے۔

اس قسم کی چیزیں آج کل بھی ہمارے ہاں بھی ہیں، لوگ اپنے آباؤ اجداد کے دین پر چلتے ہیں۔ حالانکہ بھئی آباؤ اجداد والی بات ٹھیک ہے، اس میں ساری باتیں غلط نہیں ہوتی آباؤ اجداد کی، جو صحیح ہے وہ صحیح ہوتی ہے، اور جو غلط ہوتی ہے وہ غلط ہوتی ہے۔ لیکن اس صحیح اور غلط کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ نہ آپ کریں گے، نہ آپ کے آباؤ اجداد کریں گے، وہ علماء کریں گے، اور جو علمائے حق ہیں وہ کریں گے۔

اب دیکھو وہیں پر ایک ہی مسجد میں ایک عالم حق تھے اور ایک اس وقت عالم سوء بنے ہوئے تھے، اگرچہ بعد میں ٹھیک ہو گئے لیکن مطلب ہے کہ اس وقت تو اس نے شیطان کے اس پر عمل کر لیا ناں۔ تو اس قسم کے ہوتے ہیں جو متاثرین ہوتے ہیں، کچھ اپنے گھر سے متاثر ہوتے ہیں، کچھ اپنے خاندان سے متاثر ہوتے ہیں، کچھ اپنے دوستوں سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ حق کو اور باطل کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔

تو یہ بات نہیں، تو یہاں پر فرمایا:

أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَّلَا يَهْتَدُونَ۔

ہاں بھلا کیا؟ اس صورت میں بھی ان کو یہی کرنا چاہیے جب ان کے باپ دادے دین کی ذرہ بھی سمجھ نہ رکھتے ہوں اور انہوں نے کوئی آسمانی ہدایت بھی حاصل نہ کی ہو؟

دیکھو یہاں پر دو لفظ ہیں، سبحان اللہ! لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَّلَا يَهْتَدُونَ۔

عقل انسان کے اندر اللہ پاک کی پیدا کردہ وجود ہے، وہ خود اس سے سوچ سکتا ہے عقل کے مطابق۔ ہدایت یہ عقل کے مطابق نہیں ہے، یہ اللہ پاک کی طرف سے آتی ہے۔ پیغمبر کو اللہ پاک فرماتے ہیں تُو ہدایت نہیں دیتا، ہدایت میں دیتا ہوں۔ تو باقی اور کیا کون کہہ سکتا ہے۔ تو ہدایت اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ تو جن کے پاس نہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہو نہ ان کی عقل کام کر رہا ہو تو پھر ان کے بارے میں آپ کیا ان کی بات مانیں گے؟ ظاہر ہے اس وقت تو آپ ان کی بات نہیں مانیں گے۔

اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ۔

اور جن لوگوں نے کفر کو اپنا لیا ہے ان (کو حق کی دعوت دینے) کی مثال کچھ ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان (جانوروں) کو زور زور سے بلائے جو ہانک پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، لہذا کچھ نہیں سمجھتے ﴿171﴾

یعنی جو کفر پر جمے ہوئے ہیں At any cost and any condition، ان کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے، وہ ان کی مثال تو گونگے بہرے اندھوں کی ہے، ہاں وہ تو کچھ نہیں کہہ سکتے۔

يَآأَ يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلّٰهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ﴿172﴾

اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں، ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ، اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر واقعی تم صرف اُسی کی بندگی کرتے ہو﴿172﴾

یعنی اگر تم اللہ کی بندگی کرنا چاہتے ہو تو تمہیں وہی کھانا چاہیے جو اللہ تمہیں کھانے کی اجازت دے رہا ہے، اور وہ نہیں کھانا چاہیے جو تمہیں اللہ پاک کھانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ نفس کا فیصلہ نہ مانو۔ نفس کا فیصلہ نہ مانو، اس میں اللہ پاک کی بات مانو۔

اُس نے تو تمہارے لئے بس مردار جانور، خون، اور سور کا گوشت حرام کیا ہے، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو

اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم حرام سمجھ رہے ہو وہ تو اللہ نے حرام نہیں کیے، تم خواہ مخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو۔ سو البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے۔ حرام چیزیں وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو، حرام تو وہ ہے جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ بس اس میں صرف یہ مقصود ہے کہ انسان اپنے فیصلے پہ خود عمل نہ کرے بلکہ اللہ پاک سے فیصلہ چاہے۔ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے وہ حلال ہے، جو حرام کیا ہے وہ حرام ہے۔ اس کے لیے جو وسائل ہیں، ذرائع ہیں، ان ذرائع کو استعمال کرنا پڑے گا۔ چاہے وہ کتابیں ہیں، چاہے علماء ہیں، جو بھی ہیں، اس کے ذریعے سے ہمیں معلوم کر کے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عمل کرنے کی دے۔

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔