اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج جمعرات ہے اور جمعرات کے دن ہمارے ہاں سیرت النبی حصہ پنجم مرتبہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، اس کا درس ہوتا ہے۔ چونکہ عبادات کی بات چل رہی ہے اور اوقاتِ نماز کے سلسلہ میں بیان ہورہے تھے تو اس سلسلہ میں آگے بات بڑھانے کے لئے شروع کرتے ہیں ’’اوقاتِ پنج گانہ کی ایک اور آیت‘‘ کے عنوان سے۔
اوقات پنج گانہ کی ایک اور آیت:
سورہ اسراء کی آیت کی طرح سورہ طٰہ میں بھی ایک آیت ہے جس میں اوقات پنج گانہ کی تفصیل ہے۔ وہ یہ ہے:
﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ وَمِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّهَارِ﴾
اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح پڑھ آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس (آفتاب کے) ڈوبنے سے پہلے اور رات کے کچھ وقت میں تسبیح پڑھ اور دن کے کناروں میں۔
آفتاب نکلنے سے پہلے فجر ہے، ڈوبنے سے پہلے عصر ہے، رات کے کچھ وقت سے عشاء مراد ہے اور دن کے کناروں میں ظہر اور مغرب ہے۔ تفسیروں میں بھی صحابہ کی روایتوں سے انہی نمازوں کا باختلافِ روایت مراد ہونا مذکور ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ دلوک سے غروبِ آفتاب اور حضرت ابن عباس زوالِ آفتاب مراد لیتے ہیں۔ اسی طرح غسق اللیل کو بعض لوگ مغرب اور بعض عشاء سمجھتے ہیں، اور فیصلہ یہ کرتے ہیں کہ دلوکِ شمس سے ظہر اور عصر اور غسق اللیل سے مغرب اور عشاء اور قرآن الفجر سے نماز صبح مراد ہے اور اس طرح ان کے نزدیک بھی یہ آیت اوقات پنج گانہ کے بارے میں ہے
اطراف النہار کی تحقیق:
یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ اطراف کا لفظ جمع ہے جو کم سے کم تین پر بولا جاتا ہے اس بنا پر دن کے تین طرف (کنارے) ہونے چاہئیں، دن کے کنارے یا تو دو ہی ہیں صبح اور شام، یا تین ہیں اگر وسط کا بھی اعتبار کیا جائے یعنی صبح، دوپہر اور شام۔ پہلی شق لی جائے تو صبح کا ذکر مکرر ہوجاتا ہے اور ظہر غائب ہوجاتی ہے دوسری شق اختیار کی جائے تو گو ظہر آجاتی ہے مگر پھر بھی صبح مکرر ہی رہتی ہے۔
اس لفظی اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اطراف گو جمع ہے مگر کلامِ عرب میں تثنیہ یعنی دو پر بھی جمع کا اطلاق ہوتا ہے اور خود قرآن مجید میں اس کے استعمالات موجود ہیں مثلاً ایک جگہ مشرقین اور مغربین دو مشرق اور دو مغرب ہے۔ دوسری جگہ انہیں کو مشارق اور مغارب کہا گیا ہے سورۃ تحریم میں ہے ﴿فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ﴾ (تم دونوں کے قلوب) ظاہر ہے کہ دو آدمیوں
کے دو قلب ہوں گے قلوب (بصیغہ جمع) نہیں ہوسکتا، مگر یہ زبان کا محاورہ اور بول چال ہے۔ اس میں قیاس اور عقلیت کو دخل نہیں اس بنا پر اطراف سے مراد صرف دو طرف ہیں۔ یہ سب کے نزدیک مسلم ہے کہ دن کے دو ہی ممتاز حصے ہیں ایک صبح سے دوپہر تک اور دوسرا دوپہر سے شام تک۔ اطراف سے انہی دونوں حصوں کے آخری کنارے یہاں مراد ہیں۔ صبح سے مراد دوپہر تک کے حصہ کا آخری کنارہ ظہر ہے اور دوپہر سے غروب تک کے حصہ کا آخری کنارہ عصر یا مغرب ہے، لیکن چونکہ عصر کا ذکر قبل غروبھا کے اندر مستقل موجود ہے اس لئے متعین ہوگیا کہ یہاں اس سے مراد مغرب ہے۔
ایک اور طریقہ ثبوت:
اگر ہم قرآن پاک کی علیحدہ علیحدہ آیتوں سے اوقات پنج گانہ پر استدلال کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں مثلاً
1۔ ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾
زوال آفتاب کے وقت نماز کھڑی کر
یہ ظہر کی نماز
2۔ ﴿وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ﴾
اور غروب آفتاب سے پہلے خدا کی تسبیح کرو۔
﴿وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّاَصِیْلًا﴾
اپنے پرودگار کا نام لو صبح اور عصر کو۔
یہ عصر کی نماز ہوئی اور اسی کو
﴿وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ﴾
بیچ کی نماز۔
سورہ بقرہ میں اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ دن کی نمازوں میں ظہر اور مغرب کے بیچ میں واقع ہے۔
﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ﴾
اور دن کے دونوں (ابتدائی اور انتہائی) کناروں میں نماز کھڑی کر۔
دن کا ابتدائی کنارہ صبح اور انتہائی کنارہ مغرب ہے۔
سورہ نور میں ہے کہ صبح کی نماز سے پہلے بے پکارے زنانہ کمرہ یا مکان میں نہ جایا کرو۔
﴿مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ﴾
صبح کی نماز سے پہلے۔
اس سے نماز صبح کا عملی ثبوت بھی ملا پھر اسی میں اسی موقع پر ہے۔
﴿وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ۫ؕ﴾
اور عشاء کی نماز کے بعد
اس کی رو سے مسلمانوں کو عشاء کی نماز کے بعد جو سونے اور کپڑے اتار دینے کا وقت ہے کسی کے مکان میں بلا اجازت اندر جانے کا حکم نہیں یہ بھی نماز عشاء کا عملی ثبوت ہے اور یہی پانچوں اوقات نماز ہیں۔
نماز پنچ گانہ احادیث و سنت میں:
تمام انبیاء علیہم السلام میں آنحضرت ﷺ کو جو خاص تفوق و امتیاز حاصل ہے وہ یہ ہے کہ آپ جو شریعت لے کر آئے اس کی صورت صرف نظری اور خیالی نہ تھی اور نہ وہ کسی حیثیت سے مبہم اور مجمل رہی بلکہ آپ نے اپنے عمل اور طریق سے اس کی پوری تشریح فرما دی اور خود عمل فرما کر اور اپنے تمام پیروؤں سے اس کی تعمیل کروا کر اس کے متعلق ہر قسم کے پیدا ہونے والے شک و شبہ کی جڑ کاٹ دی۔ اسلام نے جس روزانہ طریق عبادت کو پیش آیا آنحضرت ﷺ نے اپنے عمل سے اس کے تمام ارکان و آداب و شرائط و اوقات و تعداد کی پوری تشریح فرما دی اور ان میں سے ہر چیز ناقابل شک قولی و عملی تواتر کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی۔ نماز کس طرح پڑھنی چاہئے اس میں کیا کیا پڑھنا چاہئے کن کن وقتوں میں پڑھنی چاہئے کس وقت کی نماز کی کتنی رکعتیں ہیں ان میں سے ہر چیز کی آپ نے زبانی تشریح فرمائی۔ صحابہ کو تلقین کی اور عملاً نبوت کی پوری زندگی میں جو حکم نماز کے بعد گزری ایک دن دو دن نہیں کم از کم مدینہ میں متصل دس برس تک ہر روز پانچ دفعہ تمام جماعت مسلمین کے سامنے پورے اعلان کے ساتھ ادا فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ مرض الموت میں بھی اس میں تخلف نہ ہوا اور آخری سانس تک اسی طرح بدستور اس پر عمل ہوتا رہا۔ مدینہ کی مسجد نبوی اور تمام اسلامی مسجدوں میں پنج وقت اعلان نماز کی آوازیں بلند ہوئیں اور ہر روز پانچ دفعہ ہر جگہ جہاں اسلام کا کلمہ پڑھا جاتا تھا یہ فرض ادا ہوتا تھا۔ آپ کے بعد تمام خلفائے راشدین اور تمام پیروان محمدی جہاں بھی رہے اور جہاں بھی پہنچے اسی طرح دن میں پانچ بار علی الاشہاد سفر و حضر میں تمام عمر ادا کرتے رہے۔ کیا ایسی مستمر علی الاعلان متواتر اور دائمی چیز میں کسی کو شک واقع ہوسکتا ہے یہ اہتمام یہ علانیہ استمرار اور یہ تاکید بلیغ اس لئے فرمائی تاکہ جس طرح دوسرے پیغمبروں کا طریق عبادت بعد کے پیروؤں کے ترک عمل سے مشتبہ اور عدم صحت نقل سے مشکوک ہوگیا، خاتم الانبیاء ﷺ کی شریعت آخرین کا طریق عبادت اس سے محفوظ رہے کیونکہ اگر اب اس شریعت میں شک پڑ جاتا تو پھر کوئی دوسری نبوت آکر اس کی تجدید و اصلاح کرنے والی نہ تھی۔ چنانچہ اسی بنا پر آج تک تمام پیروان محمد ﷺ میں آپ کی یہ نماز اور اس کے ضروری اور اہم متعلقہ ارکان و شرائط و احکام روایتاً متواتر اور عملاً محفوظ قائم ہیں۔ نماز وہ فریضہ الہٰی ہے جس کی فرضیت خمسہ کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس ساعت سعید میں دیا جب آنحضرت ﷺ معراج کے تقرب خاص سے ممتاز ہوئے حکم ہوا کہ شب و روز میں پانچ نمازیں تم پر اور تمھاری امت پر لکھی گئیں جو پچاس نمازوں کے حکم میں ہیں قرآن پاک سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے ارشاد ہے کہ ﴿مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ﴾ یعنی جو ایک نیک کرے گا اس کو دس گنا ثواب ملے گا اس لئے پانچ نمازیں یقیناً پچاس کے حکم میں ہیں۔
نماز کی فرضیت کے بعد فرشتہ الہٰی نے اتر کر خود نماز کے طریق ادا اور اس کے اوقاتِ خمسہ کی تعلیم کی اور ہر وقت کی ابتدا اور انتہا پر ایک ایک نماز پڑھا کر عملاً ہر چیز کی تلقین کی اور وہی آپ نے اپنے پیروؤں کو بتایا اور اس پر ان سے عمل کرایا۔
چنانچہ آپ نے شیوعِ اسلام کے بعد ہر جگہ احکام شریعت کی تبلیغ و اعلان کے مبلغ جب متعین فرمائے تو ایک بدوی نے جو نجد کے دور دراز راستہ سے سفر کرکے آیا تھا خدمت اقدس میں آکر عرض کی یارسول اللہ! آپ کے قاصد نے بتایا ہے کہ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، کیا یہ سچ ہے؟ فرمایا ہاں سچ ہے۔ عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا کیا خدا نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ فرمایا ہاں۔
خود آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ جبریل اترے اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی یہ فقرے منہ سے کہتے جاتے تھے اور انگلی سے ایک دو تین چار پانچ گنتے جاتے تھے۔ ایک دفعہ صحابہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر کسی کے گھر کے سامنے کوئی صاف شفاف نہر جاری ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ دفعہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل رہ سکتا ہے؟ سب نے عرض کی نہیں، نہیں رہے گا، فرمایا تو یہی مثال پانچوں وقت کی نمازوں کی ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو دھو دیتا ہے۔ اوقات کی تعیین میں فرمایا کہ جب صبح کی نماز پڑھو تو اس کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج کی پہلی کرن نہ نکل آئے، پھر جب ظہر پڑھو تو اس وقت تک اس کا وقت ہے جب تک عصر کا وقت نہ آجائے، پھر جب عصر کی نماز پڑھو تو اس کا موقع اس وقت تک ہے کہ آفتاب زرد پڑ جائے۔ پھر جب مغرب پڑھو تو شفق ڈوب جانے تک اس کا وقت ہے پھر جب عشاء پڑھو تو آدمی رات تک اس کا وقت ہے۔
ایک صحابی کہتے ہیں کہ حضور صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیتیں تک قرات کرتے تھے اور ظہر زوال کے بعد ادا کرتے تھے اور عصر اس وقت پڑھتے تھے کہ ایک آدمی مدینہ کے آخری کنارہ تک جاکر لوٹ آتا تھا پھر بھی آفتاب میں جان رہتی تھی، مغرب کی بابت راوی کو سنا ہوا بیان یاد نہیں رہا اور عشاء کو تہائی رات تک ادا کرنے میں آپ تامل نہیں فرماتے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسرے صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھا کرتے تھے اور عصر اس وقت جب سورج باقی رہتا تھا اور مغرب جب سورج ڈوب جاتا تھا اور عشاء میں کبھی دیر کرتے اور کبھی عجلت اور صبح اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ صحابہ کہتے ہیں کہ حضور ظہر اور عصر کی نمازوں کی دو پہلی رکعتوں میں آہستہ آہستہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورہ پڑھتے تھے کبھی کبھی کوئی آیت سنائی بھی دیتی تھی۔ مغرب میں سورہ المرسلات پڑھی اور کبھی سورہ طور پڑھی عشاء میں ﴿اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ﴾ اور ﴿وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ﴾ قرات کی ہے اور صبح میں سورہ طور پڑھی ہے۔
اس قسم کی اور بیسیوں روایتیں ہیں اور روایتوں پر کیا موقوف ہے اس وقت سے آج تک تمام امتیانِ محمد رسول اللہ ﷺ کا عملی تواتر دوست و دشمن سب کے نزدیک ناقابلِ تردید حجت ہے۔
اَلْحَمْدُ للہ، اَلْحَمْدُ للہ، یہ اصل میں محدثانہ بحث ہے اور مفسرانہ بحث ہے۔ ہم لوگوں کو چونکہ بنی بنائی چیز ملی ہے، تیار ملی ہے، لہٰذا ہم لوگوں کے لیے یہ بحثیں نسبتاً خشک بحثیں دکھائی دیتی ہیں کہ یہ کیوں ہمیں تفصیل بتائی جا رہی ہے، یہ تو ہمیں پہلے سے معلوم ہے، جیسے پہلے سے کسی کو کسی چیز کا پتا ہو تو اس کو اگر بتایا جا رہا ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ مجھے کیوں بتایا جا رہا ہے۔ مثلاً آپ کسی کو کہہ دیں جی دن میں تین دفعہ کھانا چاہئے، تو لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی دن میں تین دفعہ کھانا کھاتے ہیں۔ لہٰذا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمیں کوئی زائد چیز بغیر ضرورت کے بتائی جا رہی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ دین قائم ہے مستحکم بنیادوں پر، کہ اگر کوئی درمیان میں جو شک ڈالنے والے لوگ ہیں غامدی وغیرہ کی طرح، وہ اگر شک ڈالنا چاہیں تو شک نہ ڈال سکیں کیونکہ جس وقت وہ شک ڈالتے ہیں تو وہ شک بھی ویسے شک نہیں ڈالتے۔ اس سے وہ لوگ جن کے دلوں میں زیغ ہوتا ہے، کجی ہوتی ہے، وہ بہت جلدی متاثر ہو جاتے ہیں اور اس کو لے کر پھر آگے بھی چلاتے ہیں اور پھر اس کے بعد سادہ لوح لوگ بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو فطین بمعنی "ط" اور فتین بمعنی "ت" دونوں، یعنی ذہین لوگ جو بگڑ جاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، وہ شک ڈالنے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں شیطان کی طرح۔ تو وہ جب شک ڈالتے ہیں تو اسی قسم کے لوگ جو ان کی طرح ذہین و فطین تو نہیں ہوتے لیکن کجی ان کے دل میں بھی اسی طرح ہوتی ہے بلکہ شاید بعض دفعہ زیادہ بھی ہوتی ہوگی۔ تو ایسی صورت میں وہ تاک میں ہوتے ہیں، ان کو جب بھی ایسا موقع مل جاتا ہے تو فوراً اس کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ وہ جی فلاں نے یہ کہا، کیا بات ہے، اور یہ اور وہ، اور فلانہ ڈھینگہ۔ انجینئرنگ کالج میں ایک دفعہ ہمارا ایک سبجیکٹ ہوتا تھا اسلامک ہسٹری اور پاکستان ہسٹری، دونوں اس کے ایک سبجیکٹ ہمیں پڑھائے تھے، وہ پڑھانے والا کوئی اس قسم کا غامدی کا کوئی چھوٹا بھائی تھا۔ تو وہ موقع کی تلاش میں ہوتے تھے کہ ان کو کجی کے مطابق کوئی چیز نظر آئے تو فوراً اس پہ بہت زبردست سوال کرتے تھے۔ تو وہ ایک دفعہ کہنے لگے کہ میں لاہور گیا تھا اور کسی جگہ پر وہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص بیٹھے ہوئے کلین شیو ہے، لیکن اس کا علم جو دیکھا تو میں بڑا متاثر ہوگیا کہ یار یہ تو بڑا علامہ ہے، اور ایسا ہے، اور ایسا ہے، اور ایسا ہے۔ تان اس پہ ٹوٹی تو پتا چلا غلام احمد پرویز کی بات کر رہے تھے۔ اب اسٹوڈنٹس تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کو تو اتنا زیادہ پتا نہیں ہوتا تو وہ تو ان کی باتوں کا بڑا اثر لے لیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں چونکہ اَلْحَمْدُ للہ مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے پتا تھا، مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، پرویز کا ہمیں علم تھا، تو ہم نے پھر سوالات کرنا شروع کیے اور تھوڑا سا Cover کرنے کی کوشش کی۔ تو ایسے لوگ جو ہوتے ہیں ناں وہ ایسی چیزوں کی تاک میں ہوتے ہیں، ان کو جب کبھی کوئی ایسی چیز مل جائے تو فوراً اچک لیتے ہیں اور پھر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ تو یہ چیزیں پھر اُس وقت کام آتی ہیں، اس وقت پھر Re-discussions ہوتی ہیں محفلوں میں، یہ بات ایسی ہے اور یہ بات ایسی ہے اور یہ بات ایسی ہے۔ پھر ایسے لوگوں کو ذرا چپ کرانا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ چپ ویسے آسانی سے نہیں ہوتے، البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ جب دلیل مضبوط ہو تو دوسرے لوگ سمجھ جاتے ہیں جو ان سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ اصل میں یہی بنیادی مقصد ہوتا ہے Discussions کا، ورنہ ظاہر ہے مطلب وہ لوگ تو مانتے نہیں، ان کے دل میں تو کجی ہوتی ہے، وہ مانتے تھوڑے ہیں۔ وہ تو شر ہی پھیلاتے ہیں، خاموش ہو سکتے ہیں بدلتے نہیں ہیں۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ پھر بھی بولتے رہتے ہیں لیکن لوگ جو ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں، ان کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ ویسے ہی بول رہے ہیں۔ لہٰذا پھر ان سے اثر نہیں لیتے۔ تو ایسی چیزیں پھر جو ہیں ناں ایسے موقع پہ کام آتی ہیں۔ تو اس وجہ سے ان کو اس لیے سمجھنا چاہیے، چونکہ آج کل فتنوں کا دور ہے اور ان فتنوں کے دور میں ہمیں کم از کم علمی طور پر ایسی چیزیں معلوم ہونی چاہیے جس پر کوئی زائغین میں سے آدمی بات کر سکتا ہو، شک ڈال سکتا ہو تو اس کا جواب کم از کم اس کا لب لباب ہمیں معلوم ہو۔ یہ اس وجہ سے مطلب یہ چیزیں حضرت نے اتنی تفصیل سے بیان کی ہیں۔ میں نے بھی یہ چیزیں پہلے نہیں پڑھی تھیں ابھی پڑھ رہا ہوں، کیونکہ میں نے جو اس کے حصے پڑھے ہیں وہ یہ چیزیں نہیں تھیں۔ میں نے اور چیزیں پڑھی ہیں، مثلاً اس کا جو پہلی جلد ہے، دوسری جلد ہے، غالباً چوتھی جلد بھی شاید پڑھی تھی، چھٹی جلد پڑھی تھی۔ لیکن یہ ہے کہ یہ جو بات ہے ما شاء اللہ یہاں پر جو باتیں ہو رہی ہیں، پہلے میں نے نہیں پڑھی تھیں اور یہ واقعی بہت زیادہ عمدہ بحثیں ہیں۔ یعنی ہمیں بہت تفصیل کے ساتھ، یعنی اب دیکھیں ناں قرآن سے کس طریقہ سے سمجھایا جا رہا ہے، پھر اس کے بعد احادیث شریفہ سے سمجھایا جا رہا ہے، پھر تواترِ عمل سے سمجھایا جا رہا ہے۔ تواترِ عمل بذات خود ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے۔ یعنی اندازہ کرلیں کہ دنیا کے اتنے سارے لوگ ایک ہی مسلسل عمل کر رہے ہوں، اس پہ عمل چلا آ رہا ہو، تو اس کو کوئی جھٹلا سکتا ہے؟ اس کو جھٹلانا آسان تو نہیں۔ مطلب ان کو کہا جا سکتا ہے اچھا تم کہاں سے ٹپک پڑے، اتنے سارے لوگ جو عمل کر رہے ہیں ویسے کر رہے ہیں؟ اور یہ کوئی ایسی نَعُوْذُ بِاللہ مِنْ ذَالِکَ لوفر Type لوگ تو نہیں ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ وہ ایک دفعہ میں دفتر میں بیٹھا ہوا تھا تو تین پی ایچ ڈیز میرے ارد گرد بیٹھ گئے۔ تو ان میں سے دو فوت ہو چکے ہیں ایک زندہ ہے۔ تو وہ مجھے ایک صاحب کہہ رہے ہیں شبیر صاحب! یہ آئن سٹائن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا بہت بڑے Scientist تھے، بڑا نام کمایا، سائنس کی بڑی خدمت کی، لوگوں نے اس کو بڑی عزت دی، یہ سب دنیاوی باتیں ہم کر سکتے تھے تو ہم نے کرلیں۔ کہتے ہیں نہیں وہ جنت میں جائے گا؟ میں نے کہا کہ یہ تو میرا Domain ہی نہیں ہے۔ اس کے بارے میں تو میں جانتا نہیں ہوں بس صرف ایک بات جانتا ہوں کہ اگر وہ ایمان والا تھا تو Chance کی بات ہے اور اگر ایمان والا نہیں تھا تو پھر Chance بھی نہیں ہے۔ کہتے ہیں یہ تو آپ یہود والی بات کر رہے ہیں۔ یہود والے کہتے ہیں ہم Chosen People ہیں۔ تو ان کو اللہ پاک نے کہا تھا کہ ﴿قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴾ تو مطلب ظاہر ہے یہ تو میں نے کہا سر یہ بات تو۔۔۔ کہتے ہیں کس آیت سے یہ ثابت ہے کہ ایمان اس کے لیے ضروری ہے؟ میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی دعوت دے رہے تھے: ’’قُوْلُوْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہَ تُفْلَحُوْا‘‘، یہ کوئی ویسے ہی بات ہے؟ تو کہتے ہیں نہیں یہ تو آپ حدیث کی بات کر رہے ہیں اور حدیث جو قرآن کے خلاف ہو تو اس کو ہم نہیں مانتے۔ تو میں نے کہا اچھا کون کہے گا کہ یہ قرآن کے خلاف ہے؟ اس کے لیے بھی کوئی فیصلہ کرے گا ناں۔ میں نے کہا آپ ما شاء اللہ اتنا زیادہ عرصہ آپ نے Neutron Proton پہ کام کیا ہے اب اگر کوئی مولوی اس کے خلاف بات کرلے Neutron Proton میں کہ نہیں Hydrogen میں اتنے Neutron نہیں ہیں اتنے Proton نہیں ہیں تو آپ مان لیں گے اس کو؟ آپ کہیں گے تمھیں کیا تو کیا جانتا ہے کہ Neutron Proton کو؟ یہ تو ہماری field ہے، اور بات آپ کی صحیح ہوگی۔ میں نے کہا اسی طرح حدیث کے بارے میں تم بات نہیں کر سکتے ہو۔ یہ ان کی field ہے، وہ کہیں گے کہ یہ قرآن کے خلاف ہے یا قرآن کے خلاف نہیں ہے، ان کی بات کا وزن ہے، آپ کی اس میں کوئی وزن ہی نہیں ہے، آپ کیا، آپ جو بھی کہیں آپ کی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ آپ کی field ہی نہیں ہے، آپ اس کے Specialist ہی نہیں۔ تو ان میں سے دوسرے پی ایچ ڈی مجھے کہتا ہے کہ شبیر صاحب اپنے ذہن کے اندر کچھ وسعت پیدا کریں۔ میں نے کہا آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر البتہ اتنا مجھے تنگ نظر رہنے دیں کہ کافر اور مسلمان میں فرق کر سکوں۔ یہ میری مجبوری ہے، یہ تو میں کروں گا، اتنا تنگ نظر تو میں رہنا چاہتا ہوں کہ کافر اور مسلمان میں فرق کر سکوں، باقی ٹھیک ہے آپ کی بات تنگ نظری اچھی بات نہیں ہے، وسیع النظری چاہیے۔ تو یہ اس قسم کے احوال ہوتے ہیں آج کل کے دور میں۔ اس وجہ سے انسان کو بہت ہی مسلح رہنا پڑتا ہے اور کوشش کرنی پڑتی ہے کہ ان چیزوں کو سیکھیں، میں ٹھیک ہے میں آج میں نے پہلی دفعہ اس کی ریڈنگ کرلی لیکن آپ لوگ خود ہی اس کی ریڈنگ کرلیں اور اس کو اچھی طرح سمجھیں اور بار بار سمجھیں تاکہ بعد میں اگر کوئی بات کرے تو آپ کو کم از کم اس کا جواب معلوم ہو۔