اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
سَلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۤءِيْلَ كَمْ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ۭ وَمَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ﴿211﴾
زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۘ وَالَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿212﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی ساری کھلی نشانیاں دی تھیں! اور جس شخص کے پاس اللہ کی نعمت آچکی ہو، پھر وہ اس کو بدل ڈالے، تو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿211﴾
اصل میں تورات بنی اسرائیل کو دی گئی تھی، انجیل... انہوں نے اس میں تحریف کر دی۔ اور باتوں کو آگے پیچھے کیا اپنے دنیاوی مفادات کے مطابق کر لیا۔ تو یہ بہت سخت بات ہے۔ بہت سخت بات ہے۔ کبھی بھی اس طرح نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ تو اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی بات ہے۔
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ۘ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍجن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لئے دُنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی ہے، اور وہ اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلند ہوں گے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ﴿212﴾
یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ دُنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دُنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
ایک بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ اس پہ بہت ضروری ہے۔ افراط تفریط وہی جو میں نے بات کی افراط تفریط ہمارے ہاں ہے۔ کفار محنت کر رہے ہیں۔ محنت کر رہے ہیں دنیاوی اسباب میں۔ تو اس محنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا جو سنتِ عادیہ ہے، کہ جو جس چیز کی محنت کرتا ہے، اس کو وہ چیز دیتا ہے۔ جو جس چیز کی محنت کرتا ہے، اس کو وہ چیز دیتا ہے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناؤں آپ نے پڑھا ہوگا کتابوں میں، سائنس کی کتابوں میں، یہ کیمسٹری کی کتابوں میں ہے کہ جو ریسرچ کر رہا تھا، کوئی Benzene ring پہ۔ تو Equation solve نہیں ہو رہا تھا، کسی طریقے سے solve نہیں ہو رہا تھا۔ تو اس نے خواب دیکھا... دیکھو کافر ہے۔ کافر ہے! خواب دیکھا، خواب میں دیکھتا ہے کہ سانپ نے اپنی دم کو منہ میں لیا ہوا ہے۔ تو اس سے اس کا ذہن چلا گیا کہ میں نے Ring structure ابھی try نہیں کیا۔ میں ساری چیزیں کر رہا ہوں لیکن Ring structure میں نے try نہیں کیا۔ Ring... تو اس نے Hydrocarbons کا جو Ring بنایا نا، تو اس سے وہ سارے Equation solve ہو گئے، اور اس نے دریافت کر لیا Benzene ring۔ کیوں ڈاکٹر صاحب ایسے ہی ہے نا؟ Benzene ring دریافت کیا۔
اب دیکھو محنت کون کر رہا تھا؟ ایک کافر تھا۔ جب اس کی محنت سنتِ عادیہ کے مطابق منظور ہوئی تو اللہ نے اسی کو ہی ذریعہ بنایا اس علم کے لیے۔ اور اس کو خواب کے ذریعے سے دے دیا۔ تو اس سے پتہ چلا کہ یہ جو Technical developments ہیں، Research ہے، یہ بھی مِن جَانِبِ اللّٰه ان کو دیا جاتا ہے جو اس پہ کام کرتے ہیں۔ اب اگر ہم سمجھتے ہیں کہ بھئی چونکہ ہم میں ایمان ہے، تو ہمیں مفت میں یہ ساری چیزیں مل جائیں، یہ اللہ پاک کی سنتِ عادیہ کے خلاف ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس کے لیے ایسی ہی محنت کرنی پڑے گی۔ وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم (الانفال: 60)۔ "ان کے لیے گھوڑے تیار رکھو، جتنا تم کر سکتے ہو"۔ تو اس کا مطلب اس کے لیے کوشش آپ کو خود کرنی پڑے گی۔ اب Atom bomb کے لیے Research اگر امریکہ کر رہا ہے اور وہ مجھے مل جائے... تو بھئی تم بھی Research کرو تمہارے ہاتھ بندھے ہوئے تو نہیں ہیں۔ تم بھی کرو!
تو اس کا مطلب ہے کہ مسلمان ہونے پہ ہمیں غرّہ نہ ہو کہ ہمیں دنیا کی چیزیں بھی مفت میں ملیں گی۔ نہیں! وہ اللہ کا اپنا نظام ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اور کافر یہ نہ کہے کہ ہم اس وجہ سے حق پر ہیں کہ ہمیں... ہمارے پاس اسباب... بھئی وہ حق والی بات اور ہے اور یہ دنیاوی تقاضوں کی بات اور ہے۔ وہ بھی غلطی پر ہیں اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم مالدار ہیں اور ہمارے پاس وسائل بہت ہیں لہٰذا ہم حق پر ہیں، تو حق کی علامت یہ نہیں ہے۔ دوسری طرف مسلمان حق پر ہیں، ایمان کے لحاظ سے، لیکن اگر وہ اس کسی چیز کی محنت نہیں کر رہے تو ضروری نہیں کہ ان کو وہ چیز دی جائے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی خاص وجہ سے کوئی چیز دینا چاہتا ہے، وہ ایک علیحدہ بات ہے، جیسے معجزے اور کرامات ہوتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہمیں وہی صحیح طریقہ، اسباب کو اختیار کرنا چاہیے اور پھر اس پر بہمیں تحقیق کر کے اسی کے مطابق Development کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔