عقائد کی درستگی اور فقہاء و محدثین کا مقام و مرتبہ

عقیدوں کا بیان، اشاعت اول، 7 اپریل، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

• عقائد کی درستگی کی اہمیت اور حسنِ خاتمہ کے اسباب (اذان کا احترام اور مسواک وغیرہ)۔

• توبہ کی قبولیت کا وقت اور فرعون کی توبہ کا واقعہ۔

• صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت اور ان کا دین کے شارح ہونے کا مقام۔

• غیر مقلدین کے اعتراضات کا علمی اور منظوم (اشعار کی صورت میں) جواب۔

• محدثین (دوا ساز) اور فقہاء (معالجین) کے کام کی نوعیت اور ان کی شاندار دینی خدمات۔

• صوفیاء کا کردار: علم کو خلوص کے ساتھ عمل میں لانے اور نفس کی تربیت کرنے کی اہمیت۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

اور یہ جو ابھی عقائد کی بات چل رہی ہے، تو اس کو بعض لوگ لائٹ لیتے ہیں۔ چلیں پتا چلا، نہیں پتا چلا... لیکن خدانخواستہ اگر کسی کا عقیدہ کوئی غلط ہوا تو ادھر پتا چلے گا کہ کیا چیز تھی۔ وہاں معاملہ پھر آگے ہو گا۔ اس وقت انسان بڑے غرے میں ہوتا ہے۔ قریش مکہ جو تھے وہ بڑے غرے میں تھے۔ کہتے تھے، ”کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مر گئے ہیں ریزہ ریزہ ہو گئے ہیں دوبارہ پیدا کرے گا؟“ مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن ظاہر ہے، پھر تو بھگتنا پڑا۔

تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان چیزوں کو لائٹ نہیں لینا چاہیے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ہم پر، کہ اللہ پاک ہمارے گھر پر ایسی چیزیں گویا کہ دے رہے ہیں۔ تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ ہمارے عقائد کیا ہیں۔ عقائد میں اور کیا چیز ہے؟ عقائد میں تو کچھ کرنا تو نہیں پڑتا، بس ماننا پڑتا ہے۔ اتنی بات کافی ہے۔ ایمانِ مفصل اور ایمانِ مجمل... وہ کوئی مان لے، تو کتنا وزن اٹھایا؟ یا کتنے پیسے خرچ کیے؟ ظاہر ہے بس مان لیا، یہ بات کافی ہے۔

تو اس پہ گویا کہ کچھ بھی نہ کرنے پر اتنا بڑا فائدہ ہے۔ لیکن آخر ہمارا نفس بہت پاور فل ہے۔ وہ ہمیں ان چیزوں سے... نہیں مستفید ہونے دیتا۔ اس وقت ہمیں آرام بہت پیارا لگتا ہے۔ ٹھیک ہے جی، لیکن قبر کا آرام زیادہ بہتر ہے یا یہاں کا آرام زیادہ بہتر ہے؟ اور وہاں آخرت کا آرام زیادہ بہتر ہے یا یہاں کا آرام زیادہ بہتر ہے؟ یہاں کا آرام تو عارضی ہے۔ اور مل بھی جاتا ہے بعد میں سو جائیں گے۔ لیکن یہ ہے کہ اس وقت جو چیز مل رہی ہے، اس کو اچھی طرح لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

یا اللہ!

اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ چھوٹے گناہ پر سزا دے، یا بڑے گناہ کو اپنی مہربانی سے معاف کر دے اور اس پر بالکل سزا نہ دے۔

مختارِ کل ہے۔

شرک اور کفر کا گناہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کو معاف نہیں کرے گا، یہ اللہ کا قانون ہے۔ اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے گا اپنی مہربانی سے معاف کر دے گا۔ عمر بھر کوئی کیسا ہی بھلا برا ہو، مگر جس حالت پر خاتمہ ہوتا ہے اس کے موافق اس کو اچھا اور برا بدلہ ملتا ہے۔

اس لیے اپنے خاتمے کی حفاظت... بعض اعمال اس کے لیے بہت مجرب ہوتے ہیں۔ یہ اذان ہے نا اذان جو دی جاتی ہے، تو اس کا جو احترام ہے، یہ حسنِ خاتمہ کا بہت بڑاذریعہ ہوتا ہے۔ اذان، کیونکہ یہ بہت بڑی دعوت ہے نا اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ تو اس کے لیے چپ ہو جائے، اپنی Activities stop کر لے، تو اس کا احترام کر لے، تو حسنِ خاتمہ نصیب ہو جاتا ہے۔ ! مسواک ایک ذریعہ ہے۔ ، آخر میں کلمہ نصیب ہو جاتا ہے۔ تو اس طرح بعض ہیں ذرائع، جس کے ذریعے سے حسنِ خاتمہ نصیب ہو جاتا ہے، تو ان کو سیکھ کے ان کو استعمال کرنا چاہیے۔

آدمی عمر بھر میں جب کبھی توبہ کرے، مسلمان ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہے۔ البتہ مرتے وقت جب دم ٹوٹنے لگے اور عذاب کے فرشتے دکھائی دینے لگیں، تو اس وقت نہ تو توبہ قبول ہوتی ہے اور نہ ایمان۔

فرعون تو اس وقت ایمان لانا چاہتا تھا لیکن اللہ پاک نے قبول نہیں فرمایا۔ ۔ ہمارے پاس اس کے دلائل بھی ہیں ماشاءاللہ۔ اس کتاب کو ہم یہ چھاپیں گے بھی۔ یہ بہت اہم کتاب ہے... مطلب عقائد کے بارے میں۔ اور اس کے ساتھ پورے حوالے ہیں۔ اس کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ فلاں نمبر اور فلاں نمبر، پیچھے لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے ثابت ہے قرآن کی آیات سے یا حدیث شریف سے تو ان شاء اللہ ہم اس کو چھاپیں گے امید ہے۔

یہ ابھی جیسے کل آپ کو سنایا تھاامہات المؤمنین کا مقام... تو کچھ اور بھی آپ کو اس سے سنا دیتے ہیں کیونکہ یہ بھی ہمارے عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔




صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بطور شارحِ قرآن و سنت


سب مل کے صحابہ ہیں بڑی شان ہے ان کی

سنت کے یہ شارح ہیں یہ پہچان ہے ان کی

سنت پہ عمل ان کی ہی تشریح سے ممکن

قرآن کے سمجھنے پہ لگی جان ہے ان کی



سبحان اللہ! صحابہ کرام۔



اہل سنت والجماعت کون؟


قرآن کی تشریح ہے سنت پہ منحصر

تشریح میں سنت کی صحابہ ہیں معتبر

ہیں اہل سنت والجماعت وہ کہ جو چلیں

تینوں گروہِ صحابہ کی تشریح کو لیکر

ہاں، ہم سب... جتنے بھی صحابہ کرام ہیں، سب کے ماننے والے ہیں۔ چاہے اہل بیت ہیں، چاہے عام صحابہ ہیں، چاہے امہات المومنین ہیں۔



صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض


اور دشمنی بھی ان کی بہت سخت ضلالت

کرتے جو دشمنی ہیں ان سے اس پہ ہے حیرت

مَنْ اَبْغَضَھُمْ کو بھی فَبِبُغْضِی سے جوڑ لو

پھر دیکھ لیں کہ ان سے بغض ہے کتنی حماقت


یہ غیر مقلدین ہم پہ جو طنز کرتے ہیں نا، تو ذرا بات ۔ ہم کسی کو چھیڑتے نہیں، لیکن ہمیں کوئی چھیڑتا ہے تو پھر مجبوری جواب تو دینا پڑتا ہے۔ کیونکہ کمزور لوگ پھر غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں نا۔ تو یہ صرف جواب ہے، Attempt نہیں ہے۔ صرف جواب ہے۔



غیر مقلدین کا پہلا دعویٰ


مقلدین کا اس سے اختلاف نہیں۔


قرآن میں ہدایت ہے تو تشریح ہے سنت

یہ دونوں جو مل جائیں تو ملتی ہے ہدایت

ان دونوں کو مضبوط پکڑنے کا حکم ہے

ان میں کوئی چھوٹے نہ ورنہ چھائے ضلالت


ہم کہتے ہیں بالکل صحیح، آپ نے بالکل صحیح فرمایا، اس میں تو اختلاف نہیں ہے۔


غیر مقلدین کا دوسرا دعویٰ


سنت حدیث سے ہے، ہو حدیث پہ عمل

ہو دونوں کے سنگم میں اپنا دین مکمل

تو اس طرح تیسرے کی ضرورت نہیں کچھ بھی

یہ راستہ جنت کا ہے سیدھا تو اس پہ چل


یہ ان کا یقیناً دعویٰ ہے۔ اب ہم کیا کہتے ہیں؟ ہم بھی ایک استفہامی جواب دیتے ہیں۔


اہل سنت کا استفہامیہ جواب


قرآن سے، سنت سے اخذ کون کرے گا؟

عالم نہ ہوں اگر، تو انہیں کون سمجھے گا؟

خیر القرون کا مجتہد بہتر اسے کرے

یا آج کا، مسجد کا امام درست رہے گا؟


مطلب ظاہر ہے آج کا جو امام ہے دو رکعات کا، آپ جو ہے نا اس کو تو مانتے ہیں، لیکن جو خیر القرون... خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حدیث شریف ہے، سب سے بہتر میرا زمانہ پھر اس کے بعد پھر اس کے بعد، اس کو آپ بھول جاتے ہیں۔ کیسی بات ہے؟




غیر مقلدین کا تیسرا دعویٰ


قرآن ہے امام، اماموں کی ضرورت کیا؟

حدیث بھی موجود تو پھر فقہ کی حاجت کیا؟

ہے عقل اپنے پاس تو ان دونوں سے ہی پوچھیں

ان دو سے آگے کون؟ کہ بولے اس کی جرأت کیا؟


یہ بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں۔ اب... اپنا حال ان کا کیا ہے؟



جو غیر مقلد ہیں ان کا نفس ہے امام

قرآن سے، حدیث سے، ان کا کیا ہے کام؟

آقا نے فقاہت کو بھلائی ہے بتایا

دشمن یہ فقاہت کے ہیں، ان کو ہے بس سلام


آخر حدیث شریف ہے نا جس میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرنا چاہے اس کو فقیہ بناتا ہے، فقاہت دیتے ہیں۔ اب اس کا وبال کیا بنتا ہے؟


جو غیر مقلد ہیں، مقلد ہیں سمجھنا

جب ان کا کسی اور کے پیچھے رہے چلنا

دورِ فتن کا فرد ہے، امام ان کا دیکھ

خیر القرون کے مجتہد سے ان کو ہے بچنا


مطلب آخر کسی کا تو مانتے ہیں نا بھئی، آخر ایک چیز پر جمع کیسے ہیں؟ غیر مقلد تو وہ ہو گا کہ کوئی یہ کہے، کوئی دوسرا یہ کہے، اور تیسرا یہ کہے، مطلب اپنی اپنی بات ہو نا۔ چونکہ اختلافات تو بہت ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک جماعت تو نہیں بن سکتی پھر۔ تو اس کا مطلب ہے جیسے جیسے سب چیزیں اگر ایک کی مانیں، تو اس کا مطلب ہے کسی کی تو مان رہے ہیں۔



فقہاء اور صحابہ


قرآن کے سنت کے مفاہیم کے حامل

جو نور فقہاء کو صحابہ سے تھا حاصل

حسبِ حدیث ان کو بھلائی ہوئی نصیب

اس نور سے مرتب ہوئے فقہ کے مسائل




اہل سنت اور اہل بیت


ہیں اہلسنت و الجماعت کے پیروکار

قرآن و سنت اور صحابہ کے تابعدار

ان کے آئمہ سارے اہل بیت کے ممنون

یہ اہل حق ہیں کرتے نہیں حق سےیہ انکار


مطلب جتنے بھی ہیں۔






اہل سنت اور تینوں گروہِ صحابہ


اہل سنت، سنت ہی پہ چلنے کے ہیں داعی

اہل جماعت یعنی صحابہ کے سپاہی

ماؤں پہ اپنی جان یہ کرتے ہیں نچھاور

اور اہل بیت کے بھی یہ طریقوں کے ہیں راہی




اہل سنت کے امام، اہل بیت کے ساتھ


نعمانؒ ہمارے ہیں جو جعفرؓ کے خلیفہ

نعمان ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ

مالکؒ بھی ان ہی ایک معتبر کے خلیفہ

احمدؒ بھی اہل بیت سے کچھ بھی نہیں جدا

شافعیؒ امام ان کے ہی پسر کا خلیفہ

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ حضرت موسیٰ کاظم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو... ان کے بیٹے تھے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے۔ تو ظاہر ہے سب انہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔





اہل سنت حاملِ عدل


ہے رستہ عدل کا جب سب سے بہتر

تشدد پر چلے کوئی کیونکر

ہیں حامل اہل سنت عدل کے تب

کہ ہے آقا کی ہر نسبت معتبر


جو بھی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے وہ معتبر ہے۔ ہم سب کو سلام کرتے ہیں، ہم سب کے ساتھ ہیں۔






آقا کے ہر ساتھی کے ساتھ


کیوں کوئی نفس کے راستے پہ چلے؟

اور اپنے آقا کے رستے سے ہٹے

اہل بیت، مائیں، صحابہ آپ کے ساتھ

احترام دل میں سب کا کیوں نہ رکھے



اب میں عرض کرتا ہوں فقہاء کا مقام کیا ہے۔ یہ ذرا سمجھنا چاہیے نا۔



فقہاء کا مقام


پڑھ احادیث سمجھ آئے فقہاء کا مقام

پھر ذرا سوچو کہ کیا ہے ان اولیاء کا مقام


بھلائی کا ہو ارادہ جب رب کا جس کے ساتھ

سمجھ وہ جاتا آسانی سے ہے پھر دین کی بات

دین کی تشریح میں استعمال ہو پھر اس کی ذات

لگے اس کے دین سمجھنے سمجھانے میں اوقات


وہی منشائے الہٰی کا پھر بنیں ناشر

وہ پھر محفوظ رکھیں دین کا جو ہے ظاہر


فقہ کا لفظ ذرا سوچ فقاہت سے ہے

ابتدا اس کی بھی حدیث کی روایت سے ہے

فہم قرآں سے اور ساتھ ہی سنت سے ہے

اور بالخصوص اجتہادی بصیرت سے ہے


یاد رکھنا اس میں تقویٰ کا مرکزی کردار

علم ظاہر میں بھی باطن کے ہیں مطلوب آثار


نیز واقعات صحابہ پہ یہ رکھتے ہیں نظر

جب صحابہ ہوں متفق، یہ متفق ہوں ادھر

جن مسائل میں صحابہ کا اختلاف ہو اگر

ان کا کام کچھ نہیں ان میں صرف تطبیق مگر


راجح مرجوح کی تشخیص یہ پھر کرتے ہیں

فیصلہ کرتے ہیں پر اس میں یہ سب ڈرتے ہیں


جو فقہاء ہیں حق تو اولیاء وہ سارے ہیں

کیونکہ آسمانِ فقاہت کے وہ ستارے ہیں

یہ ہدایت کے ذریعے ہیں سب ہمارے ہیں

ہمیں یقیں ہے کہ اللہ کے سب پیارے ہیں


مگر ہم پیروی تو ایک کی کر سکتے ہیں

ساتھ محبت مگر ہم سب کے لئے رکھتے ہیں


جو فقہاء کی قدردانی نہیں کرتے ہیں

اس معاملے میں وہ خدا سے نہیں ڈرتے ہیں

اپنے خیالات کے جنگل میں صرف چرتے ہیں

بے ادبی بھی کبھی اس میں کر گزرتے ہیں


کاش شبیرؔ، ان کو بھی نصیب فقاہت ہوتی

دین سیکھنے واسطے فقہاء کی بھی حاجت ہوتی




ہاں، مطلب یہ ہے کہ یہ ہماری ضرورت ہے۔





فقہاء اور محدثین


خدا کا رحم ہو فقہاء پر ہوتے ہیں یہ معالجین کی طرح


یہ ایک بہت بڑے محدث نے یہ بات کی تھی۔ یہ جو میں ابھی اس شعر میں کر رہا ہوں۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے استاد تھے ایک محدث تھے۔ تو ان کے سامنے امام صاحب سے کچھ مسئلہ پوچھا گیا۔ حضرت نے جواب دے دیا۔ تو وہ تو محدث تھے، انہوں نے کہا یہ تو نے کہاں سے جواب دے دیا؟ اس وقت یہ کتابیں وغیرہ تو نہیں چھپی تھیں نا۔ وہ تو تدوین ہو رہی تھی ان ساری چیزوں کی۔ کہاں سے آپ نے جواب دے دیا؟ کہا حضرت، آپ حضرات سے سن کر۔ کہا کیا بات کرتے ہو، میں نے تو یہ مسئلہ آپ کو نہیں بتایا۔ تو حضرت نے ان سے کہا کہ حضرت آپ نے فلاں حدیث شریف نہیں بتائی تھی؟ ہاں بالکل۔ وہ حدیث، جی بالکل۔ اور وہ، ہاں بالکل۔ تو حضرت ان کو ذرا تھوڑا سا ملا کے دیکھیں، اس سے یہ مسئلہ بنتا ہے یا نہیں بنتا؟ جب غور کیا، انہوں نے کہا ہاں... تو یہ فقرہ ہے تاریخی ان کا: ”اللہ رحم کرے فقہاء پر، یہ معالجین کی طرح ہیں، اور ہم دواساز ہیں۔“ ہم تو ہم کیمسٹوں کی طرح ہیں، اور یہ معالجین کی طرح ہیں۔



خدا کا رحم فقہاء پر ہوں، ہوتے ہیں یہ معالجین کی طرح

محدثین ہیں دواساز ان کے دوائیوں کے ماہرین کی طرح




کام دونوں کا ضروری ہے بہت ان میں امت کا بہت خیر سمجھ

دل سے دو ان کو دعا اور مانو مقام ان کا صادقین کی طرح




محدثین کا مقام


خدا نے چاہا کہ محفوظ ہو آپ کا اسوہ

محدثین کو دی توفیق وہ سب کچھ لکھا


جو کہ کسی طرح کسی سے بھی آپ نے کچھ کہا

یا کسی وقت بھی کسی طرح بھی کچھ کام کیا

یا کوئی کام جو آپ کے سامنے ہوا، ہونے دیا

یا کسی کام کو جو سامنے ہوا، ہو وہ روکا



ان ہی اخبار کو احادیث نبوی ہم کہیں

ہمیں کہ حکم ہے اسوہ نبی کا اپنائیں


ان احادیث کو پرکھنے کا بھی نظام ہے ایک

جو ہیں راوی ان کو جاننے کا انتظام ہے ایک

رجال کو جاننے والوں کا بھی مقام ہے ایک

حدیث کے بارے میں جاننا ضروری کام ہے ایک


پرکھنے والے کسی کی بھی رعایت نہ کریں

کسی کے بارے میں بیان میں خیانت نہ کریں



یہ بڑے بڑے واقعات ہیں ان کے بارے میں، اپنے استاد کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ تین حضرات تھے، ان میں ایک امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ تھے اور ایک یحییٰ معین رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ Class Fellow تھے، اور ایک اور تیسرا بھی تھا، اس کا نام میں بھول گیا ہوں۔ یہ ایک محدث کے شاگرد تھے۔ تو یحییٰ معین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ کہا کہ چلیں ہم اپنے استاد کو ٹیسٹ نہ کریں کہ ثقہ ہے یا نہیں۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ بھئی اس طرح ان سے نہ کہو، ہمارے استاد ہیں، ادب... انہوں نے کہا نہیں نہیں، ضروری ہے، آخر ہم کسی کو کہہ سکیں گے نا کہ ثقہ ہے۔ تو ترتیب کیا بنائی؟ احادیث شریف اس طرح بنائی کہ متن تو صحیح ہوتا تھا، لیکن اس کے راویوں میں گڑبڑ کر دیتے۔ یعنی فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، اس میں آگے پیچھے کر دیتے۔ ایک کی دوسرے کے ساتھ ملا دیتے، دوسرے کی تیسرے کے ساتھ ملا دیتے۔ اور دس احادیث اس طرح بنائیں۔

تو حضرت کے پاس آئے، حضرت سے کہا کہ حضرت ہم نے آپ سے کچھ احادیث شریف سنی ہیں تو ہم ذرا کنفرم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آپ سے واقعی سنی ہیں یا نہیں، آپ ذرا بتا دیں۔ اچھا ٹھیک ہے پوچھو۔ اب ایک حدیث شریف سنائی تو حضرت نے فرمایا یہ تو مجھ سے نہیں سنی۔ دوسری سنائی، تو ذرا تھوڑی سی ان کی طبیعت میں تغیر آیا، کہ یہ بھی تو نہیں سنی، یہ کہاں سے لائے ہیں؟ جب تیسری آئی تو ان کو پتا چل گیا کہ یہ کوئی گیم ہے۔ تو اٹھے اور سامنے جو تھا نا، ان سے کہا کہ تو تو اس طرح کر نہیں سکتا۔ یعنی تو اتنا ذہین نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ تو صوفی آدمی ہے، تو بھی یہ نہیں کرے گا۔ اس کا نام دیکھو، صوفی استاد ان کو صوفی کہتے تھے۔ تو تو صوفی آدمی ہے، تو بھی یہ نہیں کرے گا۔ یحییٰ بن معین رہ گئے، انہوں نے کہا کہ ساری شرارت تیری ہے۔ اٹھے اور ٹھڈے مار مار کر ان کو چبوترے سے گرا دیا۔ تو امام صاحب نے کہا کہ دیکھیں، میں نہیں کہتا تھا کہ یہ نہ کرو؟ اس نے کہا یہ تو ہمارے سروں کے تاج ہیں ما شاء اللہ اب ہم کھل کر کہ سکتے ہیں کہ ہمارا استاد ثقہ ہے۔ یہ تھے محدثین۔ ان کی زبان یہ تو ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ ماشاءاللہ اب ہم کھل کے کہہ سکیں گے ہمارے استاد کیسی ثقاہت رکھ رہے ہیں۔ مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تھے محدثین۔

ان کی زبان اتنی تیز ہوتی تھی نا... "کذاب ہے"، وہ کوئی مطلب اس کی بات صحیح نہیں ہے، ہم نے اس کے بارے میں کوئی خیر نہیں سنا... اس قسم کے الفاظ۔ یہ بڑے دھڑلے سے کہتے تھے۔ کیونکہ حدیث کی حفاظت کرنی ہوتی تھی۔ تو اس کے لیے بالکل بے مروت ہو جاتے۔ ہاں جی۔ تو یہ اس قسم کی بات ہے۔


پرکھنے والے کسی کی بھی رعایت نہ کریں

کسی کے بارے میں بیان میں خیانت نہ کریں


ان احادیث میں ہر طرح روایتیں موجود

اس لئے مختلف حدیث کی قسمیں موجود

کچھ صحیح کی،کچھ اس سے کم کی کتابیں موجود

کیونکہ ان سب کی جمع کی ہیں حکمتیں موجود


صحاح کی فقہ کی تدوین میں ضرورت ہے بہت

اور فضائل میں اور کو لیں اس میں وسعت ہے بہت



اگر امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف روایات کو نہ جمع کیا ہوتا، تو آج فضائل کے لیے ہمیں کیسے وہ ملتیں؟ ، تو مطلب اللہ تعالیٰ نے بڑی حکمت رکھی ہے۔ یعنی دونوں کی نیتیں بڑی اعلیٰ تھیں۔ جو صحیح احادیث شریف کو جمع کرنے والوں کی نیت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ نہ ثابت ہو۔ جھوٹ نہ کوئی کہا جائے۔ یہ بہت بڑی نیت تھی۔ اور جو ضعیف روایات کو بھی شامل کرتے، ان کی نیت تھی کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات ضائع نہ ہو جائے۔ ایسا نہ ہو کہ مطلب ہماری سختی کی وجہ سے وہ بات ضائع ہو جائے، وہ ختم ہی ہو جائے۔ تو وہ ہر طرح کی روایات جمع کرتے کہتے تھے بعد میں دیکھیں گے، ابھی تو جمع کرو نا۔ ! تو یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ یہ ان کی نیت تھی، تو یہ نیت بھی بڑی پیاری تھی۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات ضائع نہ ہو جائے۔


کسی نے سوچا کہ آقا کی بات کمزور نہ رہے

کہیں آپ سے کوئی غیر واقعی منسوب نہ کرے

عقائد کی درستگی اور فقہاء و محدثین کا مقام و مرتبہ - عقائد