تصوف کی چند مفید اصطلاحات

فہم التصوف

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

·       تصوف، تقویٰ اور اخلاقِ حمیدہ: تصوف کا اصل مقصد اور نفس کی ضد (تقویٰ) کا بیان۔

·       طریقت کی تعریف: روحانی صحت کے لیے اپنائے جانے والے طریقوں (Procedures) کی اہمیت اور حالات کے مطابق ان میں تبدیلی۔

·       حقیقت کا مفہوم: دل کی صفائی سے حقائقِ اشیاء اور علوم و معارف کا منکشف ہونا۔

·       شریعت، طریقت اور حقیقت کا سنگم: حضرت شاہ ولی اللہؒ کی تحقیق کی روشنی میں ان تینوں کا باہمی تعلق۔

·       معرفت اور عارف کی پہچان: اللہ سے تعلق کا ادراک اور علم کے باوجود عجز و انکساری کا اظہار۔

·       نسبت اور اس کی اقسام: اللہ سے تعلقِ باطنی کی تعریف اور اس کی چار صورتیں (نسبتِ انعکاسی، القائی، اصلاحی اور اتحادی)۔

·       بیعت کی حقیقت: شیخ اور مرید کے درمیان معاہدہ اور اس کی شرعی و تربیتی حیثیت۔

 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


گزشتہ سے پیوستہ


اسی (تصوف) کو حدیث شریف میں احسان کہا گیا ہے، قرآن میں لفظِ تقویٰ کا مفہوم اس کے قریب تر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تقویٰ دل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو مقصود فی الاعمال ہے اور نفس کی غلط خواہشات کی ضد ہے، تصوف اس کو بلکہ تمام اخلاقِ حمیدہ کو حاصل کرنے کا اور اس کے اضداد سے بچنے کا علم و فن ہے۔

تینوں چیزیں سبحان اللہ ان سطور میں آگئیں لیکن ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے

نمبر ایک: تقویٰ، یہ دل کی بات بتائی گئی کہ دل کی ایک… لیکن تقویٰ Generate ہوتا ہے نفس میں، خواہشات کی ضد ہے۔ خواہشات کہاں پر ہوتی ہیں؟ نفس میں۔ تو اس کی ضد تقویٰ ہے۔ تو پیدا ادھر نفس میں ہوتا ہے اور دل میں آ جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرمایا تصوف اس کو بلکہ تمام اخلاق حمیدہ حاصل کرنے کا، اس کی اضداد سے بچنے کا علم و فن ہے۔ تو علم کس سے ہوتا ہے؟ عقل سے۔ اور فن بھی؟ عقل سے۔ تو گویا کہ تصوف کے اندر وہ تینوں چیزیں Built-in ہیں۔




طریقت

ان اعمالِ باطنی کے طریقوں (Procedures) کو جن سے اخلاقِ حمیدہ حاصل ہوتے ہیں اور اخلاقِ رذیلہ سے چھٹکارہ حاصل ہوتا ہے اس کو طریقت کہتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، کیونکہ مقصد صحت ہے طریقہ نہیں ہے۔

بہت بڑے انقلاب کی ضرورت ہے۔ بہت بڑے انقلاب کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے ساتھ بعض دفعہ لوگ اتنے چمٹ جاتے ہیں کہ ان کو مقصد بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ ذرائع مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر آپ نے اس کو مقصد بنا لیا، یعنی دین اس کو بنا لیا تو جب اس میں تبدیلی کرو تو کیا دین میں تبدیلی ہو سکتی ہے؟ دین میں تو،

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا.(المائدہ:3) دین میں تو تبدیلی تو ہو نہیں سکتی۔ تو انسان پھنس جاتا ہے نا پھر۔Confuse تو کم از کم ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہر چیز کو اپنے اپنے درجے پہ رکھو۔ ذریعے کو ذریعہ سمجھو، مقصد کو مقصد سمجھو، پریشان نہیں ہو گے۔ کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ تو یہ یہاں پر بھی یہی بات ہے کہ یہ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس تبدیلی کو ماننا ضروری ہے۔ کیونکہ رائیونڈ میں تبلیغ اور ہے، نظام الدین میں اور ہے، سعودی عرب میں اور ہے، امریکہ میں اور ہے، یورپ میں اور ہے۔ ہم نے دیکھا ہے سب کو دیکھا ہے۔ یورپ والے تبلیغ کو بھی دیکھا ہے، امریکہ والے تبلیغ کو بھی دیکھا ہے، سعودی عرب والے تبلیغ کو بھی دیکھا ہے، نظام الدین والا ابھی نہیں دیکھا رائیونڈ والا تو دیکھا ہے۔ ہر جگہ مختلف ہے۔ تو اس کا مطلب کیا ہے؟ بھئی دعوت کا کام ہے نا وہ تو اصل ہے۔ تو دعوت کا Procedure وہ تو ہر جگہ اپنا ہو گا، بلکہ ہر شخص کے لیے اپنا ہو گا۔ کیوں؟ كَلِّمُوا النَّاسَ بِقَدْرِ عُقُولِهِمْ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سٹیٹمنٹ ہے۔ كَلِّمُوا النَّاسَ بِقَدْرِ عُقُولِهِمْ ، لوگوں کے ساتھ ان کے عقل کے مطابق بات کرو۔ بچے کے ساتھ بچے کے Level کا، بوڑھے کے ساتھ بوڑھے کے Level کا، جوان کے ساتھ جوان کے Level کا، دیہاتی کے ساتھ دیہاتی انداز میں، پروفیسر کے ساتھ اس کے Level کا، کیوں؟ سمجھ تب آئے گی اس کو۔ حضرت علی کرم اللہ فرماتے ہیں کہ:

"ایک من علم کے لیے دس من عقل کی ضرورت ہے"۔

کیونکہ اگر عقل کے ساتھ نہیں کرو گے تو الٹا ہو جائے گا۔ کہتے ہیں ایک دفعہ بیان ہوا تھا کسی جگہ پہ تو اس کے بڑے نام لکھے گئے تھے۔ تو ایک صاحب نے وہ بیان تمام رٹ لیا تھا کہ یہ بہت کام کا بیان ہے، تو ایک اور جگہ اس نے بیان کیا کہ میرے بھی بہت سارے لوگ نام لکھ لیں گے، تو کسی نے نہیں لکھا۔ بڑا مایوس ہو گیا کہ کمال ہے، وہاں تو اتنے لوگوں نے نام لکھوائے ادھر تو کسی نے بھی نہیں لکھا۔ تو اپنے کسی بڑے سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ ادھر اتنے سارے لوگوں نے…؟ اس نے کہا کہ تو نے کہاں پر بیان کیا تھا؟ کون لوگ تھے؟ مالدار لوگ تھے یا غریب تھے؟ کہتا ہے غریب لوگ، کہتے وہ بیان مالداروں میں ہوا تھا۔ مناسبت نہیں تھی۔ مالداروں کا بیان غریبوں کے سامنے کرو تو بے چارے کیا کریں گے؟ کہیں گے یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اتنا صدقات دو یہ کر دو وہ کر دو… صدقہ ہم… کہتے ہیں ہمیں دو. ہم کدھر سے دیں؟ ہر چیز کا اپنا اپنا Domain ہوتا ہے نا؟ تو یہ عقل کی بات ہے، كَلِّمُوا النَّاسَ بِقَدْرِ عُقُولِهِمْ ۔ تو اگر یہ بات ہے تو آپ کو تو ہر جگہ پر تبلیغ چینج کرنا پڑے گا۔ ہر شخص کے لیے تبدیل کرنا پڑے گا، کیوں؟ مشائخ کی تبلیغ ایسی ہوتی ہے، بس۔ مشائخ کی تبلیغ ایسی ہوتی ہے۔

میرا بھائی وکیل ہے۔ وکیل کی زبان پر جواب ہوتا ہے ہر وقت۔ ان کا کام ہی یہی ہوتا ہے، باتوں کے ساتھ کھیلنا۔ تو کسی نے اس سے کہا کہ شبیر صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن تبلیغ نہیں کرتے۔ کہتے اچھا! تبلیغ نہیں کرتے؟ ہم تو اس سے اس لیے تنگ ہیں کہ وہ ہر وقت تبلیغ کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں تبلیغ نہیں کرتے۔ تو لوگ سمجھتے ہیں شاید تبلیغ رائیونڈ میں ہوتا ہے یا رائیونڈ کے طریقے پہ ہوتا ہے۔ تو پھر تو تبلیغ نہیں کرتے، اب جھوٹ تو نہیں کہہ سکتے کہ بھئی رائیونڈ والوں نے یہ کہا ہے۔ ہم تو اپنے طریقے پہ کریں گے نا؟ ہم تو ان کے طریقے پہ تو یقیناً نہیں کریں گے۔ تو پھر کہیں گے یہ تبلیغ نہیں کرتے۔ انہوں نے ان کو ایک خاص Procedure میں وہ کر لیا ہے۔

پس جس وقت جن طریقوں سے روحانی اور قلبی صحت کا زیادہ امکان ہو اس وقت ان ہی طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔

جس سے نتیجہ، آؤٹ پٹ (Output) صحیح نکلے۔

حقیقت

Step by step …

طریقت سے جب اعمال کی درستگی ہوتی ہے تو اس سے قلب میں صفائی اور ستھرائی پیدا ہوتی ہے، اس سے دل پر بعض اعمال اور اشیاء بالخصوص اعمالِ حسنہ و سیئہ کے حقائق و لوازمات منکشف ہوتے ہیں.

آپ ذرا غور سے دیکھیں، اس دیوار کے سامنے جتنی چیزیں ہیں کیا وہ دیوار میں نظر آتی ہیں؟ نہیں نظر آتیں۔ لیکن ادھر اگر آئینہ لگا ہوتا؟ تو یہ ساری چیزیں نظر آتیں؟ تو اسی طریقے سے جب صاف دل ہوتا ہے آئینے کی طرح تو ارد گرد جتنی چیزیں وہ ساری نظر آنے لگتی ہیں اس میں۔ یہ حقیقت ہے۔ حقائق منکشف ہونا شروع ہو جائیں گے۔ حقائق منکشف ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اگرچہ آپ کی نیت بھی یہ نہیں ہو گی… آپ کی نیت بھی یہ نہیں ہو گی کہ میں اس کو کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ ہو رہی ہوں گی۔ اس کے لیے آپ کا ارادہ بھی ضروری نہیں ہو گا اور آپ کی اجازت بھی ضروری نہیں ہو گی۔ وہ خود بخود ہو رہی ہوں گی۔ بھئی، مجھے یہ چیز نظر نہیں آ رہی۔ میری آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا مجھے نظر آ گیا۔ تو یہ مجھ سے اجازت لے گا کہ اب میں آپ کو نظر آؤں؟ یا مجھے نیت کرنی پڑے گی اب مجھے اس کو نظر آنا چاہیے؟ بس خود بخود نظر آنی شروع ہو جائے گی نا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس پردہ کو ہٹانا ہے۔ تو پردہ ہٹ جائے گا تو ساری چیزیں نظر آنی شروع ہو جائیں گی۔ یہ حقیقت ہے۔

طریقت سے جب اعمال کی درستگی ہوتی ہے تو اس سے قلب میں صفائی اور ستھرائی پیدا ہوتی ہے، اس سے دل پر بعض اعمال اور اشیاء بالخصوص اعمالِ حسنہ و سیئہ کے حقائق و لوازمات منکشف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کا ادراک ہوتا ہے، جس سے بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جیسا تعلق ہونا چاہئے اس کا ادراک ہوتا ہے۔ ان علوم و معارف تک سالک کی رسائی کو حقیقت کہتے ہیں۔

ذرا تھوڑے سے ایڈوانس لفظوں میں اگر میں یہ بات کرلوں، یہ تو ذرا Simple الفاظ میں بات کی ہے نا، اگر ایڈوانس لفظوں میں بات کر لوں تو وہ یہ ہو گا کہ جس وقت دل میں جو میدانِ کارزار ہے، نفس اور روح کا، اس میں روح کو آزادی حاصل ہو جائے گی، یعنی نفس سے چھوٹ جائے گا، نفس مقامِ عبدیت پہ آ جائے گا اور روح ملاءِ اعلیٰ پہنچ جائے گا۔ تو جب روح ملاءِ اعلیٰ پہنچ جائے گا تو دل کے ساتھ اس کا تعلق تو موجود ہے جس طرح دل کا نفس کے ساتھ تعلق موجود ہے، اس طرح دل کا روح کے ساتھ بھی تعلق موجود ہے بے شک روح کہیں پر بھی ہو۔ آج کل تو ریموٹ کنٹرول سسٹم ہے میرے خیال میں اب تو شاید… نہ سمجھ آنے والی کوئی بات بھی نہیں۔ تو اب جو روح ہے ملاءِ اعلیٰ میں، اور دل اس کو یہیں سے Eyepiece کے طور پر دیکھ رہا ہے تو ساری چیزیں ملاءِ اعلیٰ کی ان کے اوپر منکشف ہو رہی ہیں یا نہیں ہو رہیں؟ یہ تو ہو گیا اشیاء کا انکشاف، حالات کا انکشاف، یہ بھی حقیقت تک رسائی ہے۔

دوسرا یہ کہ جس وقت اسی روح کے نظام… روحانی نظام جو Establish ہو گیا ملاءِ اعلیٰ کے ذریعے سے، قلب اور ملاءِ اعلیٰ اور ادھر سے عقل… یہ °90 پہ اس کا کنکشن لگ گیا، تو کیا ہو جائے گا؟ عقل کی Promotion ہو جاتی ہے اور یہ بن جاتا ہے سِر۔ تو پھر سِر براہِ راست ملاءِ اعلیٰ سے لینے لگتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ سِر براہِ راست ملاءِ اعلیٰ سے لینے لگتا ہے۔ تو یہ علوم کے انکشاف کی بات ہے۔ یہاں حقائق ہیں، اشیاء کی وہ مطلب جو قلب پہ منکشف ہو رہے تھے۔ لیکن جب سِر بن جاتا ہے تو علوم منکشف ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے جو مکتوباتِ شریف ہیں یہ کس طرح آئے ہیں؟ یہ حضرت کے سِر پر اترے ہیں۔ چونکہ حضرت کا جو سِر تھا ملاءِ اعلیٰ کے ساتھ Associate ہو گیا، لہٰذا ان کے اوپر وہ چیزیں آنی شروع ہو گئیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ حج پہ گئے تو حج سے واپس ہو کے کہا کہ میں نے اندھوں کی طرح حج نہیں کیا، میں نے اندھوں کی طرح حج نہیں کیا کہ مجھے کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ تو کیا چیز نظر آئی؟ وہ ظاہر ہے حقائق، ان کو۔ حقیقتِ کعبہ، حقیقتِ عرفات، حقیقتِ مزدلفہ، حقیقتِ طواف، یہ ساری چیزیں ان کو نظر آئیں نا؟ تو پھر اس پر باتیں بھی کیں، سمجھایا بھی، تو یہ حقائق کا انکشاف ہو گیا؟ چونکہ ان کا سِر اور روح اپنی جگہوں پہ تھے، تو لہٰذا وہ ساری چیزیں ان پہ کھل رہی تھیں۔

علوم کا کھلنا یہ سِر کے ذریعے سے ہے۔ علوم کا کھلنا یہ سِر کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ ایسی ایسی باتیں کھلتی ہیں جس کا کبھی آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ میں پڑھیں آپ، آپ کو یہ جا بجا ملے گا، فرمایا: ابھی علم حاصل ہوا ہے۔ ابھی یہ علم حاصل ہوا ہے۔ ساتھ ہی فرماتے ہیں ابھی علم حاصل ہوا ہے۔ حاصل ہوا ہے۔ تو ابھی کا مطلب پہلے نہیں معلوم تھا۔ اور اچانک؟ اچانک کہاں سے آیا؟ ٹھیک ہے نا؟


شریعت، طریقت، حقیقت

اب علیحدہ علیحدہ کی سمجھ میں بات آ گئی نا؟ تو اب اس کا ایک Combined version اس کا لینا ہے۔


شریعت، طریقت، حقیقت


حضرت شاہ ولی اللہ کی تحقیق ان تینوں کے بارے میں درج ذیل ہے:

یہ بات جاننا چاہئے کہ جو شریعت پر دل سے چل رہا ہے اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ شریعت ہی کا مطالبہ ہے، اگر اس پر عمل ہورہا ہے تو اور کسی چیز کی ضرورت نہیں، البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ شیطان اور نفس انسان کو شریعت پر نہیں چلنے دیتے۔ شیطان دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور نفس شریعت کے اوامر و نواہی کی پروا نہیں کرتا

خدا کی شان، ایسے عجیب عجیب چیزیں ہیں یعنی ان کو سمجھنے کے لیے کافی مواد موجود ہے۔ مثلاً دیکھو! نفس میں بھی دو چیزیں ہیں۔ نفس میں بھی دو چیزیں ہیں۔ ایک فجور دوسرا تقویٰ۔ دل میں بھی دو چیزیں ہیں، ایک شیطانی وساوس اور ایک رحمانی الہام۔ یعنی الہامِ رحمانی، الہامِ شیطانی، دو چینلز ہیں باقاعدہ دل میں۔ اور عقل میں بھی دو چیزیں ہیں، وہ کیا؟ ایمانی عقل اور دنیاوی عقل یا نفسانی عقل۔ اگر آپ دنیاوی عقل سے فیصلے کریں گے تو دنیا کے لیے آپ کے فیصلے بڑے زبردست ہوں گے، جیسے انگریزوں کے ہیں۔ انگریزوں نے کہا نا کہ ہم نے عقل کے ذریعے سے انڈیا پر حکومت کی ہے۔ کسی دور میں بھی انگریزوں کی تعداد انڈیا میں جو کروڑوں کی تعداد میں تھے، دس ہزار سے نہیں بڑھی۔ لیکن پوری انڈیا پر حکومت کر رہے تھے۔ کس ذریعے سے؟ عقل کے ذریعے سے۔ لڑاؤ حکومت کرو، Divide and Rule۔ خود سامنے نہیں آتے تھے، لوگوں کو ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے۔ یہی طریقہ ان کا تھا، عقل اس میں استعمال کر رہے ہیں، شیطانی عقل۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا کے لیے اگر عقل استعمال کرو گے تو دنیا کی چیزیں آپ کی ہو رہی ہوں گی آپ کی خواہش کے مطابق۔ اور اگر آپ اس کو اللہ کے لیے استعمال کر رہے ہوں یعنی دین کے لیے، تو پھر آپ ان وسائل کو استعمال کریں گے۔ پھر اس کے مطابق آپ کے فیصلے زبردست ہوں گے۔ تو عقل میں بھی دونوں Options موجود۔ دل میں بھی دونوں Options موجود۔ نفس میں بھی دونوں Options موجود۔ لہٰذا Decision کا میدان ہر ایک میں ہے۔

اس لئے نفس و شیطان کے مکر و فریب کو سمجھنے کے لئے اور ان کے دام میں آنے سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے کچھ طور طریقوں کی ضرورت ہے۔ ان طور طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔ طریقت پر چلانے کے لئے مشائخ کو نفس و شیطان کے مکر و فریب کو جاننا ہوتا ہے اور جو عوامل اصلاحِ نفس و قلب و عقل میں کارفرما ہوتے ہیں ان کو سمجھنا ہوتا ہے۔ اس کو حقیقت کہتے ہیں۔ پس ان حقائق کا جاننا ہر ایک کے لئے نہ ضروری ہے نہ مفید، البتہ جو ان کو حاصل کر تے ہیں ان کو اس کے دو فائدے ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی وجہ سے اگر عقیدہ یا دین کے فہم کو کسی کی تقریر، تحریر یا عمل سے نقصان ہوسکتا ہو، تو اگر اس کی معرفت حاصل ہو گی تو دل مطمئن ہوگا، اپنی راہ سے نہیں ہٹے گا۔ اور اگر کسی اور کو اس قسم کا مسئلہ ہوگا تو ان کو بھی اس کی زبان میں سمجھا سکے گا۔ ایسے لوگوں کو اس فن کے محقق کہتے ہیں۔

حقیقت… جن کو معلوم ہے تو ان کو محقق کہتے ہیں۔


دوسری بات یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ حقائق نامکمل صورت میں سامنے آجاتے ہیں یا جن و انس کے شیاطین کے وسوسے کی صورت میں لائے جاتے ہیں۔ ان حقائق کو جان کر نامکمل کی تکمیل ہوجائے گی اور جن و انس کے وساوس کا علاج بھی ہوجائے گا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Fill up the blanks تو کرنا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس نظام میں اشارے موجود ہیں۔ ان اشاروں کو سمجھنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے اس کو نظام بنایا نا، امتحان کا۔ اگر بالکل ہی سیدھی سیدھی باتیں ہوتیں تو پھر تو امتحان ہی ختم ہو جاتا۔

مثلاً اب اسی کو دیکھو! کسی کے اوپر اللہ تعالیٰ دنیا کے چیزوں کو کھول دیتے ہیں، تو کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں تبھی تو اللہ تعالیٰ ہمیں اتنا دے رہے ہیں۔ ہیں اس طرح یا نہیں ہے؟ کہتے بھی ہیں، اور کچھ لوگ کہتے ہیں ہمارا امتحان ہے۔ یہ حضرت بابا زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ جو تھے یہ بہت مالدار تھے۔ بہت زیادہ مالدار تھے۔ تو اصلاح کے لیے جب گئے یہ Central Asia کی سائیڈ پہ، اس وقت یہ لوگ زیادہ ایڈوانس تھے اس مسئلے میں، وہاں ایک صاحب تھے جو مستغرق تھے۔ استغراق کی حالت میں ہر وقت ہوتے تھے۔ بس کھانا کھا لیتے تھے، نماز پڑھ لیتے تھے، سو جاتے تھے، باقی استغراق۔ نہ کسی سے بات نہ کچھ بھی نہیں۔ دو سال ان کے ساتھ رہے۔ کچھ بھی بات نہیں ہوئی۔ دو سال ایسے آدمی کے ساتھ گزارنا آسان بات ہے جو بات ہی نہ کرتا ہو؟ اب تو یہ صورتحال ہے کہ اگر کوئی آتا ہے اور تھوڑا سا آپ کسی کام میں مصروف ہیں، اور اس کو ٹائم نہیں دے سکتے تو کہتے ہیں دیکھو کمال ہے! میں نے اتنا احسان کر لیا اس کے اوپر کہ میں ان کے مجلس میں آیا، مجھے پوچھ ہی نہیں رہا۔ آج تو یہ دور ہے نا۔ اس وقت یہ دور ہے۔ وہ دو سال بات ہی نہیں کر رہا۔

دو سال کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور کہا مجھے حکم ہوا ہے آپ سے بات کروں۔ بتاؤ کس لیے آئے ہو؟ تو اس نے کہا حضرت! مجھے اپنا فرزند بنا لیجئے گا۔ فرمایا یہ تو آپ کی میرے ساتھ یہ چیز نہیں لکھی ہوئی ہے۔ آپ کی یہ چیز تو میرے ساتھ نہیں لکھی ہوئی۔ ہاں، یہ پیسے لو، وہ اپنے اس کا جو ہے نا وہ جو جائے نماز تھا جو بھی تھا، اس سے نیچے ہاتھ ڈال کر کچھ پیسے ان کودیے یہ لو زادِ راہ۔ آگے بڑھو، آپ کو مل جائے گا۔ جس کے ساتھ آپ کا لکھا ہوا ہے۔ اور جاؤ۔ وہ پیسے جیب میں ڈال رہا تھا تو سامنے دیکھا تو حضرت غائب۔ اس نےکہا کمال ہے! بات بھی کی توکیسے کی!! لیکن چونکہ زادِ راہ بھی دے چکے تھے اور گائیڈ لائن بھی دے چکے تھے، لہٰذا چلے آگے۔ چلتے چلتے بغداد شریف آ گئے۔ بغداد شریف میں خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ بس ان کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے میں مجھے کہا گیا ہے۔ اور انہوں نے بھی اس کو پہچان لیا کہ میرے پاس آئے ہیں۔ بس دونوں نے معاہدہ کر لیا، بیعت ہو گئے۔ 17 دن کے بعد ان کو اجازت دی۔ تو جو لوگ مدتوں سے وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے کسی نے کہا کہ حضرت ہم تو اتنے عرصے سے ادھر بیٹھے ہوئے ہیں یہ 17 دن میں نوجوان آ گیا اور سارا کچھ لے جا رہا ہے، پتہ نہیں کیا بات ہے؟ تو حضرت نے فرمایا بھائی! تم لوگ ابھی گیلی لکڑیاں ہو۔ ابھی تو تم دھواں دے رہے ہو۔ پھر کبھی تم خشک ہو گے، پھر کہیں جلنے کی نوبت آئے گی۔ یہ تو پہلے سے خشک بن کے آیا تھا۔ بھئی دو سال مجاہدہ کر کے آیا تھا۔ اتنا بڑا مجاہدہ! تو وہ تو خشک بن چکا تھا۔ اس کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، بس صرف دیا سلائی لگانے کی دیر تھی اور کام اس کا ہو گیا۔

تو حضرت نے ان کو ایک انار دیا کہ یہ کھا لو۔ انار کھا رہے تھے تو ایک دانہ گر گیا۔ تو اس دانے کو تلاش کرنے لگے۔ تو لوگوں نے کہا کہ بھئی ایک دانہ ہی ہے نا؟ چھوڑو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، ناشکری ہے۔ حضرت نے دیا ہے میں اس کو کھاؤں گا۔ تو تلاش کر لیا، کہیں سے گرا پڑا تھا، مل گیا اور کھا لیا۔ حضرت نے فرمایا، اوہو! یہی دانہ تو اس میں دنیا تھا۔ یہ آپ سے بھاگ گیا تھا لیکن تو نے اس کو تلاش کر لیا۔ اب امتحان کے لیے تیار ہو جاؤ۔ یہ آپ سے بھاگ گیا تھا کہ تو اس ابتلا میں نہ آؤ۔ لیکن اب تو نے اس کو (Opt) کر لیا، لہٰذا تم اس امتحان کے لیے تیار ہو جاؤ۔ تو حضرت واقعی بہت مالدار تھے، اور ان کا سارا کام اسی طریقے سے پھر چلا۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ ان کا اللہ تعالیٰ نے نظام ایسا بنا لیا تھا، تو یہ حقائق کی بات جو ہو رہی تھی کہ

بعض اوقات کچھ حقائق نامکمل صورت میں سامنے آجاتے ہیں یا جن و انس کے شیاطین کے وسوسے کی۔۔۔

اب یہ نامکمل بات تھی نا، اس کو کیا پتہ تھا کہ کیا چیز ہے؟ تو یہ ہے کہ


ان حقائق کو جان کر نامکمل کی تکمیل ہوجائے گی اور جن و انس کے وساوس کا علاج بھی ہوجائے گا۔


معرفت

سبحان اللہ! بہت بڑے لفظ ہیں۔ معرفت کی معرفت، مشکل است۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے ایک فقرہ نکلا تھا، فرمایا کہ پندرہ سال کے بعد پتا چلا کہ چیز تو بہت Simple تھی، ہم نے اتنی محنت ویسے کر لی۔ اگر پہلے سے پتا ہوتا تو اتنی محنت کیوں کرتے؟ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے ان کی بات عرض کر لی کہ حضرت یہ کیا مطلب، کون سی چیز آسان تھی اور کیا تھا اور…؟ انہوں نے کہا وہ تو وہ حاصل کر کے کہہ رہے تھے نا۔ حاصل کر کے کہہ رہے تھے۔ ورنہ پندرہ سال تو پتہ چلنے میں لگ گئے! پندرہ سال تو اس کے علم میں لگ گئے کہ پتا چل گیا کہ یہ چیز کیا تھی؟ تو اصل بات یہی ہے کہ پی ایچ ڈی Research جو کرتا ہے آدمی، تو کتنا مشکل ہوتا ہے؟ لیکن جب رزلٹ آتا ہے، تو رزلٹ بڑا Simple ہوتا ہے۔ اگر اس کو کوئی چھاپنا چاہے تو ایک صفحہ… صحیح بات میں کرتا ہوں، پی ایچ ڈی کا ریسرچ ایک صفحے، دو صفحے سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ بعد میں تو قصے بناتے ہیں۔ بڑھا دیا فقط زیبِ داستاں کے لیے۔ مطلب پھر وہ ساری چیزیں آگے… ورنہ اصل چیز تو… کیوں ڈاکٹر صاحب؟ ایک جملہ ہوتا ہے۔ تو بس بات، اصل بات تو یہی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پھر آپ لگے رہو۔ ۔ تو یہ… معرفت۔

بندے اور خدا کے درمیان اس تعلق کا ادراک ہی معرفت کہلاتا ہے کہ اس کے ذریعے سالک ہر وقت اپنے حال کے مطابق اللہ تعالیٰ کی منشاء کا بہتر طریقے سے ادراک کرلیتا ہے۔ اس لئے اس صاحبِ انکشاف کو محقق اور عارف کہتے ہیں اور اس نعمت کو معرفت کہتے ہیں۔ عارف چونکہ اپنے عجز و بے ثباتی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اس لئے باوجود دوسروں سے بہتر جاننے کے اپنے آپ کو ہمیشہ قاصر سمجھتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے آدم علیہ السلام اور ابلیس کے واقعے کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔

یہ تو بڑی باتیں ہیں، میں کو ایک چھوٹا واقعہ سناتا ہوں۔ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ ہمارے پاس ایک Metallurgist آئے جس نے انگلینڈ سے Metallurgy میں ڈگری حاصل کی تھی۔ چند دن ہمارے ساتھ رہے پھر بعد میں ٹرانسفر ہو گئے کہیں اور جگہ چلے گئے۔ اس نے مجھے اپنا واقعہ سنایا تھا۔ لاہور یونیورسٹی سے اس نے کیا تھا میٹلرجی، تو کہتے ہیں کہ مجھے بڑا Confidence تھا اپنے فیلڈ میں، تو میں نے کلاس میں کہا:

Ask me any question about metallurgy I shall answer you

کہتے وہ میری جہالت کا دور تھا۔ اور مجھے بڑا گھمنڈ تھا کہ میں میٹلرجی بہت جانتا ہوں۔ کہتے ہیں ٹھیک ہے جی، وہ ایک دور گزر گیا۔ اب میں چلا گیا پی ایچ ڈی کے لیے۔ اب پی ایچ ڈی کے لیے گیا ہوں تو میرے جو Colleague ہیں وہ میٹلرجی پر ہی پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ اب میں ایک کے کام کو دیکھ رہا ہوں وہ سمجھ نہیں آرہی، دوسرے کام کو دیکھ رہا ہوں سمجھ نہیں آرہی، تیسرے کام کو دیکھ رہا ہوں سمجھ نہیں آرہی، میں نے کہا مجھے کیا پتا تھا؟ میٹلرجی کیا ہوتی ہے؟ یہ تو میں بڑا جاہل ہوں۔ کہتے ہیں اپنی جہالت کا پتا چل گیا کہ میں جاہل ہوں۔ پھر میں ریسرچ پہ لگ گیا۔ ریسرچ کرتا رہا، کرتا رہا، اب ریسرچ میں کئی Probabilities ہوتی ہیں، کئی قسم کے Results ہوتی ہیں، ان کو Interpret کرنا ہوتا ہے، آدمی حیران ہوتا ہے کہ اگر یہ ہے تو پھر یہ کیوں؟ اگر یہ ہے تو پھر یہ کیوں ہے؟ اس قسم کے مسائل تو پھر Face کرنے پڑتے ہیں نا۔ تو گویا کہ اپنی جہالت کا پورا پول کھل رہا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اخیر میں جب میں نے Thesis Submit کیا تو سب سے زیادہ اس کے اوپر بے اعتماد میں تھا کہ جو میں نے بنایا ہوا ہے، یہ کس حد تک ٹھیک ہے؟ لیکن میں نے Present تو کرنا تھا جو میری Findings تھیں، ان کو تو میں نے Thesis میں لکھا تھا۔ اب میں گیا ہوں ان لوگوں کے سامنے۔ اب جب وہ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں کہتا ہوں، ہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے، ٹھیک ہے یہاں پر بھی کچھ بات کا پتا چلتا ہے، ہاں اس کا یہ رُخ بھی ایسا ہے۔ کہتے ہیں میں اس انداز میں باتیں کر رہا ہوں اور وہ اپنے نوٹس لے رہے ہیں۔ تو میں سمجھا کہ میں فیل ہو گیا ہوں۔ یعنی میں پاس ہونے کے قابل نہیں ہوں۔ کہتے ہیں جس وقت میں باہر آیا تو کچھ دیر کے لیے باہر بھیجتے ہیں، پھر آپس میں مشورے کرتے ہیں، اپنے Points ملاتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ، پھر اس کو بلا لیتے ہیں۔ پھر رزلٹ سناتے ہیں۔ بعد میں قانونی کاروائی تو بعد میں ہوتی ہے لیکن وہ اس وقت بتا دیتے۔ تو ان کو بلایا کہتے ہیں کہ Congratulation آپ کی پی ایچ ڈی ہو گئی، تو کہتے ہیں میں سمجھا کہ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ کہ انہوں نے مجھے Reject کر لیا ہے لیکن ذرا سافٹ الفاظ میں Reject کر رہے ہیں۔ کہتے مجھے کوئی اطمینان نہیں تھا۔ کہتے ہیں جب انہوں نے Actually مجھے ڈگری دی تو پھر میں حیران ہو گیا کہ مجھے ڈگری کیسے دی ہے؟ میں نے کہا تو نے صحیح پی ایچ ڈی کی ہے۔ تو نے صحیح پی ایچ ڈی کی ہے۔ کیونکہ جس کو اپنی جہالت کا احساس ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صحیح عالم ہے۔ کیونکہ اس کے علم کے Domains کا اندازہ ہے، علم کے وسعت کا اندازہ ہے۔

حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ برسوں پڑھتے پڑھاتے جو حاصل ہوا وہ یہ کہ میں جہلِ مرکب سے جہلِ بسیط میں آگیا۔ پہلے اپنے آپ کو جاہل نہیں سمجھتا تھا اب اپنے آپ کو جاہل سمجھتا ہوں۔ برسوں پڑھتے پڑھاتے جو حاصل ہوا تو وہ یہ کہ میں جہلِ مرکب سے جہلِ بسیط میں آ گیا۔ اب مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں سمجھ میں آرہی ہوں گی نا؟ فرماتے ہیں کہ گناہ گار اور خطاکار اور سیاہ کار اور پتا نہیں کیا اور پتا نہیں کیا اپنے آپ کو کیا کہتے ہیں؟ لوگ کہتے ہیں پتا نہیں کیا مبالغہ کر رہے ہیں، کیا باتیں ہیں اس قسم کی؟ اتنا بڑا بزرگ اور یہ کہتے ہیں اپنے آپ کو۔ بھئی بزرگ تب ہی تو ہے کہ اپنی غلطیاں جانتا ہے۔ اپنی کمزوریاں جانتا ہے۔ تبھی تو بزرگ ہے۔ یہی تو بزرگی ہے کہ۔۔

دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔

جب تک اس کو خاک میں ملنا نصیب نہیں ہوتا وہ کیا گل و گلزار ہو گا؟ اس سے کیا فائدہ ہو گا لوگوں کو؟ تو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس Process سے گزر چکا ہے۔ جو حضرت مجدد صاحب نے فرمایا نا کہ عنصرِ خاک کہ سب سے اونچا مقام انسان کا جو ہے کس وجہ سے ہے؟ عنصرِ خاک کی وجہ سے ہے۔ وہ یہی چیز ہے۔ شیطان نے کہا تھا

"اَنَا خَیْرُٗ مِّنْہُ"۔ پھنس گیا، نکالا گیا۔ اور آدم علیہ السلام کہتے ہیں "رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ"۔ بس یہی بات ہے۔ چلو جی، یہ تو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ تو صوفی تھے نا، کہتے ہیں بھئی صوفی تو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ان کی باتوں کا کیا اعتبار؟ ہیں نا لوگ اس طرح کہتے ہیں۔ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تو ہم یہ بات نہیں کر سکتے نا، وہ تو صحابی ہیں اور سب سے افضل صحابی ہیں۔ وہ کیا کہتے تھے اپنے بارے میں؟ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے تھے؟ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے تھے؟ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے تھے؟ یہ سب اپنے آپ کو کیا سمجھتے تھے؟ تو اس کا مطلب ہے کہ بڑائی اصل میں یہی ہے۔ جو اپنےآپ کو کم سمجھے۔

تین بڑے موجود تھے مدینہ منورہ میں۔ مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب، حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا یحییٰ مدنی صاحب۔ یہ تینوں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی مسئلے پہ گفتگو ہو رہی تھی۔ اس میں ایک بات کا مجھے بھی کسی ذریعے سے پتا چلا تھا۔ تو میں نے بھی بات عرض کر لی کہ حضرت وہ تو ایسا ہے۔ تھی تو جرأت… بزرگوں کے سامنے۔ تو کچھ حضرات خاموش ہوئے، کچھ نے کہا کہ نہیں ایسا تو نہیں ہے۔ میں نے کہا میری بات نہیں، فلاں عالم کی بات ہے وہ یہاں رہا ہے اور انہوں نے بات کی۔ تو جو انکار کر رہے تھے وہ بھی خاموش ہو گئے۔ گویا کہ اس کی سند سمجھ لی۔ اب بات ختم ہو گئی۔ لیکن میرے دل پہ بوجھ آیا، میں نے کہا میں نے بزرگوں کے سامنے اپنی بات رکھ کر مناسب حرکت نہیں کی۔ اب رات کو بھی اس قسم کی میری حالت، صبح میں روضہ اقدس پہ سلام پڑھنے کے لیے جا رہا ہوں، سامنے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لا رہے ہیں۔ ظاہر ہے میں بھی دائیں طرف جا رہا تھا، حضرت بھی دائیں طرف آرہے تھے تو ہمارے درمیان لوگ تھے۔ تو میں اپنی لائن کو چھوڑ کے حضرت کے پاس پہنچ گیا اور میں نے سلام کیا، میں نے کہا حضرت مجھے معاف فرما دیں، کل جو میری بات آپ کے ساتھ ہوئی اس پہ میں معافی چاہتا ہوں مجھے بزرگوں کا ادب نہیں آتا۔ اس وجہ سے غلطی ہو جاتی ہے۔ تو حضرت بہت خوش ہوئے، فرمایا یہی تو ادب ہے، یہی تو ادب ہے۔ جو کہتے ہیں کہ مجھے ادب آتا ہے اس کو ادب نہیں آتا۔ جو کہتے ہیں کہ مجھے ادب آتا ہے تو اس کو ادب نہیں آتا۔ اس پہ غور کرو ذرا۔ یعنی جو کہتا ہے کہ میں ادب جانتا ہوں تو اس کا مطلب ہے اس نے ادب کو چھوٹا سمجھا ہوا ہے نا۔ اور اپنے کو بڑا سمجھ لیا۔ اور جو کہتا ہے مجھے ادب نہیں آتا تو اس نے ادب کو بڑا سمجھا اور اپنے کو چھوٹا سمجھا۔ تو ادب کون سا ہے؟


نسبت

نسبت کے معنی تعلق کے ہیں۔ یہ تعلق جانبین سے ہوتا ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں نسبت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا ایسا تعلق ہے کہ اس کی وجہ سے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر اور جوابدہ پاتا ہے اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی صورت میں یاد کرتا ہے۔ اس سے اس کو طاعات اور عبادات کی طرف طبعی رغبت یا ایسی کامل عقلی رغبت کہ وہ اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے ہو جاتی ہے ، اور گناہوں سے اس کو ایسی نفرت ہو جاتی ہے جیسا کہ پیشاب پاخانے سے ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو ہمہ وقت اتباعِ سنت کی فکر ہوتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو ایسا قرب حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کا معصیتوں سے حفاظت کا انتظام ہو جاتا ہے۔

اللہ پاک ایسے راستے بنا لیتے ہیں۔

اور طاعات کی توفیقات سے اس کو نوازا جاتا ہے جس پر رضائے الہٰی کا ترتب ہوتا ہے۔ اس کے آثار مختلف ہوتے ہیں جن میں خود بخود روحانی تربیت کے اسباب کا بننا، دینی کاموں کے لئے استعمال ہونا، اہلِ قلوب کے دلوں میں خود بخود اس کے لئے محبت کا پیدا ہونا اور اس کے پاس بیٹھنے سے اللہ تعالیٰ کا استحضار پیدا ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

یہ نسبت کی علامات ہیں۔ لیکن یہ علمی علامات ہیں۔ عملی طور پر عام لوگ اس میں دھوکہ کھا سکتے ہیں۔ کیسے دھوکہ کھا سکتے ہیں؟ مثلاً کسی نے سرخ رنگ کی عینک پہنی ہوئی ہے۔ تو اس کو تو ساری چیزیں سرخ نظر آئیں گی۔ اور اصل میں وہ سرخ ہے نہیں۔ تو دھوکہ لگ گیا نا؟ تو ہر شخص وہ اپنے Angle سے ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ تو اگر اس کی Angle صحیح Set نہیں ہے، تو عین ممکن ہے کہ وہ جو نوٹ کر رہا ہے، وہ غلط نوٹ کر رہا ہو۔ تو جس نے Eye Specialist کے ذریعے سے اپنی Angle ٹھیک کی ہوتی ہے، اور اس کو Eye Specialist نے کہا ہوتا ہے اب یہ ٹھیک ہے۔ تو وہ جب دیکھتا ہے کہ اس میں یہ چیز ہے، تو پھر وہ مان لیا جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے نسبت کا القاء وہ تو کسی کو بھی ہو سکتی ہے، لیکن نسبت کی پہچان ہر ایک نہیں کر سکتا۔ نسبت کی پہچان ہر ایک نہیں کر سکتا۔ ہاں، نسبت کا القاء تو کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کسی کو ایک دن میں ہو جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور عین ممکن ہے کسی کو بیس سال میں بھی نہ ہو۔ وہ دوسری چیزیں ایسی Interact کر رہی ہوں کہ ادھر … نہیں وہ چیونٹی کو کبھی دیکھا ہے چیونٹی کو؟ یہ اندھی ہوتی ہے نا؟ تو بعض دفعہ قریب آ کر پھر واپس ہو جاتی ہے۔ ہاں، ہم بھی کہتے ہیں اوہو! بھلے یہ دیکھو بس چند ہاتھ لبِ بام رہ گئے۔ تو یہ پہنچنے والی ہوتی ہے اور واپس ہو جاتی ہے۔ تو اس طریقے سے بیس سال وادیِ تیہ میں آگے پیچھے ہو رہے ہوتے ہیں۔ کبھی ایک چیز کی وجہ سے مسئلہ، کبھی دوسری چیز کی وجہ سے مسئلہ، کبھی تیسری چیز کی وجہ سے مسئلہ، اور اس طریقے سے نسبت کا حصول لیٹ ہوتا جاتا ہے۔

اور بعض لوگ بالکل ڈائریکٹ وہ ایسے حضرت بابا زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح سوکھے ہوئے آئے ہوتے ہیں کہ ان کو بس کرنٹ لگانے کی دیر ہوتی ہے اور سارے طبق روشن ہو جاتے ہیں اس پہ۔ اس کا کام بن جاتا ہے۔ ٹھیک۔


نسبتِ انعکاسی

اب نسبت کی قسمیں ہیں۔

یہ نسبت سب سے کمزور اور وقتی ہوتی ہے۔ جب سالک شیخ کے سامنے ہوتا ہے تو شیخ کا رنگ مرید میں منعکس ہو کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسا کہ سالک کو نسبت حاصل ہو گئی ہے، لیکن شیخ سے دوری کی صورت میں کمزور ہوتے ہوتے معدوم ہوجاتی ہے۔

لیکن جن پر یہ رنگ پکا ہو جائے، Establish ہو جائے، پھر وہ اس پہ قائم رہتی ہے۔ اور وہی اس کی Guide ہوتی ہے۔ اسی سے اس کے کام ہوتے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا رنگ ان کے سارے خلفاء میں نظر آتا تھا۔ اور چاہے کہیں پر بھی چلے جاتے تو وہ تھانوی رہتے۔ اس طرح مولانا زکریا صاحب اور اس طرح دوسرے حضرات۔ ان کا اپنا اپنا رنگ ہے۔ تو یہ جو چیز ہے نسبتِ انعکاسی، اگر یہ Establish ہو جائے، اور یہی نسبتِ اصلاحی میں Convert ہو جائے تو رنگ چڑھنا اس کو کہتے ہیں۔

نسبتِ القائی

شیخ کے دئیے ہوئے معمولات اور رابطے کی برکت سے سالک کو جو نسبت القا ہو جاتی ہے وہ نسبت القائی ہے۔ اگر اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھے تو اصلاح کے بعد یہ نسبتِ اصلاحی میں بدل جاتی ہے بصورتِ دیگر معمولات کی پابندی اور رابطے کے ذریعے باقی رہے گی، لیکن اس کی اپنی مستقل حیثیت اس کی نہیں ہو گی۔

جب تک معمولات پر دائم رہے گا تو وہ چیز رہے گی۔ جب معمولات چھوڑ دیں گے تو پھر رہ جائے گا معاملہ۔


نسبتِ اصلاحی

یہ وہ اصل نسبت ہے جس کو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں سالک کے رذائل دور ہو کر فضائل میں بدل جاتے ہیں۔ اخلاقِ رذیلہ اخلاقِ حمیدہ بن جاتے ہیں۔

اور سیر الی اللہ کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ اور سیر الی اللہ کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ یہ ایک پائدار نسبت ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو نصیب فرمائے۔ آمین


نسبتِ اتحادی

یہ بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔ اس میں شیخ کا رنگ سالک پر اتنا چڑھ جاتا ہے کہ گویا وہ یک جان دو قالب بن جاتے ہیں۔ نہ تو اس کی کوئی ریس کرے اور نہ اس کا انکار کرے۔ یہ ممکن ہے لیکن تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

تو اس کا مطلب ہے کہ جو اس اونچے سے اونچے نسبت تک پہنچا ہے تو ڈائریکٹ تو نہیں پہنچا نا، تو وہ درمیان سے پہنچا ہے نا؟ تو القائی میں بھی اس کا رنگ ہو گا، اصلاحی میں بھی اس کا رنگ ہو گا۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو وہی والی بات کہ اگر نسبتِ انعکاسی مضبوط ہو جائے اور شیخ کا رنگ اس میں جھلکنے لگے اور… اس لیے تو کہتے ہیں نا کہ بھئی ایک ہی شیخ ہونا چاہیے۔ اگر کئی شیخ ہوں تو کسی کا رنگ نہیں چڑھے گا۔ وہی رہے گا۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے


میرے دل کے ٹکڑے ہوئے ہزار،

کوئی ادھر گرا، کوئی ادھر گرا

مطلب سارے ویسے بس خوامخواہ، چاچا خوامخواہ بن جائے گا۔ کوئی بات… مطلب اس کے کام کی نہیں ہو گی۔ لیکن کسی ایک کے ساتھ ہو جائے تو بس بات بن جاتی ہے۔ بات بن جاتی ہے۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے کسی پرانے مرید کے واقعات کسی نے سنائے کہ حضرت اب تو ایسا ہے اب تو ایسا ہے اب تو ایسا ہے۔ حضرت نے افسوس کیا۔ فرمایا کاش کسی ایک کے ساتھ ٹھہر جاتے تو کچھ بن جاتے۔ کاش کسی ایک کے ساتھ ٹھہر جاتے تو کچھ بن جاتے۔ بھئی دیکھو نا شیخ کو نہ خدا سمجھو نہ رسول سمجھو، ہے تو انسان۔ لیکن کو اللہ کے ساتھ بھی ملانے والا ہے اور کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ملانے والا ہے۔ تو آپ ان سے یہ کام لیں۔ خدا کے بندے آپ ان کو خدا کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ ان کو رسول کیوں دیکھنا چاہتے ہو؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ خدا دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کام وہ چاہے وہ ہو جائے، تو یہ تو نہیں ہو سکتا۔ خدا نہیں ہے، خدا نہیں ہے، مان لیا۔ اور رسول کا مطلب یہ ہے کہ بھئی اس کی ساری چیزیں اپنی ہوں۔ مطلب وہی جو کہے تو ٹھیک ہو۔ نہیں۔ رسول بھی نہیں ہے۔ ہے بندہ۔ ہے بندہ۔ لیکن اس کی بندگی اللہ کی بندگی پیدا کرنے والی… مطلب اس کے ساتھ تعلق میں میں کہتا ہوں۔ اس کے نہیں کہ اس کا بندہ بن جاؤ۔ یعنی اس کے ساتھ تعلق جو ہے

(Attachment) ،(Affiliation)، وہ آپ کو اللہ کا بندہ بنا لے گا۔ تو یہی چاہیے نا اور کیا چاہیے آپ کو؟ بلکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے جیسے علماء کے لیے اکثر بتایا جاتا ہے کہ عالم کی اصلاح نصف سے زیادہ ہو جاتی ہے اس وقت جب وہ غیر عالم سے بیعت ہوتا ہے۔ جب وہ غیر عالم سے بیعت ہوتا ہے تو اس کی نصف اصلاح اسی وقت ہو جاتی ہے کیونکہ نفس ذبح تو ہو گیا۔ اصل چیز تو اس کی ذبح ہو گئی نا، مطلب اس نے اپنے کو کچھ نہیں سمجھا تبھی تو غیر عالم سے بیعت ہوا۔ ورنہ سب سے بڑا غرہ تو علم کا ہوتا ہے نا، کہ میں عالم ہوں۔ تو اسی میں پھنسا رہتا ہے۔ تو جس وقت یہ چیز کٹ جاتی ہے نا تو ظاہر ہے مطلب کوئی راستہ کھل جاتا ہے۔ ہمارے حضرت حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مفتی عبدالقدوس قاسمی صاحب، نام سنا ہو گا۔ یہ قاضی حسین احمد صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ تو ہمارے خاندان کے ساتھ ان لوگوں کے تعلقات، ظاہر ہے ایک ہی گاؤں کے تھے تو ملنے جلنے ہوتے تھے سب۔ تو مفتی عبدالقدوس قاسمی صاحب کے بارے میں بات کرنے لگے حلیمی صاحب، کہ میں نے ان کو کہا کہ بیعت ہو جاؤ۔ اس کے بغیر کام نہیں ہوتا۔ تو میں نے کہا حضرت! بیعت ہوا ہے؟ کہتے ہیں، کس سے؟ میں نے کہا مولانا زکریا… فرمایا، پھر نہیں ہوئی نا بات۔ پھر نہیں ہوئی بات۔ کہتے ہیں وہ جو چیز ہے اس کی قائم ہے۔ وہ کہے گا میں اتنے بڑے شیخ سے بیعت ہو گیا۔ تو چلو، اصل چیز تو نہیں ہوئی۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کہتے "پھر نہیں ہوئی بات"۔ تو اصل بات یہ ہے کہ واقعتاً، اس میں، تصوف میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ نفس کے اوپر آرا چلانا ہے۔ اور یہ آرا جس چیز سے زیادہ چلتا ہو، تو ظاہر ہے اس میں کامیابی زیادہ ہوتی ہے۔

البتہ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ من ذلک ہر ایرے غیرے سے بیعت ہو جاؤ یہ نہیں۔ ہو ان کے اندر شرائط پورے، آٹھ شرائط جو میں اکثر بتاتا ہوں۔ آٹھ شرائط پورے ہوں گے تب ہی ان سے بیعت ہونا ہے۔ لیکن وہ عالم میں بھی پورے ہو سکتے ہیں غیر عالم میں بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ فرضِ عین درجے کا علم چاہیے نا۔ فرضِ کفایہ درجے کے علم کا تو مطالبہ نہیں ہے۔ تو اگر فرضِ عین درجے کا علم اس کے پاس ہے اور آپ کے پاس فرضِ کفایہ درجے کا علم ہے، تو Surrender کر سکتے ہیں نا ایک خاص چیز میں اور وہ کیا ہے؟ نفس کی اصلاح میں۔ ورنہ پھر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کیوں حاجی صاحب سے بیعت ہوئے؟ ہاں حاجی صاحب تو اصطلاحی عالم نہیں تھے۔ لیکن اللہ پاک نے ان کو کیا بنایا؟ خیر یہ تو درمیان میں بات آگئی۔

بیعت

بیعت تصوف کی اصطلاح میں شیخ اور مرید کے درمیان معاہدہ ہے کہ شیخ اس کو طریق تعلیم کرے گا اور مرید اس پر عمل کرے گا۔ اس کا مقصد اعمالِ ظاہری و باطنی کا اہتمام و التزام ہے جس کے لئے مرید شیخ کو اپنا نگران دل سے تسلیم کرلیتا ہے اور شیخ اس کو اپنا سمجھ کر اپنی تعلیم اور دعا سے اس کی مدد کا قصد کرتا ہے۔ اس کوبیعتِ طریقت کہا جاتا ہے اور ہمارے بزرگوں کے ہاں بتواتر رائج ہے۔ اس کی شرعی حیثیت صرف سنتِ مستحبہ کی ہے لیکن اس کی برکت سے فرائض، واجبات اور سنن پر عمل نصیب ہو جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر بعض خوش نصیبوں کو نسبت حاصل ہو جاتی ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی بھی دوسری چیز کچھ بھی نہیں۔ نسبت کو حاصل کرنے کے لئے اپنی تربیت کروانا فرضِ عین ہے اور بیعت اس کا ایک ذریعہ ہے لیکن سنتِ مستحبہ ہے۔

اگر یہ سنتِ مستحبہ نہ بھی ہوتی، صرف مباح ہوتا اور یہ چیزیں حاصل ہوتیں تو اس کو چھوڑ سکتے تھے؟ بھئی جہاز پہ بیٹھنا کون سا سنتِ مستحبہ ہے؟ کیا ہے؟ مباح ہے۔ لیکن آپ حج پہ جا رہے ہیں۔ تو آپ کے لیے وہ ذریعہ ہے نا؟ تو اس ذریعے کی قدر کریں گے یا نہیں کریں گے؟ ٹھیک ہے، ظاہر ہے مباح ہے، کوئی سنتِ مستحبہ نہیں ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ اگر سنتِ مستحبہ بھی ثابت ہو جائے تو یہ تو صرف Promotion کی بات ہے ذرا اور بڑی چیز ہے کہ کم از کم دین تو اس کو کہہ سکتے ہیں۔ سنتِ مستحبہ بھی دین ہی ہے نا۔ جہاز پہ بیٹھنا دین تو نہیں ہے۔

شیخ

وہ عارف جو طالبینِ طریقت (جن کو سالک یا مرید کہا جاتا ہے) کو تعلیم کرنے کا اہل ہو شیخ کہلاتا ہے۔ شیخ کی پہچان کے بارے میں تفصیل سے آگے آرہی ہے

اصل میں شیخ بوڑھے کو کہتے ہیں۔ اور عموماً مشائخ بوڑھے ہوا کرتے تھے۔ آخر عمر بھر کی محنت کے بعد یہ چیز حاصل ہوتی ہے نا۔ اس وجہ سے کسی نوجوان شیخ کو شیخ کہنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کہ بھئی… جو عرب لوگ ہوتے ہیں نا ذرا تھوڑے سے کیونکہ شیخ بوڑھے کو کہتے ہیں اور پیر بھی بوڑھے کو کہتے ہیں فارسی میں۔ اور بزرگ پشتو کے، ہم بوڑھا تہ وائی، بزرگ سہ تہ وائی؟ تو اصل میں یہ ساری چیزیں ایک ہی ہیں۔ پیر ہے، شیخ ہے، بزرگ ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ اس سے اصطلاحی مطلب جو نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جو طریقت پہ چلا سکتے ہیں، وہ یہی ہے۔


مرید

وہ طالب جو شیخ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے اور اپنی اصلاح کے لئے جو کہ فرضِ عین ہے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ شیخ کی ہر بات کو بلا چون و چرا مانے گا۔

فقہ میں بھی بلا چوں و چرا مانا جاتا ہے، امام کا۔ چوں و چرا کرنے والے کو مقلد نہیں کہتے۔ چوں و چرا کرنے والے کو مقلد نہیں کہتے۔ تو اسی طریقے سے شیخ جو ہوتا ہے، اس کی بات میں بھی چوں چرا نہیں ہوتا۔ کیونکہ چوں چرا کرنے سے بعض دفعہ مطلب ہاتھ سے رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹروں میں دو قسم کے ڈاکٹر ہیں، جو میرے Observation میں ہیں۔ کچھ ڈاکٹر کو Educate بھی کرتے ہیں۔ جب اس کے پاس جاتے ہیں توآپ کو سمجھاتے ہیں کہ یہ چیز ایسے ہے، یہ چیز ایسے ہے۔ کچھ Procedure بھی سمجھاتے ہیں، ایجوکیٹ بھی کرتے ہیں، Principles بھی بتاتے ہیں۔ اور کچھ بالکل نہیں کرتے۔ بس گئے ہیں کی Diagnosis کر لی، نسخہ لکھ دیا، کہتے ہیں جاؤ یہ خرید لو اور یہ کر لو، اس طرح استعمال کرنا ہے۔ پوچھیں، نہیں نہیں تجھے کیا کام؟ جاؤ جاؤ جاؤ۔ تو میرے سٹوڈنٹ ہو تھوڑا ہے؟ دونوں قسم کے ڈاکٹر Exist کرتے ہیں۔ اب اگر کسی… اتفاق سے کوئی ایسے ڈاکٹر کے پاس چلا گیا جو Educate بھی کرتا ہے۔ اور پھر بعد میں اس کو کسی ایسی بیماری لگ گئی جو ایسے ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا جو ایجوکیٹ نہیں کرتا اور وہ بس علاج کرتا ہے، تو یہ عادی تو اس کا ہوتا ہے اور وہاں جا کے جب کہتا ہے تو وہ تو… ایسا ہوتا ہے کہتے جاؤ جاؤ۔ آیا ہوا ہے، پوچھنے کے لیے۔ تو کیا سمجھے گا میری بات کو؟ ایسا ہوتا ہے نا؟ تو یہ… اس طرح تصوف میں بھی بعض پیر Educate کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے۔ اور دونوں ٹھیک ہیں۔ کیونکہ مرید Patient ہوتا ہے، مرید سٹوڈنٹ نہیں ہوتا۔ مرید Patient ہوتا ہے، سٹوڈنٹ نہیں ہوتا۔ سو سٹوڈنٹ کو سمجھانے کا تو پابند ہے نا، Patient کو سمجھانے کا تو پابند نہیں ہے۔ Patient کو تو صرف علاج کا پابند ہے۔ تو مختلف مشائخ کا اپنا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ اصل میں یہ اس وجہ سے میں یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ ہمارے ہاں تھوڑی بہت ایجوکیشن ہے۔ ہم لوگ جیسے ابھی چل رہا ہے نا، یہ ایجوکیشن ہی ہے نا، ایجوکیشن ہے۔ لیکن بعض لوگ اس ایجوکیشن کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ وہ بال کی کھال اتارنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ بھی سمجھاؤ، یہ بھی سمجھاؤ، یہ بھی سمجھاؤ، اپنی حیثیت سے آگے بڑھ کر بات کرتے ہیں۔ کہ جتنا وہ سمجھ نہیں سکتے جتنا کہ وہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہر چیز کی Prerequisite ہوتی ہے نا۔ تو جب تک وہ سمجھ نہیں آئے تو کو اگلا کیسے سمجھ میں آئے گا؟ تو ایسے لوگوں سے پھر کہنا پڑتا ہے کہ بس… اتنا کافی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ ورنہ پھر ڈیمانڈ ہوتا ہے نا مطلب یہ بھی سمجھا، بھئی سمجھانے کا تو ٹھیکہ کسی شیخ نے لیا ہی نہیں ہے۔ اس نے تو صرف اصلاح کرنے کے لیے آپ کو قبول کیا ہے۔ اور آپ نے بھی اصلاح کے لیے اس سے بیعت کی ہے۔ تو بس جب تک اصلاح ہو رہی ہے بس یہ کافی ہے نا۔ نہیں ہو رہی تو اپنا راستہ الگ کر لو۔ لیکن اگر اصلاح ہو رہی ہے، تو بس یہ کافی ہے۔ اس سے زیادہ کی کیا ضرورت ہے؟

ایک دفعہ ایسا ہوا، مجھ سے ایک صاحب بیعت ہوئے۔ ان کے والد صاحب میرے پاس آئے۔ مجھے کہتے ہیں ان کو یہ بتا دیں، یہ بتا دیں، یہ بتائیں، اس کو یہ چیز کا علم نہیں، یہ چیز کا علم نہیں، یہ چیز کا علم نہیں۔ میں چونکہ ان چیزوں سے گزر چکا تھا اس طرح کہ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے لاہور کے ایک صاحب بیعت ہوئے تھے، لڑکا تھا سٹوڈنٹ، ان کے والد صاحب مولانا صاحب کے سر ہو گئے، آپ ان کو یہ سمجھائیں، آپ ان کو یہ سمجھائیں، آپ ان کو یہ سمجھائیں۔ مولانا صاحب Accommodate کرنے والے تھے، مانتے تھے اور Adjust کرتے رہتے تھے۔ لیکن اخیر حد ہو گئی۔ تو مولانا صاحب کو اخیر کہنا پڑا ہے کہ بھئی اگر آپ اپنے بیٹے کی خود تربیت کر سکتے ہیں تو لے جاؤ۔ میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی لڑکا کسی شیخ سے بیعت ہو جائے تو اس کا شیخ اس کے والد سے بیعت ہو جائے۔ میں نے یہ نہیں سنا۔ تو اگرآپ چاہتے ہیں تو میں معذرت کرتا ہوں، آپ لے جائیں اپنے بیٹے کو۔ بس پھر وہ ٹھیک ہو گئے۔ تو چونکہ مجھے اس کا پتا تھا تو میں نے اس صاحب سے کہا، دوست تھے ہمارے ظاہر ہے… میں نے اسے کہا یہ مجھے بتاؤ اس کو کچھ فائدہ ہوا ہے؟ کہتے ہیں بہت، میں نے کہا بس اور بھی ہو گا ان شاءاللہ۔ انتظار کریں۔ اور میں نےآپ کو بتایا اس کے ساتھ ذرا اختلاف تھا اس کا، والد کے ساتھ کسی وجہ سے، اختلاف تھا۔ تو میں نے کہا، تو اس کے سامنے میرے پاس آنا بھی نہیں۔ کیونکہ اگر تو آئے گا نا تو وہ سمجھے گا کہ میں تیری بات مان رہا ہوں، تو مجھ سے بھی کٹ جائے گا پھر جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی نہیں ہو گا۔ لہٰذا خبردار ان کے سامنے میرے پاس آ گئے۔ اور میں نے آپ کی ایک بات بھی نہیں سننی، یاد رکھو۔ اگر آپ کو میرے طریقہ تربیت پسند نہیں ہے، ان کو کسی اور کے پاس لے جاؤ۔ لیکن میں نے اپنے طریقے سے اس کی تربیت کرنی ہے، آپ کے طریقے سے نہیں کرنی۔ الحمدللہ کا شکر ہے کہ پیچھے ہو گئے اور آج اس کا بیٹا سب سے زیادہ اس کی خدمت کر رہا ہے۔ شکر ہے جی، اللہ پاک نے نواز دیا۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ کہ لوگوں کے ڈیمانڈ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ۔۔اب میں آپکو بتاوں میں اِدھر ہوں نا اعتکاف میں ہر ایک میرے ساتھ اتنی اپنائیت کرے راستے میں بھی مجھے کھڑا کردے جی یہ کیا چیز ہے، یہ کیا چیز ہے، یہ کیا چیز ہے اور دوسرا میرے سامنے کتابیں لائے کہ اس میں یہ کیا مطلب ہے؟ تو کیا خیال ہے میں کام کرسکوں گا؟ ایک انتظام ہے انتظام کے مطابق ہی چلتا ہے آدمی۔ ایسے تو نہیں چلتا۔ تو یہ چیزیں ضروری ہوتی ہیں کہ Protocol understand کرنا چاہیے


وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَن ِالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


تصوف کی چند مفید اصطلاحات - فہم التصوف