اسلام میں کامل دخول اور تمام دینی شعبوں کی اہمیت و باہمی احترام

پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیات 208، اشاعت اول 20 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

  اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونے کا قرآنی مطالبہ (کامل اتباع)۔• عبادات اور معاملات (لین دین) میں توازن کی اشد ضرورت۔• مذہبی وضع قطع (داڑھی، تسبیح) کے باوجود بددیانتی کے دعوتِ دین پر منفی اثرات۔• دین کے مختلف شعبہ جات (تبلیغ، مدرسہ، خانقاہ، تجارت) کا مقام اور اہمیت۔• اللہ کی طرف سے عطا کردہ "طبعی تشکیل" کا احترام اور دینی کاموں میں باہمی اتحاد۔  

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ﴿208﴾


صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ہمارا جو سبق تھا، آج کا جو سبق ہے وہ تو سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے شروع ہو رہا ہے۔ لیکن جو کل ایک آیت گزری ہے، وہ جو بہت زیادہ اہم ہے آج کل کے حالات کے لحاظ سے، اور آج چونکہ جوڑ ہے، تو اس لیے اس کو دوبارہ بھی اس کو بیان کیا جاتا ہے مختصراً۔ تاکہ یہاں بھی اس کا فائدہ ہو۔

اصل میں قرآن شریف جو ہے، یہ تو اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ کا کلام ہر مرحلے پہ مدد کرتا ہے، ہر مرحلے میں ہم اس سے ماشاء اللہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج کل جو افراط تفریط کا دور ہے، بہت ساری ایسی چیزوں پر زور دیا جاتا ہے جس پر اتنا زور نہیں دیا گیا اور بہت ساری ایسی چیزوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جن پر زور دینا چاہیے۔ تو اس افراط تفریط کے دور میں قرآن پاک سے مدد لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جو کلام ہے اس میں اتنا اعتدال ہے کہ اگر ایک وقت میں جہنم کا ذکر ہو رہا ہے تو ساتھ ہی جنت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں اچھے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے تو ساتھ ہی برے لوگوں کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں اچھی صفات کا ذکر ہو رہا ہے تو ساتھ ہی بری صفات کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔ گویا کہ بالکل ہر ایک چیز کا مطلب ساتھ ساتھ ہی تدارک کیا جاتا ہے اگر کوئی غلطی وغیرہ کسی کو لگتی ہے۔ افراط، تفریط سے بچاتا ہے۔

اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ﴿208﴾

اب دیکھ لیں اس وقت صورتحال کیا ہے، عرض کرتا ہوں۔ کچھ لوگوں نے عبادات کو دین سمجھا ہے۔ آگے کوئی بات نہیں۔ معاملات کی کوئی پرواہ نہیں ہے، معاملات میں چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ جب عبادات آ جائیں، بلکہ بعض لوگوں نے تو سنت لباس کو ہی دین سمجھا ہوا ہے کہ سنت لباس پہن لیا، ماشاءاللہ بزرگ مشہور ہو گئے، تسبیحات ہاتھ میں آ گئے۔ اب سب کچھ ٹھیک ہے چاہے وہ اس کے معاملات کتنے ہی گندے کیوں نہ ہوں۔ کسی سے وعدہ کر لے پورا نہ کرے۔ دھوکہ دہی، جھوٹ، فریب۔ یہ ساری چیزیں... یہ تو پھر ہماری اس تسبیح کو اور نماز کو بدنام کرنے والی چیزیں ہیں۔ تو اگر یہ چیزیں ساتھ نہ ہوں، معاملات ٹھیک نہ ہوں، معاشرت ٹھیک نہ ہو، تو اس سے تو ہمارے دین کی یہ جو بنیادی چیزیں ہیں بدنام ہو جائیں گی۔

صحیح بات ہے میں عرض کرتا ہوں کہ راجہ بازار میں آپ جائیں... یہ بہت شرم کی بات ہے لیکن کیا... کیا کریں؟ جس کے ہاتھ میں تسبیح ہے، داڑھی ہے، وہ زیادہ آپ کو کاٹے گا۔ اب مجھے بتاؤ کہ اس سے نتیجہ کیا ہوگا؟ نتیجہ بہت خطرناک ہے۔ پہلے وقت میں مسلمانوں کو دیکھ کر لوگ اسلام لاتے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کو دیکھ کر لوگ اسلام سے رک رہے ہیں۔ تو یہ صورتحال ہے۔

تو اس وجہ سے یہ آیت اب دیکھو ہماری مدد کر رہی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً۔

اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ اور شیطان کے نقشِ قدم پہ نہ چلو۔

عقائد صحیح ہونے چاہئیں، عبادات صحیح ہونے چاہئیں، معاملات صحیح ہونے چاہئیں، معاشرت صحیح ہونی چاہیے، اخلاق صحیح ہونے چاہئیں۔ اور اگر یہ صحیح نہیں ہیں، تو اپنی کمی سامنے رکھنی چاہیے کہ مجھ میں یہ کمی ہے۔ مثلاً اگر معاملات صحیح نہیں ہیں تو کم از کم جان تو لے نا کہ مجھ میں معاملات کی گڑبڑ ہے۔ مجھ میں کمی ہے۔ کم از کم نماز پڑھ کر بزرگ بننے کا دعویٰ تو نہ کرے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟

حضرت عمر رضي الله عنه نے کسی سے پوچھا کہ فلاں آدمی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا جی اچھا آدمی ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے ان کے ساتھ کوئی لین دین کی ہے؟ نہیں! کوئی سفر اس کے ساتھ کیا ہے؟ نہیں! پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں اچھا آدمی ہے؟ آپ نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہوگا۔

دیکھو ذرا غور فرماؤ... کیا فرمایا؟ آپ نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اور آج کل دیکھو نا یہ مسئلہ کتنا زیادہ حاوی ہے۔ آپ اندازہ کر لیں، اچھا خاصا دیندار ہوگا لیکن جس وقت شادی ہوگی، دین رخصت! دین کا پھر کوئبی پتہ نہیں لگے گا۔ یعنی اچھے اچھے شریف لوگ، ان کے ہاں اگر بیٹا ہو جائے تو وہ ڈھوم کو بلاتے ہیں اور ڈبہ ڈبہ کیا... خدا کے بندو! تم کیسے اپنے آپ کو دیندار سمجھتے ہو؟

یہ اصل میں ہماری کمزوریاں ہیں۔ اپنی کمزوریوں کو مان لو تو ترقی شروع ہو جائے گی۔ تو سب سے پہلے ہمیں اس کو دیکھنا ہے کہ اللہ پاک نے ہم سے کیا فرمایا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ ایک تو یہ والی بات ہے، یاد رکھیے۔

اب اسلام کو پھیلانے کے لیے اور اسلام کو فروغ دینے کے لیے جو ذرائع ہیں، جو شعبہ جات ہیں، وہ کئی ہیں۔ اور ہر ایک اپنے اپنے لحاظ سے اہم ہے۔ مثلاً دعوت و تبلیغ ہے، تعلیم و تدریس ہے، تصنیف و تالیف ہے، جہاد ہے، دینی سیاست ہے... بلکہ حتیٰ کہ صحیح طریقے سے تجارت ہے۔ یہ ساری چیزیں فرضِ کفایہ ہیں۔ یہ ساری چیزیں فرضِ کفایہ ہیں۔ اس وقت آپ دیکھیں South Africa میں... مسلمانوں کو جو عزت حاصل ہے، وہ اس لیے ہے کہ وہ تجارت پہ حاوی ہیں۔ ٹھیک ہے مطلب اس سے ان کو دین کو فائدہ ہے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان تمام چیزوں کو دیکھنا پڑے گا۔ جتنے فرضِ کفایہ ہیں، ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔ اب کوئی دعوت و تبلیغ میں ہے، سبحان اللہ! اگر کوئی تعلیم و تدریس میں ہے، سبحان اللہ! اگر کوئی سیاست میں ہے، صحیح سیاست میں ہے، دینی سیاست میں ہے اور صحیح... سبحان اللہ! کوئی جہاد میں ہے تو سبحان اللہ! اگر کوئی صحیح معنی میں تجارت کر رہا ہے، سبحان اللہ! یہ ساری باتیں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان میں کوئی بھی ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ جیسے پانچ چھ دروازے ہوں، اور پانچ چھ دروازوں پہ گارڈ موجود ہوں۔ اور ایک گارڈ گر جائے، مر جائے، کوئی حادثہ ہو جائے۔ کیا خیال ہے باقی گارڈ کیا کریں گے؟ اس دروازے کے بارے میں؟ چھوڑ دیں گے اس کو؟ چھوڑو! بلکہ فوراً اس کا انتظام کریں گے کہ یہاں پر کوئی آ جائے، بلکہ نہیں تو خود اس کا انتظام سنبھال لیں گے۔

تو اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کسی بھی شعبے کو کمزور نہیں کرنا۔ مجھے خوب یاد ہے حاجی عبدالوہاب صاحب رحمة الله عليه یہ رائیونڈ میں تھے ہم۔ ایک عرب طالب علم نے حفظ کیا تھا۔ اس پہ ایک تقریب سی ہو گئی تھی، حضرت اس میں بیان فرما رہے تھے۔ تو حضرت نے فرمایا: یہ مدرسے ہمارے ہیں، یہ خانقاہیں ہمارے ہیں اور یہ سارے دینی کام ہمارے ہیں۔ اگر ہم نے علم حاصل کرنا چھوڑ دیا، مدرسے بند ہو گئے، تو ہم تو پھر جہالت ہی پھیلائیں گے۔ یہ حضرت کے الفاظ ہیں۔ ہم تو پھر جہالت ہی پھیلائیں گے۔ اور اگر خانقاہیں بند ہو گئیں تو پھر اخلاص کہاں سے ملے گا؟

اب صورتحال کیا ہے؟ اب صورتحال ہے کہ جہاں کوئی دین کا کام ہو تو دیکھیں، کہتے ہیں ہمارے ساتھ نکلتا کیوں نہیں؟ خدا کے بندو ہر چیز کا اپنا اپنا ضرورت ہے۔ مجھے خوب یاد ہے میرا شیر گڑھ میں ہماری تشکیل تھی۔ امیر صاحب ادھر صوابی کے علاقے کے تھے۔ بڑے اچھے آدمی تھے، نیک آدمی تھے۔ مجھے ساتھ ساتھ لے جاتے تھے۔ تو خصوصی گشت پہ اکثر جاتے تھے ساتھ۔ تو وہاں پر ایک بہت بڑے بزرگ تھے، شیخ بھی تھے، عالِم بھی تھے۔ تو ان کے ہاں دعا کے لیے جا رہے تھے۔ یہ ہمارا طریقہ تھا کہ تبلیغی جماعت کا کہ ایسے بزرگ ہوتے ہیں ان سے دعا کے لیے جاتے تھے۔ کچھ ہدیہ وغیرہ بھی لے جاتے تھے۔ تو ہم نے اس طرح کچھ انتظام کیا تھا اور جا رہے تھے۔ اور راستے میں مجھ سے کہتے ہیں: شبیر! یاد رکھو، دل میں بھی ان کو دعوت دینے کی نیت نہیں کرنا۔ دل میں بھی ان کو دعوت دینے کی نیت نہ کرنا۔ خدانخواستہ... (دیکھیں یہ ان کے الفاظ ہیں)۔ ہماری چکنی چپڑی باتوں سے، اگر وہ اپنا کام چھوڑ کر ہمارے پاس آ گیا، اور دین کے کام کو نقصان پہنچا اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ یہ بات ہے تقریباً 1971، 72 کی۔ ٹھیک ہے نا؟ اب پلوں کے ساتھ نیچے پانی بہت گزر گیا ہے۔ حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔

اب علماء کو دعوت دینے کی نیت کی جاتی ہے، مشائخ کو دعوت دینے کی نیت کی جاتی ہے۔ اور اگر وہ دعوت قبول نہیں کرتے، ان کے بارے میں برے خیالات دل میں لاتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے۔ یہ غلط بات ہے۔ یہ دین کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ کبھی بھی اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں اگر مدرسے میں بیٹھا ہوں، خانقاہ کے بارے میں برا نہ سمجھوں۔ جو جہاد کر رہے ہیں ان کے بارے میں برا نہ سمجھوں۔ جو کسی اور دین کے کام میں لگے ہیں ان کے بارے میں برا نہ... ان کے لیے دعائیں کروں۔ وہ ہماری ضرورت ہے۔ چاہے کوئی بھی دین کا کام ہو۔ آپس میں متحد، دل جڑے ہوئے۔ ایک دوسرے کے لیے دعائیں کرتے ہوئے۔ پھر اپنا کام کیے جاؤ، جس پر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو لگایا ہوا ہے۔ تشکیل تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے... ایک طبعی تشکیل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور ایک ہماری تشکیل ہوتی ہے کہ ہم کہتے ہیں تم یہ کام کرو۔ بھئی ہماری تشکیل اچھی ہے یا اللہ کی تشکیل اچھی ہے؟ اللہ کی تشکیل اچھی ہے۔ اللہ پاک نے میری طبیعت اگر خانقاہ کے لیے بنائی ہے، سبحان اللہ! پھر آپ کون ہوتے ہیں اس کو چیلنج کرنے والے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کی تبلیغ کے لیے بنائی ہوئی ہے، تو کون ہوتا ہے اس کو چیلنج کرنے والا؟ بس ٹھیک ہے، جو طبیعت اللہ تعالیٰ نے کسی کی بنائی ہوئی ہے، دین کے کام سارے دین کے کام ہیں۔ ہر دینی کام اہم ہے۔ لہٰذا جس کی تشکیل جس طرف ہو گئی ہے، یہ مِن جَانِبِ اللّٰه تقسیم ہے اور اس کو مان لینا چاہیے۔

تو یہ آیت ہمیں ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، کہ ہم کبھی بھی کسی بھی دینی کام کے بارے میں کم نہ سوچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اسلام میں کامل دخول اور تمام دینی شعبوں کی اہمیت و باہمی احترام - درسِ قرآن - دوسرا دور