اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات! ہمارا آج کل جو موضوع چل رہا ہے عقائد کے بارے میں، وہ الحمدللہ آج بھی ان شاء اللہ چلے گا۔
تو کل الحمدللہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کے بارے میں اور اہل بیت کے بارے میں بات ہوئی تھی۔ تو میں نے عرض کیا تھا کہ اصل میں اگر صرف صحابہ یا صحابیات کی بات ہو جائے تو پھر اس میں وہی آتے ہیں کہ صحابہ، صحابیات، اہل بیت بھی آتے ہیں اور صحابہ عام صحابہ بھی آتے ہیں، اس طرح صحابہ، عام صحابہ اور اہل بیت صحابہ اور ساتھ جو امہات المومنین وہ بھی صحابیات کے ساتھ آ جاتی ہیں۔ یہ اصل میں اگر صرف صحابہ یا صحابیات کا لفظ آ جائے۔
لیکن اگر کوئی خاص آ جائے جیسے اہل بیت ہی آ جائے تو اس میں پھر صرف اہل بیت ہی مراد ہوں گے اور اگر امہات المومنین میں سے کسی کا نام آ جائے تو اس میں صرف امہات المومنین ہی مراد ہوں گی۔
تو ماشاءاللہ جیسے میں نے عرض کیا کہ اس کے لیے ہم نے تین کلام کہے تھے، صحابہ کے بارے میں تو آپ حضرات نے سن لیا ہے اور اہل بیت کے بارے میں سن لیا، امہات المومنین کا یہ باقی تھا۔ تو ہمارے اوپر ان کا بہت حق ہے، صحیح بات ہے یعنی اپنی ماؤں کا جو ہے نا وہ بہت زیادہ حق ہے، بالخصوص جو عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کا کیونکہ ان کو بعض بدقسمت لوگ وہ غلط طریقے سے یاد کرتے ہیں۔ تو ان کا دفاع ہمارے ذمے ہے، ظاہر ہے ان کا دفاع ہمارے ذمے ہے کہ ان کا دفاع ہم کر لیں، یہ ضروری ہے۔ تو آج ان شاءاللہ پہلے اسی سے ابتدا کرتے ہیں۔
امہات المومنین کا مقام
میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو، جھکا احترام سے میرا جاتا سر ہے
خدیجہؓ کا جب لب پہ آتا ہے نام
تصور میں میں پیش کردوں سلام
وہ ایثار و قربانی و احترام
نبی کے لئے جو ہمیش کرتی تھیں، ذرا سوچے کوئی کہ وہ کس قدر ہے
میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو، جھکا احترام سے میرا جاتا سر ہے
حمیرا لقب عائشہؓ ماں ہماری
اشاعت میں دیں کا حصہ ان کا بھاری
اٹھائی ہے کس شان سے ذمہ داری
ہے قرآن میں ان کی براءت کا اعلان جو ظاہر کہ سب پر" کالشمس و القمر "ہے
میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو، جھکا احترام سے میرا جاتا سر ہے
ہمیں ماؤں سے دین کا حصّہ ملا وہ
ہے باقی صحابہؓ سے بالکل چھپا وہ
جو دیں کے لئے تھا ضروری کیا وہ
بغیر اس کے تکمیل دین کیا تھا ممکن، یوں احسان ان کا بہت امت پرہے
میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو، جھکا احترام سے میرا جاتا سر ہے
تو بھیجیں ہم ان پہ شبیرؔ اب سلام
رہے دل میں ان کے لئے احترام
ایصالِ ثواب کا بھی ہو اہتمام
کہ ماؤں کا حق ہے مسلم، وہ سمجھے شرافت کی جس کی کوئی کچھ نظر ہے
میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے
ولی، ولایت اور کرامت سے متعلق
مسلمان جب خوب عبادت کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے اور دنیا سے محبت نہیں رکھتا اور پیغمبر صاحب کی تابعداری کرتا ہے تو اللہ کا دوست اور پیارا ہو جاتا ہے، ایسے شخص کو ولی کہتے ہیں۔ اس شخص سے کبھی ایسی باتیں ہونے لگتی ہیں جو اور لوگوں سے نہیں ہو پاتیں، ان باتوں کو کرامت کہتے ہیں۔ ولی کتنے بڑے درجے کو پہنچ جائے مگر نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ وہ خدا کا کیسا ہی پیارا ہو جائے مگر جب تک ہوش و حواس باقی ہوں شرع کا پابند رہنا ضروری ہے۔ نماز روزہ اور کوئی عبادت معاف نہیں ہوتی، جو گناہ کی باتیں ہیں اس کے لیے درست نہیں ہو جاتیں۔ جو شخص شریعت کے خلاف ہو وہ خدا کا دوست نہیں ہو سکتا، اگرچہ اس کے ہاتھ سے کوئی اچنبھے کی بات دکھائی دے تو یا تو جادو ہے یا نفسانی اور شیطانی دھندا ہے، اس سے پھر کوئی عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ ولی لوگوں کو بعض غیب کی باتیں سوتے جاگتے معلوم ہوتی ہیں اس کو کشف اور الہام کہتے ہیں، اگر وہ شرع کے موافق ہو تو قبول ہے، اگر شرع کے خلاف ہے تو رد ہے۔
یہ اولیاء اللہ کے بارے میں ہے، اصل میں لوگوں نے اولیاء اللہ کے ساتھ کچھ خاص باتیں ایسی وابستہ کی ہیں جو شرک ہوتا ہے۔ تو نہ تو ان اولیاء اللہ نے شرک کیا ہے نہ انہوں نے شرک کی اجازت کبھی دی۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی شرک تو نہیں کیا لیکن عیسائی جو ہوتے ہیں وہ بہت بڑے مشرک ہیں۔ بلکہ جن بتوں کے نام ہیں نا سورۃ نوح میں، وہ اولیاء اللہ تھے اس وقت۔ تو بس لوگوں نے ہوتے ہوتے ان کی تصویریں بنائیں، تصویروں کے سامنے جھکنے لگے، اس کے بعد پھر ان کے مجسمے بنائے، وہ آہستہ آہستہ بت پرستی اس میں رواج چڑھ گئی۔ تو اس طرح ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس بات کو خیال میں رکھنا چاہیے کہ ولی کو مقام جو اللہ نے دیا ہے اس کا تو اقرار کرنا چاہیے، لیکن اللہ کی خدائی میں اس کو شریک نہیں کرنا چاہیے، اس کے لیے ہم صرف اللہ پاک کی ذات ہی کی بات کریں اور اللہ ہی کی ذات سے مانگیں۔ یہ بہت لازمی بات ہے۔ یعنی اولیاء اللہ جو ہوتے ہیں وہ خود پوری زندگی اس پر گزار چکے ہوتے ہیں توحید پر اور آپ ﷺ کے طریقے پر۔ تو نہ وہ بدعت کرتے تھے نہ وہ شرک کرتے تھے۔ تو اب ان کو اگر شریک کیا جائے تو کیا اس پر خوش ہوں گے؟ ظاہر ہے خوش تو نہیں ہوں گے۔ یہ تو بس کیا ہے لوگوں نے اپنے بس خوشی کے لیے کوئی دھندے بنائے ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی کی قبر پہ اگر وہ چادر چڑھاتے ہیں تو مجھے بتاؤ اس ولی کو اس سے کیا فائدہ؟ نہ وہ اس سے خوش ہے نہ اس کو کوئی مسئلہ ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ جنت میں ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کی کھڑکی کھولی ہے تو آپ کی چادر کو کیا کرے گا؟ اول تو یہ کہ اس کی طرف التفات ہی نہیں ہو گا اور اگر دیکھ بھی لے تو اس کو کیا کرے گا؟ وہ تو ایسے جیسے کسی کے ناک میں وہ کوئی بدبودار چیز وہ ڈال دی جائے۔ تو اس سے خوش تھوڑا ہو گا۔ تو ایسے کام نہیں کرنا چاہیے، ہاں البتہ ان کا اکرام بہت کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ محبت بھی کرنا چاہیے اور ان کے طریقے پہ چلنا چاہیے۔ یہ بات بہت ضروری ہے۔ یعنی ولی کے نہ کرامت سے انکار کرنا چاہیے نہ ان کے مقام سے انکار کرنا چاہیے۔ لیکن ان کو خدا تو نہیں ماننا چاہیے نا کیونکہ انہوں نے تو کبھی اپنے آپ کو اس طرح نہیں پیش کیا۔
کافر کہنے یا لعنت کرنے سے متعلق
کسی کا نام لے کر کافر کہنا یا لعنت کرنا بڑا گناہ ہے۔ ہاں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ظالموں پر لعنت، جھوٹے پر لعنت، مگر جن کا نام لے کر اللہ اور رسول نے لعنت کی ہے یا اس کے کافر ہونے کی خبر دی ہے اس کو کافر، ملعون کہنا ہرگز گناہ نہیں ہے۔
یا کھلم کھلا کوئی کفر کر لے تو پھر تو اپنے اوپر اس نے خود ہی گواہی دے دی۔ کھلم کھلا کوئی کفر کر لے تو پھر تو ظاہر ہے اس کو کافر بھی کہہ سکتے ہیں، جیسے سلمان رشدی وغیرہ جو تھے، تو کھلم کھلا اس نے کر لیا تو ظاہر ہے پھر تو ان کو کافر کہنا پڑے گا۔
قبر کے حالات سے متعلق
جب آدمی مر جاتا ہے اگر اس کو دفن کیا تو دفن کرنے کے بعد اور اگر نہ دفن کیا جائے تو جس حال میں بھی ہو اس کے پاس دو فرشتے جن میں سے ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہتے ہیں، آ کر پوچھتے ہیں کہ تیرا پروردگار کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہیں؟ اگر مردہ ایماندار ہوا تو ٹھیک ٹھیک جواب دیتا ہے، پھر اس کے لیے سب طرح کی چین ہے۔ جنت کی طرف کھڑکی کھول دیتے ہیں جس سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے اور وہ مزے میں پڑ کر سو رہتا ہے اور اگر مردہ ایماندار نہ ہو تو سب باتوں میں یہی کہتا ہے کہ مجھے کچھ خبر نہیں، پھر اس پر بڑی سختی اور عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا۔ اور بعضوں کو اللہ تعالیٰ اس امتحان سے بھی معاف کر دیتے ہیں مگر یہ سب باتیں مردے کو معلوم ہوتی ہیں ہم لوگ نہیں دیکھتے، جیسے سوتا آدمی خواب میں سب کچھ دیکھتا ہے اور جاگتا آدمی اس کے پاس بے خبر بیٹھا رہتا ہے۔ مرنے کے بعد ہر دن صبح اور شام کے وقت مردے کا جو ٹھکانہ ہوتا ہے اس کو دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر حسرت بڑھا دی جاتی ہے۔
ایصال ثواب سے متعلق
مردے کے لیے دعا کرنے سے کچھ خیر خیرات دے کر بخشنے سے اس کو ثواب پہنچتا ہے اور اس سے اس کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
یہ اصل میں بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں، ٹھیک ہے ان کا مسلک ہے اس سے ہم کچھ وہ نہیں کہتے لیکن ہم لوگ اس کو مانتے ہیں کہ مردے کو ثواب اگر کوئی بخش دے، ایسی چیز جس کا ثواب بخشا جا سکتا ہو، مثلاً وہ فرض و واجب نہ ہو، کیونکہ فرض و واجب کے ہم خود محتاج ہیں، وہ کسی کو نہیں دے سکتے۔ دونوں گردے کسی کو دے سکتے ہیں؟ ہاں تو ظاہر ہے اس کے ہم خود محتاج ہیں۔ البتہ نفل، چاہے نفلی صدقات ہوں، چاہے نفلی عبادات ہوں جیسے کوئی نماز پڑھ لے نفل، کوئی روزہ رکھے نفل، کوئی حج کرے نفل، کوئی عمرہ کرے نفل، تو یہ سب جو ہے نا مطلب کیا ہے یہ اس کا ثواب ہوتا ہے۔ تو پہلے ثواب کمانا پڑتا ہے پھر ایصال کرنا پڑتا ہے، اگر ثواب ہی نہ کمایا تو کیا ایصال کرو گے؟ تو اس کی مثال یہ ہے کہ جس شخص نے کوئی بدعت وغیرہ کیا ہو یعنی کسی کام میں تو اس کو ثواب ملتا ہی نہیں ہے، وہ تو گناہ ہوتا ہے، تو وہ ثواب کیسے آپ بخشیں گے؟ وہ ثواب تو آپ نہیں بخشتے وہ ثواب ہے ہی نہیں اس میں تو آپ کیسے بخشیں گے؟ سب سے پہلے آپ ثواب کمائیں گے پھر اس کے بعد آپ اس کو بخشیں گے۔ مثلاً نماز کوئی غلط طریقے سے پڑھ لے تو اس کا ثواب تو کوئی نہیں بخش سکتا، وہ تو ثواب اس کا ہوتا ہی نہیں ہے تو ثواب کیسے بخشے گا؟ تو نماز صحیح پڑھنا پڑے گا، روزہ بھی صحیح رکھنا پڑے گا، عمرہ حج بھی صحیح کرنا پڑے گا، پھر اس کا ثواب اگر کوئی بھیجنا چاہے تو بھیج سکتا ہے۔ اس کی نیت کر لے تو بس ہو جائے گا ان شاء اللہ، وہ اللہ تعالیٰ پہنچا دیں گے۔ پھر اس میں دو قول ہیں، کچھ حضرات کہتے ہیں کہ تقسیم ہوتا ہے۔ آپس میں مختلف پر تقسیم ہوتا ہے جس نے جتنوں کو آپ نے بخشا نا تو ان پہ تقسیم ہو جائے گا، کوئی کہتا نہیں ہر ایک کو اتنا اتنا ملتا ہے۔ تو یہ دونوں قول ہیں۔ تو حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے اس میں فیصلہ فرمایا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ سب کو بخش دیا جائے اس میں کچھ حصہ اپنے خاص لوگوں کو بخشا جائے کہ اگر وہ بات نہ ہو تو کم از کم اس کو جو آپ بھیجنا چاہتے تھے تو اس کو تو پہنچ جائے نا۔ تو کچھ حصہ خاص لوگوں کو اگر جو آپ نے وہ بھیجنا ہے تو ان کے لیے کرو اور باقی عام کرو۔ تو مطلب اس کے سب کے ہو جائے گی۔ کہتے ہیں ایک عالم تھے جو زندگی میں یہ نہیں مانتے تھے کہ ثواب پہنچتا ہے۔ فوت ہو گئے۔ فوت ہو گئے تو کسی نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا حضرت آپ اب بھی مانتے ہیں کہ نہیں پہنچتا؟ کہتے ہیں پہنچتا ہے لیکن وقت گزر گیا تھا پھر مطلب ظاہر ہے پھر کیا کیا جا سکتا ہے وہ تو وقت گیا۔ ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) زندہ تھے وہ فرمایا ہے کوئی ایسا شخص جو دو رکعت نفل پڑھ کے کہے کہ ابوہریرہ کے لیے ہے۔ تو صحابی کا عمل ہے، صحابی کا عمل تو پھر اس کا تو اتباع کر سکتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ثواب کوئی بھی کسی کو بخش سکتا ہے۔ البتہ ثواب کما کے بخشو گے نا۔
اب آج کل کیا طریقہ ہوتا ہے یہ جو فوتگی کی رسمیں ہیں ہے؟ تو اس میں تو پھر کیا ہوتا ہے؟ وہ تو طریقے ہی غلط ہوتے ہیں مطلب نہ اس میں ثواب ہوتا ہے نہ کوئی بھیج سکتا ہے۔
وہ فکر آ گئی ہے نا؟
تو اس پر بھی ہم نے کچھ لکھا ہے یہ جو فوتگی کی رسم ہے، شادی بیاہ کی رسم ہے اس پہ لکھا ہے۔ تو جو فوتگی والی ہے نا وہ میرا خیال میں ضروری ہے کیونکہ غم بھی ہوتا ہے اور فائدہ بھی نہ ہو تو پھر کیا مطلب؟
یہ کتاب ہماری جو ہے یہ تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں عقائد بیان کیے گئے ہیں۔ ہمارے جو عقائد ہیں ان کو بتایا گیا ہے اور جو غلط چیزیں ہیں ان کو سمجھایا گیا ہے۔
مثلاً اس کا اگر آپ ٹائٹلز میں دیکھیں کہ کیا کیا اس میں ہیں؟ تو اس میں کیا ہے؟ سب سے پہلے تو اس میں جیسے ہر کتاب شروع ہوتی ہے حمدِ باری تعالیٰ سے اور پھر اس کے بعد نعت شریف ہے یہ تو ایک ہمارا procedure ہے، پھر دعا کے بارے میں ہے۔ اور توحید پر ایمان، مقام نبوت، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، تقدیر اور دعا، آخرت پر ایمان ،
(مولانا آپ کو تو دے دوں گا یہ آپ کے لیے بھی ضروری ہے سب لوگ کو سمجھانے کے لیے)
اصل دعوت الی اللہ کیا ہے؟ دینی مدارس کی اہمیت، فرض عین علم کیا ہے؟ فرض عین علم کی کتابیں، فرض عین علم کی تدریس، دینی سیاست کی اہمیت، جہاد فی سبیل اللہ، صحابہ کی شان، اہل بیت کا مقام یہ تو ابھی آپ نے سن لیا، امہات المومنین کا مقام، اہل سنت والجماعت کا مسلک، قرآن و سنت معیار ہدایت ہے، صحابہ بطور شارح قرآن و سنت، اہل سنت والجماعت کون ہے؟ صحابہ سے بغض کا مطلب، غیر مقلدین کا پہلا دعویٰ، غیر مقلدین کا دوسرا دعویٰ، اہل سنت کا استفہامیہ جواب، غیر مقلدین کا تیسرا دعویٰ، جواب میں غیر مقلد کا اپنا خیال، غیر مقلدیت کا وبال، فقہاء اور صحابہ، اہل سنت اور اہل بیت، اہل سنت اور تینوں گروہ صحابہ، اہل سنت کے امام اہل بیت کے ساتھ، اہل سنت کے حاملِ ادب آقا کے ہر ساتھی کے ساتھ، فقہاء کا مقام، فقہاء اور محدثین، پھر محدثین کا مقام، محدثین فقہاء اور صوفیاء، اختلاف، اختلاف کیا چیز ہے؟ کیسے اختلاف جائز ہے اور کون سا اختلاف جائز نہیں ہے؟ یہ سوال و جواب کی صورت میں ہے یعنی شاگرد پوچھتا ہے اور استاد اس کو جواب دیتا ہے۔ روحانیت کیا ہے؟ یہ بھی ایک ٹاپک ہے اس میں۔ اور شاگرد کا پیروں کے بارے میں شکوہ یہ بھی اس میں ہے۔ مطلب میں اس کے بارے میں میرا خیال میں جتنا پیروں پہ اعتراض ہو سکتا ہے تو یہ ہے پیروں کے بارے میں۔ عقل اور دل والی بات یہ اس میں ہے، عقل دل سے کہتی ہے، دل عقل سے کہتا ہے، پھر شریعت دونوں کا محاکمہ کرتی ہے۔ اور اصل عقلمندی کیا چیز ہے؟ تراویح کے بارے میں یہ تراویح کے بارے میں جو ہے نا 20 تراویح اس کے بارے میں ہے۔ وسوسے اور ان کا علاج، وسوسوں کا ختم ہونا، پھر معاملات کے بارے میں یعنی معاملات ہیں۔ پھر جو ہے نا ماشاءاللہ اختلاطِ نا جنس سے پرہیز، پھر شادی خانہ آبادی یعنی شادی کے بارے میں جو رسومات ہوتے ہیں وہ اس کے بارے میں ہے ٹاپک اور پھر فوتگی کے بارے میں، تو میرا خیال ہے پہلے میں پڑھ لیتا ہوں باقی تو آپ نے کافی حضرات سنے اور بھی ہیں۔
فوتگی کے بارے میں
شاگرد
مرے استاد میں نے عجیب طریقہ دیکھا
میں نہ سمجھا میں کہوں کیا،کہ میں نے کیا دیکھا؟
مرے ایک دوست کا والد، سنا کہ فوت ہوا
جنازہ کے لیے اس گھر کی طرف تیز چلا
جب پہنچا تو اس کے گھر میں بہت ہی شور تھا
عورتوں کے بین سے سوگوار وہ ماحول دیکھا
عورتیں کیا کہ مرد ان کے روتے جاتے تھے
پوز رونے کے وہ عجیب اک بناتے تھے
یہ میں نے خود دیکھا ہے مطلب اس میں کوئی دوسرا راوی نہیں ہے خود ایسے مردوں کو روتے دیکھا پوز بنا کر۔
یہ جو رونا تھا مصنوعی سا نظر آتا تھا
بعد میں اس کا اثر مفقود، میں تو پاتا تھا
یعنی ادھر رو رہا ہے دو قدم پہ اس پہ کچھ بھی نہیں تو کیسا رونا ہے؟ ایک دم غائب۔ اس طرح تو غائب نہیں ہوتا ہے۔ اگر اصلی رونا ہوتا ہے۔
بعد میں اس کا اثر مفقود، میں تو پاتا تھا
ہر مرد رونے کی اک شکل جب بناتا تھا
اس طرح ان سے محبت وہ اک جتاتا تھا
اٹھی چارپائی جب، میت کو لے کے جانے لگے
کلمہ وہ سارے پھر زور سے دہرانے لگے
جب جنازہ پڑھا گیا تو لوگ آنے لگے
لوگ چہرہ انہیں میت کا پھر دکھانے لگے
اور کچھ لوگ گلے لگ کے گھر کو جانے لگے
وہ جنازے میں حاضری کو یوں جتانے لگے
ظاہر ہے حاضر ہوگئے تھے نا۔
دفن کے واسطے چارپائی اٹھی بالآخر تب
جو باقی رہ گئے تھے قبر پہ آئے وہ سب
قبر میں پھر میت نیچے اتارے جانے لگی
دفن کے بعد مٹی بھی پھر ڈالے جانے لگی
مٹی قبر کی بھی پھر درست کرائی جانے لگی
اور اس کے بعد تلاوت کرائی جانے لگی
دعا کے بعد رسمِ قل کا بھی اعلان ہوا
رسم کا نام تو سنکر ہی میں حیران ہوا
ظاہر ہے رسم جو بتا دیا وہ باقاعدہ رسمِ قُل ہی اس کو کہتے ہیں نا۔
تین دن گھر میں دعوتوں کی فراوانی تھی
مرے نصیب میں دیکھ کر اسکو حیرانی تھی
دیکھی جاتی نہیں اس دوست کی پریشانی تھی
رشتہ داروں اور دوستوں کی تو مہمانی تھی
میں تھا حیران اور حیران ہوا جاتا تھا
اور ان حالات میں پریشان ہوا جاتا تھا
رسمِ قل میں تو وہ پڑھنا، برائے نام سا تھا
لوگوں کو مطلب، اس آنے میں، ایک کام سے تھا
ملنے جلنے سے اور گپ شپ، دعا سلام سے تھا
اسی میت کے وسیلے سے فیضِ عام سے تھا
یعنی اندازِ ضیافت بڑا شاندار رہا
مجھ پہ تو دیکھ یہ، غم بڑا سوار رہا
اور چہلم میں انتظام اور عجیب ہوا
کارڈ بھیجے گئے چہلم جو کچھ قریب ہوا
دوسرا شاندار ایک طعام پھر نصیب ہوا
کھایا مالداروں نے محروم تو غریب ہوا
قرض پر قرض مرے دوست پہ چڑھتا ہی رہا
یہ وہ خدمت اپنے والد کی سمجھتا ہی رہا
مرے مشفق یہ جو دیکھا یہ طریقہ کیا ہے؟
میری آیا نہ سمجھ میں یہ ماجرا کیا ہے؟
خرچ کرنے کا اس انداز میں سلسلہ کیا ہے؟
اس کے بارے میں اکابر کا بھی فتویٰ کیا ہے؟
یہ پوچھا ہے اس شاگرد نے تو استاد جواب دیتا ہے۔
استاد کا جواب
مرے بیٹے ان طریقوں سے ہم انجان نہیں
اس لیے اس طرح کاموں پہ ہم حیران نہیں
لوگ رسومات میں اپنی عقل کو چھوڑتے ہیں
مذہبی بات بھی، کلچر کی طرف موڑتے ہیں
اس طرح نفس کے چکر سے رشتہ جوڑتے ہیں
اور سنت کی طریقوں سے رشتہ توڑتے ہیں
ہر جگہ، ہر طرح، لوگوں کی خوشنودی مطلوب
واہ کیا کام ہوا، یہ سنیں، یہ ہی مطلوب
آپﷺ نے جذبات کا بے شک ہے احترام کیا
جو ہر اک کر سکے، تو اس طرح ہر کام کیا
دور تکلف کو کیا، سادگی کو عام کیا
شرکیہ کاموں اور ٹوٹکوں کا اختتام کیا
یہ سادگی ہمیں پھر راس کیوں نہیں آتی؟
تکلفات کی جو عادت ہے وہ نہیں جاتی؟
رونا غالب ہو تو رونے میں قباحت بھی نہیں
عورتیں بین کریں اس کی اجازت بھی نہیں
اور رونے کے محض پوز کی حاجت بھی نہیں
غم مزید اور بڑھانے کی ضرورت بھی نہیں
مرد قوام ہیں، عورتوں کو تسلی دے دیں
رو کے خود، ان کو یہ رونے کی شہہ نہیں دے دیں
میت ہو مرد، تو عورتوں کے درمیان نہ ہو
تاکہ پھر چہرہ دکھائی کا بھی سامان نہ ہو
نیز غیر محرم عورتوں کا امتحان نہ ہو
غسل کے واسطے کوئی بھی پریشان نہ ہو
عورتیں چارپائی اٹھانے میں مزاحم بھی نہ ہوں
سامنے اضطراری اس میں غیر محرم بھی نہ ہوں
چاہیے لے جانے میں میت کو ہم عزت دے دیں
اس کی چارپائی کو کندھے سے رفاقت دے دیں
اور گھر والوں کو حوصلہ دیں اور ہمت دے دیں
ان کو اس وقت پہ جس چیز کی ہو حاجت، دے دیں
ہم خموشی سے چلیں ساتھ اور عبرت پکڑیں
اور کرائے کے ذاکرین کی نہ حاجت پکڑیں
کرائے کے ذاکرین ہوتے ہیں نا باقاعدہ پیسے ان کو دیتے ہیں۔
حق میں میت کے، جنازہ ہی تو بڑی ہے دعا
تو اس کے بعد بھی دعا ہی ہو تو یہ ہے کیا؟
ضروری کام ہے میت کو اب دفن کرنا
تو اس کے واسطے فوراً ہے قبر پر جانا
یہی سنت ہے کہ فوراً ہو اب تدفین کا عمل
کوئی اچھا یا برا کام نہ ہو اس میں مخل
بڑی عزت سے اس میت کی ہو تدفین ابھی
مٹی ڈالنے میں بھی شریک قبر پر ہوں سبھی
دیکھ لیں سب کو جو آنا ہے وہ جگہ ہے یہی
پس یہی روز بھلائے ہمیں دشمن نہ کبھی
قبر پر وعظ یہی ہو کہ یہاں آنا ہے
جو بھی دنیا میں ہے موجود، سب کو جانا ہے
تین دن تک ہوگی تعزیت اس کے گھر والوں سے
کہ ہم قریب رہیں غم میں سوگواروں سے
ساتھ ہونے کا ہو اظہار ان کے پیاروں سے
چاہیں مہمانی نہیں ایسے غم کے ماروں سے
بلکہ تین دن تک ان کے گھر میں آگ جلے ہی نہیں
ہم کھلائیں انہیں، کچھ بھی وہاں پکے ہی نہیں
ہو جو میت کے لیے کوئی بھی ایصالِ ثواب
نہ بنا دے اسے رسم و رواج اور یوں اک عذاب
ان کو آزاد رکھیں جس طرح بھی جانیں صواب
ورنہ ان کی کہیں ہو جائے نہ نیت ہی خراب
کیونکہ لوگوں کے لئے جو بھی کریں گے، وہ عمل
بنے ریا، خدا کے ہاں نہ وہ رہا یہ اصل
اس میں تخصیصِ رواجی کا احتمال نہ ہو
اور غیر شرعی طریقوں کا استعمال نہ ہو
اور لوگوں کی خوشی کا بھی اس میں خیال نہ ہو
کسی مالک کے بھی ترکے سے یہ فی الحال نہ ہو
ترکہ میت کا ورثاء میں ہو تقسیم فوراً
اس کی تقسیم کی دی جائے بھی تعلیم فوراً
فرض، واجب کے مقابل مستحب کچھ بھی نہیں
جب خدا راضی نہ ہو پھر،تو یہ سب کچھ بھی نہیں
حق میں میت کے یہ سب شور و شعب کچھ بھی نہیں
بس محض ضد ہو تو پھر اس سے عجب کچھ بھی نہیں
ضد میں شیطان نے، شبیرؔ تیر کیا مارا ہے
سوچ لیں ہم اگر ارادہ یوں ہمارا ہے
تو مطلب یہ کہ اس طرح ان چیزوں کے بارے میں ہے، تو ایصال ثواب تو ہوتا ہے اس میں تو انکار نہیں ہے لیکن ایصال ثواب کو واقعی ثواب تو کما کر کریں نا، تو ثواب تب ہو گا جب وہ شریعت کے مطابق ہو۔ شریعت کے مطابق نہیں ہو تو ثواب نہیں ہو گا پھر ایصال ثواب کیا ہو گا؟ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ