اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
مکار وزیر کی سازش اور امتوں میں تفرقہ: مثنوی مولانا روم سے اسباق
معزز خواتین و حضرات! آج منگل ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوتا ہے اور یہ درس ماشاء اللہ بہت سارے حقائق کو سمجھانے والے دروس ہوتے ہیں جو کہ ویسے سمجھ میں آنا مشکل ہوتے ہیں۔
تو ابھی جو درس چل رہا ہے، یہ حکایت نمبر 22 سے شروع ہو رہا ہے اور یہ اصل میں پہلے سے کچھ حکایات چل رہی ہیں جس میں ایک بادشاہ جو یہودی بادشاہ ہے، وہ بہت ظلم کرتا ہے عیسائیوں پر اور عیسائیوں کو مار رہا ہوتا ہے۔ تو وہ جو وزیر تھا، وہ بڑا مکار تھا۔ اس نے کہا کہ "بادشاہ سلامت! آپ یہ کر رہے ہیں، لیکن اس سے آپ کی بدنامی ہو رہی ہے، مناسب یہ نہیں ہے۔ میں کوئی ایسا طریقہ کرتا ہوں کہ یہ ختم بھی ہو جائیں اور آپ کی بدنامی بھی نہ ہو۔" اس نے کہا: "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" اس نے کہا: "ایسا کر لیں کہ میرے ناک اور کان کاٹ لیں اور ہاتھ... تو مطلب یہ کہ میں اب مظلوم بن جاؤں گا اور آپ مجھے ان کی طرف ملک بدر کر دیں، تو پھر ایسا ہو گا کہ میں ان کا محبوب بن جاؤں گا کہ میں مطلب یعنی عیسائیوں کے لیے ایسا ہوا ہوں اور میرا عیسائیوں کے ساتھ تعلق ہے۔ تو یہ میں ان کا محبوب بن جاؤں گا، پھر میں ان کو ایسی پٹی پڑھاؤں گا کہ یہ آپس میں خود ہی مخالف ہو جائیں گے اور یہ آپس میں کٹ مریں گے۔ تو ہمارے ذمے کوئی بدنامی نہیں آئے گی اور سب کچھ کام بھی ہمارا ہو جائے گا۔" بادشاہ نے کہا: "یہ تو بہت اچھی بات ہے۔" تو بادشاہ نے ایسا ہی کر لیا۔ تو پھر یہ اس کے ساتھ جب ہو گیا، تو پھر وہاں جا کر واقعی ہیرو بن گیا ان لوگوں کا اور وہ لوگ ان کو اپنا امام سمجھنے لگے، ان کو اپنا پیشوا سمجھنے لگے، ان سے پوچھنے لگے، سارا کچھ اس کے مطابق ہونے لگا۔
تو اس پر بادشاہ جو تھے، وہ ان کے ساتھ ان کا رابطہ تھا، پیام وغیرہ کا تھا، سلسلہ چلتا تھا خفیہ طور پر۔ تو آج اس حکایت نمبر 22 میں بادشاہ کا خفیہ پیغام اس مکار وزیر کے نام آ رہا ہے۔
بادشاہ کا خفیہ پیغام مکار وزیر کے نام
1
شاہ اور اس میں ہاں پیام چلتے رہےشاہ کو انعامات سے خوش کرتے رہے
مطلب یہ کہ یہ اس اثناء میں بادشاہ اور اس وزیر کے درمیان نام و پیام جاری تھا جس سے بادشاہ کو اندر ہی اندر اطمینان ملتا تھا۔
2
یاں تلک کے سارے ہو جائیں تباہواسطے اس کے شاہ نے اُس کو خط لکھا
مطلب یہ ہے کہ یہاں تک کہ بادشاہ نے اس کو خط لکھا کہ تم ایسا کام کرو کہ سارے تباہ ہو جائیں۔
3
لکھا شاہ نے خط پھر اس کے نام پہمیرے اقبال مند ختم کر کام یہ
بادشاہ نے لکھا اس کے نام کہ "اے میرے اقبال مند! یعنی میرے محبوب! تو اس کام کو جلدی ختم کر۔" مطلب یہ کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو جلدی کر کیونکہ وقت کافی ہو گیا، چھ سال ہو گئے تھے، تو اس چھ سال میں اس نے بڑی کاروائی کی تھی، اپنے آپ کو ان کا پیشوا بنایا تھا۔ تو اب بادشاہ نے کہا کہ "ذرا اس کام کو جلدی نمٹا دے، ان کو ختم کر دو۔"
4
انتظار میں ہوں نظر ہے راہ پرخود نظر کر دے میری اِس چاہ پر
"میں اس انتظار میں ہوں کہ تو اس کام کو جلدی کر لے اور میری جو یہ چاہت ہے یعنی جو خواہش ہے، اس کو جلدی پوری کر، اس کے لیے جو اسباب کرنے ہیں وہ جلدی اختیار کر۔"
5
تو جواب آیا، ہوں مشغول اِس میں شاہدینِ عیسیٰ میں ہو برپا فتنہ ہا
تو اس نے جواب دیا کہ "بادشاہ سلامت! میں تو اسی کام میں مشغول ہوں۔ ہاں! میں دینِ عیسیٰ میں فتنہ برپا کرنا چاہتا ہوں۔" مطلب ایسا طریقہ میں کرنا چاہتا ہوں کہ عیسائی لوگوں میں فتنے برپا ہوں۔
6
بارہ حاکم قومِ عیسیٰ میں جو تھےانتظام اور ضبط واسطے یہ جو تھے
یعنی جو بارہ حاکم تھے قومِ عیسیٰ میں، یعنی بارہ لوگ، بارہ گورنر آپ کہہ سکتے ہیں، وہ ان کے انتظام پہ یہ مامور تھے، تو اس کے بارے میں اب کہہ رہے ہیں۔
7
ہر گروہ ایک ایک امیر کے پیچھے تھاطمع واسطے اِن میں ہر ایک نیچے تھا
یعنی ہر گروہ جو تھا وہ اس ایک ایک امیر کے پیچھے تھا، ان کو مانتے تھے، subordinates تھے اور ظاہر ہے ہر ایک کو طمع تھا کہ ان سے کوئی فائدہ ہو، لہٰذا ان کی بات ماننے پر مجبور تھے، ان کے نیچے کام کر رہے تھے۔
8
قومِ عیسیٰ کے جو تھے بارہ امیران پہ حاکم تھے یہ بدخصلت وزیر
یعنی جو قومِ عیسیٰ کے بارہ امیر تھے، ان سب کے قلوب پر یہ بد خصلت وزیر حکمرانی کر رہا تھا۔ اگرچہ وہ حاکم نہیں تھا، یعنی جس کو کہتے ہیں آفیشل حاکم نہیں تھا، لیکن ان کے دلوں پہ حکمران تھا، ان کے دل اس کی طرف مائل تھے، لہٰذا جو یہ ان کو بتاتے تھے، تو یہ اس طریقے سے کرتا تھا۔
9
اس کے ہر گفتار پہ مرتا تھا ہر ایکاس کے کہنے پہ جو چلتا تھا ہر ایک
یعنی اس کی ہر گفتار پہ ہر ایک مرتا تھا، جو وہ کہتا تھا اس کے مطابق وہ کرتے جاتے تھے اور اس میں ذرہ بھر بھی خلاف نہیں کرتے تھے۔
10
جان چھڑکتا جو اس پہ ہر امیراس پہ تھے تیار گر کہہ دے وزیر
یعنی اگر یہ وزیر کہہ دیتے کہ مطلب اپنی جان قربان کر لو، تو یہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے۔
11
مکر سے سب کو زبوں کروا دیا فتنہ ان میں بعد ازاں برپا کیا
مطلب اس کو مکر سے سب کو زبوں کر لیا اور مطلب ان کے اندر چالاکی سے فتنہ برپا کر دیا۔ تو یہ حکایت نمبر 22، اب حکایت نمبر 23 کی طرف آ رہے ہیں۔
حکایت نمبر 23 میں یہی ہے کہ وزیر کے انجیل کے احکام کو خلط ملط کرنا اور اس وزیر کا مکر۔
یہ بہت کافی سمجھنے والی بات ہے، سمجھنے والی بات ہے۔
یہ اصل میں وزیر جو تھا چونکہ ان کے دلوں پہ حکمران تھا، لہٰذا ان بارہ امیروں کو الگ الگ بلایا، الگ الگ اور ہر ایک کو الگ الگ پٹی پڑھائی۔ ہر ایک کو بالکل مختلف چیز سکھائی۔ مطلب یہ کہ وہ ایسی مطلب کہ بالکل مختلف۔ تو اس طریقے سے مطلب گویا کہ پھر اخیر میں بات آئے گی کہ مطلب ان کو بتایا کہ "میں جب مر جاؤں تو پھر تم ہی امیر ہو گے، تم ہی ہو گے" ہر ایک کو یہ کہا، تو اس طریقے سے ان کے اندر یہ منافرت اور منافقت کا بیج بو دیا۔
1
ہر امیر کے نام صحیفہ ایک لکھااس نے جو ہر ایک تھا دوسرے سے جدا
(وزیر نے) ہر ایک (امیر) کے نام پر ایک ایک صحیفہ (تحریر) تیار کیا (اور) ہر صحیفے (تحریر) کی عبارت دوسرے طریقے کی تھی (ہر صحیفے کے احکامات جدا طریقے سےدرج کئے)۔
دوسرے میں وہ نہیں ہوتا تھا اور ہر ایک کو الگ الگ پٹی پڑھائی۔
2
ہر ایک میں احکام کا مختلف ترنگہر ایک کا ہر کام سے جدا تھا ڈھنگ
ہر ایک کا حکم اور طرح کا تھا۔ یہ (حکم) اول سے آخر تک اس (اصل حکم کے) خلاف تھا۔
وزیر کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں میں تفرقہ پڑ جائے جس سے وہ مبتلائے خانہ جنگی ہو کر خود برباد ہو جائیں گے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے مذہبی میدان کو زیادہ مناسب سمجھا۔
ہمارے اندر بھی لوگ اسی طرح کام کرتے ہیں، مذہبی بنیادوں کو چھیڑتے ہیں اور ہر ایک کو دوسرے کا مخالف بناتے ہیں اور اس طرح divide and rule پالیسی پر مطلب عمل کر کے ہمیں ختم کرتے ہیں۔ یہ بالکل یہی چیز ایسی ہی ہے۔
جیسا کہ آج کل بعض ہوشیار و زیرک اقوام کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کو مغلوب اور ہمیشہ کے لیے اپنے پنجۂ اقتدار میں مقید رکھنا چاہتی ہیں تو اس کے افراد میں مذہبی معاملات کے متعلق اختلاف ڈال دیتی ہیں۔
وہ ایک دفعہ ہمارے مولانا صفدر امین اوکاڑوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ میں بیٹھا تھا ایک چائے پینے کی جگہ، چائے خانے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تو کوئی SP تھے، تو کہتے ہیں کہ مجھے کہا: "مولانا! آپ ہمارے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں۔" تو انہوں نے کہا: "میں کیسے استعمال ہوا ہوں؟ آپ کے لیے کیسے استعمال ہوا ہوں؟" کہتے ہیں: "آپ کو یاد ہو گا کہ ایک شخص آپ جو غیر مقلدوں کے ساتھ بات کرتے تھے، تو ان کے ساتھ مناظرے کرتے تھے، تو آپ کا جو بیگ ہوتا تھا وہ لیے پھرتا تھا اور بہت مطلب تمام کام وہ آگے پیچھے کرتا تھا۔" وہ کہتے ہیں: "ہاں! یاد تو ہے۔" انہوں نے کہا: "وہ ہمارا آدمی تھا۔ وہ ہمارا آدمی تھا اور وہ یوں کرتا کہ وہ ختم نبوت کے بارے میں وہاں پر اس علاقے میں بڑا کام ہو گیا تھا، تو اس چیز کو ختم کرنے کے لیے غیر مقلد اور مقلدین کو آپس میں لڑانے کے لیے اس کا استعمال کیا۔" تو وہ جو اختلاف ہو گیا، تو اس پر ان Meetings اور تمام چیزوں پہ پابندی لگ گئی، نتیجہً وہ کام نہیں ہو سکا۔ تو اب دیکھیں مطلب یہ کہ کس طرح مطلب جو ہے لوگ کرتے ہیں۔ تو حکومتیں اس طرح کرتی ہیں۔ حکومتیں جب اس طرح ہمارے مطلب حکومت کی ہے مطلب غیروں نے 200 سال، تو یہ 200 سال کیسے حکومت کی؟ اسی طریقے سے حکومت کی کہ آپس میں لڑا کے وہ اپنا الو سیدھا کرتے تھے اور پھر منصف بن جاتے تھے اور پھر جو ہے نا اپنے Favour میں قوانین پاس کرتے، اس قسم کے کام ہوتے تھے۔ تو یہاں پر بھی اس طرح ہوتا ہے۔
اچھا! تو اس کے افراد میں مذہبی معاملات کے متعلق اختلاف ڈال دیتی ہیں۔ یا ان کے پیدا شدہ اختلاف کو بڑھنے کا موقع دیتی ہیں۔ نکتہ اس میں یہ ہے کہ مذہبی معاملات میں خصوصیت سے ہر شخص جلدی جوش میں آ جاتا ہے اور یہ اشتعال گھروں، محلوں، برادریوں میں اور شہروں سے گزر کر آنًا فانًا اطرافِ ملک میں پھیل جاتا ہے۔
ابھی ابھی جو Riots ہوئے ہیں کیوں کیوں ہوئے؟ مطلب ظاہر ہے اس کو اسی کو استعمال کیا گیا، تو یہ بات اس طرح ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو دشمن ہوتے ہیں وہ ایسے موقعے کی تاک میں ہوتے ہیں اور وہ فوراً اس طرح کوئی کارروائی کرتے ہیں جس سے اپنے مغلوب قوم ہوتے ہیں ان کو مزید دبا دیتے ہیں۔
لہٰذا اس وزیر نے بھی مذکورہ غرض کو ملحوظ رکھا اور تخمِ فسادِ مذہبی زمین میں بویا اور نصارٰی کی بارہ جماعتوں کے لیے مسائلِ مذہبی کے ایسے بارہ الگ الگ دفتر تیار کئے جن کے مسائل بظاہر ایک دوسرے سے معارض تھے یہودیوں کا اس قسم کا ابلیسانہ سلوک نصارٰی کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اہلِ اسلام کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ یہودِ عرب جو اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے جانی دشمن تھے اور ہمیشہ انتقام کی تاک میں رہتے تھے ان میں سے ایک یہودی المذہب چالاک شخص نے ہجرت کی پہلی صدی میں عبد اللہ بن سبا کے نام سے اسلامی لباس میں نمودار ہو کر اسلام میں ایک ایسا تفرقۂ عظیم برپا کر دیا جو تا قیامت قائم رہے گا۔
یعنی اس نے صدہا موضوع احادیث کا دفتر تیار کیا اور مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو اپنا معتقد بنا کر ان کے دل میں دوسرے مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ کے لیے تخمِ عداوت بو دیا۔ وہ جماعت اثنا عشری یعنی شیعہ لوگ ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہیں کہ مذہب شیعہ کا وجود دراصل یہود کی اس نظرِ عنایت کا نتیجہ ہے جو ایامِ قدیم میں ایک مرتبہ وہ نصارٰی پر کر چکے تھے اور پھر اسلام پر مبذول کی۔ القصہ وزیر نے ہر جماعت کے لیے متعارض مسائل کی تبلیغ کا سامان مہیا کر دیا۔ تاکہ ان میں اختلافِ مسائل سے اختلافِ آراء، اور اختلافِ آراء سے مخالفت و خصومت پیدا ہو جائے، اور آپس میں کٹتے مرتے رہیں۔ ذیل میں مولانا نے ان مسائل کے چند نظائر بطور نمونہ درج کئے ہیں۔ ان میں وزیر کی یہ عیاری دکھائی ہے کہ جو مسئلہ مختلف صورتیں رکھتا ہے، یعنی ایک صورت میں کسی خاص شرط کے ساتھ اس کے جواز کا حکم صحیح ہے دوسری صورت میں کسی دوسری قید کے ساتھ حرمت کا حکم درست ہے۔ تو وزیر نے ایسے مسئلوں میں ایک ہی چیز کے متعلق بلا تفصیل ایک دفتر میں مطلق جواز کا حکم لکھ دیا اور اسی چیز کے متعلق دوسرے دفتر میں مطلق حرمت کا۔ اور کسی جگہ حلّت و حرمت کی شرائط و قیود کا ذکر نہیں کیا۔ مثلًا زکوٰۃ کے مسئلے کو لو۔ زکوٰۃ اگر کسی محتاج کو دی جائے تو اس کے لیے اس کا لینا جائز ہے اور اگر کسی غنی کو دی جائے تو اس کے لیے حرام ہے۔ لیکن اگر محتاج و غنی کی تفصیل کے بغیر ایک جماعت کو یہ بتایا جاوے کہ زکوٰۃ لینی جائز ہے اور دوسری جماعت کو یہ تعلیم دی جائے کہ زکوٰۃ لینی حرام ہے، تو ظاہر ہے کہ ان دونوں مسئلوں میں کس قدر اختلاف ہے اور ان جماعتوں میں کہاں تک دینی مخالفت پیدا ہونے کا احتمال ہے۔
یہ طریقہ یہ کرتے ہیں۔
3
ایک میں روزہ اور ریاضت کو کیارکنِ توبہ اور شرط رجوع کا کر دیا
یعنی ایک دفتر میں ریاضت کے طریقے اور روزے کو توبہ کا رکن اور رجوع الی اللہ کی شرط قرار دیا۔
ایک میں روزہ اور ریاضت کو کیارکنِ توبہ اور شرط رجوع کا کر دیا
یعنی مطلب یہ سمجھ لیجیے کہ رجوع کے لیے یہ شرط قرار دیا کہ ریاضت ہو اور روزہ ہو اور توبہ، اس کے لیے۔
تنقیح: ریاضات اور اشغالِ شاقہ مثلِ گرسنگی و بیداری وغیرہ بے شک اصلاحِ نفس کے لیے مفید ہیں، مگر سب کے لیے نہیں بلکہ صرف مبتدیانِ سلوک کے لیے۔ کاملین کے لیے اس کی ضرورت اور مبتدیوں کے لیے بھی اس کثرت دوام کے ساتھ نہیں چاہیے کہ وہ داخلِ عادت ہو کر غیر مفید ہو جائے اور منعمِ حقیقی کے انعامات کی بے قدرتی لازم آئے۔ "قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ! کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ الدَّھْرَ کُلَّہٗ؟ قَالَ لَا صَامَ وَ لَا اَفْطَرَ" (مشکوٰۃ) "حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کوئی شخص ہمیشہ روزہ رکھے تو کیسا ہے؟ فرمایا نہ اس کا روزہ ہے نہ افطار ہے۔" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک عبادت بھی اگر دوام کی وجہ سے داخلِ عادت ہو جائے تو وہ عبادت نہیں رہتی۔ پھر ریاضت معتاد ہو کر کیا مفید ہو سکتی ہے۔ احادیث میں افطار کے وقت یہ دعا پڑھنی ماثور ہے: "اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ" (مشکوٰۃ) ”الٰہی میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا“۔ اس میں جہاں یہ پایا جاتا ہے کہ صوم ایک عبادتِ الٰہیہ ہے۔ ساتھ ہی یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ افطار ایک طرح سے رزق کے انعامِ خداوندی ہونے کا احساس ہے۔ اور دوامِ ریاضات میں یہ نکتہ مفقود ہے۔ "نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِی الصَّوْمِ، فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ اِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُوْلَ اللہِ، قَالَ وَ اَیُّکُمْ مِثْلِیْ اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَ یَسْقِیْنِیْ" (مشکوٰۃ) یعنی ”رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ایک روزے کو دوسرے روزے کے ساتھ بلا افطار ملانے سے منع فرمایا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ بھی تو ایسا کرتے ہیں۔ فرمایا تم میں سے کون میرے برابر ہو سکتا ہے؟ میں تو ایسی حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا پلاتا ہے“ اس حدیث سے بھی نعمائے الٰہیہ کی اہمیت اور ان کے ترکِ کلی کی ممانعت ثابت ہے۔ لہٰذا اس حکم میں وزیرِ مکار کی سب کے لیے اور سب حالتوں میں تعمیم ایک مغالطہ تھی۔
یہ ایک بہت بڑی بحث ہے، مطلب یہ ہے کہ اصلاح کے لیے عارضی طور پر اگر کوئی معالجہ ہو جس پر صبح بھی بات ہوئی، وقتی طور پر اگر کوئی معالجہ ہو تو وہ دائمی نہیں ہوتے۔ جس وقت تک مسئلہ ہو جیسے مثال کے طور پر کسی کا پیٹ خراب ہو جائے، تو اس کے لیے کچھ کھانے چیزیں منع کر دیتے ہیں کہ تمہیں یہ چیزیں نہیں کھانی چاہئیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ کے لیے نہیں کھانی چاہئیں، بلکہ اس وقت تک جب تک کہ پیٹ خراب ہے۔ جب پیٹ ٹھیک ہو جائے تو پھر کہیں گے "اچھا ٹھیک ہے جی اب سب کھاتے جاؤ"۔ تو اسی طریقے سے یہ جو ریاضات ہیں، یہ اگر کسی مقصد کے لیے پھر تو ٹھیک ہے، ذریعہ ہے اگر یہ مقصد تک، پھر تو ٹھیک ہے، لیکن اگر یہی مقصد بن جائے، ہاں! پھر بات غلط ہے، پھر اس کو ٹھیک نہیں کہیں گے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو اگر کوئی شخص اس طرح کہہ دے کہ بس ٹھیک ہے جی، ہر حالت میں روزہ رکھنا چاہیے، پھر بھی ٹھیک نہیں، اور دوسری حالت یہ کہ بالکل روزہ نہیں رکھنا چاہیے، وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یعنی حالت کو عموم میں نہیں لانا چاہیے بلکہ خصوص پہ لانا چاہیے کہ کس وقت ٹھیک ہے اور کس وقت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ایک اس کے مطابق کسی اصول کے مطابق ہوتا ہے۔
4
ایک کو بولا کہ ریاضت کچھ نہیںکچھ نہیں کوئی اگر مخلص نہیں
مطلب اس کو کہا کہ بھائی اخلاص سب کچھ چیز ہے، ریاضت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ آج کل ہمارے ساتھ بھی اس قسم کی چیزیں ہو رہی ہیں، اس قسم کے لوگ ڈسکشن کرتے ہیں "اب بھائی کیا بس اخلاص"۔ بعض خواتین پردہ نہیں کرتی۔ تو ان کو جب پردہ دار خواتین کہتی ہے کہ پردہ کرنا چاہیے، وہ کہتی ہے "پردہ تو دل کا ہوتا ہے"۔ بھائی! دل کا دل تو ہمیشہ پردے میں ہوتا ہے، مطلب وہ تو، وہ تو بے پردہ ہو نہیں سکتا۔ اصل میں تو چہرے کا پردہ ہے، پورے جسم کا پردہ ہے، جو بھی ہے، لیکن بہرحال وہ جو لوگ ماننا نہیں چاہتے تو اس قسم کی باتیں اپنے دلوں میں سجا جاتے ہیں۔ تو یعنی اس کے بعد (برعکس اس کے) ایک دفتر میں لکھا۔ ریاضت سے کچھ فائدہ نہیں۔ اس راہِ (حق) میں تو صرف خیرات و صدقات سے نجات ملتی ہے۔
تنقیح: وزیر کی یہ بات پہلی بات کے بالکل بر خلاف ہے۔ یہاں ریاضت کو مطلقًا بے سود قرار دیا اور داد و دہش کو بالعموم مایۂ نجات کہا۔ حالانکہ ریاضت بخصوصِ حال مفید ہے جیسے کہ اوپر گذر چکا ہے، اور جود و کرم مشروط بشرطِ اعتدال مستحسن ہے، نہ کہ اسراف کے درجہ تک۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ﴾ (الاسرا: 27) ”بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔“ نیز سلوکِ خیر ہر نیک و بد کے ساتھ بالعموم ٹھیک نہیں۔ بلکہ بُرے لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا بمنزلۂ بدی ہے۔
5
ایک میں جوع اور جود کو شرک کہہ دیا
یعنی دوسرے دفتر میں، ایک میں جوع (بھوک) کو اور جود (سخاوت) کو شرک کہہ دیا۔
درمیانِ رب اور تُو کیا رہ گیا
ایک دفتر میں کہا "تیرا فاقہ اور سخاوت تیرے اور تیرے معبود کے درمیان شرک ہے
یعنی تو اپنی طرف سے کچھ کر رہا ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے"۔
6
بے توکل اور تسلیمِ تمامیہ غم و راحت فقط ہے مکر و دام
توکل کے بغیر اور غم و راحت میں کمالِ تسلیم کے بغیر (ریاضت و خیرات) سب مکر اور دام (فریب) ہیں۔
مطلب اس وقت میں کہہ دیا کہ اصل تو توکل ہے اور تسلیم ہے، یہ جو باقی چیزیں ہیں کچھ بھی نہیں ہیں، مطلب ان کے پیچھے نہ پڑو۔ ان کو یہ کہہ دیا۔
وزیر کا مطلب یہ ہے کہ ریاضت و خیرات یعنی عباداتِ بدنی و مالی کو وسیلہ سمجھنا شرک ہے۔ نجات دینے والا خدا ہے۔ اسی پر توکل و تسلیم رکھنا ہے۔ عبادات و طاعات محض مکر و فریب ہیں۔
تنقیح: توکل و تسلیم بے شک اعلیٰ فضائل اور وصول الٰی اللہ کے وسائل ہیں۔ مگر ان کے لیے یہ کہاں لازم ہے کہ عبادات و طاعات سے پرہیز کیا جائے۔ یہ محض وزیر کی عیاری تھی جس نے توکل و طاعات کو باہم منافی بتایا۔ بلکہ دونوں ضروری ہیں۔ "اَلسَّعْیُ مِنِّیْ وَ الْاِتْمَامُ مِنَ اللہِ" (میں کوشش کرتا ہوں۔ اللہ سر انجام دے گا) طاعت سعی ہے اور اِتمام مِن اللہ پر نظر رکھنا توکل ہے۔ سعی بلا توکل عُجب و غرور ہے اور توکل بلا سعی بطالت و جہالت ہے۔
یعنی جو سعی ہے، اگر اس میں توکل کا وہ نہ ہو تو پھر یہ عجب ہے، مطلب اپنے آپ کو کچھ سمجھنا کہ میں کچھ کر سکتا ہوں اور توکل بغیر سعی کے، مطلب اس میں اسباب کو اختیار نہ کرنا یہ پھر بطالت ہے اور جہالت ہے۔ یعنی معطل ہونا ہے۔
7
ایک کو بولا یہ کہ واجب خدمت ہےورنہ اندیشۂِ توکل تہمت ہے
(برخلاف اس کے) ایک دفتر میں کہا کہ خدمت (و طاعت) واجب ہے۔ ورنہ توکل کا خیال (پیغمبر پر) تہمت (کا مترادف) ہے۔
مطلب یہ اس نے نہیں کہا، تو نے خواہ مخواہ اس کی طرف یہ بات منسوب کر دی، اصل میں تو خدمت و طاعت واجب ہے۔
یہ مضمون سابق مضمون سے معارض ہے۔ وزیر نے وہاں یہ کہا تھا توکل کے لیے عبادت کی کیا ضرورت ہے، یہاں کہتا ہے توکل کے ساتھ عبادت بھی ضروری ہے، اگر عبادت کے بغیر اکیلا توکل کافی ہوتا تو گویا معاذ اللہ شریعت میں عبادات و طاعات کے احکام سب فضول تھے اور ایسا خیال پیغمبر پر تہمت لگانے کے ہم معنٰی ہے جنہوں نے یہ احکام ہم تک پہنچائے ہیں۔ اس شعر کا مطلب عقائدِ اسلام کے مخالف نہیں۔ بعض شارحین نے اس قول کو خلافِ عقائد ثابت کرنے کے لیے تکلّف کیا ہے۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ وزیر کی ہر بات غلط ثابت ہو۔ اب دیکھیں نا مثال کے طور پر ایک صحیح بات کر لی اور اس کے ساتھ دوسری غلط بات کی ہے، تو دونوں میں تخالف تو ہو گیا نا۔ ایک کو کہتا ہے نماز پڑھو، دوسرے کو کہتا ہے نہیں پڑھو۔ تو نماز پڑھو والی بات تو صحیح ہے نا، مطلب اس کو تو ہم غلط نہیں کہیں گے نا۔ ایسے ہی ہوتا ہے، مطلب شیطان جو ہے نا حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر شیطان کو یہ بات پتا معلوم ہو جائے کہ تو نے ہر میری بات نہیں ماننی تو آپ کو صحیح باتیں بتائے گا، اس کے خلاف مخالفت کر کے تو ظاہر ہے اپنے آپ کو خراب کر دے گا۔ جیسے بچے نہیں ہوتے، بعض بچے ضدی ہوتے ہیں نا، ان کو اگر کہہ دو خشکی پہ جاؤ تو پھر پانی پہ جائیں گے اور پانی پہ جاؤ تو خشکی پہ جائیں گے، تو ان کے ساتھ جو ہوشیار والدین ہوتے ہیں ان کو یہ کہتے ہیں اگر وہ پانی سے بچانا ہو کہتے ہیں "پانی پہ جاؤ"۔ تو پانی پہ نہیں جاتے وہ خشکی پہ جاتے ہیں، اس طریقے سے ان سے کام لیتے ہیں۔ تو مطلب یہ کہ اگر دیکھا جائے تو واقعتاً ہم لوگوں کو عقل و فہم سے کام لینا چاہیے۔ یہ کوئی گپ شپ کی باتیں تو نہیں ہیں۔
8
ایک کو بولا یہ جو ہے امر و نہیعجز اپنا ہے ورنہ یہ کچھ نہیں
ایک دفتر میں کہا (شرع میں جو) امر و نہی ہے وہ (عمل) کرنے کے لیے نہیں بلکہ (وہ صرف) ہمارے عجز کی تفصیل ہے۔
کہ ہم عاجز ہیں۔ مطلب ہم لوگ جب کہیں گے بھائی تو نہ ہم حکم پر عمل کر سکتے ہیں، نہ نہی سے بچ سکتے ہیں تو ہم بڑے عاجز ہیں، ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے، اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے امر و نہی ہے، ورنہ صحیح باتیں مطلب اس کے اوپر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیرِ مکار نے لکھا کہ تمام اوامر و نواہی جو شریعت میں آئے ہیں، ان پر عمل نہ ہونا چاہیے اور نہ ہو سکتا ہے اور نہ ان کو عمل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ بلکہ ان سے مقصود صرف یہ ہے کہ بندہ جب اپنے آپ کو ان پر عمل کرنے کے قابل نہیں پائے گا تو اس پر اپنا عجز منکشف ہو جائے گا، اور بمضمون "تُعْرَفُ الْاَشْیَاءُ بِاَضْدَادِھَا" ”اپنے عجز کے احساس سے خدا کا قادر ہونا اس پر عیاں ہو جائے گا۔“
تنقیح: یہ عقیدہ مذہبِ جبریہ کا ہے جس کے نزدیک بندہ مجبورِ محض ہے۔ اس کو بالکل کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ عقیدۂ اہلِ حق یہ ہے کہ بندہ مجبور تو ہے مگر مطلقًا مجبور نہیں۔ بلکہ مرتبۂ خلق میں مجبور ہے نہ کہ مرتبۂ کسب میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ نے افعال کے اکتساب کا اختیار بخشا ہے۔ وہ جب چاہے ہر فعل کو جو اس کے لیے ممکن ہو، کر سکتا ہے اور اگر چاہے تو اس سے باز رہ سکتا ہے، لیکن وہ اس کا خالق نہیں ہو سکتا۔ خالق خدا ہے۔ پس جب وہ ایک فعل کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ کی قدرت سے وہ فعل مخلوق ہو جاتا ہے اور بندہ اس کو کسب کر لیتا ہے۔ غرض بندہ مطلقًا مجبور نہیں ہے۔ بلکہ مرتبۂ خلق میں اور مرتبۂ کسب میں مختار ہے۔ وزیرِ عیّار نے اس کو مطلقًا مجبور بتایا۔
یہ دیکھو نا حضرت کس طریقے سے مسائل سکھا رہا ہے، یہ جو چیزیں ہیں مطلب وہ سکھا رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ واقعتاً اس پر بہت سارے لوگ پریشان ہیں اور اس چیز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دونوں طرف میں سے کسی طرف چلے جاتے ہیں، یا بالکل ہی عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یا پھر یہ ہے کہ اپنے آپ کو پریشان کر لیتے ہیں ایسی چیزوں کے لیے جو کہ وہ نہیں کر سکتا۔ تو اصل بات یہ ہے کہ انسان جو ہے نا مجبور نہیں ہے، جیسے مثال کے طور پر اللہ جل شانہٗ نے جب تک مجھے ہاتھ میں طاقت دی ہے، تو مجھے جس چیز کے اٹھانے کا حکم دیا ہے میں اس کو اٹھاؤں گا۔ اب اٹھانے والے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی ہو گی، لیکن مجھے چونکہ حکم ہے تو میں اس طاقت کو جو اللہ نے مجھے دی ہے استعمال کر کے اس کو اٹھاؤں گا، اللہ اس کو اٹھا دے گا، مطلب یہ والی بات ہے۔ اور جب نہیں چاہے گا، تو میرا ہاتھ ہی نہیں کام کرے گا، مطلب نہیں ہو سکے گا اور اگر ہاتھ کام کر بھی لے گا تو آگے وہ دوسری چیز میں کوئی مسئلہ آ جائے گا، وہ کام نہیں ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ جب چاہتا ہے تو کام ہو جاتا ہے اور جب نہیں چاہتا... جو ہم کہتے ہیں نا "ان شاء اللہ"۔ جو ہم کہتے ہیں "ہاں جی بالکل میں یہ کام کروں گا ان شاء اللہ"۔ تو کچھ لوگ ان شاء اللہ تو منافقت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ مطلب ہے کہ مطلب کرنا نہیں ہوتا اور وہ صرف ان شاء اللہ اس لیے کہتے ہیں کہ اگر نہیں ہوا تو میں تو کہوں گا جی بھائی تو اللہ پاک نے نہیں کیا۔ یہ بہت ہی فسادی عقیدہ ہے، غلط ہے۔ لیکن ان شاء اللہ اس لیے کہنا کہ میں اگر چاہوں گا بھی تو اگر اللہ پاک نے نہیں چاہا تو نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذا ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے۔
"وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ" (سورہ الکھف: 23-24)۔ یہ نہ کہہ دو کہ کل میں نے یہ کام کرنا ہے، مگر اس کے ساتھ کہہ دو کہ ان شاء اللہ۔ ہاں! اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی بات، یہاں پر اسی سے میرے خیال میں اس آیت سے دونوں چیزیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ یعنی اگر مطلب اللہ پاک کا ارادہ ہو گا تو یہ کام ہو گا، اگر اللہ پاک کا ارادہ نہیں ہو گا تو نہیں ہو گا۔ مثال کے طور پر میں نے، میں نے کہا کہ میں نے مطلب ضرور کل برمنگھم جانا ہے اور ان شاء اللہ نہیں کہا، اب صبح ایسی بارش ہو گئی کہ راستے سارے بند ہو گئے، میں نہیں جا سکا، نہیں پہنچ سکا تو کیا ہوا؟ ظاہر ہے کچھ مطلب نہیں ہوا انسان... وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک شخص کہ وہ بازار جا رہا تھا، اس کا کوئی دوست راستے میں ملا: "بھئی کدھر جا رہے ہو؟" "جی بازار جا رہا ہوں۔" "کس لیے جا رہے ہو؟" "گدھا خریدنا ہے۔" "اس نے کہا ان شاء اللہ تو کہو نا۔" اس نے کہا: "ان شاء اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے، پیسے میرے جیب میں ہے، گدھا بازار میں ہے، میں جا کر گدھا لے لوں گا۔" اس نے کہا: "اچھا جاؤ لے لو۔" اچھا وہاں جا کر اس کی جیب کٹ گئی۔ اب گدھے کا سودا ہو گیا، تو اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب ہی نہیں، ظاہر ہے تو بہت پریشان ہو گیا، اب واپس آ رہا ہے، راستے میں پھر وہی دوست ملا، اس کو کہتا ہے جی "کیا بھائی گدھا تمہارے پاس، تمہارے ساتھ نہیں ہے؟" کہتا ہے: "ان شاء اللہ میری جیب کٹ گئی۔" مطلب ہر چیز کے ساتھ ان شاء اللہ ان شاء اللہ کہتا تھا، جہاں ان شاء اللہ نہیں بھی کہنا ہوتا تھا وہاں پر بھی ان شاء اللہ کہتا تھا کیونکہ اس کو تلخ نتیجہ مل گیا۔ ٹھیک ہے نا! تو اس طرح مطلب ہے کہ یہ جو بات ہے ہم لوگ جو ان شاء اللہ کہتے ہیں اصل میں یہی بات کا عقیدہ ہم لوگ صحیح عقیدہ رکھتے ہیں، قرآن میں یہی صحیح عقیدہ بتا دیا گیا نا "وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ" (سورہ الکھف: 23-24)۔ ہاں! بالکل صحیح تو صاف عقیدہ بتا دیا کہ یہ نہ کہو کہ میں نے یہ کام کرنا ہے صبح، ہاں ان شاء اللہ کہہ دیا، پھر ٹھیک ہے۔