اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿209﴾ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿210﴾
پھر جو روشن دلائل تمہارے پاس آچکے ہیں، اگر تم ان کے بعد بھی (راہِ راست سے) پھسل گئے تو یاد رکھو کہ اللہ اقتدار میں بھی کامل ہے، حکمت میں بھی کامل۔
ان دو صفتوں کو ساتھ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اس کا اقتدار کامل ہے اس لئے وہ کسی وقت بھی تمہاری بدعملی کی سزا دے سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کی حکمت بھی کامل ہے، اس لئے وہی اپنی حکمت سے یہ طے کرتا ہے کہ کس کو کب اور کتنی سزا دینی ہے۔ لہٰذا اگر ایسے کافر فوری طور سے عذاب میں پکڑے نہیں جارہے تو اس سے یہ سمجھ بیٹھنا حماقت ہے کہ وہ سزا سے ہمیشہ کے لئے بچ گئے۔ اب دیکھیں حکمت کو دیکھیں۔ حکمت، اللہ تعالیٰ کبھی کبھی ان چیزوں کو ظاہر فرماتا ہے، پتا چل جاتا ہے عام لوگوں کو بھی۔
دیکھیں ایک بے سروسامان ملک، افغانستان، Russia نے اس پر حملہ کر دیا۔ Russia کی Significance یہ تھی، ان کے بارے میں یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جہاں جاتا ہے، وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ یہ مطلب ان کی بات تھی مشہور، اس وقت اخباروں میں بھی یہی چیزیں آ رہی تھیں، سب کچھ۔ پھر پڑوسی تھا۔ تو پڑوسی ہونے کی یہ بات تھی کہ مطلب ظاہر ہے وہ Stand لے سکتا تھا، اس کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا، علاقہ بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ تو اس وجہ سے ان کو یہ سہولت حاصل تھی کچلنے کی۔ لیکن افغانستان کچلا نہیں جا سکا۔ اس وقت لوگ بڑے گھبرا گئے تھے اور پریشان تھے۔ مجھے خوب یاد ہے ڈاکٹر فدا صاحب فرما رہے تھے، تبلیغی جماعت کے سرگرم حضرات میں تھے، کہ جس وقت یہ افغانستان پر حملہ ہوا، تو مشورہ ہوا رائیونڈ میں کہ اب کیا کیا جائے؟ تو ان لوگوں نے پھر یہ کہا کہ ہم افغانستان کی سرحد پر اجتماعات کرتے ہیں۔ تو اس سے افغانستان کے لوگ بھی آ جائیں گے، تو ذرا دین پہ استقامت... اب دیکھو نیت کیا تھی؟ جہاد کی مخالفت تھی؟ یا حمایت تھی؟ اس وقت کیا بات تھی؟ تو انہوں نے وہیں پر اجتماع، تو ایک کجوری کا اجتماع بھی تھا۔ تو اس میں ہمارے زکریا مسجد جس نے بنوایا ہے، قریشی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ تو وہ بھی اسی نیت سے شامل ہوئے تھے کہ بہت اہم اجتماع ہے، اور اس کے بعد ہی فوت ہوئے۔ اسی وقت تقریباً اسی میں فوت ہوئے غالباً۔
تو مطلب یہ ہے کہ بڑی اچھی نیت تھی۔ تو خیر اس وقت لوگ بڑے گھبرائے ہوئے تھے کہ کیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے Russia کو شکست دلوائی اور Russia ٹوٹ گیا۔ اب لوگوں کے ذہن میں ایک بات یہ بیٹھ گئی کہ Russia کو شکست دینا ممکن نہیں تھا، لیکن امریکہ نے مدد کی اس لیے شکست ہوئی۔ امریکہ کا رعب بیٹھ گیا۔ کیونکہ امریکہ اس میں اسلحہ بھی دیتا تھا، سب کچھ وہ کرتا تھا۔ تو لوگوں کے ذہن میں بیٹھ گیا، اور بلکہ کہنا شروع کیا کہ بھئی یہ تو Stinger Missile اگر یہ ان کو نہ دیتے تو یہ نہیں کر سکتے تھے، اور یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اللہ پاک نے اس چیز کو بھی توڑنا چاہا۔
تو امریکہ سے حملہ ہوا، اور 28 ملک مزید شامل تھے۔ اور 20 سال Carpet Bombing اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں اس پر ہو گئیں، اللہ پاک نے ان کو بھی ذلیل و رسوا کر دیا۔ اب بتاؤ؟ کیا بات تھی، کہاں سے مدد آئی تھی؟ پتہ چلا کہ اللہ ہی کی مدد تھی۔ اخیر میں جو ان کی Calculation تھی کہ چھ مہینے میں پہنچیں گے کابل، پھر اس کے بعد انہوں نے ایک دم Change کر دیا، کہتے ہیں مہینے میں پہنچنے والے ہیں، اور مہینے بھی نہیں ہوا، پھر ہفتے میں پہنچ گئے۔ کیسے؟ اللہ پاک نے دکھا دیا۔
تو یہ حکمت دیکھو نا، اگر پہلی دفعہ میں... اگر یہ باتیں نہ ہوتیں مطلب یعنی جس کو کہتے ہیں نا یعنی امریکہ حملہ نہ کرتا، تو لوگوں کے ذہن میں امریکہ کا دھاک بیٹھا ہوتا کہ امریکہ ایسا ہے، امریکہ ایسا ہے۔ یعنی یہاں شکست کھانے کے بعد جو Ally ہے برطانیہ، امریکہ کا، وہ کہتے ہیں Americans are no more Superpower انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اب ہم Superpower نہیں مانتے۔ برطانیہ Ally ہے اس کا۔ تو ان کا رعب ختم ہو گیا۔ اور رعب کہاں سے ختم ہو گیا؟ سبحان اللہ! ایسے ملک جس کے پاس کچھ نہیں۔ ان سے اللہ پاک نے ان کا رعب ختم کروایا۔ تو دیکھو نا اللہ پاک اقتدار کا مالک ہے اور ساتھ یہ کہ حکمت والا ہے۔ اقتدار ایسا ہے کہ کوئی اس کے اقتدار سے باہر نہیں، اور حکمت ایسی ہے، سبحان اللہ! کہ اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ تو بس ہمیں اللہ پاک کی صفات پر کامل یقین کرنا چاہیے اور جو اللہ پاک کا امر ہو اس پر مکمل عمل کرنا چاہیے۔
یہ (کفار ایمان لانے کے لئے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ خود بادل کے سائبانوں میں ان کے سامنے آموجود ہو، اور فرشتے بھی (اس کے ساتھ ہوں) اور سارا معاملہ ابھی چکا دیا جائے؟
کفار مختلف قسم کے مطالبات کیا کرتے تھے۔ ایسا ہوتا ہے، ناسمجھ لوگ جو ہوتے ہیں وہ اپنے فائدے کی، جیسے بچے نہیں ہوتے بچے؟ اب بچے کو Injection لگایا جاتا ہے، بیمار ہوتے ہیں تو وہ ضد کرتے ہیں کہ نہیں لگانا۔ تو پھر والدین ان کو کہتے ہیں کہ یہ چیز دوں گا، وہ چیز دوں گا، تو یہ بھی... پھر مطالبات کرتا ہے کہ مجھے اگر یہ دے دو تو پھر میں... اگر یہ دے دو تو پھر یہ کروں گا۔ وہ مطالبات ان کے مانے بھی جاتے ہیں والدین کی وجہ سے۔ لیکن والدین کی حکمت تو اتنی نہیں ہے نا، وہ تو انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت تو پوری کامل ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بعض مطالبات پورے بھی کروا دیتے ہیں اور بعض کے بارے میں فرماتے ہیں، یہ کیا بات کہ رہے ہو، یہ تمہارا وہ ہے ہی نہیں۔
تو یہاں پر یہ بات ہے کہ ان کے مطالبات، تو مختلف کفار، اور خاص طور پر یہودِ مدینہ، اس قسم کے مطالبات کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست ہمیں نظر آکر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا؟ یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ دنیا اس آزمائش کے لیے بنائی کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے، اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اسی لیے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ براہِ راست نظر آ جائے، تو آزمائش کیا ہوئی؟ اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آ جائیں، تو پھر ایمان ہی معتبر نہیں ہوتا۔ موت کے بعد سب کو نظر آ جاتا ہے نا؟ تو کیا ایمان معتبر ہوتا ہے؟ بلکہ موت کے وقت بھی۔ اور ایسا اس وقت ہو گا، جب یہ کائنات ختم کر کے سزا اور جزا کا مرحلہ آ جائے گا۔ معاملہ چکانے سے مراد یہی ہے۔
مقصد یہ ہے کہ ہر چیز کو اللہ پاک نے پردۂ غیب میں جو رکھا ہے، اس سے ہمارا امتحان ہو رہا ہے۔ اگر پردۂ غیب سے باہر نکال دیں، تو امتحان ختم ہو گیا۔ امتحان ختم ہو گیا، پھر نتیجے کا انتظار ہے۔ وہ پرچہ آپ کر رہے ہیں، پرچہ، اور پرچے میں آپ اٹھیں اور Examiner سے کہہ دیں کہ یہ چیز کیا ہے؟ تو Examiner کیا کہتا ہے؟ پرچہ رکھو پھر بتاتا ہوں۔ پرچہ رکھ دو پھر بتاتا ہوں۔ تو اس کی وجہ کیا ہے؟ امتحان تمہارا ہو رہا ہے، تمہیں یہ حق نہیں ہے کہ تم مجھ سے پوچھو کہ کیا... مطلب اس کا جواب کیا ہے۔ اگر جواب مجھے آتا ہے، لیکن دیتا نہیں۔ تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ تو آپ امتحان کو ختم کر دیں، پھر جواب میں دیتا ہوں۔ تو بس یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ کہ یہ ساری چیزیں جو چھپائی گئی ہیں، امتحان کے لیے چھپائی گئی ہیں، ظاہر کر دی جائیں گی، لیکن ختم... وقت ختم ہو جائے گا۔ جب وقت ختم ہو جائے گا، پھر اس کے بعد اور کچھ نہیں ہو سکے گا، پھر... اللہ تعالیٰ بچائے بس۔ ہم سب کو حفاظت میں رکھے، بہت ہی خطرے کی صورتیں ہیں، اللہ ہماری... ہمیں معاف فرما دے۔