ان سب میں سب سے بڑھ کر چار صحابی ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ان کی جگہ پر تھے اور ان کے دین کا بندوبست کیا اس لیے وہ خلیفہ اول کہلائے۔ تمام امت میں سب سے بہتر ہیں۔ کیونکہ ان پہ صحابہ کرام کا اجماع ہوا تھا سب سے پہلے لہٰذا سب سے بہتر ہیں۔ ۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دوسرے خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ تیسرے خلیفہ ہیں، اس کے بعد علی کرم اللہ وجہہ یہ چوتھے خلیفہ ہیں۔
صحابی کا اتنا بڑا رتبہ ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا ولی بھی ادنیٰ درجے کے صحابی کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ بڑے سے بڑا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہوں یا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہوں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ، جو بھی ہو وہ ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی تک نہیں پہنچ سکتے۔ یعنی جس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ ﷺ نے فرمایا میرے سامنے نہ بیٹھو، مجھے چچا یاد آتے ہیں۔ ان سے بھی وہ افضل نہیں ہے، ان سے بھی افضل نہیں ہے۔
تو یہ بات ہے کہ صحابہ کے بارے میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ اب ایک اور ضروری بات عرض کرتا ہوں، وہ اہل بیت کے متعلق۔
پیغمبر صاحب کی اولاد اور بیویاں سب تعظیم کے لائق ہیں۔ اور اولاد میں سب سے بڑا مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہے اور بیویوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہے۔
یہ جو اہل بیت والی بات ہے نا یہ بھی ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔ اصل میں لوگ reactionary ہو جاتے ہیں۔ یہ بات خطرناک ہے۔ بھئی، ہر چیز کا سیکھنا چاہیے۔ بعض لوگ صحابہ کے محبت میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اہل بیت کی مخالفت کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ خدا کے بندو! کیا اہل بیت نے صحابہ کرام کے خلاف باتیں کی ہیں؟ ایسا تو نہیں ہے۔ اہل بیت کے ماننے والے کرتے ہیں۔ تو ان کا فعل ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو آپ تو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے عیسائیوں کی وجہ سے۔ وہ تو عیسائیوں کی بات ہے۔ ضالین ہیں۔
قرآن میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ان کو کہا تھا؟ مجھے... تو کہے گا یا اللہ تو جانتا ہے۔ جو تیرے پاس ہے اس کو میں نہیں جانتا، جو میرے پاس ہے وہ تو جانتا ہے۔ جب تک میں ان میں تھا تو یہ بات تو نہیں تھی۔
تو مطلب ظاہر ہے تو عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے فعل کا، عیسیٰ علیہ السلام ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس طرح شیعوں کے فعل کا علی کرم اللہ وجہہ ذمہ دار نہیں ہے، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ذمہ دار نہیں ہے، حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ ذمہ دار نہیں ہیں، وہ وہ پاک لوگ ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ یہ ساری عمر شیعوں سے لڑتے رہے۔ تو سب سے زیادہ reactionary تو ان کو ہونا چاہیے تھا نا۔ لیکن ان کا ایک مکتوب شریف ہے۔ وہ اگر چاہیں تو ان شاء اللہ ہم آپ کو بتا سکتے ہیں۔ حضرت اس میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جس وقت ان کا دور آیا تو بے شک کوئی غوث قطب جو بھی ہو، ان کو فیض ملتا علی کرم اللہ وجہہ کے ذریعے سے ہے۔
پھر اس کے بعد فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور پھر جو اولاد ہے ان کے ذریعے سے حتیٰ کہ وہ اولاد کا سلسلہ چلتا رہا اور باقاعدہ اماموں کے نام لیے جو ہم جانتے ہیں۔ وہ ان کے نام لیے اور فرمایا کہ ان، پھر ان کے بعد، پھر ان کے بعد پھر جو ہے نا سلسلہ جب، فرمایا جب یہ سلسلہ ختم ہو گیا تو پھر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔
اور کمال کی بات یہ ہے کہ بعض مکتوبات شریف کو ختم کیا جس دعا پر، اس دعا میں یہ کہا: اے اللہ! آل فاطمہ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما۔ آل فاطمہ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما دے۔ یہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، سبحان اللہ، ان کو تو شہیدِ اہل بیت کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو۔ کیوں حضرت زید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ انہوں نے دیا تھا تو اس وقت کے خلیفہ ان کے خلاف ہو گئے تھے۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ ان کی بات ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ان کی بات۔ ان کا پورا شعر ہے۔ وہ شعر عربی کا تو مجھے یاد نہیں لیکن اس کا مفہوم یاد ہے۔ فرمایا اے منیٰ کو جانے والے حاجیوں! ثقلین گواہ رہیں، اگر حبِ اہل بیت رفض ہے تو میں رافضی ہوں۔
إِنْ كَانَ رَفْضاً حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ،
فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلانِ أَنِّي رَافِضِي۔
یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا شعر ہے۔
تو یہ حضرات تو اتنے دھڑلے سے کہتے ہیں، حبِ اہل بیت کی بات کرتے ہیں۔ اور یہ ہمارے چھوٹے چھوٹے لوگ جن کو کچھ بھی پتا نہیں ہے، وہ بات کرتے ہیں بھئی یہ اس قسم کی بات ہو رہی ہے، اس قسم کی بات... خدا کے بندو! ذرا تھوڑا سا ہوش سے کام لو۔ شیعوں کی غلطیوں کی طرح تم غلطی نہ کرو۔ جیسے انہوں نے صحابہ کے خلاف باتیں شروع کیں، تو تم اہل بیت کے خلاف اس طرح باتیں نہ کرو۔
ہمارے لیے تینوں محترم ہیں۔ صحابہ کرام، اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور امہات المومنین۔ تینوں ہمارے لیے محترم ہیں۔ لہٰذا ان میں سے جس کا بھی کوئی مخالف ہو گیا تو وہ حق سے نکل گیا۔ چاہے صحابہ کے خلاف ہو جائے، چاہے اہل بیت کے خلاف ہو جائے، چاہے امہات المومنین میں سے کسی کے خلاف ہو جائے۔ وہ حق پہ نہیں رہا۔ لہٰذا ان میں سے کسی کے خلاف بھی بات نہیں کرنی چاہیے۔
اور یہ آپ لوگوں نے کیسے سمجھا کہ جو اہل بیت ہیں وہ صحابہ نہیں تھے؟ وہ بھی تو صحابہ تھے نا، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی نہیں؟
اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ ہم نے تینوں کے بارے میں کہا ہے اور ایک ہی بحر میں کہا ہے اور ایک ہی طرح کہا ہے درمیان میں کوئی ایسی بات نہیں تھی تاکہ امتیازی فرق نہ ہو اس وقت تو میں اھل بیت کا بتاوں گا ان شاء اللہ پھر کبھی موقع ملا تو صحابہ کے بارے میں بھی بتائیں گئے کیوں کہ ہمارے لیے تو سب ہمارے سر کے تاج ہیں
کلام حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم۔ صحابہ کی شان کے عنوان سے ہے۔ اہل بیت کا مقام، حضرت فرماتے ہیں:
اہلِ بیت کا مقام
مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ
جو سمجھے کوئی دل میں شانِ رسول
ہو محبوب انہیں خاندانِ رسول
ذرا پڑھ تو لینا فرمانِ رسول
ہے قرآن کے ساتھ عترتی اس میں جب لائق اتباع کے پھر سارے ہیں یہ
خواتینِ جنت کی ہے سیدہ
جگر گوشہ آقا کی ہے فاطمہؓ
مثالی رہی ہے یوں ان کی حیا
مثالی رہے ہیں یہ سب اہل بیت، نہیں غیر کے ہیں ہمارے ہیں یہ
شجاعت علیؓ کی رہی ہے مثالی
جو ہیں بابِ علم مقام ان کا عالی
سلاسل کے باغِ مقدس کے مالی
یہ گلشن نبی کے ہیں پھول ایسے،کہ جو حق پہ ہیں سب ان کے پیارے ہیں یہ
وہ سردارِ امت اور نام کا حسنؓ
فہیم اُمت تھے بچایا چمن
تھے اُمت کے جوڑ کی امید کی کرن
یہ آقا کے گود میں پلے اور بڑھے ہیں اور آقا کے سچ مچ دلارے ہیں یہ
وہ شیر متقی، وہ حسین ؓ، وہ نڈر
کہ حق کے لئے پیش کیا جس نے سر
جب آواز حق اس پہ تھی منحصر
رقم اپنے خون سے کی داستانِ حق،عجب فکرِ حق کے نظارے ہیں یہ
نبوت، ولایت یہاں دیکھ لو
یہ دل کا کچھ اور ہی جہاں دیکھ لو
شبیرؔ ان کی قربانیاں دیکھ لو
تبھی ساتھ ہونے کا فرمایا ہےکہ دیں پر عمل کے سہارے ہیں یہ
آگے حضرت نوٹ میں فرماتے ہیں، صحابہ کا لفظ اگر اکیلے آئے تو اس میں امہات المومنین، اہل بیت اور باقی سارے صحابہ شامل ہوتے ہیں۔
اب اہل سنت والجماعت صحابہ کس کو کہتے ہیں، حضرت فرماتے ہیں:
بوبکرؓ صحابی ہے تو علیؓ بھی صحابی
اور عائشہؓ صحابیہ تو فاطمہؓ ہے بھی
اور مائیں بھی اپنی صحابیات ہی توہیں
حسنینؓ صحابہ ہیں یہ ان سے جدا نہیں
تو یہ جو احادیث شریفہ ہیں ان کے بارے میں، حدیثِ سفینہ جس میں یہ فرمایا کہ صحابہ کی مثال سفینہ کی ہے۔ جو اس میں بیٹھ گیا تو بچ گیا اور جو نہیں بیٹھا تو تباہ ہو گیا۔ مطلب نوح علیہ السلام کی جو ہے نا سفینہ کی تشبیہ دی ہے۔ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین یعنی ان کے بارے میں فرمایا کہ جو ان کے پیچھے چلا تو ظاہر ہے وہی کامیاب ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو عمل ہے وہ تو صحابہ کے ما انا علیہ واصحابی جیسے فرمایا گیا عمل تو صحابہ سے سیکھنا ہے تو صحابہ میں وہ بھی شامل ہیں۔
لیکن محبت کے لیے ان کو چنا گیا ہے۔ یعنی ایسی بات ہے جیسے ماں کے ساتھ محبت کی جاتی ہے باپ کی بات مانی جاتی ہے نا، یہ ایک مثال میں دیتا ہوں ویسے۔ تو اس طرح صحابہ جو صحابہ ہیں ان کی تو بات مانی جاتی ہے ان کے پیچھے چلا جاتا ہے جانا ہوتا ہے۔ لیکن جو اہل بیت ہیں ان کے ساتھ محبت کی جاتی ہے۔ یہ والی بات ہے، محبت کے لیے ان کو اللہ تعالیٰ نے مخصوص کیا ہے۔ تو جن کے دل میں یہ محبت نہیں ہے وہ اپنی خیر منائے۔ بہت مشکل صورتحال ہے کہ اگر ان کے دل میں یہ محبت نہیں۔
باقی یہ کہ اس میں Reaction میں لوگ آتے ہیں، یہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے صحاح ستہ میں پانچویں کتاب ہے نا صحاح ستہ میں، ان کو ٹھڈے مار مار کر شہید کیا گیا ہے۔ کہ یہ اہل بیت کی محبت کی باتیں کرتے تھے۔ سمجھ آ رہی ہے بات؟ آپ کو پتا ہے؟ ان کو ٹھڈے مار مار کر شہید کیا گیا ہے کہ اہل بیت کی بات کرتے تھے۔ تو بعض لوگ reactionary ہو کر اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں۔
حالانکہ وہ ہماری صحاح ستہ کی کتاب جو ہے اہل سنت والجماعت کی ہے۔ اس طرح جتنے بھی امام بتائے جاتے ہیں، وہ لوگ سمجھتے ہیں یہ ان کے امام ہیں، خدا کے بندو یہ ہمارے امام ہیں۔ امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ، امام باقر رحمۃ اللہ علیہ مجھے آپ بتائیں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو جو مقام ملا ہے کس کی برکت سے ملا ہے؟ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے۔ وہ خود کہتا ہے اگر وہ دو سال میں نے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کے ساتھ نہ گزارے ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔ یہ سب خود حضرت خود فرما رہے ہیں۔
اور اس طرح حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔ وہ ان کا خلیفہ ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا خلیفہ ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کے خلیفہ ہیں۔ تو اب دیکھو مطلب ہمارے جتنے امام ہیں وہ سارے کے سارے تو ان کے ساتھ ہیں۔
ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا، عجیب بات ہے اللہ معاف فرمائے۔ مجھے کہتے ہیں امام حسین رضی اللہ عنہ کو امام کہہ سکتے ہیں؟ میں نے کہا میں آپ کو کیا بتاؤں؟ خدا کے بندے ان کا پڑپوتا امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ ان کے بارے تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ میں ان کے ذریعے سے بنا ہوں، تو آپ ان کے پردادا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں امام ہونے پر شبہ کرتے ہیں کہ وہ امام ہیں یا نہیں، خدا کے بندے کیا کہہ رہے ہو تم؟
یہ اس قسم کی جہالتیں آج کل پنپ رہی ہیں۔ تو یہ تو بہت بڑے لوگ تھے اور ان کے ساتھ محبت دل کے ساتھ ہونی چاہیے دل سے محبت ہونی چاہیے۔ پھر ہمارا عقیدہ پختہ ہوتا ہے۔ جہاں تک صحابہ کی بات ہے، سبحان اللہ، بسر و چشم۔ ان کے بارے میں بھی مطلب وہ ہے یہ دیکھیں سن لیں تھوڑا سا۔
صحابہؓ کی شان
صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہوچکا ہے
صحابہؓ کا رستہ ہدایت کا معیار
طریق نبی یعنی سنت کا معیار
حب ان کا نبی کی محبت کا معیار
ستارے ہدایت کے ہیں یہ صحابہؓ مقام ان کا سب پر عیاں ہوچکا ہے
یہ حبِ صحابہؓ نہ ہو جن کو حاصل
نہ ہوسکتا ہے وہ کبھی حق کا واصل
یہ حق اور باطل کا ہے ایک فاصل
جو بغضِ صحابہؓ کا داعی بنے تو جو شر ہے وہ اس میں جواں ہوچکا ہے
عقیدہ صحابہؓ کا اصلی عقیدہ
جو ہے مختلف اس سے،ہے سر بریدہ
کہ باقی شنیدہ ہیں اور وہ ہیں دیدہ
جوغیر انبیاء سے ہیں افضل یہ سارے کہ رب ان پہ یوں مہرباں ہوچکا ہے
کبھی بھی صحابہؓ پہ تنقید نہ کرنا
کہ بارے میں ان کے خدا سے ہے ڈرنا
جو ان سے کٹے، ان کا کیسے سنورنا
تباہی کے رستے کھلے واں پہ شبیرؔ ظلم خود پہ ایسا جہاں ہو چکا ہے
اللہ جل شانہ ہمیں صحیح عقیدے پر قائم رکھے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ اس کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے ایمانِ کامل دائم۔ یہ اللہ پاک سے مانگنا چاہیے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی گزارا نہیں ہے۔ کہیں پر بھی خدانخواستہ اگر بھول چوک عقائد کے بارے میں ہو اس کا پتا چلے تو فوراً توبہ کرنا چاہیے۔ فوراً رجوع کرنا چاہیے۔ یعنی اس میں کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ مطلب ظاہر ہے کوئی بات ماننے میں کتنی مشکل ہو گی؟ تو فوراً رجوع کرنا چاہیے تاکہ کہیں اس حالت میں انسان مر نہ جائے۔ مطلب کوئی غلط بات اس طرح ہو اور انسان کے عقیدے میں ہو تو اس کے ساتھ کہیں مر نہ جائے۔
اور یقین جانیے کہ بڑے بڑے لوگ جو ہیں جن کے پیچھے لوگ ہیں وہ ان کو کچھ بھی نہیں دے سکیں گے۔ وہ خود بھی نہیں بچ سکیں گے تو دوسروں کو کیا بچائیں گے؟ قرآن پاک میں ہے نا کہ ان کو لیڈروں کے بارے میں کہیں گے ان کو دگنا عذاب دے دیں۔ یعنی ان کی وجہ سے ہم گمراہ ہو گئے ہیں، ان کو دگنا عذاب دے دیں۔ تو اس وجہ سے کسی بھی لیڈر کسی بھی بڑے جن کو جس کی وجہ سے اپ کا عقیدہ خراب ہو رہا ہے ان کے ساتھ، ٹھیک ہے اپ اگر سیاسی طور پہ کسی کے ساتھ ہیں تو میں سیاسی آدمی نہیں ہوں میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا وہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے، کم از کم ایمان تو بچاؤ نا، ایمان کا بچانا تو لازم ہے نا، وہ تو ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور اپ سب کو کامل اور دائم ایمان نصیب فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ۔