اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ﴿208﴾
اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ﴿208﴾
اصل میں یہ وہ آیتِ کریمہ ہے جس میں اللہ جل شانہٗ، ایمان اور اسلام کا جو Concept ہے، وہ بہت واضح طور پر سمجھا دیتے ہیں۔ دیکھو یہاں پر ابتداء کی گئی ہے "يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" سے۔ اے ایمان والو! یعنی یہ ایمان لا چکے ہیں، ایمان ان کو پہلے سے حاصل ہو چکا ہے، ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے۔ پھر ان سے فرمایا گیا "اُدْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"، اسلام کے اندر پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اسلام کے اندر پورے کے پورے داخل ہونا، ایمان کے بعد ہے۔ لیکن اس کی تفصیل الگ ہے۔ یہ والی بات، تفصیل اس کی یہ ہے کہ آپ ﷺ سے جبرائیل علیہ السلام نے سب کے سامنے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ایمان کی تعریف ایمان کے شعبوں کے ذریعے سے کی۔ اللہ پر ایمان ہے، فرشتوں پر اور اس کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ پھر اب جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ پھر اسلام کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کلمہ کا، کہ شرک نہ کرو اور نماز پڑھو، روزے رکھو، یہ جو اعمال ہیں ان کے بارے میں فرمایا۔
تو اس کا مطلب ہے ایمان تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے ماننا ہے، اور تصدیق کرنا ہے دل سے، کہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب، ایمان تو یہ ہے۔ لیکن اسلام جو ہے نا وہ پھر اس کے ایمان کے تقاضوں پر عمل کرنا ہے۔ اور ایمان کے تقاضے بتا دیے گئے اس حدیث شریف میں کہ وہ یہ ہیں۔ تو اب اس کے اندر اسلام میں جتنے تقاضے بیان کیے گئے ہیں، اس میں یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ کو لے لیں اور کچھ کو نہ لیں۔ مثلاً عبادات کر لیں، معاملات چھوڑ دیں۔ عبادات و معاملات لے لیں، معاشرت چھوڑ دیں۔ ان تینوں کو لے لیں، اخلاق کا خیال نہ رکھیں۔ یعنی اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جانا، پھر اسلام کے جو فروع ہے، پورے کا پورا، اس میں کسی سے بھی انکار نہ کرنا۔ جو شعبے ہیں مختلف، مثلاً دعوت و تبلیغ بھی ایک شعبہ ہے۔ تزکیۂ نفس بھی ایک شعبہ ہے۔ تعلیم و تدریس یہ بھی ایک شعبہ ہے۔ جہاد، یہ بھی ایک شعبہ ہے۔ ملکی سیاست جو شرعی قوانین کا نفاذ کے لیے راستہ بنائے، وہ بھی ایک شعبہ ہے۔
اب کسی ایک شعبے میں میں کام کروں، اور باقی شعبوں سے صرفِ نظر کروں، ان کو کم سمجھوں، ان کے بارے میں میرے خیالات کمزور ہوں، بلکہ آج کل تو بعض دفعہ تو مخالفت کی جاتی ہے، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ مخالفت کی جاتی ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ دین کے کسی شعبے کی اعلانیہ مخالفت ہو، اعلانیہ مخالفت، یہ تو فسق تک انسان کو پہنچا دیتا ہے۔ تو یہ مطلب ہے کہ پورے کا پورا دین، اس کو صحیح سمجھا جائے اور پورے کے پورے دین پر عمل کیا جائے، اور پورے کے پورے دین کو... ماشاءاللہ جو لوگ پہنچا رہے ہیں لوگوں تک، ان کی قدر کی جائے۔
ایک دفعہ میں سخاکوٹ گیا تھا۔ جو میرے میزبان تھے، ان کو پتہ تھا، مجھے پتہ نہیں تھا، ایک وکیل صاحب بھی آئے تھے بیان میں۔ تو ہمارے ہاں Question Answer کا موقع تو ہوتا ہے، Question Answer Session ہو گیا تو اس وکیل نے جب سوالات شروع کیے، تو مجھے میزبان نے بعد میں کہا کہ میں ڈر گیا، میں نے کہا یہ تو سب کو پھنساتے ہیں، کہیں شاہ صاحب کو نہ پھنسا لیں۔ مجھ سے اس نے پوچھا، آپ کا تبلیغی جماعت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ چونکہ میں تو تزکیہ کے بارے میں باتیں کر رہا تھا نا، تو ظاہر ہے تھوڑا سا تو اس نے کہا کہ آپ کا تبلیغی جماعت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا بہت اچھا خیال ہے، بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اللہ ان کو اور بھی مزید توفیقات سے نوازے اور ہر جگہ دین پہنچانے کے لیے ان کی کوششیں کارفرما ہو جائیں۔
میں نے کہا ہاں البتہ ایک بات میں آپ سے عرض کروں گا، کہ یہ ایک شعبہ ہے، صرف ایک شعبہ نہیں ہے، بلکہ شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ لہٰذا اس کی قدر ضرور کریں لیکن باقی شعبوں کی ناقدری نہ کریں۔ پھر میں نے اس کو مثال دی۔ میں نے کہا وباء آ گئی، کسی جگہ وباء آ گئی۔ وباء کو دور کرنے کے لیے، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ڈاکٹر تھے، وہ ناکافی تھے۔ ظاہر ہے ڈاکٹر تھوڑے ہوتے ہیں، وباء بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تو ڈاکٹروں نے سوچا کہ ہمارے سے کنٹرول تو نہیں ہو سکتا، تو کمپوڈروں کو بھی ساتھ ملا دیا، ڈسپنسروں کو بھی ساتھ ملا دیا، ان کو بھی طریقے بتا دیے بھئی یہ Symptoms جن میں ہوں تو پھر ان کو یہ دوائیاں، یہ گولیاں یہ دے دی جائیں۔ ان کو بھی ساتھ کر دیا، وباء اس سے بھی کنٹرول نہیں ہوا۔ پھر انہوں نے کہا جی شہر کے اندر جو ہوشیار لوگ ہیں، ان کو دس دس دن کی ٹرینگ ان باتوں کی دی جائے اور ان کو بھی یہ بتا دیا جائے طریقہ کہ یہ Symptoms ہوں تو ان کو یہ دوائیاں دو۔ تو چونکہ وہ بہت سارے تعداد میں ہو گئے نا، یعنی دس دس دن کی ٹرینگ لینے والے، تو وباء کنٹرول ہو گیا۔
اب اگر وہ دس دس دن کی ٹرینگ لینے والے کہیں، دیکھو نا نہ ڈاکٹروں سے کنٹرول ہوا، نہ ڈسپنسروں سے کنٹرول ہوا، ہم نے کنٹرول کر لیا، آپ اس Statement کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ کہتے ہیں ناجائز ہے۔ میں نے کہا بس آپ سمجھ گئے۔ کیونکہ اگر ان دس دن کی ٹرینگ ان کو ڈسپنسر نہ دیتے، اور سپیشلسٹ ڈاکٹر ڈاکٹروں کو وہ ساری چیزیں نہ بتاتے، تو یہ کام نہیں ہو سکتا تھا، یہ دس دن کی Training کی کوئی حیثیت نہ ہوتی، یہ فائدہ نہ ہوتا۔ تو میں نے کہا اس طرح تبلیغ کا کام جو ہے، ان کی مثال خون کی طرح ہے۔ خون کا کام یہ ہے کہ جسم کے جو جو حصے جو کام کر رہے ہیں، اس کو سارے جسم کے جہاں جہاں اس کی ضرورت ہے، وہاں تک پہنچا دے۔ تو خون تو بہت اہم ہے، لیکن صرف خون پڑا ہو، تو وہ جسم تو نہیں ہے۔ وہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن خون کی ضرورت تو ہے۔ تو میں نے کہا مثال یہی ہے، اس کی خون کی طرح ہے۔ کہتے ہیں بالکل آپ نے صحیح کہا، میں بالکل مانتا ہوں۔ تو میرے میزبان نے کہا کہ ہماری جان میں جان آ گئی، الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ اس کو بات سمجھ آ گئی۔
تو مقصد یہ ہے کہ یہ جو باتیں ہیں، آج کل بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔ کوئی جہاد کی مخالفت کر رہا ہے، تو کوئی علماء کو حقارت سے دیکھ رہے ہیں، بھئی ان بیچاروں کو ابھی دین کا، ابھی پتہ نہیں چلا ہے، ابھی بس... ان پہ حقیقت ابھی نہیں کھلی، کیا کریں؟ صوفیاء کے بارے میں کہتے ہیں، یہ تو ویسے ہی بیٹھے ہوئے ہیں، لوگوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں، لوگوں کو بٹھاتے ہیں، کھڑے ہونے کا وقت ہے، لوگوں کو بٹھاتے ہیں... مطلب اس طرح Comments میں نے خود سنے ہیں۔ تو یہ غلط بات ہے، یہ غلط بات ہے۔ "يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"، یہ آیت... اس کے اوپر دال ہے، کہ پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ۔
پھر ایک صاحب سے میں نے کہا، میں نے کہا آپ کا جو چھ نمبر ہے، کیا اس میں پورا دین آ جاتا ہے؟ کہتے ہیں "نہیں"۔ میں نے کہا تبلیغی جماعت میں جتنا بھی وقت لگاؤ گے، تو کیا چھ نمبروں سے زیادہ سیکھو گے؟ کہتے ہیں نہیں۔ تو میں نے کہا باقی دین موجود ہے نا، وہ تو کہیں اور سیکھو گے نا؟ تو میں نے کہا ان کی قدر کرو گے یا نہیں کرو گے؟ آخر وہ بھی تو اس کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں نا۔ جن سے آپ نے باقی دین سیکھنا ہے، تو یہ... مطلب آپ کو ان کی قدر کرنی پڑے گی، آخر وہ اسی لیے بیٹھے ہوئے۔ اس طرح علم سیکھنے سے تو کام نہیں بنتا، علم Implement کرنے، اس پر عمل کرنے سے کام بنتا ہے، اور عمل کرنے میں دو رکاوٹیں ہیں، قرآن پاک بتاتا ہے، ایک شیطان ہے اور ایک نفس ہے۔ اب اس شیطان کے چکر سے نکالنا اور نفس کا علاج کرنا، یہ جو شعبہ ہے یہ کتنا قیمتی ہو گا جس پہ آپ کو عمل کی توفیق ہوتی ہے؟ میں نے کہا آخر مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی کہیں بنے ہوئے تھے، اور مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ بھی کہیں بنے ہوئے تھے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی کہیں بنے ہوئے تھے، ان جگہوں کو خانقاہیں کہتے ہیں۔ یہ آپ کو جو اتنا بڑا فائدہ ہوا مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ سے، تو کس لیے ہوا؟ اس لیے ہوا کہ وہ خانقاہوں سے بن کے آئے تھے۔ تو میں نے کہا آپ اسی چیز کی مخالفت کر لیں جو آپ کا محسن ہے۔
تو بس یہی اصل میں بنیادی باتیں ہیں۔ تو یہ اب... یہ جب مجھے... میں آیت پڑھتا ہوں تو مجھے یہ ساری باتیں یاد آ جاتی ہیں۔ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ"۔ اس میں ایک اور بات بھی ہے، جو ایسا نہیں کرتا وہ شیطان کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔ اللہ پاک نے فوراً اس کے بعد کیا فرمایا؟ "وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ" اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ "إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ" بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ یقین جانیے شیطان سے زیادہ دشمنی کھلا کسی اور کی نہیں ہے، لیکن شیطان کے جال میں... آ جاتے ہیں لوگ۔ شیطان کے جال میں لوگ آ جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ وہ ہمارے اندر کی جو چھپی باتیں ہیں، نفس کے جو تقاضے ہیں، ان کو ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ لہٰذا وہ انہی کو استعمال کر کے وسوسہ کی صورت میں ہمارے دل میں Inject کرتے ہیں، نتیجتاً ہمارا دل ان سے متاثر ہو جاتا ہے، پھر وہ کام کر لیتے ہیں جو شیطان چاہتا ہے۔ تو ہمیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے، اللہ ہمیں ہماری حفاظت فرمائے۔ یاکریم، یاکریم، یاکریم... یہ بہت اہم بات تھی۔