اسلامی عقائد کے بنیادی اصول اور عصری فتنے

عقیدوں کا بیان، اشاعت اول، 6 اپریل، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان
  • کسی شخص کو حتمی جنتی قرار دینے کا شرعی اصول
    • دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا عقیدہ اور اس کی حقیقت
      • ایمان کے تقاضے اور ایمان کو خطرے میں ڈالنے والی گفتگو
        • غیب دانی کے دعوے، نجوم، فال اور ظنی پیشین گوئیوں کی شرعی حیثیت
          • علمِ غیب اور انباء الغیب کے درمیان بنیادی فرق
            • انسان کا اختیار، ارادہ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت
              • شریعت میں وسعتِ انسانی اور فضلِ خداوندی کا تصور
                • مقامِ صحابہ ؓ، مشاجراتِ صحابہ ؓ میں خاموشی اور گستاخِ صحابہ ؓ سے بائیکاٹ کا حکم

                  الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم

                  معزز سامعین و حضرات آج عقائد کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔

                  کسی کے جنتی ہونے کے متعلق

                  جن لوگوں کا نام لیکر اللہ اور رسول نے ان کا جنتی ہونا بتا دیا ہےان کے سوا کسی اور کا جنتی ہونے کا یقینی حکم نہیں لگا سکتے ۔ البتہ اچھی نشانیاں دیکھ کر اچھا گمان رکھنا اور اس کی رحمت سے امید رکھنا ضروری ہے

                  اللہ تعالیٰ کے دیدار سے متعلق

                  جنت میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے ۔ جو جنتیوں کو نصیب ہوگا۔ اس کی لذت میں تمام نعمتیں ہیچ معلوم ہونگی۔ دنیا میں جاگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو ان آنکھوں سے کسی نے نہیں دیکھا۔ اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہے

                  یہ بنیادی بات ہے۔

                  بعض حضرات ان غلط فہمیوں میں ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا میں ہو سکتا ہے۔ حالانکہ قرآن کا نص موجود ہے: لَنْ تَرَانِي۔ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا۔ تو موسیٰ علیہ السلام سے بڑا کوئی بزرگ نہیں ہے؟ اور قرآن سے اونچی کوئی سند نہیں ہے۔ تو اس کے بعد اگر کوئی کہتا ہے تو یہ بس غلط فہمی ہے یا بس پتا نہیں کوئی مسئلہ ہے اس کو۔ اگر دلائل سے پھر بھی نہیں مانتا تو پھر تو اس کا اپنا علاج کرنا چاہیے مطلب یہ تو مجبوری ہے۔

                  کیونکہ اللہ جل شانہ کا دیدار جو ہے یہ ادھر ہو گا ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرما دے۔

                  حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس پہ بڑی صراحت کے ساتھ بات فرمائی ہے کہ جن حضرات کو خواب میں دیدار ہونے کا ہوا ہے یا کشف میں، وہ سب مثالی صورتیں ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ اصل نہیں ہے۔ مثالی صورتیں ہیں۔

                  اب جیسے درخت سے آواز آ رہی تھی تو درخت تو خدا نہیں تھا۔ اس طرح مثالی صورتیں ہو سکتی ہیں، کسی کو روشنی نظر آ جائے، کسی کو کیا... تو یہ مثالی صورتیں جو ہیں نا، یہ اللہ نہیں ہوتا۔

                  تو اس کے مطابق یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ پاک کا دیدار دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا۔

                  بعض حضرات کہتے ہیں نہیں وہ لامکان میں چلے جاتے ہیں۔ بھئی لامکان میں تو آپ ﷺ تشریف لے گئے، اور کون لامکان میں جا سکتا ہے؟ تو اپنی طرف سے باتیں نہیں بنانی چاہئیں۔ جو حق بات ہے بس اس کو ماننا چاہیے۔

                  ایک صاحب نے میرے ساتھ اس پر اتنی لمبی بحث کیا، کوہاٹ کے حاجی بہادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ، بزرگ گزرے ہیں، اللہ والے گزرے ہیں، اللہ ان کو بلند درجات عطا فرمائے۔ ان کے بارے میں وہ فرمایا کہ وہ لوگوں کو دیدار کروا سکتے تھے۔

                  یعنی باقاعدہ یعنی وہ دیدار کروا سکتے تھے، پھر اس کے حوالے دیے۔ کہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کو کرایا تھا اور اس طرح اور بہت سارے۔ تو اب میں حیران ہوں واقعات جو بھی کہیں پر بھی لکھے ہیں لیکن انسان اپنے دماغ کو بھی تو لڑائے نا، یہ تو دماغ اللہ تعالیٰ نے کس لیے دیا ہے؟ اس لیے دیا ہے تاکہ اس سے کام لے لے۔

                  تو یہی بات ہے جب قرآن کا نص موجود ہے، تو اس کے بعد پھر کسی اور بات کی کیا یعنی ضرورت ہے، بس کافی ہے۔

                  ایمان سے متعلق

                  ایمان جب درست ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول کو سب باتوں میں سچا سمجھے اور ان سب کو مان لے، اللہ و رسول کی کسی بات میں شک کرنا یا اس کو جھٹلانا یا اس میں عیب نکالنا یا اس کا مذاق اڑانا، ان سب باتوں سے ایمان جاتا رہتا ہے

                  یہ آج کل اس قسم کی گپ شپ میں باتیں ہوتی ہیں۔ بھئی وہ گپ شپ جو آپ کو ایمان سے خارج کر دے وہ گپ شپ نہیں لگانی چاہیے۔ نہ کسی کی ایسی قسم کی گپ شپ سننی چاہیے۔ اس سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اور ایمان سے بڑا اور عزیز چیز کوئی نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کو بہت خیال رکھنا چاہیے ایسی چیز کا جس سے ایمان کو خطرہ پڑ سکتا ہو۔

                  ایمان کے منافی بعض غلط نظریات

                  قران اور حدیث کے کھلے کھلے مطلب کو نہ ماننا اور کھینچ تان کر اپنی خواہش کے مطابق مطلب گھڑنا بددینی کی بات ہے۔ گناہوں کو حلال سمجھنے سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ گناہ چاہے جتنا بڑا ہو جب تک اس کو برا سمجھتا رہے ایمان نہیں جاتا، البتہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے نڈر ہوجانا یا نا امید ہوجانا کفر ہے۔ کسی سے غیب کی باتیں پوچھنا اور اس کا یقین کرلینا کفر ہے۔

                  یہ آج کل یہ بھی مسئلہ ہے۔ یہ نجومیوں سے اور palmist سے اس قسم کی باتیں پوچھتے ہیں۔ یہ مطلب ظنی باتیں ہیں، اندازے کی باتیں ہوتی ہیں۔

                  ان لوگوں کو اتنا تجربہ ہوتا ہے کہ وہ face reading کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی palmist ہے، تو وہ اس کے face کو دیکھتا ہے کہ کہتا ہے... اس قسم کی بات... اس کے چہرے پہ نظر ڈالتا ہے کہ وہ Yes میں ہے یا No میں ہے۔ تو اس کے مطابق وہ پھر بات آگے بڑھاتے جاتے ہیں، experience ہو جاتا ہے ان لوگوں کو۔ تو وہ ان کے ماضی کی باتیں بتا بتا بتا کے، مطلب کرید کرید کے بتا بتا کے، اس کا اپنے اوپر یقین کر لیتے ہیں، پھر مستقبل کی باتیں بتانا شروع کر لیتے ہیں، اس کا تو کوئی پتا ہی نہیں۔ لہٰذا وہ معاملہ ایسا ہو جاتا ہے۔

                  وہ طوطے کے فال وغیرہ نہیں ہوتے؟ نکالتے ہیں نا طوطا فال۔ تو ایک آدمی اس طرح بیٹھا، طوطے کا فال نکال رہا تھا۔ تو ایک راہگیر گزرا۔ اس نے کہا یہ کیا کر رہے ہو؟ کہتے لوگوں کی قسمت بتا رہا ہوں اس سے کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا ان کو اگر کوئی اچھی خبر مل جائے تو اس پر عمل کر لیتے ہیں، اس سے فائدہ ہو جاتا ہے۔ اس نے کہا پھر آپ ادھر کیوں بیٹھے ہیں؟ اپنے لیے بھی ذرا کچھ نکالو نا۔ خوامخواہ آپ نے یہ اتنا فضول قسم کا service شروع کیا ہے، پھر اپنے لیے بھی کچھ نکالو۔

                  تو یہ ساری باتیں جو ہیں نا بالکل یعنی ظنی باتیں ہوتی ہیں، اندازہ ہوتا ہے۔ جیسے مثال کے طور پر یہ موسمیات والے جو بارش کا وہ کرتے ہیں۔ تو یہ بھی یقینی بات تو نہیں ہوتی، ظنی بات ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کے لیے آلے ان کے پاس ہیں، اور آلوں کی وجہ سے ظنی بات نسبتاً بہتر ہو جاتی ہے۔

                  مثال کے طور پر کوئی بادل آ رہا ہے۔ تو اپنے experience سے اگر میں بتا دوں کہ اتنی دیر میں یہ پہنچ جائے گا، تو اتنی دیر میں بارش ہو جائے گی، تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے، ہو سکتا ہے معلوم ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی یقینی بات نہیں ہوتی۔ اس میں بھی غلطی کا امکان ہوتا ہے۔

                  یہ ہمارے ساتھ رویت ہلال کمیٹی میں موسمیات والے بھی بیٹھتے تھے۔ تو ادھر راولپنڈی میں ایک دفعہ بہت سخت بارش ہوئی تھی، نالہ لئی چڑھ گیا تھا اور بہت تباہی ہوئی تھی، ان کے دوکان خراب ہو گئے تھے۔

                  تو میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا تم لوگوں کی ڈیوٹی یہ تھی کہ تم لوگوں کو بتاتے، تو تم لوگوں نے لوگوں کو کیوں نہیں بتایا کہ اتنی بڑی، سخت بارش آ رہی ہے، تو وہ ذرا اپنا انتظام کر لیتے؟

                  خاموش تھے تھوڑی دیر، کہتے ہیں میں آپ کو کیسے سمجھاؤں، یہ اصل میں bursting clouds تھے۔ یعنی وہ جو یکدم پھٹتے ہیں، اس کا پہلے سے پتا نہیں چلتا۔ اس وجہ سے ان کو پتا نہیں چلا۔ چلیں۔

                  کچھ عرصہ کے بعد، دو تین مہینے کے بعد انہوں نے پیشن گوئی کی کہ اُسی طرح بارش ہونے والی ہے جس طرح پہلے ہوئی تھی نالہ لئی والی جو... لوگ بڑے ڈر گئے، اس دفعہ بارش ہی نہیں ہوئی۔

                  پھر ہماری ملاقات ان کے ساتھ ہوئی، میں نے کہا اس دفعہ تو آپ نے پیشن گوئی کی اور وہ بارش ہی نہیں ہوئی، یہ کیا وجہ ہے؟

                  تو پھر ذرا سوچ میں پڑ گئے، مجھے کہتے ہیں میں آپ کو کیسے سمجھاؤں؟ میں نے کہا اس کو face saving چاہیے۔ تو میں نے کہا ایسا تو نہیں تھا کہ آپ نے ان کے speed کا اندازہ لگایا، direction کا اندازہ لگایا اور بادل آتے آتے یکدم مڑ گئے ہوں؟ کہتا ہے Exactly it happened۔ کہتا ہے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر مڑ گئے تھے۔ میں نے کہا یہی تو بات ہوتی ہے۔ اس کا تو پتا نہیں چلتا۔

                  مطلب یہ ہے کہ یہ سب ظنی باتیں ہیں۔ ہمارے چچا مرحوم، اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، میرے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ظاہر ہے ایک شادی تھی تو ان سے فرمایا کہ یہ ٹینٹس وغیرہ کا بندوبست کر لو، بارش بھی ہو سکتی ہے۔ میرے والد صاحب بڑے تھے۔

                  تو وہ ذرا اخباری حضرات میں سے تھے ہمارے چچا۔ اخبار پہ دیکھا کہ بارش کا امکان نہیں ہے تو آرام سے بیٹھا رہا اس نے بندوبست نہیں کیا۔ بندوبست نہیں کیا تو عین موقع پہ بارش ہو گئی۔

                  تو میرے والد صاحب نے ان سے پوچھا، وہ ٹینٹس کدھر ہیں؟ وہ کہتے اخبار میں تو لکھا تھا کہ بارش نہیں ہو گی۔ تو انہوں نے خوب ان کو ڈانٹا، کہتے میں نے تمہیں اخبار دیکھنے کا کہا تھا یا وہ ٹینٹ لانے کے لیے کہا تھا؟

                  تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں جو ہیں نا کیا ہیں؟ یہ ظنی باتیں ہوتی ہیں۔ ظنی باتوں پہ قطعی کا گمان نہیں کرنا چاہیے۔ مطلب یہ بنیادی بات ہے۔

                  اور اگر قطعی بات اس کے خلاف ہو، پھر تو بالکل اس پہ یقین نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی ایک چیز قرآن و حدیث بتا رہا ہے اور دوسری طرف سے اس قسم کی ظنی بات ہو، تو پھر کیا؟ پھر تو ظاہر ہے بالکل نہیں ماننا چاہیے۔ اس وقت تو ماننے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

                  غیب کا جو حال ہے، اس کے بارے میں آپ نے سن لیا نا، عقیدہ ہے۔ تو پھر تو ایسی چیز، ایسی ظنی بات کو کیسے مانیں ہم؟ اس وجہ سے ایسی بات کسی سے پوچھنی ہی نہیں چاہیے۔

                  اب تو آج کل یہ فیشن ہو گیا ہے کہ پہلے وہ ہوتا ہے نا موسم سے بات چلتی تھی نا کہ آج کل موسم ایسا ہے۔ اب کہتے ہیں آپ کا Star کون سا ہے؟ بھئی Star کا کیا کرو گے؟ Star سے کیا... تو ایک دفعہ ایسا ہوا تھا... وزارتِ مذہبی امور، پرویز مشرف صاحب کا دور تھا۔ تو کوئی نجومی ہے، مجھے اس کا نام معلوم تھا لیکن اس وقت میرے ذہن سے نکل گیا۔ بڑا مشہور نجومی تھا۔ اس نے پرویز مشرف کو یہ لکھا کہ یہ جو پاکستان کا جھنڈا ہے، منحوس جھنڈا ہے۔ یہ setting moon اس پر ہے، rising moon نہیں ہے۔ اس کو بدلنا چاہیے۔

                  پرویز مشرف صاحب نے اس کو وزارتِ مذہبی امور کو Mark کر دیا۔ یہ اچھا ہوا کہ اس کے سیکرٹری نے مجھے Mark کر دیا کہ آپ اس پر کچھ لکھیں۔

                  میں نے اس پر تین points لکھے۔ میں نے کہا پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو setting moon کی بتا رہے ہیں، یہ sitting moon نہیں ہے کیونکہ setting moon اور rising moon کا shape ایک جیسا ہوتا ہے۔ صرف direction مختلف ہوتا ہے۔ یعنی یہ مشرق کی طرف ہوتا ہے، یہ مغرب کی طرف ہوتا ہے۔ تو shape تو ان کا ایک ہی جیسا ہوتا ہے، shape میں تو کوئی فرق نہیں ہوتا۔ تو جھنڈے کے اوپر تو shape ہے نا، جھنڈے کے اوپر وہ یہ تو نہیں بتایا گا کہ East کی طرف ہے یا West کی طرف سے، یہ تو نہیں بتایا گیا۔ میں نے کہا یہ بات تو غلط ہو گئی۔

                  دوسرا میں نے اس کو یہ بتایا کہ علامہ اقبال جو ہمارے شاعرِ مشرق ہیں، اس نے کہا کہ

                  ستارہ کیا تجھے تقدیر کی خبر دے گا

                  یہ خود ہی گردشِ ایام میں ہے خوار و زبوں


                  تو میں نے کہا دیکھو شاعر مشرق بھی کہہ رہا ہے کہ ان چیزوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ لہٰذا ایسی باتوں کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

                  پھر میں نے حدیثیں بیان کر دی۔ میں نے کہا پہلے حدیث بیان کروں گا تو انکار کر کے تو کام خراب ہو جائے گا ان کا۔ پہلے ان کو دوسرے دلائل دے دو، پھر حدیث شریف بیان کرو۔ پھر میں نے حدیث شریف بیان کی کہ جو اگر ان چیزوں پہ یقین کرے گا اس کی 40 دن کی نمازیں چلی جائیں گی۔

                  تو بس اس کے بعد سیکرٹری کے پاس جب گیا تو اس نے کہا بس یہی جواب ہے۔ بھیج یہی جواب۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کا جھنڈا بچ گیا۔ ورنہ پاکستان کا جھنڈا خطرے میں ہو گیا تھا۔ ہاں، تو یہ بات ہے کہ ان چیزوں کی بالکل پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔

                  اچھا،

                  غیب کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اصل میں غیب اور انباء الغیب میں فرق ہے۔ علم غیب اور انباء الغیب میں فرق ہے۔

                  علم غیب جو ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، دائمی ہوتا ہے اور کلی ہوتا ہے، جزوی نہیں ہوتا۔ اور ذاتی ہوتا ہے، عطائی نہیں ہوتا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ کہ اس کا جو علم ہے، ذاتی ہے، کلی ہے، اور دائمی ہے۔

                  جبکہ کسی بھی بندے کا، انبیاء کا بھی، ان کا جو علم ہے ذاتی نہیں ہوتا عطائی ہوتا ہے، اللہ نے دیا ہوتا ہے نا۔ دائمی نہیں ہوتا، وقتی ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا علم دے دیا جائے اس کا ہی دے دیتے ہیں۔

                  مثلاً یوسف علیہ السلام کنعان میں تھے، وہ جو پاس تھا۔ یعقوب علیہ السلام کو پتا نہیں چلا۔ اور مصر سے وہ قمیص لانا شروع ہو گیا تو اس وقت ان کی خوشبو آ گئی۔ اب دیکھو، یہ بس اللہ پاک نے اس وقت دکھانا تھا، یہ پہلے نہیں دکھانا تھا۔ حکمت تھی اللہ تعالیٰ کی۔

                  آپ ﷺ کا باقاعدہ قرآن میں ہے۔ یعنی کفار کو پتا چل گیا کہ مسلمانوں کا دستہ ادھر آیا ہوا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو پتا نہیں چلا۔

                  کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا میں ان کا مڈبھیڑ کروانا چاہتا تھا۔ تو اللہ پاک نے اپنی حکمت سے مسلمانوں سے اس کو چھپایا اور کفار پہ ظاہر کر دیا۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ عطائی ہے، وقتی ہے اور کلی نہیں ہے۔ کسی چیز کا ہو گا، کسی چیز کا نہیں ہو گا۔

                  یہ جو علم غیب ماننے والے لوگ ہوتے ہیں نا، ان میں سے ایک عالم کے ساتھ میری بات چیت ہوئی۔ وہ عالم ہیں ماشاءاللہ، بڑے اچھے آدمی ہیں۔ ہماری لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے اس سے پوچھا، میں نے کہا آپ جو علم غیب مانتے ہیں، تو کیا وہ آپ ﷺ کے علم کو ذاتی سمجھتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، عطائی۔ میں نے کہا کلی سمجھتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، جزوی سمجھتے ہیں۔ اچھا، دائمی سمجھتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، وقتی سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا اس کو تو ہم انباء الغیب کہتے ہیں۔ آپ اس کو علم غیب کیوں کہتے ہو؟

                  کہتے ہیں اصل میں اصطلاحی فرق ہے، کوئی اس میں وہ فرق نہیں ہے، ایک ہی چیز ہے۔ بالکل ایسے ہے جیسے شیشہ ہے۔ جس سے، اس طرف کوئی تربوز کھا رہا ہے، تو کہتا ہے میں Watermelon کھا رہا ہوں، دوسرے کہتا ہے میں تربوز کھا رہا ہوں۔ آپس میں اختلاف ہے، حالانکہ صرف نام کا اختلاف ہے اور کچھ نہیں ہے۔

                  یہ مجھے اس عالم نے یہ بات بتائی، خود اپنے طور پہ بتائی۔ ایک ہوتا ہے نا ویسے تقریروں میں بات کرنا، یہ اور چیز ہوتی ہے۔ جس وقت دلائل کی بات آ جاتی ہے، پھر وہ بھی مانتے ہیں۔ جب دلائل کی بات آتی ہے نا، دلائل سے تو انکار نہیں کر سکتے نا، وہ تو سامنے کی بات ہوتی ہے۔ تو وہاں پر یہ وہ، یہ وہ بھی ماننا شروع کر لیتے ہیں۔

                  اچھا،

                  البتہ نبیوں کو وحی سے اور ولیوں کو کشف اور الہام سے اور عام لوگوں کو نشانیوں سے بعض باتیں معلوم بھی ہوجاتی ہیں

                  اس لیے ان کو انباء الغیب کہتے ہیں۔

                  بندہ کے اختیار سے متعلق

                  بندوں کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ اور ارادہ دیا ہے۔ جس سے وہ گناہ اور ثواب کے کام اپنے اختیار سے کرتے ہیں مگر بندوں کو کسی کام کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے

                  وہ ارادہ کر لیتے ہیں، ارادہ اللہ تعالیٰ پورا کرتے ہیں۔ تو کام تو اللہ نے کیا۔ اس نے تو صرف ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو اب دیکھو میں یہ ہاتھ اٹھانا چاہتا ہوں۔ یہ میرا ارادہ ہے۔ لیکن اللہ پاک نہ اٹھانے دے، میں اٹھا سکوں گا؟ نہیں ظاہر ہے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

                  تو یہ بات ہے کہ اصل بات تو ہے اللہ تعالیٰ کے ارادے کا۔

                  گناہ کے کام سے اللہ تعالیٰ ناراض اور ثواب کے کام سے خوش ہوتے ہیں

                  شریعت کے احکام سے متعلق

                  اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ایسے کام کا حکم نہیں دیا جو بندوں سے نہ ہوسکے

                  لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔

                  کوئی چیز خدا کے ذمہ ضروری نہیں۔

                  اللہ اپنے فضل سے جو کچھ بھی کر لے۔

                  وہ جو کچھ مہربانی کرے وہ اس کا فضل ہے


                  صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین عنہم سے متعلق

                  ہمارے پیغمبر ﷺ کو جن جن مسلمانوں نے دیکھا ہے ان کو صحابی کہتے ہیں۔ ان کی بڑی بڑی بزرگیاں آئی ہیں۔ ان سب سے محبت اور اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اگر ان کے آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا سننے میں آئے تو اس کو بھول چوک سمجھے۔ ان کی کوئی برائی نہ کرے۔

                  دیکھو فیصلہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ خبر دینے والے آپ ﷺ ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو معاف کر دیا، آپ ﷺ نے اس کی خبر دی۔ اب تم درمیان میں کون بولنے والے ہو؟ مطلب خوامخواہ درمیان میں اپنے آپ کو خراب کرتے ہو۔ اس کی کیا ضرورت ہے؟

                  وہ ایک صاحب ہے، اس نے کتاب لکھی ہے۔ وہ عالم نہیں ہے، لیکن عالم مشہور ہے۔ بعض لوگ عالم مشہور ہو جاتے ہیں، مطلب عالم نہیں ہوتے۔ جیسے صحافی ہوتے ہیں نا، تو صحافی کے پاس معلومات تو کافی ہوتی ہیں۔ تو معلومات کی بنیاد پر لوگ ان کو عالم سمجھنے لگتے ہیں۔ معلومات کے لحاظ سے نہیں، علم پختگی پیدا کرتا ہے۔

                  ہمارے ایک سید تقویم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، فاضل دیوبند تھے۔ اس نے اپنا واقعہ بتایا۔ اس نے کہا کہ جو private طور پر کوئی چیز سیکھتا ہے نا، تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ بہت اچھی اچھی باتیں بھی اس پہ کھلتی ہیں، لیکن جب غلطی کرتے ہیں، تو وہ غلطی بچہ بھی نہیں کرتا۔ جو پڑھا ہوا بچہ ہوتا ہے، وہ، وہ بھی نہیں کرتا جیسے غلطی وہ کرتا ہے۔ کہتے ہیں میں نے انگریزی private سیکھی ہے۔ تو کہتے ہیں میں جب غلطی کرتا ہوں، تو زبردست غلطی ہوتی ہے، وہ پھر کوئی نہیں کرتا۔

                  تو اس وجہ سے جو private طور پر علم معلومات کے ذریعے سے حاصل کر لیتے ہیں نا، تو وہ جب ٹھوکر کھاتے ہیں، پھر خوب کھاتے ہیں۔ معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے اس کا۔

                  تو "میں نہیں جانتا"، یہ سب سے بڑا علم ہے۔ بھئی ہمیں اگر کوئی یہ کہتا ہے نا کہ "میں نہیں جانتا"، جیسے فرماتے ہیں نا مَنْ صَمَتَ نَجَا، جو خاموش رہا تو اس نے نجات پائی۔ اور جو بولا تو گیا، پتا نہیں وہ کیا کہے گا۔ اور کم از کم ایسی چیز کا دعویٰ بالکل نہ کرے جو وہ نہیں ہے۔

                  مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر نہیں ہے، اور اپنے آپ کو ڈاکٹر ظاہر کرے، تو جرم ہے۔ کوئی Engineer نہیں ہے، لیکن وہ Engineering کا شعبہ کا دعویٰ کرے اور پھر ایسا کام کرے، تو وہ جرم ہے۔ کیونکہ بہت سارے لوگوں کی ذمہ داری اس پہ آتی ہے۔

                  تو خیر ایسا ہے کہ وہ عالم نہیں، لیکن عالم مشہور ہے۔ تو اس نے کتاب لکھی، اس میں صحابہ کرام کے بارے میں بہت خطرناک باتیں لکھیں۔ میں نے وہ کتاب پڑھی ہے۔

                  تو خیر ایسا ہوا کہ ایک دن ان کا ایک بہت بڑا ماننے والا ہمارے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔

                  تو میں نے ان سے کہا کہ دیکھو آپ کے بڑے نے یہ کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ آیا تھا خمس وہ مروان کو بخش دیا۔ اس پر دو گواہیاں پیش کی ہیں۔ ایک ابن خلدون کی اور ایک اور ایک قرطبی تفسیر کی۔

                  تو میں نے کہا کہ دیکھیں جب بھی کوئی شخص کوئی دعویٰ کرتا ہے، اور اس پہ اپنے گواہ بناتا ہے، تو اگر 50 ہزار لوگ اس کے حق میں گواہی دیں لیکن وہ جس کو گواہ بنایا ہے وہ کہہ دے کہ ایسا نہیں ہے تو اس کا Case ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے خود گواہ بنائے ہوتے ہیں نا عدالت میں۔ تو اگر خلاف دے دے تو پھر تو گیا۔

                  تو میں نے کہا اس نے چونکہ یہ دو گواہ بنائے ہوئے ہیں، تو اب ان دو کی بات سنو۔ وہ ابن خلدون جو ہے، اس نے تین جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ تو اس نے یہ فرمایا ہے: یہ کہیں پر بھی اس میں نہیں لکھا کہ وہ مروان کو بخش دیا۔ بلکہ ایک جگہ لکھا ہے کہ مروان نے اس کو خرید لیا اور حضرت نے وہ پیسے بیت المال میں جمع کر دیے۔ اور دوسری جگہ پر لکھتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں قِیل، قِیل کا لفظ ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اس مروان کو... حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ یہاں تو صراحتہً انکار ہے۔ تو میں نے کہا اب بتاؤ، ایک تو گیا گواہی۔

                  دوسری گواہی جو ہے وہ قرطبی کا انہوں نے کیا ہے، تفسیر قرطبی۔ وہ خود وہ نہیں لیتا، ذمہ داری نہیں لیتا۔ وہ حوالہ خود دیتے ہیں تو جس کا بھی حوالہ دیا ہے، تو وہ ذمہ داری تو اس پہ جاتی ہے۔ تو اس نے واقدی کا حوالہ دیا کہ واقدی یہ کہتا ہے۔ تو واقدی تو شیعہ ہے۔ تو شیعہ کا قول آپ صحابی کے بارے میں Authentic مان سکتے ہیں؟

                  اس پر وہ چپ ہو گیا۔ میں نے کہا دیکھو چپ ہونے کی سے کام نہیں بنے گا۔ آپ کو بتانا ہے کہ اس نے غلط کیا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے صحابہ کا معاملہ ہے۔ ایک طرف وہ شخص ہو اور ایک طرف حضور ﷺ ہوں قیامت میں۔ تو اگر آپ نے اس کے حق میں بات کر لی تو پھر کیا ہو گا؟

                  تو میں نے کہا یہاں پر یہ معاملہ سادہ نہیں ہے کہ آپ خاموش ہو جائیں۔ آپ کو، آپ کو ریسرچ کا موقع دیتا ہوں، آپ اپنے مولویوں سے پوچھو کہ اس کا جواب دو، اور وہ جواب آپ نے مجھے دینا ہے۔ تاکہ میں دیکھ لوں نا کہ آپ کے پاس کیا دلیل ہے یا نہیں ہے۔ بغیر دلیل کے بات تو نہیں تو نہیں چلے گی۔

                  چار پانچ دن کے بعد میں نے پوچھا، اس نے کہا نہیں آپ جذباتی ہیں، اور آپ سے بات... میں نے کہا نہیں جذباتی کی بات نہیں ہے۔ آپ ﷺ اور صحابہ کے ساتھ تو ہمیں محبت ہے، اور محبت جذباتی ہوتی ہے۔ وہ تو ہے، لیکن یہ بات ہے کہ انہوں نے ہمارے جذبات کو ٹھیس کیوں پہنچائی؟ اس کا تو جواب دینا پڑے گا نا۔ تو جواب دو کہ ایسا ہے، یا پھر کہہ دو کہ اس نے غلط کیا ہے بس پھر میں آپ سے کچھ بھی نہیں کہتا۔

                  تو یہ حالت ہے۔ جو ہم جیسے طالب علموں کے ساتھ بھی بات نہیں کر سکتے، لیکن اتنی بڑی بڑی باتیں مطلب بنا لیتے ہیں تو ایسے لوگوں کی باتوں پہ نہیں جانا چاہیے۔

                  صحابہ کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان سن لیں۔ حدیث شریف ہے، صحیح حدیث شریف ہے۔ اور پھر خطبوں میں ہم پڑھتے ہیں نا: اَللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ۔ "اے میری امتیو! تمہیں میرے صحابہ کے بارے میں خدا کا واسطہ! ان کو میرے بعد ملامت کا نشان نہ بناؤ۔ ان کے ساتھ جو محبت کرتے ہیں وہ اصل میں میرے ساتھ محبت کرتے ہیں اس وجہ سے ان سے محبت کرتے ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں وہ اصل میں میرے ساتھ بغض رکھتے ہیں اس لیے وہ ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں"۔

                  اور یہ یاد رکھیے، آپ ﷺ کے بارے میں اللہ پاک جواب مانگتے ہیں۔ اگر آپ ﷺ کے بارے میں کسی نے کوئی بات کی وہ براہِ راست اللہ پہ جاتی ہے، وہ انتخاب اللہ کا ہے نا۔ لہٰذا وہاں تو وہ پھنستے ہیں۔ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کے بارے میں بات ہوئی تو آپ ﷺ سامنے آتے ہیں۔ وہ بات کرتے ہیں۔ لہٰذا اپنے آپ کو کبھی بھی اس مشکل میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہ بہت خطرناک گیم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔

                  اس وقت بھئی ویسے دھڑلے سے کہتا ہے کوئی کوئی بات نہیں وہ ہر ایک کو آپ ڈسکس کر سکتے ہیں۔ تو اللہ اکبر ہر ایک کو اپ اس وقت ڈسکس کریں جب اس کی اجازت ہو۔ جب اجازت نہ ہو تو پھر کیسے ڈسکس کریں؟ کیونکہ دینی بات ہے، کوئی دنیاوی بات تو نہیں ہے نا۔

                  دینی بات ہے۔ جرمنی میں ایک دفعہ اس قسم کی میری بات ہو رہی تھی تو ایک پاکستانی صاحب تھے، کہتے ہیں ایک دو سیکنڈ کے لیے آپ اسلام کی اس سے ہٹ جائیں۔ میں نے کہا ایک سیکنڈ بھی نہیں ہٹ سکتا، مائیکرو سیکنڈ میں بھی نہیں ہٹ سکتا۔ یہ کوئی آسان بات ہے اپنے مذہب سے ہٹنا؟ میں مذہب سے کیسے ہٹ سکتا ہوں؟ ناممکن بات ہے، کفر ہے۔ اس سے ہٹنا تو کفر ہے۔ تو میں کفر مان لوں ایک سیکنڈ کے لیے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

                  تو اس قسم کی جو باتیں کرتے ہیں لوگ، ان کے ساتھ نہ اٹھنا بیٹھنا چاہیے۔ اور یہ میں نہیں کہتا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ غنیۃ الطالبین میں ہے کہ جب صحابہ کے بارے میں کھلم کھلا لوگ اس قسم کی باتیں کرنے لگیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو نہ ان کی مناکحت کرو نہ مجالست کرو۔ یہ بات ہے۔ تو یہ ہم لوگوں کا حکم ان کا بس جو ہے نا بالکل ان کے ساتھ بائیکاٹ کریں۔

                  واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

                  اسلامی عقائد کے بنیادی اصول اور عصری فتنے - عقائد