منافقت کے نقصانات، مارِ آستین کی پہچان اور حق کی فتح

پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیات 204 تا 207، اشاعت اول 18 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

• سورۃ البقرہ کی روشنی میں منافقین، مفسدین اور ان کی علامات کا تذکرہ۔• بظاہر خیر خواہ نظر آنے والے مارِ آستین لوگوں کے نقصانات اور ان کی پہچان۔• مسلمانوں کے خلاف شاطر دشمنوں کی خفیہ سازشیں اور طریقہ کار۔• قادیانی فتنے کی سنگینی اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخی وصیت۔• صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اللہ کی رضا کے لیے دی گئی عظیم قربانیاں۔• دفتر اور معاشرے میں چاپلوس اور حد سے زیادہ خوشامد کرنے والے افراد سے محتاط رہنے کی تلقین۔• اس یقین کی دہانی کہ بالآخر فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوتی ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلٰى مَا فِي قَلْبِهٖ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ﴿204﴾ وَإِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ﴿205﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿206﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللهِ ۗ وَاللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ﴿207﴾


اور لوگوں میں ایک وہ شخص بھی ہے کہ دُنیوی زندگی کے بارے میں اس کی باتیں تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں، اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اُس پر وہ اللہ کو گواہ بھی بناتا ہے، حالانکہ وہ (تمہارے) دُشمنوں میں سب سے زیادہ کٹر ہے ﴿204﴾ اور جب اُٹھ کر جاتا ہے تو زمین میں اس کی دوڑ دُھوپ اس لئے ہوتی ہے کہ وہ اس میں فساد مچائے، اور فصلیں اور نسلیں تباہ کرے، حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا

یہ اصل میں شانِ نزول تو اس کی یہ ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ اخنس بن شریق نامی ایک شخص مدینہ منورہ آیا تھا، اور اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بڑی چکنی چپڑی باتیں کیں اور اللہ کو گواہ بنا کر اپنے ایمان لانے کا اظہار کیا، لیکن جب واپس گیا تو راستے میں مسلمانوں کی کھیتیاں جلا دیں اور ان کے مویشیوں کو ذبح کر ڈالا۔ یہ آیات اس پس منظر میں نازل ہوئی تھیں، البتہ یہ ہر قسم کے منافقوں پر پوری اترتی ہیں۔

"منافقت" یہ بہت ہی رذیل حرکت ہے اور خطرناک بھی ہے مسلمانوں کے لیے۔ جن کو مارِ آستین کہا جاتا ہے نا وہ یہی لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی بظاہر بڑے ہی مخلص اور بہت زیادہ محبت کا مطلب دم بھرنے والے۔ اور پیٹھ پیچھے پھر ایسے پروگرام بناتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے، کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ تو ایسے لوگ ہی بہت زیادہ نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔

اور مسلمانوں کے اندر زیادہ نقصان اس قسم کے لوگوں کی وجہ سے آیا ہے۔ اور جو شاطر لوگ ہیں مسلمانوں کے دشمن، انہوں نے اسی کو ہی زیادہ استعمال کیا ہے۔ ہند و پاک میں طریقہ کار ہوتا تھا کہ وہ کسی کو مسلمانوں کے ساتھ محبت کرنے والا بنا کر ان کے سامنے اس قسم کی باتیں کرتا تھا، لوگ ان پہ یقین کرتے تھے اور پھر وہ دشمنوں کے ساتھ ملا ہوتا تھا، اور سارے پروگرام اس طرح ہوتے تھے۔

تو یہ جو بہت خطرناک بات ہے، کہ اس سے خبردار کیا ہے اللہ جل شانہٗ نے۔ کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر تو بڑی چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کو گواہ بنا کر اپنا ایمان کا یقین بھی دلاتے ہیں، اور پھر بعد میں اس قسم کی حالت ہوتی ہے۔ اس وقت اس دور کے اندر، یہ جو خطرناک قسم کا جو طبقہ ہے نا یہ قادیانیوں کی صورت میں ہے۔ اور یا پھر یہ ہے کہ جو دوسرے باطل فرقے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ آپ کے لیے بہت ہی زیادہ۔۔ جس وقت وہ subordinate ہوتے ہیں تو انتہائی مطلب obedient لگتے ہیں۔ ایسے لگتے ہیں جیسے بس بڑے محبت کرنے والے ہیں، لیکن جب officer ہوتے ہیں پھر وہ، وہ کام کرتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ تو یہ اس قسم کے یعنی طریقہ کار یہ لوگ بناتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے محتاط ہونا چاہیے۔ اور ان کے لیے جہنم تو ہے ہی۔ کیونکہ مسلمانوں کو تباہ کرتے ہیں مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے تو جہنم تو ہے ہی۔ لیکن یہ والی بات ضرور ہے کہ مسلمانوں کو وہ کم از کم یہاں نقصان پہنچا دیتے ہیں۔

اچھا، یہ آگے۔۔۔

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا خوف کر، تو نخوت اس کو گناہ پر اور آمادہ کردیتی ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو تو جہنم ہی راس آئے گی، اور یقین کرو وہ بہت بُرا بچھونا ہے ﴿206﴾ اور (دوسری طرف) لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا سودا کرلیتا ہے،

یہ اصل میں یہ والی کہ بات یہ یہ اُن صحابہ کرام کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی جانیں اسلام کے مقاصد کے لئے کھپا رکھی تھیں۔ ایسے کئی صحابہ کے واقعات مفسرین نے ذکر کئے ہیں۔

یعنی جن کا ذکر آیا ہے نا کہ وہ ان کے مقابلے میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کہ جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا سودا کر لیتے ہیں۔

باقی جو اس قسم کے لوگ ہیں، جب یعنی جو ہمارے مسلمانوں کے دشمن ہیں، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا خوف کرو تو مزید وہ اپنے بات پہ جم جاتے ہیں اور ان کا جو زیغ ہوتا ہے وہ کھل کے سامنے آ جاتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کو تو جہنم ہی راس آئے گی۔ یہ جو بہت ہی برا بچھونا ہے ان کے لیے۔ لیکن اس وقت وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا بھی سودا کر لیتے ہیں۔

اور اللہ ایسے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

تو اللہ جل شانہٗ ہمیں جو ہمارے دشمن ہیں چھپے ہوئے، ان کے شر سے بالخصوص ہماری حفاظت فرما دے۔ یعنی حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، ان کا جب وفات کا وقت آگیا تو اپنی چارپائی مطلب جو ہے نا بتایا کہ مسجد کے محراب کے قریب لے جاؤ۔ تو وہاں پر لے گئے تو انہوں نے وہاں پر وصیت کی۔ اور فرمایا کہ جتنا بھی میرا تاریخ کا مطالعہ ہے، تاریخ کا میرا مطالعہ ہے، اس کی بنیاد پر بڑے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قادیانیت کا جو فتنہ ہے مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ خطرناک فتنہ اور کوئی ابھی تک نہیں آیا۔ جو قادیانیت کا فتنہ ہے تو مطلب اس کے سد باب کے لیے جو لوگ کام کریں گے تو ان کو جنت ملے گی، اور میں اس کا ضامن بنتا ہوں۔ یہ مطلب وہ جو اس کے سد باب کے لیے کام کریں گے، تو میں ان کا ضامن بنتا ہوں کہ ان کو اللہ پاک جنت عطا فرمائیں گے۔

تو یہ بات ہے کہ ظاہری اجتماعی نقصان جو ہوتا ہے اس سے بچنا بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے بالخصوص مسلمانوں کے لیے، ایسے لوگ۔ یہ اصل میں بظاہر بڑے ہی میٹھے لوگ ہوتے ہیں۔ اور آپ کے ساتھ بہت زیادہ، بلکہ میں حیران ہوتا ہوں جب ہم دفتر میں ہوتے تھے تو میں ان کو پہچانتا تھا ان کی خوشامد سے۔ مجھے پتہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ قادیانی ہے۔ لیکن بہت جو بہت ہی زیادہ خوشامد کرتے تھے تو میں پھر ڈھونڈ نکالتا کہ آخر یہ کیوں میری اتنی زیادہ تعریف کر رہے ہیں اور کیوں اتنا زیادہ کر رہے ہیں۔ تو معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ قادیانی ہے۔ تو پتہ چل جاتا۔ تو یہ انتہائی درجے کی خوشامد گر لوگ ہوتے ہیں۔

اور وہ ایک دفعہ ہمارے ایک teacher تھے وہ قادیانی تھے۔ تو ظاہر ہے وہ میرے بارے میں محتاط تھے کہ بھئی یہ تو ان چیزوں کا care کرتا ہے۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ وہ کچھ اس قسم کی بات ہوئی کہ میں نے کہا کہ یہ بات تو اس طرح ہے۔ تو اس نے فورا کہا:

"It is sort of Ilhaam "۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کہ آپ کو الہام ہوا ہے۔ میں فورا سمجھ گیا کہ اب یہ خوشامد پہ آ گیا ہے۔ یعنی یہ اس قسم کی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ چاپلوسی کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔ جن سے ان کو خطرہ ہو کہ یہ تو ہمارے مقابلے میں آ سکتے ہیں اور ہمارے شر کو روک سکتے ہیں، تو ان کے لیے بہت زیادہ وہ بچھے ہوتے ہیں۔

لیکن اصل میں ان کے یہ زیادہ دشمن ہوتے ہیں۔ ہمارے دفتر میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے جو میرے سامنے آ کر، شاہ صاحب، اور یہ، اور پتہ نہیں کیا کیا تعریفیں اور کیا کیا باتیں کرتے تھے۔ اور بعد میں جب پتہ چلتا تھا کہ میرے خلاف کوئی منصوبہ جو بنتا ہوتا ان میں وہی لوگ شامل ہوتے تھے۔ تو مطلب ظاہر ہے کہ سارا game ہی اس طرح ہوتا ہے کہ ان کا چکر یہ ہوتا ہے کہ وہ خفیہ سازش، خفیہ سازش کرتے ہیں، ایسے لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال میں آپ کو بتاؤں اللہ تو حق کے ساتھ ہے۔ تو ممکن ہے یہاں کوئی تکلیف ضرور ان سے ہو، لیکن آخری فتح تو حق کی ہو گی۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔


تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع عنوان: منافقت کے نقصانات، مارِ آستین کی پہچان اور حق کی فتح متبادل عنوان: قادیانیت کا فتنہ، خفیہ سازشیں اور ان سے بچاؤ کی اہمیت

اہم موضوعات: • سورۃ البقرہ کی روشنی میں منافقین، مفسدین اور ان کی علامات کا تذکرہ۔ • بظاہر خیر خواہ نظر آنے والے مارِ آستین لوگوں کے نقصانات اور ان کی پہچان۔ • مسلمانوں کے خلاف شاطر دشمنوں کی خفیہ سازشیں اور طریقہ کار۔ • قادیانی فتنے کی سنگینی اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخی وصیت۔ • صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اللہ کی رضا کے لیے دی گئی عظیم قربانیاں۔ • دفتر اور معاشرے میں چاپلوس اور حد سے زیادہ خوشامد کرنے والے افراد سے محتاط رہنے کی تلقین۔ • اس یقین کی دہانی کہ بالآخر فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوتی ہے۔

خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ البقرہ کی آیات کی روشنی میں منافقین کے طرزِ عمل اور ان کے شر پر تفصیلی اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے اخنس بن شریق کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو ایسے افراد سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی جو بظاہر میٹھی اور خوشامدانہ باتیں کرتے ہیں مگر پیٹھ پیچھے سازشوں اور فساد میں مصروف رہتے ہیں۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے بالخصوص قادیانی فتنے کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لوگ کس طرح خفیہ تدبیروں اور چاپلوسی کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں آپ نے اپنے دفتری تجربات اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی وہ تاریخی وصیت بھی نقل فرمائی جس میں انہوں نے قادیانیت کو اسلام کا خطرناک ترین فتنہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے جنت کی ضمانت کا ذکر کیا تھا۔ آخر میں آپ نے صحابہ کرامؓ کے جذبہ قربانی کا ذکر کرتے ہوئے اس پختہ یقین کا اظہار کیا کہ سازشیں اور منافقت کتنی ہی خطرناک کیوں نہ ہوں، حتمی فتح حق ہی کی ہوتی ہے۔



منافقت کے نقصانات، مارِ آستین کی پہچان اور حق کی فتح - درسِ قرآن - دوسرا دور