عقائد کی اہمیت، سوشل میڈیا کے فتنے اور آخرت کا سفر

علامات قیامت و حشر کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان
  • عقائد کی حفاظت اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق خبریں پھیلانے کی ممانعت۔
    • دینی معاملات میں غیر متعلقہ افراد (سوشل میڈیا کے نام نہاد علماء) کی دخل اندازی پر تنبیہ۔
      • علاماتِ قیامت (امام مہدی، دجال، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یاجوج ماجوج وغیرہ)۔
        • صور پھونکا جانا، میدانِ حشر کی ہولناکیاں اور انبیاء کرام کی شفاعت۔
          • حوضِ کوثر، اعمال کا تولا جانا اور پُل صراط سے گزرنا۔
            • جنت کی بے پناہ نعمتیں اور سب سے بڑی نعمت ”دیدارِ الٰہی“ کا تذکرہ۔
              • طالبِ جنت اور طالبِ مولیٰ (اللہ کو چاہنے والوں) کے درجات کا فرق۔
                • دوزخ کا عذاب اور گنہگار مومنوں کا شفاعت و فضلِ الٰہی سے نکالا جانا۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

                  معزز خواتین و حضرات! آج پھر ان شاء اللہ عقائد کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ بنیادی باتیں ہیں تو سب کو جاننی چاہئیں۔ خدانخواستہ کسی ایک بات کا پتہ نہ ہو اور عقیدہ خراب ہو جائے، تو کتنا نقصان ہے، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

                  اور آج کل یہ کوئی مشکل نہیں ہے، آج کل یہ social media جو آیا ہوا ہے، اس پر عجیب عجیب باتیں پھینکی جاتی ہیں۔ خدانخواستہ اگر کسی کو اس کا علم نہ ہو اور اس کی ہاں میں ہاں ملا دے تو کام خراب ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے کم از کم معلوم ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ بات کریں، دوسری بات یہ کہ social media پر جو بھی خبر آئے، جو بھی بات آئے، اس کو فوراً ٹک کر کے share نہ کیا کریں۔ یہ اپنے اوپر بہت بڑا ظلم ہے۔ خدانخواستہ وہ بات غلط ہو، تو آپ اس میں حصہ دار بن جائیں گے۔ ٹھیک ہے، مطلب ایک خاموشی بھی تو ایک نعمت ہے۔ حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ صَمَتَ نَجَا“، جو خاموش رہا تو اس نے نجات پائی۔ تو یہ بات ہے کہ اگر علم نہیں ہے، معلوم نہیں ہے، تو بس یہی بات ٹھیک ہے کہ مجھے نہیں پتہ، بس ٹھیک ہے جی، اپنے ساتھ رکھو۔ پھر معلومات کر لو، تحقیق ہو جائے، پھر اس کے بعد آرام سے بے شک اگر کوئی share کرنا چاہے تو کر لے، اگر share کرنے کے قابل ہو۔

                  یہ جو social media عالم بننا، یہ بات آج کل بہت پھیل گیا ہے۔ جو اصل علماء ہیں، ان کے خلاف ذہن بنایا جا رہا ہے، اور social media کے عالم دھڑا دھڑ بن رہے ہیں۔ بھئی یہ کیسی بات ہے؟ مطلب کہاں پر وہ... ظاہر ہے... میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کس حد تک خطرناک باتیں آ جاتی ہیں۔

                  ہمارے دفتر کی بات ہے۔ تین PhD جن میں غالباً دو میرے اساتذہ تھے، اور ایک استاد تو نہیں تھے لیکن آپ چچا استاد کہہ سکتے ہیں کیونکہ کسی اور کے استاد تو تھے۔ تو تین PhD تھے اور میرے ارد گرد بیٹھ گئے، مجھے کہتے ہیں شبیر صاحب! Einstein کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا بہت بڑا سائنسدان تھا، اس نے بڑا نام کمایا، بہت science کی خدمت کی، بہت لوگوں نے اس کا respect کیا۔ اس سے زیادہ میں کوئی بات کر سکتا تھا؟ یہی کر سکتا تھا، اس سے زیادہ تو میں نہیں کر سکتا تھا۔ کہتے ہیں نہیں! وہ جنت جائے گا یا نہیں جائے گا؟ میں نے کہا وہ میرا کام تو نہیں ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ تو اگر وہ ایمان والا تھا تو جائے گا، اور اگر ایمان والا نہیں تھا تو نہیں جائے گا۔ مجھے ابھی تک جو علم ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایمان والا نہیں تھا، تو اس وجہ سے میں تو یہی کہوں گا کہ اگر ایمان والا نہیں تھا تو پھر تو نہیں جائے گا۔ کہتے ہیں نہیں! کیا اس کے لیے ایمان لانا ضروری ہے؟

                  اب دیکھو! یعنی کسی اور جگہ کی بات نہیں کر رہا ہوں، ادھر پاکستان کی اسلام آباد کی بات کر رہا ہوں۔ تو کیا اس کے لیے ایمان لانا ضروری ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”قُوْلُوْا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ تُفْلِحُوْا“۔ تو یہ تو مطلب ظاہر ہے ایمان لانا تو ضروری ہے، قرآن میں بھی ہے، حدیث میں بھی ہے۔

                  کہتے ہیں، ایک جو میرے استاد تھے، کہتے ہیں میں ایسی حدیث کو نہیں مانتا جو قرآن کے خلاف ہو۔ تو میں نے کہا اس کو کون جانے گا کہ قرآن کے خلاف ہے؟ اس کے لیے بھی تو علم کی ضرورت ہے نا۔ تو میں نے کہا اگر کوئی مولوی صاحب منبر پر بیٹھ کے کوئی نیوٹران پروٹان کی بات کر لے، تو آپ اس کو کرنے دیں گے؟ آپ کہیں گے تمہارا field ہی نہیں ہے، اور میں آپ کے ساتھ دوں گا۔ آپ صحیح کہتے ہوں گے۔ اسی طریقے سے آپ مولوی نہیں ہیں۔ آپ نے علم حاصل نہیں کیا، لہٰذا آپ یہ باتیں نہیں کر سکتے۔

                  دوسرے جو میرے استاد تھے، مجھے کہتے ہیں شبیر صاحب! تھوڑا سا اپنے دماغ کو وسیع کر لیں۔ میں نے کہا اتنا تنگ نظر رہنے دیں کہ مسلمان اور کافر میں فرق کر سکوں، یہ میرے لیے ضرورت ہے، اس سے کم...

                  خیر بہرحال، یہ آج کل مسئلے ہیں۔ آج کل مسئلے ہیں۔ دفتروں میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔ جو boss ہوتا ہے وہ کوئی اس قسم کی بونگی مار دیتا ہے، اور باقی لوگ کہتے ہیں yes sir, yes sir, yes sir, yes sir... خطرناک بات ہے! چپ رہو خاموش... yes sir کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ سنی ان سنی کر دو۔ اگر صحیح بات نہیں کر سکتے تو سنی ان سنی کر دو۔ ورنہ حق بات کر دو، اگر ہمت ہے تو کر لو۔

                  کئی دفعہ... میں چونکہ backbencher تھا اپنی student life میں، پیچھے بیٹھتا تھا۔ تو ہمارے ڈائریکٹر تھے، بڑے نیک آدمی ہیں، مطلب ظاہر ہے وہ کافی اچھے آدمی تھے۔ پتہ نہیں کیوں، اس نے مجھے دور سے مطلب... میں دور بیٹھا ہوا تھا... مجھے کہتے ہیں، شبیر وہ cost economics کی calculation کریں، جس میں interest وغیرہ بھی ہوتا ہے۔ تو شبیر کیا یہ جائز ہے؟ تو میں نے کہا نہیں! کہتے ہیں ہمیں تو کرنا ہوتا ہے؟ میں نے کہا، پھر پوچھا کیوں ہے؟ ظاہر ہے اگر مجھ سے پوچھو گے تو میں تو وہی کہوں گا جو میں جانتا ہوں۔ تو بس ٹھیک ہے بس بات ختم ہو گئی جی۔ نہ وہ مجھ سے ناراض ہوئے، نہ کوئی مسئلہ ہوا، بس ٹھیک ہے ایک بات اس نے بھی کی، ایک بات میں نے بھی کی، بات ختم ہو گئی۔

                  مطلب اتنا ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ خوامخواہ جو ہے نا مطلب اپنے مذہب کے خلاف، اپنے مسلک کے خلاف، کوئی بات انسان برداشت کر لے۔ نہیں! ایسی بات نہیں ہے۔ آپ کے سامنے اگر کوئی آپ ﷺ کی گستاخی کر لے، تو خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کے سامنے اگر کوئی صحابہ کی کوئی گستاخی کر لے، خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کے سامنے اگر کوئی مذہب کی کسی بات کا مذاق اڑائے، تو خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ مطلب میں آپ کو لڑنے بھڑنے والا بنانا چاہتا ہوں، لیکن اتنا بے غیرت بھی تو نہیں بننا چاہیے نا۔ مطلب ظاہر ہے آخر ایک دینی غیرت بھی تو ہوتی ہے نا، اس کا بھی تو مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تو یہ تب ہوگا جب آپ جانتے ہوں گے۔ تو اگر نہیں جانتے ہوں گے تو کیا کریں گے؟

                  علاماتِ قیامت سے متعلق: اللہ اور رسولﷺ نے جتنی نشانیاں قیامت کی بتائی ہیں سب ضرور ہونے والی ہیں ۔ امام مہدی علیہ السلام ظاہر ہونگے ۔ اور خوب انصاف سے بادشاہی کریں گے ۔ کانا دجال نکلے گا اور دنیا میں بہت فساد مچائے گا ۔ اس کو مارنےکے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور اس کو مار ڈالیں گے ۔ یاجوج ماجوج بڑے زبردست لوگ ہیں ، وہ تمام زمین میں پھیل جائیں گے اور بڑا فساد مچائیں گے ۔ پھر خدا کے قہر سے ہلاک ہونگے ۔ ایک عجیب طرح کا جانور زمین سے نکلے گا اور آدمیوں سے باتیں کرے گا ۔ مغرب کی طرف سے سورج نکلے گا ۔ قران مجید اٹھ جائے گا ۔ اور تھوڑے دنوں میں سارے مسلمان مر جائیں گے ۔ تمام دنیا کافروں سے بھر جائے گی ۔ اس کے سواء اوربہت سی باتیں ہونگی

                  یہ مشکوٰۃ شریف میں کافی تفصیل کے ساتھ مطلب یہ چیزیں موجود ہیں، قیامت سے متعلق۔ البتہ! جہاں کی information نہ دی گئی ہو نا، تو وہاں بات نہیں کرنی چاہیے۔ امام مہدی عليه السلام کب ظاہر ہوں گے؟ اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ دجال کب نکلے گا؟ اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ بس یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ قریب ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قریب ہے۔ تو ہم بھی کہیں گے قریب ہے۔ قریب والی بات ہم کر سکتے ہیں لیکن کب؟ جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ 2026 میں آئے گا، بھئی تمہیں کیا پتہ؟ تجھے کوئی ٹیلیفون آیا ہے؟ 2026 میں آئے گا... یہ سب ظنی باتیں ہیں، اندازے ہیں۔ اور جس چیز کو اللہ چھپائے، اس کو کون ظاہر کر سکتا ہے؟ ہاں! یہ تو اللہ پاک کی بات ہے مطلب اللہ پاک نے اگر کسی... یعنی دیکھئے آپ ﷺ سے پوچھا گیا قیامت کب آئے گی؟ کس نے پوچھا؟ جبرائیل عليه السلام نے پوچھا۔ انسانی شکل میں آئے تھے۔ آپ ﷺ نے اتنا فرمایا کہ مسئول سائل سے زیادہ اس میں نہیں جانتا۔ جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ اس سے زیادہ نہیں جانتا مطلب کہ جو پوچھ رہا ہے۔ تو بہرحال بس ٹھیک ہے، مطلب ایسے کہ ان چیزوں پہ ہم لوگ پرسراریت نہ دکھائیں۔ آج کل کتابیں چھپ رہی ہیں اس کی، وہ جو ہے اس میں یہ تفصیلات وغیرہ ہیں، وہ تفصیلات اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ بس وہ پرسراریت... لوگ چونکہ اس کو پسند کرتے ہیں، لہٰذا مطلب اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ نہیں بھئی! جو کھلی بات ہو، جو واضح بات ہو، جو بتائی گئی ہو، وہ آپ بھی کہہ سکتے ہیں، میں بھی کہہ سکتا ہوں، سب کہہ سکتے ہیں۔ لیکن جو بتائی نہیں گئی ہے، تو اس کے بارے میں خاموشی بہتر ہے۔

                  جب ساری نشانیاں پوری ہوجائیں گی تو قیامت شروع ہوجائے گی ۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام خدا کے حکم سے صور پھونکیں گے ۔ یہ صورسینگ کی شکل کی ایک چیزہے ۔ اس صور کے پھونکنے سے تمام زمین و آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ۔ تمام مخلوقات مر جائیں گی ۔ اور جو مر چکے ہیں ان کی روحیں بے ہوش ہوجائیں گی ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو جن کا بچانا منظور ہے وہ اپنے حال پر رہیں گے ۔ ایک مدت اسی کیفیت میں گزر جائے گی۔

                  یعنی آپ اندازہ کر لیں یعنی آواز... آواز سے ساری چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ اور یہ آواز جو ہے نا... یعنی مطلب اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک خاص intensity سے زیادہ ہو جائے تو بس تباہی... وہ بہت مطلب جو ہے نا اس کے نقصان اس سے ہوتا ہے۔ تو یہ مطلب جو بعض قوموں پر جو عذاب آیا وہ چیخ کی صورت میں بھی آیا، جس سے وہ جو ہے نا وہ مر گئے۔

                  شفاعت سے متعلق: پھر جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ تمام عالم پھر پیدا ہوجائے تو دوسری بار پھر صور پھونکا جائے گا ۔ اس سے سارا عالم پھر پیدا ہوجائے گا ۔ مردے زندہ ہوجائیں گے اور قیامت کے میدان میں سب اکٹھے ہونگے اور وہاں کی تکلیفوں سے گھبرا کر سب پیغمبروں کے پاس سفارش کرنے جائیں گے ۔ آخر میں آپ ﷺ سفارش کریں گے ۔ ترازو کھڑی کی جائے گی ۔ بھلے برے عمل تولے جائیں گے ۔ ان کا حساب ہوگا ۔ بعض بے حساب جنت میں جائیں گے

                  یہ جو حج پہ لوگ جاتے ہیں نا، تو یکدم بہت سارے لوگ وہاں پر پہنچ جاتے ہیں۔ کئی تین چار جہاز اگر اکٹھے پہنچ جائیں، تو وہاں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہوتی بعض دفعہ، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ تو لوگ کافی تنگ ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کسی طریقے سے بس entry ہو جائے۔ ادھر ادھر دیکھتے ہیں کوئی راستہ اگر مل جائے، تو اس کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک مظاہرہ ہے۔ کہ لوگ واقعی انتظار سے بھی گھبراتے ہیں، اور حالات بھی ایسے ہوتے ہیں، اس سے بھی گھبراتے ہیں۔ تو وہاں پر صورتحال تو بہت زیادہ پریشان کن ہوگی۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ وہ جو حالات ہوں گے، اول تو اپنا پتہ نہیں ہوگا کہ میں کدھر ہوں، کیا حالات ہوں گے میرے ساتھ؟ دوسرا یہ ہے کہ وہ حشر کا میدان ہے، اس کی اپنی دہشت ہوگی۔ تو بہت یعنی تکلیف کی بات ہوگی، پسینے میں لوگ شرابور ہوں گے، اس میں ڈوبے ہوں گے۔ تو اس صورت میں ان کو کوئی ذریعہ چاہیے ہوگا کہ سفارش کر لے ہماری تاکہ کم از کم حساب تو شروع ہو جائے نا! تو سفارش جتنے انبیاء کرام ہوں گے سب معذرت کر لیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت بہت زیادہ جلال میں ہوں گے۔ تو پیغمبر سارے جتنے بھی ہوں گے وہ معذرت کریں گے کہ ہمارے ساتھ تو معاملہ اس طرح ہے اس طرح ہے۔ آپ ﷺ... تک بات آ جائے گی تو آپ ﷺ سفارش کریں گے۔ اس طریقے سے پھر جو ہے نا وہ...

                  تو یہ ہے کہ پھر آخر میں آپ ﷺ سفارش کریں گے ۔ ترازو کھڑی کی جائے گی ۔ بھلے برے عمل تولے جائیں گے ۔ ان کا حساب ہوگا ۔ بعض بے حساب جنت میں جائیں گے اللہم اجعلنا منہم۔

                  بعض بے حساب جنت میں جائیں گے۔ نیک لوگوں کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں اور بروں کا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ پیغمبر ﷺ اپنی امت کو حوض کوثر کا پانی پلائیں گے

                  ایک، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا، کوئی عمل کسی کا ایسا ہوتا ہے جس سے کام بن جاتا ہے۔ ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ تھے، ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر ریاض صاحب، لاہور میں تھے۔ Specialist تھے۔ وہ کیسے بنے؟ وہ یورپ میں، سعودی عرب کی طرف سے وہ دوائیوں کے مطلب check کرنے کے لیے جاتے تھے کہ جو دوائیاں منگوائی جاتی تھیں، تو ان کو پہلے سے وہاں معلومات کرتے تھے تمام، اس پہ مقرر تھے۔

                  تو یہ یورپ والے جو ہیں نا یہ بہت گندے لوگ ہیں، مطلب... مطلب لوگ تو پتا نہیں ان کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے لیکن یہ بہت گندے قسم کے حالات ہیں۔ تو وہ پیچھے لڑکیاں لگا دیتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کو، ان کے ساتھ تعلقات بنا کے، اپنے حق میں ان سے ٹھیکے سائن کروا لیں۔ اور سعودی عرب والوں کے ساتھ تو پھر یہ کرتے ہی ہیں۔

                  تو ایک لڑکی ان کے ساتھ لگائی۔ تو پہلے تو چونکہ distance تھا تو لہٰذا وہ ظاہر ہے وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ میرے ساتھ نہ لگاؤ کیونکہ وہاں تو سارا culture ہی یہی ہے۔ تو پہلے تو کچھ نہیں کہا لیکن وہ ذرا قریب ہوتی رہی، قریب ہوتی رہی، قریب ہوتی رہی۔ وہ پوری planning تھی۔ تو جب ایک limit کو cross کر لیا تو اس نے ایک تھپڑ کھینچ کے مارا۔ اور اس کا contract cancel کر دیا۔ اور واپس آ گیا۔ یہ کام کر دیا۔

                  تو ماشاءاللہ، اب دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ یہاں آ گیا تو خواب دیکھتا ہے۔ خواب میں دیکھا کہ جنت کا راستہ ہے اور دو فرشتے کھڑے ہیں تلواروں کے ساتھ کراس کیا ہوا ہے، جیسے راستہ روکا ہوا ہوتا ہے نا۔ تو یہ انتظار میں کھڑے کہ کس طریقے سے کوئی راستہ بن جائے تو میں جنت میں اندر چلا جاؤں۔ تو اس کو دیکھ کر وہ فرشتے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں، مسکراتے ہیں، اور تلوار اس طرح کر لیتے ہیں۔ اور یہ شو کر کے اندر داخل ہو جاتا ہے نا۔ دوڑ لگاتا ہے۔ بس یہ کام کر دیا نا بس تھپڑ مار دیا۔ تو جنت کا راستہ کھل گیا ان کے لیے۔

                  تو کبھی کبھار اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی... جیسے غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی ایسا ہی واقعہ تھا نا۔ اس طرح ایسے لوگ جو ہوتے ہیں جو دینی غیرت رکھتے ہیں یا کوئی قربانی خاص کر لیتے ہیں، وہ shortcut والی بات ہوتی ہے۔ تو ان کو بھی، پھر یہ شہید ہو گئے تھے۔ بعد میں شہید ہو گئے تھے۔ تو ظاہر ہے وہ شہادت بھی ان کے نصیب میں تھی۔ تو پھر تو ماشاءاللہ جنتی تھے الحمد للہ، شہید ہو گئے تھے۔

                  تو مطلب یہ ہے کہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے ساتھ حساب نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سے بھی حساب نہ لے۔ حساب بڑا مشکل کام ہے نا، کوئی بھی کامیاب... مشکل سے ہی ہو گا، کون اللہ تعالیٰ کو حساب دے سکتا ہے؟ تو بس یہی دعا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے حساب نہ لے۔ ہاں جی۔

                  اچھا۔

                  نیک لوگوں کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں اور بروں کا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ پیغمبر ﷺ اپنی امت کو حوض کوثر کا پانی پلائیں گے۔

                  بشارت ایک ہے موجود، کہ جو روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے تو ان کو حوض کوثر سے پانی پلایا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے واقعہ۔ سنا ہو گا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ایسی چیزیں کی جا سکتی ہیں۔

                  جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا ۔ پل صراط پر چلنا ہوگا ، جو نیک لوگ ہیں وہ اس سے پار ہوکر جنت میں پہنچ جائیں گے جو بد ہیں وہ اس پر سے دوزخ میں گر پڑیں گے

                  اللہ پاک حفاظت فرمائے۔ آمین

                  جنت سے متعلق: جنت پیدا ہو چکی ہے۔

                  یعنی پیدا ہوگی والی بات نہیں ہے، پیدا ہو چکی ہے۔

                  اور اس میں طرح طرح کی چین اور نعمتیں ہیں ۔ جنتیوں کو کسی طرح کا ڈر اور غم نہ ہوگا ۔ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ نہ اس سے نکلیں گے اور نہ مریں گے

                  یہ ایک عجیب ماشاءاللہ خوشی کی بات ہوگی کہ وہاں کسی کو جنتی ہونے کا مژدہ سنا دیا جائے۔ پھر تو سبحان اللہ! کیا بات ہے! کیونکہ ایک دفعہ جنت میں داخلہ ہو جائے، پھر اس سے نکلنا نہیں ہے۔ پھر ہمیشہ کے لیے۔ اور ادنیٰ سے ادنیٰ جنتی کا جو جنت ہے، وہ اس دنیا کے دس گنا ہوگا۔

                  حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت اتنے بڑے جنت میں لوگ کیا کریں گے؟ تو حضرت نے فرمایا تو تو بڑا بے ذوق آدمی ہے۔ خدا کے بندے! آپ ﷺ کی دعوت کرو گے یا نہیں کرو گے؟ وہاں تو لوگ دعوتیں کریں گے نا۔ تو آپ ﷺ کی دعوت کرو گے؟ کہتا ہے ہاں کروں گا۔ تو آپ ﷺ اکیلے آئیں گے؟ وہ تو اپنے پورے امت کو لے آئیں گے ساتھ۔ پھر کہاں بٹھاؤ گے؟ تو مطلب یہ ہے کہ جنت تو بہت وسیع اور عریض ہوگی نا، اس میں مزے بھی بے تحاشا ہوں گے۔ ایسے مزے ہوں گے کہ جنتی جو ہے وہ مانگتے ہوئے تھک جائیں گے، لیکن دینے والے نہیں۔ یعنی جنتی جو مانگیں گے ان سے کہیں گے مانگو، تو مانگیں گے، جب مانگیں گے ان کو دیا جائے گا۔ اخیر میں اپنی معلومات کے مطابق جتنا وہ مانگ سکتے ہوں گے تو مانگ لیں گے، تو اخیر میں پھر ان سے پوچھا جائے گا بتاؤ اور مانگو۔ تو وہ حیران ہو جائیں گے کہ اب کیا مانگیں؟ جو ہم نے مانگا وہ دے دیا تو اب میں کیا مانگوں؟

                  اب ذرا بات سنو! اس وقت کے علماء کی قدر آئے گی۔ تو وہ علماء سے پوچھیں گے۔ جو علماء ہوں گے نا ظاہر ہے وہ بھی ہوں گے نا جنت میں۔ پوچھیں گے کہ اب کیا مانگیں؟ تو وہ بتائیں گے کہ ابھی تک دیدار نہیں ہوا۔ اللہ پاک کا دیدار۔ تو جنتی مانگیں گے کہ یا اللہ دیدار کرا دیجئے۔ اللہ پاک فیصلہ فرما دیں گے ٹھیک ہے۔ میدان سج جائے گا اور اپنے اپنے شان کی کرسی پہ لوگ بیٹھ جائیں گے۔ اور پھر دیدار شروع ہو جائے گا۔ سبحان اللہ!

                  وہ ایسا لمحہ... ویسے لمحہ کیا ہوگا، وہ تو ایسا زمانہ ہوگا کہ مطلب اس کے بارے میں بات کرنا تو ممکن ہی نہیں نا۔ وہ ہو رہا ہوگا، ہو رہا ہوگا... پتہ نہیں کتنا زمانہ گزر جائے گا۔ تو پھر اس کے بعد جنتی کہیں گے، یہ ابھی تک ہم نے کیا دیکھا تھا؟ اصل تو یہی تھا!

                  ابھی تک ہم نے کیا... مطلب جنتی تمام جنتی مزوں سے گزر گئے، وہ اخیر میں کیا کہتے ہوں گے دیدار کے بعد کہ یہ ابھی تک ہم نے کیا دیکھا تھا، اصل تو یہ تھا۔

                  اب ذرا اس میں ایک بات سنیں، وہ بڑی مزے کی بات ہے۔

                  تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو جو برے لوگ ہیں، دنیا دار لوگ ہیں۔ وہ دیندار لوگوں کو سمجھ نہیں رکھتے کہ دیندار... یہ دیندار کیسے ہیں؟ مطلب یہ کہ وہ ان کو بعض تو پاگل کہتے ہیں، بھئی یہ کیا پاگل ہیں، دیکھو نا یہ بھی نہیں لے رہا، یہ بھی نہیں لے رہا، یہ بھی نہیں لے رہا... خوامخواہ جو ہے نا وہ بنے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کو سمجھ نہیں آئے گی ان کی دینداروں کی۔ ٹھیک ہے۔ لیکن دینداروں میں پھر دو گروہ ہیں۔ ایک وہ جو جنت کے طالب ہیں۔ جنت کے طالب ہیں۔ اور ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے طالب ہیں۔ اللہ کو چاہتے ہیں۔ ”يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهُ“ قرآن پاک میں جو صحابہ کے بارے میں ہے۔ تو وہ اللہ پاک کے طالب ہیں۔

                  تو جیسے دنیا دار دیندار کے بارے میں نہیں سوچ سکتے، اس طرح یہ جنت مانگنے والے لوگ اللہ پاک کے چاہنے والوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ چلو سمجھا دیں نا ان کو! سمجھا دیں گے؟ نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک مقام ہے جن کا ہوگا تو ہوگا۔ اور اس روایت میں تو بالکل بات سامنے آ گئی نا کہ جنت کے آخری مزے دیکھنے کے بعد بھی انسان کہے گا کہ یہ کیا تھا؟ تو جو جنت میں پتہ چلے گا تو اگر دنیا میں کسی کو ادھر پتہ چل جائے تو وہ کیسے لوگ ہوں گے؟ جو دنیا ہی میں وہ کہیں گے نہیں ہمیں تو اللہ چاہیے۔

                  حضرت سدید الدین مرغشی رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ تھے۔ چشتی بزرگ تھے۔ حضرت سدید الدین مرغشی رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ تھے۔ چشتی بزرگ ہیں۔ ہاں جی۔ تو جس وقت آخری وقت آ گیا، تو جنت ان کے سامنے کر دی گئی۔ ہوتا ہے نا کہتے ہیں، اتنا درود شریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ موت سے پہلے پہلے درود شریف کی برکت سے وہ جنت دکھا دیں گے۔ تو جنت دکھا دی گئی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، کہتے ہیں یا اللہ اگر میرے ساری عمر کا یہی بدلہ ہے تو میں تو خسارے میں چلا گیا۔ یہ کہا۔ تو پھر وہ ہٹا دیا گیا اور پھر اللہ پاک کی طرف سے تجلی ہوئی اور اسی میں فوت ہو گئے۔

                  ہاں جی، ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں۔ دنیا میں۔