وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ - (سورة الانعام- آیت 120)
معزز خواتین وحضرات!
ایک لحاظ سے گویا کہ رمضان شریف کا اخیر ہے، اور اس میں ہمارے لیے بہت حاصل کرنے کے ذرائع بھی ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ایک خطرہ بھی ہے۔ اور اس وقت خطرہ جو ہے نا زیادہ سامنے آ رہا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں اس کے بارے میں اپنے ذہن کو سمجھانا ہو گا کہ اگر کچھ ایسے کام ہم کر چکے ہیں جس سے ہمارے روزے پہ منفی اثر پڑا ہے، تو ان چیزوں کو کم از کم ہمیں ابھی چھوڑنا پڑے گا، چونکہ چند روزے باقی ہیں، اور ان روزوں کو محفوظ روزے بنانے پڑیں گے تاکہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرمائے۔ یہ اس وقت بہت اہم کام ہے۔
اس کے بعد عید آ رہی ہے، تو عید کے جو دن ہیں اور راتیں ہیں، وہ ہمارے رمضان شریف کے پورے نظام کے ساتھ ٹکرا رہے ہوں گے، کیونکہ اس وقت فجور ہمارے سامنے بہت زیادہ آ جائیں گے دو وجوہات سے: ایک تو یہ ہے کہ ہم ناسمجھی سے ایسی محفلوں میں جا سکتے ہیں جہاں پر فجور زیادہ ہو، اور دوسری بات یہ ہے کہ شیطان کھل چکا ہو گا۔ اس لحاظ سے فجور کی طرف جو لپک ہے وہ زیادہ ہو گی۔ اگر کسی نے اپنے آپ کو کنٹرول کر لیا تو تقویٰ بھی زیادہ ہو گا، جیسے کہ اصول ہے، تقویٰ بھی زیادہ ہو گا، لیکن خدا نخواستہ اس لپک کا شکار ہو گئے تو پھر خطرہ بھی زیادہ ہے۔
اب جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ جیسے عید کی رات ہو جاتی ہے تو مسجدیں خالی ہو جاتی ہیں۔ یا تو یہ ہو کہ چلو چند مسجدیں خالی ہوں دوسری زیادہ بھر جائیں تو ہم کہیں گے کہ ہاں، ٹھیک ہے، کچھ جگہوں سے لوگ دوسری جگہوں میں چلے گئے۔ مثلاً شہروں سے دیہات میں چلے گئے، اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے، اور وہاں نماز پڑھ رہے ہیں۔ اب نہ شہروں کی مسجدیں بھری ہوتی ہیں نہ گاؤں کی مسجدیں بھری ہوتی ہیں، پھر لوگ کہاں چلے جاتے ہیں؟ ہاں ادھر ادھر چلے جاتے ہیں، بازاروں میں چلے جاتے ہیں، فسق و فجور کی جگہوں پہ چلے جاتے ہیں، تو پتہ چل گیا کہ لپک بہت زیادہ ہے اور اس لپک کا شکار ہو گئے۔
ویسے رمضان شریف میں جو مغفرت ہے، اس کا اثر بھی یہی ہوتا ہے کہ ان دنوں کے لپک سے انسان بچ جائے۔ پھر تو آدمی یہ امید کرے گا کہ شاید مغفرت ہو گئی ہے، لیکن اگر اس لپک کا شکار ہو گئے تو اس کا مطلب ہے کہ اچھے ماحول نے ان کو اچھا بنا لیا تھا اور برے ماحول نے ان کو پھر دوبارہ برا بنا لیا، یہ والی بات ہو جائے گی۔ تو یہ ایک خطرناک بات ہے، یہ خطرناک بات ہے۔ اس لحاظ سے ہمیں ابھی سے اس کے لیے کوئی Planning کرنی پڑے گی کہ ہم لوگ اس لپک سے بچ جائیں۔
الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ساتھی یہاں جتنے بھی ہیں اعتکاف میں بھی ہیں۔ اعتکاف کے بھی برکات ہیں الحمدللہ۔ اجتماعی امور میں بڑی برکت ہوتی ہے، تو اللہ کا شکر ہے کہ یہ برکت یہاں پر حاصل ہے۔ تو اس برکت سے فائدہ اٹھا کر ہم ایسی planning کر لیں کہ عید کی رات کی لپک سے ہم محفوظ ہو جائیں۔ عید کی رات کی لپک سے ہم محفوظ ہو جائیں۔ یہ بات بہت اہم ہے۔
تھوڑی سی غلط فہمی بھی دور کرنا پڑے گا۔ یہ اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ آج ہوا ہے یہ واقعہ۔ ایک خاتون نے مجھے آج میسج کیا کہ آپ کی طرف سے ایک میسج چل رہا ہے کہ یہ رات لیلۃ القدر ہے، اور یہ ہے اور یہ ہے، تو کیا یہ صحیح ہے؟ پھر اس کو میں نے کہا کہ میں تو ہر طاق رات کو لیلۃ القدر سمجھتا ہوں، کیونکہ ہمارے شیخ یہ فرما دیتے تھے کہ اللہ جل شانہٗ نے ایک لیلۃ القدر چھپا کر ہمیں پانچ لیلۃ القدر عطا فرما دیے۔ کیونکہ حدیثِ قدسی ہے: «أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي» میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔ تو اگر کوئی لیلۃ القدر سمجھ کر کوئی رات انسان گزار لے تو اس کے لیے وہ لیلۃ القدر ہے۔ کہتے ہیں:
ہر شب شبِ قدر است اگر قدر است
ہر شب شبِ قدر ہے اگر قدر ہو
تو اگر قدر کی جائے تو ہماری ہر رات لیلۃ القدر بن سکتی ہے۔ کیسے؟ ایک بات پکی ہے کہ کشف جو ہوتا ہے یا خواب جو ہوتا ہے یہ ظنی ہوتا ہے۔ کیا خیال ہے مولوی صاحبان؟ ظنی ہوتا ہے نا؟ یقینی تو نہیں ہوتا، قطعی نہیں ہوتا۔ اور قرآن و حدیث کی بات، اگر جو صحیح حدیث ہے اور جو قرآن کی آیت ہے وہ قطعی ہے۔ اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ تو اب جتنے روایات ہیں، ان میں کسی میں "تلاش کرو" ہے، کسی میںہے کہ اس میں ہے، تو اب یہ بات تو پکی ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے۔ یہ بات تو پکی ہے۔ اس کے بعد جفت میں ہے، طاق میں ہے، اس میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ امکان کی صورت ہے کہ طاق راتوں میں اس کا امکان بہت زیادہ ہے، بہت زیادہ ہے۔ اور پھر اس میں ستائیسویں میں باقی طاق راتوں کے مقابلے میں امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن امکان زیادہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ باقیوں میں اس کا امکان نہیں ہے۔ مثلاً ستائیسویں کو امکان ساٹھ فیصد ہو، باقی طاق راتوں میں امکان نوے فیصد ہو، یعنی تیس فیصد اضافہ ہو، اور جفت راتوں میں امکان دس فیصد ہو۔ یہ میں مثال دے رہا ہوں۔ تو اگر اُس سال دس فیصد والی بات آ گئی پھر کیا کرو گے؟ مثلاً میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ ایک شخص ہے نوکری کر رہا ہے، اس کو کوئی کہہ دے کہ دس دن ہیں نوکری کے، اس میں ایک تاریخ ہے یعنی کوئی دن ہے، وہ میں نے لکھا ہے، فلاں جگہ پر لکھا ہوا ہے، اگر اس دن آپ کام کر رہے ہوں گے تو آپ کو دو کروڑ روپے تنخواہ ملے گی، اور باقی نو دن جو بھی ہوں گے اس میں آپ کو دو ہزار روپے تنخواہ ملے گی۔ تو یہ شخص کتنے دن نوکری کرے گا؟ دس دن کرے گا۔ کیوں؟ چھوڑ نہیں سکتا، دو کروڑ اور دو ہزار کا فرق ہے۔ کیسے جرات کرے گا؟ کیا خیال ہے؟ کوئی اس کو خواب سنائے کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ چھٹے دن جو ہے نا وہ تاریخ ہے، دوسرا اس کو کشف سنائے کہ نہیں چھٹے دن کا وہ تاریخ ہے۔ تیسرا کہتا ہے نہیں مجھے میں نے بڑے بزرگوں سے سنا ہے کہ چھٹے دن کو، اور یہ سارے ایک ہی تاریخ پر جمع بھی ہو رہے ہوں۔ کیا خیال ہے؟ وہ ایک تاریخ کا کرے گا نوکری؟ وہ کہے گا مجھے کیا پتہ اگر ایسے ہی ہو گیا تو پھر؟
طماع، طماع جو ہے نا عربی میں اس کو کہتے ہیں جو بہت زیادہ طمع کرتے ہوں چیزوں کی۔ ایک طماع تھے۔ تو وہ مشہور بھی بہت طماع تھے کہ یہ تو بہت زیادہ یعنی خیراتوں کے شوقین ہیں اور۔ تو بچے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ تو ایک جگہ جا رہے تھے تو بچوں کا جلوس ان کے پیچھے جا رہا تھا، یہ طماع، یہ طماع، یہ طماع۔ وہ بیچارہ تنگ ہو گیا تو اس نے بچوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہ مجھے چھوڑ دیں، تو اپنے ہی فیلڈ کا ان کو بتایا جس سے خود متاثر تھا، بچوں کو کہا: تم میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو فلاں محلے میں خیرات ہو رہا ہے۔ بچوں نے About-turn لے لیا اور اس محلے کی طرف دوڑ پڑے کہ ادھر خیرات ہو رہا ہے۔ یہ بھی ان کے پیچھے دوڑ پڑے۔ تو ایک آدمی نے ان کی بات سنی تھی، انہوں نے کہا بھئی تو نے ہی تو ان کو بتایا ہے تو کیوں دوڑ رہا ہے؟ کہتے ہیں اتنے سارے دوڑ رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہو۔
تو اس طریقے سے جو لینے والے ہیں نا اور جو طماع ہوتے ہیں اس مقصد کے، وہ چھوڑیں گے اس کو؟ وہ نہیں چھوڑیں گے، اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ بھئی کشفوں پہ اور خوابوں پہ ہاں، یا بزرگوں کے کہنے پہ۔ میں نے اس لیے بتایا نا کہ کل مجھے بزرگوں کا بھی ایک آیا تھا اور اس کا بھی آیا تھا وہ کچھ کشفیں بھی آئی تھیں۔ تو میں اس لیے کہتا ہوں کہ بھئی یہ بات ہے کہ یہ کشفوں کی باتیں نہیں ہیں، پکی بات کرو، بھئی یہ آخری عشرہ گزر رہا ہے۔ اب اگر اس آخری عشرے میں کسی اور تاریخ کو تھا اور کشف کسی اور کا دوسری طرف تھا، مجھے بتاؤ کیا ہو گا پھر؟ واپس آئے گا؟ لہذا ہمارا طریقہ کیا ہے؟ ہر طاق رات کو لیلۃ القدر سمجھو۔ ہر طاق رات کو لیلۃ القدر سمجھو۔ اس وجہ سے ہم کہتے ہیں، تو ان کو میں نے کہا کہ ہم تو ہر طاق رات کو لیلۃ القدر سمجھتے ہیں، اس وجہ سے ہمیں تو مسئلہ کوئی نہیں۔ خیر۔
تو لیلۃ القدر تو الحمدللہ آپ ماشاءاللہ ضرور کمائیں گے اگر آپ کا یہ شوق جاری رہا۔ کسی نہ کسی دن تو ہو گا نا ان شاءاللہ۔ اور آپ ماشاءاللہ اعتکاف میں ہیں تو بس یہ اعتکاف کی جو تراویح ہے وہ آپ ذرا بہتر طریقے سے کر لیا کریں اور ساتھ جو درمیان میں جو محفل ہوتی ہے، اس محفل کے بارے میں بھی آپ کو بات بتاؤں۔ یہ محفل عام محفل نہیں ہوا کرتی۔ بعض ساتھی جو ہے نا وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور ادھر ادھر لگ جاتے ہیں، تو میں نہیں کہتا ہوں کہ خواہ مخواہ اس میں بیٹھ جاؤ، لیکن بتانا ضروری سمجھتا ہوں، آگے ہر ایک کی اپنی مرضی ہے۔ اس اعتکاف میں اور باقی اعتکافوں میں فرق ہے۔ یہ اصلاحی اعتکاف ہے۔ کیا خیال ہے؟ یہ اصلاحی اعتکاف ہے۔ اصلاحی اعتکاف میں اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ اور اپنے نفس کی اصلاح یہ فرضِ عین ہے۔ «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» یقینی بات ہے۔ اس وجہ سے اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو معاملہ بہت خطرناک ہے۔ تو اپنے نفس کی اصلاح موت سے پہلے پہلے تو کروانی ہے۔ تو یہاں اصلاحِ نفس کے لیے ہم جمع ہوئے ہیں۔ اس لیے جو اس قسم کے جو محافل ہیں جو اس مقصد کو support کرتے ہیں، اب میں آپ کو کیا بتاؤں، تراویح میں کھڑا ہونا نفس کے اوپر بڑا بوجھ ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور انہی محفلوں سے جذب ملتا ہے، ملتا ہے نہیں ملتا؟ اور جذب نفس کے مجاہدے کو کم کرتا ہے۔ یعنی اس وقت انسان کا جو نفس ہے وہ اس کام کو کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جذب کی حالت میں۔ جو ان محفلوں میں شریک ہو گا ان کے تراویح میں شرکت کیا انہی طرح ہو گی جو ان میں شرکت نہیں کرتے ہوں گے؟ ظاہر ہے اس حساب سے جذب میں فرق ہو گا۔ نتیجتاً وہ بات نہیں رہے گی۔ اس وجہ سے جو لوگ ان محفلوں میں شریک ہوتے ہیں وہ جوان رہتے ہیں، مطلب یہ کہ اس مقصد کے لیے، وہ تراویح میں شمولیت کے لیے زیادہ بشاشت کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔ اور اگر یہ چیز پیچھے سے کھینچ لیا، تو پھر واقعی مشکل کام ہے، آسان نہیں ہے۔ عموماً گاؤں میں ہم دیکھتے ہیں کہ تراویح جو ہوتی ہے اس مسجد میں سب سے زیادہ رش ہوتا ہے جس میں سب سے تیز پڑھا جاتا ہے، جس میں کچھ سمجھ نہ آئے کہ کیا پڑھ رہے ہیں، اس مسجد میں سب سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں تو بھئی قرآن سننا تو دور کی بات ہے وہ نماز ہی شک پڑ جاتی ہے کہ نماز ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی ہے؟ تو بس اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، کیا بھئی خدا کے بندے آپ نے تو نماز کا مذاق بنا لیا۔ تویہ جو چیز ہے، نفس تو یہ بھی کراتا ہے حالانکہ شیطان بند ہوتا ہے نا رمضان شریف میں؟ لیکن یہ دیکھو بیس رکعت تراویح۔ اور کوئی بیس اور آٹھ کے چکر میں پھنسا ہوتا ہے۔ تو نفس کے لیے کافی مشکل کام ہے یہ تراویح میں کھڑا ہونا۔ لہذا اگر آپ Two-step Theory لے لیں وہ یہ کہ پہلے محفلوں کی جذب سے آپ تراویح میں شامل ہو جائیں بشاشت سے، اور پھر تراویح میں قرآن کے جذب سے جو آپ کو ملتا ہے اس میں آپ کا رمضان شریف نکل جائے، تو اس طریقے سے ماشاءاللہ آپ کا پورا رمضان بہت اچھا الحمدللہ گزرے گا۔ تو یہ جو چیزیں رکھی ہیں ویسے نہیں رکھیں۔ ہمیں بھی یہ بہت پسند ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر "لا الہ الا اللہ" پڑھیں، ذکر کریں، درود شریف پڑھیں، یہ ہمیں پسند نہیں ہے؟ ہمیں بھی پسند ہے۔ لیکن کسی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں، اس کا کوئی فائدہ ہے تبھی مطلب ایسا کر رہے ہیں۔ تو اس وجہ سے جو ساتھی ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں نا، وہ ناسمجھی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ ان کو پتا نہیں کہ اس کا مقصد کیا ہے، وہ سمجھتے ہیں شاید یہ شاعری شاعری ہے کیا فرق پڑتا ہے اس سے اگر نہ سنیں تو؟ کیا فرق پڑتا ہے اگر نہ سنیں تو؟ بات تو صحیح ہے۔ فرق اگر آپ کو نہیں نظر آ رہا تو ٹھیک ہے، لیکن بہرحال یہ چیز تو ہے، تجربے سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ فرق ہے۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ عید کا جو دن ہے اور عید کی جو راتیں ہیں، اس میں چونکہ شیطان کھل چکا ہوتا ہے وہ آپ کو خراب کر رہا ہو گا، تو خراب کرنے کے اس کے ذرائع بہت ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات ہے لوگ بازاروں میں پھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور بازار میں شیاطین ویسے بھی کثرت سے ہوتے ہیں۔ لہذا جو تقویٰ حاصل کیا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا وہیں چھوڑ دیتے ہیں بازاروں میں۔ لاہور والوں کا ایک عجیب نظام ہے کہ وہ "ٹرو" (Taru) کہلاتا ہے، عید عید کی رات کو وہ جوتے خریدتے ہیں۔ کمال ہے ان کو جوتے پہلے نہیں ملتے۔ ان کو جوتے عید کی رات ملتے ہیں۔ ملتے نہیں، پڑتے ہیں، جوتے پڑتے ہیں ان کو۔ شیطان ان کو جوتے مارتا ہے۔ ہاں جی! تو وہ پتا نہیں ان کو کیا اچھا لگ رہا ہوتا ہے، میں خود اس میں سے گزر چکا ہوں مجبورا کیونکہ ہمارا راستہ اٹومیٹک ادھر سے تھا، اور جہاں ہمارا ٹھکانہ تھا اس سے ہو کے گزر رہا تھا، تو اوہو کیا خرافات!
بھئی ہم تو کہتے ہیں کہ پورے رمضان کا جو خشک اجناس ہے ان کا سودا شعبان میں کر دو تاکہ آپ کو رمضان شریف میں اس کے لیے نکلنا نہ پڑے، چہ جائیکہ عید کی رات، جو عیدی کی رات ہے، یعنی جس میں آپ کو ماشاءاللہ وہ مل رہا ہے یعنی مزدور کو مزدوری جیسے فرماتے ہیں آپ ﷺ مزدوری ملتی ہے، ہاں جی! اس رات کے اندر آپ بازاروں میں نکل رہے ہیں، یہ کیا فضول حرکت ہے۔ تو اس طریقے سے اپنے آپ کو بچاؤ عیدین کی راتوں میں، اپنے آپ کو ضائع نہ کرو۔
اور دوسرا جو بات ہے کہ جو لوگ Hotelling کرتے ہیں، Hotelling۔ Hotelling ایک بہت بری چیز ہے۔ اپنے پاک چیز، صاف چیز کو چھوڑ کر گندی چیزوں کے پیچھے پھرنا ہی تو ایک طرح سے، اگر میں غلط کہوں تو ذرا ان کے Kitchen کو دیکھو۔ یہ جو باہر جو ہوٹل ہوتے ہیں بڑے بڑے۔ ان کے کچنوں کو دیکھو اور پھر پتا چلے گا کیا ہو رہا ہے۔ ہاں جی! تو وہاں پر جا کر وہ کہتے ہیں جی، لکھا ہوتا ہے جی پردے کا بندوبست ہے یعنی پردے والا کمرہ موجود ہے۔ تو پردے والا کمرہ موجود تو ہے، لیکن پردے والے میں پردے میں بے پردگی ہے، کیسے۔ جب آپ ادھر بیٹھ جائیں گے تو آخر کوئی آپ سے Order لینے آئے گا یا نہیں آئے گا؟ کوئی آپ کے پاس چیزیں لائے گا یا نہیں لائے گا؟ تو کیا ہے؟ وہ دو صورتوں میں سے ایک ہو گا یا مرد ہو گا یا عورت ہو گی۔ اس کے علاوہ تیسری صورت ہے؟ مرد ہو گا یا عورت ہو گی۔ اور تم بھی مرد ہو عورت ہو یعنی اگر Family کے ساتھ گئے ہو۔ اگر مرد آ گیا تو تمہاری بیوی کے لیے مسئلہ، اور اگر عورت آ گئی تو تمہارے لیے مسئلہ، اب بتاؤ پردے میں بے پردگی یہ ہے یا نہیں۔ تو یہ Hotelling جو کرتے ہیں یہ خواہ مخواہ اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں، پھر پیسے بھی زیادہ خرچ کرتے ہیں، ایک ہوٹل کے اوپر آپ جتنا خرچ کرتے ہیں آپ کے اس سے آپ کا ایک ہفتے کا کام بڑا ٹھیک ٹھاک چل سکتا ہے۔ ہاں جی! لیکن نہیں، یہ چسکا منہ کو لگا ہوتا ہے اور اس کے لیے لوگ دور دور کا سفر کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں ہنگو گیا تھا رشتہ داروں کے ہاں، تو وہاں بعض ایک صاحب آئے تھے غالباً دبئی میں ان دنوں آئے ہوئے تھے واپس گاؤں۔ تو میں عصر کی نماز میں ان سے پوچھا کہ جی کیا ارادہ ہے، کہاں جا رہے ہو، بچے بھی ساتھ تھے؟ کہتے چہارسدہ جا رہے ہیں۔ تو چہارسدہ کس لیے جا رہے؟ جی وہاں کباب کھانے ہیں۔ ہنگو سے چہارسدہ کباب کھانے جا رہے ہیں، یہ کیا چیز ہے؟ رونا نہیں تو اور کیا؟ فضولیات۔
تو اس طریقے سے لوگ پھرتے رہتے ہیں، Hotelling کرتے ہیں، پھر سیر پہ مری جاتے ہیں۔ تو اب ظاہر ہے اپنے گھر والوں کو اگر آپ ساتھ لے کے جائیں گے تو جائیں گے کدھر؟ بازار میں جائیں گے، بھئی بازار ہر جگہوں کے ایک جیسے ہیں۔ کیوں فرق ہے؟ مری میں بہت خوبصورت بازار ہے؟ ہے تو مجھے بتائیں، یہاں مری والے حضرات تو موجود ہیں ان سے پوچھ لیتے ہیں کہ بہت خوبصورت بازار ہے؟ نہیں، وہی بازار ہے جو لاہور میں ہے، جو پشاور میں ہے، جو پنڈی میں ہے، اس سے آپ کے اپنے ہی بازاروں سے زیادہ خوبصورت ہوں گے۔ تو آپ نے موسم کے لیے جانا ہے نا، اچھے موسم کے لیے جانا ہے، تو اچھا موسم کیا آپ کو وہاں جو Green area ہے، تنہا Area ہے وہ ادھر نہیں ملے گا؟ آپ کو اچھا موسم ادھر ملے گا نہیں ملے گا؟ اپنے ساتھ گھر سے چیزیں پکا کے لے جاؤ، اور اگر سیر کرنا ہے تو ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں نہیں ہوں گے لوگ۔ کافی خالی جگہ آپ کو ملیں گی، وہاں پر جا کر آپ کھا لینا، تو یہ اصل میں ہم لوگ ان چیزوں کا خیال نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں نہیں نہیں وہ جی کبھی کبھی سیر تو کرانا چاہیے نا دیکھو یہ تو انسان کی ضرورت ہے، ہاں جی! یہ بالکل ایسی مثال ہے جیسے ٹی وی دیکھنے کا بہانہ تلاش کریں، کہتے ہیں جی ہم تو خبریں سنتے ہیں جی، ہم تو خبریں سنتے ہیں۔ اچھا خبریں سنیں تو خبریں سنتے کیسے ہیں؟ آج کل بہت Modern system ہے، خبریں جو سنانے والے ہوتے ہیں ایک مرد ہوتا ہے ایک عورت ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو دیکھنے والے بھی مرد بھی ہوتے ہیں عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ اور ابھی تک ہمارے علم میں کوئی ایسی Information نہیں آئی کہ جیسے ہی ٹی وی پر مرد آئے تو عورتوں کی آنکھیں نیچے ہو جائیں، اور عورتیں اگر آ جائیں تو مردوں کی آنکھیں نیچے ہو جائیں، ایسی کوئی Information ابھی تک مجھے نہیں ملی۔ اور آئینے میں بھی اگر آپ عورت کی تصویر کو دیکھیں مرد ہو کر تو کیا خیال ہے گناہ ہو گا یا نہیں ہو گا؟ آئینے میں اگر آپ کسی مطلب عورت کو دیکھیں، نظر آ رہی ہو، اور آئینے میں عورت کو مرد نظر آ رہا ہو غیر محرم تو کیا اس کو دیکھنے کا گناہ ہو گا یا نہیں ہو گا؟ تو ٹیلی ویژن کم از کم آئینہ تو ہے نا؟ لوگ اس پہ تسلی دیتے ہیں نہیں جی ٹیلی ویژن کی تصویر تصویر نہیں، بھئی ٹیلی ویژن آئینے کی طرح تو ہے نا کم از کم؟ آپ کو نظر تو آ رہا ہے نا؟ تو ایسی صورت میں آپ مرد ہو کر عورت کو دیکھیں گے، عورت ہو کر مرد کو دیکھیں تو کیا ہو گا؟ گناہ تو ہو گا، گناہ تو ہو گا۔ تو اس گناہ سے بچنا ضروری ہے یا نہیں ہے؟ لیکن نہیں، نفس اس کو فتویٰ دے دیتا ہے، کوئی بات نہیں جی یہ تصویر نہیں ہے جی۔
تو ہم لوگوں کو اپنے آپ کو بچانا ہے، ہم لوگوں کو اپنے آپ کو بچانا ہے، اس وجہ سے اول تو ایسی محفلوں کو تلاش کر لیں جن محفلوں میں آپ کو ان چیزوں سے بچت ملے۔ دوسرے ایسے سیر Design کر لیں جس میں محرمات نہ ہوں، ہاں جی! ایسے سیر Design کر لو۔ تیسرے اپنے گھر پر اچھے کھانے پکائیں، چوتھے یہ کہ اپنے عورتیں اپنے گھر کے اندر اچھے کپڑے پہنیں اور مرد جو ہے نا باہر کے لیے بھی اچھے کپڑے پہنیں، تو عید ہو گئی یا نہیں ہوئی؟ جس وقت آپ کوئی ایسا کام نہیں کر رہے ہو جو شریعت کے خلاف ہو، تو جو آپ کے دل کی طمانیت ہے جو ذکر سے ملی ہے وہ ختم نہیں ہو گا۔ وہ موجود رہے گا۔ تو آپ کو اگر جسمانی خوشی بھی مل گئی یعنی اچھے کپڑے، اچھا کھانا، ہاں یا جائز سیر، یہ چیزیں آپ کو مل گئیں، تو جسمانی خوشی بھی ہو گئی روحانی خوشی بھی ہو گئی۔ تو وہ کیسی خوشی ہو گی؟ اور جس میں آپ کی روحانی خوشی ذبح ہو جائے اور صرف جسمانی خوشی رہ جائے تو جسمانی خوشی کا ایک فارمولا بتا دیتا ہوں، یہ بڑا پکا فارمولا ہے آپ خود دیکھ لیں۔ جسمانی خوشی ابتدا میں مزہ دیتا ہے اور انتہا میں پریشانی، بے اطمینانی۔ کوئی بھی جسمانی خوشی ہو، بات میں۔ ہاں جی! اور روحانی خوشی ابتدا میں تکلیف ہوتی ہے جیسے روزہ ہے، اور انتہا میں خوشی، انجام اس کا اچھا ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے اگر آپ کو جسمانی خوشی بھی ملے جائز اور روحانی خوشی ضائع نہ ہو، تو آپ کو سبحان اللہ انتہا میں اور ابتدا دونوں میں خوشی ملے گی۔ ماشاءاللہ بہت اچھا رہے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو اگر آپ روحانی خوشی کو ذبح کروا دیں تو اس کو آپ کے آخرت کے نقصان کے علاوہ آپ کے دنیا میں بھی بے اطمینانی کا باعث ہو گا۔ اگر آپ جاننا چاہیں تو یہ جو لوگ بہت تیز میوزک بجاتے ہیں عید کے دن، عید کے دن نہیں ویسے ہم لوگ بعض لوگ عام دنوں میں بھی بجاتے ہیں، ڈرم میوزک ہوتا ہے بہت تیز ہوتا ہے، تھرل (Thrill) والا ہوتا ہے، ایسی صورت میں اگر ان کے دلوں کو ٹٹولیں تو ان کا دل بہت بے اطمینان ہوتا ہے، پھٹتا ہے۔ اس حد تک بے اطمینان ہوتا ہے کہ کہتے ہیں بس میں یا کسی کو مار دوں یا مجھے کوئی مارے۔ مطلب یہ پرواہ نہیں کرتے، یہ ساری لڑائیاں جو ہوتی ہیں اسی وجہ سے کہ یہ اس وقت Zone میں چلے جاتے ہیں خطرے کے زون میں چلے جاتے ہیں جیسے نیم پاگل لوگ ہوتے ہیں، اس قسم کے ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے اپنے آپ کو ایسی جگہوں سے بچاؤ۔ اللہ کا شکر ہے ہمیں روزے ہم نے روزے رکھے ہیں، روزے رکھنے سے ہمیں انسان ہونا چاہیے۔ اور جب ہم انسان ہیں تو جانوروں کی حرکتیں کیوں کریں؟ اپنے آپ کو بچائیں۔ تو عید کے دن کو سنبھالنا ہے۔ اور اس میں اچھے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے، اچھے لوگوں سے مراد ہے کہ دوستوں میں بھی آپ کو وہ لوگ جن پہ آپ کو اعتماد ہو کہ یہ ہمیں خراب نہیں کریں گے، ایسے لوگوں کے ساتھ۔ اپنے بڑوں کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ ان کو سلام کر لو، ان سے دعائیں لے لو۔ اپنے قبرستان چلے جاؤ وہاں اپنے مردوں کے لیے فاتحہ خوانی کر لو، اور اس طریقے سے اپنے دوستوں ساتھیوں کے ساتھ ملو لیکن طریقے کے ساتھ۔ ہاں جی! جس میں آپ ان کے لیے خیر سگالی کے جذبات بتائیں وہ آپ کے لیے، اور اس طریقے سے ماشاءاللہ عید کے دن اگر تین دن عافیت کے ساتھ گزر گئے، انشاءاللہ جو تقویٰ آپ لوگوں نے حاصل کیا ہو گا رمضان شریف میں، وہ تقویٰ آپ کا برقرار رہے گا۔ ورنہ خدا نخواستہ اگر آپ نے تقویٰ ضائع کر دیا تو پھر آپ کو ایک سال کم از کم اور انتظار کرنا پڑے گا اپنے آپ کو دوبارہ انسان بنانے کے لیے۔ ہاں جی! تو اس وجہ سے میں درخواست کروں گا کہ کوشش کر لیں کہ اس میں کنٹرول رکھیں۔
دوسرا یہ کہ اس میں ماشاءاللہ کچھ کام اور باقی ہیں، وہ یہ کہ جو فطرانہ ہے وہ ہر ایک کے اوپر واجب ہوتا ہے جو پیدا ہوتا ہے ان دنوں تک، تو ان کا فطرانہ مسجد میں، عموماً نماز سے پہلے پہلے تاکہ جو آپ کے روزے لٹکے ہوئے ہیں، معلق ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت پائیں۔ اور دوسرا یہ کہ نماز کے لیے جائیں تو ایک کیفیتِ شکر کے ساتھ جائیں، کیونکہ اللہ پاک نے آپ کو اتنی بڑی دولت نصیب فرمائی ہے پورا رمضان شریف، اب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عید نصیب فرما دیا، تو ایک روحانی خوشی کا دن ہے تو اس پر شکر ہم کر رہے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے۔ تو اس کے لیے شکرانے کے دو رکعت ہم پڑھتے ہیں، تو اس میں شکر کی کیفیت کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اور پھر سبحان اللہ اس میں جیسے عیدی لینے کے لیے کوئی بڑے کے پاس جاتا ہے تو اللہ جل شانہٗ کے سامنے بھی ہم جاتے اور واقعی اللہ پاک کی طرف سے منادی بھی ہوتے ہیں کہ بخشے بخشے اب گھروں کو چلے جاؤ۔ مطلب یہ بات ہوتی ہے۔ تو اس کے لیے الحمدللہ موقع ہو گا۔
کوئی میٹھی چیز ابتدا میں کھا لو تو سنت ہے، ہاں جی! کوئی بھی میٹھی میٹھی چیز کھجور ہے وہ بھی میٹھی چیز ہے، شہد ہے وہ بھی میٹھی چیز ہے، گڑ وغیرہ تو یہ بھی میٹھی چیز ہے، مٹھائی ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ میں اکثر ساتھیوں کو بتایا کرتا ہوں کہ مٹھائی ایک بیماری ہے۔ آج کل کی جو مٹھائیاں ہیں کیا ہیں؟ یہ بیماریاں ہیں۔ اس سے انسان بیمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے میرا اکثر یہ ساتھیوں سے درخواست ہوتا ہے کہ آپ ایک چیز کو فروغ دیں، کسی کو مٹھائی دینا ہو تو آپ اتنے پیسوں کے فروٹ لے لیں، اور اس کے اوپر چٹ لگا دیں فروٹ کی جگہ، نہ وہ مٹھائی کی جگہ کہ یہ آپ کے لیے تحفہ۔ تاکہ یہ چیز فروغ پائے۔ اب آپ فروٹ کھلائیں گے تو فروٹ سبحان اللہ ان کے صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔ ہاں جی! تازہ ہے، فریش ہے۔ یہ جوس وغیرہ کے بارے میں اکثر کہتا ہوں یہ فریش جوس پی لیا کریں، یہ جو Pack juice ہوتے ہیں نا یہ یہ کوئی پینے کی چیز نہیں ہے اس میں جو جو لگاتے ہیں وہ جو یعنی Preservative جو ہوتا ہے وہ بعض مطلب صحت کے لیے اتنا مفید چیز نہیں ہے Preservative جو ہوتا ہے۔ تو اس کو Avoid کریں ان چیزوں کو۔ فریش جوس پی لیا کریں، آپ کا فریش پانی اس جوس سے اچھا ہے میں لکھ کے دے سکتا ہوں۔ ڈاکٹر حضرات موجود ہیں ان کے سامنے، آپ کا جو Fresh water ہے صحیح واٹر، یہ آپ کے اس جوس سے جو جس میں Preservative ہو اس سے اچھا ہے۔ تو یہ جو ہے نا مطلب یہ کہ اگر آپ، بلکہ میں آپ کو یہ پیپسی کولا اور کوکا کولا اس کے اوپر ریسرچ ہوئی ہے انڈیا میں ایک پروفیسر نے کہا ہے، کہتے ہیں میں آپ کو کہوں کہ گھڑے کا پانی پی لے لیکن کوکا کولا پیپسی کو نہ پیئے۔ یہ ہندو پروفیسر کی بات ہے۔ ہمارا تو یہ ہے نا کہ اسرائیلی کرتا ہے تو چلو جی ہم اسرائیل کے خلاف غصے میں اس طرح باتیں کرتے ہیں۔ ایک ہندو کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے نا؟ ہندو کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے نا؟ انہوں نے تو صرف صحت کے بنیاد پر بات کی ہے کہ یہ جو ہے نا اس میں جتنی Acidity ہے جتنی یہ چیزیں ہیں اس سے تو ٹوائلٹ بھی صاف کیا جا سکتا ہے۔ تو اس خطرناک چیز کو ہم اپنے جسم میں اتارتے ہیں، کتنی خطرناک چیز ہے۔ تو یہ یہ چیزیں نہ لیا کرو اور ساتھ ساتھ کیا کرو؟ فریش جوس، فریش فروٹ۔ یہ ماشاءاللہ اس کا بناؤ۔ بھئی دیکھو نا کتنے کلو مٹھائی کتنے کی ملتی ہے؟ چار ساڑھے چار سو۔ چار ساڑھے چار سو کے سیب کتنے ملیں گے؟ دو کلو ملیں گے سبحان اللہ، دو کلو آپ یہ سیب ان کو کھلائیں تو اچھا نہیں ہے؟ اس میں آئرن بھی ہے مطلب اور منرلز ہے بڑی اچھی چیز ہے، آپ اس کو یہ کھلائیں، کیلے کھلائیں۔ ہاں جی! آپ ان کو آج کل آم ملتا ہے، آم دے دیں، آم ان کو دے دیں اگر اس کو شوگر نہ ہو تو۔ آم دے دیں، شوگر والوں کے لیے مٹھائی ہے۔ ہاں جی! وہ مٹھائی نہیں بلکہ پٹائی ہے۔ ہاں جی! تو اس وجہ سے اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچاؤ۔ مطلب یہ ہو گا کہ ہم لوگ کسی کو نقصان پہنچانے والے اور نقصان بھی پہنچائے اپنے رشتہ داروں کو، اپنے دوستوں کو، اپنے پیاروں کو، نقصان پہنچا رہے ہو، غلط بات ہے نا۔ تو ہمیں ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں صحیح طریقے سے عید کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اب یہیں پر میں اس کو روکتا ہوں کیونکہ ابھی ساڑھے چھ بجے ہمارا انگلش کا بیان وہ تقریباً بیس منٹ کا ہوتا ہے۔ تو پھر جو حضرات اس کو سننا چاہیں وہ بے شک تشریف لائیں، اور جو حضرات ظاہر ہے انگلش نہیں جانتے یا اس کو سننا نہیں چاہتے تو اپنے اپنے معمولات میں، انفرادی معمولات میں مشغول ہو جائیں۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان بقیہ دنوں اور راتوں کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری عیدوں کو اچھی طرح گزروا دے۔ بیشک جو ہمارے لیے مفید ہو اور
ان شاءاللہ دعا جو ہے وہ افطار کے وقت ہو گی۔ وآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔