اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿201﴾ أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿202﴾ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴿203﴾
اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ: ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں دُنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے“ ﴿201﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اعمال کی کمائی کا حصہ (ثواب کی صورت میں) ملے گا، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے ﴿202﴾
یہ اصل میں چونکہ پہلی یعنی کل کی آیات مبارکہ جو تلاوت ہوئی ہیں، اس میں فرمایا گیا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں مطلب دے دے۔ تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے جو صرف دنیا میں مانگتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی اور ہمیں دوزخ عذاب سے بچا لے۔ تو ان لوگوں کی تعریف کی گئی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اعمال کی کمائی کا حصہ ثواب کی صورت میں ملے گا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف دنیا کی طرف متوجہ رہنا یہ مذموم ہے۔ صرف دنیا کی طرف سے صرف دنیا مانگنا، صرف دنیا ہی کی فکر کرنا، یہ مذموم ہے۔ لیکن آخرت اگر انسان اس کی بھلائی کی تیاری کر رہا ہو اور دنیا میں تکلیفوں سے اور مشکلات سے بچنے کے لیے اللہ پاک سے کہے یا آسانی کے لیے کہے، سہولت کے لیے کہے، آرام کے لیے کہے، تو اس میں کوئی وہ نہیں ہے کیونکہ وہ بھی تو اللہ ہی سے مانگنا ہے۔ کس سے اور مانگیں گے؟ وہ تو کسی اور سے تو نہیں مانگیں گے۔ ظاہر ہے اللہ ہی سے مانگنا ہے تو وہ بھی اللہ ہی سے مانگیں اور اللہ پاک اس پر خوش ہوتے ہیں۔ جب اللہ پاک سے کوئی مانگتا ہے تو اللہ پاک اس پہ خوش ہوتے ہیں۔ بلکہ جو نہیں مانگتے ان پہ ناراض ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اپنی جو تکالیف ہیں ان کو اللہ کے سامنے پیش کرنا اور اس میں آسانی مانگنا اور جو مشکلات ہیں ان کو دور کرنے کے لیے اللہ پاک سے کہنا یہ کوئی بری بات نہیں ہے، یہ اچھی بات ہے۔ لیکن صرف یہ نہیں ہو کہ دنیا ہی دنیا ہو۔ بلکہ آخرت سامنے ہو، آخرت کی تیاری ہو۔ دنیا کو تو ہم صرف۔۔ اب دیکھیں میں آپ کو بتاؤں کہ ہم جو بھی کام کر رہے ہیں اس کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ تو اس مقصد کے لیے ہم جو ذریعہ استعمال کرتے ہیں وہ بھی آسان ذریعہ ہم چاہتے ہیں۔ لیکن آسان ذریعہ چاہنے میں مقصد بھول جائے، یہ غلط بات ہے۔ مطلب وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو مقصد کو سامنے رکھنا ہوتا ہے کہ بھئی پانا تو اس مقصد کو ہے۔ ہاں البتہ جو اس کے لیے ذریعہ ہم اختیار کر رہے ہیں وہ ذریعہ بھی آسان ہو، اس میں کوئی مشکل نہ ہو، تو یہ والی بات۔ تو یہاں پر یہی اس کی بات کہی جو ہے نا ہم اللہ پاک سے آخرت بھی مانگیں اور دنیا بھی مانگیں۔ اور اللہ پاک پھر اس کے جواب میں آسانی فرماتے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ پاک ثواب کی صورت میں ان کو حصہ دیتے ہیں۔
اور اللہ کو گنتی کے (ان چند) دنوں میں (جب تم منیٰ میں مقیم ہو) یاد کرتے رہو۔ پھر جو شخص دو ہی دن میں جلدی چلا جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو شخص (ایک دن) بعد میں جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔
یہ اصل میں منیٰ میں تین دن گزارنا سنت ہے، اور اس دوران جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے۔ البتہ 12 تاریخ کے بعد منیٰ سے چلا جانا جائز ہے، 13 تاریخ تک رُکنا ضروری نہیں۔ اور اگر کوئی رُکنا چاہے تو 13 تاریخ کو بھی رمی کر کے واپس جاسکتا ہے
اب ذرا غور فرمائیں، اجازت دی ہے دونوں کی۔ لیکن آپ ﷺ ٹھہرے ہیں تین دن۔ اب ہمارے لیے جو نمونہ ہے وہ آپ ﷺ ہیں۔ کہ ہم آپ ﷺ کو دیکھ دیکھ کر سارے کام کریں گے۔ تو اس میں جو اختیار دیا گیا ہے، تو اس میں آپ ﷺ نے کون سا option avail کیا؟ آپ ﷺ نے اس میں کیا کیا؟ تو اس کا مطلب ہے کہ بہترین راستہ وہی ہے کہ وہی اختیار کر لو۔ لیکن یہ سنت مستحبہ ہے، سنت مؤکدہ نہیں ہے۔ چونکہ اللہ پاک نے اس میں option دے دیا ہے۔ سنت مستحبہ ہے لیکن سنت مؤکدہ نہیں ہے۔ پس اگر کوئی نہ ٹھہرے تو اس پہ کوئی ملامت نہیں ہے۔ لیکن ٹھہر جائے تو اس کے لیے خوبی ہے۔
اب ذرا دیکھیں خوبی ہے۔ لیکن وہاں منیٰ، منیٰ سے جو لوگ جاتے ہیں، کہاں جاتے ہیں؟ کہاں جاتے ہیں؟ ظاہر ہے مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو ایسے ہو جن کا ٹائم تھوڑا ہوتا ہے، وہ تو سیدھے جاتے ہیں پھر واپس طوافِ وداع کر کے وہ چلے جاتے ہیں۔ لیکن وہاں جو لوگوں کا وقت ہوتا ہے تو وہ جاتے مکہ مکرمہ ہیں اور مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ ہے، مسجدِ حرم ہے اور بہت سارے ثواب کے ذرائع ہیں۔ لیکن ان سنتِ مستحبہ یہ ہے تو اس کا مطلب ہے اس کا ثواب اس سے زیادہ ہے۔
اب دیکھو سہولت بھی ہے، کیونکہ اس وقت rush بھی تھوڑا ہو جاتا ہے۔ ثواب بھی زیادہ ہے۔ اور ماشاءاللہ آرام کے ساتھ آپ رہیں۔ مطلب ظاہر ہے رمی کرنا ہے نا، اور تو وہاں پر کچھ نہیں، بس نمازیں پڑھنی ہیں، ذکر کرنا ہے اور رمی کرنا ہے۔ تو وہاں تو مطلب بہت آسانی ہوتی ہے۔ تو یہ مقصد یہ ہے کہ سنت میں آسانی ہی آسانی ہے۔ سنت میں آسانی ہی آسانی ہے۔ لوگ ذرا ویسے ہی جلدی مچاتے ہیں!
ایک دفعہ کوئی شخص تھے وہاں پر، وہ نفل حج کر رہے تھے۔ تو ان سے پوچھا کہ بھئی آپ نے 12 کو جانا ہے یا رکنا ہے 13 کو؟ اس نے کہا بھئی میرا تو نفلی حج ہے، نفلی حج جو ہوتا ہے اس لیے ہوتا ہے انسان اجر کمانا چاہتا ہے کیوں کہ فرض تو پورا ہو چکا ہوتا ہے۔ تو میں اگر زیادہ اجر کے لیے آیا ہوں تو زیادہ اجر تو اسی میں ہے، تو میں کیوں نہیں ٹھہروں گا؟ میں تو ٹھہروں گا۔ میرے لیے تو ٹھہرنے میں ہی خیر ہے۔ تو بس یہی بات ہے۔ تو اس پر ایک کلام بھی ہے، وہ میں آپ کو سناتا ہوں۔ ظاہر ہے اس موقع کے لیے مناسب ہے کیونکہ یہ جو ہے نا، اسی کے لیے ہے۔
تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب
خوش قسمتی ہے اس سے اور ہوں جنت کے قریب
تیرھویں کی رمی زوال کے بعد ہم کرلیں
برکات اس کے ملیں ہم کو پھر عجیب و غریب
تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب
کچھ مشکلات انتظامی تو نظر آتے ہیں
اگر ہمت ہو یہ سب اجر عظیم کے ہیں نقیب
تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب
عقل جو رب نے عطا کی ہے استعمال کرلیں
جو محبت بھی ہو اس کی بنے کیا خوب ترکیب
تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب
ہر ایک مشکل میں وہ آسان کرے ہے رستہ
ہم اگر سامنے رکھیں شبیؔر اُس کی ترتیب
تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب
خوش قسمتی ہے اس سے اور ہوں جنت کے قریب
یہ اصل میں آپ نے دیکھا ہے کہ اس میں جو مطلب یعنی طرز اختیار کیا گیا ہے ملامت کا نہیں ہے، ترغیب کا ہے۔ تو جو سنتِ مستحبہ ہوتا ہے اس کی ترغیب دی جا سکتی ہے، البتہ اس کے ترک پر ملامت نہیں کی جا سکتی، یہ بنیادی بات ہے، اس کو سامنے رکھنا چاہیے۔