معجزات، بدعت، تقدیر، فرشتے، جنات اور آسمانی کتابیں

عقیدوں کا بیان، اشاعت اول، 4 اپریل، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان
  • عقائد کی درستی کی اہمیت اور اس کے بغیر اعمال کی بے وقعتی۔
    • انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا بیان اور معراجِ مصطفیٰ ﷺ کی حقیقت۔
      • بدعت کی تعریف اور دین میں مقاصد اور ذرائع (وسائل) کا فرق۔
        • تقدیر پر ایمان اور کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی حکمتیں۔
          • فرشتوں کی ذمہ داریاں اور حکمِ الٰہی کی بجا آوری کی مثالیں (جیسے واقعہ ذبحِ اسماعیل علیہ السلام)۔
            • جنات کی اقسام، ان کی عبادات اور ان کے لیے دعا کرنے کا واقعہ۔
              • آسمانی کتابوں پر ایمان، قرآنِ مجید کی حقانیت، اور سابقہ کتابوں کے مطالعے سے احتراز۔

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

                معزز خواتین و حضرات، صبح کے بیانات میں آج کل عقائد بیان کیے جا رہے ہیں، جو کہ انتہائی ضروری بات ہے کہ ہم اپنے عقائد سے واقف ہوں۔ خدانخواستہ اگر کسی کا عقیدہ غلط ہو، تو پھر تو اس کے اعمال کی کوئی Value نہیں ہوگی۔ لہٰذا ان عقائد کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔

                یہ جو عقائد ہیں، ہم نے الحمد للہ یہاں پر عقیدے کا حوالہ دیا ہوا ہے قرآن اور سنت سے۔ ماشاءاللہ حوالہ دیا ہوا ہے۔ تو جو پھر اس کو دیکھنا چاہیں تو بے شک دیکھ سکتے ہیں۔ علماء کرام سے میں عرض کرتا ہوں اس کو ذرا دیکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو اگر دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں۔ ان شاءاللہ اس کا Pamphlet ہم چھاپیں گے تاکہ سب تک یہ بات پہنچ جائے اور سب اپنے اپنے عقائد کے بارے میں واقف ہو جائیں۔

                انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات۔

                انبیاء کرام کی سچائی بتانے کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں ایسی نئی نئی اور مشکل مشکل باتیں ظاہر کیں جو اور لوگ نہیں کر سکتے۔ ایسی باتوں کو معجزہ کہتے ہیں۔

                جیسے ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں نہ جلنا، موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا اژدہا بن جانا، اور اس طرح اور بہت سارے واقعات جن کا ذکر قرآن و احادیث شریفہ میں آیا ہے۔

                ہمارے نبی کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے۔

                جس کی... اس Challenge کی کہ اس طرح کوئی سورت بنا کر لائے کا توڑ ابھی تک نہ ہو سکا ہے نہ ہوگا۔

                اس طرح ہمارے پیغمبر ﷺ کا جاگتے میں جسم کے ساتھ مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے سات آسمانوں پر، وہاں سے جہاں تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا پہنچایا۔ اور پھر مکہ میں واپس پہنچا دیا۔ اس کو معراج کہتے ہیں، معراج شریف۔

                یہ بھی بڑا معجزہ ہے۔

                اس طرح اور بہت سارے معجزات جو آپ ﷺ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے، جن کا ذکر قرآنی یا صحیح احادیث شریفہ میں ہے، ان کو ماننا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

                معجزات جو ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ سارا کچھ کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو قوانین ہمارے لیے بنائے ہیں، تو اس قانون کا وہ خود پابند نہیں ہے۔ اگر وہ اس کے خلاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ بنانے والا وہی ہے۔

                بدعت سے متعلق۔ اللہ اور رسول نے دین کی سب باتیں قرآن اور حدیث میں بندوں کو بتا دی ہیں۔ اب کوئی نئی بات دین میں نکالنا درست نہیں۔ ایسی باتوں کو نئی باتوں کو بدعت کہتے ہیں اور بدعت بہت بڑا گناہ ہے۔

                اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ یہ آیت جب اتری... تو ایک یہودی نے جب اس کو سنا تو اس نے کہا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا گیا، فرمایا اس دن ہماری دو عیدیں تھیں۔ ایک جمعہ کا دن تھا اور ایک حج کا دن تھا۔

                تو یہ واقعتاً یہ بہت ہی کیونکہ اللہ پاک نے اس میں تین اعلان فرمائے ہیں۔ دین کی تکمیل، ہو گئی۔ نعمت ہمارے پر تمام کی گئی، جتنی نعمتیں اللہ پاک نے ہمیں دینی تھیں۔ اور اسلام کو دین کے طور پر بتا دیا گیا۔ یہی دین ہے میرے لیے پسندیدہ، اس کے علاوہ اور کوئی دین اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ نہیں ہے۔ تو یہ تین باتیں جو ہیں نا بہت اہم ہیں۔

                تو چونکہ دین مکمل ہو چکا ہے، لہٰذا اب دین کے اندر نہ تو کوئی بات داخل کی جا سکتی ہے، نہ اس سے نکالی جا سکتی ہے۔ جو داخل کرتا ہے وہ بدعت میں مبتلا ہوتا ہے اور افراط میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور جو نکالتا ہے وہ تفریط میں مبتلا ہوتا ہے۔

                اس وجہ سے اب اپنے دین کو جاننا بہت ضروری ہے کہ کون سی بات ایسی ہے جو دین میں نئی بات شامل کی گئی ہے، اس کو نہ مانیں۔ ظاہر ہے اس کے لیے اپنے علماء کرام سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ ان باتوں کو دیکھنا پڑے گا کہ قرآن و حدیث میں کس کس بارے میں بتایا گیا ہے اور کس چیز کے بارے میں ہے کہ یہ نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے یہ ضروری ہے۔

                ہر نئی چیز بدعت نہیں ہوتی، یہ بھی ایک غلط فہمی ہے۔ بدعت اگرچہ نئی چیز کو کہتے ہیں لیکن دین میں نئی چیز کو کہتے ہیں۔ یا مقصد کے طور پر جو مطلب یہ ہے کہ دین کے جو مقاصد ہیں اس میں کوئی تبدیلی۔ لیکن ذرائع میں تبدیلی پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ ذرائع میں، ابھی مثال آتی ہے۔

                بعض لوگ ہر نئی چیز کو بدعت کہتے ہیں، ایسا نہیں ہے۔ بدعت احداث فی الدین کو کہتے ہیں، یعنی دین میں کسی چیز کو شامل کرنا۔ دین کے لیے نیا ذریعہ اختیار کرنا بدعت نہیں ہوتا۔ ایسی باتوں کو احداث للدین کہتے ہیں، احداث للدین۔

                جیسے موجودہ مدارس کی ترتیب۔ یہ بتائیے، درس نظامی قرآن سے ثابت ہے؟ حدیث سے ثابت ہے؟ صحابہ سے ثابت ہے؟ کس سے ثابت ہے؟ تو ظاہر ہے کیا وہ بدعت ہے؟ اب دیکھو، نہ یہ بدعت ہے اور نہ اس سے ثابت ہے تو اب پھر کیا ہے؟ ذریعہ ہے۔ ذریعہ ہے نا؟ تو ذریعہ کے طور پر ٹھیک کہے جاتے ہیں۔ بہت بڑی مثال ہے۔ بڑی مثال اس لیے ہے کہ علماء کرام سارے اس ذریعے سے بنتے ہیں۔ تو اگر علماء کرام اس کے ذریعے سے بنتے ہیں اور وہ بدعت نہیں ہے، تو پھر ظاہر ہے مطلب یہ ہے اس کو ذریعہ ماننا پڑے گا۔ ذریعہ ہے، اس وجہ سے بدعت نہیں ہے۔

                جیسے موجودہ مدارس کی ترتیب، درس نظامی وغیرہ، یا تبلیغی جماعت کے موجودہ طور طریقے۔ کیوں، بھئی چلہ، چار مہینے، شبِ جمعہ، یہ مسجد میں گشت، کیوں، ایسے ہی تھا اس وقت؟ ایسے تو نہیں تھا۔ یہ ایک انتظامی طریقہ ہے۔ انتظام کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ایسے تو نہیں ہے کہ مطلب اس وقت بھی اسی طرح تھا، صحابہ کی کوئی چار مہینے کی جماعت نکلی ہے؟ یا چلے کے لیے کوئی جماعت نکلی ہے؟ وہ تو ہر وقت نکلے ہوتے تھے، جس وقت ضرورت ہوتی تھی اس وقت نکل جاتے تھے۔ ان کو بس جب حکم ہوتا، نکل جاؤ تو نکل جاتے تھے۔ اِنْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا۔ چاہے بھاری ہو چاہے ہلکے ہو، نکل جاؤ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ چیز بدعت نہیں ہے۔

                تصوف کے اصلاحی طریقے۔

                اب ذرا تھوڑا سا اس پہ میں Comment کروں گا کہ تصوف کے اصلاحی طریقے چونکہ بدعت نہیں ہیں، چونکہ ذرائع ہیں لہٰذا ان کو تبلیغ پر اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وہ بھی طریقے ہیں، طور طریقے ہیں اور بدعت نہیں ہیں۔ اس طرح تبلیغ والوں کو یہ ایجاد نہیں دی جا سکتی کہ تصوف کے اصلاحی طریقے جو ہیں نا بدعت ہیں۔ چونکہ یہ ایسا ہوگا جیسے کوئی شیش محل میں بیٹھ جائے اور کسی پہ پتھر مارے۔ تو جواب میں پتھر آئے گا تو کیا ہوگا؟ سب کچھ چکنا چور ہو جائے گا۔

                تو یہ طور طریقے ہیں، جہاد کے طور طریقے۔ مجھے بتاؤ پہلے تیر کے ساتھ ہوتی لڑائی ہوتی تھی، نیزے کے ساتھ ہوتی تھی، تلوار کے ساتھ ہوتی تھی، آج کل کر کے دکھائیں نا۔ آج کل میرا خیال میں اگر جہاد ہو رہا ہوگا اور کوئی تیر لے کے یا کوئی تلوار لے کے جائے گا تو امیر صاحب اس کو کان سے پکڑ کر نکال دیں گے۔ تم ادھر آکر۔۔۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ بھی نہیں ہے۔

                اس طرح سیاست کے طور طریقے۔ مطلب جو بھی دین کے شعبے ہیں، ان سب کے اپنے اپنے جو طریقے ہیں، اس میں جو ذرائع ہیں، ان پہ آپ گرفت نہیں کر سکتے۔ ہاں البتہ مقاصد کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہے۔ مقاصد کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہے۔ وہ مطلب ظاہر ہے کہ اب طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، یہ مقصد بن گیا۔ اب مقصد اس علم کو کیسے حاصل کرتے ہو، آیا Telephone کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو، Radio کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو، براہ راست درس کے ذریعے سے حاصل کرسکتے ہو، کتاب کے ذریعے سے حاصل کرسکتے ہو، یہ سب علم کے ذریعے ہیں، لہٰذا ان پہ پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

                الا کہ اس میں کوئی گناہ کا Element شامل ہو۔ جس کا مطلب شریعت میں گناہ ہو، تو مثلاً Television، چونکہ اس میں گناہ کا Element شامل ہے۔

                حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے کہا، کہ حضرت آپ Television پر اگر درس دیں تو اس سے بہت لوگوں کو(... مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، بہت بڑے محدث گزرے ہیں۔) فرمایا، ہاں، لیکن ہم صرف جائز طریقوں کے مکلف ہیں، ناجائز طریقوں کے مکلف نہیں ہیں۔ اگر جائز طریقوں سے آپ دین کی خدمت کر سکتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ ناجائز... یہی مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی یہ بات کہی، کہ اگر ہم لوگوں کی باتیں ماننے لگیں تو کل وہ Dance کے ذریعے سے کہیں جی اس کے ذریعے بھی دین کی تبلیغ ہو سکتی ہے، تو پھر کیا ہم یہ کریں گے؟ بھئی جو Dance والے ہیں ان کے ساتھ اگر آپ Dance شروع کر دیں، ان کو کہہ دیں بھئی تو... یقیناً دین کی تبلیغ تو ہو گی لیکن ناجائز طریقے سے۔ تو یہ چیز ہے کہ مطلب ناجائز طریقے سے نہ ہو۔

                مجھے خود ایک، یہ غالباً خیبر ٹی وی تھا، اس کے جو Producer تھے، مہتاب صاحب اس کا نام تھا، پشتو کے۔ مجھے اس نے کہا کہ میں آپ کو چار گھنٹے دیتا ہوں Television پر، آپ تصوف سکھا دیں۔ لوگوں کو تصوف سکھا دیں۔ میں نے کہا یہ Recorded ہو گا یا Live ہو گا؟ مطلب یہ ہے کہ اس کی Record پہلے بنے گی یا یہ Direct ہو گا، Live ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں، یہ تو ہمارا قانون یہ ہے کہ Recorded ہی ہوتا ہے۔ میں نے کہا پھر میں نہیں کر سکتا۔ تو اس نے کہا، کمال ہے، ہم سے تو پانچ منٹ کے لیے لوگ منتیں کرتے ہیں۔ پانچ منٹ کے لیے، یہ Advertisement وغیرہ ہوتے ہیں نا، سیکنڈوں کی بات ہوتی ہے، اس میں بہت سارے پیسے لیتے ہیں وہ، آپ کو تو پتہ ہو گا۔ تو بہت سارے پیسے لیے جاتے ہیں۔ تو آپ کو چار گھنٹے میں دیتا ہوں، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کس طرح آپ انکار کر رہے ہیں؟

                میں نے کہا، آپ سے بات عرض کروں؟ کہ میں چار گھنٹے میں تصوف سکھا دوں گا، اور لوگ سیکھ بھی لیں گے۔ لیکن ایک Hidden Message بھی لے لیں گے۔ اور Hidden Message یہ ہو گا کہ دیکھو یہ جو باتیں میں بتا رہا ہوں نا، اس پہ عمل کرنے کی ضرورت نہیں، جیسے میں عمل نہیں کر رہا ہوں تم بھی نہ کرو۔ اب اس کا کون کرے گا؟ کیا فائدہ ہو گا؟ کیونکہ تصوف تو عملی چیز ہے، یہ تو Theoretical تو ہے نہیں۔ تو Practically تو میں نے کام خراب کر دیا، تو Theoretically اگر ہو گیا تو کیا فائدہ؟ خیر اس کے بعد پھر کچھ نہیں کہا۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہیں، جائز اور ناجائز، یہ اپنے طور پر ہیں۔ اس کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔ کیوں فقہ ہے لیکن جائز طریقے سے کوئی ذریعہ ہے، اس پر پابندی نہیں ہے۔ کوئی بھی دین کا شعبہ ہے، اس میں جائز طریقوں کے ذریعے سے، ماشاءاللہ، یعنی ہم جائز طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

                تقدیر کے متعلق۔

                عالم میں جو کچھ بھلا برا ہوتا ہے، سب اللہ تعالیٰ اس کے ہونے سے پہلے، ہمیشہ سے جانتا ہے، اور اس کے اپنے جاننے کے موافق اس کو پیدا کرتا ہے۔ تقدیر اسی کا نام ہے، اور بری چیزوں کے پیدا کرنے میں بھی بہت ساری حکمتیں ہیں، جس کو ہر ایک نہیں جانتا۔

                جس کو ہر ایک نہیں جانتا۔ بھئی دیکھیں، دن معاش کے لیے، اس کا بالکل ضد جو ہے، وہ رات ہے۔ ارام کے لیے۔ اگر رات نہ ہو، تو دن کے بعد ارام کیسے ہو گا؟ یہ Scientifically، ایک ہوتا ہے Regular Reflection اور ایک ہوتا ہے Irregular Reflection ایسے ہے، یعنی باقاعدہ انعکاس اور بے قاعدہ انعکاس۔ باقاعدہ انعکاس ایسے ہے جیس آئینے میں روشنی آپ... آئینے پر اس کو، وہ بالکل جس طرف آئینے کا رخ ہو گا، اسی طرف واپس جائے گا وہ۔ یعنی جو Light ہے۔ اگر Light اس سے Angle پہ پڑتی ہے، تو Angle پہ جائے گا واپس۔ یہ Regular Reflection ہے۔ اس کے اپنے فائدے ہیں۔ کیسے فائدے ہیں؟ یعنی اگر ہم کسی خاص جگہ روشنی پہنچانا چاہتے ہیں، تو اس طرف Angle اس طرح کر لیں گے کہ روشنی ساری کی ساری ادھر جائے گی۔ تو اس سے فائدہ ہو گا۔

                اب لوگ کہیں گے جی regular ہے تو Irregular کی کیا... کیا ضرورت ہو گی؟ تو آپ حضرات جانتے ہوں گے، سورج جب غروب ہو جاتا ہے، سورج جب غروب ہو جاتا ہے، اس کے بعد کچھ تقریباً آدھا، پونا گھنٹے تک روشنی ہوتی ہے، جس میں ایک دوسرے نظر آتے ہیں اور کام شام ہو سکتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے یہ کس وجہ سے ہے؟ یہ Irregular Reflection ہے۔ یعنی جو سورج کی روش... سورج تو غروب ہو گیا، تو جو افق کے اوپر ذرات ہیں، ان ذرات سے روشنی منعکس ہو کر ہماری طرف آ رہی ہوتی ہے۔ تو کوئی ذرہ ادھر بھیج رہا ہے، کوئی ذرہ ادھر بھیج رہا ہے، کوئی ذرہ ادھر بھیج رہا ہوتا ہے، تو ہر طرف Light رہتی ہے۔ ایک طرف نہیں جاتی۔ تو اس کے دو فائدے ہو گئے نا۔ ایک تو غروب کے بعد آپ کو Light مل رہی ہے، دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ Diffused Light ہوتا ہے، جس میں سب لوگوں کو... نظر آتا ہے۔ جب Regular جو ہوتا ہے وہ Intense ہوتا ہے، مطلب ایک Direction میں ہوتا ہے۔ تو اس کے اپنے فائدے ہیں، اس کے اپنے فائدے ہیں۔

                یہ میں نے آپ کو ظاہری چیزوں کی مثالیں دیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں نا، وہ سب کے سب... اس کی اپنی اپنی حکمتیں ہیں۔

                ہماری جو آنکھ ہے نا آنکھ، اس میں دو چیزیں ہیں، Crones اور Rods۔ لاکھوں Crones ہیں اور لاکھوں Rods ہیں۔ جو Crones ہیں، وہ Image بالکل Perfect بناتا ہے۔ جس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی Resolution بہت زبردست ہوتی ہے۔ آپ اس میں اس کو پہچان سکتے ہیں کہ میں کس کو دیکھ رہا ہوں۔ لیکن جو Rods ہوتے ہیں، وہ موجودگی تو Sense کر لیتی ہے، لیکن اس کو پہچان نہیں سکتے۔ مثلاً ادھر کون بیٹھا ہے مجھے نہیں پتہ، لیکن مجھے پتہ ہے کوئی بیٹھا ہوا ہے۔ کوئی بیٹھا ہوا ہے۔ جب تک میں اس کو اس طرح نہ دیکھوں، اور میں اس کو پہچان نہیں سکتا۔ اب اس کا کیا فائدہ ہے، میں بتاتا ہوں۔

                اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے قرآن پاک میں، غَضِّ بَصَر کی۔ آنکھیں نیچے رکھو۔ اب آنکھیں آپ نیچے کریں، تو ٹھوکر لگنے کا اندیشہ۔ ٹھوکر لگنے کا اندیشہ، تو اللہ تعالیٰ ایسا حکم تو نہیں دیتا جس پر عمل نہ ہو سکے۔ تو یہ اوپر، نیچے، دائیں، بائیں Rods ہیں۔ اب میں اس طرف دیکھتا ہوں نا، تو مجھے سانے نظر آتا ہے، اتنے فاصلے پر کوئی... کوئی آ رہا ہے۔ لیکن یہ پتا نہیں کہ کون ہے۔ اب غیر محرم کی موجودگی کا تو احساس ہو گا، لیکن غیر محرم کا پتہ نہیں چلے گا کہ کون ہے اور کیا ہے۔ یہ پتہ نہیں ہو گا۔ تو بچت بھی ہو گئی، اور ماشاءاللہ، گناہ سے بھی بچ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں۔

                اب، ایسے اللہ پاک نے انتظامات کیے ہیں۔ تو ہر چیز کے اندر اللہ کی حکمتیں ہیں۔ ہر چیز کے اندر اللہ کی حکمتیں ہیں۔

                وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔

                کیا تم اپنے اندر جو کچھ ہو رہا ہے اس کو اور... اس پہ غور نہیں کرتے؟

                سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ۔

                ہم تمہیں عنقریب دکھائیں گے آفاق میں اپنی نشانیاں۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب... یعنی آفاق میں بھی ہیں، اور اپنے اندر بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔

                فرشتوں اور جنات سے متعلق۔

                اللہ تعالیٰ نے کچھ مخلوق نور سے پیدا کر کے ان کو ہماری نظروں سے چھپا دیا ہے، ان کو فرشتے کہتے ہیں۔ بہت سے کام ان کے حوالے ہیں، وہ کبھی اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔

                يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔ جو ان کو کہا جائے بس وہی کرتے ہیں، اس کے علاوہ نہیں۔ عزرائیل علیہ السلام کا کوئی نمائندہ آ گیا روح لینے کے لیے، آپ اس کی منت کریں جی خدا کے لیے پانچ منٹ دے دو۔ وہ دے دے گا؟ نہیں، بس حکم، حکم۔ جو حکم ہے، اس میں ذرہ برابر بھی سرتابی نہیں۔

                جب جبرائیل علیہ السلام کو ایک حکم ملا تھا، سبحان اللہ کیا بات ہے۔ ابراہیم علیہ السلام چھری اسماعیل علیہ السلام کی گردن پہ رکھ دی ہے۔ اور اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لی ہے۔ الٹا اس کو لٹا دیا ہے۔

                ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم جبرائیل علیہ السلام کو ہوتا ہے، کہ جنت سے مینڈھا لے کے فوراً ان کے سامنے ڈالو، اور اسماعیل علیہ السلام کو ہٹا دو۔ اب اس Speed کو دیکھو کہ کیا Speed تھی۔ وہ مینڈھا اٹھا کے ان کے سامنے... اور ابراہیم علیہ السلام کو پتہ بھی نہیں چلا۔ ورنہ جلدی میں کچھ آواز تو آتی نا، پتہ بھی نہیں چلنے دیا، اور جو ہے نا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھے کو لٹا دیا گیا، اسماعیل علیہ السلام کو Safe کھڑا کر دیا۔

                تو اب ابراہیم علیہ السلام پہلے چھری چلا رہے ہیں، چھری چل نہیں رہی، کیا بات ہے؟ میں نے تو تیز چھری رکھی تھی، کیا وجہ ہے؟ چلیں اللہ کا حکم۔

                دوسری طرف جس وقت مینڈھا سامنے آ گیا، بس پھر چھری چل پڑی تو بیچارہ مینڈھا کٹ گیا۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا اللہ کا حکم پورا ہوا۔ اور آنکھیں کھولیں۔ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ مینڈھا ذبح ہے۔ اب ابراہیم علیہ السلام حیران، کہ یہ کیا ہوا؟

                اتنے میں وحی آئی، قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا۔ تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھا دیا۔ یہ بات ہے۔

                تو اس کا مطلب یہ ہے کہ، اللہ جل شانہ نے فرشتوں کو ان کاموں کے لیے پیدا کیا ہے اور ہر فرشتے کا اپنا اپنا کام ہے۔ وہ ان کے جو حوالے ہیں، وہ کام بہت اچھی طرح کرتے ہیں۔ اس میں ذرہ برابر بھی کوتاہی ان سے نہیں ہوتی۔

                جس کام میں ان کو لگا دیا ہے، اس میں لگے ہیں۔ ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام، حضرت اسرافیل علیہ السلام، اور حضرت عزرائیل علیہ السلام۔ اور ان سب کے اپنے اپنے کام ہیں۔

                جبرائیل علیہ السلام کا ذمہ داری وحی کا لانے کا۔ اور پھر کچھ خصوصی Assignments جیسے میں نے ابھی بتا دیے۔ وہ ان کے ذمے ہوتے تھے۔

                میکائیل علیہ السلام، ان کے ذمے پہ یہ ہواؤں کا نظام ہے، دریاؤں کا نظام ہے، بارشوں کا نظام ہے۔ یہ سارے نظام اس کے تحت چل رہے ہیں۔ اور اسرافیل علیہ السلام کا تو ایک زبردست Assignment ہے۔ صور پھونکنا۔ وہ پہلا صور پھونکے گا تو سارا کچھ ختم، اور دوسرا پھر اس کے بعد دوبارہ نئی سرے سے... مطلب شروع ہو جائے گا۔ تو یہ صور پھونکنے کا کام جو ہے نا وہ ان کا ہے۔

                اور عزرائیل علیہ السلام کا تو، سب کو پتہ ہے۔ اس میں تو کوئی بات وہ چھپی ہوئی نہیں ہے۔ سب کو اس سے واسطہ پڑتا ہے۔ تو یہ ہے۔

                اللہ تعالیٰ نے کچھ مخلوق آگ سے بنائی ہے، وہ بھی ہم کو دکھائی نہیں دیتے۔ ان کو جن کہتے ہیں۔ ان میں نیک و بد سب طرح کے ہوتے ہیں۔ اکثریت خطرناک لوگ ہیں۔

                جیسے ہمارے انسانوں میں اکثریت کافروں کی ہے۔ Eighty-four percent تقريباً کافر ہیں۔ اور سولہ فیصد مسلمان ہیں، اور سولہ فیصد میں نام کے مسلمان کتنے ہیں اور اصل مسلمان کتنے ہیں وہ تو اللہ کو پتہ ہے۔ تو یہ ہے۔

                ان کی اولاد بھی ہوتی ہے، اور زیادہ اولاد ہوتی ہے۔

                اولاد ان کی بہت ہوتی ہے۔ اور عمریں بھی ان کی زیادہ ہیں۔

                ان میں زیادہ شریر اور مشہور شریر، ابلیس یعنی شیطان ہے۔

                وَكَانَ مِنَ الْجِنِّ... فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهٖ۔ تو یہ جو ہے نا یہ شیطان، یہ بھی جنات میں سے ہے۔ جنات میں بڑے اچھے اچھے لوگ بھی ہیں۔ ادھر بھی جنات ہوں گے نا تو بس ناراض نہ ہو جائیں۔ وہ واقعی صحیح ہے، جنات ہر جگہ موجود ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟

                ان میں بھی ہر مذہب کے لوگ ہوتے ہیں۔ تو جو مطلب دیندار جنات ہوتے ہیں، وہ مسجدوں میں، خانقاہوں میں، مدرسوں میں، ان میں ہوتے ہیں۔ آپ حضرات کو پتہ ہو گا مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد بھی تھے جنات۔ ان کو پڑھاتے بھی تھے ان میں سے ایک شاگرد سے غلطی ہو گئی۔ وہ باقاعدہ Hostel میں تھا۔ تو اس نے بس اپنا ہاتھ بڑھا کے نا بجلی... Off کر لی۔ تو لوگوں نے دیکھا، وہ ڈر گئے کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا بس ذرا تم یہاں سے چلے جاؤ، تمہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہے تم نے قانون کی خلاف ورزی کی۔

                تو یہ ہے کہ مطلب، ہیں، یہ مساجد میں بھی ہوتے ہیں، مدرسوں میں بھی ہوتے ہیں۔ تبلیغ میں بھی چلتے ہیں۔ ان کی اپنی تبلیغ ہے۔ یعنی اپنے جنات کو تبلیغ کرتے ہیں نا۔ تو اصلاحی لائنوں میں بھی ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہوتے ہیں۔

                تو یہ بات ہے کہ یعنی ہر جگہ ان کا اپنا Contribution ہے۔ بلکہ ایک دفعہ کسی طریقے سے Indirectly ہم سے شکایت بھی کی گئی۔ پہنچا دی گئی۔ کس طرح پہنچائی وہ تو ایک الگ قصہ ہے۔ لیکن پہنچا دی گئی۔ کہ ہم انسانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، انسان ہمارے لیے دعا نہیں کرتے۔ ہم انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں، انسان ہمارے لیے دعا نہیں کرتے۔ کیوں؟ تو میں نے جواب بھجوایا، کہ چونکہ ہمیں نظر نہیں آتے۔ اگر نظر آتے ہوتے تو دعا بھی کرتے، یاد بھی ہوتے۔ تو چونکہ نظر نہیں آتے اس لیے مجبور ہیں، معذور ہیں۔ لیکن اس کے بعد میں نے دعا کرنی شروع کر دی۔ ان کے لیے بھی دعا شروع کی، ظاہر ہے ایک فرمائش ہے۔ تو جائز فرمائش ہے نا، ناجائز فرمائش تو نہیں۔ تو ٹھیک ہے۔

                بلکہ وہاں پر مدینہ منورہ میں ایک بزرگ ہیں اس وقت بھی، ان کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی۔ تو انہوں نے مجھے جو نصیحت کی، ان میں یہ بھی تھی، کہ جنات کے لیے بھی دعا کر لیا کرو، یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ چھوٹتے ہی مجھے یہ بات کہی کہ جنات کے لیے بھی دعا کر لیا کرو، یہ بھی اللہ پاک کی مخلوق ہے۔ تو یہ بات صحیح ہے مطلب، اس کا انکار تو نہیں ہے مجھے دو طریقوں سے مجھے گویا کہ بتایا گیا۔ ایک تو اس طرح ہی ان ڈائریکٹ طریقے سے، اور ایک تو ایک حضرت کے ذریعے سے، مطلب Message گویا کہ دلوا دیا گیا کہ، انہوں نے جنات نے ان کو نہیں کہا ہو گا، انہوں نے خود ہی اپنے طور پر کہا ہو گا، لیکن بہرحال بات تو آ گئی نا سامنے، کہ بھئی ان کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔

                آسمانی کتابوں سے متعلق۔

                اللہ تعالیٰ نے بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں آسمان سے جبرائیل علیہ السلام کی معرفت بہت سارے پیغمبروں پر اتاریں، تاکہ وہ اپنی اپنی امتوں کو دین کی باتیں بتائیں۔ ان میں چار کتابیں بہت مشہور ہیں: تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملی، زبور حضرت داؤد علیہ السلام کو ملی، انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ملی، اور قرآن مجید ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو۔ قرآن مجید آخری کتاب ہے، اب کوئی کتاب آسمان سے نہیں آئے گی۔ قیامت تک قرآن ہی کا حکم چلتا رہے گا۔ دوسری کتابوں کو گمراہ لوگوں نے بہت کچھ بدل ڈالا ہے، مگر قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے، اس کو کوئی نہیں بدل سکتا۔

                مطلب یہ ہے کہ آسمانی کتابیں جتنی بھی ہیں سب پر ہمارا ایمان ہے۔ لیکن عمل صرف قرآن پر ہے۔ عمل صرف قرآن پر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک تو قرآن آخری کتاب ہے۔ اس میں سب کتابیں آ گئیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ دوسری کتابوں میں تحریف ہوئی ہے۔

                ایک ساتھی تھے ہمارے، وہ میرے پاس آئے، مجھے کہتے ہیں مجھے انجیل برنباس ملا ہے۔ بہت زبردست کتاب ہے۔ میں نے تو دیکھا تو بالکل لگتا ہے جیسے کسی صوفی کا لکھا ہوا ہو۔ یہ تو بڑی زبردست کتاب ہے، آپ اس کو پڑھیں۔

                میں نے کہا میں اس کو بالکل نہیں پڑھوں گا۔ کہتے ہیں کیوں؟ میں نے کہا دیکھو جس چیز کے بارے میں مجھے سو فیصد یقین ہے کہ یہ صحیح ہے، اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے، تو میں اس کو پڑھوں، یا جس کے بارے میں مجھے شک ہے کہ کوئی بات غلط بھی ہو سکتی ہے؟ تو مجھے دیکھنے میں کافی Tension ہو گی کہ پتا نہیں کون سی بات ایسی غلط ہو گی جس کو میں مان لوں تو میرا ایمان پہ فرق پڑ سکتا ہے یا کوئی عمل خراب ہو سکتا ہے۔ تو اس Tension میں، میں اپنے ذمے کیوں لے لوں؟

                پھر میں نے عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ان کو بتایا۔ کہ عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ تورات دیکھ رہے تھے، تو آپ ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے۔ ان کو نظر آیا تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت پریشان ہوئے، کیونکہ ان کے دوست تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ اے عمر، تیری ماں تجھے روئے، تو دیکھ نہیں رہا کہ آپ ﷺ کا کیا حال ہو رہا ہے؟

                عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہ بھی بہت ڈر گئے۔ اور رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا مسلسل پڑھتے رہے، پڑھتے رہے، پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک Normal ہو گیا۔ فرمایا، عمر، یاد رکھو! اس وقت اگر موسیٰ بھی آ جائیں نا، تو وہ بھی میرے طریقے پہ چلے گا۔

                عیسیٰ علیہ السلام تو آئیں گے نا، وہ تو ہے ہی، وہ تو باقاعدہ اس کے... بتایا گیا۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے فرمایا، موسیٰ بھی اگر آ جائیں، تو وہ بھی میرے طریقے پہ چلے گا۔ تو اس وجہ سے ہمیں کسی اور کتاب کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

                میں نے اپنے شیخ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے، عجیب جرأت کی، میں نے معاف کریں۔ میں نے دو صفحے لکھ دیے، میں نے کہا حضرت میں دین کو یہ سمجھا ہوں، اگر اس میں کوئی آپ تبدیلی کرنا چاہیں تو تبدیلی کر لیں۔ میں نے تو اس دین کو ایسے سمجھا ہے۔ یہ دو صفحے۔ حضرت نے پورا مطالعہ فرمایا، فرمایا ٹھیک ہے۔ اچھا۔ پھر میں نے کہا حضرت آپ کے بعد کیا مجھے کسی اور بزرگ سے اصلاحی تعلق کی ضرورت ہو گی؟ فرمایا نہیں۔

                بس پتہ چل گیا نا، کہ مطلب یہ ہے کہ بس ٹھیک ہے، صحیح ہے۔ مطلب کسی اور کے ساتھ... ٹھیک ہے، انسان، فیض ہر ایک سے حاصل کر سکتا ہے لیکن اصلاح کا تعلق الگ ہوتا ہے۔ اس میں باتیں اور ہوتی ہیں۔ تو اصلاح کا تعلق میرا کسی کے ساتھ پھر نہیں بن سکا، کیونکہ ظاہر ہے حضرت نے فرما دیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ، الحمد للہ جو باتیں میں نے لکھی تھیں اس کی بھی تائید حضرت نے فرمائی کہ بالکل ٹھیک ہے۔

                تو یہ بات ہے کہ قرآن جو ہے، قرآن اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا ہے، آپ ﷺ کے ذریعے سے۔ اور اس کے بعد اللہ پاک نے اعلان کر دیا اس میں کہ بس دین کامل ہو گیا ہے۔ اب اس میں مزید کوئی چیز آگے پیچھے نہیں ہو گی۔ تو لہٰذا ہمیں کسی کسی اور چیز کی ضرورت کیا ہے؟ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔ صاف فرما دیا۔

                معجزات، بدعت، تقدیر، فرشتے، جنات اور آسمانی کتابیں - عقائد