رمضان المبارک کا آخری عشرہ: فضائلِ شبِ قدر، اہمیتِ اعتکاف اور غزوہ بدر کا پیغام

(اشاعتِ اول) جمعہ،30 اپریل، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

17 رمضان کی تاریخی اہمیت اور غزوہ بدر میں 313 صحابہ کرام کی ایمانی استقامت۔

غزوہ بدر کے مقتولین کا سننا اور برزخی حیات کے حوالے سے ایک اہم عقیدہ۔

شبِ قدر کی بے پناہ فضیلت: ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے۔

اعتکاف حصولِ لیلۃ القدر کا یقینی ذریعہ اور روحانی اصلاح کا بہترین موقع ہے۔

اعتکاف میں سلوک کے چار مجاہدات (تقلیلِ طعام، کلام، منام اور اختلاط) کا مسنون حصول۔

ذکر اور درود شریف کا موازنہ اور مشائخ کے تجویز کردہ اعمال کی اہمیت۔

اعتکاف سے محروم افراد کے لیے تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ مغرب و عشاء پڑھنے کی تاکید۔

فرشتوں کا نزول، شبِ قدر کی علامات اور عبادات میں رقتِ قلبی کے اسباب۔

نمازِ جمعہ کو بلا تاخیر اول وقت میں ادا کرنے کی اہمیت اور مستحب طریقہ۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:

﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


بزرگوں اور دوستو! آخری عشرہ ہے۔ دوسرے جمعے کا پتا نہیں کہ وہ عید ہے یا روزہ ہے۔ لہٰذا اس میں بعض بنیادی باتیں ان شاء اللہ آپ کے سامنے رکھی جائیں گی۔ اگر اللہ پاک نے دوسرا جمعہ دے دیا تو ان شاء اللہ اس پر کچھ عرض کر لیں گے مزید۔ لیکن چند بنیادی باتیں جو اکثر آج کل نہیں کی جاتیں، جس کی وجہ سے کچھ کمی رہ جاتی ہے ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے میں۔


اللہ جل شانہٗ ہادی ہے۔ ہدایت اللہ پاک دیتے ہیں اور اللہ پاک نے ہدایت کے سارے نظام بنائے ہوئے ہیں۔ اور اس ہدایت کے نظام کے اپنے اپنے اسباب ہیں۔ ان اسباب کو جاننا ہدایت کو طلب کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک شخص حج پر جانا چاہتا ہے اور passport نہیں بنا رہا تو کیا وہ حج پر جانا چاہتا ہے؟ نہیں بنا رہا تو نہیں جانا چاہتا۔ تو اس وجہ سے جو ہدایت کے اسباب کو اختیار نہیں کرتا اور ہدایت چاہتا ہے تو یہ محض تمنا ہے ارادہ نہیں ہے۔ تمناؤں سے کام نہیں ہوا کرتے، کام ارادے سے ہوا کرتے ہیں۔ تو ارادے میں اسباب کا اختیار کرنا یہ لازمی امر ہے۔

ابھی میں نے آپ کے سامنے چند آیاتِ مبارکہ تلاوت کی ہیں جس میں انتہائی وضاحت کے ساتھ کچھ اہم باتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہنچائی ہیں۔ سب سے پہلی بات، اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾۔ اے ایمان والو! خطاب کس سے ہے؟ ایمان والوں سے ہے۔ اے ایمان والو! تمہارے اوپر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے۔ ہاں تمہارے اوپر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔

آپ ﷺ نے جو خطبہ دیا تھا شعبان کے اخیر میں، اس میں ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ﴾ فرمایا تھا۔ یہاں پر ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ہے۔ رمضان شریف کی برکات سارے لوگوں کو ملتی ہیں جو اس میں کچھ حصہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ حاصل کر سکتے ہیں ایمان لا کر۔ لیکن یہ جو بات ابھی بتائی، اس کے لیے بنیاد ایمان ہے۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ﴾ تم پر رمضان شریف کے روزے۔ اب اس میں ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ﴾ تو نہیں فرمایا جا سکتا تھا نا، کیونکہ باقی لوگوں پر تو روزے فرض نہیں ہیں۔ تو روزے کن پر فرض ہیں؟ اہل ایمان پر فرض ہیں۔ اور پچھلے اہل ایمان پر بھی فرض تھے جو پچھلے اہل ایمان گزرے ہیں، ان پر بھی فرض تھے۔ کیونکہ ان کو بھی تقویٰ کی ضرورت تھی، ہمیں بھی تقویٰ کی ضرورت ہے۔ بغیر تقویٰ کے انسان وہ چیز حاصل نہیں کر سکتا جس کے لیے حاصل کرنے کے لیے ہم یہاں آئے ہیں۔

تو اللہ پاک نے فرمایا تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔ پس پتا چلا کہ روزے اور تقویٰ کو حاصل کرنے میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جو روزہ رکھے گا اس کو تقویٰ حاصل ہوگا۔ جتنا صحیح روزہ رکھے گا اتنا زیادہ تقویٰ حاصل ہوگا۔ جتنا زیادہ صحیح روزہ رکھے گا اتنا زیادہ تقویٰ حاصل ہوگا۔ اس کی تشریح ذرا اگلی آیت کے ساتھ ملا کر کی جا سکتی ہے۔

اللہ پاک نے فرمایا ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾ اللہ پاک نے نفس کی قسم کھا کر یہ ارشاد فرمایا ہے اور بھی چھ قسمیں اور ہیں۔ ان کو کھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ اس نفس کے اندر، میں نے اس نفس کے اندر میں نے دو چیزیں رکھی ہیں۔ ایک اس کا فجور اور ایک اس کا تقویٰ۔ لہٰذا فجور یہ نفس کے اندر موجود ہے۔ جس کے لیے یوسف علیہ السلام کی زبانی کہلوا دیا گیا: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي﴾۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کی زبانی کہلوایا گیا کہ نفس سے کوئی بری نہیں ہے۔ نفس سے کوئی بری نہیں ہے اور بے شک جو نفس امارہ ہے وہ تو برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ پس پتا چلتا ہے کہ برائی کی طرف مائل کرنا نفس کا خاصہ ہے۔ لیکن ان سے بچنا تقویٰ کا دروازہ ہے۔ جو اس نفس کے تقاضوں کی مخالفت کرے گا وہ متقی بنے گا۔ جیسے اندھیرا اور روشنی یہ آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یا اندھیرا ہوگا یا روشنی ہوگی۔ اگر اندھیرا ہے تو روشنی نہیں، اگر روشنی ہے تو اندھیرا نہیں ہے۔ ان دو باتوں میں سے ایک ہی ہو سکتا ہے۔

تو اس وجہ سے جس وقت انسان کے نفس کے اندر کوئی تقاضا فجور کا پیدا ہوا۔ کوئی تقاضا فجور کا پیدا ہوا۔ پڑے تو ہیں، لیکن کھڑا ہو گیا، فعال ہو گیا، activate ہو گیا۔ کیسے activate ہوتے ہیں، بتاتا ہوں۔ میرے نفس کے اندر کچھ فجور ہیں۔ پڑے ہوئے ہیں۔ اب میں الحمدللہ اعتکاف میں ہوں، اس سے بچا ہوا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے۔ ماحول نہیں ہے برائی کا، لہٰذا بچے ہوئے ہیں۔ لیکن یہی نفس لے کر جو اس وقت میرے پاس ہے، میں کسی برائی کی جگہ پہ چلا جاؤں، جہاں پر ان برائیوں کے کرنے کے سامان ہیں۔ اب کیا میرا نفس ایسا رہتا ہے یا نہیں رہتا؟

اب اگر میرا نفس پھر بھی خاموش ہے تو اس کی تربیت ہو چکی ہے۔ اور اگر میرا نفس شور کرتا ہے کہ اب کرو وہ، تو فجور، نہیں کریں گے تو تقویٰ حاصل۔ جس درجے کا فجور کا تقاضا ہوگا اس کو نہیں کرنے سے اس درجے کا تقویٰ حاصل ہوگا۔ یہ وہ ایسی چیز ہے جو مانگی نہیں جا سکتی لیکن دی جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بچہ کسی کا نابالغ فوت ہو جائے۔ اس کے لیے بہترین شفیع ہے۔ لیکن کوئی اس کی دعا کر سکتا ہے کہ یا اللہ میرے بچے کو مار دے نابالغی میں؟ گناہ ہے اگر کوئی کرے گا تو گناہ ہے۔ لیکن اگر مل جائے تو سعادت ہے۔ مل جائے تو سعادت ہے۔ اس لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا یا اللہ میرے نفس کے اندر فجور ڈال دے، یہ دعا نہیں کر سکتا۔ کرے گا تو گناہگار ہو جائے گا۔ لیکن جو ہیں، ان کا مقابلہ کر لے اور تقویٰ حاصل کر لے۔ اگر زیادہ زور والا ہے تو زیادہ تقویٰ حاصل کریں گے۔ کم زور والا ہے تو کم درجے کا تقویٰ حاصل ہوگا۔

لوگ بہت تنگ ہوتے ہیں، نوجوان بالخصوص میرے پاس بھی آتے ہیں، کہتے ہیں جی یہ ہو رہا ہے، یہ ہو رہا ہے۔ یہ چیز کب ختم ہوگی؟ میں نے کہا اس کو ختم کرنے کا نہ سوچو، اس پر عمل نہ کرنے کا سوچو۔ یہ جو آپ کی تربیت ہے وہ اس پر عمل نہ کرنے کی ہے۔ کہ آپ اس کے اوپر بار بار عمل نہیں کرتے تو یہ deactivate ہو رہا ہوتا ہے۔ یعنی کم فعال ہو رہا ہوتا ہے۔ جس طرح آپ اس کی خلاف کریں گے وہ کم فعال ہو جائے گا، پھر کم فعال، پھر کم فعال، پھر کم فعال، پھر کم فعال، حتیٰ کہ نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ اس پر عمل کرتے ہیں، مزید فعال۔ اور عمل کرتے ہیں، مزید فعال۔ اور عمل کرتے ہیں، مزید فعال۔ اور عمل کرتے ہیں، مزید فعال۔ اس کی ترتیب ایسی اللہ نے، لہٰذا اگر کوئی کہتا ہے کہ میں اس کا زور نکال لیتا ہوں پھر خود ہی ٹھیک ہوگا، وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، وہ نہیں ہوتا یہ بڑھ جاتا ہے۔

تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ رہی ہے، تو جو تقویٰ ہے، وہ فجور کی ضد ہے۔ اور جس نے تقویٰ حاصل کیا، تو جس درجے کا تقویٰ حاصل کیا، وہ اس درجے کا ولی اللہ ہے۔ ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ جو ایمان کے ساتھ تقویٰ اختیار کر لیتے ہیں، وہ کیا ہیں؟ وہ اللہ کے ولی ہیں۔ کتنے بڑے ولی ہیں؟ ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ پس تقویٰ کو بڑھاؤ تو ولایت بڑھ جائے گی۔ تقویٰ کو بڑھاؤ تو ولایت بڑھ جائے گی۔

اس میں ایک عجیب بات سامنے آگئی۔ پہلے اس طرف ذہن نہیں گیا تھا، پہلی دفعہ ذہن گیا ہے اس کی طرف۔تقویٰ نفس کی مخالفت سے پیدا ہوتا ہے۔ یا گویا کہ نفس کی تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے نفس کو میدان میں لائے بغیر کیا تقویٰ کا سوچا جا سکتا ہے؟ یہ نفس مدنظر نہ ہو اس کی اصلاح تو کیا تقویٰ حاصل کیا جا سکتا ہے؟ ناممکن ہے۔ اللہ اکبر! کیا کیا باتیں ہو رہی ہیں جی؟ اللہ پاک ہمیں معاف فرمائے۔

تو اب آج کل مراقبے کے ذریعے سے نفس کی اصلاح ہو رہی ہے۔ مراقبے کے ذریعے سے۔ مراقبہ تو ایک چیز کی تیاری کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر کوئی کام مشکل ہے آپ کے لیے، آپ اپنا ذہن بناتے ہیں۔ میرے depression کے بعض ساتھی ہیں نا، بعض لوگوں کو depression ہوتا ہے۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ جب ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو بڑا اپنا ذہن بنا کے آتے ہیں کہ اس میں یہ فائدہ ہوگا، اس میں یہ فائدہ ہوگا، اس میں یہ فائدہ ہوگا۔ بہت مشکل سے ہم اپنے آپ کو تیار کر کے آپ کے ہاں تک لاتے ہیں۔ یہ بیچاروں کا ایک مسئلہ ہے۔ یہ ڈاکٹر حضرات بیٹھے ہوں گے، وہ بتا دیں گے depression کیا چیز ہے۔ depression میں یہ چیزیں ہوتی ہیں، بڑی ہمت لگانی پڑتی ہے۔تو وہ مجھے کہتے ہیں۔


اب یہ ہے کہ یہ جو مراقبہ ہے کس چیز کے لیے ہے؟ آپ سوچیں گے، غور کریں گے، اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو جوڑیں گے، اللہ کی محبت کو بڑھائیں گے، تاکہ میں اللہ کی نافرمانی نہ کروں، اب اللہ کی نافرمانی نہ کروں تو کیسے کروں؟ میں اپنے نفس کی اصلاح کروں، چلو اب نفس کی اصلاح میں جُت گئے۔ یہ ہے مراقبے کا کمال، یہ بغیر مراقبے کے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن آپ چاہیں کہ مراقبہ میں، بغیر نفس کے جو سلوک طے کیے، بغیر میں مراقبے کے ذریعے سے نفس کی اصلاح کر لوں، یہ نظام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ نظام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ہر چیز کا اپنا اپنا طریقہ ہے۔ ہر چیز کا اپنا اپنا طریقہ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟

مثلاً ایک screw driver ہے، اس سے آپ nut کس رہے ہیں۔ اور وہ electrical ہے۔ تو اس میں جو electricity آتی ہے، اس کے اندر جو power generate ہوتی ہے، power سے وہ مڑتا ہے، مڑنے کے ساتھ جو ہے نا، وہ screw tight ہوتا ہے۔ تو آپ صرف power لے آئیں، بجلی کا، اور اس کے اوپر رکھ لیں، اس screw کے اوپر، تو ٹائٹ ہو جائے گا؟ اگر کوئی ہو سکتا ہے، مجھے کوئی انجینئر بتا دے، ایسا کوئی ہے؟ کہ آپ جو بجلی کا تار ہے، وہ اس کے اوپر رکھ لیں، اس screw کے اوپر، اور screw tight ہو جائے؟ بھئی screw tight ہوگا screw driver سے۔ screw driver کو طاقت ملے گا بجلی سے۔ بجلی بھی ضروری ہے، لیکن screw driver بھی ضروری ہے۔ بغیر screw driver کے آپ screw کو ٹائٹ نہیں کر سکتے۔ یہ میں نے آپ کو آسان، سمپل ترین مثال دی ہے۔

تو یہ جو سلوک ہے، وہ screw driver ہے آپ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اس کو طاقت کس سے مل رہا ہے؟ ہاں، جذب سے مل رہا ہے۔ power، میرا جذب سے مل رہا ہے۔ تو power ضروری ہے، لیکن power کو کیا کرنا ہے مجھے بتاؤ؟ اس کا استعمال کیا کرنا ہے؟ تو اس کا استعمال یہی ہے کہ آپ اس کو سلوک کے لیے استعمال کر لو۔ اس کے ذریعے سے آپ جب سلوک طے کر لیں گے، پھر ماشاءاللہ آپ کا نفس tame ہو جائے گا، آپ کا نفس اس کی تربیت ہو جائے گی، پھر سبحان اللہ۔

یہ باتیں آج کل بہت ضروری تھیں، تبھی ہو رہی ہیں۔ کیونکہ آج کل ہمارا چونکہ فیلڈ ہے، مجبوری ہے، ہمیں کرنی پڑتی ہے۔ 35، 35 اسباق لوگ طے کرتے ہیں، اور سلوک کا ذکر تک نہیں ہوتا اس میں۔ کہ سلوک کے مقامات کون سے ہیں، ان کو کیسے کرنا ہے؟ اور 35 اسباق طے کر کے پھر سمجھ بھی لیتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ حاصل ہو گیا۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ ایسے موقع پہ ایک شعر فرمایا کرتے تھے فارسی کا ہے۔

خواجہ پندارد کہ مقصود حاصل است

حاصلِ خواجہ بجز پندار نیست

خواجہ کہتا ہے کہ مجھے مقصود حاصل ہے۔ حضرت فرماتے ہیں اس شعر میں کہ خواجہ کو صرف اس دعوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہے۔ حاصلِ خواجہ بجز پندار نیست۔ یہ ایسی چیز ہے آج کل یہ مسئلہ ہے۔ کہ اس کو ہمیں settle کرنا ہے۔

بغیر اس کے نہیں ہو سکتا۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اپنے زبان میں، ظاہر ہے ہر ایک بزرگ کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ ایک ہی چیز کو لوگ کئی طریقوں سے ثابت کر سکتے ہیں، استعمال کر سکتے ہیں، وہ بس سمجھا سکتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا تین چیزیں ہیں: دل ہے، نفس ہے، عقل ہے۔ دل ہے، نفس ہے، عقل ہے۔ دل کا اپنا دائرہ کار ہے۔ نفس کا اپنا دائرہ کار ہے۔ عقل کا اپنا دائرہ کار ہے۔ لیکن ان تینوں کی اپس میں ایسی، گویا کہ interaction ہے، ایسا باہمی تعامل ہے کہ ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔

حضرت نے مثال دی ہے اس دور کے لحاظ سے، کہ جیسے جانور اپنے سینگوں کو اڑا دیتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ، ایک اس کو دباتا ہے، دوسرا اس کو دباتا ہے۔ اس طرح دل نفس کو متاثر کرتا ہے، نفس دل کو متاثر کرتا ہے۔ ہاں دل عقل کو متاثر کرتا ہے، عقل دل کو متاثر کرتا ہے۔ عقل نفس کو متاثر کرتا ہے، نفس عقل کو متاثر کرتا ہے۔ یہ آپس میں چیزیں چل رہی ہوتی ہیں۔ تو اس میں بہت غور و خوض کے ساتھ تربیت ہوتی ہے۔ یہ تربیت کرنا کوئی گپ نہیں ہے۔ یہ بہت غور و خوض کرنا پڑتا ہے کہ کون سا کام کیا کر رہا ہے؟ جیسے ڈاکٹر لوگ جانتے ہیں کہ پھیپھڑے کیا کر رہے ہیں، دل کیا کر رہا ہے، دماغ کیا کر رہا ہے، گردے کیا کر رہے ہیں۔ جو دوائی دیتے ہیں، وہ ایسے دیتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کے تعامل ہمارے حق میں ظاہر ہو جائے۔ یہی کرتے ہیں نا؟

تو اسی طریقے سے حضرت نے فرمایا دل کا جو میدان ہے وہ کیا ہے؟ دل کا میدان جذبات ہے۔ ایمان ہے۔ کفر ہے۔ محبت ہے۔ نفرت ہے۔ یہ سب دل کا میدان ہے۔ یہ آپ نفس پہ نہیں لا سکتے۔ یہ دل کا میدان ہے۔ نفس کے اندر خواہشات ہیں، احساسات ہیں، ضروریات کا۔ اور مطلب یہ ہے کہ اپنی خود غرضی، کہ اس نے اپنے مقاصد کو پورا کرنا ہے، خواہشات کو پورا کرنا ہے، یہ نفس کے اندر موجود ہے۔ عقل یہ سوچ، بچار، analysis، تجزیہ، ان چیزوں پر مامور ہے، علم کو حاصل کرنے پر مامور ہے۔ یہ تمام کام کس چیز کی، کس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔

اچھا اب دیکھ لیں کمال کی بات ہے، کیسی عجیب بات ہے۔ ایمان دل میں آتا ہے۔ ایمان دل میں آتا ہے، کفر بھی دل میں ہوتا ہے۔ عقل معلومات کی بنیاد پر نامعلوم کو جانتا ہے۔ کچھ معلومات کی بنیاد پر نامعلوم کو جانتا ہے۔ اور کچھ اندازوں کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ کچھ تجزیوں کو بنیاد بنا کر فیصلے کرتا ہے، یہ عقل کا کام ہے۔ عقل کا کام اس طرح چلتا رہتا ہے۔

اب جس کے دل میں ایمان نہ ہو۔ تو مجھے بتاؤ، وہ کیسے ایمان سے متاثر ہوگا، ایمانی اعمال سے متاثر ہوگا؟ لہٰذا کافر کا جو عقل ہے، اس کو تو ایک طرف کر لو، وہ تو سارا معاملہ اس کا دنیا کے مطابق چلے گا۔ یا اس عقیدے کا، جس عقیدے کا وہ ہے۔ جس عقیدے کا وہ ہے، اس کے مطابق چلے گا۔ جیسے ہندو ہیں، تو ہندو کے مطابق اس کا عقیدہ چلے گا۔ توہم پرستی ان کے اندر بہت ہوگی کیونکہ ہندؤوں میں ہے۔ وہ زائچہ بناتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اور جب سفر بھی کرتے ہیں تو یہ ساری چیزیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر تو یہ چیزیں تو ہیں۔ تو لہٰذا اس کا عقل اس کے لیے استعمال ہوگا۔

بہترین سے بہترین زائچہ بنا دے گا۔ اس کے لیے computer calculation کر دے گا۔ مجھے بھی ایک دفعہ کسی نے کہا تھا، یہیں پر ایک صاحب آئے، ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ تو مجھے ٹیلی فون کیا، کہتے ہیں: "شاہ صاحب، آپ کی کتاب پر میں نے جو ہے نا وہ جنگ اخبار میں وہ لکھا ہے، اور بہت عمدہ کتاب ہے، آپ سے ملاقات کب ہوگی؟" میں نے کہا تو بڑا ہمارا قدردان نکلا، تو چلو ان سے ملاقات کر لیتے ہیں۔ تو گوالمنڈی میں تھے، تو گوالمنڈی سے ہماری گاڑی روز گزرتی تھی ہمارے دفتر کی۔ تو میں نے کہا، "بھئی ایک دن میں وہیں اتر جاؤں گا، تو آپ مجھے لے لینا، پھر ملاقات ہو جائے گی۔" کہتے ہیں، "یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔" بہرحال یہ ہے کہ، گوالمنڈی میں اتر گیا، اس نے مجھے جگہ بتائی تھی، وہاں پر پہنچ گئے، مجھے گھر لے گئے۔ ایک کرنل صاحب کو بھی دعوت دی تھی، وہ بھی پہنچ گئے تھے۔ بہت تپاک سے ملے اور پرتکلف عصرانہ دیا تھا۔

پھر اس کے بعد باتوں باتوں میں کہا کہ اصل میں، میں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ہندوؤں کی جو کتابیں ہیں، اس میں سے یہ جو جوتش کا جو علم ہے، اس کی calculations کے models ہیں۔ تو چونکہ آپ کا فلکیات سے تعلق ہے، لہٰذا اگر آپ اس کو computerize کر لیں، ہاں، اس کے لیے program لکھ دیں تو اس سے بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ اس سے بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ کے پاس اس کی کتابیں ہیں؟ کہتے، ہاں۔ میں نے کہا وہ دے۔ میں نے کہا یہ کتابیں تو اس سے ہتھیا لوں نا، تاکہ وہ اوروں کو تو خراب نہ کرے۔ کتابیں میں نے اس سے لے لیں۔ پھر میں نے پکڑائی نہیں دی۔ میں نے کہا یہ بیچارہ خوامخواہ اپنے آپ کو خراب کرے گا اور دوسروں کو بھی خراب کرے گا۔ ہندوؤں کی کتابیں مسلمانوں کو دے رہا ہے تو غلط بات نہیں ہے؟ ہاں، تو بہرحال، میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو بات ہے کہ جو عقیدہ جس کا ہوگا، اس کے عقیدے کے مطابق اس کا عقل استعمال ہوگا۔

پتا چلا کہ دل عقل کو متاثر کر رہا ہے۔ اب دل میں جذبات ہوتے ہیں۔ جذبات ہوتے ہیں۔ اب مثال کے طور پر، مسلمانی کے جذبات لے لو۔ اب میں کہتا ہوں، جی بس جہاد کر لوں، یہ کر لوں، وہ کر لوں، فلاں کو ماروں، فلاں کو ماروں۔ اب عقل اس کو سمجھائے گا کہ کس وقت کیا کرنا ہے؟ اپنے آپ کو مارنا صرف کام نہیں ہے۔ بلکہ اپنے مرنے سے کچھ کام بھی نکالنا ہے۔ تو اس کے لیے کیا کیا جائے؟ اس کے لیے کون بتائے گا؟ عقل۔ یہ عقل کی ڈیوٹی ہے۔ عقل بتائے گا، اور جو عقل کو نہیں خاطر میں لائے گا، وہ اپنے آپ کو ضائع کر دے گا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے نا؟ وہ اپنے آپ کو ضائع کر دے گا۔ تو اس طریقے سے یہ ہر چیز کا اپنا اپنا domain ہے۔

نفس جو ہے، نفس کا کام خواہشات ہے۔ اس کی مثال بچے کی طرح ہے۔ بچہ روتا ہے نا، آپ کہتے ہیں یہ لے لو، کہتا ہے نہیں، میں نہیں لیتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں نا یہ لے لو، کہتے ہیں نہیں میں، میں یہ لیتا ہوں۔ اڑ جاتا ہے۔ تو نفس بھی اس قسم کی بات ہے، آپ بہت اور ادھر ادھر کی چیزیں لاتے ہیں، وہ کہتا ہے، نہیں، مجھے تو یہ چاہیے۔ اس کی سوئی جس چیز پہ اٹکی ہوتی ہے۔ تو یہ جو نفس ہے، یہ شرارت جو کرتا ہے، اپنے خواہشات کی وجہ سے، اس کو ٹالنا بھی عقل کا کام ہے۔ جیسے بچوں کو ٹالا جاتا ہے نا، اس کو ٹالنا بھی عقل کا کام ہے۔ اور تربیت کرنا بھی، اس کو تربیت میں دے دیا جائے کسی کا۔

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے خانقاہ میں ایک عورت آئی، اور اپنا بچہ ساتھ لائی تھی۔ کہ حضرت میں اپنا بچہ آپ کے حوالے کرتی ہوں، آپ ان کی تربیت کریں۔ فرمایا ٹھیک ہے۔ خانقاہ میں داخل کر لیا۔ کیا بات ہے جی، لوگ خانقاہوں میں بچوں کو داخل کرتے تھے۔ اب کیا ہوتا ہے؟ خانقاہوں سے بھگاتے ہیں۔ ہے نا یہ؟ اچھا، حضرت نے داخل کر لیا۔ تو اگلے چند دنوں کے بعد عورت آئی تو دیکھا کہ اس بچے کے سامنے، بچہ تو نہیں تھا، مطلب نوجوان تھا لیکن اس کے لیے تو بچہ تھا۔ وہ خشک روٹی پڑی ہوئی ہے، پانی کے ساتھ کھا رہا ہے۔ اور حضرت کے سامنے مرغِ مسلم ہے۔ تو اس نے کہا حضرت! یہ ایسا تو نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت نے فرمایا کہ، دیکھو، میں اسی مرغِ مسلم کے کھانے کے قابل بنا رہا ہوں۔ جیسے امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرمایا تھا نا، کہ میں ان کو کس چیز کا، فالودہ؟ ہاں، بالکل، پستہ کے تیل کا فالودہ کھلانے کے لیے تیار کر رہا ہوں۔ تو فرمایا میں اس کے مرغ مسلم کے لیے اس کو تیار کر رہا ہوں۔ کیا بات ہے؟ مثلاً آپ کا معدہ خراب ہے۔ وہ گوشت ہضم نہیں کر سکتا۔ اور ڈاکٹر آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ خود گوشت کھا رہا ہے اور آپ کو نہیں کھانے دے رہا۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ ڈاکٹر صاحب آپ خود تو کھا رہے ہیں، اور مجھے نہیں کھانے دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہے گا بھئی میں تیرے علاج ہی جو کر رہا ہوں نا، تجھے اس گوشت کے کھانے کے قابل بنا رہا ہوں۔ اگر ابھی سے تو نے گوشت کھا لیا، تو بس پھر ہمیشہ کے لیے اس سے چھٹی ہو جائے گی۔ لہٰذا میں آپ کو اس کے قابل بنا رہا ہوں۔

تو جو نفس ہے، وہ کبھی بھی شکر نہیں کرتا۔ وہ حق جتاتا ہے کہ میرا یہ حق ہے۔ تمام دولت پر میرا حق۔ تمام حُسنوں پر میرا حق۔ تمام زمینوں پر میرا حق۔ عزتوں پر میرا حق۔ یہ نفس کی خواہش ہے، حق جتاتا ہے۔ تو وہ شکر کیسے کرے گا؟ بیمار ہے نا، بیمار ہے۔ اب اگر اس کو صحت حاصل ہو جائے، اور وہ نعمتوں کو چھوڑنا سیکھ لے، نعمتوں کو چھوڑنا سیکھے تربیتاً۔ تو جس وقت نعمت نہیں ہوگی، تو صبر اس کو آجائے گا۔ کیا خیال ہے؟ جس وقت نعمت نہیں ملے گی تو کیا ہوگا؟ صبر آجائے گا۔ اور جب نعمت ملے گی تو کیا آ جائے گا؟ شکر آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو اس کے قابل بنا لیا نا۔ اب اگر اس کو وہی دے دو، اور جو مانگتا ہے تو کب اس کو یہ چیز آئے گی؟ سلیقہ کب آئے گا؟

تو کیا خیال ہے یہ مراقبات سے یہ چیز حاصل ہو سکتی ہے؟ مراقبہ سے تو آپ کو ایک کیفیت حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ والی بات تو نہیں ہو سکتی کہ نفس آپ کا ماننا شروع کر لے، نفس آپ کا ماننا شروع کر لے۔ نفس آپ کا ماننا تب شروع کرے گا جب نفس کو ہی یہ ساری چیزیں کراؤ گے۔ کیوں؟ بچہ کوئی فلسفہ نہیں جانتا۔ بچہ کوئی نصیحت نہیں سنتا۔ بچہ اپنا جو مطلوب ہے وہ چاہتا ہے۔ تو تربیت اگر کر لے، سبحان اللہ، پھر ٹھیک ہے۔ پھر سب کچھ مانے گا۔ تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ نفس کی تربیت۔۔۔ نفس کا تعلق بھی قلب کے ساتھ ہے، نفس کا تعلق بھی عقل کے ساتھ ہے۔ عقل کی جب اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی، تو نفس سے کام لے رہا ہوتا ہے، یعنی نفس کی خواہشات پہ چل رہا ہوتا ہے۔ نفس کی خواہشات پہ چل رہا ہوتا ہے۔

اب دیکھو، دودھ میں پانی ڈالوں۔ دودھ بڑھ جائے، میرے پیسے بڑھ جائیں، یہ ہے نفس کی خواہش۔ لیکن اگر میرا دل مومن ہے۔ اور اس کو معرفت حاصل ہے۔ اور ملائے اعلیٰ کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا ہے۔ اس کا جو قلب ہے، وہ روح بن گیا ہے۔ ایسی صورت میں اس کو جب پتا ہوگا، کہ یہ دودھ، میں جب بیچوں گا، اس سے جو پیسہ آئے گا، حرام ہوگا۔ حرام کی وجہ سے میں جہنم میں جلوں گا۔ تو عقل ٹھکانے آجائے گی نا؟ لیکن عقل ٹھکانے آجائے گی، نفس بھی ٹھکانے پہ ہونا چاہیے ورنہ پھر اس کا جو شر ہے وہ تو پھر جاری رہے گا نا۔ تو نفس کو اپنے کم سے کم پر قناعت کے اوپر تیار کرنا ہے۔ مقامِ قناعت جب تک طے نہیں ہوگا، اس شر سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ مقامِ قناعت نفس کے سلوک میں سے ہے، یہ قلب کے سلوک میں سے نہیں ہے۔

زہد بھی نفس کے مقام سے ہے، یہ قلب کے مقام سے نہیں ہے۔ لہٰذا جب تک آپ کو زہد حاصل نہیں ہے، قناعت حاصل نہیں ہے، آپ کیسے اس چیز سے بچ سکتے ہیں؟ theoretically بچ سکتے ہیں۔ practically نہیں۔ practically آپ اس میں involve ہوتے رہیں گے۔ اور پھر روتے رہیں گے۔ پھر روتے رہیں گے۔ روتے روتے گناہ کرنا، یہ بن جائے گا کام۔ روتے روتے گناہ کرنا، یہ بن جائے گا کام۔ اور اس کے ذریعے سے ہی اپنے آپ کو بزرگ سمجھے گا، کہ میں رو جو رہا ہوں۔ میں رو جو رہا ہوں۔ ہاں، تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ جب تک اپنے آپ کو کسی اللہ والے کے ہاتھ میں نہیں دیں گے، وہ آپ کی ان تین چیزوں کو اپنی اپنی جگہ پر نہیں لائیں گے، اعتدال پر نہیں لائیں گے، اس وقت تک یہ ساری باتیں theoretical ہیں۔ practical نہیں ہیں۔

تو بات ذرا لمبی ہو گئی، لیکن میں نے اس سے مقصد یہ نکالنا چاہا، کہ ﴿فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو رذائل سے پاک کر دیا۔ یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو اسی حال پہ چھوڑ دیا۔

جب یہ والی بات سامنے آگئی، تو جس وقت انسان کا نفس رذائل سے پاک ہو جاتا ہے، تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے، وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ مکمل کامیابی کی بشارت اس کو ملی ہے۔

اب ذرا تھوڑا سا اس فیصلے کو کرنا ہے، کہ لوگ جو ان چیزوں کو نہیں مانتے، یا نہیں جانتے، وہ کہتے ہیں، جی حدیث شریف میں تو دل کا ذکر ہے۔ یہ سوال مجھ پہ کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ انگلینڈ سے کیا گیا، اور ایک دفعہ ادھر میں بیان کر رہا تھا تو مجھ پر بیان کے دوران ہی سوال کیا گیا۔ کہ آپ کیا کہتے ہیں، حدیث شریف تو دل کے بارے میں ہے، کہ انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جائے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جائے۔ اور آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔ تو آپ نے نفس کی باتیں کہاں سے شروع کی ہیں؟ میں نے کہا، میں نے قرآن سے لی ہیں۔ قرآن سے ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾، میں قرآن سے کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہا، اب ایک سوال تیسرا اٹھتا ہے۔ کہ قرآن یہ کہتا ہے، حدیث یہ کہتا ہے، تو کون سا ٹھیک ہے؟

سوال آ سکتا ہے؟ بھئی، باتیں دونوں ٹھیک ہیں۔ قرآن کیسے غلط کہہ سکتا ہے، اور حدیث میں کیسے غلط بات آ سکتی ہے؟ باتیں دونوں ٹھیک ہیں۔ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں کیسے ٹھیک ہیں؟ دونوں کیسے ٹھیک ہیں؟ تو دونوں ایسے ٹھیک ہیں، اس وقت تک دل کی مکمل اصلاح نہیں ہو سکتی، جب تک نفس کی بھی اصلاح نہ ہو چکی ہو۔ کیونکہ نفس کی شرارت کا جو، اس کے لیے جو کھڑکی کھلی ہے، اس کھڑکی سے وہ شرارت کرتا رہے گا، آپ کا دل بار بار خراب ہوگا۔ اس کی مثال میں ایسے دیتا ہوں، جیسے حوض ہو۔ اس حوض کو مختلف نہریں آ رہی ہوں۔ اس نہروں سے گند آ رہا ہو۔ جب تک آپ ان نہروں کو گند سے صاف نہیں کرتے اور وہ نہر گند اس میں آ رہا ہو یعنی حوض میں، تو آپ اس حوض کو پاک کر سکتے ہیں؟ اس حوض کو پاک نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں گند مسلسل آ رہا ہے۔

تو اس کے لیے صاف کرنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے، کہ پہلے نہروں کو صاف کر لو۔ پھر حوض کے اندر جتنا آیا ہے اس کو صاف کر لو۔ ایک ہی ہلے میں ہو جائے گا سارا کچھ۔ اور اگر آپ یوں نہیں کرتے تو پھر حوض کو صاف کرتے رہو، گندا ہوتا جائے گا۔ حوض کو صاف کرتے رہو، گندا ہوتا جائے گا۔ یہی بات ہے نا؟ یہی بات ہے، چلتی رہے گی بات۔ تو یہ والی بات ہے کہ ہمیں ترتیب ایسی بنانی ہے کہ پہلے پہلے channels کو۔

اس وجہ سے قدرتی طریقہ پہلے کیا تھا؟ پہلے نفس کی اصلاح ہوتی تھی۔ پرانا طریقہ کیا تھا؟ نفس کی اصلاح پہلے ہوتی تھی، دل کی اصلاح بعد میں ہوتی تھی۔ ہمارے بڑے بزرگ جو تھے وہ، وہ جس وقت کوئی بیعت ہو جاتا، ان کو کہیں مجاہدے پہ ڈال دیتے تھے۔ جاؤ یہ کر لو، حمام جھونکو۔ جاؤ پہاڑ میں بیٹھو۔ جاؤ جنگل میں چلے جاؤ، یہ کرو، وہ کرو۔ جاؤ فلاں کام کر لو، مٹکے بھرنا شروع کر لو۔ مطلب مختلف اس قسم کے کاموں پہ لگا لیتے، آپ کتابیں پڑھیں، مل جائیں گی آپ کو یہ چیزیں، نظیریں مل جائیں گی۔ تو اسی پہ لگا لیتے تھے، جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی کرتے تھے، دوسرے حضرات بھی یہی کرتے تھے۔

جس وقت حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کا دور آیا، انہوں نے دیکھا کہ لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہو رہے۔ لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہو رہے۔ اب جب تیار نہیں ہوتے، پھر کیا کریں؟ ان کو تیار کرنا ہے اس کے لیے۔ تو تیار کیسے کریں؟ ان کو جوش دلا دیں۔ جیسے جہاد کے لیے کوئی کسی کو تیار نہیں کرتا۔ او جنت تمہارے بالکل انتظار میں ہے، یہ ہے، وہ ہے، ساری باتیں کر کر کے لوگ کا خون جوش میں اجاتا ہے، کہتے ہیں اللہ اکبر، اور چل پڑتے ہیں۔ یہی ہوتا ہے، باقاعدہ جہادوں میں اس قسم کے لوگ ہوتے تھے جو یہ اس قسم کے رزمیہ کلام پڑھتے تھے۔ اور رزمیہ کلام کی وجہ سے لوگ جوش میں آجاتے تھے اور پھر پل پڑتے تھے۔

طارق نے کیا کیا تھا؟ کشتیاں جلائی تھیں۔ کیوں جلائی تھیں؟ تاکہ سوچ ہی ختم ہو جائے کہ ہم نے واپس جانا ہے۔ تو یہ ایک strategy ہوتی تھی۔ یعنی اس کا ایک کام مشکل تھا، اس کے کرنے کے لیے کچھ جوش دلایا جاتا تھا۔ تو حضرت نے فرمایا اس طرح ہم دل کو جوش دلا دیں۔ اللہ کی محبت میں سرشار کر دیں، اور اللہ کی محبت میں دیوانہ وار، نفس کی اصلاح کے لیے تیار ہو جائیں۔

یہ طریقہ تھا، حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے، تو حضرت نے چونکہ جذب وہبی بعد میں ہوتا ہے۔ سلوک طے کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ تو جذبِ وہبی کی طرح ایک جذب کسبی پیدا کر دیا۔ حضرت مجدد صاحب کے الفاظ میں، جذبِ وہبی کی طرح ایک جذبِ کسبی پیدا کر دیا، اس کا طریقہ سیکھ لیا۔ اس جذب سے کام لے کر لوگوں کو نفس کے اصلاح کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ اور جب نفس کی اصلاح ہو جاتی تھی تو پھر اس کے بعد جذبِ وہبی خود بخود ہوتا ہے۔ اس میں خود کسی کو کچھ کرنا نہیں ہوتا۔ وہ خود بخود ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا جذبِ وہبی تو اپنی جگہ برقرار تھا، جذبِ کسبی ایک addition تھا۔ اسی addition کی وجہ سے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے طریقے کو طریقِ نامسلوک کہتے ہیں۔ دیکھ لیں ان کے مکتوبات شریف، اپنے طریقے کو طریقِ نامسلوک کہتے ہیں کہ یہ عام طریقہ نہیں ہے۔


یہ عام طریقہ نہیں ہے، یہ bypass والا procedure ہے۔ bypass کر دیا ہم نے اس کو۔ نفس کو bypass کر دیا، پہلے ہم نے اس کو جذب پہ لگا دیا، جذب کسبی پر، اور جب وہ ہو گیا تو پھر نفس کے پاس چلے گئے۔ یعنی ادھر سیدھے نہیں آئے، ادھر سے ہو کے آئے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بہرحال یہ ایک زبردست تبدیلی تھی۔


لیکن یار لوگوں نے کیا کر دیا؟ وہ جو فقرہ حضرت نے فرمایا تھا، کہ میں نے بدایت کے اندر نہایت کو مندرج کر لیا، تو وہ تو حضرت نے فرمایا ہے، مجدد صاحب نے، کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرح ایک اور جذب کو پیدا کر لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ ورنہ اصل جذب میں اور اس جذب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ تو اب یہ جو، یہ جب یہ والی بات ہو گئی، تو اب یار لوگوں نے کہا، نہیں نہیں، جہاں سے ہماری ابتدا ہے وہاں سے دوسرے لوگوں کی انتہا ہے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ کیسی عجیب بات ہے۔ کام بھی غلط کیا اس پر اترانے بھی لگے۔


بھئی مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہ بات کر سکتے تھے۔ کیونکہ حضرت کا طریقہ تو ایسے ہی تھا۔ کیونکہ حضرت نے تمام چیزوں سے، جو سیکھ کر، اللہ کی طرف سے جو بصیرت تھی، اس کے ذریعے سے اس کو ایسا منقح کر دیا تھا کہ وہاں اس وقت بہترین تو یہی تھا۔ کیونکہ حضرت بہترین تھے اس وقت۔ حضرت خود بہترین تھے۔ تو اس وقت تو تھا۔ لیکن کیا بعد والے لوگوں نے جو ان کے طریقے کے خلاف کر دیا، اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں، ہمارا طریقہ پھر بھی باقی طریقوں سے افضل ہے۔ جو دوسروں کی انتہا ہے وہاں سے ہماری ابتدا ہے، یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔


خواجہ پندارد کہ مقصود حاصل است

حاصل خواجہ بجز پندار نیست


اور اسی زعم کے اندر، مجذوب متمکن بن کر رہ گئے۔ اسی زعم کے اندر مجذوب متمکن بن کر رہ گئے۔ یہ، یہ لفظ میں نے ایجاد نہیں کیا، یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔ اور کمال کی بات ہے کہ اتنے عرصے کے بعد یہ جب باہر آیا، تو خود نقشبندیہ حضرات کے بڑے بڑے مشائخ نے کہا، یہ مجذوب متمکن کا لفظ کہاں سے ہے؟ جب انہوں نے مکتوب شریف میں دیکھا کہتے ہیں سبحان اللہ، کمال ہے، ہمیں تو ابھی تک نظر نہیں آیا تھا۔ نظر کیوں نہیں آیا تھا، وہ بھی بتاتا ہوں۔


مکتوبات شریف کا درس جو ہوتا تھا، بہت سارے جگہوں پہ ہوا ہے الحمدللہ۔ مکتوبات شریف کا، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس جب ہوتا تھا تو الف سے لے کر یے پہ شروع کر لیتے، ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، اٹھ۔ اب حضرت کے پانچ سو سے زیادہ مکتوبات شریف ہیں۔ تو کوئی 207 میں فوت ہو گیا، کوئی 180 میں فوت ہو گیا، کوئی 185 میں فوت ہو گیا، 217 سے آگے کوئی گیا ہی نہیں۔ 217 سے آگے کوئی گیا نہیں۔ تو 287 کا کیسے پتا چلتا؟


بات سمجھ میں آرہی ہے نا؟ 287 کا کیسے پتہ چلتا؟ 217 سے آگے کوئی گیا نہیں، تو 287 کا کیسے پتا چلتا؟ ہمیں مجبورا پیش آیا، کیسے مجبورا پیش آیا؟ ہم نے ایک مکتوب، دوسرا مکتوب، تیسرا، چوتھے پہ گئے اس میں پھنس گئے۔ یہ تو ہمارے دماغ سے اوپر سے جا رہا ہے۔ اچھا پھنس گئے تو کیا ہوا؟ اس کے نیچے foot note پہ سید زوار حسین شاہ صاحب نے لکھا تھا کہ اس کے لیے آپ مکتوب نمبر 287 باقی تفصیلات کے لیے دیکھیں۔ ہم چلے گئے مکتوب نمبر 287۔ اب جب اس پہ چلے گئے وہاں ساری story لکھی ہوئی ہے۔ کہ جتنے بھی اشکالات تھے وہ سب کے جوابات لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ جواب تو یہاں پر سب کچھ لکھا ہوا ہے۔ یہ تو بڑی زبردست چیز ہے۔ اب شش و پنج میں پڑ گئے، پڑھیں نہ پڑھیں، پڑھیں نہ پڑھیں، پڑھیں نہ پڑیں، کیوں؟ ایک دو تین چار اور 287؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے بھئی کیا کر رہے ہو تم؟ ابھی تو چار تھا، اور ابھی 287؟ یہ کیا ہوتا ہے؟


اسی شش و پنج میں حضرت کی زیارت ہمارے ایک ساتھی کو ہوئی۔ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی، فرمایا، یہ ترتیب میں نے نہیں بنائی ہے، یہ ترتیب لوگوں نے بنائی ہے۔ آپ لوگوں پر یہ ترتیب حجت نہیں ہے۔ آپ لوگوں پر یہ ترتیب حجت نہیں ہے۔ اس میں مجھے دو informations مل گئیں۔ کہ ترتیب لوگوں نے بنائی ہے۔ حضرت کی بنی ہوئی نہیں ہے ایک بات۔ دوسری بات حضرت مجھے کہہ رہے ہیں کہ جاؤ آگے۔ 287 پہ جاؤ۔ کیوں اس میں ہے یا نہیں ہے؟ اشارہ سمجھ میں، میرا خیال میں آ رہا ہے نا؟ کہ آگے جاؤ 287 شروع کر لو۔ اور پھر ہم نے 287 شروع کیا۔ 287 کافی مشکل مکتوب ہے، لیکن الحمدللہ سولہ درسوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کو مکمل کرایا۔ تقریبا 29 صفحات کا فارسی زبان میں مکتوب ہے۔ تو میں اس لیے عرض کر رہا ہوں، کہ حضرت نے ساری چیزیں سمجھا دیں۔


پھر میرا دماغ بھی کھل گیا، دل میں بھی بات آگئی، نفس کی بات بھی سمجھ آ گئی کہ یہ تینوں چیزیں آپس میں کیسے ہیں؟ پھر بعد میں اس پہ ماشاءاللہ مزید تحقیق جب شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی آئی، جس کا، جس کا میں نے ذکر کیا، اس سے باقی چیزیں الحمدللہ صاف ہو گئیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے۔ اس نعمت کو جو حاصل ہوئی، اس کی اللہ نے بہت بڑی قدر کروائی، بہت بڑی قدر کروائی۔ ظاہر ہے میری طرف سے تو کچھ تھا نہیں، اللہ ہی کا فضل تھا۔ اتنی بڑی قدر کروائی کہ انگلینڈ کے اندر ایک طوفان تھا۔ اس مسئلے پہ، جوابات نہیں مل رہے تھے، مشکلات تھیں، بغاوت ہو گئی، لوگوں نے تصوف کا نام چھوڑ دیا۔ لوگوں نے کہا بس تم اپنے خود پیر بن جاؤ۔ یہ واقعات ادھر ہوئے ہیں۔ دو سال پہلے کی بات کر رہا ہوں۔ دو سال پہلے کی۔ اس حد تک معاملہ چلا گیا۔ کچھ لوگوں کی غلط کاموں کی وجہ سے۔

اس پر یہ ہوا کہ ان حضرات نے، جب یہاں سے ادھر ہی سے بیان ہوا تھا۔ ادھر ہی سے بیان ہوا تھا، internet پہ چلا گیا تھا۔ انہوں نے جب سنا تو چھ messages فورا آ گئے۔ وہ میرے پاس ابھی بھی note ہوں گے، messages آ گئے، یہ تو ہمارے زخموں کے اوپر مرہم ہے۔ یہ چیزیں تو ضرور ہونی چاہیے، یہ تو ضرور چلنی چاہیے، اور الحمدللہ ان چیزوں سے متاثر ہو کر ایک صاحب تو باقاعدہ پچھلے سال یہاں پر آئے، ہمارے ساتھ اعتکاف میں، یہاں بیٹھے تھے، اور پورا مہینہ ہمارے ساتھ گزار کے چلے گئے۔ اب بھی آنا چاہتے ہیں لیکن ویزے کا مسئلہ ہے۔


تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ وہاں انگلینڈ میں بہت ہوا۔ وہاں منی ایک ساتھی مجھے ملے، مجھے کہتے ہیں، شبیر صاحب میں آپ سے ملنے نہیں آنا چاہتا تھا۔ کیونکہ تم صوفی ہو۔ میں تمہارے ساتھ ملنے کے لیے نہیں آنا چاہتا تھا۔ بس مجھے چونکہ اپنے دوست نے کہا تھا، ان سے کتابیں لینی ہیں تو مجبورا آ گیا ہوں۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں تھی آپ سے ملنے کی۔ اس حد تک frustration، اس حد تک frustration ہو گئی تھی۔ متشرع آدمی ہے، لیکن پریشان ہے۔ اس کے ساتھ میں نے اپنے ساتھیوں کے سامنے، وہ ساتھی ادھر بھی موجود ہوں گے، جی ان کے ساتھ میں نے discuss کیا، discuss کیا، discuss کیا، تھوڑی نرمی آ گئی لیکن مکمل مسئلہ حل نہیں ہوا۔ چلے گئے، پھر مجھ سے WhatsApp کے اوپر رابطہ برقرار رکھا۔ اللہ کا شکر ہے، کچھ ہفتے، ڈیڑھ ہفتے میں باتیں ان کو سمجھ میں آ گئیں۔ پھر انگلینڈ میں ایک صحیح شیخ سے وہ بیعت ہو گئے، اور ماشاءاللہ اپنا کام شروع کر دیا۔


یہ ہے بات، اس حد تک بات چلی تھی۔ تو اب یہ اس چیز کی ضرورت ہے، یہ کام ادھر بھی ہو سکتا ہے نا جو انگلینڈ میں ہو سکتا ہے۔ ادھر نہیں ہو سکتا؟ کیا ادھر لوگوں کا دماغ خراب نہیں ہو سکتا؟ کہ لوگ دیکھیں بھئی کیا عجیب بات ہے۔ کیا عجیب بات ہے۔ یعنی یہ شیخ بھی ہے اور ایسی حرکتیں بھی کر رہے ہیں، ایسے کام بھی کر رہے ہیں، عورتوں سے اختلاط ہے، پردہ نہیں کر رہا۔ جو کہتے ہیں پردہ کیوں نہیں کر رہے؟ کہتے ہیں یہ گناہِ صغیرہ ہے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔ شریعت ان کے اوپر نافذ ہی نہیں ہے۔ یہ باتیں ادھر ہو رہی ہیں۔ بھئی اپنے آپ کو کسی ایسے ڈاکو کے حوالے نہ کرو جو تمہارے ایمان کو بیچ دے۔

کبھی ایسے ڈاکو کے حوالے نہ کرو۔ میں جو آٹھ علامات بتاتا ہوں کہ بھئی ان اٹھ علامات کو مشائخ میں دیکھو پھر ان کے ہاتھ میں ہاتھ دو۔ پہلی بات: کہ عقیدہ اس کا صحابہ کا ہو۔ دوسری بات: فرضِ عین علم حاصل ہو۔ : تیسری بات: فرضِ عین علم پر عمل ہو۔ جو اپنی مریدنی کو کہتا ہے کہ اپنا نقاب اٹھا لے میں تجھ پہ توجہ کرتا ہوں۔ خدا کے بندے وہ کون سا شیخ ہے؟ یہی بات ہے جو لوگوں کو واپس لے جا رہی تھی۔ لیکن اب پتا چل گیا کہ مجذوب متمکن تھے شیخ نہیں تھے۔ مجذوب متمکن تھے شیخ نہیں تھے۔

ایسے مسائل ہو رہے ہیں، تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ مسئلہ اب حل ہورہا ہے

جب میری باتیں ان لوگوں تک پہنچیں، کہتے ہیں کمال کی بات ہے۔ سلوک کا مطلب تو سیڑھیوں پہ چڑھنا ہے، اور جذب کا مطلب تو lift پہ چڑھنا ہے۔ تو اس میں کیا ہے؟ اگر آپ سلوک طے کرنا... سلوک طے کر لو، ہم جذب کے ذریعے سے پہنچ گئے۔ گویا کہ یا جذب ہے یا سلوک ہے۔ اور حضرت فرماتے ہیں جذب بھی ہے، سلوک بھی ہے۔ کس کی بات مانوں؟ مجدد صاحب کی بات مانوں یا اس شیخ کی بات مانوں؟ حضرت فرماتے ہیں جذب بھی ہے۔ سلوک بھی ہے۔ اور یہ کہتے ہیں یا جذب ہے یا سلوک ہے۔ چاہے آپ سلوک کے ذریعے سے پہنچ جاؤ، چاہے جذب کے ذریعے۔

یہ باتیں اپ کو مشکل نظر آرہی ہوں گی، لیکن جن لوگوں کے لیے مسئلہ ہے ان کے زخموں پہ مرہم رکھے جا رہے ہیں۔ جن کے لیے مسئلہ ہے۔ جن کے لیے مسئلہ نہیں ہے، اس کو ایک علمی طور پر سمجھ لیں کہ بس ٹھیک ہے ایک علمی بات ہمیں حاصل ہو گئی کہ اج کل ایسے لوگ بھی ہیں۔ تو اس وجہ سے اپنے اپ کو بچانا چاہیے۔

ان میں سے کسی ایسے شیخ سے ایک لوگوں نے کہا کہ حضرت یہ اپنے طالبات سے پردہ کر لیا کریں، شریعت میں پردہ ہے۔ کہتے ہیں یہ جو سوزوکی کے اندر لوگ، عورتیں اور مرد آپس میں آمنے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں اس سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ایک شیخ جواب دے رہا ہے۔ جو عالم بھی ہے، اور یہاں پنڈی میں ہے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ کیا حالت ہے؟ کیا حالت ہے؟ اور ایسا، کہ ایک مرید سے کہا کہ مدرسہ مجھے دے دو۔ مدرسہ نہیں دیا؟ خلافت ختم کر دی۔ مدرسہ نہیں دی، خلافت ختم کر لی۔ کیا یہ شیخی ہے؟ یہ بہت خطرناک باتیں ہیں، اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے۔

جواب ملے گا لیکن قیامت میں۔ اس وقت، وقت گزر چکا ہوگا۔" ہوش میں آنا ہے تو ابھی آجاؤ۔ ہوش میں آنا ہے تو ابھی آجاؤ۔ اس وقت ہوش میں آنے سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس وقت تو کافر بھی ہوش میں آچکے ہوں گے۔ چیخ پکار کر رہے ہوں گے، تو کیا فائدہ؟ کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ ابھی وقت ہے، توبہ کرو۔ تو میں عرض کر رہا ہوں، ایک بات الحمدللہ بات ہو گئی۔

دوسری بات جو اصل بات تھی جو میں نے کرنی تھی لیکن درمیان میں یہ باتیں آگئیں، آخری عشرہ ہے۔ آخری عشرہ ہے۔ اس آخری عشرے میں اللہ پاک نے ایک پورا نظام پہلے سے set کیا ہے، جس کے لیے کسی شیخ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کسی شیخ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ نے رمضان کو ایسا سیٹ (Set) کر دیا ہے کہ جو صحیح طور سے روزے رکھے گا ان کی اصلاح ہو گی، ان کو تقویٰ حاصل ہو گا، بس صحیح طور سے روزے رکھنے کو سیکھ لو۔ وہ صحیح طور سے روزے رکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے تین چیزوں سے تو الحمدللہ اپنے آپ کو روک ہی لیا ہے روزے میں، لیکن جو فجور ہیں دوسرے، یعنی جیسے غیبت ہے، جھوٹ ہے، بدنظری ہے، یا مطلب جو حرام مال ہے، ان سے نہیں بچیں گے تو آپ کے روزے کا تقویٰ کدھر بچے گا؟ آپ کے روزے کا تقویٰ بچ نہیں سکتا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے لیے فرمایا گیا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کا روزہ سوائے فاقہ کے ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ روزے کو صحیح طریقے سے رکھو، رکھنا سیکھو، تاکہ آپ کا روزہ صحیح ہو جائے، تو آپ کو تقویٰ مل جائے گا، آپ کی اصلاح ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔

اسی وجہ سے چونکہ اللہ پاک نے اتنا بڑا نظام دیا ہے، لہٰذا اس کے ذریعے سے فرماتے ہیں اگر مغفرت نہیں ہوئی کسی کی، حدیث شریف آپ حضرات کو معلوم ہو گا۔ اگر کسی کی رمضان شریف کے گزرنے کے بعد بھی مغفرت نہیں ہوئی تو کیا ہو گا؟ بد دعا ہے آپ ﷺ کی، جبرائیل علیہ السلام کی بد دعا اور آپ ﷺ نے آمین کہا ہے۔ تو خطرناک بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پورا نظام سیٹ (Set) کر لیا، جنت کے دروازے کھول دیے، دوزخ کے دروازے بند کر لیے، شیاطین کو قید کر لیا، نفس کے اوپر پیر رکھوا دیا، ماحول بنا لیا، سب کچھ کروا لیا، پھر بھی تم نہیں لینا چاہتے ہو تو کیا کرنا چاہتے ہو؟ بڑے خطرے کی بات ہے، لہٰذا رمضان شریف میں بھائی ذرا خیال رکھو، روزے کے دوران ایسے کام نہ کرو جس سے روزے کے اوپر فرق پڑ سکتا ہے، کہیں روزے کو مشغول کرنے میں کہیں بدنظری میں مبتلا نہ ہو جاؤ، ویڈیوز (Videos) نہ دیکھنے لگو، فلمیں نہ دیکھنے لگو، بازاروں کے چکر نہ لگانے لگو، اس سے آپ کا روزہ متاثر ہو گا، خراب ہو گا۔ تو اپنے روزے کو بچائیے پہلی بات یہ بات۔

دوسری بات یہ ہے، اللہ جل شانہ نے... plus factor دینے کے لیے۔ یہ تو negative سے بچنا تھا نا؟ plus factor دینے کے لیے ایک رات دے دی ہے، لیلۃ القدر۔ اس میں آپ کا جو بھی عمل نیک ہے وہ ایک ہزار مہینوں کے حساب سے ہے۔ ایک ہزار مہینوں کے حساب سے ہے۔ لہٰذا یہ جو لیلۃ القدر ہے اس میں جم کے رہیں۔ یہ طاق راتوں میں ہوا کرتی ہے۔ اور آئندہ کی جو طاق راتیں ہیں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں، ہمارے پاس انشاء اللہ ہیں۔ اس میں کوشش کر لیں کہ اچھی طرح ان کو کمائیں۔


اچھی طرح کمانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اللہ کی یاد میں لگائیں۔ چاہے نماز میں کھڑے ہو کر، چاہے قرآن پاک کی تلاوت کو سن کر یا قرآن پاک کی تلاوت کو کر کے، یا ذکر کر کے، یا درود شریف پڑھ کے، دعائیں کر کے اس کے ذریعے سے گزارو۔ اور اس کے اندر یہ دعا ضرور کر لیا کرو: ﴿اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي﴾۔ یہ دعا ضرور کر لیا کیونکہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ ﷺ نے یہ دعا سکھائی ہے۔ تو یہ دعا ہم کر لیا کریں۔


اس سے ان شاء اللہ العزیز اللہ تعالی ہماری مغفرت کا سامان امید ہے پیدا کروا لے گا۔ تو بہرحال سب سے بڑی چیز ہماری مغفرت ہے۔ کیسے؟ دیکھو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا بہترین رات کون سی ہے؟ فرمایا: لیلۃ القدر۔ جواب غلط تو نہیں۔ بہترین رات کیا ہے؟ لیلۃ القدر۔ جواب بالکل صحیح ہے۔ لیکن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا، بہترین رات کون سی ہے؟ فرمایا: وہ رات جس میں کسی کی توبہ قبول ہو جائے۔ وہ رات جس میں کسی کی توبہ قبول ہو جائے۔ اب توبہ لیلۃ القدر میں قبول نہیں ہوئی تو پھر؟ آپ کے لیے تو لیلۃ القدر نہیں ہوئی نا۔ اب آپ جو ہے نا وہ عید کارڈ نہیں بھیجتے عید کارڈ؟ عید کارڈ بھیجتے ہیں، اس کے لیے deck لگایا ہوتا ہے، اور وہ جو ہے نا گانے بج رہے ہوتے ہیں، کارڈ بھیج رہے ہوتے ہیں۔ کون سی راتوں میں؟ آخری راتوں میں، لیلۃ القدر کی راتوں میں۔ کیا خیال ہے ان کے لیے لیلۃ القدر کیسا ہے؟


بس یہی، یہی جو بات ہے جو ہمیں سمجھ میں آنا چاہیے، ہمیں اپنے اوپر توجہ کرنی چاہیے۔ یہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اب چونکہ دوسرے جمعے کا اندازہ نہیں ہے کہ ملے گا، شاید مل جائے، تو اس وجہ سے میں ایک بات اور بھی مختصر عرض کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھو رمضان شریف کے مہینے میں بہت بڑا Amplitude مل جاتا ہے، بہت high چلے جاتے ہو۔ ماشاءاللہ مغفرت بھی اللہ پاک کر دیتے ہیں خوش نصیبوں کی، اور ساتھ ساتھ اعمال کی توفیق ہو جاتی ہے، لیلۃ القدر کے اجر بھی مل جاتے ہیں۔ سارا کچھ ہو جاتا ہے، لیکن عید کی رات جس وقت شیطان کھلتا ہے، وہ پھر پورے پورے بدلے لیتا ہے۔ وہ پھر پورے پورے بدلے لیتا ہے۔ اب یہ تین دن اور تین راتیں جو ہیں نا، یہ بہت اہم ہیں۔


اس میں آپ کو شیطان ورغلائے گا۔ خوب پھنسائے گا۔ رشتہ داروں کے ذریعے سے، دوستوں کے ذریعے سے، اپنے پیاروں کے ذریعے سے آپ کو خراب کرے گا۔ بس ان راتوں میں ان دنوں میں اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ کو، کھونٹیوں کا بندوبست کر لے، جیسے مضبوط کھونٹیاں ہوتی ہیں نا، جیسے کوئی باندھا ہوتا ہے، اس کو کوئی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ تو اپنے لیے کھونٹیوں کا بندوبست کر لے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ جڑے رہیں جو جن کی وجہ سے آپ بچے رہیں۔ جن کی وجہ سے آپ بچے رہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ تین دن اور تین راتیں اگر آپ محنت کریں گے ان شاءاللہ پورے سال تک آپ کا یہ تقویٰ کافی رہے گا ان شاءاللہ۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ بھی سنا دیتا ہوں اس پر۔ حضرت نے فرمایا: جس کا رمضان جس طریقے سے گزر گیا، اس طریقے سے باقی سال گزرے گا۔ جس کا رمضان جس طریقے سے گزر گیا، اس طرح اس کا باقی سال بھی گزرے گا۔


لہٰذا ہم لوگوں کو چاہیے کہ ہم لوگ اپنے رمضان کو اچھا کر دیں۔ جو گزر گیا اس پہ مغفرت، استغفار۔ جو گزر گیا اس پہ استغفار ہے۔ اور جو آنے والے ہیں اس پہ اس کے لیے دعا ہے۔ اور جو موجودہ سامنے ہیں اس میں ہمت ہے۔ اس میں ہمت ہے۔ ہمت کرو، ہمت سے اللہ جل شانہٗ نوازتے ہیں۔ باہمت لوگوں کو اللہ تعالی نوازتے ہیں۔


تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


سب سے جامع عنوان: تزکیہ نفس، تقویٰ اور باطنی لطائف کی اصلاح

متبادل عنوان: روزہ اور تقویٰ: دل، عقل اور نفس کی کشمکش اور مراقبہ کی اہمیت


اہم موضوعات:


رمضان المبارک اور تقویٰ کا باہمی تعلق۔


نفس کی حقیقت، فجور اور تقویٰ کی کشمکش۔


باطنی لطائف (دل، نفس، عقل) کا تعامل اور تصادم۔


مراقبہ کی اہمیت اور سلوک و تصوف کے مقامات۔


طریقہ نقشبندیہ اور مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ کار (جذب اور سلوک)۔


لیلتہ القدر کی فضیلت اور طاق راتوں میں عبادات۔


عید کے دنوں میں شیطان کے وار اور استقامت کی ضرورت۔


خلاصہ:

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے رمضان المبارک اور تقویٰ کے گہرے تعلق پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ نفس میں نیکی اور برائی (تقویٰ اور فجور) دونوں کے تقاضے موجود ہیں اور ان تقاضوں کے خلاف مزاحمت سے ہی حقیقی تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے باطنی لطائف (دل، نفس اور عقل) کی تفصیلی وضاحت کی کہ یہ تینوں کس طرح ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں اور ان کی اصلاح کے بغیر محض نظریاتی باتوں سے کامیابی ممکن نہیں۔ مزید برآں، انہوں نے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے طریقۂ نامسلوک کی تشریح کی اور واضح کیا کہ سلوک اور باطنی اصلاح کے بغیر محض جذبات یا مجذوبیت کو کامل شیخی سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ آخر میں، انہوں نے لیلتہ القدر کی اہمیت، طاق راتوں میں عبادات کی تلقین اور عید کے دنوں میں نفس اور شیطان کے وار سے بچنے کے لیے استقامت اختیار کرنے کی بھرپور تاکید فرمائی ہے۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ: فضائلِ شبِ قدر، اہمیتِ اعتکاف اور غزوہ بدر کا پیغام - جمعہ بیان