قرآنی آیات کی روشنی میں حج کے احکام، آداب اور عملی تقاضے

پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیات 197 تا 200، اشاعت اول 15 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

•         اشہرِ حج (حج کے مہینوں) میں احرام اور اس کی پابندیاں

•         شوال میں عمرہ کرنے والوں کے لیے حج کا قانون (ایک ذاتی واقعہ)

•         دورانِ حج فحش باتوں، گناہوں اور جھگڑوں سے پرہیز (ایک عظیم مجاہدہ)

•         مجاہدے کے ذریعے انسان کی باطنی اصلاح

•         شریعت میں حقیقی توکل کا مفہوم اور اسباب (زادِ راہ) اختیار کرنے کی اہمیت

•         سفرِ حج کا زریں اصول: "پیسے نہ بچائیں، وقت بچائیں"

•         حرمِ مکی میں عبادات اور صدقہ و خیرات کے ثواب کی اہمیت

•         عقل والوں کے لیے اللہ کی نافرمانی سے ڈرنے (تقویٰ) کی تلقین

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ؕ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ۫ وَاتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ ﴿197﴾ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ﴿198﴾ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ ۚ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿199﴾ فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهٗ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ﴿200﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


حج کے کچھ مسائل ان آیاتِ مبارکہ میں بیان ہو رہے ہیں۔

حج کے چند متعین مہینے ہیں۔ چنانچہ جو شخص ان مہینوں میں (احرام باندھ کر) اپنے اوپر حج لازم کرلے تو حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے، نہ کوئی گناہ، نہ کوئی جھگڑا۔ اور تم جو کوئی نیک کام کرو گے، اللہ اُسے جان لے گا۔ اور (حج کے سفر میں) زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو، کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے﴿197﴾

یہ اصل میں حج کے متعین مہینے ہیں، جس میں انسان اگر حج کا ارادہ کر لے، جیسے شوال سے شروع ہوتا ہے، ایامِ حج اس کو کہتے ہیں۔ تو ان میں اگر کسی نے احرام باندھ لیا، تو مطلب یہ ہے کہ اپنے اوپر حج کو لازم کر لیا۔

اس وجہ سے، اگر کوئی عمرہ کر لے، شوال میں، تو وہ حج ضرور کرے، مطلب یہ ہے کہ وہ اس میں آ جاتا ہے۔ ہاں اگر رمضان شریف میں رخصت ہو جائے تو پھر اس کے اوپر یہ نہیں ہے۔ لیکن شوال کے مہینے میں اگر کوئی عمرہ کر لے تو اس پر، اس کو پھر حج کرنا چاہیے۔ یہ سعودی عرب کا قانون بھی بن گیا تھا کہ اگر شوال کے مہینے میں کوئی عمرے کے لیے آ جاتا ہے تو پھر اس کو حج کا، automatically convert کر لیتے تھے، visa کو حج کا۔ اور میرے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا کہ میں جب آ رہا تھا امریکہ سے، تو ان دنوں یہ قانون اُسی وقت بن گیا تھا۔ تو اس وجہ سے کوئی عام پتہ نہیں تھا اس کا۔ تو میں تو عمرے کے visa پہ آیا تھا۔ اور مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس میں پھر وہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مجھے یہ پتہ تھا کہ وہاں اگر کوئی apply کر لے تو وہ حج کے لیے ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے میرا ارادہ تھا کہ میں وہاں سے apply کروں گا تو اگر انہوں نے visa دے دیا تو پھر حج بھی کر لوں گا۔ یہ میری calculation تھی۔ وہاں airport پر آیا تو انہوں نے میرا passport دیکھا، امریکہ کا visa تو اس کو ایک طرف رکھ دیا، کہتے ہیں ادھر کھڑے ہو جاؤ۔ میں نے کہا یا اللہ خیر، شاید کوئی غلطی ہے، کوئی مسئلہ ہے۔ سب لوگوں کو نکالتے رہے، میں کھڑا رہا۔ کچھ دیر کے بعد ایک اور آدمی کو بھی میرے ساتھ کھڑا کیا۔ اس کا بھی پتہ نہیں۔ پھر ہم حیران تھے، میں نے کہا پتہ نہیں کیا ہے۔ اتنے میں پولیس والے آئے، ان کو پاسپورٹ دے دیے، پولیس والے چلتے بنے۔ میں نے کہا اب تو confirm ہو گیا کہ مسئلہ پولیس کے ہاتھ میں ہے۔ میں دوڑ کے ان کے پاس چلا گیا، میں نے کہا یہ کیا وہ لے جا رہے ہو؟ کہتے ہیں، آپ مطار قدیم سے پھر passport لے لیں۔ میں نے کہا، میں اس وقت کیا کروں؟ کہتے ہیں: جاؤ عمرہ کرو۔

اب نہ انہوں نے سوچا، نہ میں نے سوچا کہ پاسپورٹ کے بغیر تو پھر آنے نہیں دیتے۔ اور میں عمرے کے لیے کیسے جاؤں گا، پتہ نہیں راستے میں پکڑ لیا پھر کیا ہوگا، میرے پاس کیا ثبوت ہے؟ اس وقت نہ مجھے خیال، نہ ان کو خیال آیا۔ بس، خیر بہرحال پھر جو مسائل ہونے تھے، وہ تو ہو گئے تھے، لیکن اللہ نے بچا لیا۔ اب اگلے دن جب میں آیا مطار قدیم تو انہوں نے کہا 525 ریال دے دو۔ میں نے کہا کیوں دے دوں؟ اب وہ بتائے نہیں۔ بس 525، اگر پاسپورٹ لینا ہے تو 525۔ میں نے کہا یار عجیب بات ہے بھئی، مفت میں؟ خیر بہرحال۔ جب میں بہت تنگ ہو گیا، دیر ہو گئی، تو میں نے دے دیے 525 ریال۔ اور دیکھا تو اس کے اوپر حج کا visa لگا ہوا تھا۔ تو بعد میں پتہ چلا کہ قانون یہ بن گیا تھا کہ جو عمرے کا visa لے کے آئے گا اس کا automatically حج کے visa میں transfer ہو جائے گا۔ تو میں نے کہا چلو جی، application کی ضرورت ہی نہیں آئی۔

تو ایسا ہوتا ہے، یہ اصل میں یہاں سے ہے۔ کہ حج کے ایام میں اگر کوئی شخص احرام باندھ لے، وہ اپنے اوپر حج کا لازم کر لے۔ تو اس میں یہ ہے کہ، حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے، نہ کوئی گناہ نہ کوئی جھگڑا۔ یہ تین چیزیں ہیں۔ اصل میں یہ تین چیزیں بہت بڑا مجاہدہ ہے۔ بالخصوص ان لوگوں کے لیے جو اس کے عادی ہوں۔ ان کے لیے بہت بڑا مجاہدہ ہے۔ اچھا اب دیکھیں! جو اس کا عادی ہے، اس کے لیے مجاہدہ ہے۔ اور اتنے level کا مجاہدہ ہے جتنے level کا عادی ہے۔ تو اتنے level کا علاج ہے پھر۔ کیونکہ مجاہدہ بھی زیادہ ہوگا تو علاج بھی پھر ظاہر ہے اس سے زیادہ ہوگا۔ تو گویا کہ proportionally خود بخود ہی adjustment ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی حج صحیح طریقے سے کر لے تو، ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ بات ہے۔

یہ تین چیزیں اگر انسان، کیونکہ یہ بہت بڑا مجاہدہ ہے۔ جو لوگ عادی ہوں فحش باتوں کی، ان کا رکنا اس سے۔ جو لوگ جھگڑالو ہوں، ان کا جھگڑے سے رکنا۔ اور جو گناہ کے کاموں میں مبتلا ہوں، ان کا گناہوں سے رکنا، یہ ایک بہت بڑا مجاہدہ ہوتا ہے ان کے لیے۔ تو اس مجاہدے سے ہی ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔

بعض لوگ حج کو روانہ ہوتے وقت اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان ساتھ نہیں رکھتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے حج کریں گے، لیکن جب راستے میں کھانے کی ضرورت پڑتی تو بسا اوقات وہ لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ اس آیتِ کریمہ نے یہ بتلایا کہ توکل کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ اسباب کو اختیار کرنا شریعت کا تقاضا ہے، اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے، یعنی وہ زادِ راہ جس کے ذریعے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہے۔ Practical دین ہے ہمارا، اس میں تمام چیزیں practical solve ہوتی ہیں۔ تو لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ باتیں بنائی ہوتی ہیں، جیسے توکل کا اپنا definition لوگوں نے کیا ہوتا ہے۔ تو ان میں سے یہ definition بس بعض لوگوں نے کیا ہوتا ہے کہ حج پہ جائیں گے تو پھر ہم اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لے جائیں گے، بس اللہ کے بھروسے پہ۔ وہ توکل اصل میں، بات یہ ہے کہ، انسان کا level اس حد تک ہو جائے کہ اس کے اوپر کچھ بھی آ جائے، وہ پھر اس کی پرواہ نہ کرے۔ بلکہ اللہ کی طرف سے سمجھے اور بس اللہ کا اپنے آپ کو مہمان سمجھے۔ تو ایسا ہوتا ہے پھر، پھر ہو جاتا ہے، مطلب پھر انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر توکل کچا ہے، اور نہیں ہے اس طرح، تو پھر کیا کرے گا؟ پھر لوگوں سے مانگتا رہے گا۔ تو وہ تو حرام ہے۔ تو انہوں نے اپنے خیال میں یہ جو ایک مستحب چیز تھی اس کو لے کے اپنے آپ کو حرام میں مبتلا کر دیا۔ تو مطلب ظاہر ہے اس وقت یہ ہے کہ حج کے وقت جاؤ، اپنے ساتھ زادِ راہ لے لو۔

مجھے ایک بزرگ نے فرمایا تھا جب حج پہ جا رہا تھا، فرمایا کہ، پیسے نہ بچاؤ حج پہ، وقت بچاؤ۔ پیسے نہ بچاؤ، وقت بچاؤ۔ مثال کے طور پر آپ ٹیکسی میں جا کے جلدی پہنچ سکتے ہیں، ایک جگہ پہ پہنچنے پہ، تو پیدل نہ جاؤ۔ کیونکہ آپ کا جو وقت لگے گا، وہاں پر یہ حرم شریف میں لگنا چاہیے، یا عبادات میں لگنا چاہیے۔ تو پیسے نہ بچاؤ، وقت بچاؤ۔ وہاں وقت بچانا بہت ضروری ہے۔ یہ تو حضرت نے علمی لحاظ سے بات کی۔ ایک سائنسدان نے مجھے ذرا اس کا اور اچھی definition کے ساتھ بتایا تھا۔ اس نے calculate کیا تھا باقاعدہ کہ ہمارا حج پر کتنا خرچ ہوتا ہے۔ اور اس نے per hour پھر اس کو calculate کیا کہ کتنا آتا ہے۔ اب اگر ایک گھنٹہ میں مثال کے طور پر ہم دو ریال بچاتے ہیں، اور ہمارے اس پہ خرچ نو ریال آیا ہوا ہے، تو سات ریال کے نقصان میں جا رہے ہیں۔ جس مقصد کے لیے آئے ہو، اس مقصد کے لیے اس کو استعمال کرو۔ اس نے اس طرح ماشاءاللہ بڑی اچھی calculation کی تھی۔ تو یہ ہے کہ زادِ راہ اپنے ساتھ لینا چاہیے۔ خود بھی کھانا چاہیے اس سے، دوسروں کو بھی کھلانا چاہیے۔ کیونکہ وہاں کا جو خیرات ہے وہ بہت بڑی خیرات ہے۔ ظاہر ہے ہر چیز ایک لاکھ ہے۔ تو اگر آپ خیرات کر رہے ہیں تو وہ بھی ایک لاکھ کا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ خود بھی خرچ کرو، اپنے اوپر بھی خرچ کرو، اور دوسروں کے اوپر بھی خرچ کر لو۔ یہی اصل میں بہترین طریقہ ہے۔

اور اے عقل والو! میری نافرمانی سے ڈرتے رہو ﴿197﴾ تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (حج کے دوران تجارت یا مزدوری کے ذریعے) اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو۔ سبحان اللہ! اے عقل والو! یعنی دیکھو اللہ پاک کن سے فرما رہے ہیں؟ عقل والوں سے فرما رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ عقل سے سمجھنے والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرنا چاہیے۔ کیسے عقل والی بات ہے؟ مجھے بتاؤ دنیا میں اگر آپ کا کسی کے ساتھ معاملہ ہو کہ وہ آپ کے بارے میں کوئی decision کر سکتا ہے، آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے، آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے، اس کے ساتھ آپ کا معاملہ کیا ہوگا؟ مثلاً ہمارے دفتروں میں bosses کے ساتھ ہوتا ہے۔ دکانداروں کا گاہکوں کے ساتھ، اس طریقے سے کاروباریوں کا کاروبار والوں کے ساتھ، ہر ایک کے ساتھ معاملہ، dealing بہت اچھا رکھتے ہیں تاکہ ان سے نفع کمائیں۔ اچھا تو اب ہمارا ہر معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ہماری ہر چیز اللہ، ماضی بھی اللہ کے ساتھ، حال بھی اللہ کے ساتھ، مستقبل بھی اللہ کے ساتھ۔ تو جب ایسی بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا چاہیے یا نہیں ڈرتے رہنا چاہیے؟ ہاں! یہ والی بات ہے۔ ہاں، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (حج کے دوران تجارت یا مزدوری کے ذریعے) اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو۔ بعض حضرات حج کے سفر میں کوئی تجارت کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے۔ یہ آیت ان کی غلط فہمی دُور کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے، اور اس نے بتا دیا کہ سفرِ حج میں روزی کمانے کا کوئی مشغلہ اختیار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے حج کے ضروری کام متاثر نہ ہوں۔

وہاں بعض یہ جو خدام ہوتے ہیں، خدام الحجاج۔ ظاہر ہے انہوں نے بھی احرام باندھا ہوتا ہے، تو احرام انہوں نے باندھ کے سب لوگوں کے ساتھ وہ اعمال بھی کر رہے ہوتے ہیں اور ان کی خدمت بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ہو جاتا ہے، ان کو اس کے پیسے بھی ملتے ہیں۔ تو اس طریقے سے پیسے اگر کوئی کما سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک چیز یہاں پر سستی ہے اور وہاں پر بہت مہنگی ہے۔ یہاں سے لے جاؤ، وہاں لوگوں کو دے دو بس آپ کے پیسے بچ گئے۔ پھر وہاں سے کوئی چیز سستی ہے اور یہاں پر مہنگی ہے، یہاں لے آؤ تو، وہ دے دو۔ تو آپ کی تجارت ہو گئی۔ تجارت اور کس چیز کو کہتے ہیں؟ یہ تجارت ہے۔ اور لوگ واقعی جو کاروباری ذہن کے ہوتے ہیں نا، ان کو یہ اس طرح پتہ ہوتا ہے باقاعدہ پہلے سے information ہوتی ہے کہ کون سی چیز یہاں سستی ہے اور وہاں مہنگی ہے۔ وہ پشاور بھی جاتے ہیں نا، تو ادھر بھی deal کر لیتے ہیں مطلب کچھ نہ کچھ چیزیں ادھر سے لے جاتے ہیں پھر وہاں سے کوئی لے آتے ہیں۔ اپنا سفر کا وہ نکال لیتے ہیں، جو خرچہ ہوتا ہے، وہ نکال لیتے ہیں۔ کسی کے پاس اپنی گاڑی ہو، پھر تو اور بھی آسان ہے۔ اپنی ڈگی کو اس کے لیے رکھیں۔ یہاں ڈگی میں کچھ سامان ڈال لیا۔ اور وہاں پر پہنچا دیا۔ وہاں لوگوں کے ساتھ پہلے ان کے رابطے تو ہوتے ہیں۔ کیوں کہ کاروباری لوگوں کے تو آپس میں کاروباری رابطے ہوتے ہیں۔ ان کی اخبار بھی ہوتے ہیں اپنے۔ تو ان سے پتہ چلتا رہتا ہے۔ تو بہر حال یہ ہے کہ وہ اگر اس طریقے سے کوئی کرلے تو اس سے کوئی حرج نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے اعمال میں اثر نہیں پڑے گا اور ظاہر ہے کہ ایک باوقار طریقے سے اپنا حج کرسکیں گے کسی سے مانگیں گے نہیں اور کسی پر بوجھ نہیں بنیں گے اور یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔ تو بس میرے خیال میں آج کے لیے کافی ہے


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


قرآنی آیات کی روشنی میں حج کے احکام، آداب اور عملی تقاضے - درسِ قرآن - دوسرا دور