اللہ تعالیٰ کی صفات، شرک کی حقیقت اور انبیاء کرام علیہم السلام کا مقام

عقیدوں کا بیان، اشاعت اول، 3 اپریل، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان
  • اللہ تعالیٰ کی لامحدود صفات بمقابلہ مخلوق کی محدود صفات۔
    • عالمِ اسباب اور مسبب الاسباب کا قرآنی و روحانی تصور (اولیاء اللہ کے واقعات کی روشنی میں)۔
      • متشابہات (جیسے استواء علی العرش) پر سلف صالحین کا عقیدہ اور حضرت امام مالکؒ کا تاریخی فتویٰ۔
        • فتنہ خلقِ قرآن، قاضی ابن ابی دؤاد کا انجام اور دین میں بدعت کی ممانعت۔
          • شرک کی اصل حقیقت: ماوراء الاسباب مدد مانگنا اور ذات و صفات میں شریک ٹھہرانا۔
            • شعائر اللہ (خانہ کعبہ، قرآن مجید، صفا و مروہ) کی تعظیم بمقابلہ شرک۔
              • انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت، ان کے درجات اور ان کی تنقیص یا گستاخی سے بچنے کی سخت تاکید

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

                اللہ جل شانہ کے صفات کے بارے میں جو عقائد ہیں وہ چل رہے ہیں۔ "وہ تمام عالم کی حفاظت سے تھکتا نہیں۔ وہی سب چیزوں کو تھامے ہوئے ہیں۔"

                اصل میں ہم لوگ دیکھتے ہیں ہمارے اپنے صفات کے لحاظ سے۔ مثلاً ہماری، ہمارا دیکھنا محدود ہے۔ دیوار کے آگے پیچھے ہم نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارا سننا محدود ہے، ایک خاص حد تک ہی ہم سن سکتے ہیں۔ اس طرح ہم کوئی چیز، کام کرتے ہیں تو تھک جاتے ہیں۔ ہمیں نیند کی ضرورت ہوتی ہے، آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب ہمارے مسائل ہیں۔ ہم لوگ اس طرح ہیں۔ اللہ جل شانہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا سننا لامحدود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دیکھنا لامحدود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یعنی جو بھی کام ہے، وہ سارے کے سارے صفات لامحدود ہیں۔ اس میں جیسے تھکنا بالکل کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے چھوٹا کام کرنا اور بڑا کام کرنا برابر ہے۔ مثلاً کوئی اس پورے کائنات کو آن کی آن میں پیدا کرے اور ایک ذرے کو آن کی آن میں پیدا کرے، اللہ کے لیے دونوں کام برابر ہیں۔ ہاں حکمت الگ بات ہے۔

                اب اللہ جل شانہ نے ہمارے لیے جو نظام بنایا ہے، مثلاً درخت اگتا ہے تو ایک Time لیتا ہے۔ بچہ جب بنتا ہے، ماں کے پیٹ میں تو ایک Time لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ پاک اس کو فوراً کر نہیں سکتا۔ اب دیکھیں، بچہ بولتا ہے نا، تو کچھ عرصے کے بعد بولتا ہے نا؟ کچھ عرصے کے بعد بولتا ہے۔ کبھی چھ مہینے، کبھی سال، کبھی کیا، لیکن عیسیٰ علیہ السلام کب بولے؟ پنگھوڑے میں۔ اور وہ بولنا بھی عام بولنا نہیں۔ بہت بڑی بات۔ میں اللہ کا بندہ ہوں اور میں نبی ہوں، مطلب مجھے نبی بنایا گیا ہے۔

                اور یہ ساری چیزیں یہ بتا دیں۔ اس طریقے سے اللہ جل شانہ کسی چیز کے محتاج نہیں ہیں۔ بغیر کسی چیز کے بھی اللہ پاک کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن عام قانون یہ نہیں ہے۔ عام قانون اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے لیے جو بنایا ہے، وہ ایک اسباب کے ذریعے سے بنایا ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے اسباب بنائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہم نے تو اسباب کا خیال رکھنا ہے، لیکن اللہ پاک مُسَبِّبُ الاسباب ہے۔ اسباب کو پیدا کرنے والے وہی ہیں۔

                اولیاء اللہ کی دو قسمیں بتائی جاتی ہیں۔ ایک وہ جن کی اسباب پر نظر ہوتی ہے، اور ایک وہ جن کی صرف مسبب الاسباب پر نظر ہوتی ہے۔ جن کی اسباب پر نظر ہوتی ہے، ان کی مسبب الاسباب پر بھی نظر ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کو وہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کی حکمت کیا ہے کہ اس کام کو کیسے کیا جائے۔ مثلاً شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ وعظ فرما رہے تھے، خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد فرمایا ایک صاحب اتنے دور سے طے ارض کر کے آئے۔ طے ارض کا مطلب یہ ہے کہ آن کی آن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا۔ یہ طے ارض ہوتا ہے۔ اولیاء اللہ کے لیے بعض دفعہ اللہ پاک آسان کر دیتا ہے۔ طے ارض کر کے آئے تھے تو میں نے اس کو ڈانٹا کہ اللہ پاک نے پیر کس لیے دیے ہیں؟ تو پیروں کے ذریعے سے کیوں نہیں آیا؟ کرامت کے ذریعے سے کیوں آیا؟ تو یہ ظاہر ہے کہ یہ جو بڑے بزرگ ہوتے ہیں، اللہ والے ہوتے ہیں، وہ اسباب کو بھی ایسے ہی اختیار کرتے ہیں۔

                ایک دفعہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کشتی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ دریا کو پار کرنے کے لیے۔ حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ آئے۔ تو انہوں نے اس سے پوچھا کس چیز کے لیے انتظار کر رہے ہو؟ کہتے ہیں کشتی کا۔ انہوں نے کہا کیا اللہ پاک کی قدرت پر یقین نہیں ہے؟ تو حضرت نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں علم نہیں ہے؟ تو حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ بالکل اس طرح دریا کے اوپر چہل قدمی کرتے ہوئے جاتے ہیں، اس طرح دریا کے اوپر پر چل رہے ہیں۔ اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ وہ انتظار انہوں نے کیا جب کشتی آئی تو کشتی میں بیٹھ کے چلے گئے۔ اب عوام سمجھتے ہیں کہ حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کا مرتبہ اونچا ہے، کیونکہ دیکھو نا بغیر۔۔۔ لیکن خواص سمجھتے ہیں کہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ چونکہ اس نے مسبب الاسباب کو بھی دیکھا اور اسباب کو بھی دیکھا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ساتھ دیا۔ تو یہ باتیں مطلب عام لوگ چونکہ نہیں جانتے تو وہ اس قسم کی باتیں سوچنے لگتے ہیں۔ لیکن بہرحال اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی قانون نہیں، اللہ پاک خود قوانین بناتا ہے، لہٰذا کوئی کام جس طرح کرنا چاہے اس طرح کر دیتا ہے، اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

                "اس طرح تمام اچھی اور کمال کی صفتیں اس کو حاصل ہیں اور بری اور نقصان کی صفت اس میں کوئی نہیں۔ نہ اس میں کوئی عیب ہے۔ اس کی سب صفتیں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی اور اس کی کوئی صفت کبھی جا نہیں سکتی۔ مخلوق کی صفتوں سے وہ پاک ہے۔"

                یہ تنزیہ ہے، جسے ابھی میں نے ذکر کیا نا، کہ مخلوق کے جو صفات ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کے اپنے صفات ہیں۔

                "اور قرآن و حدیث میں بعض جگہوں پر جو ایسی باتوں کی خبر دی ہے۔ اس کے معنی اللہ کے حوالے کرے کہ وہی اس کی حقیقت جانتا ہے، اور ہم بے کھود و کرید اس طرح اس پر ایمان لاتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ اس کا مطلب ہے وہ ٹھیک ہے، اور حق ہے۔ اور یہی بات بہتر ہے۔ یا اس کے کچھ مناسب معنی کیے جائیں جس سے وہ سمجھ میں آ جائے۔"

                یہ اصل میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انسانی صفات کی طرح نظر آتی ہیں۔ تو اللہ پاک تو انسانی صفات سے پاک ہے۔ تو اس کے لیے پھر ہم یہی کہیں گے کہ اس کا اصل معنی تو اللہ کو پتہ ہے۔ جیسے "اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى"۔ رحمٰن، اللہ پاک ہے، وہ عرش کے اوپر، عام معنی یہی ہے کہ "بیٹھ گیا، استواء کیا"۔ تو لیکن اللہ پاک کے لیے بیٹھنا تو انسانی فعل ہے، وہ تو نہیں ثابت۔ یعنی اللہ جل شانہ تو اپنی شان سے جیسے اللہ تعالیٰ ہے، اس طرح اس کا، اللہ کو پتہ ہے۔ تو اس کے معنی اللہ پاک کے حوالے کرنا بہتر ہے۔

                حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تھا۔ تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: اَلْاِسْتِوَاءُ مَعْلُوْمٌ (استواء تو معلوم ہے) وَالْكَيْفُ مَجْهُوْلٌ (اور اس کا جو کیف ہے وہ مجہول ہے، اس کا پتہ نہیں، کیسے ہے)... وَالسُّؤَالُ عَنْهُ بِدْعَةٌ (اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے)۔ کیونکہ، کیسے بدعت ہے؟ آپ ﷺ سے صحابہ نے نہیں کیا۔ آپ ﷺ سے صحابہ نے نہیں کیا، تو تم کون ہوتے ہو یہ سوال کرتے ہو؟ کیونکہ قرآن پاک کی آیت تو صحابہ کے وقت بھی قرآن ہی تھا نا۔ تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی جس کا جواب دیا جانا ہوتا تو صحابہ پوچھتے، آپ ﷺ خود بتا دیتے۔ یہ بہت بڑا کام ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے نا، "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" جس پر میں چلا ہوں جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ یہ بہت سارے مسائل کا حل ہے۔

                ایک دفعہ فتنہ، ایک برپا ہو گیا تھا، فتنہ خلقِ قرآن، مطلب یہ کہ قرآن مخلوق ہے، کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا۔ تو اس سے بہت بڑا فتنہ ہو گیا، یہ مامون الرشید کے وقت میں شروع ہوا تھا۔ چار پشتوں تک چلا تھا، ، چار بادشاہوں تک چلا تھا۔ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ پر بڑا تشدد کیا گیا تھا، رمضان شریف میں ان کو کوڑے مارے جا رہے تھے۔ روزے سے تھے حضرت۔ تو حضرت فرماتے ہیں مجھے بتاؤ قرآن و سنت میں اگر یہ ہو تو میں، میں کہہ دوں گا۔ تو وہ کہتے ہیں نہیں، تم یہ مان لو۔

                تو خیر ایسا ہے کہ وہ مامون الرشید کے بعد پھر اس کا، پھر دوسرا، چوتھے نمبر پر وہ واثق باللہ وہ بہت یعنی اس کو کہتے ہیں نا سخت، بادشاہ تھا، لوہے کا ٹوپی پہنتا تھا، دربار میں۔ تو وہ بیٹھا ہوا تھا اور قاضی ابن ابو دؤاد جو اس تمام مسئلے کا جڑ تھا، وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک مجذوب نما شخص وہ اپنے تمام حصاروں کو توڑتے ہوئے آیا، کہ میں نے بات پوچھنی ہے۔ تو خلیفہ نے کہہ دیا کہ آنے دو۔ پتا نہیں کیا ضروری بات کرنی ہے۔ تو اس کو آنے دیا۔ انہوں نے کہا کیا پوچھنا ہے؟ کہتا ہے آپ سے نہیں پوچھتا، قاضی ابن ابی دؤاد سے پوچھتا ہوں۔ اس نے کہا پھر پوچھو۔ اس نے کہا، اے ابن ابی دؤاد! یہ تو جو کہتا ہے قرآن مخلوق ہے، کیا حضور ﷺ کو پتا تھا؟ دو باتیں ہو سکتی ہیں، اگر پتا تھا تو بتایا ہوتا، نہیں بتایا تو تو کیوں بتاتا ہے؟ اور مطلب یہ ہے کہ نہیں پتا، پھر تمہیں کیسے پتا ہے؟ اور اس طرح اللہ پاک کو پتا تھا؟ تو اس نے کہا، دو باتیں ہیں یا پتا تھا یا پتا نہیں تھا۔ اگر پتا تھا، اور نہیں بتایا، تو پھر تم کون بتانے والے ہو؟ اور اگر نہیں پتا تو اللہ کو پتا نہیں ہے، تجھے کیسے پتا ہے؟ یہ باتیں اس نے اسی طریقے سے کہیں بادشاہ کے دل پر اثر کر گئیں۔ وہ غصے سے اٹھے اور اپنے گھر گئے اور وہاں سے قاضی ابن ابی دؤاد کے Termination کا Order کر دیا۔ اور قاضی ابن ابی دؤاد گھر تک پہنچے تو اس پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ اور اسی سے وہ مرگیا۔ اللہ پاک کی عذاب میں پکڑ میں آ گیا۔

                تو دیکھو، یعنی انہوں نے کس چیز سے استدلال کیا؟ کہ آپ ﷺ، صحابہ کرام، کتاب اللہ، یہ چیزیں ہیں مطلب بنیاد۔ اگر اس میں کوئی چیز نہیں ہے اور نئی چیز پیدا ہوئی ہے، نئے سوال پیدا ہوئے، ان چیزوں کے بارے میں جو پرانی چیزیں ہیں، ایک تو ہوتا ہے نا جیسے جہاز بعد میں آیا ہوا ہے، اس کے بارے میں ہزار دفعہ پوچھو کوئی مسئلہ نہیں، دین کے خلاف بات نہیں ہے۔ لیکن جو چیز اس وقت بھی تھی، اس وقت بھی موجود تھی، تو اس وقت اگر اس میں کوئی عجیب چیز تھی تو اس کے بارے میں سوال پوچھا جاتا، اور بتا بھی دیا جاتا، تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ہم لوگ یعنی جو باتیں ایسی ہیں جو اللہ پاک کے صفات کے بارے میں ایسے جو انسانی صفات کی طرح ہوں، تو وہ جو ہے نا باتیں عام باتیں نہیں ہیں، اس کے معنی اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دینے چاہئیں۔

                "کوئی چیز اللہ کے ذمے ضروری نہیں، وہ جو کچھ مہربانی کرے اس کا فضل ہے۔"

                یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اللہ کے ذمے کوئی چیز ضروری نہیں، کسی کا حق نہیں ہے۔ اللہ کا سب کے اوپر حق ہے۔

                اب آتا ہے بات، شرک کیا ہے؟

                "اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور اس کے خاص صفات میں اور ان صفات کے اجراء میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے۔"

                یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات میں تو یعنی یہ کوئی کہہ دے کہ دو خدا ہیں، تو وہ تو ظاہر ہے مشرک ہی ہے۔ اور خاص صفات، جو اللہ تعالیٰ کے ہیں، وہ اس میں اگر کسی کو شریک کریں، جیسے مدد ہم اللہ ہی سے مانگتے ہیں اور عبادت ہم اللہ تعالیٰ کی کرتے ہیں۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ اس سورہ فاتحہ میں بتاتے ہیں۔ اب اگر ہم عبادت کسی اور کی کریں، تو شرک ہے۔ اور اگر مدد کسی اور سے مانگیں...

                ایک ہوتا ہے نا ہمارا آپس میں ایک دوسرے سے مدد مانگنا، یہ نہیں ہے شرک۔ یہ اسباب کے دائرے میں آتا ہے۔ ایک ہوتا ہے جس کو کہتے ہیں اسباب سے ماوراء مدد مانگنا۔ جیسے قبروں سے مانگتے ہیں۔ اب ظاہر ہے قبروں والی بات تو اسباب میں شامل نہیں ہے نا۔ وہ تو اسباب میں شامل نہیں ہے، یا بتوں سے مانگنا، یا کچھ اس طرح مانگنا۔ تو یہ شرک ہے۔ مطلب یہ شرک ہے۔ اس میں لوگ وہ نہیں کرتے، تو بعض لوگ جو مشرکین ہیں، مطلب مشرکین سے مراد یہ ہے کہ وہ ان چیزوں میں پڑے ہوئے ہیں، تو وہ ان عام باتوں کی طرف آتے ہیں، "او جی، میں اگر کسی اور چیز، کسی سے مانگوں تو مشرک ہو جاؤں گا؟" بھئی وہاں یہ نہیں، وہ عادی چیز ہے۔ عادی چیز میں مسئلہ نہیں، وہ تو اسباب کے دائرے میں آتا ہے۔ لہٰذا میں آپ سے مانگتا ہوں، آپ مجھ سے مانگتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اسباب سے ماوراء مانگنا۔ جیسے مثال کے طور پر ہم کہہ دیں بھئی، میرا پیر صاحب کراچی میں ہے، اور میں ادھر سے آواز دے دوں کہ یا پیر صاحب! اور وہ سنتے ہیں، میرا خیال ہو کہ وہ سنتے ہیں۔ تو ظاہر ہے یہ شرک ہے۔ مطلب اس، کیونکہ وجہ کیا ہے یہ صفت اللہ کی ہے۔ یہ صفت انسان کی نہیں ہے۔ ہاں Telephone کر لو یہ عادی اسباب ہیں! اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یا آپ سے کوئی دور بیٹھا ہوا ہے، آپ چیخ کر کہہ دیں، پیر صاحب، تو پھر ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں، کیوں، اسباب کی بات ہے نا! وہ عادی بات ہے۔ لیکن اگر اس طرح نہ ہو، عادی بات نہ ہو، تو پھر ندائے غیب جس کو کہتے ہیں ندائے غیب۔ تو ندائے غیب جو ہے نا، صرف اللہ جل شانہ کے لیے ہے کہ آپ اللہ جل شانہ کو کسی جگہ سے بھی پکار سکتے ہیں۔ اس میں پھر کوئی مسئلہ، رکاوٹ نہیں ہے۔ لیکن اس کے علاوہ آپ کسی اور کو پکاریں، تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ یہ بنیادی بات ہے، اور یہ دیکھیں نا یہ لفظ کو دیکھو نا، إِيَّاكَ، تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ "ہی" والا لفظ ہے نا! تیری ہی، یعنی کسی اور کی نہیں۔ تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ اور یہ سورہ فاتحہ، سب پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے؟ سب پڑھتے ہیں۔ پتہ نہیں کوئی اور ترجمہ کرتے ہوں گے؟ مجھے تو پتا نہیں ہے جو اس قسم کی باتوں میں پڑے ہوتے ہیں، ترجمہ تو اس کا یہی ہے۔ لیکن اگر کوئی اور کس طرح پڑھتے ہوں، پتہ نہیں کیا بات ہے۔

                وہ کرتے ہیں نا بعض دفعہ، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن پاک میں: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ۔ تو کہتے ہیں قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ کہہ دو کہ میں تو "میں" ہوں، "بشر" تو تمہاری طرح... إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! یعنی یہ کون سا ترجمہ ہے؟ یہ ہے عوامی ترجمہ۔ یہ عوام کو جاہل سمجھ کر۔۔ بھئی وہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں ایک امام صاحب تھے وہ حافظ نہیں تھے۔ لیکن وہ کمانے کے لیے کہ بھئی پیسے ملیں گے تو جھوٹ سے حافظ بن گئے تھے۔ تو اس نے اپنے پیچھے ایک سامع کو بھی کھڑا کیا تھا کہ کبھی کبھی مجھے دو لقمے دے دیا کرو، وہ ان کو بتا دیا ہوتا، یہ بتا دیا کرو، تاکہ لوگوں کو پتا ہو کہ بھئی اس کو قرآن یاد ہے اور اس کی پکڑ بھی ہوتی ہے مطلب اگر کوئی غلطی ہو۔

                تو اس طرح چل رہا تھا تو ایک دن Actual کوئی حافظ آگیا۔ وہ ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ ان کو پتا چل گیا تو ساری بدمعاشی ہو رہی ہے۔ بھئی تو یہ دونوں حافظ نہیں ہیں۔ تو وہ اس نے کھانسنا شروع کر دیا۔ کہ مطلب یہ بتا دوں کہ بھئی تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: يَا مُتَنَحْنِحُ لَا تَتَنَحْنَحْ... نِصْفٌ لِّي وَنِصْفٌ لَّكَ... هٰذَا قَوْمٌ جَاهِلُوْنَ! آدھا تمھارا اور آدھا میرا... یہ تو جاہل قوم ہے! تو یہ ھذا قوم جاہلون والی بات ہے نا، ان کے سامنے ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی عالم ہو یا تھوڑا بہت شد بد رکھتا ہو، تو اس کے سامنے ترجمہ کیا جا سکتا ہے؟ تو اس قسم کی باتیں جو ہیں وہ، اللہ معاف فرمائے، یعنی جان بوجھ کر اس قسم کی حرکات کرنا یہ بہت، بڑی جرأت کی بات ہے۔ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ اس قسم کی جرأت کون کر سکتا ہے؟ لیکن کرتے ہیں لوگ۔

                یہ مالیات کے معاملے میں اس قسم کی چیزیں چلتی ہیں۔ البتہ اب ایک بات آ رہی ہے۔ کچھ زیادتی دوسری طرف سے بھی ہوتی ہے۔ یہ تو ایک زیادتی ان کی طرف سے ہے نا، دوسری ایک زیادتی دوسری طرف سے بھی ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ تعظیمِ شعائر، شعائر اللہ جو ہے نا تعظیمِ شعائر اللہ، یہ شرک نہیں ہے۔ دیکھئے قرآن پاک کی آیت ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے شرک کیا وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرا۔ یا پھر کسی پرندے نے اسے اچک لیا، یا کسی گہری کھائی میں گرا۔ اس کے فوراً بعد ہے: ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔ اور یہی بات ہے کہ جو شعائر اللہ ہیں، وہ مطلب، اس کا جو تعظیم ہے وہ دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ اب دیکھو، یہ آیتیں ایک دوسرے کے ساتھ جو آئی ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کہ کچھ لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو تعظیمِ شعائر کو شرک سمجھتے ہوں۔ تعظیمِ شعائر کو بھی شرک سمجھتے ہوں۔ مثلاً خانہ کعبہ کا ادب کرنا۔ قرآن کا ادب کرنا۔ نماز کا ادب کرنا۔ صفا مروہ کا ادب کرنا۔ یہ شرک نہیں ہے! یہ تو شعائر اللہ ہیں! اس کا تو ادب اور تعظیم حضور نے سکھائی ہے۔ صحابہ نے کی ہے۔ تو تم کون ہوتے ہو اس کو شرک کہنے والے؟

                کیونکہ بعض لوگ ہر چیز کو شرک کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ کیا وہ حضرات مشرکین تھے نا نعوذ باللہ من ذلک؟ تو یہاں پر یہ گڑبڑ ہو جاتی ہے بعض دفعہ۔ آپ کہتے ہیں بھئی آپ، ویسی باتیں کر رہے ہیں، اس طرح کوئی نہیں کرتا۔ تو کیا خیال ہے جب آپ حرم شریف میں بیٹھے ہوتے ہیں تو آپ کو ایسے لوگ نظر نہیں آتے جو قرآن قرآن پاک زمین پر رکھ لیتے ہیں نا؟ قرآن پاک کو زمین پر رکھ لیتے ہیں نا؟ اچھا خانہ کعبہ کی طرف پیر کر لیتے ہیں، نہیں کرتے؟ مجھے ایک پاکستانی عالم کراچی کے ہیں، اس نے بتایا (وہ ذرا مطلب مرنجان مرنج قسم کا عالم ہے۔ عربی اس کو آتی ہے)۔ تو کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ ایک عرب نے قرآن پاک اس طرح زمین پر رکھا۔ تو اس کو کہا کہ یہ ادھر رکھو، یعنی ریحل پہ رکھو۔ کہتی "مَا فِي مُشْكِلَة، هٰذَا طَاهِر وَهٰذَا طَاهِر"

                ( یہ بھی پاک ہے، یہ بھی پاک ہے)۔ تو اس کو پاک کو زمین پہ رکھ لیا تو کیا فرق پڑتا ہے؟ کہتے ہیں میں نے کہا، موٹے دماغ کا آدمی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ یہ قدم اس کے اوپر رکھ لیں۔ کہتے کیسے؟ "كَيْفَ؟ مُمْكِن؟" کہتے بھئی یہ بھی پاک ہے، یہ بھی پاک ہے! تو پاک کو پاک کے اوپر رکھ لیا تو کیا ہوا؟ بس فوراً اس کے کان کھڑے ہو گئے، نعم نعم، بس ٹھیک ہے جی۔ مطلب ایک بات ان کو سمجھ میں آ گئی کہ بھئی ہر چیز اس طرح نہیں ہوتی۔

                اس طرح میں خود میرے پاس، یہ بات ہو گئی۔ طواف کر کے میں نیچے جا رہا تھا۔ راستے میں میں نے دیکھا کہ ایک مصری تو تھا، دوسرا بھی مصری ہوگا۔ تو ایک لیٹا ہوا ہے خانہ کعبہ کی طرف اس طرح پیر کیے ہوئے۔ میں حیران ہوتا ہوں، خواہ مخواہ خانہ کعبہ کی طرف پیر کرتے ہیں نا! خدا کے بندے، بھئی دوسری طرف بھی کر سکتے ہو! خانہ کعبہ کی طرف پیر کیے ہوئے، دوسرا ساتھ بیٹھا ہوا ہے قران پڑھ رہا ہے۔ تو جاتے جاتے میں نے کچھ بھی بات نہیں کی، میں نے اس کے کان میں جو بیٹھا ہوا تھا، اس کو کہہ دیا: "ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ"۔ یہ آیت پڑھ لی۔ نہ اس کی تشریح کی، تشریح کی اس کو ضرورت بھی نہیں تھی، وہ عرب تھے۔ نہ اس کے بارے میں کچھ بتایا۔ وہ فوراً اٹھا، اپنے ساتھی کو اٹھایا، اس کے پیر خانہ کعبہ کی طرف سے ہٹا دیے، اور پھر اس کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کی۔ سمجھ گئے نا؟

                یہ آیت اس مقصد کے لیے ہے۔ فوراً سمجھ گئے۔ بس یہی بات ہوتی ہے کہ انسان بعض دفعہ اپنی طرف سے باتیں بنا لیتا ہے۔ تو اپنی طرف سے شرک بنانا، یہ بھی جائز نہیں ہے۔ اپنی طرف سے تعظیمِ شعائر کو شرک کہنا، یہ بھی جائز نہیں ہے۔ جیسے حرام کو حلال کہنا جائز نہیں ہے۔ اس طرح حلال کو حرام کہنا جائز نہیں۔ یہ دونوں چیزیں ناممکن ہیں۔ اللہ پاک نے جس چیز کو حلال کیا ہے، وہ حلال ہے، جو چیز حرام ہے وہ حرام ہے۔ جس چیز کو شرک بتایا وہ شرک ہے، جس چیز کو شرک نہیں بتایا وہ شرک نہیں ہے۔ اس کو ہم اپنی طرف سے یعنی اس کے اوپر حکم نہیں لگا سکتے۔

                بعض نادان لوگ شرک کے رد میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ شعائر اللہ کی تعظیم کو بھی شرک قرار دیتے ہیں۔ اس کو تو اللہ نے قرآن شریف میں تقویٰ کی علامت قرار دیا ہے۔ مثلاً خانہ کعبہ کی تعظیم کرنا، رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کرنا، اور اس طرح باقی شعائر اللہ کی تعظیم کرنا۔

                انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں۔

                "بہت سے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر بندوں کو سیدھی راہ بتانے آئے اور وہ سب گناہوں سے پاک ہیں۔"

                یہ عقیدہ ہے ہمارا، معصوم ہیں۔ صحابہ محفوظ ہیں، اور انبیاء معصوم ہیں۔

                "گنتی ان کی پوری، اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ان میں سب سے پہلے آدم علیہ السلام ہیں، اور سب کے بعد حضرت محمد ﷺ ہیں، اور باقی درمیان میں ہوئے۔ ان میں بعض بہت مشہور ہیں، جیسے حضرت نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، الیسع علیہ السلام، یونس علیہ السلام، لوط علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، ذوالکفل علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام۔"

                یہ مطلب، انبیاء کرام علیہم السلام کی جو تعداد ہے اس سے متعلق ہے کہ...

                "سب پیغمبروں کی گنتی اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتائی، اس لیے یوں عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے جتنے پیغمبر ہیں، ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں، جو ہم کو معلوم ہیں ان پر بھی اور جو نہیں معلوم ان پر بھی۔"

                انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان فضیلت سے متعلق۔

                "پیغمبروں میں بعضوں کا مرتبہ بعضوں سے بڑا ہے۔"

                یہاں ایک بات یاد رکھنا چاہیے۔ ایک ہوتا ہے مرتبہ کا بڑا ہونا۔ جو اللہ نے کسی کو مرتبہ دیا ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، وہ تو ہے۔ لیکن اس کے بڑے مرتبے کی وجہ سے دوسرے پیغمبروں کو ناقص کہنا، اس کی اجازت نہیں ہے۔ تنقیص کی نسبت کسی پیغمبر کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ اس سے آپ ﷺ نے روکا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے اپنے بھائی یونس پر فوقیت نہ دو۔" حالانکہ آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ میں سید ولد آدم ہوں (بنی آدم کا سردار ہوں)، لیکن اس پر فخر نہیں کرتا۔ سید ولد آدم میں ہوں لیکن اس پر فخر نہیں کرتا۔ خود فرمایا ہے، لیکن یہ فرمایا کہ یونس علیہ السلام پر مجھے ایسی فوقیت نہ دو کہ اس کی تنقیص ہو جائے۔ تو بعض لوگ جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ گناہوں کی نسبت کرتے ہیں، بس وہ اپنے انجام کو خود ہی سوچیں۔ کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔

                کیونکہ بعض لوگ اس معاملے میں بڑے غیر محتاط ہوتے ہیں۔ وہ یہود کی طرح، یہ یہود کا طریقہ ہے۔ پیغمبروں کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ ان کا طریقہ ہے۔ عیسائی تو ان کو خدا کے برابر مان لیتے ہیں نا، وہ تو دوسرا ایکسٹریم (Extreme) ہے۔ لیکن یہود جو ہیں وہ پیغمبروں کو بالکل عام لوگوں کی طرح، جیسے مصلح ہوتا ہے نا کوئی بس اس کو (Prophet) انگریزی میں اس کو کہتے ہیں نا)۔ تو مطلب Prophet میں پورا مفہوم نہیں آتا پیغمبر کا۔ تو وہ کہتے ہیں بس ہم میں ذرا اچھے تھے۔ اس طرح ان کو سمجھتے ہیں۔ حالانکہ پیغمبر اور عام لوگوں کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ پیغمبر، پیغمبر ہیں۔ تو وہ پیغمبروں کے بارے میں ایسی بے سر و پا باتیں انہوں نے بنائی ہوئی ہیں، جو بعض دفعہ تو ایک عام آدمی بھی نہیں کر سکتا، ایک عام آدمی بھی نہیں کر سکتا جو کہ پیغمبروں کے ساتھ وہ منسوب کرتے ہیں۔ تو ایسے ظالم ہمارے اندر بھی ہیں۔ تو ایسے ظالم ہمارے اندر بھی ہیں۔ نام میں نہیں لیتا، آپ خود ہی تلاش کر لیں۔ کیونکہ میرا یہاں پر بیٹھنا ایک خاص سیاسی مقصد کے لیے بھی نہیں ہے، نہ کسی مقابلے کے لیے۔ میں تو صرف وہ بات کرتا ہوں جو ہمیں اللہ اور اللہ کے نبی کی طرف سے پہنچی ہے۔ اس کی بات کرتا ہوں۔ تو اس میں بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اٹھارہ پیغمبروں کی گستاخی کرنے والے بھی ہیں۔ جس میں سے یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ انہوں نے جو عزیزِ مصر بننے کا سوال کیا کہ مجھے وزیر خزانہ بنا دو، تو یہ صرف وزیر خزانہ کا سوال نہیں تھا، بلکہ اس ڈکٹیٹر شپ کا مطالبہ تھا جو اٹلی میں مسولینی کو حاصل ہے۔ اب نبی کی طرف ڈکٹیٹر کی نسبت... اتنی بڑی جہالت ہے۔ اسی طریقے سے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ناتجربہ کار گڈریے کی طرح اپنی مفتوحہ زمینوں کو پیچھے چھوڑتے تھے اور آگے بڑھتے تھے۔ کیا بات ہے جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں (اذا جاء نصر اللہ والفتح۔۔۔) کہا کہ اے نبی! جو تجھ سے دورِ نبوت میں غلطیاں ہوئی ہیں، اس پہ استغفار کریں۔ دورِ نبوت میں! ایسے عجیب... اور لوگ اس کو بھی برداشت کر لیتے ہیں، پی جاتے ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ اس قسم کی باتوں کو کیسے پی جاتے ہیں؟ یہ بہت غلط باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

                اس طرح صحابہ کے بارے میں بھی باتیں کی ہیں۔ تو وہ بھی ٹھیک نہیں۔ صحابہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روکا ہے ہمیں۔ فرمایا: «اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ»

                اے میری امتیو! میرے صحابہ کے بارے میں میرے بعد ان کو ملامت نہ کیا کرو۔ جو ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں اصل میں میرے ساتھ محبت کی وجہ سے محبت کرتے ہیں، اور جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھتے ہیں۔ اب اس کے بعد کسی کا کوئی دل گردہ ہو سکتا ہے جو ان کے خلاف وہ کرے؟ بھئی ان سے جو ہوا ہے وہ تکوینی طور پر ہوا ہے۔ تکوینی طور پہ کیسے ہوا؟ اس کے ذریعے سے مسائل آئے ہیں، اس کے ذریعے سے مسائل ہمیں بتائے گئے ہیں کہ کس چیز کا کیا حکم ہے۔ یعنی اس وقت اگر چوری نہ ہوتی اور چوری کی سزا نہ ہوتی، تو آج کون چوری کی سزا دے سکتا؟ یہ تو ہے نا! پھر اسکے بعد ان کو توبہ بھی تو اس وقت نصیب کا ہوا نا ۔ ایسا توبہ، جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سارے حجاز والوں میں (تقسیم) کی جائے تو ان کے لیے بھی کافی ہے۔ توبہ بھی تو ان کا ہے نا پھر۔۔

                تو بہرحال یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ باتیں اس سے ہمیں بچنا چاہیے۔ کسی کا سیاسی طور پر ساتھ دینا اور بات ہے، اور کسی کے برے عقیدوں کا ساتھ دینا اور بات ہے۔ کسی کے برے عقیدوں کا ساتھ دینا نہیں چاہیے کیونکہ وہاں پر آپ کو وہ بچا نہیں سکے گا۔ وہاں جب فیصلہ ہوگا، تو کوئی کسی کو نہیں بچا سکے گا۔ اس وجہ سے کوئی بھی کسی ایسے شخص کے پیچھے نہ جائے جو اس قسم کی باتیں کرتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

                اچھا، پیغمبروں میں بعضوں کا مرتبہ بعضوں سے بڑا ہے، سب سے زیادہ مرتبہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، اور آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر نہیں آسکتا۔ قیامت تک جتنے آدمی اور جن ہوں گے آپ سب کے پیغمبر ہیں۔

                سب کے پیغمبر ہیں۔ اور جنوں کا تو باقاعدہ سورۃ جن میں آیا ہوا ہے نا، کہ وہ مطلب دیکھ رہے تھے، پرواز کر رہے تھے کہ کوئی بات ہوئی ہے Change آیا ہے کائنات میں کہ ہم لوگوں کو اب اوپر نہیں جانے دیا جارہا۔ کوئی بات ہوئی ہے آخر یہ کیا ہے۔ پتا نہیں اللہ پاک نے ہمارے لیے فائدے کے لیے کیا ہے یا ہمیں سزا دینے کے لیے کیا مسئلہ ہے؟ تو تلاش میں جا رہے تھے۔ تو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک مقام پر نماز پڑھا رہے تھے، قرآن پاک پڑھ رہے تھے۔ تو یہ ٹھہر گئے اور قرآن کو سنا۔ تو قرآن سے متاثر ہوئے اور ایمان لائے۔ لیکن یہاں دیکھیے آپ ﷺ کو اس کا پتا ہی نہیں لگا۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا، قرآن میں بتایا۔ تو ظاہر ہے مسلمان ہو گئے۔ تو ایمان آپ ﷺ پر لے آئے۔ تو جن جتنے بھی ہیں، ان سب کا بھی پیغمبر آپ ﷺ ہیں، اور انسانوں کے تو ہیں ہی۔





                اللہ تعالیٰ کی صفات، شرک کی حقیقت اور انبیاء کرام علیہم السلام کا مقام - عقائد