حضرت نے فرمایا ہے...
کہ جہاں شب و روز کا وہ نظام موجود نہیں جو باقی متمدن دنیا میں ہے، مثلاً جن مقامات میں کئی مہینوں کے دن اور کئی مہینوں کی راتیں ہوتی ہیں وہاں رمضان... وہاں رمضان کی آمد کا سوال ہی نہیں۔ ہاں اگر وہاں کے مسلمان چاہیں تو بقیہ متمدن ممالک کے کیلنڈر تقویم کو معیار مان کر روزے رکھیں اور کھولیں، جیسا کہ حدیث دجال سے جو صحاح میں ہے ثابت ہے۔ لیکن جہاں 18-18 اور 20-20 گھنٹوں کے دن ہوتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ وہاں موسم ٹھنڈا اور بارد بنایا گیا ہے۔ تاکہ روزہ کی تکلیف دن کی مدت بڑھنے سے جو ہو سکتی تھی، وہ موسم کی برودت سے کم ہو جائے۔ چنانچہ انگلستان میں مجھے خود اور بہت سے مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا اتفاق ہوا اور بالکل تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ یہ بات صحیح ہے، موسم ٹھنڈا ہوتا ہے نا تو ان کو اتنا زیادہ مطلب جو ہے نا فرق وہ نہیں پڑتا، فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زیادہ تر انسان تنگ پیاس سے ہوتا ہے۔ اور آج کل کے دور میں تو 22 گھنٹے کا جو fasting ہے وہ تو ڈاکٹر لوگ بھی کرواتے ہیں۔ تو اب ظاہر ہے اگر 22 گھنٹے کے بعد وہ 2 گھنٹے کے لیے کھانے کا موقع مل جائے تو ٹھیک ہے، وہی چیز ہے۔ موسم ٹھنڈا ہے پانی کا مسئلہ بھی نہیں، تو لہٰذا Intermittent fasting والا rule medically applicable ہے۔
معذورین:
جو لوگ حقیقت میں اس فریضہ صیام کے ادا کرنے سے معذور ہوں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسانیاں رکھی ہیں، اسی لئے ارشاد ہے:
﴿يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 185)
اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور سختی تمہارے ساتھ نہیں چاہتا۔
اس اصولی تمہید کے بعد مسافر اور بیمار کو رخصت عطا فرمائی کہ رمضان کے کسی روزہ کے یا پورے رمضان کے روزوں میں اگر کوئی سفر یا بیماری کے عذر کی بناء پر روزہ نہ رکھ سکے تو وہ اس عذر کے دفع ہونے کے بعد قضا روزے کو پورا کر لے۔
بیمار کے دو معنی ہیں یا تو وہ فعلاً بیمار ہو یا یہ کہ کسی مسلمان متقی طبیب کا مشورہ ہو کہ اگر یہ شخص روزے رکھے گا تو بیمار ہو جائے گا یا بار بار کے تجربوں کے بعد اس شخص کو خود غالب گمان ہو جائے کہ وہ اس سے بیمار ہو جاتا ہے تو اس کے لئے مناسب ہے کہ رمضان کا روزہ عذر کی موجودگی تک قضا کرے اور اس کے بجائے دوسرے مناسب موقع پر قضا رکھے۔ فرمایا:
﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 184)
تو جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں روزہ کی گنتی پوری کرے۔
اسی سلسلہ میں ایک اور آیت ہے جس کی تفسیر اور تاویل میں صحابہ کے عہد سے اختلاف ہے وہ آیت یہ ہے۔
﴿وَعَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 184)
اور جن لوگوں کو روزہ کی طاقت نہ ہو وہ فدیہ ادا کریں ایک مسکین کا کھانا۔
1۔ بعض صحابہ کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اولِ رمضان سے پہلے چند روزے فرض ہوئے تھے۔ ان روزوں کے متعلق یہ اجازت تھی کہ چاہے روزے رکھیں چاہے روزے کے بجائے ایک مسکین کا کھانا ہر روزہ کی جگہ دیں رمضان کی فرضیت کے بعد یہ اجازت منسوخ ہو گئی۔
2۔ دوسری روایت یہ ہے کہ "يطيقونه" کی ضمیر صوم کی طرف نہیں بلکہ طعام کی طرف ہے۔ اس صورت میں آیت کا یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ فدیہ کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے ساتھ ایک مسکین کا کھانا بھی فدیہ ادا کریں بعد کو یہ حکم منسوخ ہو گیا، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس طعامِ مسکین کے فدیہ سے صدقۃ الفطر مراد لیا ہے جو رمضان کے بعد ہر مستطیع روزہ دار اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرتا ہے (الفوز الکبیر باب ناسخ و منسوخ)۔
3۔ تیسری روایت یہ ہے کہ یہ حکم غیر منسوخ ہے اور یہ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جو روزوں سے معذور ہوں جیسے بوڑھے اور حاملہ۔
اصل یہ ہے کہ لفظ "يطيقون" کے لغوی معنی کی تحقیق نہیں کی گئی ہے "اطاعت" کو "وسع" کے معنی میں سمجھا گیا ہے اور "يطيقون" کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا دیں ‘تو اس ترجمہ کے مطابق یا تو نسخ ماننا پڑے گا اور یا آج کل کے بعض آزاد خیالوں کی رائے کے مطابق یہ کہنا پڑے گا کہ جو روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ بھی روزہ کے بجائے فدیہ دے کر روزہ سے بچ سکتے ہیں ‘حالانکہ یہ صریحاً غلط ہے، اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ غرباء روزے رکھیں اور امراء فدیہ دے کر روزہ سے مستثنیٰ ہو جائیں۔ ایسی تفریق اسلام کے فرائض میں کبھی روا نہیں رکھی گئی ہے اور اسلام کا تواترِ عمل اس کے بالکل خلاف ہے اور آیتِ مابعد کہ "فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ" (جو رمضان کے مہینہ میں ہو وہ مہینہ بھر روزہ رکھے) کے سراسر منافی ہے۔
تحقیق یہ ہے کہ اطاقت کے معنی کسی کام کو مشکل کے ساتھ کر سکنے کے ہیں اس لئے "يطيقونه" کا ترجمہ یہ ہو گا کہ جو بمشکل روزے رکھ سکتے ہیں وہ روزہ کے بجائے ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں۔۔
اس میں بڑی تفصیل... اب روزے کے سلسلے میں معذوروں کی دو صورتیں ہوئیں۔ ایک یہ کہ عذر ہنگامی اور عارضی ہو جیسے مرض یا خوف یا سفر، تو ان کے لیے آیت ہے: فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔ جو تم میں سے روزے یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی ہے۔ یعنی عذر کے وقت کے وہ روزہ نہ رکھے اور اس پر چھوڑے ہوئے روزے کی گنتی دوسرے مناسب وقت رکھ کر پوری کر لے۔ اور اس میں حاملہ اور دودھ پلانے والی بھی داخل ہو گئی۔ اگر حاملہ یا مرضعہ کی اپنی بیماری یا بچے کی بیماری کا خوف ہو تو عذر کے باوجود موجودگی تک روزہ نہ رکھے۔ تو اس عذر کے دور ہونے کے بعد قضا رکھ لے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ عذر دائمی اور ناقابل ازالہ ہو جیسے کوئی دائم المرض ہو، جیسے بہت ہی کمزور اور بوڑھا شیخ فانی ہو۔ جو بمشکل روزے رکھتا ہو تو وہ روزہ قضا کر لے اور ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دے۔ اس کے لیے یہ آیت ہے: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ۔ اور ظاہر ہے کہ جو اس مشکل روزہ پر قادر ہو تو اس کی فدیے کی اجازت ہے۔ تو جو بالکل قادر نہ ہو اس کو تو بالاولیٰ فدیے کی اجازت ہوگی: لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا۔
روزہ پر اعتراض اور اس کا جواب:
علم اور فطرت شناسی کے بعض مدعی جو عام عبادات اور پرستش کی غرض و غایت یہ قرار دیتے ہیں کہ وحشی انسانوں کا تخیل یہ ہے کہ خدا ہماری جسمانی تکلیف اٹھانے سے خوش ہوتا ہے۔ وہ روزے کی حقیقت بھی صرف اس قدر سمجھتے ہیں کہ خدا کی خوشنودی کے لیے جسمانی زحمت کشی ہے۔ ان غلط فہمیوں کے لیے دیگر مذاہب میں گو لغزش گاہیں موجود ہیں چنانچہ جوگیوں اور جینیوں میں روزہ کی غیر معمولی مدت اس کی سختی اس معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہودیوں کی اصطلاح میں روزے کے لیے نفس کو دکھ دینے کی اصطلاح جاری ہے۔ چنانچہ تورات میں روزہ کے لیے اکثر اس قسم کا فقرہ مستعمل ہے۔
اور یہ تمہارے لیے ایک قانون دائمی ہوگا کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ میں تم میں سے ہر ایک خواہ تمہارے دیس کا ہو خواہ پردیسی جس کی بود و باش تم میں ہے اپنی جان کو دکھ دے۔ تورات کے سفر عدد میں ہے: اور ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ مقدس جماعت ہوگی اور تم اپنی جانوں کو دکھ دو اور کچھ کام نہ کرو۔ یہ اصطلاح تورات کے اور بھی مقامات میں مذکور ہے۔ لیکن قرآن مجید نے اس کے جو الفاظ استعمال کیے وہ "صوم" ہے۔ "صوم" کے لفظی معنی احتراز و اجتناب اور خاموشی کے ہیں۔
جیسے صاف ظاہر ہے کہ اسلام کا روزہ کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدا نے قرآن پاک میں مسلمانوں کو جہاں روزہ کا حکم دیا ہے، وہیں یہ الفاظ بھی اضافہ فرما دیے ہیں: يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۔ خدا تمہارے ساتھ نرمی چاہتا ہے سختی نہیں چاہتا۔ اسلام کا عام قانون یہ ہے: لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا۔ خدا کسی جان میں اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف کسی کو نہیں دیتا۔
قرآن نے اپنے مبلغ کی توصیف ان الفاظ میں کی ہے: يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ۔ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے برائیوں سے روکتا ہے پاکیزہ چیزوں کا ان کے لیے حلال کرتا ہے گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے اور طوق اور زنجیروں کو جو ان کے اوپر پڑی ہیں ان میں سے ان سے اتارتا ہے۔
ان امور کا منشاء ہے کہ اسلامی عبادات و احکام میں کوئی چیز بھی اس غرض سے نہیں کہ انسانی جان کو دکھ پہنچایا جائے۔ روزہ بھی اس سلسلے میں داخل ہے اس لیے اسلام میں روزہ کی ان سختیوں کو جو لوگوں نے بڑبڑا رکھی تھیں وہ بتدریج کم کر دیے گئے۔
روزہ میں اصلاحات:
اسلام نے روزہ کی سختیوں کو جس حد تک کم کیا اس میں جو سہولتیں پیدا کیں وہ حسب ذیل ہیں۔
نمبر 1۔ سب سے اول یہ کہ اسلام نے پہلے سے پہلے جو الہامی یا غیر الہامی مذہب تھے ان میں سے اکثر روزہ صرف پیروؤں کی کسی خاص جماعت پر فرض تھا۔ مثلاً ہندوؤں میں غیر برہمن کے لیے کوئی روزہ نہیں۔ پارسیوں کے ہاں صرف دستور اور پیشوا کے لیے روزہ ہے۔ یونانیوں میں صرف عورتوں کے لیے روزہ تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر روزہ کوئی اچھی چیز ہے تو تمام پیروان مذہب کے لیے برابر طور سے ضروری ہے۔ اسلام میں پیشوا، غیر پیشوا، عورت مرد کی کوئی تخصیص نہیں، اس نے ان تمام پیروؤں کو حکم دیا کہ اس میں کسی چیز کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ۔
اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں عموماً شمسی سال معتبر ہے۔ شمسی سال میں روزہ کی جو تاریخیں جن موسموں میں متعین ہوں گی ان میں تغیر و تبدل ناممکن ہے۔ اس بنا پر اگر وہ گرمی یا سردی کے موسم میں چھوٹے یا بڑے دنوں میں واقع ہوتے ہیں تو مختلف ممالک میں ہمیشہ کے لیے تکلیف دہ یا ہمیشہ کے لیے آرام دہ ہوں گی۔ اسلام کے روزوں میں تاریخی قمری مہینوں کے مطابق ہیں، جو موسم اور چھوٹے بڑے دنوں کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے اسلامی روزہ کا مہینہ ہر ملک میں ہر موسم میں آتا ہے اور اس بنا پر اس کی سختی و نرمی بدلتی رہتی ہے۔
نمبر 3۔ جہاں تک دیگر مذاہب کی الہامی کتابوں کے پڑھنے کا موقع ملا ہے، روزہ کی تاکید اور حکم کے متعلق کسی حالت میں انسان کی تخصیص اور استثناء نظر سے نہیں گزری۔ تورات میں تو یقیناً مذکور نہیں، بلکہ یہاں تک ہے کہ اگر کسی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو کٹ جائے گا یا قتل ہو جائے گا۔ بلکہ اس پر دیسی پر بھی اگر روزہ فرض ہے تو جو کہ یہود، جو گویا یہودی نہیں، مگر یہودیوں کے پاس آ کر رہ ہو۔ لیکن قرآن مجید نے نہایت فطرت شناسی کے ساتھ ہر قسم کے معذور مجبور لوگوں کو اس حکم سے مستثنیٰ کر دیا۔ بچے مستثنیٰ ہیں، عورتیں ایام حمل و رضاعت اور دیگر مخصوص ایام میں روزہ سے مستثنیٰ ہیں۔ بڈھے، بیمار، مسافر مستثنیٰ ہیں، کمزور اشخاص جو روزے پر فطرتاً قادر نہیں مستثنیٰ ہیں۔ بیمار مسافر اور عارضی معذور بیماری کے دفعہ ہونے کے بعد مسافر حالت سفر عذر کے دفعہ ہونے کے بعد اتنے دنوں کی قضاء بعد کو رکھیں اور جو دائمی طور سے معذور ہیں وہ روزہ کی بجائے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ۔
اگر تم میں کوئی بیمار ہو مسافر ہو رمضان کے بعد ان دنوں میں روزے رکھ لے اور جو لوگ بمشکل روزہ رکھ سکتے ہیں ان پر بھی ایک مسکین کا کھانا ہے۔ ترمذی میں ہے: عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنْ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَعَنْ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے حاملہ اور دودھ پلانے والی سے روزہ اتار لیا ہے۔ یعنی رمضان میں روزہ رکھنے سے ان کی بچے کو جان کو خطرہ ہو تو روزہ قضاء کر کے رفع عذر کے بعد قضاء رکھیں۔
نمبر 4۔ اور مذہبوں میں روزہ کے ایام نہایت غیر معتدلانہ تھے۔ یا تو 40-40 روزہ کا فاقہ تھا، یا روزہ کے دنوں میں غلہ اور گوشت کے علاوہ پھل تک کھانے کی اجازت تھی۔ اسلام نے اس میں بھی توسط اختیار کیا، یعنی روزہ کے اوقات میں گو ہر قسم کے کھانے پینے سے روک دیا مگر اس کی مدت ایک مہینے تک صرف آفتاب کے طلوع سے غروب تک چند گھنٹوں میں مقرر کی۔
جینیوں کے ہاں ایک ایک روزہ ہفتوں کا ہوتا تھا۔ عرب کے عیسائی راہب کئی کئی روز کا روزہ رکھتے تھے۔ یہودیوں کے ہاں پورے 24 گھنٹے کا روزہ تھا۔ اسلام نے صرف صبح سے شام تک کا روزہ قرار دیا۔ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ۔
یہودیوں کے ہاں روزہ کھولنے کے وقت ایک دفعہ جو کھا لیتے تھے، کھا لیتے تھے۔ پھر نہیں کھا سکتے تھے۔ یعنی اس وقت سے دوسرا روزہ شروع ہوجاتا یعنی 24 گھنٹے کا روزہ ہوتا تھا۔ عرب میں رواج تھا کہ سونے سے پہلے جو کھا لیتے تھے سو کھا لیتے۔ سو جانے کے بعد کھانا پینا جائز نہیں ہوتا تھا۔ ابتداء میں اسلام میں بھی یہی قاعدہ تھا۔ ایک دفعہ رمضان کا زمانہ تھا ایک صحابی کے گھر میں شام کا کھانا نہیں تیار ہوا۔ ان کی بیوی کھانا پکانے لگیں۔ وہ انتظار کرتے کرتے سو گئے۔ کھانا پک چکا تو ان کی بیوی کھانا لے کر آئیں اور سو چکے تھے۔ اس لیے کھانا نہیں کھا سکتے تھے۔ دوسرے روز بھی روزے کا دن تھا۔ ان کو غش آ گیا۔ اس پر یہ آیت اتری: وَكُلُواْ وَاشْرَبُواْ حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک رات کا تاریک خط صبح کے سفید خط سے ممتاز نہ ہو جائے۔
نمبر 7۔ جاہلیت میں دستور تھا کہ روزہ کے دنوں میں راتوں کو میاں بیوی علیحدہ رہتے تھے، لیکن چونکہ مدت غیر فطری تھی، اکثر لوگ اس میں مجبور ہو کر نفسانی خیانت کے مرتکب ہو جاتے تھے۔ اس لیے اسلام نے صرف روزہ کی حالت تک کے لیے ممانعت محدود کر دی اور رات کو اجازت دے دی: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَآئِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللّٰهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُواْ مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۔ روزے کی شب میں بیویوں سے مقاربت تمہارے لیے حلال کی گئی وہ تمہاری پوشاک ہے اور تم ان کی، خدا جانتا ہے کہ تم اپنے نفس سے خیانت کرتے تھے، تو اس نے معاف کر دیا، اب بیوی سے ملو جلو، خدا نے تمہارے مقدر میں جو رکھ چھوڑا ہے یعنی اولاد اس کی تلاش کرو۔
نمبر 8۔ بھول چوک اور خطا و نسیان اسلام میں معاف ہے۔ اس بنا پر اگر بھولے سے روزہ دار کچھ کھا پی لے، یا کوئی اور کام بھولے سے کر بیٹھے جو روزے کے خلاف ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ "مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقُ اللهِ"۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مروی کہ جو بھول کر کھائے پیئے تو اسے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کو خدا کی روزی تھی۔
نمبر 9۔ اس طرح ان افعال سے جو روزہ کے منافی ہیں، لیکن قصداً سرزد نہیں بلکہ بالارادہ خود بخود سرزد ہونے والے ان سے روزے نہیں ٹوٹتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ۔ پیغمبر خدا نے فرمایا کہ جس کو خود بخود قے ہو گئی یا سوتے میں غسل کی ضرورت پیدا گئی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔
نمبر 10۔ یہودیوں میں اکثر روزے چونکہ مصائب کی یادگار اور غم کی علامت ہیں اس لیے روزہ کی حالت میں وہ زیب و زینت نہیں کرتے تھے اور غم کی صورت بنا کر رکھتے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، جب تم روزہ رکھو اور ریا کاروں کی مانند اپنے چہرے اداس نہ بناؤ۔ کیونکہ وہ اپنے منہ بگاڑتے ہیں کہ لوگوں کے نزدیک روزہ دار ظاہر ہوں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا بدلہ پا چکے، جب تم روزہ رکھو تو اپنے سر پر چکنائی لگاؤ اور منہ دھو، تاکہ تو آدمیوں نے بلکہ اپنے باپ پر جو پوشیدہ ہے روزہ دار ظاہر ہو اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے آشکارا تجھے بدلہ دے دے۔
اسلام میں بھی روزہ کی اصل خوبی یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں سر میں تیل ڈالنا، سرمہ لگانا، خوشبو ملنا، اسلام میں روزہ کے منافی نہیں۔ منہ دھونے اور مسواک کی بھی تاکید ہے اس سے طہارت اور پاکی کے علاوہ یہ غرض بھی ہے کہ روزہ دار ظاہری پریشان حالی اور پراگندگی کی نمائش کر کے ریا میں گرفتار نہ ہو۔ اور نا ہی اظہارِ کہ اس فرض کے ادا کرنے میں خدا اور اس کے حکم بجا لانے میں نہایت تکلیف، مشقت اور کوفت برداشت کر رہا ہے، بلکہ ہنسی خوشی، رضامندی اور مسرت ظاہر ہو۔
11۔ روزہ دوسری عبادتوں کے مقابلے میں ظاہر ہے کہ اس کی کچھ نہ کچھ تکلف، تکلیف اور مشقت کی چیز ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ عام افراد امت میں اس میں غلو اور تعمق سے باز رکھا جائے۔ خدا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیشتر روزے رکھتے تھے، مہینوں میں کچھ دن مقرر تھے، ہفتوں میں کچھ دن مقرر تھے، ان کے علاوہ کبھی کبھی رات دن کا متصل روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔ لیکن دوسرے روزوں کو صرف استحباب تک رکھا اور رات دن کے متصل روزہ کو تو مطلقا ممانعت فرمائی۔ بعض صحابہ نے سبب دریافت فرمایا:"أَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"
۔ تم میں مجھ سے کون ہے؟ مجھ کو تو میرا خدا کھلاتا پلاتا ہے یعنی روحانی غذا۔ لوگوں نے اصرار کیا، آپ نے تو کئی مسلسل روزے رکھنے شروع کیے، جب مہینہ گزر گیا تو بطور سرزنش کے فرمایا اگر مہینہ ختم نہ گیا ہوتا تو اس سلسلے کو اور بڑھاتا۔
اللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ انشاءاللہ دعا یہ افطاری کے وقت ہوگی۔