اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْمُزَكِّیْ الْكَرِیْمِ: اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیْمِ
﴿یٰۤـاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴾ ﴿التوبہ: 119﴾اس کا جو خطبہ ہے یہ میں نے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریفہ والا خطبہ یہاں لکھا ہے۔ حضرت کا گویا کہ یہی ہوتا تھا سٹارٹ۔
ترجمہ: ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور ایمان و عمل کے سچوں کے ساتھ رہو‘‘۔﴿التوبہ: 119﴾
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس وقت کے سچوں کے ساتھ بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ بھی نصیب فرمائے۔ آمین
تصوف دین کا ایک ایسا شعبہ ہے کہ اس کا جو مقصد بتایا جاتا ہے اس سے کوئی بھی دیندار مستغنی نہیں ہو سکتا۔ یہ انبیاء کی سنت ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اس لئے ہر ایک پر لازم ہے کہ اس کے بنیادی مقاصد تک رسائی حاصل کرے۔ جہاں تک اس کے ذرائع کا تعلق ہے تو ان ذرائع سے جب تک اصل مقاصد پورے ہو رہے ہوں تب تک ان میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب ان سے وہ مقاصد پورے نہ ہو رہے ہوں جن کا تصوف میں حاصل کرنا ضروری ہے، تو پھر ان ذرائع کے ساتھ چمٹنے میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔ ان کو ایسا بدلنا کہ ان سے مقصود حاصل ہو، ضروری ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اس میں کوئی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
اس شعبے کا چونکہ باطن کے ساتھ تعلق ہے جس کا ہر ایک کو پتا نہیں چلتا، اس لئے اس میں دو طرح کے غیر پسندیدہ تغیرات اکثر و بیشتر وجود میں آتے رہتے ہیں، جن کی پیش بندی اس فن کے ذمہ داروں کے ذمے لازمی ہوتی ہے۔ ان میں پہلا تغیر ان لوگوں کی وجہ سے آتا ہے جو جان بوجھ کر تصوف کو بگاڑنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں۔ اپنا ایجنڈا ہوتا ہے ان کا۔ مثلاً غامدی، یا کوئی اور اس قسم کا جن کو ایک چیز کو بگاڑنا ہی آتا ہے کہ بھئی اس کو میں خراب کر کے دکھاؤں تاکہ لوگ اس سے متنفر ہو جائیں۔ کیونکہ ان کے سفلی مقاصد اس بگاڑ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہیں۔ لیکن اپنے سفلی مقاصد کی وجہ سے اس کا اقرار نہیں کرتے اور مخلوقِ خدا کو دین سے برگشتہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کو قرآن میں ’’اَلۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ‘‘ (وہ لوگ جن پر اللہ جل جلالہٗ کا غضب نازل ہوا) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی صحبت سے ہر مؤمن کو بچائے۔ کیونکہ یہ ایمان کے ڈاکو ہوتے ہیں، یہ لوگ اولیائے کرام کی باتوں کی غلط تعبیریں کرتے ہیں اور قرآن و سنت کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ مثلاً وحدت الوجود کے نام پر شرک اور معرفت کے نام پر الحاد پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ دوسرا تغیر ان لوگوں کی وجہ سے آتا ہے جو تصوف کے اصل مفاہیم سے واقف نہیں ہوتے۔ جاہل ہوتے ہیں۔ وہ لوگ سنی سنائی باتوں کو بغیر تحقیق کیے پھیلاتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ مقاصد کو ذرائع اور ذرائع کو مقاصد بنا دیتے ہیں۔کیسے؟ مطلب یہ کہ وہ مقاصد کو ذرائع، یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو مقصد ہے اس کو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ذریعہ بن جائے۔ اور ذرائع کو مقاصد بناتے ہیں۔ اب مثال کے طور پر اللہ پاک نے فرمایا ہے: اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ۔ یہ تو اللہ پاک نے اس کو ذریعہ بنایا ہے۔ تو اس سے ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے کسی اور ذریعے کی ضرورت ہی نہیں، تصوف کی کیا ضرورت ہے بس نماز سے یہ کام ہوتا ہے نا۔ تو اب بات اس کی سرسری طور پر بالکل صحیح ہے، لیکن فی الحقیقت کیا اس کو وہ چیز حاصل ہو رہی ہے؟ مثلاً کسی کی نماز ہی نہیں صحیح، کیا اس کے اندر یہ Property ہوگی؟ اس کے اندر یہ Property نہیں ہوگی۔ اب نماز کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ نماز کا جو ظاہر ہے مسائل ہیں، آپ نے رکوع صحیح کیا ہے، سجدہ صحیح کیا ہے، قومہ صحیح کیا ہے، جلسہ صحیح کیا ہے، قراءت صحیح کی ہے، یہ اس کا ظاہر ہے۔ یہ تو صحیح ہونا چاہیے ورنہ نماز ہی ٹوٹ جائے گی۔ لیکن آیا آپ کی نماز میں خشوع ہے؟ آپ کی نماز میں اخلاص ہے؟ آپ کی نماز میں توجہ الی اللہ ہے؟ یہ ساری چیزیں اگر نہیں ہیں تو بے شک سارے مسائل کے مطابق نمازیں ٹھیک ہوں، کیا اس کا اثر وہ ہوگا؟ کیوں قرآن پاک میں ہے: وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَ اَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز خشوع کے ساتھ وابستہ کیا ہے، خشوع کے بغیر تم کیسے حاصل کر سکتے ہو؟ تو جو نماز تو پڑھتا ہے اس کے اندر خشوع نہیں، تو کیا خشوع اس کے نماز کے پڑھنے سے آئے گی؟ سمجھ میں آگئی نا بات۔ اب خشوع آپ کا مقصد ہے۔ تو اب اسی کو ذریعہ بنا رہے کہ خشوع حاصل ہو جائے اس سے؟ وہ تو آپ کا ٹارگٹ ہے۔ تو Target is Target۔ تو ٹارگٹ کو تو حاصل کرنا ہے، تو خشوع حاصل کرنے کے لیے کچھ اور کرنا پڑے گا نا، تو وہ جو اور کرنا پڑ رہا ہے وہی تصوف ہے۔ کیا چیز ہے وہ؟ وہی تصوف ہے۔ تو تصوف سے آپ خشوع حاصل کر رہے ہیں، تصوف کے ساتھ اخلاص حاصل کر لیں، تصوف کے ساتھ توجہ الی اللہ حاصل کر لیں۔ یہ چیزیں حاصل آپ کی نماز نماز بن گئی۔ اب اس کے اندر وہ چیز حاصل ہے جو اللہ پاک نے فرمایا اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ۔ بھئی ایک گاڑی ہے، ماڈل ایسا ہے کہ 200 کلومیٹر Per hour کی رفتار سے بھاگ سکتی ہے دوڑ سکتی ہے، لیکن اس کا سسٹم خراب ہو گیا۔ اور وہ 30 کلومیٹر سے زیادہ نہیں دوڑ سکتی۔ اور آپ کسی کو کہتے یہ وہ گاڑی جو 200 کلومیٹر کی سپیڈ سے جائے گی، وہ بیچارے کیلکولیٹ کر دے کہ میں اتنی دیر میں پہنچ جاؤں گا، پتہ چلا کہ وہ تو راستے میں ہی رہ گیا، کیوں گاڑی ٹھیک نہیں ہے؟ تو سب سے پہلے اس کو گاڑی ٹھیک کرنی پڑے گی تبھی اس سے وہ مقاصد حاصل ہوں گے۔ تو یہ والے کہ کچھ لوگ مقاصد کو ذرائع اور ذرائع کو مقاصد بنا دیتے ہیں کیسے؟ مثلاً کوئی بات ہے جو چَھٹی صدی ہجری میں بہت معتبر بات تھی لوگوں کے اصلاح کے لیے، ذریعہ تھی۔ ساتویں صدی ہجری میں حالات تبدیل ہو گئے۔ اب وہ بات لوگوں کی ضرورت نہیں رہی، وہ پہلے سے حاصل ہے۔ یعنی علمی کام ہو گیا یا کچھ بزرگوں نے محنت کی وہ پرابلم ہی نہیں رہا، اس کے مقابلے میں کوئی اور چیز پرابلم بن گیا۔ کیوں؟ یہ میرے خیال میں ڈاکٹر حضرات جانتے ہیں کہ وہ کتابوں پہ ان کا لکھا ہوتا تھا "No Malaria"۔ ملیریا پرابلم تھا اس وقت۔ پھر اس کے بعد کوئی اور Disease، مطلب یہ اس کے بعد "No this"۔ اس وقت یہ پرابلم تھا۔ اب ملیریا پہ اچھا خاصا ریسرچ ہو گیا ہے، اور ادھر AIDs کے ساتھ لوگ مر رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں "No Malaria" تو کیا کہیں گے اس کو؟ بھئی وہ ٹھیک ہے وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، اب اس کا علاج موجود ہے، آپ ان باتوں پہ کام کرو جس کا علاج موجود نہیں ہے۔ تو یہ جو ذرائع کے ساتھ چمٹنے والی بات ہے نا وہ یہ چیز ہے، کہ آپ جو ذریعہ Required ہے اس کو تو چھوڑ رہے ہیں، اور جو ذرائع حاصل ہیں پہلے سے آپ اس کے اوپر مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسی پہ کام ہونا چاہیے۔ It is repetition of work۔ یہ تو میں نے ذرا تھوڑا سا بہتر انداز میں بیان کیا، لیکن اصل کیا ہے؟
ایک بزرگ فوت ہو گئے۔ بہت اللہ والے تھے بڑے تھے مثلاً۔ اور لوگ عموماً کیا کرتے ہیں؟ لوگوں میں چونکہ میں کیا بتاؤں آپ کو، ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا۔ اب کمال کی بات ہے کہ پہلے بزرگ خلفاء بناتے تھے، اپنے نمائندے بناتے تھے کہ یہ میرے بعد یہ کام کرے گا۔ اب عوام بناتے ہیں۔ کیسے بناتے ہیں؟ بزرگ فوت ہو گئے، لوگ جمع ہو کر ان کے جو صاحبزادے ہوتے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے کہ یہ ہمارا بڑا ہے۔ نہ اس کی تربیت، نہ اس کے پاس علم، نہ اس کے پاس تقویٰ، صرف فلاں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بزرگ بن گیا۔ ان سے لوگوں نے بیعت شروع کر لی۔ مجھے بتاؤ جو خود کچھ نہیں ہو وہ دوسروں کو کیا دے گا؟ تو ایسے لوگوں کے پاس صرف ایک ہی سہارا ہوتا ہے، کہ جو بزرگوں کے ہاں معمول بہا چیزیں ہوتی ہیں، یعنی ختم کرنا اور یہ کرنا اور فلاں کرنا، وہ صحیح ہوتی ہیں، لیکن اس دور کی نہیں ہوتی، وہ دور گزر چکا ہوتا ہے، اب وہ اس کے ساتھ Stick کر لیتے ہیں اور بس اس کو بالکل نہیں چینج کرتے۔ اور جو اس کو چینج کرنے کی بات کرتے ہیں ان کو کہتے ہیں "وہابی" ہے۔ کیوں ان کا سارا مسئلہ ہی اسی پہ چل رہا ہوتا ہے، تو ان کو کچھ اور تو آتا نہیں ہے۔ تو جو چیز انہوں نے دیکھی ہے وہ دو باتیں دیکھی ہیں، بزرگوں کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو چلو جی وہی کام کرنا ہے۔ اور دوسری بات بزرگوں کے اخیر دور میں فتوحات شروع ہو جاتی ہیں، فتوحات کس کو کہتے ہیں؟ لوگوں کا دل ان کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور لوگ ان کی ضروریات کا خود اپنی طرف سے خیال رکھتے ہیں۔ تو کبھی ان کی کیا خدمت کر رہے ہوتے کبھی ان کی کیا خدمت، یہ سلسلہ چلتا ہے، یہ خود بخود ہے، یہ انسان کے بس میں نہیں ہے، ہوتا ہے، اچھا۔ اب اس نے اخیر عمر میں دیکھا ہوتا ہے کہ بزرگوں کے پاس اس طرح چیزیں آتی ہیں، تو کہتا ہے یہی تصوف ہے، بس اپنے جیب کو بڑا سا بنا دو اور جو آتے ہیں اس میں... اس میں ڈال دیا کرو، اس سے بڑی چیز اور کیا ہے؟ تو ایک تو انہوں نے وہ چیزیں دیکھی ہوتی ہیں، اور دوسری بات یہ کہ یہ چیز ان کے سامنے ہوتی ہے۔ تو نتیجۃً گمراہی پھر شروع ہو جاتی ہے۔ اب ایسے لوگوں کے پاس آپ جائیں گے تو کیا کریں گے وہ نہ خود تصوف جانتے ہیں، نہ آپ کو تصوف سکھا سکتے ہیں، نہ آپ کو لائن پہ لگا سکتے ہیں۔ ان کو چند رسمی باتوں کا پتہ ہے، ان رسمی باتوں کو آپ کو بھی بتا دیں گے، اب اگر تیر نشانے پہ بیٹھ گیا تو ٹھیک ہے ورنہ پھر کیا کر سکتے ہیں؟ تو یہ مسئلے ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ بات آئی کہ وہ ذریعے کو مقصد بناتے ہیں اور مقصد کو ذریعہ بناتے ہیں۔
اب اس طرح ہے کہ اس طرح نظریاتی طور پر تصوف کو "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی" کی عملی تصویر بنا دیتے ہیں اور عملی طور پر "دعوے بڑے اور عمل کم" کے مصداق بن جاتے ہیں۔ دعوے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ آدمی کہتا ہے یہ چیز دنیا میں تو کوئی بھی اس پہ فٹ نہیں ہو سکتا۔ اور عمل؟ وہ جو عام سنت کی باتیں ہوتی ہیں وہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جو عام لوگ سنت پہ چلتے ہیں اور مطلب اس کے بارے میں خیال رکھتے ہیں، وہ چیز بھی نہیں ہوتی، پرواہ ہی نہیں ہوتی۔ ٹخنوں سے نیچے پاجامہ ہوگا، اور نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام نہیں ہوگا، بلکہ بعض لوگ تو باتیں بھی مشہور کر لیتے ہیں اس طرح کہ ہم تو مدینہ منورہ میں پڑھتے ہیں نماز، اور لوگ مان بھی لیتے ہیں، ماننے والے لوگ ہیں نا۔ تو لوگ مان بھی لیتے ہیں تو ان کی کام ان کی بات چلتی ہے۔ ہمارے ایک ڈرائیور تھے ان کے ساتھ میں دفتر جایا کرتا تھا، تو مجھے کہتے: "شاہ صاحب آپ تصوف... پہ کام کرتے ہیں؟" میں نے کہا: "ہاں"۔ کہتے: "ہارے جو پیر صاحب ہیں نا، وہ نماز نہیں پڑھتے تھے ہمارے ساتھ"۔ تو ایک صاحب نے اس پر اعتراض کیا کہ آپ نماز نہیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا: "جاؤ اس کمرے کے اندر دیکھو"۔ کہتے ہیں کمرے کے اندر جا کے دروازے میں کھڑا ہو کر کبھی اس طرف دیکھ رہا ہے حیران ہو کر کبھی اس طرف دیکھ رہا ہے۔ تو کہا: "کیا ہو گیا؟ تجھے کیا ہو گیا؟ کیوں ادھر ادھر دیکھ رہا ہے؟" کہتے ہیں: "وہاں دیکھتا ہوں تو آپ نماز پڑھ رہے ہیں یہاں آپ حقہ پی رہے ہیں، کمال ہے یہ کیا چیز ہے؟" ایسی باتیں وہ مشہور کرا دیتے ہیں، کرا دیتے ہیں۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، یہ میں نے آرٹیکل پڑھا ہے، میں خود اس کا ذمہ دار نہیں ہوں، جس نے جس سے لکھا ہے وہ ویسے ہی میں بتا دیتا ہوں۔ یہ نہیں ہوتا جو محکمہ ٹیلی گراف، اس کے کچھ ریٹائرڈ لوگ تھے دو، انہوں نے لکھا تھا۔ کہتے ہیں ہم کسی علاقے میں گئے، تو کہتے ہیں کہ ہم بزرگوں کے ساتھ ملنے والے تھے، تو پوچھا: "بھئی یہاں کوئی ہے اللہ والا؟" تو انہوں نے کہا جی فلاں ہے۔ "اچھا ٹھیک ہے، چلتے ہیں ان کے ساتھ ملتے ہیں"۔ کہتے ہیں کمرے میں بیٹھے ہیں Reception میں، اور Receptionist وہ ہم سے باتیں کر رہا ہے اور وہ اس طرح یہ مطلب کوئی چیز جیسے بجا رہے ہوں۔ تو کہتے ہیں ہم نے جب غور کیا تو وہ میسج تھا، ٹیلی گراف کے انداز میں نا ٹوں ٹک ٹک ٹا ٹا ٹوں ٹوں ٹوں ٹا ٹا ٹا، وہ اس طرح ہوتا تھا نا، تو اسی طرح وہ بجا رہے ہیں۔ تو میسج اس میں کیا تھا؟ جو ہم ان کو بتا رہے تھے وہ سارا وہ بتائے جا رہا تھا۔ "اچھا یہ بات"۔ اب ان کو تو شغل ہاتھ میں آگیا۔ خیر جب پیر صاحب کے پاس گئے تو پیر صاحب نے دروازہ، ظاہر ہے جو بند ہوتا تھا: "آو! کس لیے آئے ہو؟ منہ اٹھا کے آ جاتے ہو، یہ مسئلہ ہے، یہ مسئلہ ہے، یہ مسئلہ ہے"۔ وہی جلال میں جیسے ان کا طریقہ ہوتا تھا، وہ ساری باتیں وہ بھئی بتائیں۔ کہتے ہیں ہمیں تو حقیقت حال کا پتہ چل گیا تھا، لہٰذا ہم تو آرام سے بیٹھ گئے، ہم نے تو کوئی اثر نہیں لیا۔ اب وہ اونچی اونچی باتیں کر رہا ہے، کہتے ہیں ان کے سامنے Paper weight پڑا ہوا تھا۔ وہ Paper weight اٹھا کر ہم نے ڈیسک بجایا اور صرف اتنا میسج دے دیا: "ہم جانتے ہیں جو تم کرتے ہو"۔ مطلب ڈیسک پر وہ اس طرح بجا کے اس کو بتایا کہ ہم جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو۔ کہتے ہیں وہ اسپرنگ کی طرح اچھلا، اور جا کے دروازے کو چٹخنی لگا دی اور ہمارے پاؤں پہ پڑ گیا کہ: " نِصْفُٗ لِّیْ وَ نِصْفُٗ لَّکَ"۔ بس آدھی آپ کی آدھی ہماری، کوئی... حقیقت حال سے واقف آدمی آ گئے۔ اب یہ... اب تو وہ... وہ دور تھا نا۔ اب کی کیا باتیں، اب تو موبائل اور میسج اور پتہ نہیں کیا کیا چیز ہو رہی ہیں۔ اب تو Dictaphone فون لگا ہوا ہو آپ جو بھی باتیں کر رہے ہیں ادھر پہنچ رہی ہیں۔ اس کے میسج کی ضرورت نہیں ہے اس قسم کی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، وہ سارا کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔ تو اس قسم کے ٹیکنیکس لوگ پہلے Develop کر لیتے ہیں۔ کیونکہ مقصد دنیا کمانا ہوتا ہے، مقصد دین نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا ان کے لیے پھر یہی Means چل رہے ہوتے ہیں۔
یہ لوگ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کو قرآن کریم میں ’’اَلضَّآلِّیۡنَ‘‘ (گمراہ) کہا گیا۔ یہ لوگ قابلِ رحم ہیں کیونکہ یہ گمراہ ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ وہ گمراہ ہیں۔ اگر ان کو کوئی ایسا ولی کامل مل جائے جن سے ان کو مناسبت ہو تو ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ذائغین نہیں ہوتے نا، یعنی دل کی کجی نہیں ہوتی، صرف جہالت کی وجہ سے ایک چیز کو سمجھا ہوتا ہے۔ اب اگر وہ جہالت دور ہو جائے تو بات ختم ہو جائے گی۔ اور خوش عقیدہ ہونے کی وجہ سے بہت جلد اپنے مقصود تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پہلا گروہ ان کو بہت آسانی کے ساتھ اپنا آلۂ کار بنا لیتا ہے۔
انہی دو گروہوں کے مقابلے میں ایک ایسا تیسرا گروہ بھی وجود میں آیا ہے جو اخلاص کے ساتھ تصوف کو خلافِ سنت سمجھ کر اس کی مخالفت کے درپے ہو جاتے ہیں۔ پہلے گروہ کی باتوں کو دیکھ کر وہ اس کا سخت مخالف ہو جاتا ہے اور تصوف کا نام بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں حالانکہ مخلص ہوتے ہیں، یعنی کہ مخلص ہوتے ہیں اور وہ ان کو غلطی پر سمجھ کر سمجھتے ہیں کہ صحیح کوئی نہیں۔ اور نتیجۃً مخالف ہو جاتے ہیں، یہ لوگ بھی قابلِ رحم ہیں، ان تک بھی تصوف کی صحیح تعبیر نہیں پہنچائی گئی ہے۔
ہمارے ڈاکٹر حمزہ خان ان لوگوں میں سے ایک تھے۔ مجھے بدعتی کہتے تھے، ٹائٹل۔ مجھے بدعتی کہتے تھے۔ میرے ایک اور پیر بھائی تھے ڈاکٹر سرفراز مرحوم، ان کو بھی بدعتی کہتے تھے۔ لیکن میرے ساتھ اتنی محبت تھی کہ اگر میں اس کے کمرے میں نہ جاتا اور آ جاتا نا کہیں سے تو پھر لڑائی ہوتی کہ: "تو کیوں نہیں آیا؟" محبت بہت تھی مجھ سے لیکن یہ کہ بدعتی مجھے کہتے تھے۔ تو خیر ایسا ہوا کہ ظاہر ہے مجھے بدعتی کہتے تھے اور مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ شادی پہ گئے تھے ہم ڈاکٹر فدا صاحب کے۔ تو مولانا صاحب ہنس مکھ جولی طبیعت، خود بھی لطیفے سنتے تھے سناتے بھی تھے، اسی میں لوگوں کی تربیت کرتے تھے، طریقہ کار تھا حضرت کا اپنا۔ اور یہ آدمی ذرا Critic آدمی تھے اور ان چیزوں پہ گرفت کرنے والے تھے۔ تو ہمارے ساتھ تھے۔ تو حضرت کے مجلس سے باہر آئے کہتے ہیں: "کمال ہے کیسا پیر ہے؟ دیکھو خود بھی ہنستا ہے دوسروں کو بھی ہنساتا رہتا ہے یہ کوئی طریقہ ہے؟" اب چونکہ حضرت کی باتیں ہم پر کھلی تھیں تو ہمیں تو غصہ آگیا۔ میں نے کہا: "حمزہ خان پتہ ہے تمہیں؟ یہ جن کے... جو ان کے سامنے بیٹھے ہیں نا، یہ بہت ہی زیادہ دنیا کے کھاتے پیتے لوگ ہیں۔" ہارٹ اسپیشلسٹ بھی تھے ڈاکٹر شیر بہادر کی طرح، اس طرح اور انجینئر حضرات اور بڑے بڑے رجسٹرار ٹائپ اس قسم کے لوگ حضرت کی مجلس میں ہوتے تھے یونیورسٹی کے۔ میں نے کہا: "یہ دنیا کی ہر بدمعاشی کر سکتے ہیں اگر کرنا چاہیں۔ اگر حضرت نے ان کو چند لطیفوں پہ ٹرخا کر اپنے ساتھ بٹھا دیا اور ان بری چیزوں سے بچا دیا تو اچھا کام ہے یا برا کام ہے؟" یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی، کچھ کہا نہیں خاموش ہو گئے۔
اب چونکہ ان کو میسج تو مل گیا لہٰذا خاموش تو ہو گئے، لیکن چونکہ پہلے گستاخی تو کی تھی نا، تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گستاخی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس دن ایک معمولی وسوسے کی وجہ سے ان کی عصر کی نماز قضا ہو گئی۔ ایک معمولی وسوسے سے جو کہ عام آدمی بھی سمجھ سکتا تھا، عصر کی نماز نہیں پڑھی۔ میں نے کہا دیکھو یہ سب سے بڑی سخت بات ہے گستاخی کی سزا اعمال کی توفیق سلب ہوتی ہے، یہ بہت خطرناک بات ہوتی ہے۔ تو یہ جو بات ہے ہو گئی بات۔
اب ایک دن میں گیا ہوں حسب معمول جیسے کہ وہ مجھ پر زور دیتے تھے کہ میں ان کے ساتھ ملا کروں۔ تو میں گیا ان کے کمرے مجھے کہتے ہیں: "یہ ڈاکٹر فدا صاحب، یہ مجھے مولانا اشرف کے پاس کیوں نہیں لے جاتے؟" میں نے کہا: "کیوں تیرے پیر نہیں ہیں؟" کہتے ہیں: "نہیں پیر تو ہیں میں حضرت سے بیعت کرنا چاہتا ہوں"۔ اب کہاں حمزہ خان اور کہاں حضرت سے بیعت! میں نے کہا شاید یہ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: "دیکھو ان باتوں میں مذاق میں برداشت نہیں کرتا"۔ کہتے: "نہیں مذاق نہیں کرتا۔ کہتے جب بھی میں سوتا ہوں مولانا صاحب حاضر، جب بھی سوتا ہوں مولانا صاحب حاضر، یہ مجھے تب چھوڑیں گے جب میں بیعت کر لوں گا ان سے"۔ انداز وہی اسٹائل وہی۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں اگر ایسی بات ہے تو میں ڈاکٹر فدا صاحب سے کہتا ہوں اگر وہ نہیں لے جاتا میں آپ کو لے جاتا ہوں، یہ تو کوئی مشکل ہی نہیں۔ اس پر ایسا ہوا کہ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس چلا گیا۔ میں نے کہا: "ڈاکٹر صاحب آپ حمزہ خان کو کیوں نہیں لے جاتے مولانا صاحب کے پاس؟" کہتے ہیں: "گپ لگا رہے ہے"۔ میں نے کہا: "حضرت گپ نہیں لگا رہے صحیح ہے۔ وہ... میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ چاہتا ہے"۔ کہتے ہیں: "اچھا؟ تو چلو ابھی لے چلتے ہیں"۔ میں گیا: "بھئی حمزہ خان تیار ہو جاؤ ڈاکٹر صاحب آپ کو لے جا رہے ہیں"۔ کہتے ہیں: "ٹھیک ہے"۔ تو اتنی زیادہ Anxiety تھی اس کو کہ ڈاکٹر صاحب اپنے کسی کام میں Busy تھے، اس کے بعد آنے والے تھے، کہتے ہیں: "یہ ڈاکٹر صاحب کی یہ حالت ہے اب دیکھو اب پتہ نہیں کیا کر رہا ہے"۔ میں نے کہا: "بھئی لے جا رہے ہیں نا آپ کو کیا مسئلہ ہے"۔ خیر بہرحال ڈاکٹر صاحب آگئے ان کو لے گئے۔ ہم میں بھی ساتھ گیا۔ ہم اندر چلے گئے حضرت کے پاس۔ حضرت اس وقت خطوط کے جوابات لکھوا رہے تھے۔ اشراق کے نماز کے بعد... نہیں اشراق کی نماز سے پہلے۔ ہم چلے گئے خاموشی سے بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر... ڈاکٹر فدا صاحب نے اپنے منہ کو نکالا ان کے کمرے کے اندر کر لیا: "مولانا میں یہ پنج پیری کو لایا ہوں ان کو یک پیری بنا دو"۔ میں پنج پیری کو لایا ہوں آپ اس کو یک پیری بنا دیں۔ تو خیر حضرت ہنس پڑے انہوں نے کہا ٹھیک ہے کوئی بات نہیں۔ جب اشراق کی نماز حضرت نے پڑھ لی تو فرمایا ان سے: "راځه حمزه خانه، ستا پنځه پیران خو شته دي، شپږم به زه شم"۔ آؤ حمزہ خان تیرے پانچ پیر تو ہیں تو چھٹا میں ہو جاؤں گا۔ یعنی حضرت نے بالکل اس کے ساتھ وہی joke ہی کیا جو اسٹائل تھا حضرت کا، لیکن اس وقت ڈاکٹر حمزہ خان سنجیدہ ہو گئے تھے۔ تو گئے اور بیعت ہوئے، اور بیعت کے بعد حضرت نے ان کے معمولات پوچھے، تو معمولات تو ان کے بڑے اچھے تھے، مخلص جو تھے۔ تو حضرت نے ان کو ایک ڈگری اوپر ذکر دے دیا۔ تو میں نے باہر آ کر ان کو کہا ہے: "حمزہ خان مبارک ہو بیعت کے بھی اور پروموشن کی بھی"۔ کہتے ہیں: "یہ کون سی بات آپ نے کی؟ پروموشن کدھر سے؟" میں نے کہا: "آپ کو پتہ نہیں ہے بس ٹھیک ہے پروموشن کی بھی"۔ وہ حمزہ خان اب جب مجھے دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تیرتے ہیں مولانا صاحب یاد آ جاتے ہیں۔ اور ایک حالت وقت یہ اس کا تھا کہ فائنل ایئر میں تھے تو فائنل ایئر میں بہت پڑھنا پڑتا ہے۔ تو دن کے وقت نہیں آ سکتے تھے تو عشاء کے نماز کے بعد صرف مصافحے کے لیے آتے تھے، آ کر حضرت کے ساتھ مصافحہ کر کے پھر واپس چلے جاتے۔ یہ اتنی زیادہ محبت ان کی ان کے ساتھ... اب ایسے لوگ ظاہر ہے مخلص لوگ ہیں نا، تو بے شک مخالفت کرنے والے ہیں لیکن اخلاص کے ساتھ مخالفت کرنے والے، ایسے لوگوں کی بھی اصلاح ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی بھی اصلاح ہو جاتی ہے۔
اچھا، اگر یہ لوگ بھی قابلِ رحم ہیں، ان تک بھی تصوف کی صحیح تعبیر نہیں پہنچائی گئی ہے۔ اگر کوئی ان کو تصوف کے بارے میں صحیح بات ان کی زبان میں پہنچائے تو یہ بھی قابلِ اصلاح ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی گمراہ ہیں، کیونکہ یہ نبی ﷺ کے کاموں میں سے ایک کام کی اپنی غلط فہمی کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر ان کو بھی کسی طرح یہ سمجھا دیا جائے کہ اصل تصوف وہ نہیں ہے جس کو تم تصوف سمجھ بیٹھے ہو، یعنی جو ان پہلے دونوں گروہوں کا بیان کردہ ہے۔ بلکہ اصل تصوف تو عین شریعت بلکہ شریعت کی تکمیل یا روح ہے۔ اس طرح یہ لوگ اپنی مخالفت سے باز آ سکتے ہیں اور اس طرح ان کو تصوف کی برکات حاصل ہو سکتی ہیں۔
چوتھا گروہ ان لوگوں کا ہے جو تصوف کو جانتے ہیں کہ یہ عین حق ہے، وہ قرآنی آیات کی تشریحات بھی جانتے ہیں اور دل میں تصوف کی اصل اس کو مانتے ہیں، لیکن بعض دنیاوی مقاصد کی خاطر تصوف کی مخالفت پر کمر بستہ ہوتے ہیں۔ یہ گروہ بھی پہلے گروہ کی طرح ’’اَلۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیْہِمْ‘‘ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ اس لئے اصل میں یہ دونوں ایک ہیں۔ پہلا گروہ تصوف کے ذریعے اسلام میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے اور یہ آخری گروہ تصوف کا انکار کر کے امت کو اس کی برکات سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ ان دونوں کے لئے تو دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل سے حبِ دنیا کو ختم کر کے ان کو ہدایت سے نواز دے۔ نہ انہوں نے دلائل سننے ہیں اور نہ ماننے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ بحث ضیاعِ اوقات کے سوا کچھ نہیں ہے۔ البتہ دوسرا اور تیسرا گروہ، جو کہ راستہ گم کر چکے ہیں، ان کو راستے پر لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ان کو جیسے ہی صحیح راستے کا پتا چلے گا وہ اس پر چل کر اپنی منزلِ مقصود کو پا لیں گے۔
یہ کتاب ان ہی دو درمیانی گروہوں کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ اس میں یہ کوشش کی جائے گی کہ تصوف کی اصل کو واضح کیا جائے کہ یہ اصل میں کیا ہے۔ اس کا قرآن و حدیث کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ اس کی وہ اصطلاحات جن کے مفاہیم کو لوگ بگاڑ کر حقیقت سے دور چلے جاتے ہیں، ان کا اصل مفہوم کیا ہے؟ اس میں مقاصد کیا ہیں اور ذرائع کیا ہیں اور ان کا آپس میں کیا ربط ہے؟
یہ کتاب گو کہ فقیر کے الفاظ میں ہے لیکن یہ یا تو ان بزرگوں کے ملفوظات سے ماخوذ ہے جن کی صحبت میں اس فقیر نے نبوی شعبے کی الف با سیکھی ہے یا پھر ان با برکت ہستیوں کی تحریرات سے ماخوذ ہے جنہوں نے اس صدی کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر اس نبوی شعبے کو پھر سے نکھار کر قابلِ عمل بنا دیا۔ اس میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، مجددِ ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، قطبِ ارشاد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ، علامۃ الدہر حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، اپنے شیخ مولانا محمد اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے محسن حضرت صوفی محمد اقبال مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ گاہے گاہے دوسرے حضرات کی تحریریں بھی زیرِ نظر رہی ہیں، لیکن غلبہ ان کو حاصل ہے۔
فقیر کی یہ خواہش تھی کہ اس فن کے تشنگان کی اصل چشموں سے براہِ راست پیاس بجھے، اس لئے فقیر کی یہ عادت رہی ہے کہ جس کو بھی تھوڑا سا دین کی طرف مائل دیکھا، اس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں سے متعارف کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آج کل کے انگریزی ماحول نے اور عربی لٹریچر سے دوری نے عام قاری کے ان بابرکت ہستیوں سے براہِ راست فیضیاب ہونے کا راستہ کافی حد تک بند کیا ہے۔ اس لئے تعارف کے طور پر یہ کتاب اِن شاء اللہ کفایت کرے گی۔ باقی یہ کس کا دعویٰ ہے کہ اس فن کے ساتھ میں نے انصاف کیا ہے۔ ہر ایک کی ہمت اور قسمت ہے کہ اپنے آپ کو کہاں تک سیراب کرتا ہے۔ فقیر کا کام ہے منزل کا تعین کرنا۔ اس پر چلنا ہر ایک کے ظرف پر منحصر ہے۔ چند اکابر نے اس پر تقاریظ لکھی ہیں، اس پر میں ان کا ممنون ہوں کہ ان حضرات نے مجھ ناچیز پر اعتماد فرمایا۔ لیکن یہ چونکہ ضخیم کتاب ہے، اس کے پڑھنے میں وقت لگتا ہے، اس لئے دوسرے اکابر سے تقاریظ لینے میں وقت لگ سکتا تھا، جب کہ دوست اس کے چھپوانے کا تقاضا فرما رہے تھے۔ جو حضرات اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں وہ اپنی رائے سے ضرور نوازیں، تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کو بھی شامل کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو امت کے لئے بابرکت بنا دے اور جس مقصد کے لئے یہ لکھی جا رہی ہے وہ مقصد پورا ہو۔ آمین ثم آمین۔