اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! عقائد کے بارے میں کل بات شروع ہو گئی تھی۔ اس کا تعارف ہوا تھا کہ عقائد کتنے ضروری ہیں۔ آج ان شاء اللہ اس کو باقاعدہ شروع کیا جا رہا ہے۔
تمام عالم بالکل، پہلے بالکل ناپید تھا، پھر اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے موجود ہوا۔ یعنی پہلے اللہ ہی تھا، اور کچھ نہیں تھا۔ تو اللہ جل شانہٗ نے ارادہ فرما دیا کہ کائنات پیدا ہو جائے، کائنات بن جائے، تو کائنات بن گئی، کائنات اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی۔
اللہ جل شانہٗ کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے؟
اللہ ایک ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ توحید، یہ بنیادی عقیدہ ہے، اساسی عقیدہ ہے ہمارے مذہب کا، اور حقیقی توحید ہمارے ہی مذہب میں ہے۔ باقی لوگ بعض دفعہ توحید کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن وہ توحید نہیں ہوتا۔ جیسے عیسائی جو ہے، وہ یعنی وہ توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین، یہ کوئی ڈرامہ قسم کی چیز ہے۔ مطلب اس کا کوئی بنیاد ہی نہیں بنتا۔ ان کے جو ذہین لوگ ہیں وہ پریشان ہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں، تین میں ایک اور ایک میں تین، یہ کوئی تین چیزیں ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے عوام کو یہ سمجھایا ہوا ہے کہ یہ چیز ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لہٰذا بس جس طرح بتایا جا رہا ہے اس طریقے سے بس ٹھیک ہے۔
تو یہ ہمارا جو عقیدہ ہے، وہ ہے اللہ ایک ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ نہ اس کی کوئی بیوی ہے۔
یہاں پر بھی عیسائیوں کے عقیدے پہ وہ تو کہتے ہیں نا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے۔ اور مریم اس کی ماں ہے، تو پھر کیا مطلب!! تو یہ بات ظاہر ہے انہوں نے اپنی طرف سے بنائی ہوئی ہے۔ یہ جو ان کے عقائد ہیں ان کو یہودیوں نے بگاڑا ہے۔ یہودی بڑے خبیث قسم کے لوگ ہیں، ذہین ہیں بہت زیادہ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بڑی قوت حاصل کی بعد میں عیسائیوں نے، تو انہوں نے دیکھا کہ ان کو ہم کیسے زیر کر سکتے ہیں؟ تو یہ جو Saint Paul تھا، جو یہودی تھا، اس نے ایک ناٹک رچایا کہ میری عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بات ہو گئی، آسمان سے وہ بات کر رہے تھے میرے پاس کہ تو اِدھر آئے گا، میں تیرے ساتھ دیکھوں گا اور یہ سب۔ تو میں ڈر گیا، تو میں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ تو منافق بن گیا۔ پھر اس نے بارہ شاگرد بنائے، اور ہر شاگرد کو اپنا اپنا انجیل پڑھایا۔ اپنے اپنے طور پر۔ تو بس اس وقت وہ مر گیا تو آپس میں بحث و مباحثہ ہونے لگے، اور مطلب یہ ہے کہ ان کی وہ طاقت بکھر گئی۔
تو اس قسم کے کام کرتے ہیں۔ یہ دھوکے باز لوگ ہیں، اور دھوکے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یعنی وہ اس طرح نہیں ہے کہ مطلب وہ اس کے اوپر کوئی ذہنی دباؤ پڑے کہ یعنی وہ یہ خیال سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی غلط کام کر رہے ہیں، نہیں، وہ اس کو اپنا حق سمجھتے ہیں کیوں کہ دوسرے لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔ جیسے کیڑے مکوڑوں کو ہم مارتے ہیں نا اپنے مقصد کے لیے، تو کبھی ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہم کوئی غلط کام کر رہے ہیں؟ تو اسی طریقے سے وہ اپنے مطلب کے لیے باقی لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں، کسی کو مارتے ہیں تو مارتے ہیں۔
کوئی اس کے مقابل کا نہیں ہے۔ یہ بھئی سورہ اخلاص ہی چل رہی ہے۔ ہاں! وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ازل سے ابد۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
کوئی چیز اس کے مثل نہیں، وہ سب سے نرالا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مثال نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرح کوئی نہیں۔ اللہ پاک یکتا ہے۔ ایک ہوتا ہے ایک، واحد، اور ایک ہوتا ہے یکتا۔ کہ اس جیسا کوئی نہیں، بالکل وہ سب تمام صفات میں یکتا ہے۔
یہ ہم لوگ جو نقشبندی سلسلہ ہے، اس میں کچھ مراقبات کراتے ہیں۔ تو ان میں سے ایک مراقبہ، مراقبہ تنزیہ ہے۔ یعنی اس میں ہم لوگ یہ مراقبہ کرتے ہیں کہ جو صفات مخلوق کی ہیں اور اللہ کی نہیں ہیں، یعنی اللہ کے لیے ثابت نہیں ہیں، تو اس کو ہم اللہ کے لیے نہیں سمجھیں گے۔ جیسے یہی لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، اور اس طریقے سے جو مطلب اس کی طرح کوئی ہے نہیں، وہ ہمیشہ سے زندہ ہے۔ اور وہ کھاتا پیتا نہیں، پیتا بھی نہیں، اولاد بھی اس کی نہیں، بیوی بھی اس کی نہیں، نہ ان کو ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہے۔ تو یہ سب ہمارے عقیدے ہیں۔ تو یہ عقیدہ تنزیہ، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو پکا کرنے کے لیے یہ مراقبہ بنایا تاکہ ہمارا یہ عقیدہ مضبوط ہو جائے۔
وہ زندہ ہے، حیّ ہر چیز پر اس کو قدرت ہے إِنَّ اللهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ اللہ جل شانہٗ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں، کوئی آواز، اس کے سننے سے باہر نہیں۔ ہر چیز کامل... یعنی ہر صفت اللہ تعالیٰ کی کامل ہے۔
وہ سب کچھ دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ کلام فرماتا ہے۔ لیکن اس کا کلام ہم لوگوں کے کلام کی طرح نہیں۔ اب دیکھیں ہم لوگوں کے کلام کے لیے زبان کی ضرورت ہے، اور اللہ تعالیٰ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے، تو زبان کا کیوں محتاج ہو؟ لہٰذا اللہ جل شانہٗ کلام فرماتے ہیں، لیکن جیسا کہ اس کی شان ہے، اس کے مطابق کلام فرماتے ہیں۔ وہ کلام ہماری طرح نہیں ہے، کہ ہم جس طریقے سے سمجھتے ہیں۔
جو چاہے کرتا ہے، کوئی اس کو روک ٹوک کرنے والا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس سے نہیں پوچھ سکتا کہ یہ بات کیوں ہے؟ ہاں، وہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے۔ اس کے پوچھنے کا... لیکن کوئی بھی اس سے نہیں پوچھ سکتا کہ یہ بات ایسے کیوں ہے۔ وہ، اس کا کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں۔ وہی پوجنے کے قابل ہے۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ۔ مطلب۔۔۔ وہی پوجنے کے قابل ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ شرک کس کو کہتے ہیں؟ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے۔ تو اللہ پاک کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، ہم لوگ اس کو اچھی طرح سمجھیں۔
اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ اکثر میں ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں، اللہ پاک ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔ یعنی ہم جو کرتے ہیں، نفس کی وجہ سے اپنے خلاف کرتے ہیں، اس کا نقصان ہوتا ہے ہمیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچاتا ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تو ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہوا نا! اب دیکھو اگر ہم کوئی غلط کام کرتے ہیں تو اس کی سزا بھگتیں گے، تو اس کی تکلیف ہمیں ہوگی، اللہ تعالیٰ کو تو اس کی کوئی وہ نہیں ہے نا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار اس سے بچاتا ہے کہ ایسا نہ کرو، ایسا نہ کرو، ایسا نہ کرو۔
اور اللہ جل شانہٗ نے اس وقت یہ ساری چیزیں ہمارے لیے طے کر لی جس وقت ہم کوئی چیز جانتے بھی نہیں تھے۔ ہمارا جو جسم بنا ہے اس وقت ہم کچھ جانتے تھے؟ ہمیں کچھ پتہ تھا؟ نہیں، کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ آنکھیں اللہ نے ہماری بنائیں، کان ہمارے بنائے، زبان ہماری بنائی، جسم ہمارا بنایا، اس کے اندر جان ڈالی، یہ ساری چیزیں اللہ پاک نے جو کیں، اس میں ہمارا کوئی... نہ یعنی ہم نے اس کے لیے کہا نہ کہہ سکتے تھے۔ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے یہ سارا کچھ ہو گیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔
ہم اپنے دشمن ہیں، اور اللہ جل شانہٗ ہمارے ہر حال میں دوست ہیں۔ یعنی ہم کو اللہ پاک نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔
بادشاہ ہے۔ مَالِكِ الْمُلْكِ۔ بادشاہ ہے، صحیح معنوں میں جس کو بادشاہ کہتے ہیں۔ یعنی اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کر سکتا۔ بادشاہ ہے۔
سب عیوب سے پاک ہے۔ کوئی عیب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے نہیں۔ وہی اپنے بندوں کو سب آفتوں سے بچاتا ہے۔ وہی عزت والا ہے۔ عزت والا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی عزت اصل عزت ہے۔ وہ کسی کے دینے سے نہیں ہے۔ کسی کے دینے سے نہیں ہے، اللہ پاک کی اپنی عزت اپنے آپ ہے۔ کوئی بھی اس کو کچھ دے نہیں سکتا۔
بڑائی والا ہے۔ ما شاء اللہ! ساری چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے۔ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ بہت زیادہ بخشتا ہے۔ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ۔ بہت زیادہ چیزیں بخشتا ہے، ان میں سے جو تھوڑی سی رہ جاتی ہیں اور اسی کے ساتھ ہمارا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ جل شانہٗ کی طرف تو مہربانی کی نسبت کرنی چاہیے اور اپنی طرف غلطی کی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ مشورہ ہو رہا تھا، تو ہر صحابی اپنا مشورہ دے رہے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میری بھی ایک رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ یعنی اپنی طرف برائی کی نسبت،ہمارے ہاں معاملہ الٹا چلتا ہے۔
Doctor حضرات ناراض نہ ہوں، لوگ جب Doctor کے پاس جاتے ہیں اگر ٹھیک ہو جائیں تو کس نے ٹھیک کیا؟ Doctor نے! اور مر گیا تو؟ اللہ نے مار دیا۔ بھئی ٹھیک بھی وہی کرتا ہے، مارتا بھی وہی ہے۔ مطلب یہ بات کیسے ہے کہ مطلب ٹھیک کیا تو Doctor نے ٹھیک کیا؟ دونوں باتیں اللہ پاک... ہاں البتہ، اللہ پاک کے مارنے کا وہ یہ ہے کہ اصل میں اللہ پاک ہمارے ارادے کے ساتھ اگر اس کا ارادہ ہو جائے، تو کام ہو جاتا ہے۔ اور اگر ہمارا ارادہ اور اللہ کے ارادے میں فرق ہو، تو پھر وہ کام نہیں ہوتا۔ پس اگر Doctor غلطی کرتا ہے اور اللہ بچانا چاہتا ہے تو پھر نہیں مرتا کوئی۔ پھر کہتے ہیں معجزہ ہو گیا۔ اور اگر Doctor بھی غلطی کرتا ہے اور اللہ پاک کا ارادہ بھی ہو کہ اچھا، جائیں، تو بس پھر وہ ہو جاتا ہے۔ تو آخری بات تو اللہ ہی کی ہوتی ہے دونوں صورتوں میں۔ لیکن جو ہمارا ارادہ ہے اس کے مطابق ہمارا ساتھ حساب کتاب ہوگا۔ ٹھیک ہے؟
یہ اس کی میں اکثر مثال دیتا ہوں، یہ جیسے یہ Light ہے، پنکھا ہے۔ اگر آپ کوئی Button پہ ہاتھ رکھیں اور پنکھا چل پڑے، تو مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ پنکھا کس نے چلایا ہے؟ تو میں کیا کہوں گا؟ میں کہوں گا جس نے Button پہ ہاتھ رکھا ہے اس نے چلایا ہے۔ یہی بات ہے نا؟ عمومی طور پر تو یہی بات کی جائے گی۔ لیکن اگر اس پنکھے کا Circuit ٹھیک نہ ہو، مطلب اس کے اندر Circuit نہ ہو، تاریں کٹی ہوں یا کوئی اور بات ہو، اور آپ ایک ہزار مرتبہ Button کے اوپر ہاتھ ماریں، تو کیا پنکھا چلے گا؟ نہیں چلے گا۔ تو اب اصل میں پنکھا کس نے چلایا؟ وہ Circuit نے چلایا نا۔ پنکھا ٹھیک ہے، میرا جو Button ہے، انگلی رکھنا ہے، یہ میرا ارادہ ہے۔ اگر پنکھے کا اندر کا ارادہ یعنی ان کا Circuit وہ اس کے مطابق ہو تو پھر ہو جائے گا، اس کا نہیں ہو گا تو پھر نہیں ہو گا۔ ٹھیک ہے نا! اسی طریقے سے اللہ جل شانہٗ کا ارادہ اگر ہمارے ارادے کے مطابق ہو تو پھر وہ کام ہوگا۔ ہمارے ارادے کے مطابق نہیں ہو گا تو پھر نہیں ہوگا۔ تو جو بات ہو رہی ہے وہ اگر ہمارے ارادے سے ہو رہی ہے تو اس پہ ہم بھی ذمہ دار ہیں۔ لیکن کرنے والا تو پھر بھی اللہ ہی ہے۔ اگر اللہ جل شانہٗ کا ارادہ شامل نہیں ہو گا تو پھر کوئی چیز نہیں ہوگی۔
زبردست ہے۔ زبردست کس کو کہتے ہیں؟ ویسے اس کا لفظی معنی تو یہ ہے کہ جس کا ہاتھ اوپر ہو۔ زبردست! مطلب یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی نہیں آ سکتا۔ زبردست ہے۔
بہت دینے والا ہے۔ کیوں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطائیں محدود نہیں ہیں۔ جتنا دینا چاہے دے دے۔ ہاں، قانون ہے اس کا، قانون کے مطابق وہ اس طرح ہو جاتا ہے کہ کسی کو کم دیتے ہیں کسی کو زیادہ دیتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو زیادہ دینا چاہے تو اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس لیے کہتے ہیں اللہ پاک سے مانگو تو اللہ کی شان کے مطابق مانگو۔ اپنی اوقات کے مطابق نہیں، اللہ کی شان کے مطابق مانگو، کیوں کہ اللہ پاک تو سب کچھ کر سکتا ہے۔
روزی پہنچانے والا ہے۔ رَزَّاق۔ پہنچانے والا ہے۔ جس کی روزی چاہے تنگ کر دے اور جس کی چاہے زیادہ کر دے۔ یہ اس کی اپنی حکمت کے مطابق۔ کیوں کہ اللہ پاک نے ہمیں امتحان کے لیے بھیجا ہے۔ تو جس کی روزی تنگ کرتا ہے، وہ اس میں بھی امتحان ہے کہ یہ صبر کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ قناعت کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی غلط بات زبان سے نہیں نکالتا؟ اور جس کو زیادہ دیتا ہے، اس کا بھی امتحان کرتے ہیں کہ یہ شکر کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ اس لیے جس کو زیادہ دے وہ شکر کرے، اور جس کی حکمتاً روک لے، وہ صبر کرے۔ تاکہ دونوں جگہ باتیں اپنی جگہ درست ہو جائیں۔
جس کو چاہے پست کر دے، جس کو چاہے بلند کر دے۔ سبحان اللہ! یہ بھی اس کی شان ہے۔ اوپر نیچے کرنا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ جس کو چاہے پست کر دے، جس کو چاہے بلند کر دے۔ اس وجہ سے جو بلند ہے اس کو پستی کا ڈر ہو، کہ اللہ جل شانہٗ اگر چاہے تو مجھے آن کی آن میں پستی میں لے جا سکتا ہے۔ اور جس کو پست کیا ہے، وہ مایوس نہ ہو۔ جس وقت اللہ چاہے اس کو بلند کر سکتا ہے، اس کے لیے کیا مشکل ہے! یہ باتیں اس طرح ہوتی رہی ہیں کہ بعض لوگ حکمران ہوتے ہیں اور آن کی آن میں ان کی حکمرانی چھن جاتی ہے۔ اور دوسرے لوگ حکمران بن جاتے ہیں۔ جو پہلے نیچے ہوتے ہیں وہ اوپر ہو جاتے ہیں۔ جو پہلے اوپر تھے وہ نیچے ہو جاتے ہیں۔ اور نیچے والے اوپر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ کرتے ہیں۔
جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے۔
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ۔
انصاف والا ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں انصاف ہے، اللہ کے ہاں ظلم نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں انصاف ہے۔
بڑے تحمل اور برداشت والا ہے۔ حَلِيم۔ بہت بہت۔ یعنی یقین جانیے کہ اللہ تعالیٰ کا بدترین دشمن، اس کو بھی اللہ پاک رزق دیتا ہے۔ جب تک اس کو مہلت ہے، تو وہ اس کو رزق بھی دیتا ہے۔ شیطان کو دیکھو۔ شیطان اللہ پاک کے مقابلے میں آیا، اور پھر اللہ پاک سے مانگی مہلت، تو اللہ پاک نے اس کو مہلت دے دی۔
خدمت اور عبادت کی قدر کرنے والا ہے۔ سب سے زیادہ قدر دان۔ سب سے زیادہ قدر دان ہے۔ یعنی بعض دفعہ اگر ہم لوگ اس کو نہ سمجھیں کہ یہ چیز قابل قدر ہے، اللہ پاک پھر بھی اس کا قدر کرلیا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ہمارے علم میں نہیں آتا۔ بہت قدر کرتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی بھی وہ قدر کرتے ہیں! تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔
دعا کا قبول کرنے والا ہے، سننے والا ہے۔ دعا کو قبول فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دعا کو سنتے ہیں۔
وہ سب پر حاکم ہے۔ اس پر کوئی حاکم نہیں۔ بے شک! اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ یہ سورہ کہف میں جو واقعات ہوئے ہیں وہ اس کے نظیر ہیں۔ یعنی پتہ چلتا ہے کہ دیکھو، اس کام کو کیسے سمجھا جا رہا تھا اور اس میں بات کیا تھی۔ تو اللہ پاک کے ہر کام کے اندر حکمت ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنی حکمتیں کھول دیتے ہیں۔ تو وہ بھی، ما شاء اللہ، وہ جانتے ہیں کہ اس کام میں کیا حکمت ہے۔ لیکن بعض لوگوں کو پتہ نہیں چلتا۔ ظاہر ہے، تو جن کو پتہ نہیں بھی چلتا، عقیدہ تو یہ ہونا چاہیے نا کہ اللہ پاک کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔
وہ سب کام بنانے والا ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے۔ وہی قیامت میں پھر پیدا کرے گا۔ وہی جلاتا ہے، وہی مارتا ہے۔ اس کو نشانیوں اور صفتوں سے سب جانتے ہیں۔ دیکھ کوئی نہیں سکتا۔ صفات سے جانتے ہیں۔ اب دیکھیں یہ کائنات جو بنی ہے، اللہ پاک نے بنائی ہے۔ تو ظاہر ہے یہ کائنات کی موجودگی اللہ تعالیٰ کی ذات کی ثبوت ہے۔ اور اس طریقے سے ہر کام جو ہے بالکل ٹھیک ٹھیک طریقے سے ہو رہا ہے۔ آج سحری کس وقت بند ہو رہی تھی؟ 04:28 پہ۔ اب دیکھیں ٹھیک اس تاریخ کو سورج کی حالت یہ ہوتی ہے۔ ہاں، پورے سال چلتی ہے، اور جب یہ دوبارہ آ جاتا ہے تو پھر یہ بات بن جاتی ہے۔ یہ کس طرح منظم طریقے سے چل رہا ہے! ذرہ برابر بھی، ایک Second کے لاکھوں حصے میں بھی فرق اس میں نہیں آتا۔ اور جس طریقے سے، جس حساب پر اللہ پاک فرماتے ہیں: الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۔ سورج اور چاند اپنے اپنے حساب سے چل رہے ہیں۔ اس حساب میں کوئی وہ نہیں آتا۔
یہ جو سائنسدان ہیں نا، اللہ تعالیٰ سائنسدانوں کو دل کی آنکھیں عطا فرمائے، یقین جانیے حیرت میں مبتلا ہو جائیں گے جو وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں چیزیں۔ اب دیکھیں ہم جو بیٹھے ہوئے ہیں نا، کیا خیال ہے، ہمیں کوئی جھٹکا لگ رہا ہے؟ کوئی نہیں، کیوں، اس وقت ہم ساکن ہیں یا چل رہے ہیں؟ چل رہے ہیں، کیسے چل رہے ہیں، کس رفتار سے چل رہے ہیں؟ حیران ہو جائیں گے آپ۔ زمین کی محوری رفتار کے لحاظ سے ہم تقریباً کچھ سات سو میل، آٹھ سو میل کی رفتار سے چل رہے ہیں، گھنٹے کے حساب سے۔ یہ زمین کی محوری گردش کے مطابق۔ اور سورج کے گرد جو زمین جا رہی ہے، سترہ میل فی Second کے حساب سے چل رہے ہیں۔ ایک Second میں سترہ میل! لیکن پتہ چل رہا ہے؟ پتہ بالکل نہیں چل رہا۔
ایسا نظام ہے اللہ پاک کا۔ اچھا یہ تو دو حرکتیں ہو گئیں نا۔ زمین کی تین حرکتیں اور ہیں۔ جس کا عام لوگوں کو پتہ نہیں ہے، صرف جو اس کے ماہرین ہیں اس کا ان کو پتہ ہے۔ کہ ایک تو یہ بات ہے کہ جو زمین ٹیڑھی ہے نا اپنے محور پہ، تو یہ جو ٹیڑھا پن ہے، ایک جیسا نہیں ہے، یہ بھی کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے کافی عرصے میں۔ تو یہ تیسری حرکت ہو گئی۔ پھر یہ ایک طرف جھکی نہیں ہے بلکہ اس طرح مسلسل اس طرح... چھبیس ہزار سال میں یہ گردش کرتی ہے۔ اور پھر یہ جو حرکت ہے، وہ بالکل Smooth نہیں ہے، بلکہ زنجیر دار ہے۔ اور یہ ہر زنجیر کی کڑی جو ہے، ایک زنجیر کی جو کڑی ہے وہ انیس سال میں طے ہوتی ہے۔ ایسے عجیب نظام سارے کے ساتھ، پھر اس طرح چاند کے حساب کے ساتھ، تاروں کے حساب کو دیکھو! ۔ یہ سارے نظام اللہ پاک چلا رہے ہیں، اور باقاعدہ ایک حساب کتاب کے مطابق ہیں۔ آپ اس کا باقاعدہ حساب کر سکتے ہیں کہ اس وقت وہ فلاں چیز کہاں پر ہوگی۔ اگر آپ حساب جانتے ہیں، آپ حساب کر سکتے ہیں۔ یہ نکلتا ہے Astronomical Almanac، اس میں چیزیں دی ہوتی ہیں Astronomical Almanac۔ تو وہ ظاہر ہے اس کے حساب کتاب وہ بتاتے ہیں کہ فلاں سیارہ کس وقت کیا اور کدھر ہوگا؟ سورج کدھر ہوگا، چاند کدھر ہوگا، فلاں کدھر ہوگا، یہ ساری چیزیں اس میں وہ بتائی گئیں۔
تو اللہ پاک نے ان تمام چیزوں کو انتہائی مکمل بنایا ہوا ہے۔ وہی جلاتا ہے، وہی مارتا ہے، اس کو نشانیوں اور صفتوں سے سب جانتے ہیں۔ اس کی ذات کی باریکیوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔ اس لیے ذات میں بحث مت کرو، اور نہ کرو، آپ ﷺ نے فرمایا، صفات میں کرو۔ کیوں کہ ذات جو ہے نا اس کے بارے میں کوئی بھی کچھ نہیں جان سکتا۔ ! کیونکہ مخلوق خالق کے بارے میں کیسے جانے گا؟ مخلوق خالق کے بارے میں کیسے جانے گا؟ حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب عبقات میں اس پہ بہت بحث فرمائی ہے۔ اور ثابت کیا کہ اس مخلوق کو اپنے خالق کا کچھ پتہ نہیں چل سکتا۔ یعنی ذات کے بارے میں۔
گناہ گاروں کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔
اس بارے میں اللہ جل شانہٗ جتنے مہربان ہے، آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ توبہ قبول کرتے ہیں اور قبول کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ تو مطلب یہ کہ اللہ پاک توبہ کرنے کو قبول فرماتے ہیں، اور جو مخلوق میں جو لوگ ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرتے ہیں، ان کو بھی پسند کرتے ہیں۔ اس کو بھی پسند کرتے ہیں۔
جو سزا کے قابل ہیں ان کو سزا دیتا ہے۔ وہی ہدایت کرتا ہے۔ جہان میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے، بغیر اس کے حکم کے ذرہ بھی نہیں ہل سکتا۔ جو چیز جہاں پر ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ اور اللہ کا حکم اگر ہو جائے تو اس کو جہاں پہنچانا ہوتا ہے وہاں پہنچا دیتا ہے۔ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سارا کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔
نہ وہ سوتا ہے نہ اونگھتا ہے۔ وہ تمام عالم کی حفاظت سے نہیں تھکتا۔ وَلَا يَئُودُهٗ حِفْظُهُمَا۔ وہی سب چیزوں کو تھامے ہوئے ہے۔ قَيُّوم ہے۔ اس طرح تمام اچھی اور کمال کی صفتیں اس کو حاصل ہیں، اور بری اور نقصان کی صفات اس میں کوئی نہیں ہے۔
تو میرے خیال میں آج یہ کافی ہے۔ ان شاء اللہ کل اس پہ مزید بات ہوگی۔ اور ان باتوں کو ذرا اچھی طرح، ابھی تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ہے نا، اس کے بعد اور انبیاء کے بارے میں آئے گا، اولیاء کے بارے میں آئے گا، جنت کے بارے میں آئے گا، دوزخ کے بارے میں آئے گا، تقدیر کے بارے میں آئے گا۔ ہر چیز کے بارے میں ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟ اس کے بعد پھر مطلب جو ہے نا ہمیں اپنا پتہ چلے گا کہ ہمارے اندر کیا کیا غلطیاں تھیں جو دور ہو گئیں۔
اللہ تعالیٰ ان حضرات کو بہت اجر دے جنہوں نے ان تمام چیزوں کو جمع کیا ہے۔ ما شاء اللہ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔