اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت ہم بڑی اچھی نیت سے، بڑی اچھی جگہ میں، بڑے اچھے وقت میں جمع ہوئے ہیں۔ تینوں چیزیں الحمد للہ۔ بڑی اچھی نیت سے، بڑی اچھی جگہ پر، بڑے اچھے وقت میں جمع ہوئے۔ رمضان سے بہتر کون سا وقت ہوگا؟ مسجد سے بہتر کون سی جگہ ہوگی؟ اور اپنی اصلاح کی نیت سے بہتر کون سی نیت ہوگی؟ تو یہ تینوں چیزیں اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں اس وقت حاصل ہیں، الحمد للہ۔ اور جس نعمتِ حاصل پر شکر کیا جاتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے: لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ۔ اس وجہ سے اس پر شکر کرنا چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں ایسی اچھی چیزوں میں شامل فرمایا ہے۔
اعتکاف رمضان شریف کا نچوڑ ہوتا ہے۔ اور اصلاحِ نفس جو ہے، یہ انسان کی زندگی کا نچوڑ ہوتا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۔ مکمل کامیابی کس چیز پر ہے؟ اپنے نفس کی اصلاح پر ہے۔ تو جب اعتکاف میں انسان اصلاح کی نیت سے شامل ہو جائے، تو یہ بہترین Combination ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ کا فضل و کرم ہے کہ ہمیں اللہ پاک نے ایک بہترین کام کے لیے جمع فرمایا ہے۔
پھر جس کتاب کی اس وقت تعلیم ہو رہی ہے، یہ بھی تصوف کے موضوع پر میں خود نہیں کہتا، جن حضرات نے اس کو دیکھا ہے اور جو حضرات اس کو سمجھتے ہیں، ان کی Comment میں آپ کو سنا دیتا ہوں۔ یہ حضرت مولانا محمد ایوب سورتی، شیخ الحدیث ہیں انگلینڈ میں۔ اور انگلینڈ والے حضرات انہی کو شیخ الحدیث سمجھتے ہیں، کافی ان کو اہم شخصیت سمجھتے ہیں۔ ان کو میں نے یہ کتاب بھیجی تھی، تو انہوں نے جو بھیجا ہے، مختصر تقریظ ہے لیکن میں سنا دیتا ہوں۔
"بخدمت محترم مقام جناب الحاج شاہ شبیر احمد صاحب ادام اللہ فیوضکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بعد سلام مسنون، طالبِ خیر، مع الخیر ہے، طالبِ خیر، مال خیر۔ ایک ہفتہ قبل آپ کی کتاب "فہم التصوف" بندہ کو موصول ہوئی۔ بندہ تو آپ کو کئی برس قبل "فہم الفلکیات" سے جانتا تھا۔" (وہ کتاب ہماری یہاں پڑھائی جاتی ہے مدارس میں)۔ "اور اس کی وجہ سے آپ کے علمی ذوق کا قائل تھا۔ پھر ایک سال قبل آپ کی کئی کتابیں سلوک، تصفیہ، تزکیہ و احسان کے موضوع پر پڑھ کر نہ صرف واقف ہوا بلکہ اپنے ناقص خیال میں آپ کو طریقِ باطن کا شہسوار پایا۔ اور اب ماشاء اللہ "فہم التصوف" تو میرے نزدیک اس موضوع پر انتہائی شافی اور کافی مجموعہ ہے۔"
اس کے اندر چونکہ تمام سلاسل کے ماشاء اللہ جو تشریحات ہیں، ان کو جگہ دی گئی ہے۔
اور اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کتاب کو جب بھی ہم نے چھاپنا چاہا، یہ ابتداء میں تیار ہوئی 2000 سے بھی پہلے۔ یعنی گویا کہ چھاپنے کے... ہمارا خیال تھا کہ ہم چھاپیں۔ 2000 سے بھی پہلے۔ لیکن جب بھی اس کو چھاپنے کا ارادہ کیا تو اس میں کمی محسوس ہوئی کہ نہیں ابھی پوری نہیں ہے، تشنگی ہوئی۔ تو اس وجہ سے اس کی فکر ہوئی کہ اب اس کو جب مکمل کریں گے تو پھر چھاپیں گے۔ ہر دفعہ اس طرح Delay ہوتا گیا، Delay ہوتا گیا، حتیٰ کہ ہمارے ایک دوست ہیں ڈاکٹر ارشد صاحب، وہ خود بھی شیخ ہیں، انہوں نے مجھ سے فرمایا میں تو اس کے چھپنے کے انتظار میں بوڑھا ہو گیا ہوں، یہ کب چھپے گی؟ جس حالت میں بھی ہے اب اس کو چھاپ دیں، تاکہ کم از کم ہم تک پہنچ سکے، ہم اس کو پڑھ تو سکیں، تو پھر اس کے بعد اللہ کا شکر ہے کہ توفیق ہوگئی اور اس کو چھاپ لیا۔ لیکن اس میں چھپنے میں جو تاخیر ہوئی، وہ اللہ کے فضل و کرم سے بڑی مفید ثابت ہوئی۔
کیونکہ اس کو اگر ہم اس وقت چھاپتے، تو اس کا Basic Text ہم نے لیا تھا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے۔ ظاہر ہے اس پر حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا، حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا اور حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کا چھاپ تو تھا۔ کیونکہ ظاہر ہے مجھے ان سلسلوں میں کچھ تھوڑا سا وہ رہا ہے۔ تو لیکن یہ کہ بنیادی Text جو تھا وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں سے تھا، مستفاد۔ بعد میں اللہ تعالیٰ کا شکر ہوا کہ اللہ پاک نے مجددین کے ساتھ ہمارا گویا کہ تعارف کرا دیا، مجددین کے ساتھ۔ جس میں مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ان کے مکتوبات شریف کا درس شروع ہو گیا ہماری خانقاہ میں۔ الحمد للہ ابھی تک چل رہا ہے، اللہ کا شکر ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کا تعارف ہوا۔ پھر حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کا عبقات ہے۔ اور حضرت کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ جو ہمارے جدِ امجد ہیں، الحمد للہ، اور اپنے دور کے بہت بڑے کاملین میں سے گزرے ہیں، الحمد للہ۔ کے پی کے کا تو بتاتے ہیں کہ اس سے بڑا ابھی فی الحال کوئی نہیں آیا، یعنی مطلب کے پی کے کے بارے میں بتاتے ہیں۔
تو ان کی کتاب بھی گویا کہ پڑی ہوئی تھی، لیکن کوئی بھی اس کو پڑھانے کی جرات نہیں کر رہا تھا کہ یہ مشکل ہے، لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی، اور اس میں کچھ باتیں ایسی تھیں جو ہمارے مروجہ علوم کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی تھیں۔ تو ہر ایک ڈرتا تھا کہ کہیں مسئلہ نہ ہو جائے، اور بات صحیح ہے انسان کو احتیاط تو کرنی چاہیے۔ تو وہ احتیاط کے زمرے میں وہ انتظار کر رہے تھے۔ اور میں بھی جرات نہیں کر رہا تھا، میں کیا ہوں؟ کون ہوں؟ جب اتنے بڑے بڑے علماء نہیں کر رہے تھے، تو میں کون ہوں کہ میں اس میں جرات کرتا؟
لیکن خدا کی شان جب مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس شروع ہو گیا، تو ایک ساتھی کو حضرت بہادر بابا جو کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے والد صاحب تھے، ان کی زیارت ہوئی۔ اور انہوں نے فرمایا: "شبیر دوسرے بزرگوں کی کتابیں تو پڑھاتا ہے اور یہ بڑی اچھی باتیں ہیں ہمارے بھی بزرگ ہیں۔ لیکن اپنے اپنے ہوتے ہیں۔" اب اندازہ کر لیں کیسا خوبصورت شکوہ ہے؟ کتنے خوبصورت انداز میں شکوہ ہے۔ مجھے بات پتہ چل گیا تو میں نے کہا کہ یہ تو... یہ تو شکوہ ہے۔ اس وجہ سے ظاہر ہے مبجبوری ہے کہ اس کتاب کو پڑھا دیا جائے۔ اللہ کا شکر ہے شروع کر لیا، توکلاً علی اللہ۔ اور مجھے پتہ ہے کہ میں اس قابل نہیں تھا، یہ بھی تھی بات، یہ بھی بات تھی۔ لیکن بس وہی حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ والی بات کہ فرمایا تھا ان سے کہ آپ کو یہ تو نہیں کہا کام کرو، یہ کہا گیا کام لے لیں گے۔ تو کام لینے والے لے لیں گے، آپ کام شروع کر لیں دیکھیں گے مطلب یہ کہ کام لینے والے لے لیں گے۔ تو میں نے بھی یہی سوچا کہ چونکہ ابھی ارشاد یہی ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں تو صرف ذریعہ ہوں، استعمال ہو رہا ہوں، اصل تو ادھر سے ہے توجہ۔ لہٰذا ٹھیک ہے شروع کرتے ہیں۔ توکلاً علی اللہ شروع کیا۔
بارہواں درس ہے حضرت کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کا مقاماتِ قطبیہ و مقالاتِ قدسیہ کا۔ اور مضمون ایسا آگیا کہ میرے اوسان خطا ہوگئے۔ وہی والی بات ہے نا کہ جس سے وہ ڈرتے تھے لوگ، جو نہیں اس کو پڑھانا چاہتے تھے، جس چیز سے ڈرتے تھے اس قسم کے مضامین آگئے۔ اب میں پڑھ رہا ہوں اور حیرت زدہ بھی ہو رہا ہوں، بالخصوص پڑھنے کے دوران یہ سوچ ہو کہ میں اس کی کیسے تشریح کروں گا، اس کی دہشت کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اب میں نے پڑھ تو لیا ہے لیکن اب اس کے بارے میں کیا کہوں گا؟ غالباً دوسری سطر میں وہ اس قسم کی بات آگئی تھی کہ جو ڈرانے کے لیے کافی تھی۔ بس وہ اقتباس ختم ہوا اور اس کے بعد میری زبان سے لفظ "اللہ" نکلا۔ اور لفظ "اللہ" کے ساتھ ہی ساری تبدیلی ہوگئی، نظام ہی تبدیلی ہو گیا۔ اب نظام ایسا ہو گیا کہ میں اگر اس کو اپنے الفاظ میں سمجھاؤں تو ایسا ہوگا کہ پہلے میں پڑھنے والا تھا کہ میں کتاب کو پڑھ رہا ہوں اس کی تشریح گویا کہ کسی طرح... بعد میں میری زبان پر خود بخود چیز جاری ہو گئی، یا گویا کنٹرول مجھ سے لے لیا گیا ایک قسم کی آپ کہہ سکتے ہیں۔ جیسے کنٹرول کسی سے لیا جاتا ہے کہ بس اب زبان تمہاری ہوگی لیکن بات ہماری ہوگی۔ اس طرح بات شروع ہو گئی اور میں نے محسوس کر لیا کہ اب میرا کنٹرول نہیں ہے۔ تو بس میں نے اپنے آپ کو Relax کر دیا، میں نے کہا بس ٹھیک ہے جی صحیح ہے، جو بھی، اور میرا انداز بھی Relaxed انداز ہو گیا، کیونکہ ذمہ داری میری نہیں تھی۔
وہ جو ہے ماشاء اللہ وہ آپ سب حضرات تک پہنچ چکا ہے، میرا خیال ہے وہ رسالہ ہے پہلا رسالہ جو چھپا ہے، اس میں یہی چیز تھی۔ تو بس پھر الحمد للہ اس سے اتنے مفید مضامین برآمد ہوئے، اتنی زبردست تشریح اللہ پاک نے وہ کروا دی کہ میں حیران ہو گیا۔ بس اس کے بعد پھر میں نے سوچا کہ تو اس کتاب کو نہیں پڑھا رہا، کوئی اور ہے، لہٰذا ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب جو ہو رہا ہے بس وہ ہو رہا ہے، بس ٹھیک ہے کرنے دو یا ہونے دو، آپ کہہ سکتے ہیں۔ اب وہ مضامین بھی الحمد للہ اس میں کسی نہ کسی درجے میں شامل ہونی تھی، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی چیزیں شامل ہونی تھی، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی چیزیں شامل ہونی تھی، شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی۔ تو یہ سارا ایک بہترین Combination۔
آپ اندازہ کر لیں کہ یہ جو اس کا پہلا چیپٹر ہے، یہ "زبدۃ التصوف" کے نام سے اس کتاب کے چھپنے سے غالباً 20 سال پہلے چھپی ہے، "زبدۃ التصوف" جو اس کا پہلا چیپٹر ہے۔ اور اس سے جو Extracted book ہے، "تصوف کا خلاصہ"، وہ بھی تقریباً 20 سال پہلے چھپا ہوا ہے۔ اس کی برکت اور کرامت بھی اللہ تعالیٰ نے دکھائی تھی کہ جو بھی تصوف کے مخالف لوگ تھے ان کو ہم نے ان کو دے دیا اور بس ان کی مخالفت کم از کم زبان کے حد تک ختم۔ یہ ہم نے دیکھا ان دو کتابوں کا رنگ۔ اور ماشاء اللہ تصوف کے اوپر بہت بڑے ماشاء اللہ جو بات کرنے والے حضرات میں جیسے تنظیم الحق حلیمی صاحب، ہمارے حضرت جنہوں نے مجھے اجازت بھی دی۔ مجھے اجازت دینے کی وجہ ہی بنی وہ دو کتابیں۔ کہ ان تک یہ کتابیں پہنچیں تو وہ خصوصی طور پر راولپنڈی تشریف لائے اپنی بیٹی کے گھر، اور ادھر سے ٹیلی فون کیا۔ ان دنوں میرے دورے ہوا کرتے تھے یعنی مجالس، روزانہ کی سطح پر مجالس ہوا کرتی تھیں راولپنڈی کے، اسلام آباد کے مختلف جگہوں پہ۔ تو میں گھر لیٹ آتا تھا کیونکہ دفتر سے سیدھا ادھر جاتا تھا، اور پروگرام کے بعد پھر میں ظاہر ہے گھر آتا تھا تو کبھی 10 بجے میں آ رہا ہوں، کبھی موسم کے لحاظ سے 9 بجے آ رہا ہوں، بہرحال والدہ صاحبہ سخت ناراض ہوتی تھیں: "یہ تو نے کیا شروع کیا ہے؟ گھر اتنا لیٹ پہنچتے ہو، یہ کرتے ہو، وہ کرتے ہو"۔ اب ظاہر ہے والدائیں تو اس طرح سوچتی ہیں۔ تو یہ ہے کہ یہ جو حلیمی صاحب، انہوں نے ٹیلی فون کیا میری والدہ نے اٹھایا، ان دنوں موبائل تو تھے نہیں لینڈ لائن ہوا کرتا تھا۔ والدہ نے اٹھایا تو حلیمی صاحب نے پوچھا: "شبیر کدھر ہے؟" والدہ نے آواز تو پہچان لی انہوں نے کہا: "تجھے پتہ نہیں کہ شبیر تو آسمانوں میں اڑ رہا ہے"۔
تو حلیمی صاحب جولی طبیعت کے تھے، یعنی وہ باتوں کو Enjoy کرتے تھے۔ کہتے ہیں: "یہ تو مجھے بھی پتہ ہے کہ وہ آسمانوں پہ اڑ رہے ہیں، لیکن اس وقت مجھے یہ بتائیں کہ کون سے آسمان پر ہے؟" خیر بہرحال انہوں نے کہا کہ: "اچھا ٹھیک ہے جب آ جائے نا، تو ان کو میرا ٹیلی فون نمبر دے دیں کہ میں اس نے اس نمبر سے میں نے ٹیلی فون کیا تھا تو وہ مجھ سے رابطہ کر لیں گے"۔ تو میں جب آ گیا تو مجھے بتایا اچھا ہوا کہ ٹیلی فون نوٹ کیا تھا۔ میں نے ٹیلی فون پہ Contact کیا تو پتہ چلا کہ ہاں وہ ہے، ٹائم طے ہو گیا اگلے دن کا، پہنچ گیا۔ اگلے دن پیر کا دن تھا۔ تو پیر کے دن ہماری مجلس ہوا کرتی تھی وہاں پر چھپر والی مسجد میں۔ تو میں نے ریکویسٹ کی میں نے کہا: "حضرت اگر آپ ہمارے ساتھ چلے جائیں تو ہمارے ساتھی بھی آپ کو دیکھ لیں گے، ان کی بھی زیارت ہو جائے گی"۔ تو حضرت تیار ہوگئے ماشاء اللہ۔ اب گاڑی میں حضرت کو بٹھا کے ہم روانہ ہو گئے۔ راستے میں مجھے کہتے ہیں: "شبیر میں تجھے اجازت دینا چاہتا تھا لیکن اب نہیں دیتا"۔ میں نے کہا: "کیوں؟" حضرت بڑے بے تکلف لوگوں میں سے تھے، اور میری اکثر بعض باتوں پہ حضرت کے ساتھ لڑائی بھی ہوا کرتی تھی، رشتہ دار تھے ظاہر ہے، اور حضرت مجھے دباتے بھی تھے اور میرے بڑے نام انہوں نے رکھے تھے، ایک نام رکھا تھا "برخود غلط" کہ یہ خود اپنے آپ کو مطلب غلط سمجھا ہوا ہے، برخود غلط کہتے تھے۔ تو اس قسم کی باتیں ہماری ہوا کرتی تھیں۔ تو ظاہر ہے میرا تو معاملہ ان کے ساتھ ایسا تھا، لیکن مجھے یہ پتہ تھا کہ اپنائیت پہ بہت زیادہ وہ خوش ہوتے تھے اگر کوئی ان کے ساتھ اپنائیت کا اظہار کرتا تھا تو اس پہ بہت خوش ہوتے تھے۔ میں نے کہا: "کیوں؟" کہتے ہیں: "اب تم مشہور ہو گئے ہو۔ دیکھو ان کتابوں کو میں نے دیکھا ہے اس پر بڑے بڑے لوگوں نے تقریظیں لکھی ہیں، اور یہ بہت زبردست کتابیں ہیں۔ اب تمہارے دماغ میں یہ بات آئے گا کہ میں مشہور ہو گیا تو مجھے اجازت دے رہے، تو میری اجازت کی قدر نہیں ہوگی، لہٰذا میں آپ کو اجازت نہیں دے رہا"۔ تو مجھے تو ان کے انداز کا پتہ تھا، میں نے کہا: "حضرت اب تو میں زبردستی لوں گا یہ"۔ کہتے ہیں: "کیوں؟" میں نے کہا: "اس لیے کہ اپنی چیز کو تو کوئی نہیں چھوڑتا۔ دوسرے بزرگوں کی یقیناً اجازت مجھے حاصل ہے، لیکن وہ تو دوسرے بزرگ ہیں نا، اپنوں کی تو کوئی نہیں چھوڑتا"۔ اس پر بڑے خوش ہوئے تو نکالا وہ چھپا ہوا لے آئے تھے وہ ساتھ تو مجھے دے دیا ماشاء اللہ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کو ان دو کتابوں کے بعد کسی کتاب کے چھاپنے کی ضرورت نہیں، اصل یہی ہے بس۔ باقی تفصیلات ہیں تو تفصیلات تصوف میں تفصیلات عملی ہوتی ہیں علمی نہیں ہوتیں، یعنی وہ انہوں نے ان کا اپنا نقطہ نظر تھا۔
خیر تو میں عرض کر رہا تھا کہ "زبدۃ التصوف"جو تھا، یہ اسی کا ایک چیپٹر تھا اور ہم نے من و عن چھاپا تھا۔ لیکن جس وقت اس کتاب کو چھاپنے کا ارادہ کیا، تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ماشاء اللہ پیغام مل گیا ایک ساتھی کو کہ یہ مکمل نہیں ہے، اس میں جو آپ نے Definitions دی ہیں یہ مکمل نہیں ہیں، ان کو ذرا بڑھا دیں، اور زیادہ بھی اس کے Definitions اس میں شامل کر لیں۔ اور ساتھ ہی کمال کی بات ہے جس چیز کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے، وہ بڑا عجیب ہے، وہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیلڈ کی چیزیں ہیں۔ فرمایا: جیسے "وحدت الوجود اور وحدت الوجود۔ مثال جس چیز کی دی: "جیسے وحدت الوجود وحدت الشہود"۔ تو پتہ چل گیا کہ گویا کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی چیزوں کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے پھر ہم نے پہلے غالباً آپ کو شاید یاد ہوگا "زبدۃ التصوف" کا 10، 11 اصطلاحات Terminology دی گئی تھی۔ اب کتنی ہے؟ اب کافی زیادہ ہے، کئی صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حضرات کی گویا کہ طرف سے توجہ تھی کہ اس پر کام کیا جائے اور اس کو مزید Elaborate کیا جائے۔ تو اللہ کا شکر ہے کہ اب آپ کے سامنے ہے۔
تو فرمایا کہ "اب ماشاء اللہ "فہم التصوف" تو میرے نزدیک اس موضوع پر انتہائی شافی اور کافی مجموعہ ہے۔ کوئی شک نہیں آپ نے بہت تفصیل اور عمدگی سے مسائلِ تصوف و سلوک کو بیان کیا اور ان شاء اللہ طالبِ حق کے لیے کتاب اکسیر ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، اس علمی روحانی شاہکار کو قبولیت سے مالامال فرمائے اور طالبین کو اس سے خوب منتفع فرمائے۔"
بعد میں کچھ کمپوزنگ کی غلطیاں ہوئیں تو اس کے بارے میں بتایا کہ یہ چیزیں ٹھیک کر لیں۔ عالِم ظاہر ہے عالِم عالِم ہوتا ہے نا تو ہر چیز میں۔ تو ہمارے حضرت ڈاکٹر فدا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس پر لکھا، انہوں نے بھی یہی بات Elaborate کی ہے۔ "برصغیر پر اللہ کا احسان ہے کہ ہزار صدی کے بعد مقامِ مجددیت کے لیے یہ خطہ قبول ہوا۔ چنانچہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ہزار صدی کے بعد "مجدد الف ثانی" کے عظیم خطاب کے ساتھ امتِ محمدیہ کے سامنے آئے۔ ان کا فیض پوری دنیائے اسلام میں پھیلا۔ بارہویں صدی کے مجدد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ہوئے، جبکہ تیرہویں صدی سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حصے میں آئی۔ چودھویں صدی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات سے آباد ہوئی۔ ان سارے حضرات نے اسلامی تعلیمات کو اپنے اپنے ادوار میں بیان فرما کر امتِ محمدیہ پر عظیم احسان فرمایا۔ فارسی کے ناپید ہونے کے بعد اور آج کے دور کی کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد انگریزی ایسی چھا گئی کہ اردو کی استعداد بہت کمزور ہو گئی۔ اس دور کے لیے حضرات اکابرین کی تعلیمات کو نئے سرے سے آسان زبان میں جدید مثال و اصطلاحات کے ساتھ بیان کرنے کی اشد ضرورت تھی۔ الحمد للہ، شبیر صاحب نے اس طرز پر ان علوم کو بیان کر کے نئی نسل پر احسان کیا ہے۔ مجموعہ "فہم التصوف" آپ کے ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ کتاب کو قبول فرمائے اس کو ہمارے بزرگوں کے فیوض و برکات کے پھیلنے کا ذریعہ بنائے۔"
تو یوں سمجھ لیجیے کہ اپنے بزرگوں سے بھی اس کی ایک قسم کی اجازت حاصل ہوئی کہ ان بزرگوں کے تحریرات پر کام کیا جائے۔ یعنی مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تو خیر ہیں وہ تو ہمارے گذشتہ اکابر میں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے۔ پھر حضرت حاجی عبدالمنان صاحب دامت برکاتہم، انہوں نے اس پر لکھا: "نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اللہ تعالیٰ ہمارے عزیز بھائی شبیر کاکاخیل صاحب کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے تین ائمہ تصوف کی جو بہت باریک باتیں ہیں اس کو عام فہم انداز میں آگے بڑھایا ہے، جس کی ضرورت بھی تھی۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ لوگوں نے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے، جو اس میں علم ہے وہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔" اب یہ کس نے بتایا؟ یہ شیخ العرب والعجم جس کو کہتے تھے مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ "جو اس میں علم ہے وہ دور کہیں نہیں مل سکتا۔ اللہ ان کو جزائے خیر دے کہ ان کی کتاب کو انہوں نے آگے بڑھایا ہے۔ اس طرح حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا اونچا مقام ہے۔ جو ہمارے اکابر دیوبند میں ہیں وہ ہماری سندیں ساری ان لوگوں سے چلتی ہیں۔ یعنی حدیث کی سند۔ حدیث کی بھی اور تصوف میں بھی ان کا بہت اونچا مقام تھا۔ پھر ان دونوں کے شارح جو ہمارے دور میں ہیں وہ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے ان دونوں حضرات کی تعلیمات کو خوب حکیمانہ انداز میں شرح کر کے عام فہم انداز میں پہنچایا ہے۔ لیکن ان میں مزید تفصیلات کی یقیناً ضرورت رہتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ۔ اللہ ہمارے عزیز کو جزائے خیر عطا فرمائے ان کی اس کوشش کو قبولیتِ عام نصیب فرمائے اور لوگوں کے لیے نافع بنائے اور ہم سب کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔"
تو گویا کہ اس کتاب کو جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ پہلی ہی دفعہ یعنی گویا کہ انٹرنیشنل سطح پر ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب، انگلینڈ جو پورے یورپ کے لیے مرکز ہے وہاں اور پھر ہمارے پاکستان میں۔ تو اس ذریعے سے ان شاء اللہ ہم شروع کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما دے۔
کتاب کے جاننے کے بعد اس کی طرف توجہ زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہ تقاریظ اس مقصد کے لیے ہوتی ہیں۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر آپ جانتے نہیں کہ یہ کتاب کس ویلیو کی ہے، تو آپ کے اوپر چھاپ اس کا بہت کم آتا ہے، آدمی ناول کی طرح پڑھ لیتا ہے گزر جاتا ہے، اس کو صرف ایک سطحی انداز میں Pick کر لیتا ہے، اور اس کا جو Detail ہے اس کی طرف اس کا قلب متوجہ نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ اس کا قلب متوجہ نہیں ہوتا۔ اور قلب کو متوجہ کرنا ضروری ہے کیونکہ فقاہت کا تعلق قلب کے ساتھ ہے۔ قرآن پاک سے ثابت ہے: وَ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا۔ تو اس کا مطلب ہے فقاہت کا تعلق دل کے ساتھ ہے، دل سے ہم کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو عقل کام کرنا شروع کر لیتی ہے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ عقل کام کرنا شروع کر لیتی ہے جس وقت دل سے کسی چیز کی طرف متوجہ ہوں۔ تو یہ دل سے متوجہ ہونے کے لیے یہ آپ کو تقاریظ بتائی ہیں کہ آپ کو اندازہ ہو جائے کہ میں کون سی کتاب کا مطالعہ کر رہا ہوں، اس کے بارے میں اکابر کا کیا Opinionہے۔
میرے پاس ایک پروفیسر صاحب تھے غالباً ڈاکٹر عمر صاحب کے جہاں سے میڈیکل کیا ہے اسی میں کوئی استاد تھے نام تو مجھے اس وقت یاد نہیں، تو آئے تھے میرے پاس اور مجھے ایک کتاب دے دی تصوف پر پروفیسر عبدالغنی ان کا کوئی، کہ جی بڑی اچھی کتاب ہے میں آپ کے لیے لایا ہوں۔ اب ظاہر ہے اس میں انصاف کی بات کرنی ہوتی ہے۔ اب اگر میں اس کو Accept کر لیتا بڑی محبت کے ساتھ، تو جو چیز اس تک پہنچنی چاہیے تھی وہ پہنچنے سے رہ جاتی۔ کیونکہ اس نے بڑی محبت سے مجھے دیا تھا، لیکن آیا اس کو خود اس کو پڑھنا چاہیے نہیں پڑھنا چاہیے، اس کو Pick کرنا چاہیے نہیں Pick کرنا چاہیے، اس کے بارے میں ذرا میرا اپنا Opinion تھا۔ تو میں نے اس کے سامنے ذرا اس کی سرورق دیکھا اور پھر اس کے بعد کچھ پیجز دیکھے، اور پھر میں نے عرض کیا کہ: "حضرت یہ تو تصوف کے لیے Acceptable نہیں ہے"۔ اس نے کہا: "کیوں؟" میں نے کہا: "جس نے لکھی ہے وہ خود صوفی نہیں ہے۔ اس کا کوئی سرا سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کون ہے، اس کی کیا Authenticity ہے اور مطلب اس کے اوپر کس نے اعتماد... کچھ بھی اس میں نہیں ہے اس طرح، بس ایک ٹیکسٹ ہے جیسے اخبار میں کوئی چیز آ جاتا ہے۔ تو اس کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتنا Authentic ہے میں اس کے اوپر اپنا ذہن دوں یا نہ دوں؟ تو میرے نزدیک تو یہ تصوف جیسے نازک موضوع پر Acceptable کتاب نہیں ہے"۔ تو میں نے ان کو بڑی Respect کے ساتھ واپس کر دیا کہ ایسی کتاب پڑھنے سے نہ پڑھنا اچھا ہے، یقیناً انہوں نے محسوس بھی کیا ہوگا، لیکن Information communicate ہو گیا، کم از کم اس کو کم از کم میری طرف سے تو اطلاع ہو گئی کہ اس میں کچھ Pre-requisites چیزیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ میں اس کو پڑھوں یا نہ پڑھوں اور پڑھوں تو اس کو کیا دے دوں، ویلیو کیا دے دوں؟ کیونکہ یہ چیزیں تو دل کو چھیڑنے والی چیزیں ہیں یہ تصوف جو ہے، یہ تو دل کو چھیڑنے والی چیزیں ہیں۔ کیا خیال ہے؟ آپ اپنا لیپ ٹاپ کسی اناڑی سے کھلوائیں گے؟ جو نہیں جانتا ہو کہ لیپ ٹاپ کیا چیز ہے؟ آپ اس کو کہیں گے کہ آپ اس کو کھول لیں؟ اپنا موبائل؟ کیوں؟ آپ کو پتہ ہے کہ بھائی ایک جو اناڑی ہے پتہ نہیں اس کو کون سی چیز کو خراب کر دے، تو ظاہر ہے آپ جرات نہیں کرتے۔ تو اس طرح اپنے دل کے تاروں کو کس کو چھیڑنے دے رہے ہیں؟ آیا وہ Authentic ہے؟ کوئی بات مجھے بتائے گا تو میں اس سے کیا اثر لوں گا؟ یہ بہت اہم Decisions ہیں اس وجہ سے آئندہ جب بھی آپ تصوف کے موضوع پر کوئی کتاب پڑھیں تو سب سے پہلے ان چیزوں کو کنفرم کر لیں۔
ایک تو یہ رخ ہے تصوف کا جو کتابوں میں آپ کو یاد رکھنا چاہیے، کتابوں کی سلیکشن میں۔ یہ تو بنیادی ہے۔ ایک اس میں اضافی ہے، اور وہ اضافی بھی بہت اہم ہے۔ وہ یہ ہے کہ کتاب تو بہت اونچی ہے لیکن میرے لیے Understandable ہے؟ کیا میں اس کو صحیح سمجھ سکوں گا؟ یہ بھی، کیونکہ کمیونیکیشن میں یہ ساری چیزیں شامل ہوتی ہیں نا کہ کس نے کس چیز کو کیا Pick کیا، اور ہونا کیا چاہیے تھا، اور وہ صحیح کمیونیکیٹ ہوا یا نہیں، اور میں اس کو صحیح سمجھ رہا ہوں یا نہیں، یہ ساری باتیں اہم ہیں اس میں۔ تو بے شک کتاب بہت اونچی کیوں نہ ہو، لیکن جو پڑھ رہا ہے اگر وہ اس کے ساتھ Compatible نہیں ہے تو اس کو نہیں پڑھنا چاہیے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنا واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک وکیل صاحب تھے اس کی بڑی مشکل حالت تھی، ڈپریشن میں جیسے وہ جا رہے تھے اور پریشان تھے بہت زیادہ، حتیٰ کہ کہتے بولا بھی اس سے صحیح نہیں جا رہا تھا۔ میرے پاس اس حالت میں آئے تو میں نے اس سے پوچھا کون سی کتاب پڑھی ہے؟ تو پتہ چلا کہ اس نے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الخوف پڑھی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ میں نے کہا آئندہ اس کتاب کو نہیں پڑھنا۔ کس کی کتاب نہیں پڑھنی؟ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب نہیں پڑھنی۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تو ماشاء اللہ یعنی ارشاد کے آسمان کے ستارے ہیں، لیکن کس نے روکا؟ وقت کے مجدد نے روکا۔ وقت کے مجدد نے روکا کہ آپ اس کو نہ پڑھیں، کیوں؟ آپ اس کے ساتھ Compatible نہیں ہیں۔
اور بعینہٖ یہی واقعہ میرے ساتھ ہوا ہے ذرا ڈیفرنٹ انداز میں، کہ میں نے ایک کتاب پڑھی ایک بہت بڑے بزرگ ہیں آپ سب ان کو جانتے ہیں لہٰذا میں اس کا نام نہیں لیتا، اور بڑی مشہور کتاب ہے، شاید آپ لوگوں نے بھی پڑھا ہو۔ میں نے اس کو پڑھا اور مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ وہی والی جو وکیل صاحب والی حالت میری ہوگئی، اب صبح اشراق کے بعد حضرت کے پاس میں چلا گیا اور حضرت کو میں نے ساری بات سنائی کہ حضرت مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ فورا پوچھا: "کون سی کتاب پڑھی ہے؟" تو میں نے کتاب کا نام لے لیا۔ فرمایا: "آئندہ تجھ پر یہ کتاب پڑھنا بند، آئندہ تجھ پر یہ کتاب پڑھنا بند" اور پھر فرمایا: "ساری کتابیں بند، سوائے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ اور ملفوظات کے کوئی کتاب بھی آپ نہیں پڑھ سکتے"۔ اور پھر فرمایا: "یہ نہ سمجھنا کہ کتاب غلط ہے، بعض دفعہ ڈاکٹر مریض کو ملائی سے بھی روک دیتا ہے، تو ملائی کوئی بری چیز نہیں ہے لیکن Patient کا پیٹ اس قابل نہیں ہے تو اس وجہ سے اس کو ملائی سے روک دیتے ہیں"۔ تینوں باتیں ایک Sequence میں آگئیں، پتہ چل گیا کہ واقعی، اور ایک وقت تک پھر میری یہ حالت تھی کہ میں صرف حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ اور ملفوظات ہی پڑھتا تھا۔
تو یہ چیز ہے کہ آپ ہر ایک کتاب کو نہ پڑھیں، ہر کتاب کو پڑھنے کی صلاحیت ہر ایک میں نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے جو کتاب آپ کے دور کے لیے ہے اور آپ کے لیے ہے، آپ کے ذہن کو بنیاد بنا کر لکھی گئی ہے اور ہے صحیح، تو اس کے پڑھنے سے فائدہ ہوگا۔
یہ میرے ساتھ ایک دوسرا واقعہ ہوا تھا انجینئرنگ میں جب میں اسٹوڈنٹ تھا فورتھ ایئر کا غالباً فائنل ایئر کا اسٹوڈنٹ تھا۔ ان دنوں یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ یہ میں کراچی سے ماشاء اللہ اس کو یعنی ہدیہ کر کے منگوا چکا تھا، اور میرے پاس تقریباً ساری جلدیں اس وقت کی چھاپ شدہ تھیں اور میں باقاعدہ Regularly پڑھا کرتا تھا۔ دل میں ایک وسوسہ آیا، وسوسہ کیا آیا کہ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کو پڑھتا ہے تو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کیوں نہیں پڑھتا؟ خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا کیوں نہیں پڑھتا؟ جو اوریجنل سلسلوں کے بانی ہیں، ان کو آپ کیوں نہیں پڑھتے؟ آخر کیا پڑھتے ابتداء کا پڑھ لو تاکہ آپ کو Basic نالج کا پتہ چل جائے، Orignal نالج کا پتہ چل جائے، یہ ایک وسوسہ تھا۔ شیطان ظالم وہ کچھ نہ کچھ چکر چلاتا رہتا ہے۔
خدا کی شان اللہ پاک نے جواب بھی مجھے بہت جلدی دے دیا۔ اور جواب مجھے انجینئرنگ کے لحاظ سے دیا۔ کیونکہ ہمارے پروفیسر تھے ڈاکٹر جمال خان، انٹرنیشنل فیم کے آدمی تھے، اپنے سبجیکٹ پہ اتھارٹی تھے۔ اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ آ کے بورڈ کے اوپر انرجی ایکویشن لکھ لیتا بغیر یہ جانے کہ آج کیا پڑھانا ہے، کیونکہ ان کے بہت سارے بکھیڑے تھے اس میں لگے رہتے تھے، تو درمیان سے ایک وقت نکال کے کلاس میں آ جاتے تھے، اور کلاس کے دوران بھی اس طرح وہ مطلب Walk کرتے کرتے پڑھاتے تھے۔ تو باہر نظر ہوتی کون کیا کر رہا ہے کہ باہر نکل جاتے کلاس سے، اس سے بات کر کے پھر آ جاتے۔ یہ ان کا طریقہ کار تھا لیکن تھے اپنے سبجیکٹ پہ اتھارٹی۔ تو وہ انرجی ایکویشن لکھ کے پوچھتے کیا بھئی آج کیا پڑھانا ہے؟ تو ہم کہتے جی آج ٹربائن پڑھنا ہے۔ تو ہم سے ہی پوچھ پوچھ کے وہ کنڈیشنز وہ سارے معلوم کر کے لگوا کے وہ انرجی ایکویشن سے وہ ٹربائن کا ایکویشن نکلوا دیتے اور پھر اس سے Problem solve کرواتے۔ یہ اوریجنل نالج جس کو ہم کہتے ہیں۔ اور نوٹس بھی اس طرح چلتے چلتے اس طرح لکھواتے تھے۔
تو مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے سے یہ بات کہ پروفیسر جمال خان جو تھے، اس نے یہ ساری کتابیں پڑھی ہیں جو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ انجینئرنگ کی وہ بڑی مشکل کتابیں ہیٹ ٹرانسفر کی، پاور پلانٹس کی وہ کتابیں جو انہوں نے پڑھی ہیں جو ہم نہیں سمجھ سکتے، انہوں نے ہمارے لیے Digestible form میں نوٹس ہمیں دے دیے۔ اب اگر میں کہتا ہوں کہ میں پروفیسر جمال خان کی نوٹس کیوں پڑھوں، میں تو مجھے فلاں پروفیسر جو امریکہ کا ہے وہ میں اس کو پڑھوں، فلاں پروفیسر پہلے جو گزرا ہے اس کو پڑھوں، تو کیا مجھے وہ چیز سمجھ میں آئے گی؟ میرے لیے تو وہ... میرے رینج سے باہر ہیں۔ ان کے لیے باہر نہیں ہیں۔ تو یہ درمیان میں بفر زون ہے۔ جو پروفیسر جمال خان ہے یہ درمیان میں ہے، وہ اس کو سمجھتے اور پھر ہمیں سکھاتے ہیں، ہمیں اپنی زبان میں سکھاتے ہیں، ان کی زبان میں سیکھتے ہیں۔ Access ان کو حاصل ہے اور ہمیں اِن تک Access حاصل ہے۔ تو اسی طریقے سے کمیونیکیشن ہوتی ہے، تو مجھے فورا سمجھا کہ شیطان کا دھوکہ ہے۔ جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سمجھ سکتے تھے وہ ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اور جو وہ سمجھا سکتے ہمیں، وہ پہلے اکابرین کے سامنے وہ چیزیں نہیں تھیں۔ لہٰذا ان کی باتوں کے لیے سمجھنے میں گیپ ہے۔ اور حضرت کے ذریعے سے گیپ ہم Cover کر سکتے ہیں۔ تو اگر ہم حضرت کی تحریرات کو چھوڑ کر ان تک جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اوور ایسٹیمیٹ کر رہے ہیں، نتیجہ جہالت ہوگا۔
بس یہ بات جب سمجھ آگئی تو میں نے چھوڑ دی باقی چیزیں۔ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے آپ حضرات جانتے ہیں کہ ان چیزوں کی بڑی برکتیں حاصل ہوئیں۔ اب جو آپ کے سامنے یہ کتاب ہے، تو یہ جیسے میں نے عرض کیا ماشاء اللہ نچوڑ ہے ان بزرگوں کی تحریرات کا۔ اور اس میں اللہ پاک نے جو اتنا عرصہ لگوایا، اس میں بھی اللہ پاک کی بڑی حکمتیں تھی