حسد کی تباہ کاریاں اور علمِ دین میں محتاط رویے کی ضرورت: مثنوی مولانا روم کی روشنی میں

دفتر اول حکایت نمبر 21،20 - (اشاعتِ اول)، منگل، 06 اگست، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

  حسد کی مذمت اور اس کے نقصانات• یہودی وزیر کی حکایت اور باطل نظریات کا فروغ• مکار اور بظاہر خوش کلام لوگوں سے اجتناب• دین کے حقیقی مآخذ (قرآن، سنت، صحابہ، فقہاء)• دین اور دنیاوی علوم (Science & Development) کا فرق• ہر شخص کو اپنے دائرہ کار (Domain/Field) میں رہنے کی تلقین• دنیاوی تعلیم یافتہ افراد کا دینی امور میں بے جا دخل اور اس کے نقصانات  

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


معزز خواتین و حضرات!

آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے۔

15

بے حسد سے تو حسد کرے گا گر وہ ہے محفوظ تو مگر بگڑے گا پھر

جب تو (کسی) بے حسد (بزرگ) کے ساتھ مکر و حسد کرے گا (تو اس کا کچھ نہیں بگڑے گا) اس حسد سے تیرے ہی دل پر تاریکیاں چھا جائیں گی۔

آدم علیہ السلام کا کیا بگڑا؟ آدم علیہ السلام کا تو اللہ پاک نے بہت مرتبے دیے۔ اور شیطان کا سارا کچھ ختم ہو گیا۔

16

خاک بن مردان حق کا زیرِ پا ڈال حسد پہ خاک ہماری طرح

مردانِ خدا کے قدموں کی خاک ہو جاؤ (اور) ہماری طرح حسد پر مٹی ڈالو۔

کچھ بھی پرواہ نہ کرو مطلب یہ بات ہے۔ تو یہ ماشاءاللہ ہمیں حضرت نے بہت اچھی نصیحت فرمائی ہے کہ ہمیں کسی ولی اللہ کے ساتھ حسد نہیں کرنا چاہیے، کسی عالم کے ساتھ حسد نہیں کرنا چاہیے، کسی نیک شخص کے ساتھ حسد نہیں کرنا چاہیے، اس کا کچھ نہیں بگڑے گا، ہمارا سارا کچھ بگڑ جائے گا۔


دفتر اول حکایت نمبر 20

یہودی وزیر کے حسد کا بیان


اب دیکھو حسد سے شروع ہوا تو حسد قدر کی طرف چلی گئی بات۔

1

تھا حسد سے وہ وزیر بالکل بنا کان و ناک سے خود کو محروم کرلیا

(اس حد تک حسد میں آیا کہ اس نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا، خود اپنے کان اور ناک وغیرہ سے اپنے آپ کو محروم کر دیا)۔

اللہ اکبر۔

2

اس امید پہ وہ کہ از روئے حسد ڈنگ زہر کا مارے مسکینوں کو بد

اس امید پر (کان ناک کٹوا لیے) کہ حسد کے ڈنگ سے اس کا زہر بے چارے (عیسائی) لوگوں کی جان میں سرایت کر جائے۔

یعنی ان کو گمراہ کر دے، بلاوجہ

3

ہر کوئی جس پر حسد سوار ہو واسطے حق کان ناک اس کا بیکار ہو

سبحان اللہ، اب دیکھو کس طرف جا رہے ہیں۔ جس پر حسد سوار ہو جائے، اس کا کان ناک جو ہے نا وہ بیکار ہو جاتا ہے۔ وہ صحیح سونگھ نہیں سکتا، صحیح سن نہیں سکتا۔ اس کو صحیح بات کا پتہ نہیں چلے گا۔

جو شخص حسد میں آ کر (حق و انصاف سے) انکار کرے۔ وہ اپنے آپ کو (حق سننے والے) کان اور (حق کو محسوس کرنے والی) ناک سے محروم کر لیتا ہے۔ وزیر بینی بریدہ کے ذکر کے اثنا میں عام حاسدوں کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہر چند ان کے کان ناک سلامت ہیں اور ان کے پاس آلاتِ حواس موجود ہیں مگر جب وہ ان سے احساسِ حق نہیں کرتے تو ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا﴾ (الأعراف: 179) "اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں" یعنی حق بات نہیں سنتے یا سنتے ہیں مگر اس کان سے سنا اور اس کان سےاڑا دیا، دل تک بات نہیں جاتی۔

تو یہ ہے دیکھیں نا۔

4

ناک وہ جو بوئے حق حاصل کرے اس کا بو حق سے اسے واصل کرے

اوپر کہا تھا کہ حق کا احسان نہ کرنے والے لوگوں کے بھی کیا ناک کان ہیں، ہوئے نہ ہوئے برابر ہیں۔ اب اس نفی کی توجیہ فرماتے ہیں کہ ہم تو اس ناک کو قائم سمجھتے ہیں جو بوئے حق کو محسوس کرے اور یہ احساس اس کے لیے وصول الی اللہ کا موجب ہو۔ ایک اور طرح بھی مطلب بن سکتا ہے کہ خویش را بے گوش و بینی کند سے خویش را ذلیل کند مراد ہو یعنی جو شخص حق سے انکار کرتا ہے وہ عند اللہ اور عند الناس نکٹا یعنی ذلیل ہو جاتا ہے اب کہتے ہیں ناک یعنی فخر و عزت تو اس شخص کی ہے جو حق کا پیرو ہو۔ ﴿وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوْلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾(منافقون: 8) ”عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے“۔ جب اس شخص میں یہ بات نہیں تو نکٹا نہ ہوا تو اور کیا ہوا۔

5

ہر کہ جو بو حق کی سونگھ سکتا نہیں ناک نہیں دین سے وہ میل رکھتا نہیں

جس میں بو (سونگھنے کی قوت) نہیں وہ بے ناک ہوتا ہے (اس) بو (سے) وہ بو (مراد) ہے جو کہ دینی ہو۔ اس شعر میں مسلماتِ مخاطب کے ذریعہ سے اثباتِ دعوٰی ہے یعنی اتنا تو تم بھی مانتے ہو کہ جو شخص بو سونگھنے کا آلہ نہیں رکھتا وہ بے بینی ہے۔ پس ہم بو سے مراد بوئے دینی لیتے ہیں اور اس کے سونگھنے کا اس کے پاس سامان نہیں تو لا محالہ وہ بے بینی ہوا۔

6

بوئے حق پاکر شکر گر نہ کرے قوت شناخت اس سے تب سلب رہے

جب کسی مردِ خدا کا با کمال ہونا معلوم ہو جائے تو اس کی قدر کرنی واجب ہے جب اللہ تعالیٰ ایک دولتِ لا زوال پر دسترس بخشے تو اس سے دستکش ہونے والا کافرِ نعمت ہے۔

7

شکر کر بن عارفوں کا تو غلام ان کی خدمت سے ملے عمرِ دوام

ترجمہ: شکر کرو اور شکر گزاروں (یعنی عارفوں کے) غلام بن جاؤ اور ان کی خدمت میں انانیت کو مٹا کر عمرِ دوام حاصل کرو۔ یعنی اہل اللہ کے آگے اپنی خودی کو مٹا دینا بقائے دوام بخشتا ہے۔لیکن اگر کسی با کمال کے آگے کمرِ اطاعت خم کرنا، اپنی خودی کو مٹانا اور فنا و محو ہونا منظور نہیں تو اس منزل پر فائز ہونا نا ممکن ہے۔

8

اس وزیر سا رہزنی نہ کر کبھی طلب حق سے روکنا مخلوق کو نہیں

یعنی جو وزیر تھا جو کہ حاسد تھا، جس نے مطلب یہ ہے کہ وہ عیسائی عوام تھے، ان کو گمراہ کرنا چاہا، تو انہوں نے گویا رہزنی کی اور ان کو جو ہے نا صحیح راستے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ تو اس طرح تو نہ بن۔


عارفانِ حق کو شناخت کرنے اور ان کی خدمت بجا لانے کے بجائے خود جھوٹے شیخ نہ بن بیٹھنا اور وزیر یہودی کی طرح لوگوں کو راہِ حق سے روکنے کے لیے ڈاکو نہ بن جانا۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا ہے، کہ اگر کوئی منتہی مرجوع نہیں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مجذوب متمکن ہے تو وہ راہ میں بیٹھ کر ڈاکو نہ بنے بلکہ لوگوں کو منتہی مرجوع کی طرف رہنمائی فرما دے)۔

اللہ اکبر۔

دفتر اول حکایت نمبر 21

بعض ہوشیار نصاریٰ کا وزیر کے مکر کو سمجھنا


1

مذہبی کافر وزیر واعظ بنا

یعنی کافر تھا مذھب وہ واعظ بن گیا

حق کو خوب باطل کے ساتھ خلط ملط کیا

(یعنی وہ بے دین وزیر مذہبی واعظ بن گیا، اس نے مکر سے حق و باطل کو خلط ملط کر دیا)۔


2

گفتگو سے اس کی جو تھے رمز شناس پاتے لذت دل مگر ہوتا بھی پاش

جو شخص مزہ شناس تھا وہ اس کی باتوں سے بوجہ خوش بیانی ایک لذت محسوس کرتا تھا اور اس کے ساتھ ہی (اس کی شرارت و ضلالت بھری باتوں کی) ایک تلخی (بھی پاتا)۔ مکر و ریا آخر کب تک چھپ سکتا ہے صاحبِ ذوق پہچان گئے۔

3

گفتگو میں تھا بظاہر اس کا قند تھا بباطن زہر اور نفسانی گند

وہ (ادھر ادھر کی باتیں) ملا ملا کر اور شربت و قند میں زہر گھول گھول کر نکتے بیان کرتا تھا۔

4

ہاں اگر تجھ کو ملے ایسا مکار دھوکہ نہ کھا اس سے ہے گند خبردار

خبردار (اگر تجھ کو بھی کسی ایسے مکار سے پالا پڑے تو اس کی) اس پسندیدہ گفتگو سے دھوکا نہ کھانا کیونکہ وہ (گفتگو) اپنی تہہ میں سینکڑوں خرابیاں رکھتی ہے۔

مولانا بطریقِ نصیحت فرماتے ہیں کہ مکاروں سے ہوشیار رہو۔

5

بد عمل کے قول میں بھی ہو بد اثر مردہ دل کے قول سے کون ہو جانبر

مردہ دل کے قول سے کون ہو جاں بر؟ خود جو مردہ ہے وہ کسی اور کو زندہ کیا کرے گا؟ جب وہ خود بد (اعمال) ہے تو اس کے اقوال کو بھی بد (اثر) سمجھ (کیونکہ) جو کچھ مردہ (دل) کہے گا اس میں (نیک تاثیر کی) جان نہ ہو گی۔

6

قول سے انسان کے بنے انسان ٹکڑا ہو جب نان کا تو ہے وہ نان

(مطلب انسان، ظاہر ہے انسان کے قول سے انسان بن سکتا ہے۔ اور اگر نان ہے، اس کا ٹکڑا ہے تو وہ روٹی کا ٹکڑا ہو تو پھر روٹی ہوگی نا؟

7

گفت علی کا ہے کہ قول ہے جاہل کا گندگی کے ڈھیر پہ سبزے کی طرح

اے مخاطب اسی لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ جاہلوں کی نعمتِ گفتار ایسی ہے جیسے کوڑے کرکٹ ڈالنے کی جگہ پر سبزہ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ "نِعَمُ الْجَاھِلِ کَرَوْضَۃٍ فِی مَزْبَلَۃٍ" یعنی ”جاہل کی نعمتیں ایسی ہیں جیسے کسی گندی جگہ پر سبزہ زار“۔ یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو نِعَمُ الجاہل فرمایا ہے۔ مولانا اس کو قول الجاہل کے معنی میں کیوں نقل کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقولہ میں جاہل کی عام نعمتوں پر حکم ہے۔ جن میں خوش خوری، خوش پوشی، خوش باشی، خوش کلامی وغیرہ، سب چیزیں شامل ہیں۔ مولانا نے بحکمِ ضرورتِ خاص ایک نعمت یعنی خوش کلامی کے لیے وہ مقولہ نقل کر لیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقولہ میں ضمنًا اس پر حکم ہو چکا ہے۔ "﴿ہٰذا وَ لَو لَم یَخِل عَنِ التَّکَلُّفِ﴾"۔ غرض مدعا یہ ہے کہ جاہل کا ظاہری حال و مقال بھی کوڑی کے کام کا نہیں جب کہ اس کا باطن نورِ معرفت سے خالی ہے۔

8

جو کہ اس سبزے پہ بیٹھ گیا کبھی شک ہے اس میں کب کہ پائے گندگی

مطلب جو اس پر بیٹھے گا، تو گندہ ہی ہو جائے گا، کیونکہ گندگی پر وہ پڑا ہوا ہے۔ اس طرح ہوتا ہے نا، یہ جو جگہ گندگی کے ڈھیر ہوتے ہیں، تو جب بارش ہوتی ہے، تو اس پر بالکل سبزہ چھا جاتا ہے۔ تو پتہ نہیں چلتا کہ اندر کیا ہے، اس کے پیر پڑ گیا تو پھنس گیا اندر۔ کیونکہ نیچے تو گندگی ہوتا ہے۔

9

چاہئیے کہ پاک نجاست سے کرے خود کو کہ پھر فرض نماز وہ پڑھ سکے

اس کو اپنا وجود نجاست سے پاک کرنا چاہیے تاکہ (اگر اس کے بعد وہ کہیں نماز پڑھنے لگے تو) اس کی فرض نماز باطل نہ ہو۔

مسائل: (1) مذکورہ تمثیل میں سبزہ پر بیٹھنے سے بدن یا کپڑے کا نجس ہونا اس صورت میں مراد ہے کہ وہ سبزہ نجاست سے آلودہ ہو اور بیٹھتے وقت بدن یا کپڑے پر اس سبزے سے یا زمین سے نجاست لگ بھی جائے ورنہ خود وہ سبزہ نجس نہیں ہوتا۔ نہ اس پر بیٹھنے سے جامہ و جسم نجس ہوتا ہے اگرچہ نجس زمین سے اُگا ہو

یہ حکم فقہی بتا دیا

اور نجس غذا سے اس نشو و نما ہوئی ہو۔

کیوں؟ بھئی، ہم جو کھاد ڈالتے ہیں، کھاد کیا، پاک ہوتا ہے؟ نجس ہوتا ہے نا۔ لیکن اس سے جو گوبھی پیدا ہوتا ہے، اس سے جو ٹماٹر پیدا ہوتے ہیں، اس سے جو دوسری چیز، اس کو ہم کھاتے ہیں یا نہیں کھاتے؟ کیونکہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ تو اب وہ چیز نہیں رہی، اس کو قلبِ ماہیت کہتے ہیں نا۔ تو قلبِ ماہیت ہو گئی، اب وہ چیز تو نہیں رہی۔ لہٰذا وہ تو کھانا جائز بھی ہے۔ اور مفید بھی ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہی تو بات ہے دیکھو نا، ہم پاک چیز کھاتے ہیں وہ گندی ہو جاتی ہے۔ نجاست بن جاتی ہے۔ اور نجاست سے چیزیں اگتی ہیں، وہ پاک ہوتی ہیں۔ تو خیر، مطلب یہ ہے کہ، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔

(2) حدث سے نجاست کا لگ جانا مراد ہے۔ وضو ٹوٹنا مراد نہیں جیسے کہ لفظ سے متبادر ہو سکتا ہے کیونکہ اگر با وضو آدمی کے بدن یا کپڑے پر خارج نجاست لگ جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ بلکہ صرف نجاست کا دھونا لازم آتا ہے۔

(3) یہاں نماز کے ساتھ فرض کی قید اتفاقی ہے کیونکہ یہ حکم فرض نماز سے مخصوص نہیں۔ بلکہ ہر فرض و سنت و نفل نماز جامہ کے نجس ہونے کی صورت میں باطل ہو جاتی ہے۔

10

ظاہر اس کی ہو کہ اس راہ میں ہو چست ہو بباطن یہ کہ نہ بڑھ اور ہو سست

اس (وزیر کی بات) کا ظاہر (مضمون) تو کہتا تھا کہ راہ (معرفت) میں چست ہو۔ اور اثر (کے لحاظ) سے جان کو کہتا تھا سست ہو جا۔ یعنی اس کے وعظ کا ظاہری مفہوم اچھا۔ لیکن وہ بلحاظ اثر و نتیجہ کے مضر تھا۔

اب اس کی چند نظائر بیان کرتے ہیں:


11

ظاہر میں چاندی سفیدی ہے لئے ہاتھ کپڑے اس سے سیاہ پر ہوگئے

چاندی کے ساتھ ہاتھ کپڑے جب لگتے ہیں تو کیسے ہو جاتے ہیں؟ وہ سیاہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ چاندی تو سفید ہے۔

12

آگ چنگاریوں سے اپنا سرخ رو خاکستر اس سے ہوں سامنے جو بھی ہوں

آگ اگرچہ (اپنی) چنگاریوں سے سرخرو ہے (مگر) تو اس کے فعل کا تاریک نتیجہ دیکھ لے ( کہ تمام اشیا کو خاکستر بنا دیتی ہے۔)

13

برق جو ہے نور آئے یہ نظر لیک بینائی ہو اس سے بے بصر

(اور جو بجلی کڑکتی ہے، وہ نور نظر آتا ہے لیکن بینائی کو لے جاتی ہے، اس کو اندھا کر دیتی ہے، اس سے اندھا کر دیتی ہے۔ تو یہ بھی ظاہر ہے۔ وہ وزیر ایسے ہی تھا، بظاہر نور تھا، یعنی اچھی باتیں کرتا تھا لیکن ایمان کو لے جاتا تھا، اس کو برباد کر دیتا تھا۔ یہ مطلب اس کا بنتا ہے۔)

14

صاحبِ ذوق اور ذو آگاہ اِس میں تھے کیسے واصف لوگ فدا اُس پہ تھے

با خبر اور صاحبِ ذوق (لوگوں کے) سوا جو بھی تھا اس (وزیر) کی بات اس کے گلے کا ہار تھی۔

وزیر کے ظاہر و باطن کے نظائر بیان کر کے اب پھر قصہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس سے پہلے خواص نصاری کے متعلق بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس کے مکر کو محسوس کر لیا۔ اب عوام الناس کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو گئے۔ وزیر کی بات کا عوام کا طوقِ گلو بن جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس فرطِ شوق سے اس کے مقید و مقلد ہو گئے۔ لہٰذا اس سے اختیاری تقلید مراد ہے نہ کہ جبری۔



15

رہ کے چھ سات سال میں وہ ایسے بنے دیں پناہ اور راہبر ان کے بنے

ان میں چھ سال گزار دیے تو بس ان کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور ان کے رہنما بن گئے۔

16

دین و دنیا لوگوں نے کیا اس کے سپرد جان و ایماں بھی کیا اس کے سپرد

مطلب یہ جو دین و دنیا جو مطلب یہ ہے کہ، لوگوں کے جو تھے، وہ اس کے سپرد کر دیا۔ مطلب اپنا دین بھی اس کے حوالے کر دیا، جو دین کی بات وہ کرتے تھے کہ یہ دین ہے، وہ اس کو دین سمجھتے تھے اور جس کو سمجھتے کہ دین نہیں ہے تو اس کو دین نہیں سمجھتے تھے۔ اور ساتھ ہی جان و ایمان بھی اس کے حوالے کر دیا۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پاک بچائے۔ اللہ تعالیٰ بچائے، یہ بہت خطرناک صورت ہوتی ہے کہ اگر کسی مفسد، اگر کسی غالی، اگر کسی غلط شخص کے ساتھ تعلق ہو جائے۔ جیسے آج کل پاکستان اور انڈیا میں بعض لوگ ہیں، تو مطلب ظاہر ہے کہ غلط باتیں پھیلاتے ہیں۔ تو جو ان کا معتقد ہو جاتا ہے، اس کا ایمان اور سارا کچھ غارت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جو بات اسے کہتا ہے، وہ اس کو صحیح سمجھتے ہیں۔ تو ان کی باتوں میں تو، زیغ تو ہوتا ہے۔ اس طرح تو نہیں ہوتا کہ مطلب وہ تو، وہ تو اس طریقے سے بات کرتے ہیں کہ لوگوں کا اس کے اوپر اعتقاد آتا ہے، لیکن بات غلط ہوتی ہے۔ میں اس کی سو مثالیں دے سکتا ہوں۔ لیکن کیا مطلب؟ میرے خیال میں جو لوگ سمجھنے والے ہیں وہ سمجھ جائیں گے۔ جو نہیں سمجھتے وہ مثالوں سے بھی نہیں سمجھیں گے۔ جو ان کے معتقد بن چکے ہوں گے نا، تو وہ مثالوں سے بھی نہیں سمجھیں گے۔

لیکن بہرحال اللہ پاک سے مانگ تو سکتے ہیں نا! رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ کس لیے دعا ہے؟ اسی کے لیے دعا ہے نا! کہ اے رب ہمارے، ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈال! بعد اس کے کہ ہمیں ہدایت مل چکی ہو۔ یعنی مومن ہو، ہدایت مل چکی ہو۔ اس کے بعد کوئی ہمیں گمراہ نہ کرے۔ وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً، اور اپنی طرف سے رحمت ہمیں عنایت فرما دے، إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔ تو یہ بات ہے کہ یہ چیز ہے کہ انسان کو خیال میں رکھنا چاہیے۔

جس شخص کے پیچھے جانا چاہے، اور اس کو اپنا رہبر بنانا چاہے، اس کے بارے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہر شخص کے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ، آپ کا سارا کچھ لے اڑے۔ بعض لوگ مال بھی اڑاتے ہیں، دین بھی اڑا دیتے ہیں۔ تو اس کے لیے بہت خطرناک بات ہوتی ہے۔ بہت ساری مثالیں ہیں، لیکن کیا ضرورت ہے؟ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اصل میں یہ دین جو ہے نا، یہ دین ہم نے نہیں بنایا کہ اس کو ہم change کر سکیں۔ یہ اللہ پاک نے بھیجا ہے۔ ایک ہوتا ہے مطلب، یعنی revealed، یعنی اللہ پاک کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔ اور ایک ہوتا ہے چیز ہم develop کرتے ہیں، کسی چیز کو۔ تو science جو ہے، کیا ہے؟ یہ development ہے۔ R&D ہے مطلب Research and Development۔ ہاں جی، وہ مطلب development ہے۔ تو اس میں ہم کر سکتے ہیں بات۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ، اسی سے ہی سوال و جوابوں سے مسئلہ آگے بڑھتا ہے۔ وہ تو ہم کر سکتے ہیں۔ لیکن جو دین ہے وہ revealed ہے۔ وہ ہم اب change نہیں کر سکتے۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ تم پر اپنی نعمت کو تمام کر لیا۔ اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔ یہ جو ہے نا اللہ پاک نے فرما دیا۔ اور اس کے بعد آپ ﷺ تو بس چند دن ہی رہے، اس کے بعد تو دنیا سے تشریف لے گئے۔ تو یہ بات اب final ہے۔ اب اس کے اندر ذرہ بھر بھی تبدیلی کوئی نہیں کر سکتا، دین میں! دنیاوی چیز میں جیسے میں نے کہا development والی، وہ چیزیں ہو سکتی ہیں، Engineering میں development کرو نا، ڈاکٹری میں کرو نا، Agriculture میں کرو نا۔ ہاں، مطلب کسی اور line جو دنیاوی line ہے اس میں کرو development جتنی کر سکتے ہو کر لو۔ کوئی مشکل نہیں۔

لیکن دین میں بالکل، آپ کا سارا زور اسی پر ہو کہ مجھے صحیح دین کا پتہ مل جائے، کہ وہ ہے کیا؟ تو اس کے sources دو ہی ہیں۔ ایک قرآن ہے، اور دوسری سنت ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی source نہیں ہے۔ قرآن و سنت۔ تو قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے پھر source ہے۔ وہ صحابہ ہیں۔ وہ ہمیں مطلب ظاہر ہے وہاں سے پتہ چلے گا۔ کیونکہ صحابہ نے جو سمجھا وہ ہمارے رینج تو نہیں ہے نا۔ کیونکہ انہوں نے تو دیکھا ہے نا، وہ جو چیزیں ان کے سامنے ہوئی ہیں۔ وہ سارا کچھ دیکھا بھالا ہے۔ لہٰذا ان کا سمجھنا اور ہے، ہمارا سمجھنا اور ہے۔ تو ہم لوگ ان کی سمجھ سے اپنے سمجھ کو، مطلب فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا یہ تو یہ بات ہے۔ پھر فقہاء ہیں۔ فقہاء جو ہوتے ہیں وہ بھی صحابہ کی سمجھ سے لیتے ہیں نا۔ تو گویا کہ step by step ہمارے پاس ہے کہ قرآن بنیاد ہے، حدیث اس کی تشریح ہے۔ صحابہ اس کی تعبیر بتاتے ہیں مطلب جو واقعات ہیں ان کے حالات میں، جو جو کچھ ہوا اس کے حساب سے مطلب اس کا نتیجہ سمجھاتے ہیں۔ اور فقہاء کرام اس سے مسائل اخذ کر کے ہمیں سمجھاتے ہیں کہ اس طریقے سے کرنا ہے اور اس طریقے سے نہیں کرنا۔ تو چیزیں ساری مطلب ان دو میں منحصر ہو جاتی ہیں یعنی قرآن و سنت میں۔

باقی جو باتیں ہیں، وہ ہم لوگ جو ہے نا مطلب اگر دین کی بات ہے تو اس پہ لائیں گے۔ دنیا کی بات ہے اس میں آزاد ہے۔ وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ، تم اپنے دنیا کے امور میں اچھی طرح جانتے ہو۔ دنیا کے امور میں ہم بات کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ کوئی Engineering کا مسئلہ ہو، میں اس کے، اندر ڈٹ کے بات کروں گا اور دوسرے Engineer کو یہ اختیار ہوگا کہ ڈٹ کر میری مخالفت کرے۔ کیونکہ Engineering point of view سے بات ہے نا، تو Engineering، Engineer کی بات کو کاٹ سکتا ہے۔ وہ بات صحیح ہے۔ Doctor، Doctor کی بات کو کاٹ سکتا ہے۔ وکیل، وکیل کی بات کو کاٹ سکتا ہے۔ وہ ٹھیک ہے، وہ چلتا رہے گا، وہ اس میں، ہم بات نہیں کرتے۔ لیکن جو دین کی بات ہے اس میں وکیل کی بھی نہیں مانیں گے، اس میں Engineer کی بات بھی نہیں مانیں گے، اس میں Doctor کی بات بھی، اس میں ہم عالم کی بات مانیں گے۔

میں خود آپ کو واقعہ سناتا ہوں۔ میرے تین Ph.D doctor ان میں سے میرے دو استاد تھے۔ اور میرے سامنے اس طرح بیٹھے، چائے ہم پی رہے تھے۔ چائے پی رہے تھے تو مجھے کہتے ہیں شبیر! آئن سٹائن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا آئن سٹائن بہت بڑا scientist تھا۔ اس نے بڑا نام کما لیا۔ لوگوں نے اس کو بڑی respect دی۔ بہت کچھ کیا۔ اس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتا تھا؟ کہتے ہیں، نہیں وہ جنت جائے گا یا نہیں؟ میں نے کہا this is not my domain! یہ تو اللہ پاک کا فیصلہ ہوگا۔ اگر وہ مسلمان تھا تو سبحان اللہ آپ مجھے بتا دیں، میں بھی خوش ہو جاؤں گا۔ کہتے ہیں، نہیں، کیا اس کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے؟

یہ ہیں تین Ph.D doctor ڈاکٹروں کی بات۔ اگر Ph.D ایسی ہے، اس Ph.D پر ہم لعنت بھیجتے ہیں۔ جو اس طرح بنائے کسی کو۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مطلب Ph.D کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم قرآن میں بھی دخل دے دو، حدیث میں بھی دخل دے دو۔ تمہیں کون؟ مطلب یہ کیا؟ تو خیر بہرحال، جب اس قسم کی بات ہو گئی، تو میں نے کہا کہ، sir! اللہ پاک نے تو فرمایا کہ بغیر ایمان کے کوئی نہیں جا سکتا۔ تو کہتے ہیں نہیں نہیں، مطلب یہ ہے کہ... ایک نے کہا کہ میں ایسی حدیث کو نہیں مانتا جو قرآن کے خلاف ہو۔ میں نے کہا، کون کہے گا کہ قرآن کے خلاف ہے؟ آپ کہیں گے یا امام بخاری کہے گا؟ یہ field امام بخاری کا ہے، امام مسلم کا ہے، امام ابو داؤد کا ہے، وہ حضرات کہیں تو پھر ہم مانیں گے۔ آپ نے نیوٹران، پروٹان میں ساری عمر گزاری ہے۔ نیوٹران، پروٹان میں آپ کسی عالم کو بات کرنے دیں گے؟ اس وقت ہم اس عالم کو کہیں گے کہ تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ نیوٹران، پروٹان ان کا کام ہے۔ اس میں تو بات صحیح ہے۔ لیکن اگر قرآن میں، اور حدیث میں تم بات کرتے ہو، تو ہم کہیں گے نہیں ہم ان کی بات سنیں گے، تمہاری بات نہیں سنیں گے۔ تمہارا field ہی نہیں ہے۔ تو مجھے کہتے ہیں شبیر صاحب اپنے دماغ کو ذرا تھوڑا سا broad کر لیں۔ میں نے کہا اتنا تنگ نظر مجھے رہنے دیں کہ میں کافر اور مسلمان میں فرق کر سکوں۔

This is required! اتنا تنگ نظری مجھے چاہیے۔ تو بس یہ ہے، آج کل کا دور۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس قسم کے لوگوں سے بچنا ہے۔

اس قسم کے لوگوں سے بچنا ہے۔ مطلب ہم لوگ، کسی کے ساتھ الجھتے نہیں ہیں۔ لیکن جو ہمارے ساتھ الجھتے ہیں تو اپنے آپ کو بچانا تو فرض ہے نا۔ اپنے آپ کو تو بچانا فرض ہے۔ تو لہٰذا ہم ایسے لوگوں سے الجھتے بھی نہیں ہیں لیکن جو لوگ الجھتے ہیں ہم ان کو پھر بتاتے ہیں کہ بھئی یہ تمہارا field نہیں ہے۔ اس میں تمہاری بات نہیں چلے گی۔ فیصلہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ کرے گا، ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ ہم تمہاری بات مانیں گے نہیں، کیونکہ تمہارا field ہی نہیں ہے۔ تو بہرحال اس طرح اگر ہم دیکھیں تو ماشاءاللہ بات آسان ہو جاتی ہے۔ اس وقت یہ تو خیر بیچارے شاید جاہل تھے، پڑھے لکھے... بعض لوگ قصداً اس طرح باتیں کرتے ہیں۔ باقاعدہ design کرتے ہیں اس قسم کی باتیں۔

جیسے اس وزیر کے بارے میں بات ہوئی نا، جو یہودی وزیر تھا جو مکار تھا، اور عیسائیوں کو گمراہ کرتا تھا، تو اس نے ان کو بلایا 12 سرداروں کو، اور ہر سردار کو الگ بتا دیا کہ یہ چیز ایسا ہے، یہ چیز ایسا ہے، اپنا ایک مخطوطہ بتایا، کہتا ہے یہ تمہارے لیے ہے اور تم ہی حق پر ہو۔ اور دوسرے کو دوسرا بتا دیا، تیسرے کو تیسرا بتا دیا۔ ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بتا دیا۔ اخیر میں جب اس نے خود کشی کر لی، کہتا ہے میں اللہ کے پاس پہنچنا چاہتا ہوں، یہ آگے آئے گا۔ اللہ کے پاس پہنچنا چاہتا ہوں، تم آگے کام سنبھال لینا، ہر ایک کو یہ کہا۔ تو چھ سال کے بعد اس نے خود کشی کر لی، اور یہ بارہ کے بارہ اپس میں لڑ پڑے۔ ہر ایک اپنے آپ کو حق پہ سمجھتا تھا۔ اس طرح عیسائیوں کو تہس نہس کر دیا۔ تہس نہس کر دیا۔ ٹھیک ہے نا، یہ اس کی planning تھی۔ یہ ساری چیزیں ابھی آ جائیں گی۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ، اس قسم کے مکار لوگ...

ایسے مکاروں سے بہت بچنا چاہیے۔ چاہے کسی بھی جامے میں آ جائے۔ چاہے کسی بھی shape میں آ جائے، ہمیں ان سے بچنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

حسد کی تباہ کاریاں اور علمِ دین میں محتاط رویے کی ضرورت: مثنوی مولانا روم کی روشنی میں - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور