اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَالْعَصْرِ ۙ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿٣﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔
بزرگو اور دوستو! یہ جو میں نے سورۃ العصر تلاوت کی ہے، حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اگر پورا قرآن نازل نہ ہوتا، صرف یہ سورت نازل ہو جاتی تو بھی امت کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ بہت مختصر سورت ہے لیکن اس میں پورے دین کا ڈھانچہ بیان کیا گیا ہے۔
اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں، اعلان ہے، اعلان ہے، اسے اچھی طرح سن لیں۔ اللہ پاک کا اعلان ہے، وَالْعَصْرِ۔
زمانے کی قسم!
إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ،
بیشک انسان خسارے میں ہے۔
اب ڈرنے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ اللہ پاک فرماتے ہیں بیشک انسان خسارے میں ہے۔ جب کسی چیز کا ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ اس میں خطرہ ہے، اس میں خسارہ ہے، تو کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس سے بچنے کی راہیں انسان تلاش کرتا ہے کہ کس طریقے سے انسان بچے۔ یہی بات ہے۔ تو اللہ پاک خود فرماتے ہیں کہ اس سے بچے گا کون؟ یعنی اس خسارے سے کون بچے گا؟
إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا، یعنی جو لوگ ایمان لائے وہ اس خسارے میں شامل نہیں۔ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، اور نیک اعمال جو کرتے ہیں۔ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ، اور حق کی وصیت کرتے ہیں۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ، اور صبر کی وصیت کرتے ہیں۔ یہ خسارے سے بچے ہوئے لوگ ہیں۔
اس میں ہر پہلا دوسرے کے لیے بنیاد ہے۔ ہر پہلا جو ہے، وہ دوسرے کے لیے بنیاد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پہلا نہیں تو دوسرا بھی نہیں۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ایمان اگر نہیں تو اعمالِ صالحہ نہیں ہے۔ اعمالِ صالحہ کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ دنیا میں اس کو فائدہ مل سکتا ہے، دنیا میں۔ لیکن آخرت میں اس کو فائدہ نہیں ہوگا اعمالِ صالحہ کا۔ اعمالِ صالحہ کا فائدہ تب ہے جب ایمان نصیب ہوگا۔
اب ایمان، کیا؟ یہ تو ایک لفظ ہے نا۔ لیکن اس کے پیچھے ماشاءاللہ پورا ایک چیپٹر ہے۔ اور وہ عقائد کا ہے۔ عقائد ایسی چیز ہے کہ اس میں جتنے بھی ایمانیات ہیں وہ سب کے سب ایک ہی وقت میں ایمان لانا ہے۔ یعنی اس میں یہ نہیں کرنا کہ مطلب اس پر ہے اور اس پر نہیں ہے۔ یہ بات نہیں ہو سکتی۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ اگر کسی کو اللہ پر ایمان ہے، پیغمبروں پر نہیں، تو کافر ہے۔ پیغمبروں پر ایمان ہے، فرشتوں پر نہیں، کافر ہے۔ فرشتوں پر ایمان ہے، لیکن آخرت کے روزِ جزا پر نہیں ہے، تقدیر پر نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ جتنے بھی ایمانیات ہیں جس کو ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل وہ کہتے ہیں، اس سب کے اوپر ایمان لانا ہے۔ اور اس کو اچھی طرح سمجھنا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے، یہ بن جاتے ہیں ہمارے عقائد۔
تو ان عقائد کو جاننا اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے پورے دین کا ڈھانچہ اس پر کھڑا ہے۔ اگر درمیان میں کوئی چیز مسنگ ہے تو پھر کوئی بچنے کی صورت نہیں ہے۔ اس لیے علمائے متکلمین نے بہت کوششیں کی ہیں۔ ایک ایک چیز کو کھنگالا ہے، ایک ایک چیز کے بارے میں سوچا ہے، غور کیا ہے اور اس طریقے سے انہوں نے ہمارے لیے عقائد کو پورا اچھی طرح بیان کیا ہوا ہے۔ یہ جو اس وقت کا جو درس ہوگا ان شاء اللہ وہ عقائد کے بارے میں ہوگا۔
اب اگر کسی کو اپنے عقائد معلوم ہی نہیں ہیں، تو کل سوشل میڈیا کے اوپر کوئی بات آ جائے جو اس کے عقیدے کے خلاف ہو اور یہ مان لے تو کیا ہوگا؟ آج کل تو ہر ایک کے پاس یہ موجود ہے، ادھر سے کوئی چیز آ جائے، مثلاً ختمِ نبوت کو لے لو۔ اب ختمِ نبوت، اس پر بھی ایمان لانا ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یہاں تک فرماتے ہیں، سن لو، اچھی طرح غور کر لو۔ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، وہ تو کافر ہے ہی۔ لیکن جس شخص نے اسے کہا کہ اگر تو نبی ہے تو معجزہ دکھاؤ، اس سے وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ کیوں؟ اس نے آپ ﷺ کی ختمِ نبوت میں شک کر لیا۔ آپ ﷺ کی ختمِ نبوت میں شک کر لیا، جو قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی ثابت ہے۔ تو جس نے اس میں شک کر لیا، ایمان اور شک نہیں جمع ہو سکتا۔ یقین اور شک جو ہے نا، آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔ یقین ہوگا یا نہیں ہوگا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اپنے ایمانیات کا اچھی طرح علم ہونا چاہیے۔
اس وقت بہت سادہ سادہ لوگ ہیں ایسے جن کو ان چیزوں کی فکر نہیں ہے۔ نتیجتاً وہ لوگوں کے لیے تر نوالہ ہیں۔ ہاں جس طریقے سے ان کے ساتھ کھیلیں اس طریقے سے وہ کھیل لیتے ہیں۔ آج کل ایک بلا آئی ہے اور وہ بلا آئی ہے "میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے"۔ یہ "میرے خیال" والی بات دین میں نہیں چلتی۔ اس کی وجہ ہے کہ دین ہم نے بنایا ہی نہیں ہے۔ نہ ہماری سوچ سے بنا ہے۔ نہ ہم نے اس پر محنت کی ہے۔ یہ ہمارا کام ہے ہی نہیں۔ حتیٰ کہ پیغمبر کا کام نہیں ہے۔ پیغمبر بھی وہی بتاتا ہے جو اس کو وحی کی گئی ہے۔ پیغمبر بھی وہی بتاتا ہے جو اس کو وحی کی گئی ہے۔ وہ "پیغام بر" ہے پیغام پہنچانے والا ہے، پیغام بنانے والا نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے یعنی دیکھیں نا کوئی سوال پوچھتے آپ ﷺ سے صحابہ کرام، اس وقت تو دین کی تدوین ہو رہی تھی۔ اگر اس وقت تک حکم نہیں آ چکا ہوتا آپ ﷺ خاموش ہو جاتے، نہیں جواب دیتے۔ کیونکہ اس وقت آپ ﷺ کو اطلاع نہیں ہو چکی ہوتی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ وہ بات کیسی ہے۔ اس وجہ سے خاموشی۔ جب آ جاتی بات پھر اس کے بعد آپ ﷺ اس کے بارے میں فرما دیتے۔
یہ میراث کا واقعہ ہے۔ ایک عورت آئی اپنی دو بچیوں کے ساتھ۔ یا رسول اللہ! یہ دو بچیاں میری ہیں۔ فلاں صحابی جو آپ کے ساتھ احد کی لڑائی میں شہید ہوئے، یہ ان کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے والد کے مال پر ان کے بھائی یعنی چچا نے قبضہ کر لیا ہے۔ واللہ اگر ان کے ساتھ مال نہیں ہوگا تو ان کے ساتھ کوئی شادی نہیں کرے گا۔ تو آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اب آپ ﷺ کا نرم دل ایسی چیزوں سے کتنا متاثر ہوتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کچھ نہیں بولے، خاموش رہے۔ کیونکہ اس وقت تک اس کے بارے میں حکم نہیں آیا تھا۔ پھر آپ ﷺ کو وحی آئی اور وہ قرآن کی آیات اتریں سورہ نساء کی۔ تو آپ ﷺ نے اسی کے مطابق فیصلہ کر کے ایک صحابی سے فرمایا جاؤ بچیوں کے چچا کو کہہ دو کہ اس کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو۔ اور دو تہائی بچیوں کو دے دو اور باقی خود رکھ لو۔ یہ پہلا حکم تھا جو کہ نافذ ہو گیا میراث کے بارے میں۔ یہ میں اس لیے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ ﷺ بھی اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تھے۔ پوچھا گیا، حضرت جبرائیل علیہ السلام انسان کی صورت میں آئے ہیں۔ سوال کر رہے ہیں، تو قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ قیامت کب ہوگی؟ فرمایا کہ مسئول، سائل سے زیادہ اس میں نہیں جانتا۔ مطلب وہی جیسے سائل کی بات ہے، وہ اتنا ہی ہے۔ تو اس کی نشانیاں بتا دیں۔ لیکن کب آئے گی؟ نہیں یہ نہیں۔ یہ نہیں بتایا۔
تو پتہ چلا کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تھے۔ بلکہ قرآن میں صاف اس کے بارے میں فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کو جو وحی کی جاتی ہے وہی فرماتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے ہم لوگ "میرے خیال والی بات" چھوڑ دیں۔ میرے خیال والی بات نہیں ہے بلکہ دیکھیں کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔ اچھا، اس کے بارے میں حکم معلوم کیسے کریں گے ہم؟ تو "لِكُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ"، ہر فن کے لیے لوگ ہوتے ہیں۔ تو اس کے لیے ہمیں علماء سے پوچھنا پڑے گا۔
آج کل یہ بھی بہت بڑا المیہ ہے کہ علماء کے ساتھ عوام کا ٹکراؤ کرا دیا گیا ہے۔ سیاسی بنیاد پر۔ اے خدا کے بندو! یہ سیاست تو ادھر رہ جائے گی۔ اس کو کہاں لے جاؤ گے اپنے ساتھ؟ وہاں آخرت میں تم سے پوچھیں گے تم کون سی پارٹی میں تھے؟ کوئی پوچھے گا تم سے؟ بھئی پارٹی واٹی پیچھے رہ جائے گی۔پارٹیوں کے بارے میں بات نہیں ہوگی۔ بات آپ کے ایمان کے بارے میں ہوگی، آپ کے اعمال کے بارے میں ہوگی۔ اگر آپ کا عمل درست نہیں ہے اور ایک عالم اس کو درست کر سکتا ہے اور وہ آپ کا سیاسی مخالف ہے، آپ کے لیے لازم ہے کہ اس سے پوچھو۔ سیاست میں اس کے ساتھ اختلاف کرو گے نا؟ وہ ایک الگ چیز ہے لیکن یہاں تو سیاست نہ لاؤ نا۔ یہ تو دین کی بات ہے نا۔ یہاں تو سیاست نہیں چلے گی۔ یہاں تو یہ صورتحال اس وقت یہ ہے کہ جو سیاسی مخالف ہے وہ کہتا ہے دو اور دو چار ہوتے ہیں، کہتے ہیں نہیں نہیں، غلط ہے، دو اور دو چار نہیں ہوتے، دو دو سات ہوتے ہیں۔ مطلب یہ غلط بات ہے بھئی، سیاسی اختلاف کو یہاں نہیں لانا چاہیے۔ تو اس کو دیکھو کہ سچ بات کون کر رہا ہے؟ صحیح بات کون کر رہا ہے؟ بس یہ بات ہے۔
تو خیر میں عرض کر رہا تھا کہ اس کے لیے آپ کو، میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ چھوٹا سا واقعہ ہے۔ ایک عرب ساتھی ہمارے دوست ہیں، وہ ایک ساتھی کے ہاں ان سے ملاقات ہوئی۔ تو اس سے جب تعارف ہوا، پتہ چلا کہ ماشاءاللہ اس نے بڑی کتابیں پڑھی ہیں تصوف پر۔ بڑی بڑی اونچی کتابیں اس نے تصوف پر پڑھی تھیں۔ جن کا نام بھی ہم نے بعض کا نہیں سنا تھا۔ تو میں بڑا متاثر ہوا کہ اس کا تو بڑا مطالعہ ہے۔ لیکن اس نے ایک عجیب بات کر لی۔ بات یہ کی، "شیخ! میں اللہ اور اپنے درمیان کسی کو نہیں لا سکتا"۔ یعنی کسی کو نہیں سمجھتا اللہ اور اپنے درمیان۔ تو بظاہر تو اس نے بات بڑی اونچی پرواز کی کی تھی۔ تو میں نے فوراً عرض کیا میں نے کہا حضرت، ایک کو ماننا پڑے گا۔ ایک کو ماننا پڑے گا۔ اس نے کہا کون؟ میں نے کہا رسول اللہ ﷺ۔ فورا اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ واقعی بات تو ہے۔ آپ ﷺ کے بغیر ہم اللہ پاک کی بات کو کیسے جان سکتے ہیں؟ اس کے لیے تو ہمارے پاس آپ ﷺ ہی ہیں۔ آپ ﷺ ہی جو لے آئے ہیں، اسی کو ہم، اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں، ہمیں کیا پتہ؟ وہ تو آپ ﷺ فرما رہے ہیں نا کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں، یا قرآن میں آیا ہے براہ راست کتاب میں آیا ہے یا پھر آپ ﷺ کی حدیث ہے یا جو ویسے قلبی وحی کی گئی، وہ، خیر بہرحال یہ مان لیا۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ لیکن حضور ﷺ تک پہنچنے کے لیے آپ کو ایک پوری جماعت کو ماننا پڑے گا۔ کیونکہ آپ نے تو حضور ﷺ کو نہیں دیکھا۔ تو جن کے درمیان آپ ﷺ تھے ہمیں تو ان سے معلوم ہو گا کہ حضور ﷺ کیا فرماتے تھے، اور کیا کہتے تھے۔ میں نے کہا کون؟ میں نے کہا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا۔ اس پہ بھی خاموش، ہاں یہ صحیح ہے۔ اس کو بھی مان لیا۔
میں نے کہا لیکن صحابہ تک پہنچنے کے لیے آپ کو تین جماعتوں کو ماننا پڑے گا۔ کہتا ہے وہ کون؟ میں نے کہا محدثین کرام، جنہوں نے احادیث شریفہ لیں صحابہ کرام سے اور ان کو جمع کیا۔ ان کا پورا کام ہی یہی تھا، احادیث شریف کو جمع کرنا۔ اس کے لیے لمبے لمبے سفر کرتے تھے۔ بڑے مجاہدے کیے لیکن احادیث شریف کو جمع کیا، اس کی چھانٹی کی۔ صحیح، ضعیف، حسن، حسن لغیرہ، ان کی چیزوں کا فرق کر لیا۔ اچھا یہ کام انہوں نے کیا۔ پھر میں نے کہا کہ فقہاء کرام۔ کیونکہ فقہاء کرام نے ان احادیث شریفہ سے مسائل مستنبط کیے۔ اب دیکھو نماز کو لے لو نا نماز، نماز کے بارے میں ایک عام آدمی کو کیا پتہ ہے کہ نماز کا کون سا رکن، کون سا کام یہ کس قرآن کی آیت اور کون سی حدیث سے ثابت ہے؟ معلوم ہے لوگوں کو؟ لیکن نماز کا پتہ ہے۔ نماز، ہمیں معلوم ہے کہ نماز کیسے پڑھی جاتی ہے۔ ایک عام آدمی کو بھی یہ معلوم ہے، نماز کیسے پڑھی جاتی ہے۔ لیکن کون سے قرآن کی آیت اور کون سی حدیث کے مطابق ہے؟ یہ شاید بڑے بڑے علماء کو بھی مستحضر نہیں ہوتا۔ یعنی اگر پوچھا جائے ابھی، اس وقت پوچھا جائے کہ فلاں چیز کس طرح ثابت ہے؟ تو فوراً کوئی عالم بھی شاید جواب نہ دے۔ کہے گا، اچھا مجھے تحقیق کرنی پڑے گی۔ تو یہ بات ہو گئی۔
تو یہ مطلب فقہاء کرام نے اس کو جمع کر لیا اور لوگوں کے لیے اس کو آسان کر دیا۔ ان کا ہمارے اوپر بہت بڑا احسان ہے۔ تیسرا جو ہے نا صوفیاء کرام۔ کیونکہ صوفیاء کرام اس کو عمل پہ لے آئے۔ یہ جو دو حضرات ہیں نا، محدثین کرام اور فقہاء کرام، یہ اپ کو علم بتا رہے ہیں۔ اور صوفیاء کرام آپ کو عمل پہ لا رہے ہیں۔ کیوں عمل پہ لا رہے ہیں؟ کیونکہ دو رکاوٹیں ہیں ہر انسان کے ساتھ، شیطان کی اور نفس کی۔ جب تک ان کا علاج نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک آپ کو معلوم ہوگا، لیکن عمل نہیں کر سکیں گے۔ معلوم ہوگا لیکن عمل نہیں کر سکیں گے۔ ہمارے بعض علاقوں میں بہنوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ بس وہ رواج چلا آ رہا ہے۔ یہ جنوبی پنجاب میں بھی یہ بات ہے مطلب وہاں نہیں دیا جاتا۔ تو اب یہ ہے کہ یہ تو صراحتاً شریعت کے خلاف ہے۔ وہ جو میراث کے قوانین ہیں، سورہ نساء ان کے خلاف ہے۔ حتیٰ کہ بعض علماء بھی اس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں آپ کو خود بتا دوں، رحیم یار خان میں گیا تھا وہاں پر میں چونکہ طالب علم تھا اس کا، تو میں ڈھونڈتا تھا کہ کون کس نے میراث پر کام کیا ہے تاکہ میں ان سے ملوں، ان سے کچھ سیکھوں۔ تو وہاں پتہ چلا کہ ایک عالم ہے، اس نے میراث پر کتاب لکھی ہے فرائض پر۔ تو میں نے کہا اس سے ملنا چاہیے۔ ایک صاحب مجھے گاڑی میں بٹھا کے لے جا رہے تھے، راستے میں بات چیت ہوتی رہی، قریب پہنچ گئے تھے، مجھے کہتے ہیں کہ، اس صاحب نے جس نے کتاب لکھی اس نے اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔ اور جس وقت ان کے ایک بہنوئی نے، مولانا عاشق الہی مدنی، ان کو اطلاع کر دی، ظاہر ہے وہ جاننے والے ہوں گے کہ انہوں نے بہنوں کا حصہ نہیں دیا، تو انہوں نے ایک سرزنش کا خط لکھا اس عالم کو، کوئی تعلق والا ہوگا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ سرزنش کی وجہ سے توبہ کر لیتے، اس بہنوئی کے خلاف ہو گئے، کہ تم نے ان کو کیوں اطلاع کر دی؟ میں نے کہا اس سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے واپس۔ میں ان کے ساتھ نہیں ملا۔ میں نے کہا میں کتاب کو کیا کروں گا؟ بھئی جو اپنے علم پر عمل نہیں کر رہا تو میں اس کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں؟ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے یہ دل کی بات ہے، اور نفس کی اصلاح کی بات ہے۔ جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو چکی ہو، جب تک دل کی اصلاح نہ ہو چکی ہو، تو ہمارا علم ہوا میں موجود ہے وہ عمل میں نہیں آتا۔ عمل پر انے کے لیے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہے نا۔
تو خیر میں نے جب یہ باتیں کیں اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس پہ کچھ بھی تبصرہ نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ یہ ہضم نہیں ہوئی۔ یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ خیر ٹھیک ہے، ہر ایک کا اپنا اپنا خیال ہوتا ہے۔ میں رخصت لے کے میں تو آ گیا۔ بعد میں تقریباً تین چار دن کے بعد وہ ہماری خانقاہ میں آئے۔ بیعت ہوئے۔ ذکر لے لیا۔ ماشاءاللہ ہمارے ساتھی ہیں۔ بڑے قیمتی انسان ہیں۔ ماشاءاللہ، ان کی بڑی صلاحیتیں ہیں۔ لیکن دیکھو کون سی چیز میں پھنسا ہوا تھا؟ ایک بات میں، معمولی بات میں۔ تو اب یہ مجھے بتاؤ یہ ہر ایک آدمی کو ان چیزوں کا جاننا ضروری ہے یا نہیں ہے؟ اتنے سارے علم کے باوجود وہ ایک معمولی چیز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ معمولی میں نہیں کہتا ہوں، معمولی تو نہیں ہے، یعنی آسان، جو سب کو نظر آنا چاہیے، محسوس ہونا چاہیے، لیکن نہیں، نہیں نظر آ رہا تھا۔ تو خیر میں اس لیے عرض کروں گا، اس پر ان شاء اللہ بات ہوگی۔ تو میرے خیال میں آج کے لیے یہ بات، عقائد کے لحاظ سے کافی ہے۔ کیونکہ عقائد کا تعارف ہو گیا۔ کل سے ان شاء اللہ تقریباً آدھا گھنٹہ یہ بات چیت ہوگی عقائد پر۔ یہ آپ اور ہم سب کے فائدے کی بات ہے۔ نہ آپ کا ہمارے اوپر احسان ہے کہ آپ میرے سامنے بیٹھے ہیں اور آپ سن رہے ہیں۔ کوئی احسان نہیں ہے۔ اور نہ میرا آپ کے اوپر کوئی احسان ہے کہ میں آپ سے یہ باتیں کر رہا ہوں۔ میری ذمہ داری ہے، میں نے کرنا ہے، چاہے میرے سامنے دو آدمی بیٹھے ہوں چاہے چار آدمی بیٹھے ہوں۔ اس سے غرض نہیں ہے۔ لیکن آپ کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ اس کو جانتے نہیں ہیں تو آپ اپنا نقصان خود کر رہے ہیں۔ لہٰذا کل سے ان شاء اللہ العزیز اس پر بات ہوگی۔
(End of Transcription)
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org) / برمنگھم، انگلینڈ
سب سے جامع عنوان: عقائد کی اہمیت اور صراطِ مستقیم: قرآنی اور نبوی منہج
متبادل عنوان: دین کا مکمل ڈھانچہ اور خود ساختہ نظریات سے اجتناب کی ضرورت
اہم موضوعات:
• سورۃ العصر کی تشریح اور انسان کے خسارے سے بچنے کا راستہ (ایمان، اعمالِ صالحہ، حق اور صبر کی وصیت)۔
• عقائد کی اہمیت اور تمام ایمانیات پر بیک وقت ایمان لانے کی شرط۔
• دین میں "میرے خیال میں" کی ممانعت: دین اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس میں ذاتی رائے کا عمل دخل نہیں، بلکہ آپ ﷺ اور صحابہ کی پیروی لازم ہے۔
• سوشل میڈیا اور فتنوں کے دور میں عقائد کی پختگی کی ضرورت (ختمِ نبوت کی مثال)۔
• سیاسی اختلافات کو دین میں لانے کی مذمت اور حق بات کو قبول کرنے کی تلقین۔
• دین کے مآخذ کی ترتیب: قرآن، سنت، صحابہ، محدثین، فقہاء اور پھر صوفیاء کرام۔
• صوفیاء کا کردار: محدثین اور فقہاء علم مہیا کرتے ہیں جبکہ صوفیاء اس علم پر عمل کرنے کے لیے نفس اور شیطان کی رکاوٹوں کا علاج کرتے ہیں۔
• علم کے باوجود عمل سے دوری (میراث کے حوالے سے ایک عالم کا واقعہ)۔