الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، فَيُشَفَّعَانِ"
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "مَا مِنْ مُصَلٍّ إِلَّا وَمَلَكٌ عَنْ يَمِينِهِ وَمَلَكٌ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِنْ أَتَمَّهَا عَرَجَا بِهَا، وَإِنْ لَمْ يُتِمَّهَا ضَرَبَا بِهَا عَلَى وَجْهِهِ"
وَسُئِلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا}، قَالَ: "بَيِّنْهُ تَبْيِينًا، وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرَ الدَّقَلِ، وَلَا تَهُزَّهُ هَزَّ الشِّعْرِ، وَلَا يَكُنْ هَمُّ أَحَدِكُمْ آخِرَ السُّورَةِ". صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز خواتین و حضرات! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ رمضان شریف کا جو عشرہ رحمت ہے، تقریباً تکمیل تک پہنچنے والا ہے۔
اتنی بڑی نعمت اللہ جل شانہٗ نے ہمیں عطا فرمائی ہے، جس کا ہمیں ادراک اور اندازہ نہیں ہے، اور بہت جلدی جلدی گزر رہا ہے۔ اس کے اندر کیا ہے؟ ظاہر ہے چونکہ یہ تعلق ایمان بالغیب سے رکھتا ہے، لہٰذا صرف وہی بتا سکتے ہیں جو غیب کو جانتے ہوں۔ یعنی غیب کا علم ان کو اس معاملے میں دیا گیا ہو۔ کیونکہ ایمان بالغیب پر ہماری ساری چیزیں منحصر ہیں دین کی، اور اللہ جل شانہٗ کی جو باتیں ہمارے لیے غیب ہیں، تو آپ ﷺ کو جو اطلاع کر دی گئی ہو، جن کو انباء الغیب کہتے ہیں، تو وہ پھر ظاہر ہے وہ ہم تک پہنچا دیتے ہیں۔
تو یہ جو ابھی میں نے قرآن پاک کی آیات پڑھی ہیں، یہ وحی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اور اس میں جو ہمیں ارشاد فرمایا گیا، پہلے میں وہ سنا دیتا ہوں۔ اس میں اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں:
اے کپڑوں میں رہنے والے نبی! رات کو کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی، یعنی آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر دیجیے، یا کچھ زیادہ کیجیے، اور قرآن خوب صاف صاف پڑھا کرو۔
یہ گویا کہ رات کی عبادت کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے کہ رات کی عبادت کیا چیز ہوتی ہے۔ عام دنوں میں تہجد، قیام اللیل کے نام سے ہی جانا جاتا ہے، اور رمضان شریف میں اس کے ساتھ تراویح بھی جمع ہو جاتی ہے۔
تراویح اصل میں ترویحہ کی جمع ہے۔ ترویحہ اصل میں کہتے ہیں جو چار رکعات کے بعد تھوڑا سا مختصر سا جلسہ، استراحت لوگ کرتے ہیں، اس میں کچھ بھی کر سکتے ہیں جائز، خاموش بھی بیٹھ سکتے ہیں، ذکر بھی کر سکتے ہیں، درود شریف پڑھ سکتے ہیں، قرآن پاک کی تلاوت کر سکتے ہیں، relax کر سکتے ہیں۔ یہ سب کام کر سکتے ہیں۔ البتہ عشاق کی بات اور ہے۔ عاشق لوگ مواقع ڈھونڈتے ہیں۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ عاشق کیا کرتے ہیں۔
جس وقت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو پتہ چلا، جو مدینہ منورہ کے امام ہیں، یعنی مدینہ منورہ میں رہنے والے، کہ مکہ مکرمہ کے جو رہنے والے صحابہ ہیں اور تابعین ہیں، جو مکہ مکرمہ کے رہنے والے جو تابعین ہیں، وہ ترویحہ میں ایک طواف کر لیتے ہیں، کہ ان کے پاس خانہ کعبہ ہے۔ اب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ عاشق ہیں، تو سمجھ گئے کہ ہمارے پاس خانہ کعبہ تو نہیں ہے تو ہم طواف تو نہیں کر سکتے، تو پھر کیا متبادل کر لیا جائے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کے متبادل طور پہ چار رکعات پڑھیں گے نفل۔ تو چار رکعات نفل چار دفعہ جب مل جاتے ہیں تو 16 بن جاتے ہیں، اور 16، 20 کے ساتھ جب مل جائیں تو 36 ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک 20 رکعات سنت کے طور پر اور 16 رکعات نفل کے طور پر وہ ادا کر لیتے ہیں، 36 رکعات پڑھتے ہیں۔
اب اس کے مقابلے میں ان لوگوں کا ذرا اندازہ کر لیں جو 20 کو بھی کم کر کے آٹھ بناتے ہیں۔ تھوڑا سا غور کر لیں۔ اور چونکہ وہ جمہور سے ہٹے ہوئے ہیں، لہٰذا ان کو یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ تراویح اس کو کہتے ہیں، اور تراویح کیا ہے؟ وہ ترویحہ کی جمع ہے۔ اور ترویحہ کم از کم... دیکھیں نا ایک تثنیہ بھی ہوتا ہے عربی میں، یعنی دو کا۔ دو سے زیادہ کی جمع کو کہتے ہیں، دو سے زیادہ۔ تو اب دو سے زیادہ جو ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے 16 رکعات کم از کم ہوگئے، اگر تراویح کہنا پڑتا ہے۔ کیونکہ دو پہ تو تثنیہ ہے، تو کم از کم 3 ہونا چاہیے۔ تو تین ترویحہ مل کر 16 رکعت بن جاتے ہیں۔ آٹھ میں ایک ترویحہ آتا ہے آٹھ میں۔ اور 12 میں دو ترویحے آتے ہیں۔ اور 16 میں تین ترویحے آتے ہیں۔ تو تراویح کا حکم 16 پہ لگ سکتا ہے، 12 پہ نہیں لگ سکتا، 8 پہ نہیں لگ سکتا، یعنی عربی کے قانون کے مطابق۔ تو باقی امام جتنے بھی ہیں وہ 20 رکعات کے قائل ہیں۔ تو اب ایک طرف 20 کا قول ہے دوسری طرف سے 8 کا قول ہے، تو 8 کا قول تو بالکل ہی غیر مقبول ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تو ترویحہ ہے۔ اور 20 کا مقبول ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ تراویح ہے۔ اور 16 کی اور 12 کی کسی نے بات نہیں کی۔ تو پتہ چلا کہ 20 رکعات تراویح ہی تراویح ہے۔
یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ بعض خواتین بھی مجھ سے پوچھتی ہیں کہ کیا ہم آٹھ رکعات پڑھیں گے یا بیس رکعات پڑھیں گے؟ تو میں ان کو بتا دوں کہ تراویح سنت موکدہ ہے مردوں پر بھی اور عورتوں پر بھی، اور 20 رکعات ہی سنت موکدہ ہے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ مردوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنی ہوتی ہے، اور عورتیں بغیر جماعت کے بھی پڑھ سکتی ہیں، اور بغیر جماعت کے پڑھنا ان کو مسجد میں پڑھنے سے افضل ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے۔
اب کمال کی بات یہ ہے، یہی غیر مقلد جو حضرات، جو ترویحہ کو تراویح بنا دیتے ہیں، وہی کہتے ہیں کہ نہیں عورتوں کا مسجد میں جانا فضیلت والی بات ہے۔ اس وقت وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، حدیث شریف ہے، کہ عورتوں کے لیے وہ نماز جو گھر میں پڑھتی ہیں میرے مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، اور صحن میں پڑھنے سے برآمدے میں، اور برآمدے میں پڑھنے سے کمرے میں پڑھنا افضل ہے۔ کیونکہ عورتوں کی سب سے بڑی پاکیزگی عفت ہے۔ تو جس چیز میں پردہ اور عفت ہوتی ہے وہ زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ یہ بات ہم سب کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔
تو میں ان خواتین کو جو فون پہ، مجھ سے پوچھتی ہیں کہ ہم آٹھ پڑھیں یا 20 پڑھیں؟ تو ظاہر ہے چاروں امام، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک 20 ہے، اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک 36 ہے۔ میں جرمنی میں تھا، تو جب پہلی رات ہو گئی تو مجھے آگے کیا گیا عشاء کی نماز کے لیے۔ تو میں نے چار رکعات نماز پڑھائی عشاء کی، پھر ان کی طرف رخ کر کے میں نے پوچھا: يَا إِخْوَانَ الْعَرَبِ، كَمْ نُصَلِّي الْيَوْمَ؟ عِنْدَ الْحَنَابِلَةِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، عِنْدَ الْأَحْنَافِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، عِنْدَ الشَّوَافِعِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَعِنْدَ الْمَالِكِيَّةِ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ. كَمْ تُصَلُّونَ مَعِي؟ وہ ہمارے ساتھ صدرِ جلسہ جو تھے، جولی طبیعت کے آدمی تھے، اس نے پاس بیٹھے ہوئے ایک مالکی، مصری مالکی کو کہا: أنت مالكي؟ یعنی بولا آپ 36 پڑھیں گے؟ اس نے کہا: أنا أصلي معكم عشرين. میں آپ لوگوں کے ساتھ 20 پڑھ لوں گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے میرے ساتھ باقاعدہ 20 رکعات پڑھنی شروع کر لیں۔ الحمدللہ پورا رمضان ہم 20 رکعات پڑھتے رہے۔ انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔
لیکن یہاں پر بعض دفعہ مجبور کرتے ہیں لوگوں کو کہ نہیں، 8 ہی پڑھو۔ یہ مجبور کرنے والی بات ہے کہ میں خود بھی محروم ہوں، تجھے بھی محروم کرنا چاہتا ہوں! یہ ایک بڑی عجیب بات ہوتی ہے۔ یہ، اللہ تعالیٰ بچائے اس چیز سے۔ کہ کم از کم منع تو ان کا ثابت نہیں ہے نا، منع کہاں ثابت ہے؟ منع کہاں سے ثابت ہے، کسی کو منع کیا ہے کسی نے؟ کم از کم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہوں نے سب کو جمع کیا 20 رکعات پر، ایک امام کے پیچھے۔ سب کو جمع کیا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کم از کم ہمارے پاس ایک خلیفہ راشد کا وہ موجود ہے یعنی وہ دلیل، اور باقی یہ ہے کہ کسی سے منع ثابت نہیں ہے۔ اور یہ جو خلیفہ راشد ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اس کے بعد جتنے خلفائے راشدین بعد میں آئے ہیں ان سب کا طریقہ یہی رہا ہے، انہوں نے تبدیل نہیں کیا۔ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ بھی یہی رہا ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا طریقہ بھی رہا ہے، حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ بھی رہا ہے، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ بھی رہا ہے۔ تو پھر مجھے بتاؤ، کہاں مسئلہ ہے؟ تواتر کے ساتھ پھر اس کے بعد آیا ہوا ہے، تو اس پر تو اجماع حاصل ہو گیا۔ تو جب صحابہ کا اجماع حاصل ہو جائے، اس کے بعد پھر قیاس اور تمام چیزیں تو کام نہیں کرتیں۔ تو خیر بہرحال یہ بات تو درمیان میں آ گئی، اس لیے میں نے عرض کر لی، کہ کبھی بھی اپنے اوپر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ اور یہ اپنے اوپر ظلم ہے کہ اللہ پاک کچھ دینا چاہتا ہے، اور آپ اس سے اپنے آپ کو محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنے اوپر ظلم ہے۔
تو تراویح جو ہے، اس کے اندر دو باتیں ہیں۔ ایک اس کے اندر نماز ہے۔ اس کے لیے حکم ہے: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ۔ اور نماز سبحان اللہ! یہ اللہ جل شانہٗ کے قرب کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ تو ہمیں جتنی بھی رکعاتیں ملتی ہیں، اس کا اجر یقیناً ہے۔ اب اجر یا نفلوں کی صورت میں ہے، تو وہ تو ایک اختیار ہوتا ہے کہ چاہے آپ کرو یا نہ کرو، اس کا ثواب اس کے حساب سے ہوتا ہے۔ لیکن ایک یہ ہوتا ہے کہ نہیں، آپ ﷺ کا طریقہ یعنی سنتِ موکدہ۔ سنتِ موکدہ سے مراد یہ ہے کہ صحابہ کرام، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں رہا ہوں اور جس پر میرے صحابہ رہے ہیں۔ تو آپ ﷺ کے صحابہ کا اجماع جس طرح حاصل ہو گیا، تو وہ آپ ﷺ کا طریقہ ہوا۔ تو اس پر چونکہ صحابہ کا اجماع رہا ہے، لہٰذا اس میں ہم کوئی اور بات نہیں کرتے، تو اس کا اجر یقیناً عام نفلوں سے بڑھ کر ہے۔ جو عام نفل ہے جس میں اختیار ہوتا ہے کہ آپ کوئی کرے یا کوئی نہ کرے، اس کا ثواب اس سے کم ہوتا ہے، اس کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔
اب ان کی طرف سے ایک دلیل آتی تھی۔ بڑی مشہور دلیل، اکثر یہ دلیل ان کی آتی تھی، جن کا ہمارے علماء جواب دیتے تھے۔ وہ دلیل یہ آتی تھی کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نماز پڑھی ہے کسی رات میں۔ نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں، اس کے ساتھ یہ باقاعدہ موجود ہے۔ تو ان کو ہمارے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس میں چونکہ رمضان بھی ہے اور غیر رمضان بھی ہے، تو جو چیز مشترک ہے رمضان اور غیر رمضان میں، وہ تو تہجد ہو سکتا ہے۔ وہ تو تہجد ہوتا ہے۔ تو یہ حدیث شریف تو تہجد کے بارے میں ثابت ہوا۔ یہ تو تراویح پہ منطبق بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ تراویح رمضان میں ہوتی ہے، غیر رمضان میں ہوتی نہیں ہے۔ تو کیسے آپ جو ہے نا کہہ سکتے ہیں کہ یہ اس کے لیے بھی ہے۔
اس پر جب وہ تھک گئے اور مطلب یہ ہے پریشان ہو گئے تو اخیر میں انہوں نے اب یہ کہنا شروع، یہ ابھی ابھی کہنا شروع کیا ہے، کہ تراویح نہیں ہے، اصل میں تہجد ہے۔ یعنی تراویح موجود ہی نہیں، تراویح سے انکار کر دیا۔ بعض لوگوں نے، ان میں بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر لیا کہ تراویح ہے ہی نہیں، بس اصل میں تو تہجد ہے۔ چلو، تراویح سے انکاری ہو گیا۔ اب کیا کہا جا سکتا ہے؟
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو رمضان شریف میں خصوصی عمل ہے، وہ تو تراویح کا ہے۔ اور جو سارے رمضان اور غیر رمضان میں موجود ہے، وہ تہجد ہے۔ اس حدیث شریف سے تہجد کا موجودگی ثابت ہو گیا، اور تراویح کی احادیث شریفہ سے تراویح کا پتہ چل گیا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل سے، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل سے، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل سے، تراویح کا وجود ثابت ہو گیا، تو ہمارے پاس تو دونوں موجود ہیں۔ الحمدللہ۔ اور ان کے پاس یا یہ ہے یا یہ ہے، اور یہ پریشانی کی بات ہے۔
تو اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم لوگوں کو رمضان شریف میں بالخصوص یہ رات والے جو اعمال ہیں، یہ تعلق مع اللہ کو حاصل کرنے کا بہت مفید طریقہ ہے۔ مثلاً نماز، یہ بھی اس کے ذریعے سے بھی آپ اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا سکتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کر سکتے ہیں نماز کے ذریعے سے، وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ۔ جس وقت ہم نماز میں اللہ اکبر کہتے ہیں، تکبیرِ تحریمہ کہتے ہیں تو ہم فوراً دنیا سے نکل کر اللہ کے سامنے آ جاتے ہیں۔ اور حقیقتِ صلاۃ جو بقول حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، وہ عبودیتِ صرف، وہ اس کی طرف بات آتی ہے کہ اللہ کی عبادت... اس کی طرف وہ جاتی ہے، تو کتنی بڑی نعمت ہے۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ جو قرآن ہے جو اس میں پڑھا جاتا ہے، یہ اللہ کا کلام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ نبوت میں جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے تھے۔ اور ایک دور جتنا قرآن ہو چکا ہوتا تھا ان کا دور کر لیتے تھے رمضان شریف میں۔ اور جب آخری سال تھا تو اس میں دو دور ہو گئے۔ دو دور کر دیے۔ اس کا مطلب ہے ایک سے زیادہ دور بھی ہو سکتے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ اس سے ایک سے زیادہ دور بھی ہو سکتے ہیں۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ ماشاءاللہ، یہ قرآن کا جو دور ہے یہ مسنون ہے۔ مسنون ہے۔ اور سنت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا، اور بعد میں صحابہ کا بھی۔
تو قرآن جو اللہ کا کلام ہے، اس کی ایک ہے حقیقت اور ایک ہے صورت۔ حقیقت تو لوحِ محفوظ میں جو قرآن، وہ اللہ کا کلام ہے۔ اس کے لیے الفاظ اور آواز نہیں ہے۔ وہ کلام ہے اللہ پاک کی صفت ہے، براہِ راست اللہ کی صفت ہے۔ تو اصل میں تو وہ ہے، وہ مخلوق نہیں ہے، وہ غیر مخلوق ہے کیونکہ اللہ کی صفت ہے، اللہ کا صفت کبھی ختم تو نہیں ہو سکتا۔ لیکن جو الفاظ ہیں، جو موجود ہیں ہمارے سامنے، وہ حادث ہیں، وہ ہمارے سامنے ہیں۔ تو ان الفاظ کے ذریعے سے ہم حقیقتِ قرآن تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب جتنا جتنا ہمارا دلی تعلق قرآن کے ساتھ بڑھتا جائے گا، ہم حقیقت کے قریب ہوتے جائیں گے۔ ہم حقیقت کے قریب ہوتے جائیں گے۔ تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اس کو شبہ ہو سکتا ہے کہ جیسے کہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست سن رہا ہے۔ شبہ ہو سکتا ہے، جیسے شجرِ موسوی کی بات ہو گئی۔ تو اب جتنا قرب کا معاملہ ہو گا، اس کے ذریعے سے ظاہر ہے اس کو زیادہ مل رہا ہو گا۔
تو قرآن کے ساتھ ہمیں اپنا تعلق بڑھانا چاہیے۔ یہ ایک کلام ہے جو کہ قرآن کے بارے میں پشتو میں کہا ہے۔ تو میں پشتو میں پڑھوں گا، اس کا ساتھ ساتھ ترجمہ بھی کروں گا، کیونکہ جو ہے، مطلب ظاہر ہے اس میں جو اصل اشارہ ہے، اس کی طرف مطلب ہماری نسبت ہے۔
دَ قران کلام ته ګوره سمندر دا دَ حيرت دے
دا کلام څومره روان دے دا کلام څومره اوچت دے
قرآن کے کلام کو دیکھو یہ تو حیرت کا سمندر ہے۔ یہ کتنا موزوں اور کتنا رواں کلام ہے اور کتنا اونچا کلام ہے۔
دا کلام دے دَ حاکم هم ،دا کلام هم دَ محبوب دے
لږ دَ زړۂ نه تپوس وکړه چې دَدې کوم حېثيت دے
یہ قرآن کا کلام جو ہے یہ حاکم کا کلام بھی ہے اور یہ محبوب کا کلام بھی ہے۔ پھر جب یہ صورت ہے اس کی، تو اپنے دل سے پوچھو کہ اس کی کیا حیثیت بنتی ہے۔
دا آيئن دے، دا منشور دے ،دا دَ ژوند دَ ستا دستور دے
دا جدا کلام دَ رب دے، اؤ دَ زړونو هم راحت دے
دَ قران کلام ته ګوره سمندر دا دَ حيرت دے
یہ آئین ہے، یہ منشور ہے، اور یہ ہماری زندگی کا دستور ہے۔ اور یہ کلام بالکل جدا کلام ہے رب کا، اور دلوں کو اس سے راحت ہوتی ہے۔
پهٔٔٔٔٔ يو لفظ کښې ئې مينه، پهٔٔٔٔٔ هر لفظ باندې ئې قربان شم
دا پيغام لهٔ رب راغلے ، دا پيغام دَ محبت دے
دَ قران کلام ته ګوره سمندر دا دَ حيرت دے
اس کے ایک ایک لفظ میں محبت ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ پر میں قربان ہو جاؤں۔ یہ رب کی طرف سے پیغام آیا ہے اور یہ اس کا پیغامِ محبت ہے۔
دا زمونږدَ زړۂ سکون دے ، دا شفا زمونږ دَ زړونو
اثر ډېرئې دے دَ پوهې، اجر ډېر دَ تلاوت دے
دَ قران کلام ته ګوره سمندر دا دَ حيرت دے
یہ ہمارے دلوں کا سکون ہے اور یہ ہمارے دلوں کی شفا ہے۔ اس کا سمجھنا، یعنی اس کی جو تفسیر ہے، اس کو جاننا، یہ اس کا بہت اثر ہے اور اس کی تلاوت کا بہت اجر ہے۔
ان دونوں کا علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا۔ کیونکہ بعض لوگ ایسے ہیں جو تفسیر کے اور ترجمے کے قائل ہیں اور کہتے ہیں اس کے بغیر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بہت بڑی گستاخی ہے، جو کہتے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے بغیر اس کے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، ان کو دیدار ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا خواب میں۔ تو اللہ تعالیٰ سے پوچھا، یا اللہ! تجھ تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ کونسا ہے؟ فرمایا: قرآن کی تلاوت۔ پوچھا کہ سمجھ کر یا بغیر سمجھے ہو؟ فرمایا: چاہے سمجھ کر ہو، چاہے بغیر سمجھے ہو۔ اس کا مطلب ہے کوئی سمجھ بھی نہیں رہا ہو اور پھر بھی تلاوت کر رہا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا، ماشاءاللہ وہ حاصل ہوتا ہے مرتبہ۔
اب کہیں گے یہ تو صوفیوں کی باتیں ہیں اور یہ تو چلو جی بعد والوں کی باتیں ہیں، تو پھر حدیث شریف کی بات بتاؤں۔ حدیث شریف میں آتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نہیں کہتا الم ایک لفظ ہے، بلکہ الف الگ ہے، لام الگ ہے، میم الگ ہے، اور ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ لہٰذا الف لام میم کی تیس نیکیاں ہو گئیں۔
اب ذرا غور کر لیں الف لام میم کا معنی کسی کو آتا ہے؟ الف لام میم کا معنی کسی کو نہیں آتا۔ نہ کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ مجھے آتا ہے۔ کوئی اندازہ تو لگا سکتا ہے لیکن یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا۔ تو اکیلے ایسے لفظ کا مثال دے دیا جس کا معنی کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور اللہ کے رسول کے۔ تو پتہ چلا کہ بغیر سمجھے بھی یہ اجر ملتا ہے۔ تو تلاوت کا اجر بغیر سمجھے بھی ملتا ہے۔ ہاں، تفسیر کا اجر بہت زیادہ ہے۔ ترجمے کا اجر بہت زیادہ ہے، سمجھنے کا اجر، جس کو ہم کہتے ہیں، کیونکہ تدبر فی القرآن اس کو کہتے ہیں، غور کرنا قرآن کے اندر غور کرنا، اس کا بہت اجر ہے۔ کیونکہ وہ بہت بڑا علمِ نافع ہے۔ لیکن، لیکن، یہ تلاوت بھی ویسے نہیں ہے، یہ اللہ کے کلام کی تلاوت ہے۔ اس وجہ سے اس پر بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
دَمؤمن دَ زړۂ دا نور دے، دَ مؤمن دَ زړۂ سرور دے
لرې کيږي پهٔٔٔٔٔ دې باندې، چې دَ زړۂ کوم کثافت دے
دا قرآن کلام تا گورا، سمندر دا د حیرت دے
یہ مومن کے دل کا نور ہے، اور مومن کے دل کا سرور ہے۔ اس کے ذریعے سے جو کثافت دلوں میں جمع ہو چکی ہوتی ہے وہ دور ہوتی ہے۔
کړه پهٔٔٔٔٔ ژبه تلاوت ئې، اؤ پهٔٔٔٔٔ سترګوئې ديدار کړه
دیکھو! ایک حافظِ قرآن جو پڑھتا ہے تو وہ تو صرف زبان سے پڑھتا ہے۔ اس وجہ سے علمائے کرام کہتے ہیں کہ حافظ حضرات بھی کبھی کبھی قرآن کو لے کر تلاوت کر لیا کریں تاکہ ان کے الفاظ کا دیدار ہو جائے۔ تاکہ قرآن کا الفاظ کا دیدار ہو جائے، کیونکہ اس میں دونوں حسیں ہماری استعمال ہو رہی ہیں، بلکہ ایسی آواز سے تلاوت کریں کہ کان بھی سنیں۔ تو تینوں استعمال ہو جائیں گی۔ کان بھی استعمال ہو جائے گا، زبان بھی استعمال ہو جائے گی، آنکھیں بھی استعمال ہو جائیں گی۔ زبان سے تلاوت کریں اور آنکھوں سے اس کا دیدار کریں۔
دا پهٔٔٔٔٔ زړۂ باندې اثر کړي ،چې دَ زړونو دا راحت دے
یہ دلوں کے اوپر اثر کرتا ہے، کیونکہ دلوں کے لیے راحت ہے۔
پهٔٔٔٔٔ دې باندې غور تهٔ وکړه، تدبر پکښې پېدا کړه
یعنی قرآن پر غور کرلے، اور اس میں تدبر کرے، اس میں تدبر کرلے
پهٔٔٔٔٔ دې باندې غور تهٔ وکړه، تدبر پکښې پېدا کړه
اے شبيؔره بيا محسوس کړه چې پهٔٔٔٔٔ دې کښې کوم حکمت دے
دا قرآن کلام تا گورا، سمندر دا د حیرت دے
یعنی اس قرآن پر غور کرو، اس میں تدبر پیدا کرو۔ پھر اے شبیر! تو محسوس کر کہ اس کے اندر کیا حکمت ہے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ قرآن بہت اونچا کلام ہے۔ بہت اونچا کلام ہے اس کو ہمیں اچھی طرح، اچھی طرح، اچھی طرح، اچھی طرح سمجھنا چاہیے اور...
وہ پیغام محبت بھی دے دو۔
تو یہ میں عرض کرتا ہوں اصل میں بات یہ ہے کہ، میں اشعار میں کیوں یہ پڑھتا ہوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشعار کا جو ہوتا ہے، وہ دل کے اوپر براہِ راست اثر ہوتا ہے، چاہے وہ غلط ہو یا چاہے صحیح ہو۔ مطلب ہے اگر غلط ہوگا، تو غلط اثر کرے گا۔ مثلاً غلط اشعار کوئی پڑھے گا تو وہ غلط اثر کرے گا۔ اور جس کو کہتے ہیں نا صحیح ہوگا، تو صحیح اثر کرے گا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگ چاہتے ہیں کہ یہ ہم لوگ قرآن، تراویح، رمضان، اس کا سب کا اس طریقے سے ادراک کر لیں، اشعار کے ذریعے سے بھی تاکہ ہم لوگوں کو اس کی برکات حاصل ہو جائیں۔ مقصود شاعری کرنا نہیں ہے۔ شاعری تو محض ایک ذریعہ ہے۔ لیکن اس کے ذریعے سے ہمیں تھوڑے وقت میں بہت سارے، ماشاءاللہ، اثرات و کیفیات حاصل ہو جاتے ہیں۔
یہ ایک غزل ہماری پیغامِ محبت میں ہے، جو کہ حج اور رمضان کو ساتھ ساتھ رکھتا ہے کیونکہ حج بھی ایک عاشقانہ عبادت ہے، اور رمضان شریف بھی ایسی عبادت ہے قرآن کی وجہ سے۔ تو اس وجہ سے اس کا ایک ساتھ ساتھ والی بات، تاثر لیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ پاک کے ہاں قبولیت پانے کے لیے نماز کے بعد یہ دو بڑے ذریعے ہیں، رمضان شریف اور حج۔
ایک عشق کی منزل حج ہے اگر، ایک عشق کی منزل رمضاں ہے
دونوں سے اللہ ملتا ہے، دونوں کے پیچھے رحماں ہے
یعنی ایک عشق کی منزل تو حج ہے، اور یقیناً حج عاشقانہ عبادت ہے، اس میں عشاق کے طریقوں کو سامنے لایا گیا ہے، ان کے اوپر عمل کرایا جاتا ہے تاکہ ان کے عشق کا ہمیں بھی کچھ ادراک ہو جائے۔ اور دوسرا منزل، یہ جو ہے نا وہ رمضان شریف ہے، اور ان دونوں سے اللہ ملتا ہے۔
ایک دل دینا اللہ کو ہے، ایک نفس کو قابو کرنا ہے
یعنی حج جو ہے، وہ دل دینا اللہ کو ہے۔ اور رمضان میں ہم نفس کو قابو کرتے ہیں۔ تو جو بغاوت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے، اس کو قابو کرنا ہے تاکہ بغاوت نہ کر سکے۔
ایک دل دینا اللہ کو ہے، ایک نفس کو قابو کرنا ہے
ایک قربانی کا منظر ہے، اور ایک کے اندر قرآں ہے
ہاں، ایک میں قربانی آپ کرتے ہیں۔ اپنے تمام جذبات کو ذبح کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر۔ اپنی اولاد کی محبت بہت زیادہ ہوتی ہے، اپنے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تو اولاد کو ذبح کرنے کا حکم، اور ابراہیم علیہ السلام تیار ہو گئے اس کے لیے۔ پورا واقعہ ہے۔ تو قربانی کا جو منظر ہے حج میں، یہ دل دینا ہے اللہ کو۔
ایک دل دینا اللہ کو ہے، ایک نفس کو قابو کرنا ہے
ایک قربانی کا منظر ہے، اور ایک کے اندر قرآں ہے
ایک عشق کی منزل حج ہے اگر، ایک عشق کی منزل رمضاں ہے
ایک ڈوب جانے میں ملنا ہے، ایک ملنے میں ڈوب جانا ہے
دیکھیں، یعنی جو حضرات اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے، یعنی ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور آدم علیہ السلام اور ہاجرہ بی بی، یہ اللہ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے، اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ تو ان کے ساتھ ملنا ہے۔
ایک ڈوب جانے میں ملنا ہے، ایک ملنے میں ڈوب جانا ہے۔
سبحان اللہ، سبحان اللہ! کیوں؟ رمضان شریف میں تراویح ہوتی ہے، اور تراویح کیا ہے؟ نماز ہے نا۔ اور نماز کیا ہے؟ وہ تو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوب جانا ہے۔ تو ان کے ساتھ ملنا ہے۔
ایک ڈوب جانے میں ملنا ہے، ایک ملنے میں ڈوب جانا ہے۔
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ۔ اس میں ملنا ہے۔
وہ بھی تو رب کا احساں ہے، یہ بھی تو رب کا احساں ہے
ایک میں خود کو دیکھو نہیں، ایک میں خود میں اس کو دیکھو
سبحان اللہ! یعنی ایک میں، خود کو بالکل چھوڑ دو، بھول جاؤ۔ حج میں انسان اپنے آپ کو بھول جاتا ہے۔ اپنے جذبات، اپنے احساسات، اپنی تھکن، اپنی خوراک، اپنے آگے پیچھے چیزیں بالکل، ایک ہی بس لگی رہتی ہے، کہ یہ کرنا ہے اور یہ کرنا ہے اور یہ کرنا ہے، باقی ساری چیزیں ثانوی ہو جاتی ہیں۔ باقی ساری چیزیں ثانوی ہو جاتی ہیں۔ تو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ:
ایک میں خود کو دیکھو نہیں، ایک میں خود میں اس کو دیکھو
یعنی تم جو تلاوت کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ کے کلام کی، وہ جو اثر تم میں لا رہا ہے، اس کو دیکھو۔ وہ، اس کو دیکھو۔
ایک میں خود کو دیکھو نہیں، ایک میں خود میں اس کو دیکھو
ایک میں کرنا اس کے لیے، ایک میں رکنے کا فرماں ہے
ہاں، ایک میں یہ ہے کہ کرنا اللہ کے لیے ہے، جو حج ہے۔ اور دوسرے میں رکنا اللہ کے لیے ہے۔ یہ نہیں کرنا، یہ نہیں کرنا، یہ نہیں کرنا۔
ایک میں کرنا اس کے لیے، ایک میں رکنے کا فرماں ہے
ایک عشق کی منزل حج ہے اگر، ایک عشق کی منزل رمضاں ہے
ایک بولتی اپنی بند رکھنا، ایک بولی اس کی سننا ہے
یعنی انسان جو بولتا ہے نا کہ تکلیف ہو جائے تو، ہائے، فریاد، نہیں بھئی بند! یہاں یہ بات نہیں چلے گی۔ جتنا کوئی حج میں بے صبری کی باتیں کرے گا اتنا اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔ وہاں عشق کی بات ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ تین چیزیں اللہ کو بہت پسند ہیں اُس میں۔ ایک یہ بات ہے کہ وہ جو ہے نا وہ چیخ چیخ کر جو ذکر ہے، لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک... اور ایک خون بہانا ہے۔ تیسرا بھی ہے کوئی۔ تو اس میں یہ ہے کہ انسان کو حج کے موقع پر اپنا سب کچھ وہ جو ہے نا۔
ایک بولتی اپنی بند رکھنا، ایک بولی اس کی سننا ہے
یہ قرآن سننا ہے۔ بولی اس کی سننا ہے۔
پہلے پہ پھر کیا ملتا ہے، اور دوسری کی بھی کیا شاں ہے
میں دونوں کا شیدا ہوں شبیر، مٹ مٹ کے اس کا بن جاؤں
ہاں، یہ دونوں مجھے پسند ہیں۔ کیونکہ دونوں سے اللہ ملتا ہے۔
یہ دونوں میرے رستے ہیں، اور منزل میری جاناں ہے
یعنی دونوں ذرائع ہیں اور منزلِ مقصود کیا ہے؟ وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بات ہے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان چیزوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اللہ پاک نے ہمیں یہ جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ ان سے زیادہ سے زیادہ لینے کے لیے ہمیں کوئی راستہ بنانا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ لینے کے لیے، اور راستے اللہ پاک نے دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے راستے دیے ہیں۔ اب دیکھو رمضان شریف میں کیا کیا ملتا ہے؟ نمبر 1: نفس پر قابو۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: عقلمند ہے وہ جو نفس کو قابو کرے اور آخرت کے لیے کام کرے۔ اچھا یہ روزہ جو رکھتا ہے وہ آخرت کے لیے رکھتا ہے دنیا کے لیے رکھتا ہے؟ تو دونوں شرطیں پوری ہو گئیں نا۔ عقلمند وہ ہے جو نفس کو قابو کرے اور آخرت کے لیے کام کرے۔ تو عقلمند وہ ہے جو روزہ رکھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں، آسانی کے ساتھ، جو بھی روزہ رکھتا ہے وہ عقلمند ہے۔ یہ بات ہے، کہ روزہ رکھنے والے کو ہم عقلمند کہہ سکتے ہیں کیونکہ ایک نفس کو بھی قابو کر رہا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ یہ آخرت کے لیے کام کر رہا ہے۔ باقی چیزیں جو دنیا کے لیے ہیں بے شک وہ کتنی ہی intelligent چیزیں ہوں، وہ عقلمندی میں نہیں آتیں، اس لحاظ سے۔
تو یہ جو ہے نا، یہ بہت بڑی بات ہے کہ عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ جو اس کے مقابلے میں صرف زبانی جمع خرچ کرتا ہے، وہ بے وقوف ہے۔ اس کو بے وقوف کہا گیا ہے۔ بے وقوفی سے بچنا چاہیے۔ یہ بعض لوگ یہ فلسفیانہ تصوف والے ہوتے ہیں۔ وہ بس فلسفے بگھارتے ہیں، اوہ ایسا ہونا چاہیے، ایسا ہونا چاہیے، ایسا۔۔۔، کرتے کچھ نہیں۔ تو یہ عقلمندی نہیں ہے۔ عقلمندی کیا ہے؟ جو نفس کو قابو کرے، عبدیتِ محض، نفس کو قابو کرے، اور آخرت کے لیے کام کرے، یہ بات ہے۔
دوسری بات اس میں جو حاصل ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اَلصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِينَ۔ نماز مومن کا معراج ہے۔ اور اللہ پاک نے رات کے قیام کو پسند کیا ہے: يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا۔ رات کے قیام کو پسند کیا، قیام اللیل پسند فرمایا ہے۔ اور رمضان شریف میں قیام اللیل ملتا ہے، وافر! 20 رکعات تراویح مزید، اور تہجد بھی ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ تو یہ قیام اللیل یہ کیا چیز ہے؟ یہ ماشاءاللہ، یعنی اَلصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِينَ کی کیفیت کو بڑھانے والی ہے۔ اب دیکھو، ایک طرف نفس کو دبانے والی چیز، عبدیت، اور دوسری طرف معراج دینے والی چیز یعنی معارف، ترقی، عروج۔ یہ دونوں چیزیں۔ اب بتاؤ رمضان شریف میں آپ کو عروج بھی مل رہا ہے، نزول بھی مل رہا ہے۔ تو اور کیا چاہیے؟ عروج بھی مل رہا ہے، نزول بھی مل رہا ہے۔ جتنا آپ نے نفس کو دبایا ہوگا اتنا آپ کو عروج ملے گا رات کو قیام میں۔ جتنا آپ نے دن کو نفس کو دبایا ہوگا، نفس کو دبانے سے مراد یہ نہیں کہ آپ نے صرف تین چیزیں روک لیں۔ یہ تو بنیاد ہے، base ہے۔ کوئی بنیاد ڈال لے اور اوپر دیواریں تعمیر نہ کرے تو کیا ہوگا اس کا؟ وہ تو بنیاد ہے۔ اس کے بغیر تو روزہ exist نہیں کرتا۔ لیکن آپ نے بنیاد بنا لی اس کے اوپر دیواریں بھی کھڑی کیں۔ مثلاً آپ نے اپنی آنکھوں کی بھی حفاظت کی، اپنے کان کی بھی حفاظت کی، اپنی زبان کی بھی حفاظت کی، اپنی سوچ کی بھی حفاظت کی، اور پھر یہ ہے کہ آپ نے قرآن پاک کی تلاوت اس میں کی، آپ نے ذکر اذکار اس میں کیا، آپ نے اس میں درود شریف پڑھا، یہ سب اس کی دیواریں اور چھت ہیں۔ یہ عروج ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ بنیاد، وہ نزول ہے۔ اور پھر رات کو قیام یہ عروج ہے۔ تو ماشاءاللہ دن کو آپ کا اگر نزول نصیب ہو رہا ہے تو رات کو اس کا عروج نصیب ہو رہا ہے۔ رات کو آپ کو اس کا فائدہ مل رہا ہے۔
پھر میں آپ کو صاف بتا دوں۔ قرآن کے اندر ایک بالکل categorically ایک بالکل ایک simple سی بات کی گئی ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ۔
آگاہ ہو جاؤ! جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ غم ہوگا نہ خوف ہوگا۔ نہ خوف ہوگا نہ غم ہوگا۔ قرآن کا طرز یہ ہے نا، نہ خوف ہوگا نہ غم ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے ایمان حاصل کیا ہوگا اور تقویٰ حاصل کیا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ولایت کا جو مقام، أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ، ولایت کا مقام حاصل کرنے کے لیے صرف دو چیزیں کرنی ہیں۔ دو چیزیں کرنی ہیں۔ کون سی چیزیں کرنی ہیں؟ ایک یہ ہے کہ آپ ایمان لا چکے ہوں، اور دوسرا یہ ہے کہ تقویٰ حاصل کر لو۔
اب تقویٰ کو حاصل کرنے کا طریقہ خود اللہ پاک نے قران پاک میں فرما دیا، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، ایمان تو ہے، ایمان والوں سے خطاب ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ اے ایمان والو! تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے، جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔
اب رمضان شریف سے آپ کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں۔ روزے سے آپ کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ اور تقویٰ حاصل ہونے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اگر ایمان ہو تو، ولایت حاصل ہوتی ہے۔ تو ایمان والوں سے تو کہا گیا ہے، لہٰذا اس پر عمل کر لیں گے تو ولی اللہ بن جائیں گے۔ اور کتنے بڑے ولی اللہ بن جائیں گے؟ صاف فرماتے ہیں: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ کہ بے شک تم میں زیادہ مکرم و معزز اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والے ہیں۔ لہٰذا اپنے تقویٰ کو بڑھاؤ۔ اور تقویٰ کو بڑھانے کا کیا ہے؟ فجور کو دباؤ۔ تقویٰ بڑھانے کا کیا مطلب؟ فجور کو دباؤ۔ تو فجور کو دبانے کا کیا ہے؟ بھئی روزہ تو آپ رکھ ہی رہے ہیں نا، تین چیزیں تو آپ نے کر ہی لیں، اب اس کے ساتھ مزید فجور جو ہیں، فجور کو دباؤ، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا تقویٰ بڑھاؤ۔ لہٰذا آپ ماشاءاللہ اتنے، اتنے بڑے ولی ہوتے جائیں گے۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو دو کام کرنے چاہئیں۔ ایک یہ کہ اپنے نفس کے تقاضوں کو ہم خوب دبائیں۔ اور دوسرا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے جو راستے ہیں، عروج کے جو راستے ہیں، ان کو خوب اپنائیں۔ مثال کے طور پر یہ کتاب ہے، اب اس کو میں نیچے سے دبا رہا ہوں، اور اوپر سے اس کو کھینچ رہا ہوں۔ تو دونوں طرف جتنا force ہوگا وہ سب اس کو اوپر لے جانے میں صرف ہوگا۔ چاہے نیچے سے بھی دبا رہا ہوں، اور اوپر سے بھی اس کو کھینچ رہا ہوں۔ اگر آپ صرف نیچے سے ان کو اوپر لے جا رہے ہیں، اور یہ نہیں کر رہے تو اس کا یہ حصہ اتنا ہی اٹھے گا نا۔ لیکن اگر آپ صرف اوپر سے کھینچ رہے ہیں، نیچے والے نہیں کر، تو پھر اتنا ہی ہوگا۔ لیکن اگر دونوں کریں گے تو یہ دوسرا... تو اس کا مطلب ہے کہ نفس کو دبانے سے بھی عروج ہے۔ اور عروج والے اعمال سے بھی عروج ہے۔ کیونکہ عبدیت سے بھی عروج حاصل ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ رمضان شریف میں نورٌ عَلٰی نور ہے۔ نورٌ عَلٰی نور ہے! مطلب یہ ہے کہ آپ ہر طریقے سے ماشاءاللہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
تو رمضان شریف کے برکات کو حاصل کرنے کے لیے، ایک تو ہم لوگ نیت کر لیں۔ کہ ہم نے ابھی تک جو کچھ کیا، وہ کر لیا، جو بھی ہے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور اللہ جل شانہٗ اس کو قبول فرمائے جو اچھے اعمال کیے ہیں۔ لیکن اب ہم یہ ارادہ کر لیں کہ رمضان شریف کا جو ایک ایک لمحہ ہے، اس کو ہم ضائع نہیں کریں گے۔ ایک ایک لمحے کو۔ ایک چیز تو صبح صادق سے شروع ہو جائے گی اور مغرب تک خود بخود جائے گی۔ اس میں آپ کی مزید contribution کی ضرورت نہیں ہے، وہ تو خود بخود جائے گی کیونکہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ اگر روزہ maintained ہے تو وہ چیز تو آپ کو مل ہی رہا ہے، بے شک آپ سو بھی رہے ہوں۔ وہ تو آپ کو مل رہا ہے۔ لیکن اب اس کو مزید بڑھانے کے لیے کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ایک: جو فجور ہیں، ان کو دباؤ، دوسرا: جو عروج والے اعمال ہیں ان کو اختیار کرو۔ قرآن پاک کی تلاوت کرو، ذکر اذکار کرو، نیک اعمال کرو۔ یہ سب کر لو۔ تو یہ اعمال کرنے سے ماشاءاللہ آپ کا روزہ بہت جاندار ہوتا جائے گا۔
قرآن پاک کے ساتھ اس کا چونکہ بہت بڑا تعلق ہے، لہٰذا اس میں ایک تو یہ والی بات ہے کہ حفاظ کی چاندی ہوتی ہے، حافظ حضرات، کیونکہ حافظ حضرات میں اس میں اپنا قرآن پکا کر لیتے ہیں، اور قرآن کی تلاوت بہت زیادہ کر لیتے ہیں کیونکہ پکا کرنے میں بھی تو قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں نا۔ تو لہٰذا ان کا قرآن جمع ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک حافظ جب ایک کلام سناتا ہے، یعنی ایک تراویح میں، یا سنتا ہے، تو کیا خیال ہے اس کو کتنے قرآن پڑھنے ہوتے ہیں اس کے لیے؟ وہ بار بار وہ کر رہے ہوتے ہیں، بار بار یاد کر رہے ہوتے ہیں، بار بار یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ تو وہ سارا اس کے پڑھنے میں آتا ہے نا۔ قرآن کے پڑھنے میں آتا ہے۔ اور نہ صرف قرآن کے پڑھنے میں آتا ہے بلکہ قرآن کو محفوظ رکھنے کا جو عمل ہے، اس میں بھی وہ شامل ہے۔ تو اس ارادے سے، تو اس وجہ سے قرآن کی حفاظت کی نیت سے قرآن کو پڑھنا، حفظ، اور پھر اس کو تراویح میں سننا ہے یا سنانا، یہ ماشاءاللہ بہت اونچا عمل ہے۔ تو ایک تو یہ حافظ حضرات کر سکتے ہیں، بہت بڑا عمل ہے۔ دوسرا عمل جو عام لوگ کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ناظرہ پڑھیں۔ یا جتنا یاد ہو وہ پڑھ لیں۔ تو ناظرہ پڑھنے کا بھی بہت بڑا اجر ہے۔ اس میں تینوں چونکہ حسیں استعمال ہو جاتی ہیں، بولنے کی، سننے کی، اور دیکھنے کی۔ لہٰذا یہ بہت بڑا عمل ہے، تو قرآن پاک کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔ قرآن کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔ قرآن کے ذریعے سے انسان اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہوتا ہے۔
بہرحال جو فضائل قرآن ہیں، وہ میرے خیال میں ہمیں تھوڑا سا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس میں چونکہ قرآن کا مہینہ ہے، تو قرآن کو بہت زیادہ اس میں ہمیں یعنی پڑھنا چاہیے۔ میں چند احادیث شریفہ فضائل قرآن کی سنا دیتا ہوں، تاکہ برکت ہمیں حاصل ہو جائے۔ ویسے یہ میں عرض کروں گا کہ بہت زیادہ، بہت زیادہ، بہت زیادہ ان شاءاللہ اس سے فائدہ ہوگا۔
دیکھیں میں ایک حدیث شریف ہے۔
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصِنِي. قَالَ: "عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ الْأَمْرِ كُلِّهِ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ وَذُخْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ". (رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ)
ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ مجھے کچھ وصیت فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تقویٰ کا اہتمام کرو کہ تمام امور کی جڑ ہے۔
دیکھیں! تقویٰ کا اہتمام کرو کہ تمام امور کی جڑ ہے۔
میں نے عرض کیا اس کے ساتھ کچھ اور بھی ارشاد فرمائیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرو کہ دنیا میں یہ نور ہے اور آخرت میں ذخیرہ ہے۔
یہ ذرا تھوڑا سا اس پہ سوچنا پڑے گا کیونکہ آپ ﷺ کے کلام میں بہت بڑی بلاغت ہوتی ہے۔ تو حضرت فرماتے ہیں،
تقویٰ حقیقتًا تمام امور کی جڑ ہے۔ جس دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہو جائے اس سے پھر کوئی معصیت نہیں ہوتی۔ اور نہ پھر اس کی کسی قسم کی تنگی پیش آتی ہے۔ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔ جو شخص تقویٰ حاصل کرے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کی ہر ضیق میں کوئی راستہ نکال دیتے ہیں، اس طرح اس کو روزی پہنچاتے ہیں جس کا اس کو گمان بھی نہ ہو۔
تلاوت کا نور ہونا پہلی روایت سے معلوم ہو چکا ہے۔ شرح احیاء میں حضرت عباس رحمۃ اللہ علیہ نے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے، ذکر کیا ہے کہ جن گھروں میں قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے وہ مکانات آسمان والوں کے لیے ایسے چمکتے ہیں جیسے کہ زمین والوں کے لیے آسمان پر ستارے۔
یہ حدیث ترغیب وغیرہ میں اتنی نقل کی گئی ہے۔ یہ مختصر ہے۔ اصل روایت بہت طویل ہے۔ جس کو ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مفصل، اور سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ مختصر نقل کیا ہے۔ اگرچہ ہمارے رسالے کے مناسب اتنا ہی جز ہے جو اوپر گزر چکا، مگر چونکہ پوری حدیث بہت ہی ضروری اور مفید مضامین پر مشتمل ہے اس لیے تمام حدیث کا مطلب ذکر کیا جاتا ہے جو حسبِ ذیل ہے۔
حضرت ابو ذر غفاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ حق تعالیٰ شانہٗ نے کل کتابیں کس قدر نازل فرمائیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سو صحائف اور چار کتابیں۔ 50 صحیفے حضرت شیث علیہ السلام پر، 30 صحیفے ادریس علیہ السلام پر، 10 صحیفے ابراہیم علیہ السلام پر، اور 10 صحیفے موسیٰ علیہ السلام پر تورات سے پہلے، ان کے علاوہ چار کتابیں تورات، انجیل، زبور، قرآن شریف نازل فرمائیں۔
میں نے پوچھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا چیز تھی؟ ارشاد فرمایا وہ سب ضرب الامثال تھیں۔ مثلاً اے مسلط مغرور بادشاہ! میں نے تجھ کو اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تو پیسہ پر پیسہ جمع کرتا رہے، میں نے تجھے اس لیے بھیجا تھا کہ مجھ تک مظلوم کی فریاد نہ پہنچنے دے، تو پہلے اس کا انتظام کر دے اس لیے کہ میں مظلوم کی فریاد کو رد نہیں کرتا، اگرچہ فریادی کافر ہی کیوں نہ ہو۔
بندے ناچیز کہتا ہے کہ حضور ﷺ نے جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو امیر اور حاکم بنا کر بھیجا کرتے، تو منجملہ اور نصائح کے، اس کا بھی اہتمام سے فرمایا کرتے: وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ۔ کہ مظلوم کی بددعا سے بچنا اس لیے کہ اس کو، اس کا اللہ جل شانہٗ کے درمیان کوئی حجاب اور واسطہ نہیں ہوتا۔
نیز ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ عاقل کے لیے ضروری ہے کہ جب تک وہ مغلوب العقل نہ ہو جائے کہ اپنے تمام اوقات کو تین حصوں میں منقسم کرے۔ ایک حصہ میں اپنے رب کی عبادت کرے۔ ایک حصہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور سوچے کہ کتنے اچھے کام کیے اور کتنے برے (مراقبہ ہے)۔ اور ایک حصہ کو کسبِ حلال میں خرچ کر لے۔ عاقل پر یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے اوقات کی نگہبانی کرے، اپنے حالات کی درستی کی فکر میں رہے، اپنی زبان کی فضول گوئی اور بے نفع گفتگو سے حفاظت کرے، جو شخص اپنے کلام کا محاسبہ کرتا رہے گا اس کی زبان بے فائدہ کلام میں کم چلے گی۔ عاقل کے لیے ضروری ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ سفر نہ کرے: آخرت کے لیے توشہ مقصود ہو، یا کچھ فکرِ معاش ہو، یا تفریح بشرطیکہ مباح ہو۔
میں نے پوچھا یا رسول اللہ! موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا چیز تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا سب کی سب عبرت کی باتیں تھیں، مثلاً میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر جس کو موت کا یقین ہو پھر کسی بات پر خوش ہو۔ اس لیے کہ جب کہ شخص کو مثلاً یہ یقین ہو جائے کہ مجھے پھانسی کا حکم ہو چکا عنقریب سولی پر چڑھنا ہے پھر وہ کسی چیز سے خوش ہو سکتا ہے؟ میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر جس کو موت کا یقین ہے پھر وہ ہنستا ہے۔ میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر جو دنیا کے حوادث، تغیرات، ان کے انقلابات ہر وقت دیکھتا ہے پھر دنیا پر اطمینان کر لیتا ہے۔ میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر کہ جس کو تقدیر کا یقین ہے پھر رنج و مشقت میں مبتلا ہوتا ہے۔ میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر جس کو عنقریب حساب کا یقین ہے پھر نیک اعمال نہیں کرتا۔
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ مجھے کچھ وصیت فرمائیں؟ حضور ﷺ نے سب سے اول تقویٰ کی وصیت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تمام امور کی بنیاد اور جڑ ہے۔ میں نے عرض کیا کچھ اور بھی اضافہ فرمائیں؟ ارشاد ہوا کہ تلاوتِ قرآن اور ذکر اللہ کا اہتمام کر، کہ دنیا میں نور ہے اور آسمان میں ذخیرہ ہے۔ میں نے اور اضافہ تو ارشاد ہوا کہ زیادہ ہنسی سے احتراز کر کہ اس سے دل مردہ ہو جاتا ہے، چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے (یعنی ظاہر و باطن دونوں کو نقصان پہنچانے والی شے ہے)۔ میں نے اور اضافہ، تو ارشاد فرمایا کہ جہاد کا اہتمام کر کہ میری امت کے لیے رہبانیت ہے۔ (راہب یہ پہلی امتوں میں گزرے ہیں جو دنیا کے سب تعلقات منقطع کر کے اللہ والے بن جاتے تھے)۔ میں نے اور اضافہ، تو ارشاد فرمایا فقراء اور مساکین کے ساتھ میل جول رکھ، ان کو دوست بنا، ان کے پاس بیٹھا کر۔ میں نے اور اضافہ تو ارشاد ہوا کہ اپنے سے کم درجے والے پر نگاہ کر تاکہ شاکر کی عادت ہو اور اپنے سے اوپر کے درجے والے کو مت دیکھ، مبادا اللہ کی نعمتوں کا جو تجھ پر ہیں تحقیر ہونے لگے۔ میں نے اور اضافہ تو ارشاد ہوا کہ تجھے اپنے عیوب لوگوں پر حرف گیری سے روک دیں۔ ان کے عیوب پر اطلاع کی جستجو مت کر کہ تو ان میں خود مبتلا ہے۔ تجھے عیب لگانے کے لیے کافی ہے کہ تو لوگوں میں ایسے عیب پہچانے جو تجھ میں خود موجود ہیں۔ تو ان سے بے خبر ہے اور ایسی باتیں ان میں پکڑے جن کو تو خود کرتا ہے۔ پھر حضور ﷺ نے اپنے دستِ شفقت میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا کہ ابو ذر! تدبیر کے برابر کوئی عقلمندی نہیں، اور ناجائز امور سے بچنے کے برابر تقویٰ نہیں۔
ناجائز امور سے بچنے کے برابر تقویٰ نہیں۔ اب یہ سارا تصوف سلوک اس میں آ گیا نا۔
اور خوش خلقی سے بڑھ کر کوئی شرافت نہیں۔ اس میں خلاصہ اور مطلب کا زیادہ لحاظ کیا گیا، تمام الفاظ کے ترجمہ کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔
یہ بہت اہم چیزیں ہیں۔
اسی طرح ایک اور حدیث شریف ہے مسلم شریف اور ابو داؤد شریف کی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے:
کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں مجتمع ہو کر تلاوتِ کلام پاک اور اس کا دور نہیں کرتی مگر ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے، اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، ملائکہ رحمت ان کو گھیر لیتے ہیں، اور حق جل شانہٗ ان کا ذکر ملائکہ کی مجلس میں فرماتے ہیں۔
تو اس کا مطلب ہے کہ اجتماعی طور پر جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں مختلف ایک جگہ پر اکٹھے ہو کر، تو اس کی سند بھی آ گئی اور ماشاءاللہ اس کا جو فائدہ ہے، وہ بھی آ گیا۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ حضور ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ تم لوگ اللہ جل شانہٗ کی طرف رجوع اور اس کے ہاں تقرب اس چیز سے بڑھ کر کسی اور چیز سے حاصل نہیں کر سکتے جو خود حق سبحانہ و تعالیٰ سے نکلی ہے۔ یعنی کلامِ پاک۔
تو ماشاءاللہ یہ احادیث شریفہ میں نے اس لیے ذرا بیان کر لیے تاکہ ہم لوگوں کو رمضان شریف کے اندر قرآن پاک کی تلاوت کی قدر نصیب ہو جائے۔
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں میں سے بعض لوگ خاص گھر کے لوگ ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا قرآن شریف والے، کہ وہ اللہ کے اہل ہیں اور خواص۔
سبحان اللہ!
فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ قاری کی آواز کی طرف اس شخص سے زیادہ کان لگاتے ہیں جو اپنے گانے والی باندی کی آواز کی طرف کان لگا کر سن رہا ہو، اس سے زیادہ۔
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ كَذَا فِي شَرْحِ الْإِحْيَاءِ، وَقَالَ الْحَاكِمُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ مُنْقَطِعٌ۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے۔ رمضان شریف کا احترام نصیب فرمائے، رمضان شریف کی برکات نصیب فرمائے، اور رمضان شریف میں لیلۃ القدر پورا پورا نصیب فرمائے۔ ایک ایک لمحہ اس کا کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارے لیے اعتکاف کو آسان فرما دے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔