گناہوں سے دل کی سیاہی اور شیاطین کے قید ہونے کی حکمت و حقیقت

فضائل رمضان، فصل اول، اشاعت اول 06 اپریل، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•         گناہ کرنے سے دل پر لگنے والے کالے نقطے اور سچی توبہ کی اہمیت۔

•         مسلسل گناہوں کے سبب دلوں کے زنگ آلود ہونے کا قرآنی و تفسیری مفہوم۔

•         دل سیاہ ہونے پر مخصوص گناہوں (جیسے شراب نوشی) کی عادت اور احساسِ گناہ کا مٹنا۔

•         رمضان المبارک میں شیاطین کے قید ہونے کے باوجود گناہوں کے سرزد ہونے کی وجوہات۔

•         نیک اور بد لوگوں کے اعتبار سے رمضان میں سرکش شیاطین کے مقید ہونے کی تشریح۔

•         رمضان میں نیکی کی طرف رغبت اور گناہوں سے بچنے میں طبعی آسانی کا بیان۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

دوسری بات ایک اور بھی ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے، جب آدمی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب میں ایک کالا نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ سچی توبہ کر لیتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے۔

یہاں نقطہ "ن، ق، ط، ہ" کے ساتھ ہے، اور ایک نکتہ اور بھی ہوتا ہے، "ن، ک، ت، ہ"۔ تو ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ اکثر لوگ اس میں گڑبڑ کر لیتے ہیں۔ نکتہ کی جگہ نکتہ لکھ لیتے ہیں۔

نقطہ یعنی ایک Point، جس کو ہم کہتے ہیں Point کہتے ہیں۔ تو وہ نقطہ ہو گیا۔ تو نقطہ مطلب یہ لگ جاتا ہے۔ اور اگر آپ نے ایک خاص بات بیان کی ہے تو وہ نکتہ ہوتا ہے۔ نکتہ نظر، جس کو ہم کہتے ہیں۔

تو بعض لوگ نقطہ نظر لکھ دیتے ہیں نا، تو وہ غلط ہو جاتا ہے۔

تو اس کے قلب میں ایک کالا نقطہ لگ جاتا ہے، اگر وہ سچی توبہ کر لیتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے، ورنہ لگا رہتا ہے، اور اگر دوسری مرتبہ گناہ کرتا ہے تو دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے، حتیٰ کہ اس کا قلب بالکل سیاہ ہو جاتا ہے، پھر خیر کی بات اس کے قلب تک نہیں پہنچتی۔ اسی کو حق تعالیٰ شانہ نے اپنے کلام پاک میں:

﴿ كَلَّا بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴾

(حوالہ تصحیح: سورہ المطففین، آیت: 14)

سے ارشاد فرمایا ہے، کہ ان کے قلوب زنگ آلود ہو گئے، ایسی صورت میں وہ قلوب ان گناہوں کی طرف خود متوجہ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک نوع کے گناہ کو بے تکلف کر لیتے ہیں، لیکن اسی جیسا جب کوئی دوسرا گناہ سامنے ہوتا ہے، تو قلب کو اس سے انکار ہوتا ہے، مثلاً جو لوگ شراب پیتے ہیں ان کو اگر سور کھانے کو کہا جائے، تو ان کی طبیعت کو نفرت ہوتی ہے۔

یہ ہمارے ہاں بعض لوگ وہاں کہتے بھی ہیں، کمال ہے یہاں پر آ کر بعض لوگ سور نہیں کھاتے لیکن شراب پی لیتے ہیں۔ یورپ وغیرہ میں جو جاتے ہیں نا۔ تو سور سے ان کو گھن آتی ہے، ان کے ماحول کی وجہ سے، ان کو جو چیز سمجھی... اور شراب... حالانکہ شراب سے بھی گھن آنی چاہیے حرام ہونے کے لحاظ سے۔ جبکہ سور کے گوشت میں بظاہر وہ فوری طور پر وہ گھن محسوس نہیں ہوتا، یعنی وہ اس کا اصل تو وہ ہے، خراب ہے، مطلب گند ہے، لیکن وہ کھانے میں تو اس کو فوری طور پر پتہ نہیں چل سکتا آدمی کو۔ اگر سور کا گوشت کسی کو، کسی اور گوشت کے نام سے کھلایا جائے، تو کسی کو پتہ چلے گا؟ جب اس کو معلوم نہیں ہو گا۔

لیکن شراب کی جو بو ہے، وہ جو شرابی نہیں ہوتا اس کے لیے بہت ہی وہ ہوتا ہے، مطلب یعنی بدبو کہ بھبکے جو ہے نا باقاعدہ... یعنی ہم لوگ bar کے سامنے بھی نہیں گزر سکتے تھے۔ جب bar ہوتا تھا نا، ان کے سامنے بھی ہم بہت تیزی کے ساتھ جاتے تھے کیونکہ اس کی بدبو... یہ نہیں Spirit جیسے ہوتی ہے، مطلب Spirit کی جیسے بدبو ہوتی ہے۔ تو مطلب یہ کہ اس قسم کی بدبو ہوتی ہے اس کی۔ لیکن جو لوگ عادی ہیں ان کو پتہ نہیں چلتا اس کا۔تو وہ قلوب زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔

مثلاً جو لوگ شراب پیتے ہیں ان کو اگر سور کھانے کو کہا جائے، تو ان کی طبیعت کو نفرت ہوتی ہے، حالانکہ معصیت میں دونوں برابر ہیں۔ تو اسی طرح جبکہ غیر رمضان میں وہ ان گناہوں کو کرتے رہتے ہیں، تو دل ان کے ساتھ رنگے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں بھی ان کے سرزد ہونے کے لئے شیاطین کی ضرورت نہیں رہتی۔

یہ ایک نکتہ حضرت نے بیان کر دیا... نکتہ بیان کر دیا، کیا بیان کیا؟ نقطہ نہیں...

بالجملہ اگر حدیث پاک سے سب شیاطین کا مقید (قید) ہو جانا مراد ہے، تب بھی رمضان المبارک میں گناہوں کے سرزد ہونے سے کچھ اشکال نہیں، اور اگر مَتَمَرِّد (سرکش) اور خبیث شیاطین کا مقید ہونا مراد ہو، تب تو کوئی اشکال ہے ہی نہیں۔ اور بندہ ناچیز کے نزدیک یہی توجیہ اولیٰ ہے اور ہر شخص اس کو غور کر سکتا ہے اور تجربہ کر سکتا ہے، کہ رمضان المبارک میں نیکی کرنے کے لئے یا کسی معصیت سے بچنے کیلئے اتنے زور لگانے نہیں پڑتے، جتنے کہ غیر رمضان میں پڑتے ہیں۔ تھوڑی سی ہمت اور توجہ کافی ہو جاتی ہے۔

حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب نور اللہ مرقدہ کی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں حدیثیں مختلف لوگوں کے اعتبار سے ہیں۔ یعنی فُساق کے حق میں صرف متکبر شیاطین قید ہوتے ہیں اور صلحاء کے حق میں مطلقاً ہر قسم کے شیاطین محبوس (قید) ہو جاتے ہیں۔

کیونکہ پہلے سے وہ سرکش سے تو بچے ہی رہتے ہیں نا۔ تو ان کے لیے مزید یعنی آسانی ہو جاتی ہے کہ ان کے لیے ہر قسم کے شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔

گناہوں سے دل کی سیاہی اور شیاطین کے قید ہونے کی حکمت و حقیقت - فضائل رمضان