حلال و حرام کا الٰہی ضابطہ، شیطانی وسوسے اور جدید نفسیاتی علاج کی فریب کاریاں

اشاعت اول، 5 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•         حلال و حرام اور نیکی و بدی کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔

•         مشرکین کا اپنی مرضی سے چیزوں کو حلال یا حرام ٹھہرانا شیطانی گمراہی تھی۔

•         شیطان انسان کو نفسانی خواہشات کے ذریعے آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

•         شیطان کا اصل ہدف انسان کو بدی اور بے حیائی کے کاموں میں مبتلا کرنا ہے۔

•         مشرق کے قدیم حکیموں کی تحقیقات اور علاج اسلامی تعلیمات و اخلاقیات کے قریب تھے۔

•         مغربی تعلیم یافتہ جدید معالجین بے حیائی کے کاموں کو بیماری کے بجائے معمول سمجھتے ہیں۔

•         جدید نفسیاتی علاج اکثر نفسانی خواہشات کو بے لگام چھوڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔

•         انٹرنیٹ پر پھیلتی بے حیائی دراصل شیطانی اور بیمار ذہنوں (Perverted ideas) کا نتیجہ ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًاۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (168) اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوٓءِ وَالْفَحْشَآءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (169)

صدق اللہ العلی العظیم۔ و صدق رسولہ النبی الکریم۔

اے لوگو! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو کہ وہ تمہارے لئے ایک کھلا دشمن ہے ﴿168﴾ وہ تو تم کو یہی حکم دے گا کہ تم بدی اور بے حیائی کے کام کرو اور اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کا تمہیں علم نہیں ہے ﴿169﴾

مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے۔ مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا، مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل ان شاء اللہ سورہٴ انعام میں آئے گی۔ یہ آیات ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔


اصل میں اللہ جل شانہ ہی کسی چیز کے حلال اور حرام کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اور نیکی اور بدی کا فیصلہ فرما سکتے ہیں۔ ہم کسی چیز کو نہ حلال کہہ سکتے ہیں نہ حرام اپنی مرضی سے، اور نہ کسی چیز کو نیکی یا بدی کہہ سکتے ہیں اپنی مرضی سے۔ اس وجہ سے جب تک ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پتہ نہ چلے، اس وقت تک ہم لوگ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے ان چیزوں میں۔

لیکن وہ لوگ چونکہ آہستہ آہستہ دور ہوئے تھے دینِ ابراہیمی سے، تو آہستہ آہستہ انہوں نے اس میں تصرفات کر لیے تھے اور اپنی طرف سے باتیں بنائی ہوئی تھیں۔

یہ اصل میں شیطان کی کارروائی ہوتی ہے، شیطان آہستہ آہستہ انسان کو دور لے جاتا ہے اور وہ دشمنی پہ ہمارے اترا ہوا ہے، اس میں اس کو کوئی دوسری بات سامنے نہیں ہے۔ اور ہم بھی اس کی دشمنی کو جانتے ہیں۔ لیکن وہ چونکہ ہمارے یعنی اندر کی چیز یعنی نفس کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتا ہے، تو نفس کی خواہش کے مطابق وہ وسوسہ بناتا ہے، لہذا وہ ہمارے لیے ایسا ہوتا ہے کہ جیسے یہ ہماری بات ہو، تو وہ نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔

شیطان کا ہمیشہ یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ بدی اور بے حیائی کے کاموں میں لگاتا ہے۔ بدی میں اس کا اپنا نقصان ہے اور بے حیائی میں پھر یہ چیز پھیلتی ہے، اور دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور بے حیائی کی باتوں کو وہ ان کے لیے اچھا کر کے دکھاتے ہیں۔

یہ حکیموں... حکیموں پہ چونکہ مذہبِ اسلام کا اثر زیادہ تھا یعنی ہندوستان میں، پاکستان میں جو حکیم تھے، ان لوگوں نے جو تحقیقات کی ہیں وہ زیادہ تر اسلامی تعلیمات کے قریب قریب ہیں۔ لیکن ڈاکٹر لوگ جو ہیں ناں یہ... ان کی جڑیں یورپ اور امریکہ میں ہیں یا ظاہر ہے دوسرے ملکوں میں، غیر مسلم ملکوں میں۔ مطلب ان کے جو Top کے لوگ ہیں وہ ہمارے نہیں ہیں، جبکہ حکیموں کے Top کے لوگ ہمارے ہیں، جیسے حکیم اجمل خان ہو گیا یا دوسرے ہمارے حکیم حضرات ہو گئے۔

تو جو برائی کی اور بے حیائی کی چیزیں ہیں ناں وہ ڈاکٹر لوگ منع نہیں کرتے۔ ان کا آپ Literature دیکھیں ناں، وہ اس کو Allow کریں گے اور کہیں گے اس میں کچھ حرج نہیں ہے اور ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں ویسا... میں نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ ظاہر ہے یہ Forum اس کا نہیں ہے۔ لیکن ان کے Literature میں مطلب ہے اس کی... حالانکہ اس کی برائی بالکل واضح ہوتی ہے، ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن وہ اپنے دلائل جو دیتے ہیں، اس کے حساب سے وہ کہتے ہیں جی اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ تو اس طرح ہے، تو یہ اس طرح ہے، تو اس طرح ہے۔

جبکہ حکیم لوگ اس کے خلاف سخت باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھئی اس طرح نہیں ہونا چاہیے، یہ اس میں یہ ہو گا، اس میں یہ بیماری بن جائے گی، یہ بیماری بن جائے گی اور باقاعدہ پوری تفصیلات بتاتے ہیں اور وہ لوگوں کو پتہ بھی ہے اور وہ ہو بھی جاتی ہے اس طرح۔ یعنی ایسی کوئی بات نہیں۔

تو یہ میں نے اس پر بہت کوشش کی ہے، وہ اللہ کرے کہ مجھے اس پہ کچھ... خود تو کرنا مشکل ہے کیونکہ میں اس Field کا نہیں ہوں، لیکن جو اس Field کے ہیں وہ ذرا اس پہ تھوڑا سا Study کریں اور لکھیں کہ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ ایک دنیا کو یہ لوگ گمراہ کر رہے ہیں۔ ایک دنیا کو!

اور تو چھوڑیں یہ نفسیاتی امراض جو ہوتے ہیں، نفسیاتی بیماریاں۔ تو حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان میں گزرا ہے کہ کوئی حکیم تھے ناں تو ان کے پاس کوئی گیا تو وہ بالکل ہی تباہ ہونے والا تھا، مرنے والا تھا، اس کا کوئی علاج نہیں تھا۔ تو اس نے اس کو کہا کہ آپ جو مرضی کھاؤ۔ اور اس بات پر کہ کہیں ایسا اس کو محسوس نہ ہو جائے، یعنی ایسا نہ ہو کہ میں لاعلاج ہوں تو اور خراب ہو جائے گا، اس نے کہا کہ اصل میں اگر آپ اپنی طبیعت کے خلاف بات کریں گے تو اس سے آپ کی بیماری بڑھے گی اس وجہ سے میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ تو اس نے اس کو واقعی مان لیا اور پھر وہ کرنے لگا جو بھی اس کی طبیعت چاہتی تھی۔

تو یہ نفسیاتی... (ڈاکٹر صاحب آپ لکھ لیں)، یہ سارے آج کل کے نفسیاتی جو علاج ہیں ناں ہمارے ڈاکٹروں کے، وہ اس بنیاد پر ہیں۔ وہ جو بھی نفس کی خواہش ہوتی ہے ناں وہ روکتے نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں نہیں طبیعت پھر خراب ہو جائے گی، اثر پڑ جائے گا، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔ وہ ایسی ایسی چیزوں کا بتاتے ہیں کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگا دیتا ہے کہ یا اللہ یہ انسان ہے یا جانور ہے؟ ایسی ایسی باتیں مریضوں کو بتاتے ہیں! کہ یہ کرو، یہ کرو، یہ کرو۔

مطلب Television دیکھنا اور فلمیں دیکھنا یہ تو معمولی چیز ہے، یہ تو وہ... کہتے ہی ہیں ناں۔ اس میں تو کوئی وہ بات نہیں کرتے۔ تو یہ اصل میں ان کے اوپر اثر وہاں کے لوگوں کا ہے۔ ہمارے جو الفریڈ اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے، رحمۃ اللہ علیہ... وہ فرماتے تھے "These perverted ideas"۔ وہ دانتوں کو اس طرح بھینچ کر نا وہ کہتے "These perverted ideas"۔ تو وہ اس کو Perverted ideas کہتے تھے مطلب ہے ڈاکٹروں کی۔ یہ Perversion کے مریض ہیں۔ یہ ان چیزوں کو Enjoy کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو باتیں بتاتے ہیں۔

تو یہ اصل میں شیطان کی پوری وہ ہے۔ آج کل بے حیائی جتنی ہمارے Literature پہ پھیلی ہوئی ہے، ہمارے Social Media پر جو پھیلی ہوئی ہے، ہمارے Internet پر جو پھیلی ہوئی ہے، یقین جانیے بالکل جانور اور انسان میں فرق کرنا مشکل ہے! یہ جانور کیا ہوتا ہے اور انسان کیا ہوتا ہے؟ اور یہ ان Perverted لوگوں کی وجہ سے ہے، کہ یہ لوگوں کو اس طرح بتاتے ہیں اور آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ وہ ان کی طرف لے جاتے ہیں۔

تو اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ان کے شرور سے۔ شیطان تو ہمارا کھلا دشمن ہے، وہ تو کرے گا، لیکن ہمیں تو اپنے آپ کو بچانا ہے ناں۔

یا اللہ! یا کریم!


حلال و حرام کا الٰہی ضابطہ، شیطانی وسوسے اور جدید نفسیاتی علاج کی فریب کاریاں - درسِ قرآن - دوسرا دور