مرگی کی بیماری پر صبر کا اجر اور جنت کی ضمانت

درس نمبر 48، جلد 1، باب 3: صبر کا بیان۔ (اشاعتِ اول)، 16 اگست، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

فانی تکلیف کے بدلے ابدی راحت کا سودا

بے ہوشی میں بھی پردے اور حیا کی فکر

علاج کے ساتھ ساتھ اللہ والوں سے دعا کروانے کا جواز

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور جنتی خاتون کا واقعہ

    بیماری پر صبر کے بدلے جنت کا وعدہ

رخصت اور عزیمت کا فرق

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے

وَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا اَلَا اُرِيْكَ امْرَاَةً مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْتُ: بَلَى قَالَ هَذِهِ الْمَرْاَةُ السَّوْدَاءُ اَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالَتْ: اِنِّي اُصْرَعُ وَاِنِّيْ اَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰهَ تَعَالٰى لِيْ قَالَ: اِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَ لَكِ الْجَنَّةُ وَ اِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰهَ تَعَالٰى اَنْ يُعَافِيَكِ فَقَالَتْ: اَصْبِرُ فَقَالَتْ: اِنِّيْ اَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰهَ اَنْ لَا اَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا ﴿(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)﴾

”حضرت عطا بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کیا میں تجھے جنت کی حقدار عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا ضرور دکھائیے، اس نے کہا یہ سیاہ فام عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر کہنے لگی مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میری شرمگاہ سے کپڑا ہٹ جاتا ہے میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو صبر کر سکے تو اس کا ثواب جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے تیری صحت کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں لیکن میرے لئے دعا فرمائیں کہ بے پردگی نہ ہو، آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔“

تو مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کا اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ بدلہ جنت ہے۔ کہ جیسے فرمایا اگر صبر کر سکے تو اس کا ثواب جنت ہے۔ کیونکہ اس سیاہ فام عورت نے دنیا کی چند روزہ تکلیف برداشت کر کے اس کے عوض جنت کو حاصل کر لیا۔ یعنی فانی بیماری کے عوض ابدی مقام قرب اور رضا کو حاصل کیا اور اپنی تقدیر پر راضی ہوگئی۔

بیماری کے لئے دعا کرانا جائز ہے

فَادْعُ اللّٰهَ اَنْ لَا اَتَكَشَّفَ میرے لئے دعا فرما دیں کہ بے پردگی نہ ہو۔ بے ہوشی کی حالت میں بے اختیار بدن کا کھل جانا یہ نہ گناہ ہے اور نہ ہی معصیت مگر اس عورت کا دعا کروانا ایک فطری حیا و شرم کی وجہ سے تھا۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی میں ہمت ہو تو وہ رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرے تو یہ قرب الٰہی کا زیادہ ذریعہ بنتا ہے جیسے کہ اس عورت نے رخصت کے مقابلے میں عزیمت کو ترجیح دی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح بیماری کا علاج دوا کے ساتھ کروانا جائز ہے اسی طرح کسی اللہ والے سے دعا کروانا بھی جائز ہے۔

تخریج حدیث: أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، كِتَابُ الْمَرْضَى، بَابُ فَضْلِ مَنْ يُصْرَعُ مِنَ الرِّيحِ، وَصَحِيحُ مُسْلِمٍ، كِتَابُ الْبِرِّ، بَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ.

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو، اللہ جل شانہٗ کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے اور اللہ پاک ہم سے راضی ہوجائے، اس طرح کہ اس کے بعد کبھی ناراض نہ ہو۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


مرگی کی بیماری پر صبر کا اجر اور جنت کی ضمانت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور