تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر

( سوال جواب مجلس، 22 مئی 2024، مجلس نمبر 670 کا پہلا حصہ)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


سوال: السلام علیکم حضرت! میں نے ایک چیز نوٹ کی ہے کہ مجھے غلطی کا عین وقت پر پتہ نہیں چلتا، بعد میں پتہ چلتا ہے۔ پھر میں بہت پریشان ہوتی ہوں، صلاۃ التوبہ پڑھ لیتی ہوں، استغفار، لیکن پھر بھی دل عجیب سا ہوتا ہے کہ مجھے غلطی کا پتہ بعد میں کیوں چلتا ہے۔ گناہ کرنے کے بعد خیال آتا ہے، پھر توبہ بھی کر لیتی ہوں اور اب تو ہر روز رات کو سونے سے پہلے پڑھ لیتی ہوں کیونکہ جب سوچتی ہوں پورے دن کو تو کچھ نہ کچھ گناہ ہو چکا ہوتا ہے۔ آپ کی رہنمائی چاہیے۔

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)

جواب: اللہ اکبر۔ دیکھیں ایک تو ایسے گناہ ہوتے ہیں جو کہ انسان کو معلوم نہیں ہوتے۔ بہت سارے گناہ ہم سے ہو جاتے ہیں جو ہمیں پتہ نہیں ہوتا۔ تو مطلب علم نہ ہونے کی وجہ سے، وہ تو مطلب ہوتا ہے۔ تو اس پہ تو ایک مطلب استغفار ہے وہ جو ہے نا کرنا ہوتا ہے:

(أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهٗ عَمْدًا أَوْ خَطَأً سِرًّا أَوْ عَلَانِيَةً وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي أَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِي لَا أَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ سَتَّارُ الْعُيُوبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ)

اس پہ تو یہ استغفار پڑھنا چاہیے۔ لیکن شعوری توبہ کرنا چاہیے۔ شعوری توبہ سے مراد یہ ہے کہ انسان کو پتہ ہو کہ میں نے کیا غلطی کی ہے اور آئندہ اس کا سدِ باب کیا ہو۔ دیکھیں نا! یعنی ایک انسان ہے ٹھوکر لگتا ہے، ہر ایک کسی کو بھی لگ سکتا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس کو معلوم ہو جائے کہ یہاں پر ٹھوکر ہے۔

وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ سوات گیا تھا تو سوات میں ایک علاقہ ہے جو پورا کھٹا پٹھا علاقہ ہے۔ تو جو صاحب مجھے لے گئے تھے گاڑی میں تو اس کی گاڑی نیچے لگتی تھی، جیسے بعض گاڑیاں ایسی ہوتی ہیں۔ لیکن وہ چلتا تھا، اس کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ میں نے کہا کمال ہے یہ تو آپ کی گاڑی نیچے لگتی بھی ہے اور علاقہ بھی ایسا ہے۔ کہتے ہیں مجھے اس کے ایک ایک پتھر کا پتہ ہے، تو اس کے حساب سے میں چلتا ہوں۔

تو اس کا مطلب یہی شعوری توبہ ہے کہ انسان کو شعور ہو کہ میں کیا غلطی کر چکا ہوں اور اس کا سدِ باب کیا ہے۔ اکثر مجھ سے لوگ اپنی غلطیوں کی بات کرتے ہیں تو میں اس سے کہتا ہوں کہ آپ نے اس سے پھر کیا سیکھا؟ مطلب یہ ہے کہ دوبارہ ایسا نہ ہو تو اس کے لیے آپ نے کیا سیکھا؟ وہ بتا دو۔

تو مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا استحضار ہو کہ میں نے خدا کو جواب دینا ہے، تو ایسی صورت میں پھر ہم کیا کریں؟ مطلب یہ ہے کہ کس طریقے سے مطلب اپنے آپ کو بچائیں؟ تو غلطی ہونا یہ انسانی فطرت ہے، ہو سکتا ہے لیکن پھر دوبارہ رجوع کرنا اور اس سے پھر بچنے کی کوشش کرنا یہ پھر ماشاءاللہ انسان کے اندر جو روحانیت ہے وہ ایسے ہوتا ہے۔

بعض ساتھی مجھ سے پوچھتے ہیں نا کہ روحانیت نہیں ہے۔ میں نے کہا روحانیت یہی ہے۔ روحانیت کیا چیز ہے؟ ایک انسان کا اللہ پاک کے ساتھ جو تعلق ہے اس کو یاد ہو اور اس کے مطابق وہ چلے، بس یہ روحانیت ہے۔ اور نفس کے تقاضے جن کو یعنی یاد ہوں اور نفس کے مطابق چلے یہ نفسانیت ہے۔ تو نفسانیت کا ضد جو ہے وہ روحانیت ہے۔ جو بھی انسان مطلب نفس کی خواہشوں کے مطابق چلتا ہے تو وہ نفسانیت پہ چل رہا ہے اور جو اس کے ضد پہ چل رہا ہے کہ جو اس کی نفسانیت ہے اس کا مقابلہ کرتا ہے، اس کو نہیں ہونے دیتا اور تو اس کا۔۔۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ جو ہوتے ہیں نا وہ ان چیزوں کے ساتھ کچھ مافوق الفطرت چیزیں وابستہ کر لیتے ہیں جیسے کشفیات یا اس قسم کے مطلب کچھ نظر آنا یا کچھ مطلب محسوس ہونا، یہ چیزیں مطلب وہ کرتے ہیں۔

حالانکہ یہ چیزیں اس کے ساتھ ضروری نہیں ہیں۔ صحابہ کرام کتنے تھے جن کو یہ چیزیں ہوتی تھیں؟ وہ تو بالکل ہی خالص مطلب جو ہے نا وہ زندگی گزارتے تھے یعنی بالکل یعنی عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ لیکن ان تمام چیزوں کے استحضار کے ساتھ کہ کون سی چیز اللہ کو پسند ہے وہ ہم نے کرنی ہے اور کون سی چیز اللہ پاک کو ناپسند ہے اس کو ہم نے نہیں کرنا۔ بس سب سے بڑی روحانیت یہی ہے۔ اس سے زیادہ روحانیت اور کیا ہوتی ہے؟ ایک آدمی کو ساری دنیا کے کشفیں ہو رہی ہیں، مجھے بتاؤ، اور اس کو نماز کے اندر بڑا مزہ آ رہا ہے اور یہ کیا ہے، لیکن گناہوں سے نہیں بچ رہا۔ دوسرا آدمی کو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا اور نہ اس کو کسی چیز میں مزہ آتا ہے لیکن وہ گناہ سے بچتا ہے، بتاؤ کون کامیاب ہے؟ جو گناہ سے بچ رہا ہے وہ کامیاب ہے۔ تو بس یہی بات ہے مطلب یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں میں تو ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ تصوف کا نچوڑ۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ یہ چیز ہے۔ اگر ایسا معلوم ہے تو بس پھر اس کے بعد ٹھیک ہے پھر آپ مطمئن رہیں پھر عمل کی دیر ہے، کنسیپٹ (Concept) صحیح ہے، مفہوم صحیح ہے اب صرف عمل کی دیر ہے تو پھر عمل کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نصیب فرما دے۔

سوال: السلام علیکم حضرت جی! حضرت میرا وظیفہ چھ ہزار مرتبہ اللہ اللہ کا ذکر زبان پر، تین مرتبہ آیت الکرسی اور دس منٹ اللہ اللہ کا مراقبہ دل پر تھا۔ حضرت جی اس بار مراقبہ کرتے وقت دو مرتبہ دل میں اللہ اللہ کا ذکر محسوس ہوا ہے۔ اب میرے لیے آگے کیا حکم ہے کوتاہیوں کی معافی چاہتا ہوں۔

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)

جواب: اب جو ہے نا آپ اس طرح کر لیں کہ دس منٹ کی بجائے پندرہ منٹ کا مراقبہ دل پر کر لیا کریں، اللہ اللہ کا۔

Question: Assalam-o-Alaikum Warahmatullah Wabarakatuh. May Allah Ta'ala preserve you dear Sheikh and grant me the Taufiq to be a true Mureed. I was hoping to get guidance on a question: How can a Salik protect what he gains from the faiz and sohbat of his Sheikh and the Khanqah? Jazakallah.

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)

جواب: ماشاءاللہ بڑا اچھا سوال ہے کہ جو فیض شیخ کی خانقاہ سے لیا ہو یا ان کی صحبت سے لیا ہو اس کو باقی کیسے رکھا جائے؟ بڑا اچھا سوال ہے۔ سب سے اہم اس میں یہ بات ہے کہ صحبتِ ناجنس سے بچے۔ یعنی جو شیخ کے مزاج کے خلاف لوگ ہوں، خانقاہ کے مزاج کے خلاف لوگ ہوں، ان کی صحبت سے بچے۔ کیونکہ ظاہر ہے وہی ہے نا مطلب وہ اس کو معلوم۔۔۔ یعنی وہ کرے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا وہ ذرا سی بات جو حاصل ہے تصوف کا یہ ہے کہ جس طاعت میں سستی محسوس ہو، سستی کا مقابلہ کر کے اس طاعت کو کرے۔ اور جس گناہ کا تقاضا ہو، تقاضے کا مقابلہ کر کے اس گناہ سے بچے۔ جس کو یہ بات حاصل ہو گئی اس کو پھر کچھ بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہی بات تعلق مع اللہ پیدا کرنے والی ہے اور یہی اس کے محافظ ہے اور یہی اس کے بڑھانے والی ہے۔ اب بتاؤ کوئی چیز رہ گئی ہے؟

اس کی میں آپ کو وجہ بتاؤں۔ انسان کے اندر دو چیزیں ہیں، انسان کے اندر ہر نفس کے اندر دو چیزیں ہیں: تقویٰ کی صلاحیت بھی ہے اور مطلب فجور کی بھی ہے۔ اب فجور کی وجہ سے گناہ کا تقاضا ہوتا ہے، تو اس وقت اس کو دبائے، یہ مجاہدہ ہے۔ اس کو دبائے اور اس کو نہ ہونے دے۔ اور جو انسان کے اندر خوبیاں ہیں، صلاحیتیں ہیں، ان صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ اس کے لیے فاعلات ہیں۔ یعنی فاعلات جو ہیں وہ مطلب ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہیں اور رزائل کو دبانے کے لیے مجاہدات ہیں۔ تو بس اگر کسی کو یہ حاصل ہو تو دونوں ذریعے ان کو حاصل ہیں اور اصل مقصد بھی ان کو حاصل ہے۔ لہذا مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ سبحان اللہ۔

ماشاءاللہ تو ایک تو میں عرض کر رہا تھا کہ آپ یعنی صحبتِ شیخ کا اثر باقی رکھنے کے لیے صحبتِ ناجنس سے بچیں۔ دوسرا جو ابھی میں نے بات عرض کی کہ گناہ کا تقاضا ہو تو اس کا مقابلہ کر کے اس سے بچے اور مطلب یہ ہے کہ جو خیر کی چیز، مطلب وہ انسان کے اندر صلاحیت ہو، اس کو اجاگر کر کے اس کو کرے۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ یہ متحرک رہے گا اور اس کی برکت سے وہ کہتے ہیں نا حرکت میں برکت ہے، ماشاءاللہ وہ چیز آگے بڑھے گی جیسا حضرت نے فرمایا کہ یہ چیز اس کو پیدا کرنے والی، یہ چیز بڑھانے والی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔

یا اللہ یا کریم۔

Assalam-o-Alaikum Warahmatullah Wabarakatuh. I am sister of فلاں from Airport Housing Society Rawalpindi. Alhamdulillah, my husband and I are going to perform Hajj. Our stay will be from 14 May to 25 June. Please pray for ease and acceptance of our visit over there. Ameen.

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)


جواب: (آمین)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت جی جب کوئی ہمارے ساتھ برا کرے اور برا سمجھے اس کے جواب میں ہم ان کے ساتھ اچھائی کریں، ایسی صفت میں خود میں کیسے پیدا کروں کہ جب کوئی مجھے برا سمجھتا ہے تو میں بھی ان کو برا سمجھتی ہوں، ان سے نفرت کرتی ہوں۔ حضرت اس انتقام کے مادے کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)

جواب: بالکل ختم کرنا تو ممکن نہیں، یہ تو ناممکن ہے، یہ تو ہمارے اندر یہ چیزیں بلٹ ان (Built-in) ہیں۔ لیکن ان کے تقاضوں کا مقابلہ کر کے ان کو روکا جا سکتا ہے۔ تو بس یہ ہے کہ اگر کوئی اس قسم کی بات ہو، تو سب سے بڑی بات ہے جن کو آپ برا سمجھتی ہے تو وہ سارا برا نہیں ہوتا، اس کی کچھ چیزیں بری ہوتی ہیں۔ اس بری چیز کو تو برا سمجھیں، اس کو برا نہ سمجھیں، اس بری چیز کو برا سمجھیں اور اس کی جو اچھی چیزیں ہیں وہ اچھی سمجھیں۔ اور فیصلہ اپنے اوپر نہ چھوڑیں کیونکہ کچھ چیزیں اچھی ہوں، کچھ چیزیں بری ہوں تو کون فیصلہ کرے گا؟ آپ کو کیا سارے معلومات ہیں؟ جب معلومات نہیں تو فیصلہ اللہ پہ چھوڑنا پڑے گا نا۔ تو جب اللہ پہ فیصلہ چھوڑنا ہے تو پھر تم خود تو فیصلہ کر نہیں سکتے ہو۔ لہذا اس کو برا نہ کہو، ہاں یہ کہہ دو کہ اس کی یہ چیز بری ہے۔ تو اس کے لیے وجوہات ہیں مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جیسے کوئی شخص جھوٹ بول رہا ہو تو آپ کہتے ہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے اس کا ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن ممکن ہے وہ لوگوں کی خدمت کر رہا ہو، کسی وقت والے دین داروں کی خدمت کر رہا ہو یا کوئی اور۔۔۔ کوئی اور اچھی صفت ہو، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی اچھی صفت کو بھی تو مانیں گے نا۔ اگر بری صفت مانتے ہیں تو اچھی بھی مانیں گے۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میں فلاں کے گھر سے میسج کر رہی ہوں، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ان شاءاللہ۔ فیملی میں کچھ بہت قریبی رشتہ دار تکلیف دیتے ہیں، اگر خاموش رہوں تو زیادہ پریشان کرتے ہیں اور میں کڑھتی رہتی ہوں، اگر جواب دوں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ زیادتی نہ کر جاؤں اور میں اپنی صلاحیتیں ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ ان سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہوں تو کینہ رکھنے سے ڈر لگتا ہے صلہ رحمی نہیں کر رہی ہوں۔ اپنا دل صاف کر کے چلتی ہوں تو پھر کوئی تکلیف دہ بات سن لیتی ہوں تو سب زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ آپ رہنمائی فرمائیں میں کیا کروں اور سب سے بڑی آزمائش ہے کہ ان سے بدلہ بھی لے سکتی ہوں، عجیب کشمکش ہے۔ بہت معذرت آپ کا بہت قیمتی وقت لیا۔ جزاک اللہ خیرا احسن الجزآ

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)

جواب: سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ میرے خیال میں آپ کو بھی علم ہوگا کہ ایک صحابی نے اس قسم کی شکایت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ہمارے خاندان کے جو لوگ ہیں وہ جن کے ساتھ ہم اچھا کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ برا کرتے ہیں۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ ہاں جی! اگر ایسی بات ہے تو پھر تو مجھے پورے الفاظ یاد نہیں، مفتی صاحب آپ کو یاد ہیں؟ (مفتی صاحب: اگر آپ بھی ایسا ہی کریں تو آپ میں اور ان میں فرق کیا ہے) جی بالکل ہاں! اور مطلب یہ ہے کہ آپ جو ہے نا ظاہر ہے اس کے بدلے میں اچھا کریں۔ تو وہ یہ ہے کہ میرے خیال میں ہمیں جو ہے نا وہ ڈفرنٹ (Different) ہونا چاہیے۔ اور جس کو ہم کہتے ہیں نا "دین پھیلا ہے کردار سے، گفتار سے نہیں پھیلا"۔ اور کردار یہی ہے کہ جو عین وقت پہ ظاہر ہو جائے، مطلب موقع کے مطابق ظاہر ہو جائے۔

علم بھی وہی اصل ہے جو استحضار ہو، مطلب اس کا عین موقع پہ، اصل علم وہی ہے۔ ورنہ کتابیں تو الماریوں میں پڑی ہوتی ہیں، وہ تو الماریوں میں کتابیں وہ علم ہے نا، وہ تو آپ کو حاصل نہیں ہے۔ لیکن جو آپ کو مستحضر ہے، جس وقت آپ کو ضرورت پڑے تو آپ کو یاد ہو، آپ کو معلوم ہو کہ اس وقت کیا کرنا ہے، تو وہ علم ہے۔ اس طرح عمل بھی وہی ہے جو عین موقع پہ ہو۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ماشاءاللہ اگر آپ ایسا کر رہی ہیں کہ آپ ان کا برا نہیں سوچ رہی ہیں تو آپ کو مبارک ہو، الحمدللہ آپ صحابہ کے نقشِ قدم پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید اس کو بڑھائے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ جیسے میں نے عرض کیا نا کہ ان کی کچھ اچھی باتیں بھی ہوں گی، ان کی اچھی باتوں کو اپنے ذہن میں لایا کریں اور ظاہر ہے اس سے جو ہے نا ماشاءاللہ یعنی وہ کچھ کم ہوگا اور بات یہ ہے کہ خود اپنی طرف سے ان کے حقوق تلف نہ کریں۔ اگر ان کی وجہ سے ہو رہا ہے تو پھر وہ ذمہ دار ہیں۔ ظاہر ہے پھر آپ ذمہ دار نہیں ہیں، لیکن آپ ان کے حقوق کو تلف نہ کریں، مطلب جو ان کے حقوق ہیں وہ ان کو ادا کرتی رہیں اور جو مطلب فرض ہے وہ نبھاتی رہیں۔ البتہ جو ان کی طرف سے کمزوری ہو تو پھر یہ ہے کہ وہ معاملہ اللہ کے حوالے کر لیا کریں، اگر معاف کرے گی تو اس سے ماشاءاللہ آپ کا مرتبہ بلند ہوگا اور اگر معاف نہیں کریں گی تو پھر اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے کہ اس کے ان کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ بہترین بدلہ تو یہی ہے کہ مطلب جو ہے نا انسان اس کو معاف کر لے اور اللہ پاک سے اس کے بدلے میں خود معافی چاہیں کہ یا اللہ میرے گناہ بھی معاف کر دے۔

اور یہ بہترین وسیلہ ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے کا۔ حدیث غار ہے اس کے ساتھ ملتا جلتا ہے نا، تو اس اس وسیلے کے تو سارے لوگ قائل ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ اپنا اس عمل کا اگر آپ حوالہ دیں تو یہ مطلب بہترین وسیلہ ہے ان شاءاللہ۔

سوال: حضرت اقدس محبی و محبوبی مد ظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا وحدت الوجود میں ڈبکی لگانا کی مدت ایک خاص وقت ہوتا ہے؟

جواب: اس میں میں نے کہ جب اللہ پاک آپ کو اس سے نکالے تو پھر اللہ کے کام میں ہم کیا کہ سکتے ہیں، وہ تو اللہ پاک جب نکالے، اس وقت فوری طور پر نکالے یا کچھ دیر بعد نکلےکچھ زیادہ وقت لگا کر نکالے وہ تو پھر اس پر چھوڑنا چاہیے۔

سائل: کیا سالک کو اس حال میں اس کا ادراک ہوتا ہے کہ یہ منافی حال ہے جس کا ادراک اسے بالکل صحو میں ہوتا ہے؟ مطلب یہ دیکھیں نا ایک شخص ہے بلکل مجذوب ہوگیا اس کا عقل ہی کام نہیں کررہی وہ تو پھر مرفوع القلم ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ حالت جذب میں ہوتے لیکن ان کا کنٹرول بھی ہوتا ہے تو ایسی حالت میں تو پھر ان کو ادراک ہو سکتا ہے۔

جواب: ہاں جی جب باہر نکل آتا ہے تو اس کو پتا چلتا ہے۔ ہاں اگر کچھ صحو باقی ہو تو الگ بات ہے

سائل: نیز کیا سالک کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ کثرتِ اغیار سے کٹ کر یعنی نفس کے زور سے وحدت الوجود کی طرف چاہے اور صرف اللہ ہی چاہنا چاہے مگر پھر صحو کی طرف آئے اور مگر پھر عود کر جائے گناہوں کی طرف؟ مگر وہ قلب کا اللہ کریم کی طرف متوجہ اور ہمہ تن مرکوز رہنے کی کمی پانا، کیا یہ ذکر میں رسوخ کی کمی اور اپنے اخلاص میں کمی کی وجہ سے ممکن ہے؟

(سوال جواب مجلس 22 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 670)

جواب: اگر مکمل فنائیت نہ ہو چکی ہو، فنا فی اللہ نہ ہو چکا ہو تو عود ممکن ہے۔ وہ تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا ہے کہ مطلب جو ہے نا جب تک انسان کی مکمل یعنی مطلب جس کو کہتے ہیں نا فنائیت نہ ہو چکی ہو، فنا فی اللہ نہ ہو چکا ہو، یعنی فنا فی الصفات ہو فنا فی الذات نہ ہو، تو پھر عود ممکن ہے۔

اب فنا فی الذات اور فنا فی الصفات میں جو فرق ہے وہ میرے خیال میں شاید ہم لوگوں کو آنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا آدمی عاشق ہو۔ جیسے اللہ پاک رازق ہے، اب کسی کو رزق مل رہا ہے تو اس وقت تک تو ماشاءاللہ ٹھیک ہے بس اللہ کا بندہ ہے۔ لیکن جیسے تھوڑی سی تنگی آ جائے وہ ساری باتیں کافور ہو جاتی ہیں مطلب ختم ہو جاتی ہیں، گلہ شکوہ کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے اللہ کی ذات میں فنا نہیں ہوا تھا، یہ تو اللہ کی صفت میں فنا ہوا تھا۔ ٹھیک ہے نا! اور اللہ پاک کی صفت میں اگر اللہ کی ذات میں فنا نہ ہو اور واپس میں اگر آتا ہے تو سب سے پہلے اپنی نفی نہیں ہوتی، اپنے نفس کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو لہذا یہ چیز دائمی نہیں ہے لیکن جس وقت فنا فی الذات ہو جاتا ہے پھر ماشاءاللہ پھر اس کے بعد پھر یہ چیزیں۔

کہتے ہیں حضرت مجذوبؒ فرماتے ہیں کہ بھئی زبردستی بھی خیال میں پھر نہیں آتی نا۔ زبردستی بھی خیال میں پھر نہیں آتی۔ تو یہ پھر ہے بات۔

سائل: کیا دوبارہ ڈبکی وحدت کے بحر میں لگانا ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن ہے؟ جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ مجھے حیرت کی بات ہے کہ وحدت الوجود کوئی خود قصداً تو کر نہیں سکتا۔ قصداً تو نہیں کر سکتا۔ مطلب وہ تو ہو جاتا ہے، ہوتا ہے، ہوتا ہے مطلب کیا نہیں جاتا۔ البتہ اس کا جو راستہ ہے "سیر الی اللہ"، اس پہ چلتا ہے تو اس میں یہ چیز آ جاتی ہے۔ بعض پہ جلدی آتی ہے، بعض پہ دیر سے آتی ہے۔ لیکن یہ ہے کہ خود تو کوئی نہیں کہتا کہ میں چلو جی میں وحدت الوجود میں تھوڑا سا چلا جاؤں۔ وہ پتہ نہیں اس طرح تو میں نے نہیں کہیں سنا کہ کوئی اپنی مرضی سے وحدت الوجود میں جاتا ہو۔ بلکہ وہ حضرات تو پناہ مانگتے ہیں اس سے۔ وہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایسا ہوتا تھا، وہ بعض لوگ کہتے تھے حضرت آپ تو ایسا کہتے ہیں۔ اچھا! جب ایسا ہونے لگے تو پھر مجھے مارو، میں تو زندیق ہو گیا ہوں۔ تو اب چونکہ منجانب اللہ تھا یہ معاملہ لہذا انہوں نے تلواریں چلائیں لیکن ان کے جسم سے گزر گئیں جیسے کوئی ٹرانسپیرنٹ (Transparent) چیز ہو۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ تو منجانب اللہ پروٹیکشن (Protection) بھی تھی۔ تو یہ چیزیں تو اپنی مرضی کی نہیں ہوتیں۔

سائل: جو تجلیات ہوتی ہیں تو وہ قلب و روح پر وارد ہوتی ہیں تو ایک بجلی جیسا یا پھر غائب؟

جواب: جی، مطلب یہ ہے کہ وہ جو ہے نا وہ تجلیات جو ہوتی ہیں ان کے سامنے انسان مغلوب ہو جاتا ہے اور پھر اس کے بعد مطلب غائب ہو جاتا ہے، برقی تجلی اس کو کہتے ہیں، تجلی برقی۔

سائل: تو یہ اگرچہ اللہ کا دیدار تو نہیں مگر اس کو تجلی تو ہے تو اس سے پھر نفس کی طرف عود۔۔۔

جواب: (إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)، عجیب بات کر رہے ہیں۔ جب مطلب ہے برقی ہے، وہ چلی گئی تو پھر تو وہ اپنے اصلی حالت پہ آ گیا نا۔ البتہ یہ بات ہے کہ اگر اس کی اصلاح ہو چکی ہو، یعنی اس کا نفس مطلب جو ہے نا وہ ہو چکا ہو تو پھر اس کے بعد وہ واپس عود نہیں آتا، عود کر نہیں آتا۔

مطلب یہ ہے کہ یہ تو یعنی ایسا ہے کہ کسی عمل سے، اب دیکھو کسی کو لیلۃ القدر نظر آ جائے۔ تو اس میں بھی تو تجلیات ہوتی ہیں نا، وہ تجلی آسمان پہ جو کرتے ہیں وہی مطلب تجلیات ہوتی ہیں۔ تو لیکن بعد میں اس کے بعد پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ واپس ہو جائیں مطلب گناہوں کی طرف آ جائیں؟ کیا ہوتا نہیں ہے؟ تو یہ مطلب یہ ہے کہ یہ تو ایک ہی بات ہے اپنے آپ کو کنفیوز (Confuse) نہ کریں۔ آپ یہ کہہ دیں کہ میں میرا ان چیزوں سے کام ہی نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود ہوتی ہیں اور خود بخود چلی جاتی ہیں۔ میرا کام اپنا اپنے آپ کو اللہ کا بندہ بنانا ہے بس۔ یہ سوچیں گے تو پھر بات بنے گی۔ اگر آپ نے کچھ اور بننا ہو تو وہ ہمیں نہیں آتا۔ ہمیں تو صرف ایک ہی چیز آتی ہے کہ اللہ کا بندہ بننا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندہ بننا ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں یہ بات ہے کہ اللہ کا جو حکم ہے میں نے پورا کرنا ہے۔ تو جس وقت میں ہوش میں ہوں تو مجھے اللہ پاک کا حکم پورا کرنا ہے اور اس کے لیے اپنے نفس کو مارنا ہے۔ نفس کو مارنے کا مطلب رزائل کو دبانا ہے۔ رزائل کو دبانے کے لیے جو مجاہدات ہیں وہ کرنے ہیں۔ اپنے شیخ کی بات ماننی ہے۔ باقی اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے غیر ارادی طور پر، غیر اختیاری طور پر، اس کے ہم نہ مکلف ہیں نہ ہم ذمہ دار ہیں۔ کب ہوتے ہیں کب نہیں ہوتے، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے کیونکہ ظاہر ہے ہماری بات ہی نہیں ہے، ہمارا کام ہی نہیں ہے۔ جو کام جس کا ہے تو وہی اس کو جانے گا نا اور وہی اس کو سمجھے گا اور وہی اس کو کرے گا۔

تو لہذا ہمارا جو کام ہے ہم وہ کریں۔ "کارِ خود کن کارِ بیگانہ مکن"۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اکثر اس پہ فرماتے ہیں بھئی اپنا کام کرو دوسروں کا کام نہ کرو۔ تو ہمارا کام کیا ہے؟ اپنی بندگی کرنی ہے، اللہ کی بندگی۔ اللہ کی بندگی کرنی ہے، اللہ پاک نے یہ بندگی اتنی اونچی نسبت بنائی ہے کہ ہم جو کلمہ شہادت پڑھتے ہیں: (أَشْهَدُ أَنْ لآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ)۔ یعنی پہلے عَبْدُهٗ آتا ہے پھر بعد میں رَسُولُهٗ آتا ہے۔ کیونکہ عَبْدُهٗ سب کے ہاں ہے، سب کی ہے اور رَسُولُهٗ ہر ایک نہیں ہے۔ (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ)۔ لہذا ہمیں اپنی بندگی ظاہر کرنی ہے۔

میرا خیال میں اگر اس ادھر ادھر کی چیزوں سے ہم ہٹ جائیں تو ذرا جلدی انسان کو وصول ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ حضرات کو اجازت ملی تھی لیکن فرمایا تھا ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ اجازت کسے کہتے ہیں، یعنی وہ نسبت کسے کہتے ہیں ہمیں پتہ بھی نہیں تھا۔ اور کون اجازت دے رہے ہیں؟ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اجازت دے رہے ہیں اور حضرت حاجی صاحب دے رہے ہیں۔ تو اب دیکھو کیا حضرت فرماتے ہیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کہ اگر کسی بند ڈبے میں بیٹھ جاؤ اور کچھ بھی نظر نہیں آتا، لیکن آپ اپنے اسٹیشن پہ پہنچ جائیں تو کام ہو گیا۔ اور اگر کھڑکیاں کھلی ہوں اور آپ ادھر ادھر باہر نظارے کرتے جائیں اور نظاروں میں گم ہو کر نیچے اتر کے جو ہے نا وہ گاڑی مس (Miss) کر لیں تو پھر کیا؟ تو ایسی چیزوں کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ دیدار اللہ پاک کا یہ اُدھر ہے، یہاں نہیں ہے۔ یہ بس صاف بات ہے مطلب یہ یہاں پر دیدار ہو نہیں سکتا۔ آپ موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ تو نہیں ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام سے جو فرمایا کہ: (لَنْ تَرَانِيْ)۔ تو اس وجہ سے جو ہے نا مطلب ہے کہ یہ بات تو نہیں ہے۔ یہ تو میں آپ کے نہیں کہہ رہا ہوں، میں ان لوگوں کو کہہ رہا ہوں جو ایسا سمجھتے ہیں۔ آپ تو ایسا نہیں سمجھتے لیکن مطلب یہ ہے کہ میں سب کو چونکہ بات سنا رہا ہوں نا کہ بھئی یہ معاملہ تو یہاں نہیں ہے، جب نہیں ہے تو پھر ان کے بارے ان کا سوچو بھی نہیں اور باقی جو یہ بات ہے بندگی، یہ اصل بات ہے۔ ابھی میں نے تھوڑی دیر پہلے جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ بتایا ہے کہ اصل بات وہ کیا ہے؟ وہ یہی ہے کہ جو کوئی رذیلہ ہے سر اٹھائے، اس کو دبائیں اور اس کو نہ ہونے دیں اس کام کو۔ اور جو کوئی فضیلت ہے، جو کوئی اچھی بات ہے وہ ہونا چاہیے تو اس کو ہمت کر کے اس کو کریں اور یہی ساری چیز ہے۔ تو میرا تو خیال ہے کہ اس میں سب چیز آ جاتی ہیں۔


تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر - مجلسِ سوال و جواب