مسئلہ نسخ: احکامِ الٰہی میں تبدیلی کی حکمت اور تکمیلِ دین

درس نمبر 51: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 106 تا 107۔ (اشاعتِ اول)،19 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

تکمیلِ دین اور نبوتِ محمدی ﷺ پر نسخ کا اختتام

اجتہادی اختلافات کی حقیقت اور ثواب

تحویلِ قبلہ اور جغرافیائی سمتوں کی وضاحت

قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ کا تصور (آیت 106 کی تفسیر)

اصول (عقائد) اور فروع (عملی احکام) میں فرق

احکام میں تبدیلی پر غیر مسلموں کے اعتراض کا جواب

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُـنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْـرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۗ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (106)

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَـهٗ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۗ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْـرٍ (107)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ.

ہم جب بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی (آیت) لے آتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ مختلف زمانوں کے حالات کی مناسبت سے شریعت کے فروعی احکام میں تبدیلی فرماتے رہے ہیں۔ اگرچہ دین کے بنیادی عقائد مثلاً توحید، رسالت، آخرت وغیرہ ہر دور میں ایک رہے ہیں، لیکن جو عملی احکام حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے ان میں سے بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں تبدیل کر دیئے گئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان میں مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع میں نبوت عطا ہوئی تو آپ کی دعوت کو مختلف مراحل سے گزرنا تھا، مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے احکام میں تدریج اختیار فرمائی۔ کسی وقت ایک حکم دیا گیا، بعد میں اس کی جگہ دوسرا حکم آ گیا، جیسا کہ قبلے کے تعین میں احکام بدلے گئے جن کی کچھ تفصیل آگے آیت 115 میں آ رہی ہے۔ فروعی احکام میں ان حکیمانہ تبدیلیوں کو اصطلاح میں ’’نسخ‘‘ کہتے ہیں۔

یہودیوں نے بالخصوص اور دوسرے کافروں نے بالعموم اس پر یہ اعتراض اٹھایا کہ اگر یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ان میں یہ تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ یہ آیت کریمہ اس سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بدلتے ہوئے حالات میں یہ تبدیلیاں کرتے ہیں، اور جو حکم بھی منسوخ کیا جاتا ہے اس کی جگہ ایسا حکم لایا جاتا ہے جو بدلے ہوئے حالات میں زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا ہے، یا کم از کم اتنا ہی بہتر ہوتا ہے جتنا بہتر پہلا حکم تھا۔

اصل میں اللہ جل شانہ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم نماز پڑھیں تو اللہ پاک کو تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے فائدے کے لیے ایک نظام وضع فرمایا ہے۔ اب یہ ہے کہ فائدہ... مثال کے طور پر... کسی کو میں فائدہ پہنچانا چاہتا ہوں، تو میرے پاس فروٹ (Fruit) ہے، تو میں کبھی اس کو آم دیتا ہوں، کبھی اس کو میں سیب دیتا ہوں، کبھی اس کو میں کیلا دیتا ہوں، تو کیا خیال ہے وہ... اگر آم دے دیا تو بس آم ہی دینا چاہیے؟ ظاہر ہے یہ تو بات نہیں ہے کیونکہ اللہ پاک کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہمارے فائدے کے لیے جو چیزیں ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں اللہ پاک وہی دیتے ہیں۔

یہ تبدیلیاں آپ ﷺ تک ہوئی تھیں، دین کے اندر جو یہ تبدیلیاں تھیں، آپ ﷺ تک ہوئی تھیں۔ کہ ابراہیم علیہ السلام، پھر اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے بعد پھر عیسیٰ علیہ السلام، پھر آپ ﷺ جب تشریف لائے تو یہ ساری تبدیلیاں جتنی بھی گزشتہ تھیں ان میں سے جن کو باقی رکھنا تھا رکھا اور جن کو باقی نہیں رکھنا تھا ان کو بھی تبدیل کر لیا اور اب یہ جو مکمل دین ہے وہ آپ ﷺ کے لیے ہو گیا، یہ آخری وقت میں: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔

اب ذرا دیکھو "أَكْمَلْتُ" والا لفظ ہے نا، یہ بذاتِ خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ میں نے مکمل کر دیا تمہارے لیے تمہارا دین۔ یعنی پہلے مکمل نہیں تھا، آرہا تھا ابھی۔ اس وقت مکمل ہو گیا۔ اب جب مکمل ہو گیا اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اب اگر اس میں مختلف چیز نظر آتی ہے وہ صرف اجتہادی طور پر نظر کا فرق ہوتا ہے۔ وہ تبدیلی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی، یہ صرف نظر کا فرق ہوتا ہے کہ ایک کام کو ایک شخص ایک طرح سمجھتا ہے دوسرا دوسری طرح سمجھتا ہے۔ اور اللہ پاک نے اس میں وسعت رکھی ہے کہ اگر اس کی نیت صحیح ہو اور علم صحیح ہو... یعنی اس نے کوئی کمزوری نہ دکھائی ہو علم سیکھنے میں اور نیت بھی اس کی صحیح ہو تو اس کو بھی اللہ پاک مان لیتا ہے اجتہادی... اس کے لیے قانون یہ وضع ہو گیا کہ اگر صحیح ہے تو دو ثواب اور اگر صحیح نہیں ہے، مطلب دوسرا ہے تو پھر ایک ثواب۔ اس میں یعنی گناہ کوئی نہیں ہے۔

تو وہ طریقہ ہے لیکن اس سے گزشتہ یہ باقاعدہ تبدیلیاں ہوتی تھیں۔ کیونکہ جیسے مثال قبلہ ہے۔ اب مدینہ منورہ میں قبلہ شمال کی طرف تھا اور مکہ مکرمہ جنوب کی طرف ہے۔ تو جب تبدیل ہو گا تو بالکل 180 ڈگری (180 Degree) ریفرنس (Reference)۔ ہمارے ہاں تو 45 ڈگری (45 Degree) ہے نا یہ... بلکہ 45 سے بھی کچھ کم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بیت المقدس اور مکہ مکرمہ کا۔ تو یہ تقریباً مغرب ہی کی سمت میں ہے، مغرب سے تھوڑا سا شمال کی جانب ہو گا۔ تو یہ بات ہے کہ... اکثر لوگ ہم میں... یہاں پر بھی غلطی ہے، یہاں لوگ شمال کو قبلہ اول سمجھتے ہیں۔ یہ شمال نہیں ہے۔ شمال میں ہمارا کون ہے؟ شمال میں چائنا (China) ہے یا رشیا (Russia) کا جو بارڈر ہے تقریباً وہ شمال میں ہے۔ تو اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قبلہ اول ادھر ہے تو ان کا قبلہ اول کوئی اس طرف تو نہیں ہو گا۔ تو وہ بھی مغرب کی جانب ہی ہے، آپ دیکھیں نا یہ ترکی کس طرف ہے؟ ہاں ترکی مغرب... تو ترکی تو اس سے اوپر ہے، تو ظاہر ہے کیسے وہ ہو گیا، ترکی تو بیت المقدس سے اوپر ہے شمال کی طرف ہے اور... (سامع: شمال مغرب) شمال مغرب، بس شمال مغرب تقریباً یعنی اس کا ہے۔ تو اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں پر 180 ڈگری Difference ہے۔ اور مسجد قبلتین میں یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ وہ نشانی جو قبلہ اول کا تھا وہ بالکل دروازے کے پاس ہے اور وہ جو ابھی موجودہ ہے وہ ظاہر ہے بالکل محراب ہے، تو یہ Opposite ہے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.



مسئلہ نسخ: احکامِ الٰہی میں تبدیلی کی حکمت اور تکمیلِ دین - درسِ قرآن - دوسرا دور