الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ.
أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
بینائی کے عوض جنت
(34) ﴾ وَ عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُولُ: اِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِى بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ، يُرِيْدُ عَيْنَيْهِ ﴿ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) میں مبتلا کر دوں (یعنی بینائی جاتی رہے) اس پر وہ صبر کرے ان کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔“
نابینا کو جنت کی خوشخبری
إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِى بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ.
جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) میں مبتلا کر دوں (یعنی بینائی ختم کر دوں) اس پر وہ صبر کرے تو اس کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔
اس حدیث سے ایک نابینا صابر شاکر شخص کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص بڑے احترام کا مستحق ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ بے اعتنائی کرنا بڑی محرومی کی بات ہے۔
نابینا کو یہ فضیلت اس لئے دی گئی کہ وہ دنیائے فانی سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا اس پر اللہ کی طرف سے اس کو یہ انعام دیا جا رہا ہے کہ یہ شخص اپنے تقدیر پر راضی ہوگا تو اب دنیائے فانی کے نفع کے عوض میں اس کو جنت کے ہمیشہ کے نفع سے نوازا جائے گا۔
آنکھوں کی بینائی پر یہ فضیلت خاص کیوں ہے؟ سب سے اہم عضو انسان کا آنکھ ہی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یہ فضیلت دی گئی۔ آنکھوں کا نہ ہونا دنیا میں سب سے بڑی محرومی ہے۔ اللہ جل شانہ جزا بھی بقدر مشقت عطا فرماتے ہیں اس لئے اس بڑی محرومی کی جزا جنت کی صورت میں دی جا رہی ہے۔
ہر اک مصیبت کی تہہ میں چھپی رہتی ہے راحت بھی
شب تاریک کے دامن سے ہوتی ہے سحر پیدا
اصل میں اللہ جل شانہٗ ہمیں جو نعمتیں عطا فرماتے ہیں، تو اس پر شکر کرنے کی بارے میں جو بات ہوئی ہے، وہ پہلے گزری ہے اس سے کہ اپنی ان نعمتوں پر جو شکر ادا کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے:
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں ان کو مزید بڑھاؤں گا اور اگر انکار کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت شدید ہے۔
تو اس کے مقابلے میں اگر کوئی تکلیف پیش آتی ہے، کوئی مصیبت پیش آتی ہے، تو اس کا بھی قرآن پاک میں بہت بڑا اجر بتایا گیا ہے۔
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
إِنَّا لِلَّهِ کا مطلب یہ ہے کہ بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں۔ تو پھر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ بے شک یہی وہ لوگ ہیں کہ جن پہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت، یعنی آ رہی ہے، اتر رہی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو کہ ہدایت پانے والے ہیں۔
تو اس میں صبر والے جو ہیں نا، جو لوگ ہیں ان کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ اور یہ دونوں جو ہیں نا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی نعمتیں ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں صبر کی اونٹنی پر سوار رہوں یا شکر کی اونٹنی پر سوار رہوں۔ یعنی دونوں چیزیں بہت بڑی نعمت ہیں۔ تو اگر کسی کو اللہ نے نعمت دی ہے اس پر شکر کرے اور اگر کسی کو تکلیف... کسی کو کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کر لے۔
تو یہاں پر ایک خاص قسم کی تکلیف کا بیان کیا گیا ہے اور وہ تکلیف ہے آنکھوں کی بینائی کا جاتے رہنا۔ واقعی بہت بڑی تکلیف ہے۔ انسان آنکھوں سے نہ دیکھ سکے تو یہ واقعی زندگی کا جو مزہ ہے وہ جاتا رہتا ہے۔ لیکن چونکہ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا عوض دے گا اور اس کا اجر دے گا، اس پر صابر شاکر رہتا ہے تو پھر اللہ جل شانہٗ اس کو بہت زیادہ بڑے اجر سے نوازیں گے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ نابینا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اس نابینا ہونے کی جو محرومی ہے، اس کے بدلے میں کچھ ایسی صلاحیتیں عطا فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دنیا کے سارے کام بھی کرتے ہیں اور ماشاء اللہ اس اجر کے بھی مستحق ہوتے ہیں، بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔
ہمارے نانا کے بھائی تھے، مولانا فخر الاسلام صاحب ہنگو کے۔ تو وہ نابینا تھے، تو اس نابینا ہونے میں دیوبند کے فاضل۔ اور پھر وہاں جمعیۃ علماء اسلام کے ماشاء اللہ پورے علاقے کے بڑے۔ اور بہت ماشاء اللہ اللہ پاک نے ان سے پھر کام لیا۔
تو یہ دیکھیں نا، مطلب نابینا تھے لیکن ظاہر ہے... مطلب انہوں نے اپنے آپ کو معذور نہیں سمجھا۔ بلکہ جو اتنا کام وہ کر سکتے تھے... تو ان کو یہ صلاحیت ملی تھی کہ وہ آواز سے وہ پہچان لیتے تھے اور مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا تھا کہ وہ سارے کام... بھلے چلتے پھرتے تھے، سٹک (Stick) ان کے ساتھ ہوتا تھا اور اس کے ذریعے سے وہ سارے کام کرتے تھے۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک پھر اس کا کچھ حصہ تو یہاں بدلہ عطا فرماتے ہیں اور اصل اجر جو ہے نا وہ اس کو وہ عوض وہاں پر دیتے ہیں۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اللہ جل شانہٗ کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، شریعت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ظاہری باطنی جو شریعت کے احکام ہیں اس کو ہر وقت اس کی تابعداری کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔