استقبالِ رمضان اور خطبہِ شعبان کی تشریح: برکات، فضائل اور تیاری

اشاعت اول: اتوار، 03 مارچ 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

رسول اللہ ﷺ کا خطبہ شعبان اور رمضان کی فضیلت۔

لیلۃ القدر کی اہمیت اور حسابی مثال (ہزار مہینوں سے افضل ہونے کا مفہوم)۔

عبادت کے لیےشوق کی اہمیت۔

رمضان کے تین عشرے (رحمت، مغفرت، جہنم سے آزادی) اور ان کی تشریح

• روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت اور مدینہ منورہ کا واقعہ۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي عَظَّمَ عَلَى عِبَادِهِ الْمِنَّةَ، بِمَا دَفَعَ عَنْهُمْ كَيْدَ الشَّيْطَانِ وَفَنَّهٗ، وَرَدَّ أَمَلَهٗ وَخَيَّبَ ظَنَّهٗ، إِذْ جَعَلَ الصَّوْمَ حِصْنًا لِأَوْلِٓيَائِهٖ وَجُنَّةً، وَفَتَحَ لَهُمْ بِهٖ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ. وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ، قَائِدُ الْخَلْقِ وَمُمَهِّدُ السُّنَّةِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ ذَوِي الْأَبْصَارِ الثَّاقِبَةِ وَالْعُقُولِ الْمُرَجَّحَةِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا. أَمَّا بَعْدُ.

فَقَدْ حَانَ رَمَضَانُ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ، هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ، فَاسْتَقْبِلُوهُ بِالشَّوْقِ وَالْهَيْمَانِ، وَأَصْغُوا إِلَى مَا رَوَى فِيهِ سَلْمَانُ. قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهٗ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهٖ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهٖ وَعِتْقَ رَقَبَتِهٖ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ)). قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((يُعْطِي اللهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةٍ مِّن مَّاءٍ،. وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ. وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهٗ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهٗ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهٗ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ. وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهٖ فِيهِ غَفَرَ اللهُ لَهٗ وَأَعْتَقَهٗ مِنَ النَّارِ)).

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

معزز خواتین و حضرات! میں نے آپ کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک خطبہ تلاوت کیا ہے، اور یہ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخر میں، روزہ کے استقبال کے طور ارشاد فرمایا ہے۔ چونکہ روزہ ایک عظیم الشان مہینہ ہے، اس کا اپنا ایک مقام ہے، جیسے حج کا ایک مقام ہے۔ایک شان ہے۔ اس طرح روزے کا بھی ایک مقام ہے، ایک شان ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی شان کو اس خطبے میں بیان فرمایا ہے۔

اب ذرا غور سے دیکھیے، یہ خطبہ کتنا مختصر ہے، لیکن اتنا جامع ہے کہ اس میں مضامین کتنے زیادہ مطلب پائے جاتے ہیں کہ اس پر کئی گھنٹے بیان ہو سکتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو بات ہوتی تھی، وہ مختصر اور جامع ہوا کرتی تھی اور اس کے اندر بہت زیادہ بڑا مضمون ہوا کرتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں رمضان شریف کے بارے میں اس کے جو فضائل ہیں، وہ بیان فرمائے ہیں تاکہ شوق رمضان شریف کا بڑھ جائے۔

شوق ایک... ماشاء اللہ ایک Force ہے، یعنی جس کے ذریعے سے انسان کام کرتا ہے۔ بعض دفعہ اس کی اتنی طاقت بھی نہیں ہوتی، لیکن شوق سے مجبور ہو کر وہ اس کام کو کر جاتا ہے۔ اور شوق چونکہ محبت سے پیدا ہوتا ہے، لہذا یہ طاقت اصل میں محبت کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان بہت زیادہ، بہت زیادہ، یعنی بڑا بڑا کام بھی کر لیتا ہے۔ تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شوق کو بیدار کیا ہے اور ہم لوگوں کو اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔

دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر اپنی ہمارے ہماری ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں وہ چیز مل جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ بہت اچھی ہے اور ہم لوگوں کو اس میں آخرت، ہم لوگوں کو اس سے آخرت میں بہت فائدہ ہوگا اور ہم لوگ اس سے بڑی راحت میں رہیں گے۔ تو اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کوشش فرمائی ہے کہ ہم لوگوں میں شوق پیدا ہو جائے اعمال کو کرنے کا۔ اور پھر اللہ جل شانہ کی صفتِ رحیمی اور صفتِ کریمی کے ذریعے سے جو اس پر ملتا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی بیان فرما سکتے تھے، کوئی اور بیان نہیں کر سکتے تھے۔

تو اب میں سب سے پہلے اس کے بارے میں عرض کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کیا ارشاد فرمایا ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شعبان کے اخیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا (غالباً آخری تاریخ جمعہ واقع ہوا ہوگا، جمعہ نہ ہوگا تو ویسے ہی وعظ فرمایا ہوگا): "اے لوگو! تحقیق سایہ ڈالا تم پر ایک بڑے مہینے نے، برکت والے مہینے نے۔ وہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو کہ ہزار مہینے سے بڑھ کر ہے۔"

اب دیکھیں ذرا غور فرمائیں، ایک ایک چیز ایسا تلا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "برکت والے مہینے میں"۔ برکت کیا ہوتی ہے؟ برکت یہ ہوتی ہے کہ چیز تھوڑی ہو اور وہ بہت زیادہ ہو جائے۔ یہی برکت ہے نا؟ مال اگر کم ہے لیکن بہت زیادہ کام اس سے ہو جائے تو مال میں برکت ہے۔ اولاد میں بھی برکت ہوتی ہے، علم میں برکت ہوتی ہے، صحت میں برکت ہوتی ہے اور ثواب میں بھی برکت ہوتی ہے۔

اب ایک رات ہے، اس ایک رات میں آپ کتنا کام کر سکتے ہیں؟ ایک رات میں تقریباً، اگر برابر برابر دن اور رات ہیں، تو بارہ گھنٹے دن بارہ گھنٹے رات ہوا کرے گا۔ اب بارہ گھنٹے میں آپ جتنا کام کر سکتے ہیں اتنا ہی کریں گے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ اس کو بہت زیادہ پر قبول فرمائے تو اس کا کرم ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ارشاد فرمایا کہ یہ ایک رات اس کے اندر جو ہے، جس کو لیلۃ القدر کہتے ہیں، یہ ہزار مہینے سے زیادہ افضل ہے، زیادہ بہتر ہے۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی بیان فرمائی ہے، سورہ قدر ہے، أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ: {إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ}۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے استفہامیہ انداز میں یعنی بتایا ہے، تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر تو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ {لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ}۔

اب یہ ہزار مہینوں سے افضل کیا مطلب ہے؟ تو اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش فرمائیں، دیکھیں۔ اگر میں نے دو رکعت نماز پڑھی اس رات میں، تو ایسا ہے جیسا کہ میں نے ہزار مہینوں سے زیادہ ہر رات میں دو دو رکعت پڑھی ہے۔ اب کیسی بات ہوگئی! برکت ہوگئی یا نہیں ہوگئی؟ ایسا ہے جیسے کہ ہم نے ہزار مہینوں سے زیادہ ہر رات میں دو دو رکعت پڑھی ہے۔ کوئی اگر ایک پارہ قرآن پاک کی تلاوت کر دے اس میں، تو ایسا ہے جیسے ہزار مہینے ہر رات میں اس نے ایک پارہ تلاوت کیا ہے قرآن کا۔ اور اگر کوئی خوش نصیب ہو، اس نے پورا قرآن اس میں پڑھ لیا، تو ایسا ہے جیسے کہ اس نے ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہر رات میں ایک ایک قرآن پڑھا ہے۔

آپ کہیں گے ایک رات میں قرآن کیسے پڑھا جا سکتا ہے؟ نہیں۔ میں نے تو کم از کم دیکھا ہے، باقیوں کے بارے میں، میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے دیکھا ہے۔ حج کے موقع پر بھی دیکھا ہے اور رمضان شریف میں بھی دیکھا ہے۔ حج کے موقع ہمارے ساتھ ایک خاتون تھیں اہ... جو ہے نا وہ ظاہر ہے پورا خاندان تھا ان کا، میں انتظامات میں تھا، انتظامات میں بھاگ دوڑ ہوتی ہے یہ چیز اور وہ چیز اور یہ آگے پیچھے۔ لہذا میں تو، میرے پاس ایک چھوٹا سا قرآن پاک تھا اپنے پڑھنے کے لیے، اس کو پتہ تھا تو اس نے Request کی کہ اگر یہ قرآن پاک مجھے آپ دے دیں تو میں اس میں کچھ تلاوت کروں مزدلفہ کی رات میں۔ مزدلفہ کی رات بڑی تھکاوٹ کی رات ہوتی ہے، تو میں نے کہا خود تو میں اہ... اس انتظامات میں لگا ہوں تو چلو میں ان کو دیتا ہوں کچھ تو، کوئی تو اس کو پڑھ لے گا۔ اچھا تو میں نے اس کو دے دیا، اس خدا کی بندی نے مزدلفہ کی رات میں پورا قرآن پڑھ لیا۔ سبحان اللہ!

دوسری بات، آپ حضرت مولانا اشرف صاحب جو ہمارے شیخ تھے، ان کے ہاں رمضان شریف میں پانچ ختمِ قرآن تراویح میں ہوا کرتے تھے۔ پانچ ختم قرآن تراویح میں ہوا کرتے تھے۔ پہلا ختم دس راتوں میں۔ دوسرا ختم دس راتوں میں، دو ختم ہوگئے۔ تیسرا ختم جب راتیں لمبی ہوتی تھیں، تو چھ راتوں میں۔ پھر چوتھا ختم ستائیسویں کو ایک رات میں۔ اور پھر اٹھائیسویں، انتیسویں کو دو راتوں میں۔

اچھا اب ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ستائیسویں کو ایک رات میں قرآن ہو چکا ہے۔ اب باقی ہیں دو راتیں ہیں جس میں آدھا آدھا قرآن پڑھا جانا ہے۔ اٹھائیسویں کی رات کو آدھا قرآن پڑھا گیا، انتیسویں کی رات باقی ہے۔ چھٹیاں ہو گئیں یونیورسٹی کی۔ ظاہر ہے جن لوگوں نے چھٹیوں پہ جانا تھا تو انہوں نے حضرت سے ملنا تھا، اجازت لینی تھی کہ حضرت ہم جا رہے ہیں اپنے گھروں کو، مسافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھتے۔ حضرت نے ان سے پوچھا وہ آدھا قرآن کا کیا کرو گے؟ وہ جو آدھا قرآن رہتا ہے اس کا کیا کرو گے؟ وہ خاموش تھے، وہ کیا کہہ سکتے تھے؟ کیونکہ ظاہر ہے ہر ایک کا اپنا گھر بھی ہوتا ہے نا، صرف خانقاہ میں تو نہیں آنا ہوتا، تو ظاہر ہے گھروں سے بھی مجبور ہوتے ہیں۔ تو چپ ہوگئے کہ کیا کہیں۔ تو حضرت نے فرمایا دیکھو یہاں حافظ موجود ہیں، کسی کی منت سماجت کر کے ان کو تیار کر لو کہ آپ کو آدھا قرآن نفل میں سنا دیں۔ وہ بھی اچھے لوگ تھے اور حافظ بھی اچھے تھے، حافظ بھی تیار ہوگئے، جماعت تیار ہوگئی، نماز شروع ہو گئی، دیکھا تو حضرت مولانا صاحب بھی اس میں شامل! سبحان اللہ! یہ بڑی عجیب بات تھی۔ چلو وہ حضرات تو جا رہے تھے نا گھروں کو، ان کے لیے تو ایک مجبوری تھی، مولانا صاحب کے لیے تو مجبوری نہیں تھی، اس نے تو اگلی رات میں قرآن سننا تھا، لیکن نہیں، یہ شوق ہے، یہ محبت ہے۔ اور حالت کیسی ہے؟ مفلوج ہے۔ خود اٹھ بھی نہیں سکتے، چل بھی نہیں سکتے اور آخری ایام میں تو کروٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے۔ یہ حالت تھی حضرت کی۔ اس حالت میں سارے کام ہو رہے ہیں۔ یہ ہے محبت اور یہ ہے شوق۔

تو اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم لوگ یہ شوق پیدا کر لیں تو رمضان شریف کا مہینہ تو بہت بڑا مہینہ ہے۔ اس میں تو ہم بہت کما سکتے ہیں، بہت کما سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ تو بہرحال یہ بات میں عرض کر رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو کہ ہزار مہینے سے بڑھ کر ہے، یعنی لیلۃ القدر۔

اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے فرض کیے۔ کسی اور مہینے کے روزے فرض نہیں ہیں، صرف رمضان شریف کے روزے فرض ہیں۔ اور رات کا قیام تطوع قرار دیا۔ یعنی مزید اضافہ، اور یہ اشارہ تراویح کی طرف ہے اور تراویح سنت مؤکدہ ہے۔

جس نے اس ماہ میں کوئی نیک خصلت، یعنی کوئی نیکی کا کام، از قبیلِ نوافل ادا کی، یعنی کوئی ایسا کام کیا جو فرض تو نہیں تھا لیکن ثواب کا کام تھا، اس کو نفل کہتے ہیں۔ تو فرمایا وہ اس کی مانند ہے جس نے رمضان کے سوا کسی دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا ہے۔ مثلاً اگر کسی نے دو رکعت نفل پڑھے تو ایسا ہے جیسے دو رکعت فرض ادا کیے۔ کسی نے کسی کو صدقہ دیا نفلی، وہ ایسا ہے جیسے اس نے فرض صدقہ ادا کیا۔ اور جس نے اس ماہ میں فرض ادا کیا ہو وہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ اور دنوں میں اس نے ستر فرض ادا کیے ہوں۔ تو فرضوں کا اجر ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔ اب دیکھیں ہم پانچ نمازیں تو روز پڑھتے ہیں، یہ تو ہمارے اوپر فرض ہیں۔ تو یہ پانچ نمازوں کا اجر 350 نمازوں کا ہوگا! گویا کہ ہم نے 350 نمازیں پڑھی ہیں۔ کیا بات ہے، اللہ کا شکر ہے۔

تو ہمیں اپنے فرضوں کا... دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ کسی کے پاس پاکستانی روپے ہیں اور اس سے دو ہزار روپے گم ہو جائیں، اس کو تکلیف ہوگی یا نہیں ہوگی؟ ہوگی نا۔ لیکن اگر کسی کے پاس دو ہزار ڈالر ہیں اور وہ گم ہو جائیں تو اس کی تکلیف کتنی ہوگی؟ بہت زیادہ ہوگی۔ اگر دو ہزار دینار... تو ظاہر ہے مطلب اس کی تکلیف اور بڑھ جائے گی۔ تو اس طرح یہاں پر ہمارا معاملہ عام فرضوں کا نہیں ہے۔ اس وجہ سے رمضان میں اگر کوئی فرض رہ جاتا ہے تو اس کا نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تو رمضان شریف میں فرائض پورے ہونے چاہئیں، کسی طرح کمی نہیں ہونی چاہیے۔ تو بہترین، مطلب جو ہے نا وہ انشاء اللہ ہمیں اس کا اجر ملے گا۔

اور دیکھیں ہم اب جب نماز پڑھتے ہیں نا، تو نماز کے جتنے ارکان ہیں، ان ارکان کو تعدیل کے ساتھ ادا کرنا، یہ نماز کے اجر اور اثر کو بڑھا دیتا ہے۔ ویسے ایک تو ہوتا ہے نا پورا کرنا، تو ایک بات ہے، مطالبے سے بچ جائے گا، لیکن ایک یہ کہ جب آپ نے کام کرنا ہی ہے، تو تھوڑی سی محنت، تھوڑی سی کم، تھوڑی سی اگر آپ کچھ مزید محنت کر لیں تو اس سے آپ کا ثواب بہت بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ پورا بن جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں اپنے نمازوں پر محنت کرنی ہے کہ اس میں کوئی چیز ہم سے کم نہ ہو جائے۔

اب میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ نماز کا حسن کیا ہے اور کیسے مطلب اس کو، اس کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید تھے، صاحبِ کشف تھے۔ اس نے نماز پڑھی تو کشف کی نگاہ سے دیکھنا چاہا کہ میری نماز کیسی ہے۔ تو اس نے دیکھا کہ اس کی نماز ایک حور، خوبصورت حور کی مانند ہے لیکن وہ حور اندھی ہے۔ یعنی باقی بہت خوبصورت ہے لیکن حور اندھی، اندھی ہے، آنکھیں نہیں۔ حاجی صاحب سے اس نے حیرت سے پوچھا کہ حضرت میں نے اپنی نماز کی طرف دیکھا تو مجھے نماز ایسی نظر آئی، حور کی طرح اور اس میں وہ جو ہے نا اس کی آنکھیں اندھیں۔ فرمایا تو نے کہیں نماز میں آنکھیں بند تو نہیں کی تھیں؟ اس نے کہا ہاں جی خشوع کے لیے بند کی تھیں۔ فرمایا بس یہی فرق ہے۔ کیونکہ کھلی آنکھوں سے نماز پڑھنا سنت ہے۔ اور آپ نے اس میں سنت کی خلاف ورزی کی، اگرچہ نماز آپ کی ہوگئی، نماز تو ہو جاتی ہے نا، نماز تو ہو گئی، لیکن اس کمی کی وجہ سے آپ کو یہ دکھایا گیا کہ آپ کی نماز اس طرح ہے جس میں آنکھیں نہیں۔

تو اب دیکھیں کون کون سی چیز ہے جو کہ ہم غلط کرتے ہیں یا کمزور کرتے ہیں۔ اب صرف حساب کتاب کی میں بات کرتا ہوں، اپنے حساب کتاب میں اس لیے کہتا ہوں نا کہ ذرا تھوڑا سا ہم لوگ اندازہ لگائیں کہ کتنی تھوڑی چیز کے لیے ہم کتنا بڑا نقصان کرتے ہیں۔ آپ ذرا جو جماعت کی نماز ہو رہی ہو، عورتوں کو تو میں نہیں کہہ رہا ہوں کہ عورتوں کے لیے تو جماعت کا نماز لازم نہیں ہے، اس وجہ سے وہ تو اس چیز کو نہیں خیال رکھ سکتی اس کی۔ مردوں کو کہہ رہا ہوں کہ مسجد میں آپ کسی جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کی نماز دیکھیں کہ نماز کیسے پڑھتے ہیں۔ تو بوڑھے بوڑھے لوگ، بڑی عمر کے لوگ، مستقل طور پر ہر نماز پڑھنے والے لوگ، دیکھیں گے تو کسی کا قومہ ٹھیک نہیں، کسی کا جلسہ ٹھیک نہیں! کیوں مولانا صاحب؟ بس وہ ابھی آدھا اٹھ چکے ہوں گے کہ پھر فوراً دوسرا سجدہ۔ بہت عام ہے! اس طریقے سے بس تھوڑا سا جھکیں، جھک کر جو ہے نا تھوڑا سا اوپر اٹھیں کہ پھر، پھر سجدے میں چلے جائیں۔ یہ قومہ اور جلسہ کہلاتا ہے اور یہ واجب ہے۔ اگر کسی کا یہ ٹھیک نہیں ہے تو اس کی نماز کیسی ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ فضل سے قبول بھی فرما دے، لیکن یہ جو کمی ہے یہ تو رہے گی۔

تو اگر آپ، اور پھر ذرا حساب کتاب کا میں نے بات کی ہے نا، حساب کتاب کر لیں کہ اتنا جتنا آپ گئے ہیں اس سے زیادہ اوپر جائیں۔ اس پہ جو آپ کا اضافی وقت لگتا ہے نا، تو رکوع میں چار دفعہ ہوگا اور سجدوں میں بھی اگر چار رکعت ہیں تو چار دفعہ ہوگا۔ تو کیا خیال ہے اتنے سے اتنا جانے میں کتنے سیکنڈ لگیں گے؟ ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔ چلیں پانچ سیکنڈ کر لو۔ پانچ سیکنڈ اس میں لگتے ہیں۔ تو پانچ چوکے بیس، اور بیس، چالیس سیکنڈ ہوگئے۔ چالیس سیکنڈ آپ نے بچا کے نماز کو ردی بنا دیا۔ نماز کو کمزور کر دیا۔ یہ چالیس سیکنڈ آپ نہ بچائیں۔

دیکھو جس وقت ہم تکبیر تحریمہ کہتے ہیں، تو اس کو تکبیرِ تحریمہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس تکبیر کے ساتھ ہم نے تمام دنیا کی دوسری غیر نماز کی جو Activities ہیں، ان کو حرام کر دیا اپنے اوپر۔ اب جو ہے نا مطلب ہے کہ اب ہم اس میں شامل نہیں ہو سکتے، کسی کے سلام کا جواب نہیں دے سکتے، ثواب ہے، سلام کا جواب دینا ثواب ہے لیکن سلام کا جواب نہیں دے سکتے۔ کسی کو راستہ نہیں بتا سکتے، کسی کو مسئلہ نہیں بتا سکتے، کسی کی خیر خواہی کسی کام سے نہیں کر سکتے، یہ ساری چیزیں ہمارے اوپر بند ہو گئیں اور یہ ثواب کی چیزیں ہیں۔ یہ ہمارے اوپر بند ہو گئیں۔ تو یہ جو ہے نا مطلب ہے کہ اگر ہم دیکھیں تو نماز میں تکبیر تحریمہ سے پتہ چلا کہ اب ہم جو وقت اللہ کو دے چکے ہیں نماز کا، اب پورا پورا ہمیں استعمال کرنا چاہیے، اس میں ڈنڈی نہیں مارنی چاہیے۔ شیطان بہت ظالم ہے، وہ تھوڑی تھوڑی چیزوں سے کتنا بڑا نقصان کرا دیتے ہیں۔

تو ہم لوگوں کو رمضان شریف میں کم از کم ایک خیال اس کا رکھنا چاہیے۔ اچھا اب آپ کو ایک اچھی بات بتاؤں، ڈرانے والی باتیں تو بتا دیں نا، اب تھوڑے سے آپ کو خوشخبری کی بات بھی بتاؤں۔ آج کل جو ڈاکٹروں نے تحقیق کی ہے، ریسرچ کی ہے۔ وہ یہ کی ہے کہ جس کو کوئی غلط لت پڑ جائے، جس کو Addiction کہتے ہیں، انگریزی کے یا Medical Terminology میں Addiction کہتے ہیں۔ اگر کسی کو پڑ جائے، جیسے بعض لوگوں کو موبائل کی لت پڑ چکی ہوتی ہے، نیند سے اٹھ کر فوراً پہلے کام کیا ہوتا ہے؟ دیکھتے ہیں اسکرین پہ کیا ہے! اسکرین کی لت پڑ جاتی ہے۔ اگر بچوں کو یہ لت پڑ گئی ہے تو ایک ہفتہ اس کو روکے رکھو تو اس کی یہ لت ختم ہو جائے گی۔ اور اگر بڑے کو پڑ گئی ہے تو بتاتے ہیں تین ہفتے اگر اس کو اپنے آپ کو روکے تو یہ ختم ہو جائے گی۔ یعنی اس کا وہ اثر نہیں رہے گا کہ آپ کو مجبور کر سکے۔ ہاں پھر پہلے سے اگر خبثِ باطن ہے اور آپ نے اس کا ارادہ ہی نہیں کیا تو ایک علیحدہ بات ہے، وہ تو خانہ کعبہ کے اندر ابو جہل... وہ کیسے تھے؟ مطلب وہ تو ایک علیحدہ چیز ہے نا۔ لیکن جو بچنا چاہتے ہیں اس کی بات بتاؤں... بتاتا ہوں، جو بچنا چاہتے ہیں۔ تو اگر وہ تین ہفتے اپنے آپ کو روکے تو اس کی لت ختم ہو جائے گی۔

تو جب ایسی بات ہے، تو رمضان شریف کے کتنے دن ہوتے ہیں؟ 29 یا 30، تو تین ہفتے سے تو زیادہ ہیں نا! تو آپ یہ تین ہفتے اپنے اوپر محنت کر کے اپنی نماز ٹھیک ٹھاک مطلب جو ہے نا وہ کر لیں۔ اچھا میں رمضان کی بات کیوں کرتا ہوں، ابھی سے میں کیوں نہیں کہتا؟ ابھی سے شروع کر لوں، کس نے روکا ہے؟ تین ہفتے ابھی سے شروع ہو جائیں گے۔ لیکن آپ کو ایک آسانی کی بات بتا دوں کہ جب لوہا گرم ہوتا ہے تو اس کو موڑنا آسان ہوتا ہے۔ یہی بات ہے نا؟ اس کو موڑنا آسان ہوتا ہے۔ رمضان شریف کے اندر دو بڑی رکاوٹیں، سبحان اللہ سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ دور کروا دیتے ہیں۔

ایک ہے شیطان کی رکاوٹ۔ شیطان کی رکاوٹ جو ہے وہ تو شیطان کو تو قید کر لیتے ہیں، مطلب بڑے سرکش شیاطین کو تو قید کر دیا جاتا ہے۔ لہذا ان سے تو آپ کی جان چھوٹ گئی۔ کوئی خود شیطان پہلے سے بن گیا ہو تو اس کی بات الگ ہے۔ وہ پھر، وہ میرے خیال میں اس کو قید کرنے کے لیے الگ جگہ ہے۔ لیکن یہ ہے کہ جو جنی شیطان ہے اس کو اللہ جل شانہ قید کر دیتے ہیں رمضان شریف کے مہینے میں، جو سرکش شیاطین ہیں۔

اچھا وہ قید کر دیے، نفس کی جہاں تک بات ہے، تو نفس کی تین بڑی خواہشیں ہیں، بڑی خواہشیں جس سے وہ، جس سے وہ بالکل نہیں رک سکتا؛ کھانا، پینا اور مباشرت۔ یہ تین چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے رمضان شریف میں حرام کر دیں۔ یہ تو ہو نہیں سکتیں، ورنہ پھر روزہ ہی نہیں ہوگا۔ تو نفس کی مخالفت میں نفس کا علاج ہے۔ نفس کی مخالفت میں نفس کا علاج ہے، تو اب یہ نفس کی مخالفت شروع ہو گئی نا، تو نفس کا علاج بھی شروع ہو گیا۔ نتیجتاً نفس کا اتنا زور نہیں رہتا جتنا کہ غیر رمضان میں ہوتا ہے۔ اس کی اصلاح نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔ تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ اگر رمضان شریف میں اپنے آپ کو اپنی نمازوں کے اوپر ذرا محنت کر لیں اور نمازیں ستھری نمازیں بنا دیں، سبحان اللہ، اس پہ کام کریں، تو ماشاء اللہ آپ کی نماز بہترین نماز بن جائے گی۔ اور رمضان شریف کا اجر بھی ہوگا، الحمد للہ۔

تو یہ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ رمضان شریف، بلکہ ابتدائی رمضان سے شروع کر لیں تاکہ جب لیلۃ القدر آئے تو آپ کی نماز، نماز بن چکی ہو! اس وقت اس نماز کو اگر ہزار مہینے والی مل جائے نا آپ کو، پھر کیا بات ہے جی! کیا خوبی ہے۔ تو بہت ماشاء اللہ آپ کو فائدہ ہوگا، ہم سب کو فائدہ ہوگا۔ کہتے ہیں خیر کے کاموں میں اپنے آپ کو ضرور شامل کرنا چاہیے، پتہ نہیں قبولیت کا وقت ہوتا ہے نا، تو اس میں، اس میں کوئی رہ نہ جائے۔ تو یہ بات ہے، فرمایا:

"اور وہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔" صبر تو ہے، ان تین چیزوں سے رکنا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے، یہ صبر ہی ہے نا۔ اور وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر ایسی چیز ہے کہ اس کا بدلہ جنت ہے۔

"اور غمخواری کی جاتی ہے۔ اور ایسا مہینہ ہے کہ اس میں مومن کا رزق زیادہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس میں روزہ دار کو افطار کرایا اس کو گناہوں سے بخشش اور دوزخ کی آگ سے نجات حاصل ہوتی ہے۔" سبحان اللہ! بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ اس کا نظارہ اگر دیکھنا چاہتے ہو نا، سبحان اللہ، تو حرم شریف میں دیکھو۔ عرب حضرات اس بات کو خوب سمجھتے ہیں، الحمد للہ، وہاں صورتحال یہ ہے کہ لوگ منتیں کر کر کے آپ کو افطار کراتے ہیں۔ منتیں کر کر کے۔ یہ نہیں کہ کوئی آ گیا آپ کے ساتھ بیٹھ گیا تو چلو آپ نے اس کو بھی افطار کرا دیا، نہیں۔ میں ایک دفعہ ایک پاکستانی دوست نے میرے افطار کی دعوت کی تھی یہاں وہاں پر مدینہ منورہ میں، تو میں ادھر جا رہا تھا، راستہ مسجد نبوی کے پاس سے ہی جا رہا تھا، وہ بھی ادھر ہی تھے۔ تو میں ادھر جا رہا تھا تو دو چھوٹے چھوٹے بچے، عرب، وہ میرے آگے آگے دوڑنے لگے، "يا عم، يا عم، يا عم! أفطر معنا، أفطر معنا" (اے چچا، اے چچا! ہمارے ساتھ افطار کرو)، اچھا وہ جو ہے نا وہ، میں ان سے کہتا ہوں کہ "أنا أريد أفطر في المسجد النبوي" (میں مسجد نبوی میں افطار کرنا چاہتا ہوں)، میں نے ان سے کہا کہ مسجد نبوی میں افطار کروں گا تاکہ میں ذرا اپنے آپ کو ذرا اس سے چھڑا لوں نا کیونکہ میں نے تو جانا تھا اس پاکستانی دوست کے۔ وہ اتنے خوش ہوگئے، "نعم، نعم، نعم! تعال، تعال!" مطلب ان کا بھی مسجد نبوی میں تھا دسترخوان! وہ میرے آگے آگے دوڑنے لگے اور میں، جب میں نے کہا اب میں کیا کروں اب تو مسجد نبوی ہے، وعدہ بھی کر لیا، بات بتا دیا تو اب تو اس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی۔ تو میں نے کہا چلو پاکستانی دوست کو پھر میں منا لوں گا تو میں افطار ان کے ساتھ کر لوں۔ تو مسجد نبوی کے اندر ہم لے گئے باب سعود، اس کے اندر لے گئے اور وہاں پر جو ہے نا میں افطار کیا۔ پھر ان کے جو بڑے تھے وہ منتیں کرنے لگے، "آئندہ بھی ہمارے ساتھ افطار کریں، آئندہ بھی ہمارے ساتھ ہی افطار کیا کریں۔" تو بہرحال یہ ہے کہ وہ، وہاں اس قسم کی حالت ہے۔ مکہ مکرمہ میں، مدینہ منورہ میں، جدہ میں، کسی بھی جگہ پہ آپ دیکھیں۔ یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیور جو آپ کے ساتھ، یعنی ٹیکسی کے کرائے پہ لڑے گا، نہیں اتنا، نہیں اتنا، نہیں اتنا، لیکن جب افطار کا وقت آئے گا تو اپنا سب کچھ آپ پہ نچھاور کر لے گا! سبحان اللہ! اس وقت معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں نے خوب سمجھا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔

یہ مہمان نوازی، یہ واقعتاً بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ تو فرمایا، واہ جی واہ، فرمایا کہ اس کے گناہوں سے بخشش اور دوزخ کی آگ سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے، یعنی اس کے روزے کے برابر ثواب اس کو بھی ملتا ہے، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی ہو جائے، کمی کی جائے۔ سبحان اللہ! یعنی روزہ دار کو جتنا ثواب ملتا ہے وہ اتنا بھی ملتا ہے، اس کا ثواب بھی پورا رہتا ہے، اس میں ثواب میں کمی نہیں کی جاتی۔

اب آگے سنیں، ہم نے عرض کیا (صحابہ فرماتے ہیں)، ہم نے عرض کیا: اے رسولِ خدا! ہم میں ہر شخص ایسا نہیں جو روزہ دار کو افطار کرانے کی گنجائش رکھتا ہو۔ یہ صحابہ کرام عام طور پر غریب لوگ ہوا کرتے تھے، غریب تھے، مالدار بہت کم تھے۔ یعنی علی کرم اللہ وجہہ، دیکھیں نا خلفائے راشدین میں، وہ بھی غریب صحابی تھے۔ اس طرح اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس طرح اور مطلب جو ہے نا سب، یہ اکثر غریب حضرات ہوتے تھے، بس قوتِ لا یموت گزارہ ہوتا تھا۔ تو فرمایا کہ ہمارے سے ہر ایک کی تو یہ گنجائش نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کو افطار کرا سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: "یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی عطا فرماتا ہے جو کہ روزہ دار کو دودھ کے ایک گھونٹ، یا ایک کھجور، یا ایک پانی کے گھونٹ وغیرہ سے افطار کرا دے۔" بس پتہ چلا کہ افطار کرانا ہی ہے، چاہے وہ ایک گھونٹ سے ہو پانی، چاہے ایک گھونٹ دودھ سے ہو، چاہے ایک کھجور افطار سے...۔

ایک دن میں محلہ شامیہ میں تھا اس وقت، رہائش ادھر تھی، تو مغرب کی اذان شروع ہو گئی۔ تو نماز، اصل میں اس میں ہوتا ہے نا دس منٹ کا وقفہ بھی درمیان میں ہوتا ہے۔ تو ہم مسجد میں، نماز میں شامل ہونے کے لیے جانے لگے اور چونکہ اترائی ہے تو سپیڈ بہت بڑھ جاتا ہے۔ خیر ایسا ہوا کہ میں نے دیکھا کہ ایک عرب ہے، اس نے تھیلے میں بہت سارے چھوٹے چھوٹے پیکٹ رکھے ہیں، ہر پیکٹ کے اندر تین کھجوریں اور ایک چھوٹا بوتل زمزم کا ہے۔ اور ہر ایک کو دے رہے ہیں، جو دوڑ رہا ہے ہر ایک کو دے رہے ہیں، جو دوڑ رہا ہے ہر ایک کو دے رہے ہیں۔ میں نے کہا واہ جی واہ! کیا زبردست Investment ہے! اب ہم لوگ پیسے لے جاتے ہیں نا، تو کہتے ہیں بھئی وہاں سے کوئی چیزیں خرید کر ادھر لے آئیں۔ ٹھیک ہے نا؟ ایسا ہوتا ہے۔ اب اس نے کیا کیا؟ سوچیں! کتنے لوگوں کو افطار کرایا، اتنے لوگوں کے روزوں کا ثواب لے لیا۔ اور وہ روزہ بھی عام روزہ نہیں، حرم کا روزہ ہے، یعنی ایک لاکھ روزوں کا ثواب! اب کتنا اجر لے لیا! تصور کر سکتے ہیں؟ تو یہ، یہ قسمت والے لوگ ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ!

"اور جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے اس کو اللہ میرے حوض، یعنی حوضِ کوثر سے سیراب کرے گا۔" ماشاء اللہ! الحمد للہ یہاں پر بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو غریب مزدور طبقہ جو ہوتا ہے، جو کام شام کرتے ہیں، تو ان کے لیے دسترخوان لگاتے ہیں۔ اگرچہ اس میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں، ان کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، لیکن بہرحال نیت تو اچھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ غریب لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔

تو پھر فرماتے ہیں کہ اس کو اللہ میرے حوض، یعنی حوض کوثر سے سیراب کرے گا، پھر اس کو جنت میں داخل ہونے تک پیاس ہی نہیں لگے گی۔ اور یہ معلوم ہے کہ جنت میں پیاس نہیں ہے۔ "اور یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ، یعنی عشرہ اولیٰ، یہ رحمت ہے۔" اللہ کی رحمت زور پہ ہوتی ہے۔ سبحان اللہ! رحمت کا مطلب اپنے آپ کو قریب کرنا اور لعنت کا مطلب اپنے سے دور کرنا۔ تو گناہوں سے انسان دور ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے اور اچھے کاموں سے انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے، ان پہ اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ "اور درمیانی حصہ اس کا مغفرت ہے۔ اور آخری حصہ اس کا آگ سے آزادی ہے۔"

بعض حضرات نے اس کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ بعض جو خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جن کی نیکیاں پہلے سے موجود ہوتی ہے، جیسے اچھے لوگ ہوتے ہیں گناہ نہیں کرتے، تو ان کے لیے پہلا حصہ ہی سبحان اللہ رحمت والا ہوتا ہے کیونکہ ان کو تو شروع ہو جاتا ہے نا کام شروع ہو گیا، مزید بڑھوتری شروع ہو گئی۔ دوسرے میں جو گنہگار لوگ ہیں ان کے گناہوں کا بخشنا شروع ہو جاتا ہے۔ پہلے حصے میں تیاری ہو جاتی ہے اور دوسرے حصے میں گناہوں سے بخشش شروع ہو جاتی ہے۔ اور یہ تیسرا حصہ ایسا ہے کہ جو بہت ہی گڑبڑ لوگ ہوں نا ان کو بھی اللہ بخش دیتا ہے۔ بشرطیکہ باغی نہ ہو۔ بشرطیکہ باغی نہ ہو، باغیوں کی بخشش نہیں ہوتی۔ باغی نہ ہو، گنہگار ہو۔ تو ایسے گنہگاروں کی بھی بخشش ہوتی ہے، جہنم سے خلاصی کا مطلب بتا دیا گیا اس طریقے سے۔

تو اس وجہ سے رمضان کے مہینے میں فرماتے ہیں، یہ تو اس کے ہیں وہ چیزیں جو خوش کرنے والی ہیں، لیکن ایک بات ڈرانے والی بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد تک گیا گزرا ہو گیا کہ وہ رمضان شریف کی رحمت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا، مغفرت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا اور جہنم سے خلاصی سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکا، تو پھر چونکہ اللہ پاک کو ایسے لوگوں پہ غصہ ہے کہ جو کہ اس حالت میں بھی اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکا، تو اس کے بارے میں، رمضان شریف کے مہینے کے بارے میں پھر ایک حدیث شریف ہے، اور وہ حدیث شریف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لے جا رہے تھے، پہلے سیڑھی پر بھی آمین کہا، دوسرے پر بھی آمین کہا، تیسرے پر بھی آمین کہا۔ تو اس پر صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم نے آپ سے ایک نئی چیز دیکھی ہے کہ یہ پہلے کبھی نہیں دیکھی، یہ آمین آپ نے کس چیز پر کہا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے تھے اور اس نے بددعا کی کہ اے اللہ! ان لوگوں کو تباہ و برباد کر دے جن کے اوپر رمضان شریف کا مہینہ گزرا اور ان کی مغفرت نہیں ہوئی! تو میں نے آمین کہا۔ دوسرا آمین میں نے اس پر کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نے بددعا کی کہ جس کے سامنے آپ کا نام لیا جائے اور اس پر درود شریف نہ پڑھے تو یہ بھی تباہ و برباد ہو جائے، تو میں نے آمین کہا۔ اور تیسرا یہ کہ والدین جن کے زندہ ہوں اور وہ ان کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے تو ان کے بارے میں ہے کہ تباہ و برباد ہو جائے، تو میں نے اس پہ آمین کہا ہے۔ بلکہ ایک روایت میں یہ آتا ہے کہ مجھے کہا گیا کہ آپ اس پہ آمین کہیں، تو میں نے اس پر آمین کہا۔ اب ذرا غور سے اندازہ لگا لیں کہ یہ کتنی خطرناک بددعا ہے۔

تو رمضان شریف کا مہینہ، اور درود شریف کی بات، اور والدین کی خدمت؛ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جس میں ملتا بہت کچھ ہے لیکن کوئی نہ لینا چاہے تو پھر بربادی بھی بہت ہے۔ پھر بربادی بھی بہت ہے۔ کیونکہ نعمت کی ناشکری ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں: {لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ}۔ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں ان کو مزید بڑھا دوں گا اور اگر تم اس سے انکار کرتے ہو تو پھر تو بے شک میرا عذاب شدید ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو ان نعمتوں کی بڑی قدر کرنی چاہیے، اس مہینے کی تیاری کرنی چاہیے۔

مثال میں دیتا ہوں۔ ہمارے وقتوں میں جب اچھے وقت ہوا کرتے تھے، اب تو اس کے لیے بھی ہم ترستے ہیں۔ کوئی بڑا آتا نا اور کوئی بغیر ٹوپی کے ہوتا تو جیب سے ٹوپی نکال کر فوراً پہن لیتا کہ مجھے اس طرح نہ دیکھیں۔ ایسا ہوتا تھا نا؟ اور اگر کوئی سگریٹ پی رہا تھا تو سگریٹ بجھا کے اس طرح گرا دیتا، چھپا دیتا نا، مطلب یہ بات ہے۔ یہ ایک بات ہوتی، حیا بڑوں سے کہ مطلب بڑے جو ہے نا مطلب کم از کم بڑے اس حالت میں مجھے نہ دیکھیں۔ اب آج کل یہ چیز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ معاف فرما دے، اب بہت یعنی گھبراتے ہیں ہم کہ آج کل یہ چیزیں نہیں ہیں۔

لیکن بہرحال رمضان شریف کا مہینہ چونکہ ایک بہت بڑی رحمت کا مہینہ ہے، تو اس میں بھی اگر نہ سنبھلیں، تو یہ بہت بڑی بے حیائی ہے، بہت بڑی بے حیائی ہے۔ اگرچہ ہم ہر وقت اللہ کے سامنے ہوتے ہیں، کوئی وقت بھی ایسا نہیں جب ہم اللہ کے سامنے نہ ہوں، لیکن کچھ جگہیں اور کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب یہ چیز بہت واضح ہو جاتی ہے، مثلاً مسجد میں جائے کوئی، خانہ کعبہ کوئی جائے، مدینہ منورہ کوئی جائے، رمضان شریف کا مہینہ ہو، شبِ قدر ہو۔ یہ، یہ جو ہے نا یہ ایام اور یہ مقامات، یہاں پر بھی اگر کوئی نہ سنبھلے تو پھر معاملہ بہت خطرناک ہو جاتا ہے، بہت خطرناک ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

یا اللہ! "اور جس نے اس ماہ میں اپنے باندی غلام سے بوجھ ہلکا کیا، یعنی ان سے خدمت لینے میں تخفیف کر دی، اس کو اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے، سبحان اللہ! اور دوزخ کی آگ سے آزاد کر دیتا ہے۔" یعنی یہ بات ہے، اس کو آج کل باندی غلام تو ہیں نہیں، مطلب ظاہر ہے وہ تو پہلے دور کی بات ہے۔ اب کم از کم یہ بات ہے کہ جن سے ہم کام لیتے ہیں اجرت پہ، ہمارے کام کرنے والے ہیں، اب جن کا روزہ ہو تو اس کے بارے میں ذرا سا ان کو سہولت دیں۔

ایک دفعہ آرمی، انگریز آرمی میں مسلمان بھی تھے، ہندو بھی تھے، سب۔ تو ایک انگریز نے پوچھا، جو میجر تھا، افسر تھے ان کے، کہ روزہ کس کا روزہ ہے؟ اب وہ چونکہ عیسائی تھا تو جن کا روزہ نہیں تھا بڑے فخر سے کہا ہمارا روزہ نہیں ہے، مطلب گویا کہ ہمارے اچھے نمبر ہو جائیں گے، ان کو عیسائی سمجھ کر نا۔ تو انہوں نے کہا جی ہمارا روزہ نہیں ہے، انہوں نے کہا تم اس طرف ہو جاؤ۔ ان کو ایک طرف کر دیا، دوسروں کو کہا جاؤ تم اپنے بیرکوں میں آرام کر لو کیونکہ تمہارا روزہ ہے، جن کا روزہ نہیں تم کام کرو۔ ان کو کام پہ لگا دیا۔ تو یعنی اس انگریز افسر نے بھی اس چیز کا خیال رکھا کہ جو روزہ دار ہے ان سے ہم کام نہ لیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو تھوڑا سا خیال رکھنا چاہیے۔

میں بڑا حیران ہوتا ہوں، صحیح بات ہے، آج کل تو روزے خیر بڑے ہی ماشاء اللہ سہولت والے روزے ہیں، سہولت والے۔ کیونکہ موسم 12 مارچ، مطلب موسمِ بہار ہے، دن اور رات برابر ہیں، ٹھیک ہے؟ تو موسم Temperature wise بھی اور Duration wise بھی بہت اچھا ہے۔ تو آج کل تو مشکل نہیں ہے لیکن یہ جون کے مہینے میں جب روزے ہوا کرتے تھے، تو ہم دیکھتے تھے کہ سڑکوں پہ جو کام کرتے ہیں نا مزدور، جو پتھروں کو کوٹتے ہیں، ان میں سے لوگوں کا روزہ ہوتا تھا۔ اور ایئر کنڈیشن میں بیٹھے والے لوگوں کا روزہ نہیں ہوتا تھا۔ اب کیسے Justify کریں گے؟

ایک انگریز کیپٹن، شپ کا، وہ اس طرح مسلمان ہوا کہ اس نے دیکھا کہ کسی جگہ سامان Unload ہو رہا ہے کسی مسلمان ملک میں۔ تو اس میں جو Unload کرنے والے تھے ان میں ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا، مسلمان ظاہر ہے عرب تھا، رمضان شریف کا مہینہ تھا، تو بڑی مشقت میں تھا، تو اس کیپٹن کو اس پر بڑا وہ آ گیا کہ میں اس کو، اس کی کچھ خدمت کروں، اس نے بہت کام کیا دیکھو اس حالت میں۔ تو اس کو اس کام کے بعد بلایا اپنے بیرک میں، Cabin میں بلایا، دروازہ بند کر لیا اور fridge سے شربت ٹھنڈا لے کے اس کو دینے لگا کہ یہ لے لو۔ اس نے کہا میرا روزہ ہے۔ اس نے کہا میرا روزہ ہے۔ اس نے کہا یہاں کوئی آپ کو نہیں دیکھ رہا! اب ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا نا ظاہر ہے، "آپ کو کوئی یہاں پر نہیں دیکھ رہا، میں نے دروازہ بند کر لیا ہے، آپ آرام کے ساتھ پی لیں۔" تو اس عرب نے کہا: "فأين الله؟ فأين الله؟" (پھر اللہ کدھر ہے؟ پھر اللہ کدھر ہے؟)۔ اس نے اس کیپٹن کے دل پہ بڑا اثر کیا کہ یہ کیا بات ہے، یہاں کوئی نہیں دیکھ رہا، یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے نا کہ روزہ دار کو میں خود اجر دوں گا کیونکہ روزہ میرے لیے رکھتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو کہ باقی اعمال سے ممتاز ہے۔ نماز لوگ ریا کے لیے بھی پڑھ سکتے ہیں، زکوٰۃ لوگ ریا کے لیے بھی دے سکتے ہیں، حج لوگ ریا کے لیے بھی کر سکتے ہیں، روزہ ریا کے لیے نہیں رکھا جا سکتا۔ کیونکہ اگر کسی کا روزہ نہ ہو، لوگوں کے سامنے وہ کر لیں، کچھ نہ کھائے لیکن ٹوائلٹ کے اندر جا کر پانی پی لے، تو کوئی کیا جان سکتا ہے؟ دروازہ بند کر لے اور fridge سے کھانا کھا لے، تو کوئی کیا کر سکتا ہے ان کا؟ مطلب ٹھیک ہے کچھ، کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا، لیکن نہیں، وہاں پر بھی نہیں کھاتا، وہاں پر بھی نہیں کھاتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا واقعی اللہ پاک سے خوف ہے، یعنی اس کو کم از کم یہ معلوم ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ تو یہ کتنی بڑی بات ہے روزے میں!

تو الحمد للہ، جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوتا ہے، یہ پکے موحد بھی ہوتے ہیں ماشاء اللہ، یعنی اللہ پاک کی ذات کو حاضر ناظر جانتے ہیں اور جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ اس سے ڈرتے بھی ہیں۔ تو بس اگر تھوڑی سی محنت اور ہو جائے، تو ماشاء اللہ بڑا کام ہوگا۔

اس لیے فرمایا: "الصَّوْمُ جُنَّةٌ" (روزہ ڈھال ہے)۔ ہاں اگر اس کو کوئی پھاڑ نہ ڈالے۔ تو پھاڑ نہ ڈالنے کا علمائے کرام فرماتے ہیں کہ دیکھو روزہ کے بارے میں جو قرآن پاک کی آیت ابھی میں نے تلاوت کی ہے، جس میں فرماتے ہیں: "اے مومنو! فرض کیے گئے تم پر روزے جیسا کہ فرض کیے گئے تھے تم سے پہلوں پر، پہلے لوگوں پر، تاکہ تم بچو گناہوں سے اور دوزخ ک ی آگ سے، یعنی تقویٰ حاصل ہو تمہیں۔"

تو اب دیکھیں، اللہ جل شانہ نے مومنوں کے لیے فرمایا کہ تمہارے اوپر صرف روزے نہیں فرض کیے گئے، گزشتہ لوگوں پر بھی فرض کیے گئے، اور اس کا مقصد جو ہے وہ کیا ہے؟ تمہیں تقویٰ دار بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا بنانا ہے۔ تو یہ تقویٰ جو ہے نا یہ بہت بڑی صفت ہے اور اس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں، اگر اس کا ترجمہ ہم کچھ یوں کر لیں سمجھانے کے لیے، کہ اے مومنو! تم پر رمضان کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلوں پہ فرض کیے گئے، تاکہ تم اللہ کے ولی بن جاؤ۔ کیونکہ {لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} یعنی تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔ اور تقویٰ کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں: {أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ، الَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ}۔ کہ فرمایا کہ تم آگاہ ہو جاؤ کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ خوف ہوگا، نہ غمگین ہوں گے، اور کیسے بنے ہوں گے؟ انہوں نے ایمان حاصل کیا ہوگا، ایمان قبول کیا ہوگا اور تقویٰ حاصل کیا ہوگا۔ تو اس کا مطلب ہے جو ایمان والا تقویٰ حاصل کر لے تو وہ کیا ہے وہ؟ ولی اللہ ہے۔ کتنا بڑا ولی ہے؟ {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} جتنا اس کا تقویٰ ہے، اتنا ولی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر روزہ کو ہم صحیح طریقے سے رکھ لیں، تو میں نے کہا نا بنیاد تو اس میں ہے نا، ایمان تو اس میں ہے، پہلے سے دیکھو نا اللہ سے جو ڈر رہا ہے۔ تو اللہ پاک کو حاضر ناظر مانتے ہیں تو ایمان تو ہے نا۔

اب صرف یہ بات ہے کہ تقویٰ کے خلاف کوئی کام نہ کرے۔ تقویٰ کے خلاف کوئی کام نہ کرے۔ کیونکہ تقویٰ کے خلاف کام کرے گا تو وہ اپنے تقویٰ کو نقصان پہنچائے گا۔ اب مثال کے طور پر ایک آدمی ہے، وہ بہت ساری چیزیں اپنی بوری میں ڈال کے گھر لے جا رہا ہو اور درمیان میں اس میں بڑا سوراخ ہو، تو کتنا پہنچائے گا گھر؟ ظاہر ہے گھر تو کچھ بھی نہیں پہنچے گا، وہ سب نیچے گر جائیں گی۔ تو اس طریقے سے روزے سے اس کو بہت کچھ حاصل ہو جاتا ہے لیکن وہ پورے کا پورا پہنچا بھی دے نا، تو اس کے لیے یہ ہے کہ اس میں جو ہے نا مطلب، یعنی حوصلہ ہو کہ وہ گناہوں سے اپنے آپ۔۔۔

اب دیکھو گناہ کون سے ہوتے ہیں؟ دیکھیں گناہ کئی قسم کے ہوتے ہیں، لیکن آنکھ کے ذریعے سے بھی گناہ ہوتے ہیں، کان کے ذریعے سے بھی گناہ ہوتے ہیں، زبان کے ذریعے سے بھی گناہ ہوتے ہیں، دماغ کے ذریعے سے بھی گناہ ہوتے ہیں، دل کے ذریعے سے بھی ہوتے ہیں، ہاتھ پاؤں کے ذریعے سے بھی ہوتے ہیں۔ تو اب کیا کریں؟ اب یہ بات کر لیں کہ آنکھوں کو نیچے کر لیں، غضِ بصر کہتے ہیں، تاکہ غیر محرم پہ نظر نہ پڑے۔ کان میں ارادتاً کوئی گناہ کی آواز نہ ڈالے، اور بعض لوگ تو ماشاء اللہ ایک لحاظ سے اچھا پرہیز کرتے ہیں کہ وہ، وہ نہیں مل رہے وہ جو Ear Plugs، وہ جو مطلب کوئی سونا چاہتا ہو تو کانوں میں لگا لیتے ہیں پھر ان کو آواز نہیں جاتی، تو وہ اگر کانوں میں ڈال لے تو...۔ جب کوئی آواز سننا چاہیں گے تو نکال لیں گے، جب نہیں تو پھر وہ... اور اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ زبان، وہ آپ کے اختیار میں ہے، کوئی کام کی چیز ہو تو اس کے لیے ہلاؤ، ویسے نہ ہلاؤ۔ ہاتھ پاؤں کسی غلط چیز کی طرف نہ بڑھاؤ اور غلط چیزیں سوچنا چھوڑ دو۔ یہی ماشاء اللہ ہم فوری طور پہ کر سکتے ہیں۔ اس کی برکت سے پھر باقی کام بھی ہمارے لیے آسان ہو جائیں گے انشاء اللہ۔ {وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا} جب آپ کوشش کرنا شروع کر لیں گے، ان شاء اللہ پاک آپ کے اوپر چیزیں کھولنا شروع فرما دیں گے۔

تو بہرحال رمضان شریف کا یہ مہینہ ہمارے لیے انتہائی درجے کی برکت کے نزول کا مہینہ ہے۔ اور بہت زیادہ کامیابی حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ بہت زیادہ اجر حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ لہذا ہم لوگ اس کی پوری پوری قدر کر لیں اور اس کے لیے باقاعدہ اب تیاری کر لیں۔ تیاری کیا ہے، بتاتا ہوں۔ ابھی سے ہم لوگ یہ شعبان کا جو مہینہ ہے، اس میں جو باقی دن ہیں، کچھ روزے رکھنے شروع کر لیں۔ اس میں پریکٹس کر لیں ان چیزوں کی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اب دیکھیں یہ پریکٹس آپ کی رمضان شریف سے شروع ہوگی تو ابتدائی چند روز میں ممکن ہے کچھ کمی بیشی رہ جائے، لیکن اگر آپ اس میں ابھی سے، ابھی سے کام شروع کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟ پھر یہ ہوگا کہ آپ کو غلطیوں کا پتہ چل جائے گا کہ کن کن چیزوں میں میرے بریک فیل ہیں، تو ان بریکوں کو ٹھیک کر لیں اور ظاہر ہے مطلب اس کو بہتر کر لیں۔ تو یہ چیز جو ہے نا مطلب ہم ابھی سے شروع کر لیں۔ ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے کہ شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے اور یہاں تک کہ بعض حضرات سمجھتے کہ شاید اب حضرت افطار نہیں کریں گے، لیکن کچھ تھوڑے روزے نہ رکھ کر اس کا ایک فرق سمجھا دیتے تھے کہ یہ نفلی ہے، باقی یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ روزے رکھتے تھے، اکثر روزے سے ہوتے تھے۔ تو یہ شعبان کا مہینہ ہے، یہ اس کے لیے تیاری ہے۔ اور ہم لوگ جب رمضان شروع ہو جائے اس وقت، اسی وقت سے ہم ماشاء اللہ مکمل نظام شروع کر لیں۔

اب آتی ہے اس میں ایک آخری بات، وقت تو بہت تھوڑا ہے، وہ ہے اعتکاف۔ الحمد للہ ہم چونکہ خانقاہ میں بیٹھے ہیں، تو خانقاہ میں تو اصلاحِ نفس کی بات ہوتی ہے نا، اصلاح نفس کی بات ہوتی ہے۔ تو اصلاح نفس کے لیے اعتکاف بہت بڑی چیز ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آخری دور میں اس چیز کو بھانپ کر اصلاحی اعتکاف کا سلسلہ شروع کروایا تھا کہ آج کل صحیح خانقاہیں بہت کم ہو گئی ہیں، تو ہر مسجد میں اعتکاف کی خانقاہ بن جائے، اور لوگ اصلاحی اعتکاف کرنے والے بن جائیں۔ تو جو کام وہ اب نہیں ہو رہا خانقاہوں میں، کم ہے، وہ کام مسجدوں میں ہونے لگیں۔ دیکھو ویسے مسجد میں ٹھہرنا اس کی اجازت تو نہیں ہے نا، لیکن اعتکاف کی نیت سے آپ ٹھہر سکتے ہیں۔ تو اب یہ جو ہے مطلب یہ ہے کہ اعتکاف، ایک مسنون اعتکاف ہوتا ہے ایک نفلی اعتکاف ہوتا ہے۔ تو نفلی اعتکاف وہ تو ہر ایک کسی بھی وقت کر سکتا ہے، نفلی اعتکاف کسی بھی مسجد میں کسی بھی وقت کر سکتا ہے چاہے ایک منٹ ہو چاہے دو منٹ ہو۔ لیکن مسنون اعتکاف جو ہوتا ہے وہ 20 رمضان کی مغرب سے، وہ مغرب سے شروع ہوتا ہے اور چاند رات کی مغرب تک ہوتا ہے، یہ مسنون اعتکاف ہے۔ تو مسنون اعتکاف کی تو بڑی زبردست بات ہے کہ اس میں تو اجر بہت زیادہ ہے، اجر عمروں کا اجر ہے، تو وہ انسان کو نصیب ہو جاتا ہے۔

اور بہت بڑی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اصلاحی اعتکاف کرتا ہو، مثلاً کوئی شیخ کے ساتھ بیٹھ جائے اصلاحِ نفس کے لیے، تو رمضان شریف کا جذب، سبحان اللہ، اور اعتکاف کا سلوک، سبحان اللہ، مل کے پورے کامل اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا تجربہ ہے، ہم بھی الحمد للہ ہمارے ہاں بھی اصلاحی اعتکاف ہوتا ہے، خانقاہ میں نہیں، مسجد میں، اور جہانگیرہ میں ہماری خانقاہ ہے اور اس کے ساتھ مسجد ہے، وہاں پر ہمارا اعتکاف ہوتا ہے، کافی سارے ساتھی آتے ہیں۔ تو اس میں ماشاء اللہ ہم نے دیکھا ہے کہ ان دس راتوں میں جتنا کام ہوتا ہے، اتنا پورے سال میں نہیں ہوتا۔ ان دس راتوں میں اگر کوئی اپنے ذرا ذمہ داری محسوس کر لے اور بہتر وقت لگا لیں، تو وہ پورے سال کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ تو یہ بات میں عرض کرتا ہوں کہ ابھی چونکہ رمضان شریف کا مہینہ بھی آنے والا ہے اور اس کے اخیر میں اعتکاف بھی ہوگا، اور ہم میں سے کون ہے جو کہ اپنی اصلاح نہیں کروانا چاہتا؟ ٹھیک ہے ذرا آج کل مصروفیت زیادہ ہو گئی ہے، تو مصروفیت کی وجہ سے لوگ زیادہ وقت فارغ نہیں کر سکتے، لیکن یہ بات مجھے آپ بتاؤ، جو سروس کرتے ہیں، کیا وہ کبھی شادیوں میں شرکت نہیں کرتے؟ کیا وہ بعض دفعہ سیر سپاٹے کے لیے نہیں جاتے؟ کیا وہ بعض اور ضروری کاموں کے لیے چھٹیاں نہیں لیتے؟ آخر وہ حکومت بھی تو بیس چھٹیاں Casual Leave وہ دیتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو اگر وہی چھٹیاں، وہ Casual Leave ہم لوگ اعتکاف کے لیے استعمال کر لیں اور اعتکاف ہم کر لیں اور ہمارا یہ مقصد پورا ہو جائے، تو اس سے اچھا استعمال کیا ہے؟ کیا خیال ہے؟ مطلب یہ تو کمانے کی چیز ہے نا۔

اب دوسری بات یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں یار کہاں ہمارے پاس وقت ہے، خدا کے بندے تم آئے دنیا میں کس لیے؟ پہلے ذرا اس کو جانو۔ آپ دنیا میں کس لیے آئے ہیں؟ دنیا میں کھانے کے لیے آئے ہو؟ نہیں، دنیا میں پینے کے لیے آئے ہو؟ نہیں، دنیا میں سیر سپاٹے کے لیے آئے ہو؟ نہیں۔ میں نہیں کیوں اتنے زور سے کہہ رہا ہوں، کیونکہ یہ بات میری نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ}، نہیں پیدا کیا میں نے جنات کو اور انسان کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔ تو اللہ تعالیٰ اتنی صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں، یہ دوسری چیزوں کی تو اجازت ہے۔ مقصد نہیں ہے۔ اس کی اجازت ہے کیونکہ زندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔ کوئی کھاتا پیتا ہے تو زندہ رہتا ہے۔ ہاں گھر حفاظت کے لیے ہے، کپڑے مطلب ستر ڈھانپنے کے لیے ہے، تو ان چیزوں کی اجازت ہے۔ باقی کام ہمارا کیا ہے، مقصد ہمارا کیا آنے کا ہے؟ مقصد تو عبادت ہے۔ تو جو مقصد ہے اس کو تو ہم ٹائم نہ دے سکیں اور جو ذرائع، مطلب جو صرف Protect کرنے کے ذرائع ہیں کہ بس ہم بھی وہ کام، مقصد پورا کر سکیں اس کے لیے، اس کا پھر خبر ہی نہ ہو۔ کمال ہے! یہ بڑے عجیب انصاف ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ اس چیز کو جان لیں کہ جو مقصد ہمارا پورا ہے وہ الحمد للہ عبادات کے ذریعے سے پورا ہو رہا ہے۔ اور عبادات میں روزہ بھی ہے اور روزے میں اعتکاف بھی سنت عبادت ہے، اور اس کے ساتھ اصلاحِ نفس جو ہے یہ تو فرضِ عین ہے۔ تو اگر یہ سارے کام ہمارے اعتکاف کے ذریعے سے ہو سکتے ہیں تو کیوں نہ اعتکاف کریں؟

اور آج کل کے لحاظ سے تو اس لیے اہم ہے کہ آج کل صحیح خانقاہیں واقعتاً بہت کم ہیں، بہت کم۔ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ تھی، بہت زبردست خانقاہ تھی، اس کا واقعہ بتاتا ہوں، بزبانِ حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی زبانی، مطلب کسی اور کی زبانی نہیں۔ حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، ان کے صاحبزادے عطاء المومن صاحب نے حضرت کو فون کیا: "حضرت خانقاہ کا کیا حال ہے؟ کیسے چل رہی ہے خانقاہ؟" ظاہر ہے برابر کے حضرات تھے۔ فرمایا کوئی حال نہیں! یا لوگ تعویذ لینے کے لیے آتے ہیں، یا پھر سفارش کرانے کے لیے آتے ہیں۔ اب بتاؤ! اتنی بڑی خانقاہ کی بات بتا رہا ہوں آپ کو۔ خود حضرت فرما رہے ہیں کہ لوگ یا تعویذ لینے کے لیے آتے ہیں، اور یہ بات کیا جھوٹ ہے؟ خانقاہوں میں لوگ کس لیے جاتے ہیں؟ بہت کم ہیں جو اپنی اصلاح کے لیے جاتے ہیں، اپنے دنیاوی کاموں کو سیدھا کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ تو پھر فائدہ ہوگا؟ پھر آپ کے دنیاوی کام بھی سیدھے ہو بھی گئے، تو بس آپ کو وہ چیز مل گیا جس کے لیے گئے تھے۔ اصل چیز تو آپ نے حاصل نہیں کی۔ اس وجہ سے ہم نے اپنے خانقاہ میں ان چیزوں کو بند کیا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ ان کو ناجائز کہتے ہیں، ناجائز نہیں کہتے، اس لیے بند کیا ہے کہ لوگ صرف پھر اسی کے لیے آتے ہیں۔

وہ ایک دفعہ وہاں... ہمارے خانقاہ، مطلب خانقاہ تو نہیں تھا چھپر والی مسجد میں ہماری مجلس ہوا کرتی تھی خیابان میں۔ تو لوگ آنے لگے جی دم کروانے کے لیے آتے ہیں اور وظیفے مانگنے کے لیے آتے تھے اور حتیٰ کہ مرکز سے بھی لوگ آنے لگے، میں حیران تھا میں نے کہا یہ کیا ہے یہ تو ہمارا کام ہی یہ چل پڑا۔ تو میں نے پھر ایک جلالی بیان کیا اس پر۔ میں نے کہا خبردار اس کے لیے کوئی آ گیا! میں اس کے لیے تھوڑا بیٹھا ہوں؟ میں اس کام کے لیے نہیں بیٹھا ہوں۔ آج کے بعد کوئی اس مقصد کے لیے نہ آئے، صرف اپنی اصلاح کے لیے آئے، بس یہی کام ہے، اس کے بعد اور کوئی کام نہیں ہوگا۔ بس وہ جو دوسرے لوگ آئے تھے نا ذرا پانی دم کروانے واسطے، وہ پیچھے ہو گئے نا، تو وہ لوگ آگے ہو گئے جو کہ واقعی اپنی اصلاح کے لیے آئے تھے، پھر کچھ کام شروع ہو گیا۔ یہ ہے آج کل کا دور۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان چیزوں کی بڑی قدر کرنی چاہیے، ان چیزوں کی بڑی قدر کرنا چاہیے۔ اعتکاف، سبحان اللہ، یہ ایک عبادت ہے، جو بھی عبادت کے لیے آتا ہے، بس ذرا تھوڑی سی محنت کر لے تو کام پہلے سے تیار ہے۔ کوئی مشکل نہیں ہے۔ ہاں تھوڑی سی احتیاطیں ہیں، مثلاً احتیاط کیا ہے؟ بھئی گپ شپ نہ لگائے وہاں پر، مسجد ہے نا۔ مسجد کے آداب کا خیال رکھنا ہے۔ اور بات یہ ہے کہ اپنے آپ کی عبادت... آرام کر لے لیکن پھر کام کرے۔ دوسری بات اس کو شغل میلہ نہ بنائیں اور جب جائیں نا تو اس کو Ceremonial انداز نہ بنائیں کہ لوگ گلے میں ہار ڈال رہے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا ہو رہا ہے، وہ ہوتے ہیں اس قسم کے کام۔ بھئی یہ چیزیں دوسرے کاموں کے لیے چھوڑو، یہ اس کے لیے تھوڑی ہیں! آپ کس چیز کے لیے آئے تھے؟ آپ تو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے آئے تھے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا پتہ وہاں ملے گا، یہاں تو نہیں پتہ چلے گا! یہاں تو صرف آپ کی کوشش ہے، باقی پتہ تو ادھر ہی چلے گا۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان تمام کاموں کو بحسن و خوبی کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. برحمتك يا أرحم الراحمين.



استقبالِ رمضان اور خطبہِ شعبان کی تشریح: برکات، فضائل اور تیاری - خواتین کیلئے اصلاحی بیان