ادبِ رسالت، لفظِ 'راعنا' کی ممانعت اور یہود کے حسد کا بیان

درس نمبر 50: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 103 تا 105۔ (اشاعتِ اول)،19 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

ایمان اور تقویٰ کا اجر: دنیاوی مفادات کے مقابلے میں آخرت کے ثواب کی اہمیت۔

لفظ 'راعنا' کی ممانعت: یہودیوں کی شرارت، لفظی ہیر پھیر اور گستاخانہ مفہوم۔

لفظ 'انظرنا' کا حکم: بارگاہِ رسالت ﷺ میں ادب اور شفقت کی نظر کا سوال۔

یہود کا دعویٰ اور رد: "چنے ہوئے لوگ" (Chosen People) ہونے کے دعوے پر عقلی دلیل اور رد۔

اللہ کا فضل: نبوت اور رحمت کا خاص ہونا اللہ کی مشیت ہے۔

§حسد کی تباہ کاریاں: علم، مال اور عہدے میں حسد کا نقصان اور حفاظت کی دعا۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّـٰهِ خَيْـرٌ ۖ لَّوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (103) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْـمَعُوْا ۗ وَلِلْكَافِـرِيْنَ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (104) مَّا يَوَدُّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْـمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْـمِ (105)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ.

اور (اس کے برعکس) اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقیناً کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا بھی حقیقی) علم ہوتا! ﴿103﴾

یہ اصل میں گزشتہ آیت کے ساتھ پیوستہ ہے کہ...

اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بُری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔ ﴿102﴾

یعنی جو لوگ یہاں دنیا کی چیزوں کو لیتے ہیں اور آخرت کی چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں، تو ظاہر ہے ان لوگوں نے اپنا بہت نقصان کیا۔ وہ بہت ہی بیوقوف لوگ ہیں۔ تو یہاں پر جو فرمایا کہ اس کے برعکس اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقیناً کہیں زیادہ بہتر ہوتا، کاش کہ ان کو اس بات کا بھی حقیقی علم ہوتا۔

اے ایمان والو! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر) ’’رَاعِنَا‘‘ نہ کہا کرو، اور ’’انظُرْنَا‘‘ کہہ دیا کرو۔

اصل میں یہ چونکہ... ان میں ٹیڑھ تو تھی، تو یہ ٹیڑھ کی وجہ سے الفاظ کو بھی گھما دیتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی پکڑ لیتا تو کہتے ہم تو... ہم تو کہتے ہیں "رَاعِنَا"۔ اور کہتے تھے "رَاعِيْنَا"، یعنی ہمارے چرواہے۔ یہ کہتے تھے، "رَاعِيْنَا"۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ اس طرح یہ ان لوگوں کی شرارت اور ٹیڑھ تھی۔

وہ جب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے: رَاعِنَا۔ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ہماری رعایت فرمائیے‘‘ اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے۔ لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی، اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بددعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا، نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ رَاعِیْنَا بن جاتا ہے۔ جس کے معنی ہیں: ’’ہمارے چرواہے!‘‘

غرض یہودیوں کی اصل نیت اس لفظ کو خراب معنی میں استعمال کرنے کی تھی، لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا، اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ لفظ بولنا شروع کر دیا۔ یہودی اس بات سے بڑے خوش ہوتے اور اندر اندر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس لئے اس آیت نے مسلمانوں کو اس شرارت پر متنبہ بھی کر دیا، آئندہ اس لفظ کے استعمال پر پابندی بھی لگا دی اور یہ سبق بھی دے دیا کہ ایسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے جن میں کسی غلط مفہوم کا احتمال ہو، یا ان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہو۔ نیز اگلی آیت میں اس سارے عناد کی اصل وجہ بھی بتادی کہ درحقیقت ان کو یہ حسد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نعمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں عطا فرما دی ہے۔ رَاعِنَا کے بجائے انْظُرْنَا کا لفظ سکھا دیا کیونکہ اس کے معنی ہیں ’’ہم پر (شفقت کی) نظر فرمائیے‘‘ اس میں کسی اور معنی کا احتمال نہیں۔

یہ میرے خیال میں یہ لفظ شاید بزرگوں میں بھی اسی لیے آیا ہے میرے خیال میں، بعض لوگ کہتے ہیں نا، ہم پر نظر فرمائیے۔ تو لوگوں نے تو اس کا مطلب اور لے لیا وہ توجہ اور گویا کہ بس ہمارا کام ہو جائے... ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے۔ وہ تو دوسری غلطی تھی... لیکن یہاں قرآنی لفظ جو ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوپر شفقت فرمائیے۔ نظر فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوپر شفقت فرمائیے، یعنی اپنے علم سے، اپنے فیض سے، اپنے اس سے ہمیں مستفید فرما دیجیے گا۔ یہ مطلب اس کا ہو سکتا ہے اور یہ صحیح مطلب ہے، یہ ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر یہ بات آرہی تھی۔

اللّٰه اکبر

اور سنا کرو۔ اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ﴿104﴾ کافر لوگ، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھلائی تم پر نازل ہو، حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص فرما لیتا ہے۔ اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے ﴿105﴾

یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ جو اکثر اس پر بات فرماتے ہیں "محبوبین اور محبین" والی بات۔ تو محبوبین جو ہوتے ہیں ان کے لیے اللہ پاک ظاہر ہے بہت ساری چیزیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو کسی کو اس کے لیے اگر مخصوص فرما دے تو اس کے لیے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

اب ذرا تھوڑا سا ایک لاجیکل پوائنٹ (Logical Point)۔ وہ یہ ہے کہ یہود جو تھے، وہ اپنے آپ کو مخصوص لوگ کہتے تھے، چنے ہوئے لوگ کہتے تھے۔ اب بھی کہتے ہیں۔ چنے ہوئے لوگ کس نے چنا؟ ظاہر ہے اللہ نے چنا۔ اگر اللہ پاک ان کو چن سکتا ہے تو کسی اور کو نہیں چن سکتا؟ کیا نعوذ باللہ من ذلک ان کو چن کر اللہ پاک کے چننے کی صلاحیت ختم ہو گئی؟ تو اگر ان کو چن سکتا ہے تو باقی لوگوں میں سے بھی چن سکتا ہے۔ اور یہ ان کو حسد تھا کہ ہمارے ہوتے ہوئے کسی اور کو کیوں چنا؟ یہ بڑی بات تھی۔ نتیجۃً وہ دشمن ہو گئے۔ حالانکہ پہلے یہ مشرکینِ مدینہ منورہ سے کہتے تھے کہ ہمارا ایک پیغمبر اور آئے گا ہم ان کے ساتھ ہو کے پھر تمہیں ماریں گے۔ یہ انتظار کرتے تھے آپ ﷺ کا۔ لیکن اب دیکھیں کہاں پر گئے۔

تو اس وجہ سے حسد جو ہے بہت بری بلا ہے، بہت بری بلا ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ علم میں بھی حسد ہوتا ہے، پیسے میں بھی حسد ہوتا ہے، پوسٹ میں بھی حسد ہوتا ہے، لباس میں بھی حسد... مطلب کون سی چیز میں حسد نہیں ہے۔ مطلب یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان حریص ہو اور وہ سب سے اچھی چیزیں صرف اپنے لیے پسند کرتے ہوں کسی اور کے لیے نہیں، ادھر سے حسد شروع ہو جاتا ہے۔ یہی حسد ہے، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


ادبِ رسالت، لفظِ 'راعنا' کی ممانعت اور یہود کے حسد کا بیان - درسِ قرآن - دوسرا دور