مہم کے درست ہونے کا طریقہ:
ارشاد: اپنے بزرگوں کے ہاتھ سے جو ذِلّت ہو وہ ذِلّت نہیں، بلکہ بڑی عزّت ہے۔ اس لئے اپنے بزرگوں کے سامنے ذِلّت سے ناگواری نہ ہونا چاہئے یہی کامیابی اور عزّت کا پیش خیمہ ہے، فہم کی درستگی چاہتے ہو تو کاملین کے سامنے ہر ذِلّت کو گوارہ کر کے کچھ دنوں ان کے پاس رہو۔
اصل میں ہر... ہر فن میں اس پر عمل ہو سکتا ہے، جو یہاں یہ بات فرمائی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ دنیا کی لائین کے بھی کمانے والے ہیں، وہ بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے استاد کے سامنے اپنے آپ کو مٹاتے ہیں تب کچھ ملتا ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا ہمارے ایک بھانجے تھے، ان کو کچھ مسئلہ ہوا، Confusion ہوئی، تو اس نے اپنے والدین کو کہا: "میں میٹرک کا امتحان نہیں دے سکتا۔" میں چلا گیا کسی کام سے، تو ان کے والدین نے کہا کہ اس طرح یہ تو فلاں کہہ رہا ہے، فلاں تو یہ کہہ رہا ہے کہ میں امتحان نہیں دے سکتا۔ میں نے کہا: "ان شاءاللہ میں سمجھا دوں گا۔"
اس کو میں نے بلایا۔ میں نے کہا: "کیوں امتحان نہیں دے رہے ہو؟"
کہتے ہیں: "مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا۔ مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا۔"
میں نے کہا: "تم جھوٹ کہتے ہو۔"
وہ سیخ پا ہو گیا کہ آپ کیسے میرے اوپر الزام لگاتے ہیں میں جھوٹ کہتا ہوں؟ مجھے پتا ہے، آپ کو پتا ہے؟
میں نے کہا: "مجھے پتا ہے۔"
کہتے ہیں: "کیسے؟"
میں نے کہا: "ابھی ثابت کر دوں گا۔"
کہتے ہیں: "اچھا ثابت کر دو۔"
میں نے کہا: "آپ جو کتاب پہلی دفعہ پڑھتے ہیں، مثلاً وہ آپ نے ایک چیز کو چار گھنٹے میں دیکھ لیا۔ دوسری دفعہ دیکھو گے پھر بھی چار گھنٹے میں دیکھو گے؟"
کہتے ہیں: "نہیں۔"
میں نے کہا: "پھر؟"
کہتے ہیں: "ڈیڑھ گھنٹہ، دو گھنٹے لگ جائے گا۔"
میں نے کہا: "دو گھنٹے کہاں سے نکل آئے بتاؤ؟ اگر آپ کے ذہن میں کچھ بیٹھا نہیں ہے، تو یہ دو گھنٹے کم کیسے ہوئے؟ اس کا مجھے دلیل دو۔ اس کا مطلب ہے آپ کو کچھ ہو گیا نا مطلب فائدہ؟ آپ کے ذہن میں آ گیا، تو اس وجہ سے آپ کے دو گھنٹے بچت ہو گئی اور اگر تیسری دفعہ کرو گے پھر؟ اس سے اور بھی کم ہو جائے گا۔"
میں نے کہا: "یہی بات ہے، سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ Efficiency ہوتی ہے۔ سارا نہیں یاد ہوتا۔ جتنا جس کو یاد ہوتا ہے وہ اس کی Efficiency ہوتی ہے۔ تو اگر کسی کی Efficiency کم ہے تو وہ زیادہ بار دیکھے۔ یہ تو نہیں کہ مطلب اس کو یاد نہیں ہوتا۔ یہ تمہارا جھوٹ ہے، تم کہتے ہو مجھے یاد نہیں ہوتا۔"
وہ مان گئے، تسلیم کر لیا، کہتے ہیں: "ہاں بات صحیح ہے۔"
میں نے کہا: "بات سنو! اب میں آپ کو صرف دو چیزیں بتاؤں گا۔ ایک Study کا طریقہ بتاؤں گا، ایک Paper attempt کرنے کا طریقہ بتاؤں گا۔ بس ان شاءاللہ تمہارا کام ہو جائے گا۔"
اس نے کہا: "بالکل ٹھیک ہے۔"
Study کا طریقہ تو میں نے بتا دیا اسی وقت ہی، اس نے اس طریقے سے کام شروع کر لیا۔ Paper attempt کرنے کا طریقہ بتا دیا بعد میں۔ لیکن اس کو جب یقین ہو گیا کہ اس سے مجھے فائدہ ہوتا ہے۔
پھر میری منت سماجت شروع کر لی کہ میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں مطلب تاکہ میں آپ سے سیکھوں۔
میں نے کہا: "بھئی میرے شرائط بڑے سخت ہیں، نہیں ٹھہر سکتے ہو۔"
میرے ساتھ کہتے ہیں: "کیسے؟"
میں نے کہا: "میں تمہیں اس شرط پر سکھا سکتا ہوں کہ جس وقت میرا موڈ ہو سکھانے کا، اس وقت تم آؤ گے، ویسے مجھ سے نہیں پوچھو گے۔ کیونکہ میں بھی ایف۔ایس۔سی (F.Sc) کا تیاری کر رہا تھا۔"
تو میں نے کہا: "بھئی میں ہر وقت آپ کو نہیں پڑھا سکتا۔ جس وقت میں کہوں چاہے تمہارے ہاتھ آٹے میں گوندھنے میں... وہ کام کر رہا تھا خدمت کر رہا تھا گھر میں... یہ لوگ کرتے تھے خدمت بھی کرتے تھے۔ تو وہ جو ہے نا وہ... میں نے کہا اگر تمہارے ہاتھ آٹے گوندھنے سے وہ بھی ہو، اس وقت بھی اگر میں تمہیں بلاؤں تو ہاتھ دھوئے بغیر پہنچنا ہے۔ پھر اگر میں کہوں تو پھر ہاتھ دھونے ہیں۔"
کہتے ہیں: "ٹھیک ہے بس مان گیا۔"
پھر اس کو میں نے اپنے ساتھ رکھا اور اس طریقے سے الحمدللہ آج وہ ماشاءاللہ پورا چلا رہے ہیں انجینئر اگریکلچر (Engineer Agriculture)۔ جو کہتا ہے میں میٹرک نہیں کر سکتا۔ اگریکلچر انجینئرنگ... ہاں جی؟
مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو یہ والی بات کہ دنیا کے اندر بھی جو لوگ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو اپنے آپ کو پامال کرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ کو پامال کرنا پڑتا ہے پھر کچھ ملتا ہے۔ تو دین کے معاملے میں جو کہ بہت زیادہ نازک لائن ہے، تو کیا اس میں یہ نہیں ہو گا؟ اس میں بھی یہ ہو گا۔ لہذا اس وجہ سے فرمایا کہ ہر ذلت کو انسان گوارا کر لے اور جو ہے نا ان کے پاس...
یہ جو ہوتے ہیں نا، یہ آپ حیران ہوں گے کہ یہ جو مکینک ہوتے ہیں، کس طرح مکینک بنتے ہیں؟ کیا خیال ہے عظیم صاحب؟ کیسے بنتے ہیں؟ یہ جتنی گالیاں کھاتے ہیں، جتنے جھڑکییں کھاتے ہیں، وہ ہم نے دیکھے ہیں۔ پھر یہ خود بھی گالیاں دیتے ہیں اور جھڑکیاں دیتے ہیں جب یہ استاد بن جاتے ہیں۔ سیدھے منہ تو یہ بات کرنا جانتے ہی نہیں ہیں ان کے استاد۔
یعنی یہ تو ان کا جو ہے نا سیدھی منہ بات کرنا عادت ہی نہیں ہوتی۔ جب بھی کبھی بلائے گا: "او فلانے! ادھر آ جاؤ۔" کچھ دو تین گالیاں بھی ساتھ دیں گے، پھر وہ آئے گا۔ طریقہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں اس کے حق میں نہیں ہوں کہ مطلب ظاہر ہے کوئی اس طرح کرے، یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن دیکھو انہوں نے تمام ذلت گوارا کی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ یہ ساری ذلت گوارا کی ہوتی ہے۔
وہ پرانے دور میں کیمیا کے بارے میں بڑی باتیں مشہور تھیں، تو اس... اس کے لیے لوگ بڑی ذلتیں اٹھاتے تھے۔ لوگوں کی۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو ہے نا یہ... یہ جو دنیا کی جو چیز ہے وہ بھی اسی طریقے سے حاصل ہوتی ہے، تو دین کے لیے بھی جو اس طرح برداشت کرتا ہے تو ان کو یہ چیز حاصل ہو جاتی ہے کسی وقت۔
خود رو سلیم الفہم میں صلاحیت فیض رسانی کی نہیں ہوتی:
کیا عجیب بات فرمائی ہے۔
"خود رو" عیب ہے، "سلیم الفہم" خوبی ہے، دونوں کا نتیجہ منفی ہے۔ کیا خیال ہے؟ سیدھی دیوار کو ٹیڑھی بنیاد پہ رکھ لو تو نتیجہ کیا ہو گا؟
کیا خیال ہے؟ دیوار سیدھا ہو جائے گا؟
ہاں تو یہی بات ہے۔
خود رو سلیم الفہم میں صلاحیت فیض رسانی کی نہیں ہوتی۔
جیسے بعض دفعہ مرغی کے انڈے میں سے محض مشین کی گرمی پہنچانے سے بچہ نکل آتا ہے، مگر سنا ہے کہ ایسے بچے زندہ نہیں رہتے جلد ختم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ خود رو (بلا صحبتِ شیخ) سلیم الفہم ہوتے ہیں ان کو اصلاحِ خلق کی مناسبت تامہ نہیں ہوتی۔ گو! فہم کتنا ہی سلیم ہو مگر ان سے فیض نہیں چلتا۔ فیض رسانی کی شان اسی بچہ میں آئے گی، جس نے کچھ دنوں کسی مرغی کے نیچے رہ کر پَر و بال نکالے ہوں۔ باقی حضرات انبیاء علیہم السلام کے لئے ’’اَدَّبَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَادِیْبِیْ وَ عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمِی‘‘ کے سبب تربیتِ خلق کی حاجت نہیں ہوتی۔
ان کا معاملہ Exception ہے، وہ Selected لوگ ہوتے ہیں، وہ مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی اس سے نہیں آتے، اس Process سے نہیں آتے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ان سے کام لیتے ہیں جس نے اپنے آپ کو اس کے لیے صحیح طریقے سے پیش کیا ہوتا ہے۔
کچھ چیزیں، کچھ چیزوں سے آتی ہیں۔۔ اسباب۔ وہ اسباب جب اختیار نہیں کیے جاتے تو وہ چیز نہیں ملتی۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے:
"بڑا بننے کے لیے چھوٹا بننا پڑتا ہے۔ بڑا بننے کے لیے چھوٹا بننا پڑتا ہے۔ جو چھوٹا بننے کے لیے تیار نہیں ہے، اس کو بڑا نہیں بنایا جاتا۔"
جو چھوٹا بننے کے لیے تیار نہیں ہے اس کو بڑا نہیں بنایا جاتا۔ یعنی بناتے اللہ تعالیٰ نہیں ہیں، اس کو نہیں بناتے۔ بس جب نہیں بناتے تو نہیں بناتے۔ پھر کیا کر سکتے ہیں؟
تو اس وجہ سے ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حضرات ان کے ساتھ ملنے آئے رائے پور شریف، شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔ حضرت کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تو حضرت نے ان سے پوچھا کہ: "میں تو حضرت کی خانقاہ میں آیا تھا یعنی آپ کے شیخ کے ہاں، میں نے آپ کو ادھر نہیں دیکھا تھا۔ یعنی آپ کیسے یعنی مطلب میں نے آپ کو ادھر دیکھا نہیں۔"
تو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سے پوچھا کہ: "حضرت! کیا آپ نے (وہ جب تشریف لائے تھے)، کوئی پنجابی نوجوان سرخ و سفید کبھی چارپائی اٹھانے کے لیے، کبھی مٹکا لانے کے لیے، کبھی جھاڑو کرنے کے لیے، کبھی کچھ اس طرح کاموں پہ دیکھا تھا؟"
فرمایا: "ہاں اس طرح تو تھا۔"
فرمایا: "وہ میں تھا۔"
یعنی وہ میں تھا۔
تو انہوں نے فرمایا: "ہاں ہاں یہ چیز تو اکثر خدمت کرنے والوں کے پاس جاتی ہے۔ یہ چیز تو اکثر خدمت کرنے والوں کے پاس جاتی ہے۔"
یعنی Exceptions ہو سکتے ہیں، لیکن اکثر کا قانون کیا ہے؟ خدمت کرنے والوں کے پاس جاتی ہے۔ تو خدمت میں کیا ہوتا ہے؟ انسان اپنے آپ کو پامال کرتا ہے نا۔ تو جب پامال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مالا مال کر دیتے ہیں۔ طریقہ مطلب اس لائن میں یہی ہے۔
میں آپ کو وہ الفاظ میں حیران ہوں کہ نہیں سنا سکتا جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے بارے میں لکھے ہیں کہ میں کیسے جب ان کے پاس گیا تو پھر کیا ہوا، پھر کیا ہوا... ایسے عجیب انداز، پیارے انداز میں۔ کیونکہ ظاہر ہے جب انسان کے پاس کسی چیز کی قدر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ مطلب گویا کہ اس کا کٹورہ سیدھا ہے۔ اس کا برتن سیدھا ہے اگر اس کی قدر ہوتی ہے، تو پھر اس میں اللہ پاک ڈال دیتے ہیں۔ لیکن جس کو کسی چیز کی قدر نہیں ہوتی اس کا برتن ٹیڑھا ہے۔ ٹیڑھے برتن میں بہت چیز بھی ڈالو تو گر جائے گی اس سے، حاصل تو نہیں کر سکتا۔ وہ رہتا تو نہیں ہے نا، رہے گا تو نہیں۔
تو اس لیے جن لوگوں نے کسی کے سامنے اپنے آپ کو پامال کیا ہوتا ہے ان کو مل جاتا ہے۔ اور اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو پھر وقت گزر جاتا ہے اور آدمی خالی رہ جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ بالکل فائدہ نہیں ہوتا، فائدہ تو اس کا تو ہو جاتا ہے لیکن وہ آگے نہیں چلتا۔ آگے نہیں چلتا۔
ایک دفعہ حضرت... غالباً علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تھے یا کوئی بہت بڑے عالم تھے۔ وہ کسی علاقے میں گئے تو وہاں جو ان کے شاگرد تھے ان کو اطلاع ہوئی۔ تو وہ شاگرد تشریف لے آئے حضرت کی خدمت کرنے کے لیے، تو ان میں سے ایک نہیں آیا۔ تو حضرت نے ان کے بارے میں پوچھا کہ وہ کدھر ہے؟ فرمایا: "وہ والدین کی خدمت میں اس میں بڑی مشغولی ہے لہذا وہ نہیں آ سکا۔"
فرمایا: "ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ بہت اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔"
پہلے خوب تعریف کی، پھر اس کے بعد فرمایا: "بس لمبی عمر پائے گا، بہت عافیت کی زندگی گزارے گا لیکن اس کے علم میں برکت نہیں ہو گی۔"
اس سے پتا چلا کہ والدین کی جو خدمت ہے وہ چونکہ وجود میں آنے کے باعث ہیں، لہذا جو ان کی قدر کرتے ہیں تو اس چیز میں برکت ہو جاتی ہے اور وہ کیا ہے؟ وہ عمر ہے اور رزق ہے۔ تو وہ ان کی اچھی ہو گئی۔ اس نے ایک سو بیس سال کی عمر پائی اور بہت اچھا وقت گزارا، رزق کے لحاظ سے۔ لیکن اس کے علم کا یہ حال تھا کہ آج میں واقعہ سنا رہا ہوں اس کا نام بھی نہیں معلوم۔ علم سے اتنے لوگ بیگانہ رہے۔
تو اس وجہ سے جو مطلب یہ ہے کہ جو فیض رسانی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کسی پر ہوتا ہے تو اس کے فیض کو چلاتے ہیں۔ اس کے فیض کو چلاتے ہیں۔ پھر اس کے لیے اللہ جل شانہ ایسے اسباب پیدا فرماتے رہتے ہیں کہ ان کا فیض چلتا رہتا ہے۔ وہ خود بھی حیران ہوتا ہے کہ کیسے ہو رہا ہے؟ کس طریقے سے چلتا ہے؟ لیکن اللہ پاک راستے بناتے ہیں اور سب کچھ مطلب ہو رہا ہوتا ہے۔
تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو اپنے مشائخ کے سامنے پامال کر دیتے ہیں، رسوا کر لیتے ہیں، اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم رسوا ہوں، تو ان کو اللہ جل شانہ فیض رسان بناتے ہیں۔ آگے جا کر... شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ میں نے آپ کو کئی بار سنایا ہے کہ خود حضرت فاقہ کش تھے، فاقے پہ فاقے۔ وہ شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی خدمت کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے قبول فرمایا کہ شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ کے دسترخوان پر ایک وقت میں پانچ پانچ ہزار لوگ کھانا کھاتے تھے۔ خود شیخ کی خدمت ایسی حالت میں کی کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ لیکن خود اللہ تعالیٰ... پھر اللہ پاک نے ان کو ایسا فیض رسان بنا دیا کہ ایک وقت میں پانچ ہزار لوگ ان کے دسترخوان پہ کھاتے تھے۔
مطلوب کا حصول بقدر ہمت کام پر ہے:
ارشاد: یاد رکھو! حصولِ مطلوب کچھ زیادہ کام کرنے پر موقوف نہیں، بلکہ بقدرِ ہمت طلب ہونا چاہئے۔ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ مریض و ضعیف کی چھ رکعتیں قوی کی چھ سو رکعتیں کے برابر ہیں، کیونکہ اس کو چھ ہی رکعت کی ہمت ہے اور ثواب دینے والے اللہ تعالیٰ عزّ شانہٗ ہیں وہ ہر شخص کی حالت اور ہمت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
دیکھیں۔۔ حضرت مولانا فضل رحمان گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ بزرگ تھے، بہت بڑے بزرگ تھے، ہندوستان میں۔ حضرت نے فرمایا، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے، کہ ایک غریب آدمی تھے وہ حضرت کے پاس آ رہے تھے تو دل چاہتا کہ حضرت کے پاس کچھ ہدیہ لے جاؤں لیکن کچھ پاس تھا نہیں۔ جنگل سے گزر رہے تھے تو جنگل سے کچھ لکڑیاں لے لیں کہ یہ حضرت کے سامنے پیش کر لوں گا۔ تو وہ چلے گئے، حضرت سے ملاقات ہو گئی، پھر حضرت کے سامنے وہ لکڑیاں پیش کیں حضرت قبول فرمالیں یہ ہدیہ ہے۔ حضرت اس پر اتنے خوش ہوئے کہ فرمایا: "بھئی اس کو سنبھال کے رکھو۔ جب میں مروں گا اور مجھے غسل دیا جائے گا تو اس کے لیے جو پانی گرم کیا (جائے)، وہ ان پہ گرم کیا جائے۔"
کہتے ہیں حضرت نے اس کی کتنی قدر فرمائی! اس کے پاس یہی کچھ تھا نا، اس کے پاس اور تو کچھ تھا نہیں۔ اب اگر کوئی آدمی بہت بڑا Landlord ہے، ارب پتی ہے اور کہتا ہے یہ لے، بیس لاکھ کا پلاٹ ہے یہ آپ لے لیں۔ تو بیس لاکھ کا پلاٹ کا اس کی پوری دولت کے ساتھ کیا Ratio ہے؟ وہ اگر اس طرح پچاس پلاٹس بھی دے دے تو اس کے اوپر فرق نہیں پڑ رہا۔ لیکن دوسرا آدمی ہے اس کے پاس کچھ نہیں، اس میں سے دے رہا ہے، گویا اپنے منہ کے نوالے سے کم کر کے آپ کو دے رہا ہے۔ تو وہ تو اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے نا کہ اس کے پاس وقعت کتنی ہے؟ ہمت کتنی ہے؟
تو فرمایا کہ جو کمزور اور ضعیف ہے اس کی چھ رکعات، دوسرے تگڑے، طاقتور کے چھ سو سے افضل ہیں۔
حضرت مولانا صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ، یہ صوفیاء اس چیز کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کتاب لکھی ہے "ٹھیلے والے کی نماز"۔ ٹھیلے والے کی نماز۔ فرمایا کہ ایک Retired آدمی، وہ اطمینان کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا آدمی ہے ٹھیلے والا، اس کا ہے، سامنے ٹھیلے کو کھڑا کیا ہوا ہے اور نماز کے لیے گیا ہوا ہے۔ اس کی نماز میں بہت خیالات آ رہے ہیں کہ پتا نہیں کوئی بچے ٹھیلے کو الٹا نہ دے، اس سے چیزیں گرا نہ دے، چوری نہ کر لے، یہ نہ کر دے، وہ نہ کر دے... سو باتیں اس کے ذہن میں آ رہی ہیں۔
فرمایا: "اس ٹھیلے والے کی نماز اس Retired آدمی کی نماز سے بہت بڑھیا ہے۔"
کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی قربانی دیکھو، اپنی ساری پونجی کو خطرے میں ڈال کر یہ نماز کے لیے آیا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص، اس کو تو کوئی غم ہی نہیں۔ اللہ پاک نے اس کے رزق کا معقول ذریعہ بنا دیا ہے، اب وہ مزے سے نمازیں پڑھ رہا ہے، تو چلو ٹھیک ہے۔ لیکن جو دوسرا آدمی ہے جس کا یہ حال نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فوت ہوگئے تو کسی نے خواب میں دیکھا۔ فرمایا: "کیا ہوا؟"
فرمایا: "اللہ نے بہت کرم فرمایا، بہت اکرام کیا، بہت اکرام کیا۔ لیکن میرا پڑوسی مجھ سے آگے چلا گیا۔"
کہا: "آپ کا پڑوسی کیا کرتا تھا؟"
فرمایا: "عیال دار تھا، وقت ان کو نہیں ملتا تھا۔ بس اللہ تعالیٰ سے کہتا رہتا تھا کہ یا اللہ میں بھی اگر ابراہیم بن ادہم جیسا فارغ ہوتا تو یہ کرتا، یہ کرتا، یہ کرتا۔ دل اس کا بہت چاہتا تھا، کر کچھ نہیں سکتا تھا، جتنا کر سکتا تھا وہ کرتا تھا۔ اس سے زیادہ کوئی فریاد ہی کر سکتا تھا تو کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر اس کو بہت مرتبوں سے نوازا۔"
بھئی ابراہیم بن ادہم (اگر) عبادت کر رہا ہے نا، تو عبادت بھی اللہ کے لیے کر رہا ہے اور وہ اپنے بچوں کو بھی اللہ کے لیے پال رہا تھا۔ ان کے حقوق پورے کر رہا تھا۔ وہ یہ آرام تو نہیں کر رہا تھا نا کہ وہ لحاف کے اندر گھس گیا تھا بس جی آرام کر رہا تھا۔ آرام تو نہیں کر رہا تھا، کام ہی کر رہا تھا نا۔ تو یہ بھی اللہ کے لیے کام، یہ بھی اللہ کے لیے کام۔ تو بس ٹھیک ہے کام تو ہے۔ اب کوئی نفلیں پڑھ رہا ہے وہ بھی تو Exertion کر رہا ہے۔ تو جو کام کر رہا ہے وہ بھی تو Exertion کر رہا ہے نا۔ نیت دونوں کی اللہ کی ہو۔ نیت دونوں کی اللہ کی ہو۔