وبائی امراض اور طاعون: صبر، احتیاط اور عقیدۂ تقدیر

درس نمبر 46، جلد 1، باب 3: صبر کا بیان۔ (اشاعتِ اول)، 11 اگست، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

طاعون: مومن کے لیے رحمت اور کافر کے لیے عذاب

وبائی مرض میں صبر اور جائے وقوع پر قیام کا حکم

طاعون میں انتقال کرنے والے کے لیے شہادت کا اجر

عہدِ نبویﷺ اور عہدِ صحابہؓ میں آنے والے چھ بڑے طاعون

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

صبر پر شہادت کا ثواب

﴿وَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا أَنَّهٗ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللهُ تَعَالَى عَلٰى مَنْ يَشَآءُ فَجَعَلَهُ اللهُ تَعَالٰی رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهٖ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهٗ لَا يُصِيبُهٗ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهٗ إِلَّا كَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے ان کو بتایا طاعون عذاب الٰہی تھا جن لوگوں پر چاہتا تھا مسلط کر دیتا تھا اب اللہ نے اس کو ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے پس جو مؤمن انسان طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے وہ صبر اور طلب ثواب کی نیت سے اپنے شہر میں ہی رہے اس بات پر یقین کر لے کہ اللہ نے جو لکھ دیا ہے وہ پہنچ کر رہے گا تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔“

صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی تھی

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے عہد میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی۔

1. طاعون شیرویہ 6 ھ میں آیا۔

2. طاعون عمواس 17ھ یا 18ھ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں شام کے علاقے رملہ اور بیت المقدس کے درمیان کی بستی میں آیا اس میں تقریباً 25 ہزار اموات واقع ہوئیں۔

3. 50 ھ میں کوفہ میں آیا۔ اس طاعون میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا۔

4. عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں 67 ھ میں آیا اس کو طاعون جارف کہتے ہیں اس میں تین دن میں دو لاکھ دس ہزار اموات ہوئیں۔

5. طاعون فتیات عبدالملک بن مروان کے دور 87 ھ میں آیا اس کو طاعون فتیات اس لئے کہتے ہیں کہ اس طاعون کی ابتداء جوان لڑکیوں سے ہوئی۔

6. 100 ھ میں عدی بن ارطاة میں آیا۔


فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا۔

کوئی بندہ نہیں جو طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر کرتا ہو طلب ثواب کی نیت سے۔ طاعون یا اس قسم کی وبائی بیماری میں اللہ کی ذات پر اعتماد کرے اور تقدیر پر راضی رہے کہ جو حالات بھی آئیں گے وہ میری تقدیر کے مطابق ہی آئیں گے میرے یہاں سے بھاگنے سے میرے حالات تبدیل نہیں ہوں گے اور اس صورت میں جزع فزع اور ناشکری کا اظہار بھی نہ کرے۔ اس صورت میں اگر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو جائے گا۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ وبائی بیماری دوسری جگہ نہ پھیلے۔

یہی حکم دوسرے شہر کے لوگوں کے لئے بھی ہے کہ وہ طاعون زدہ شہر میں جانے سے اجتناب کریں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جب طاعون آیا تو وہ بھی اس جگہ تشریف نہیں لے گئے۔

کیا وبائی بیماری منتقل ہوتی ہے؟

اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے:

﴿لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ (توبہ: 51)

ہرگز ہرگز نہیں آئے گی ہم پر کوئی مصیبت بجز اس کے جو اللہ جل شانہ نے لکھ دی ہے اور اللہ پر ہی بھروسہ کرنا ہے ایمان والوں کو۔

اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد ہے:

لَا عَدْوَىٰ وَلَا طِيَرَةَ فِي الْإِسْلَامِ (اسلام میں بیماری لگنے کی حقیقت ہے اور نہ بدشگونی ہے)۔

اگر بیماری منتقل نہیں ہوتی تو وہاں سے نکلنے سے کیوں منع کیا گیا؟

یہ منع صرف اس لئے کیا گیا کہ کچے ایمان والے کا عقیدہ خراب نہ ہو جائے کہ میں فلاں جگہ چلا گیا تھا اس لئے یہ بیماری لگ گئی۔ آپ ﷺ نے ایک جذامی آدمی کے ساتھ کھانا کھایا اس بات کو بتانے کے لئے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہو گا

ہمارے شیخ رحمۃ اللہ علیہ بھی اسباب کے اوپر پورا عمل کرتے تھے لیکن اس حدیث شریف پہ بھی حضرت نے عمل کیا، ایک دفعہ ایک ٹی بی والے بیمار جو بعد میں ڈاکٹر بنے، انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میں نے حضرت سے پوچھا تو حضرت نے مجھے اپنے ساتھ کھانے پر بٹھایا اور ہم دونوں نے ایک پلیٹ میں کھایا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی تقدیر پر تو ایسے ہی ایمان ہو لیکن اسباب کی دنیا میں اسباب کا احترام کرے، اس لیے اسباب کا خیال رکھے کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرما دے۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔


وبائی امراض اور طاعون: صبر، احتیاط اور عقیدۂ تقدیر - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور