اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کے دن ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب ’’ہمعات‘‘ اس کی تعلیم ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے خوارق و کرامات کے بارے میں مضمون چل رہا تھا ۔
اس سلسلہ میں تمہیں کہیں یہ گمان نہ گزرے کہ جس مقام کو ہم حظیرۃ القدس کہہ رہے ہیں شاید وہ بنی آدم سے کئی مسافت دور ہوگا یا وہ اس دنیا سے کہیں کسی بلندی پر یا کسی اور طرف واقع ہوگا۔ بات یہ نہیں ہے بلکہ دراصل حقیقت یہ ہے کہ حظیرۃ القدس اور بنی آدم میں اگر فرق و تفاوت ہے تو صرف مرتبہ و مکانیت کا ہے بعد و مسافت کا نہیں اور حظیرۃ القدس کی ہم سے وہی نسبت ہے جو روح کو جسم سے ہوتی ہے۔
چو جاں، اندر تن و تن جاں ندیدہ
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس زمین میں بسنے والے جب طلسمات اور اس قسم کی اور تدبیروں سے کام لیتے ہیں یا کسی نہ کسی طرح وہ اپنی ہمتوں کو حظیرۃ القدس تک پہنچا دیتے ہیں، مثلاً جب لوگ بارش کے لیے نماز استسقاء میں جمع ہوتے ہیں یا حج میں مقام عرفات میں رحمت کی دعا مانگتے ہیں تو یقینی طور پر یہ چیزیں نظام عالم میں مؤثر ہوتی ہیں۔
اسی قبیل سے ہمت اور توجہ کا قائم کرنا بھی ہے اور اس کی تفصیل یوں ہے کہ ایک شخص ہے جو بڑا قوی العزم ہے اور اس کی جبلت میں تصرف کی قوت ودیعت کی گئی۔ اس کے بعد اس نے محنت اور ریاضت کے ذریعے اس قوت تصرف سے اور بھی مناسبت پیدا کرلی ہے۔ اب یہ شخص ایک کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں جو عزم و ارادہ کرتا ہے تو اس کا یہ عزم و ارادہ حظیرۃ القدس تک جا پہنچتا ہے اور وہاں کسی نہ کسی طرح اپنی تاثیر ڈالتا ہے۔ چنانچہ حظیرۃ القدس کی یہ تاثیر اس شخص کی ہمت اور نیز اس شخص کے پیش نظر کام کے جیسے اسباب و حالات ہوئے ہیں ان کے مطابق عالم اسفل میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔
اس کے بارے میں میں ایک بات کچھ عرض کروں گا۔ ہر انسان کے اندر تین نظام ہیں: ایک نفس ہے، ایک قلب ہے، اور ایک عقل ہے۔ ان تینوں نظاموں کا باہمی تعامل ہوتا ہے۔ نفس جو ہوتا ہے، یہ قوتِ بہیمی کا ہوتا ہے مقام۔ اور قلب میں قوتِ عازمہ ہوتی ہے۔ یعنی جیسے یوں سمجھ لیجئے کہ کوئی شخص کسی جانور کو مطلب دوڑا رہا ہو یا اس کو control کر رہا ہو، تو اس طرح دل جو ہے ناں وہ نفس کو control کرنے والا ہوتا ہے، لیکن اس صورت میں جب اُس جانور کو سدھایا جا چکا ہو، ورنہ پھر وہ قابو نہیں ہوتا، مطلب کہ جو پکڑنے والے کے قابو نہیں ہوتا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جس وقت نفس کی قوت بہیمیہ کو دبایا جاتا ہے تو اس سے اگرچہ بنیادی طور پر تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کے جو ارادے ہیں اور انسان کے جو اعمال ہیں وہ شریعت کے مطابق ہو جائیں، بنیاد تو یہ ہے، لیکن نفس کے دبنے سے قوتِ بہیمیہ دب جاتی ہے، تو قوتِ بہیمیہ کے دبنے سے جو اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں ہوتی ہیں وہ ابھر آتی ہیں، جن کو ہم فاعلات کہتے ہیں، وہ ابھر آتی ہیں، وہ چھپی ہوئی صلاحیتیں۔ اب اگر کسی کے اندر اللہ جل شانہٗ نے تصرف کی قوت ودیعت کی ہوئی ہے، جیسے مقناطیس کے اندر اللہ پاک نے صفت رکھی ہوتی ہے کھینچنے کی، تو اب یہ ہے کہ بعض لوہا جو ہے مقناطیس بن سکتا ہے، بعض نہیں بن سکتا، لیکن جو لوہا مقناطیس بن جاتا ہے وہ بھی کھینچنے لگتا ہے، وہ بھی کسی اور چیز کو مقناطیس بنا سکتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو شخص ہے، اس میں چونکہ مناسبت ہے اس کام کی اور اس نے ریاضت کی اپنی اصلاح کے لیے، لیکن وہ ریاضت alignment بھی ہوگئی، مطلب اس ریاضت کے ذریعے سے اس کی alignment بھی ہوگئی، اس کی alignment کی وجہ سے جو اس کے اندر جو قوت ہے اس کو مل گئی جِلا، concentration develop ہوگئی اور مطلب یہ ہے کہ یکسوئی develop ہوگئی، جس کی وجہ سے اب اس کی جو اندرونی روحانی تصرفات کی قوت ہے وہ اس کو جِلا مل گئی، نتیجتاً وہ جو اس کو مل گئی اس سے وہ صاحب تصرف ہو جاتا ہے، مطلب وہ توجہ کر سکتا ہے جس کی وجہ سے اس کی توجہ میں وہ چیز۔۔۔۔ لیکن اب ذرا غور فرمایئے تھوڑا سا، بہت باریک بات کر رہا ہوں، کوئی شخص ہے وہ اپنی ان چیزوں کو align کر لیتا ہے اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے، مجاہدات اور ریاضتیں کر لیتا ہے جیسے جوگی کرتے ہیں، اس طرح کوئی دنیادار صوفی ہے تصوف کے نام پر کوئی جوگ اور ریاضت وغیرہ کر لیتا ہے، اس کے اندر بھی صلاحیت develop ہو جاتی ہے، اب وہ جو صلاحیت اس کے اندر develop ہو گئی تو وہ پھر وہی کام کر سکتا ہوگا، کیونکہ اس کے اندر صلاحیت تو موجود ہے، صلاحیت تو موجود ہے، لیکن اس کی نیت بدلی ہوئی ہے، اس کی نیت دنیا کی ہے، آخرت کی نہیں ہے۔ اب جو اللہ والا ہے وہ اگر صاحبِ تصرف ہے تو وہ تصرف کرتا ہے اللہ کے لیے اور اس کو اللہ والا بنانے کے لیے کرتا ہے، تو یہ تو بہت اچھی بات ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھڈے میں گر گیا ہو اور اس کو کھڈے سے نکالا جا رہا ہو، تو اس کو کھڈے سے نکالنے کے لیے انسان کو زور تو لگانا پڑتا ہے، تو وہ تو ٹھیک ہے، تو یہ جیسے حضرات ہوتے ہیں بوقت ضرورت تصرف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انسان کسی حال میں پھنس چکا ہوتا ہے تو اس سے اس کو نکال لیتے ہیں، یہ تو ایک صحیح ضرورت ہے، اس کی صحیح صورت ہے۔ لیکن جو لوگ اس کو دنیاداری کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس سے دنیا کے فوائد حاصل کرتے ہیں تو پھر یہ ان کی شعبدہ بازیاں ہوتی ہیں، یہ پھر تصرف کی قوت کو استعمال کر کے لوگوں کو اپنا غلام بناتے ہیں۔ تو جیسے لوگ جنات کو غلام بناتے ہیں تو اس طرح ان کو بھی، انسانوں کو بھی غلام بناتے ہیں، تو ایسی صورت میں ان کی نیت چونکہ دنیا کی ہوتی ہے تو اس وجہ سے ان میں یہ قوت کا انکار نہیں کیا جائے گا، لیکن اس قوت کو علوی قوت نہیں کہا جائے، سفلی قوت کہا جائے گا۔ کیونکہ اس کی نیت سفلی ہے، اس کی نیت سفلی ہے۔ تو جو سیفی لوگ ہوتے ہیں یہ یہی کرتے ہیں، ان کے اندر یہ چیز ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر آدمی تو ان کا شیخ نہیں بنتا، تو جو بنتا ہے اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے، ان کو صرف align کر دیا جاتا ہے، align کر دیا جائے، تو پھر وہ کام کر سکتے ہیں، باقاعدہ لوگوں کو، جیسے کہتے ہیں نا فلاں کرنٹ مولوی صاحب، اور پتہ نہیں کیا، اس قسم کے وہ کام تو کرتے ہیں، میں نے دیکھا ہے ان کو، وہ بالکل ایسی توجہ کرتے ہیں جیسے کہ جوگی type کرتے ہیں، وہ زور لگاتے ہیں باقاعدہ، یہ نہیں کہ وہ، باقاعدہ جیسے وہ زور لگاتے ہیں، اشارے اس طرح کرتے ہیں جیسے مثال کے طور پر اس طرح اس طرح کریں گے تو اس کے اندر بھی وہی صلاحیت پیدا ہوگی، وہ چکر لگائے گا پھر، تو جو جو وہ حرکتیں کرتا ہے وہ حرکتیں اس کے اندر transfer ہوتی ہیں، تو یہ جو اس طرح اس طرح کرتے ہیں تو پھر وہ اس میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے، وہ ہل رہا ہوتا ہے، تو یہ ساری باتیں گویا کہ وہ جو اس کی اپنی دماغی قوت ہے وہ قوت اس کے اندر transfer ہو جاتی ہے، تو اس کے اندر resonance کی وجہ سے وہ چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ تو یہ حضرت نے جو فرمایا یہ بالکل اس طرح ہے کہ یہ کسی کے اندر اگر توجہ کی قوت موجود ہے پہلے سے، تو جو لوگ، (مطلب ان کی جبلت میں ہوتی ہے) تو جو محنت و ریاضت کر لیتے ہیں اس سے اس قوتِ تصرف میں مناسبت پیدا ہو جاتی ہے، تو جو لوگ اس طرح کرتے ہیں تو پھر ان کے اثرات ان کے اوپر پڑتے ہیں، لیکن جو اللہ والے ہوتے ہیں ان کا نظام یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس شخص پہ اثر ڈالتے ہیں، وہ اصل میں اوپر سے اللہ تعالیٰ کا جو نظام ہے اس کے ذریعے سے آتے ہیں، یعنی وہ توجہ کی قوت کو دعا میں شامل کر لیتے ہیں، نتیجتاً وہ دعا کرتے ہیں، اس دعا کی برکت سے اللہ جل شانہٗ ان کو وہ چیز نصیب فرما دیتے ہیں، وہ یہی جیسے مثال کے طور پر۔
تو اس کا یہ عزم و ارادہ حظیرۃ القدس تک جا پہنچتا ہے اور وہاں کسی نہ کسی طرح اپنی تاثیر ڈالتا ہے۔ چنانچہ حظیرۃ القدس کی یہ تاثیر اس شخص کی ہمت اور نیز اس شخص کے پیش نظر کام کے جیسے اسباب و حالات ہوئے ہیں ان کے مطابق عالم اسفل میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمِ اسفل کی قوتیں حظیرۃ القدس میں کیسے تصرف کرتی ہیں؟ ان قوتوں کے اس تصرف کی مثال یوں سمجھئے جیسا کہ خیال ہمارے اندر تصرف کرتا ہے۔ یعنی پہلے تو خیال قوائے مدرکہ کے ذریعے ہمارے اندر معرض وجود میں آتا ہے اور پھر اس سے ہمارے اندر عزم و ارادہ پیدا ہوتا ہے اور اس طرح خیال ہمیں متاثر کرتا ہے۔ یا عالم اسفل کی ان قوتوں کے تصرف کی مثال قوتِ منویہ کی سی ہے کہ وہ ہمارے دل اور حواس کو جنسی اعمال کی طرف مائل کردیتی ہے اور اس سے ہمارے شہوانی جذبات کی تسکین ہوجاتی ہے۔ حظیرۃ القدس میں عالمِ اسفل کے ان اثرات ہی کا نتیجہ ہے کہ ملائکہ، جن اور وہ روحیں جو اپنے جسموں سے الگ ہوکر دوسرے عالم میں پہنچ چکی ہوتی ہیں مختلف شکلوں میں انسانوں کے لیے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
اچھا اب ذرا تھوڑا سا دوسرے عالم میں چلے گئے حضرت۔ یعنی یہ جو ہے ناں یہ تو انسانوں کی بات ہے ناں، لیکن نہیں! ارواح، جن اور ملائکہ یہ کیسے کام کرتے ہیں، اس طرف چلے گئے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ملائکہ، جن اور یہ روحیں اس عالم میں ظہور پذیر ہونے کے لیے کوئی نہ کوئی شکل اختیار کرنے کی محتاج ہوتی ہیں (کیونکہ ان کی شکل تو کوئی نہیں ہوتی، تو وہ پھر کوئی شکل بنانا چاہتے ہیں، تو اس شکل کو بنانے کے لیے) چنانچہ یہ بڑی کوشش اور ہمت سے اپنے آپ کو کسی نہ کسی شکل میں صورت پذیر تصور کرتی ہیں۔
مثلاً، میں تصور کر لوں کہ میں فلاں کی طرح ہوں، تو یہ انسان کے بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یہ تصور کی قوت، مثال کے طور پر یہاں اگر کوئی تصور کر لے مجھے گرمی لگ رہی ہے اور اس کا قوتِ تصور موجود ہو تو اس کو واقعی گرمی لگنے لگے گی، یا مجھ کو سردی لگ رہی ہے، تو اس سے واقعی اس کو سردی لگنے لگے گی۔ ہمارے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ ہے، فرمایا: کمال ہے لوگ گرمیوں، سردیوں سے کیوں گھبراتے ہیں؟ جن کو گرمی لگ رہی ہے وہ زمہریر کا تصور کر لیں، ٹھنڈک ہو جائے گی، اور جن کو سردی لگ رہی ہے وہ جہنم کا تصور کر لیں تو گرمی لگ جائے گی۔ ہم لوگ تصور کی قوت سے اپنے اوپر کی چیزیں مطلب نافذ کر سکتے ہیں، لیکن وہ تصور کی قوت سے شکل تک بنا سکتے ہیں۔ وہ Advanced technology مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تصور کی قوت سے باقاعدہ ایک شکل، کسی کا شکل، مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں فلاں کی شکل میری جیسے ہے، تو ان کی شکل کا تصور کر کے کہ میں اس طرح ہوگیا، تو یہ شکل جو ہے ناں۔۔۔۔
چنانچہ یہ بڑی کوشش اور ہمت سے اپنے آپ کو کسی نہ کسی شکل میں صورت پذیر تصور کرتی ہیں۔ اور ان کا یہ تصور اس قوت کی وساطت سے جو حظیرۃ القدس میں ودیعت کی گئی ہے، عالمِ مثال کے دروازوں سے ایک دروازہ کو کھول دیتا ہے۔ (کیونکہ عالمِ مثال میں صورتیں ہی صورتیں ہیں، تو اس کا ایک دروازہ ان کے لیے چونکہ کھل جاتا ہے) اور اس کی وجہ سے ان کے اس تصور میں بڑی برکت پیدا ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ملائکہ، جن اور یہ روحیں ایک خاص صورت میں رونما ہوتی ہیں اور اس صورت کی ہیئت اور کیفیت تمام لوگوں کی حسِ مشترک کو متاثر کردیتی ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ اس صورت کا ادراک کرنے لگتے ہیں۔
حس مشترک یعنی تمام جیسے آنکھوں، کانوں، سوچنے، ان تمام چیزوں کی جو حسیں ہیں، ان تمام حسوں کے اوپر یہ طاری ہو جاتی ہے۔ مثلاً وہ سن بھی لے گا، وہ دیکھ بھی لے گا، وہ سوچے گا بھی اس کے بارے میں، مطلب وہ تمام چیزیں حس مشترک، جیسے کوئی junction ہو، junction کو متاثر کر لے گا تو ہر چیز جو اس کے ساتھ attach ہوگی، سب میں وہ چیز چلی جائے گی۔ تو اس طرح حس مشترک بھی ہمارے ہاں ہے، جس سے وہ ساری حسیں متحرک ہیں، تو وہ اس کو متاثر کر لیتے ہیں۔
الغرض ملائکہ، جن اور ان روحوں کی صورتیں انسانوں کے ادراکات میں اس طرح اپنا نقش جماتی ہیں جس طرح کہ ان کے دلوں میں فرشتوں کے الہاماتِ ہدایت و ارشاد اور شیاطین کے وسوسے اور پریشان کن خیالات جاگزیں ہوجاتے ہیں۔
یعنی قرآن پاک میں ہے، وہ کیا ہے جادوگروں کے ساتھ جو مقابلہ تھا موسیٰ علیہ السلام کا، تو اس میں کہتے ہیں۔ ﴿یُخَیَّلُ﴾ تو مطلب یہ ہے کہ وہ خیال اس میں ڈالنا کہ ان کو ایسے مطلب وہ چیز نظر آ رہی تھی۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی اسی قسم کی، قبیل کی چیز ہوتی ہے کہ لوگوں کے ادراکات کو متاثر کر لیتے ہیں اور ان کو وہ ویسے ہی نظر آتے ہیں۔
اور انسانوں کی حسِ مشترک میں ملائکہ، جن اور ان روحوں کی تشکل پذیری کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ہم ایک جلتی ہوئی چنگاری کو لے کر گھمائیں تو ہمیں آگ کا ایک دائرہ نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان کو ملائکہ، جن اور ان روحوں کی صورتوں میں سے کسی صورت کا ادراک حدِ کمال میں صرف اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ گرد و پیش کے علائق اور ان کے اثرات سے یکسر منقطع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر شخص کے لیے ان صورتوں کے ادراک کی بھی ایک سی کیفیت نہیں ہوتی، بلکہ ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق ہی ان صورتوں کو اپنے سامنے ظہور پذیر دیکھتا ہے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی مجلس میں بعض افراد ان صورتوں میں سے کسی صورت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا۔ اور نیز بعض اس صورت کو ایک رنگ میں دیکھتے ہیں اور بعض کو دوسرے رنگ میں یہی صورت نظر آتی ہے۔
یعنی یوں سمجھ لیجئے کہ ہر شخص نے اپنی اپنی عینک پہنی ہوئی ہے، تو اس کو اپنے اپنے اس کے حساب سے نظر آتا ہے یعنی اس کی اپنی استعداد کی اپنی عینک ہے جس کے ذریعے سے اس کو وہ اپنی طرح نظر آتا ہے۔
اس ضمن میں بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان چیزوں کی صورتیں ہوا، پانی، آگ اور خاک کے یہ جو چار عناصر ہیں ان میں سے عنصرِ اول میں نقش ہوجاتی ہیں۔
یہ اصل میں جو عنصر اول ہے وہ اس کا مطلب ہیولائے عنصری بھی اس کو کہتے ہیں یعنی تمام عنصروں کا مشترک عنصر ہے۔
اس عنصرِ اول کی خاصیت یہ ہے کہ وہ چاروں عناصر میں مشترک ہوتا ہے اور نیز روحانیت میں اس کی تاثیر قوی تر ہوتی ہے۔ چنانچہ عنصرِ اول کی دوسرے عناصر کے ساتھ وہی نسبت ہوتی ہے جو نسبت ان عناصر کی جمادات، نباتات اور حیوانات کے عالموں سے ہے۔ اور خلاء کا محال ہونا اور شیشے کے برتن کا خاص حالت میں ٹوٹ جانا، حقیقت میں عنصرِ اول ہی کی خصوصیت کا اثر ہوتا ہے۔ مشائین یعنی ارسطو کے پیروؤں نے اسی عنصر اول کو ہیولائے عنصری کا نام دیا ہے۔
الغرض ملائکہ، جن اور ان روحوں کی صورتیں جب اس عنصر میں منعکس ہوتی ہیں تو اس کے بعد یوں ہوتا ہے کہ نفوسِ مقدسہ میں سے ایک شخص جو مبدائے اول کے جوارح میں سے ایک جارح ہوتا ہے یعنی تدبیر الٰہی جن ذریعوں سے اس کائنات کا تصرف کرتی ہے یہ شخص ان ذریعوں میں سے ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ چنانچہ یہ شخص پوری ہمت سے ملائکہ، جن اور ان روحوں میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کی صورت کا تصور کرتا ہے۔ اس شخص کی اس ہمت و توجہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تدبیر مثال اور حظیرۃ القدس سے بے نہایت قوتیں اس موقع پر نزول فرماتی ہیں اور اس کی وجہ سے ایک صورت ظہور پذیر ہوتی ہے لیکن یہ صورت عناصر کی تاثیر کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اس صورت کی ایک مثال تو وہ آگ ہے جو طور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مشاہدہ کی تھی۔
مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ ایک نئی چیز ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ان عناصر کے اوپر مبنی نہیں ہوتی کہ ہم اسے کہہ دیں کہ بھئی یہ وہ چیز ہے، لیکن وہ ان سے ذرا مختلف چیز ہوتی ہے۔
اور اس کی دوسری مثال وہ واقعہ ہے جو صحیح مسلم میں حضرت جبرائیل کا آنحضرت ﷺ کے پاس آنے کا مروی ہے جس میں کہ آپ ﷺ سے جبرائیل نے اسلام، ایمان اور احسان کے متعلق سوالات کیے تھے اس طرح کا واقعہ تو شاذ و نادر ہی کبھی ہوتا ہے۔ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور پر جو آگ دیکھی تھی اس قسم کے واقعات کثرت سے معرضِ وجود میں آتے رہتے ہیں۔
خوارق و کرامات کے سلسلہ میں یہ اساسی امور اور مقدمات ہیں جن کا کہ اوپر بیان ہوا۔ چنانچہ اس ضمن میں صوفیاء سے اس قسم کے واقعات جو رونما ہوتے ہیں کہ ان میں سے کسی نے عالم تدبیر و خلق میں کوئی تصرف کردیا یا اپنی توجہ سے کسی گناہگار کو توبہ کی طرف مائل کردیا یا انہوں نے کسی کا دل مسخر کرلیا یا کسی شخص کے ذہن میں کسی ہونے والے واقعہ کا علم القا کردیا یا اولیاء کی نسبتوں میں سے کوئی نسبت کسی شخص کے دل میں پیدا کردی یا بیمار کی بیماری دور کردی یا اس طرح کی کوئی اور چیز ان کی بدولت ظہور میں آگئی۔ الغرض صوفیاء کے اس قسم کے واقعات خوارق کے ان اساسی امور اور مقدمات ہی کی شاخیں اور فروع ہوتے ہیں۔
خوارق اور کرامات کے اسباب میں سے ایک سبب برکت کا فیضان بھی ہے۔
برکت یہ ایک ایسا لفظ ہے جو جانتے سب ہیں لیکن کیسے ہوتا ہے اس کے بارے میں کسی کو پتا نہیں ہے، یہ بھی خوارق کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
اور برکت کی حقیقت یہ ہے کہ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل ایک شخص پر اپنی رحمت کی نظر ڈالتے ہیں اور اس شخص کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی نظرِ رحمت اور دعاؤں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل میں سے ایک قوت اس شخص سے جا کر متصل ہوجاتی ہے اور اس کا احاطہ کرلیتی ہے اور اس شخص کے وجود میں گھل مل جاتی ہے۔ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل کے اس فیضان کی وجہ سے اس شخص کے لیے طبعی اسباب میں "بسط" ہوتا ہے۔
طبعی اسباب یعنی اس کے جو جیسے دیکھنا ہے، سننا ہے تمام جتنے بھی حواس ہیں، ان میں بسط کی کیفیت ہوتی ہے، بسط یعنی کھلنے کو کہتے ہیں یعنی گویا کہ وہ بڑھ جاتی ہیں۔
یعنی ان اسباب میں اس کے لیے خلافِ معمول قوت و استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں اس شخص سے ایسے ایسے نفع مند کام اور آثارِ خیر ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کی کہیں نظیر نہیں مل سکتی۔
جیسے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا علم، ظاہر ہے ایک عجیب علم تھا کہ حضرت اکثر جب ویسے بولتے تھے تو ان کے بولنے میں لکنت نہیں تھی، لیکن جب تقریر کرتے تو اس میں لکنت پیدا ہوجاتی۔ تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ حضرت، ویسے تو لکنت والی نہیں ہے زبان آپ کی، لیکن جب تقریر کرتے ہیں تو لکنت پیدا ہو جاتی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں کیا کرتا ہوں، جب میں کوئی ایک لفظ لینا چاہتا ہوں زبان سے تو میرے پاس تیرہ تیرہ، چودہ چودہ الفاظ اس کے سامنے آ جاتے ہیں، ان میں سے پھر چننا ہوتا ہے، تو اس کی وجہ سے لکنت ہو جاتی ہے۔ بات تو ایسے ہی ہے۔ کسی نے حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہاں سے پڑھا تھا؟ فرمایا: پڑھا تو ہم نے بھی ادھر ہی سے تھا جہاں سے انہوں نے پڑھا تھا، لیکن کسی کے لیے اللہ تعالیٰ سوئی کے ناکے کے برابر کھول دیتا ہے اور کسی کے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کے برابر کھول دیتے ہیں، تو یہ پھر اس کا کام ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ برکت، ان کے علم میں اللہ نے برکت عطا فرما دی۔ کسی کے مال میں اللہ پاک برکت عطا فرماتے ہیں، کسی کی اولاد میں اللہ پاک برکت عطا فرما دیتے ہیں، کسی کی کسی اور چیز میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرما دیتے ہیں، تو یہ برکت جن کے ساتھ ہو جاتی ہے تو یہ پھر عجیب و غریب کام ان سے وجود میں آتے ہیں۔
ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل سے اس فیضان برکت کی مثال یہ ہے کہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان کی طبیعت کا تقاضا ہے کہ جب وہ کسی مرض کے دفع کرنے میں مشغول ہو یا وہ ندامت اور خوف میں مبتلا ہو یا اسے کسی بات پر غیرت آگئی ہو تو اس حالت میں اسے بھوک کا بالکل احساس نہیں رہتا۔ اور جب تک اس کی یہ حالت رہتی ہے اس کے اجزائے بدن کی تحلیل کا فعل بھی رک جاتا ہے لیکن اس حالت میں بھوک کا یہ عدمِ احساس اور اجزائے بدن کا تحلیل نہ ہونا ایک خاص حد تک ہوتا ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ جب ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل سے اس شخص پر برکت کا فیضان ہوتا ہے اور اس شخص میں اور اس برکت میں پوری ہم آہنگی ہوجاتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص میں بھوک کے عدمِ احساس کی استعداد اور اجزاءِ بدن کی تحلیل نہ ہونے کی قوت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں وہ ایک عرصہ تک بغیر کھائے زندہ رہ سکتا ہے اور اس سے اس کے جسم کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔
بعض دفعہ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل کی برکتوں کے نزول کے لیے اسماءِ الٰہی میں صمد، قدوس اور سبّوح کا ذکر ایک ذریعہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی بزرگ کی توجہ بھی ایک شخص کو ان برکتوں کا حامل بنا دیتی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان جب حالت انبساط میں ہوتا ہے تو اس کی طبیعت میں قدرتی طور پر یہ استعداد پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ کام کرسکتا ہے، زیادہ عرصہ تک بیدار رہ سکتا ہے، چنانچہ اس حالت انبساط میں زیادہ کام کرنے اور زیادہ دیر تک جاگنے کی وجہ سے اس کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہی شخص جب انقباض کی حالت میں ہوتا ہے تو اس میں پہلے کے مقابلے میں نصف اور تہائی قوتِ عمل بھی نہیں رہتی۔ چنانچہ اگر وہ اس حالت میں اپنی طبیعت پر زبردستی کرکے زیادہ کام کرتا اور زیادہ عرصہ تک جاگتا ہے۔ تو اس سے اس کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ الغرض ایک شخص پر جب مَلکی برکتوں کا فیضان ہوتا ہے اور اس شخص میں اور ان برکتوں میں کلی مطابقت اور پوری ہم آہنگی ہوجاتی ہے تو حالتِ انبساط سے کہیں زیادہ اس شخص میں زیادہ کام کرنے کی اور زیادہ عرصہ تک جاگتے رہنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔
علاوہ ازیں فطرتِ انسانی کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ انسانوں میں سے جو ذکی ہوتے ہیں ان کا ذہن یا تو استدلالِ عقلی کے ذریعے ایک چیز سے دوسری چیز کا ادراک کرلیتا ہے یا وہ چونکہ ایک چیز کے بعد لازماً دوسری چیز کو ہوتے دیکھتے آتے ہیں، اس لیے وہ عادتاً ایک چیز سے دوسری چیز کو سمجھ لیتے ہیں اور یا وہ ایک شخص کی ظاہری شکل و صورت سے اس کے باطنی اخلاق کا پتا لگاتے ہیں یا جو کچھ کسی شخص کے دل میں خیالات و خطرات آتے ہیں وہ ان کا اندازہ اس شخص کے چہرے کی خاص ہیئت اور اس کی آنکھوں کی کیفیت اور اس طرح کے دوسرے آثار و قرائن سے جان لیتے ہیں۔ لیکن ایک شخص خواہ وہ کتنا بھی ذکی کیوں نہ ہو ان چیزوں کو اس طرح کے آثار و قرائن سے صرف ایک حد تک ہی معلوم کرسکتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اس ذکی شخص پر جب ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل کی برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور یہ برکات اس کے نفس کا احاطہ کرلیتی ہیں تو ان کی وجہ سے اس شخص کی ذکاوت بہت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں اس سے فراست و انتقالِ ذہن کے عجیب عجیب واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں اور اسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص میں "اشراف" اور "کشف" کی بعض استعدادیں پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ ان کے ذریعے دوسروں کے دلی اسرار معلوم کرسکتا ہے۔
خوارق و کرامات کے ضمن میں فیضان برکات کی ایک اور شکل بھی ہوتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں ان میں سے ہر ایک کوئی نہ کوئی اعتقاد رکھتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اس اعتقاد کی ہر شخص کے اندر ایک صورت مضمر ہوتی ہے، جب کبھی یہ شخص اپنے اس اعتقاد کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو یہ توجہ اس کے اعتقاد کو متشکل طور پر اس کے سامنے لا حاضر کرتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اعتقاد کی یہ شکل اس شخص کی قوت متخیلہ کی طرف خود بڑھتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کی قوت متخیلہ اعتقاد کی اس شکل کو طرح طرح کے اوضاع و اقطاع اور رنگوں کا لباس پہنا دیتی ہے۔ چنانچہ جب کسی شخص میں اپنے اعتقاد کو اس طرح متشکل دیکھنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے تو اسی حالت میں اس شخص پر ملاء اعلیٰ اور ملاء سافل کی برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے وہ عجیب عجیب تجلیات دیکھتا ہے اور خواب میں اسے رویائے صالحہ نظر آتے ہیں۔
خوارق و کرامات کے ضمن میں جو کچھ ہم بیان کرآئے ہیں، اس ذیل میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ تصوف کے ہر طریقے میں بعد میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے گرمیِ بازار کے لیے اور خود اپنی کرامات اور خوارق کے اظہار کی خاطر ہمت و توجہ کی تاثیر دعوتِ اسماء اور اسی طرح کی عجیب عجیب چیزیں اپنی طرف منسوب کرلی ہیں اور اس کے علاوہ بعض لوگوں نے تو جو زبردستی شیخ طریقت بن بیٹھے ہیں، ان چیزوں کے ساتھ ساتھ طلسمات نیز نجوم اور رمل و جفر وغیرہ کا بھی اپنی طرف اضافہ کرلیا ہے۔ بہرحال یہ جان لینا چاہیے کہ یہ اور اس طرح کی اور چیزیں ہمارے اس موضوع سے جو خوارق و کرامات کے متعلق ہے، بالکل خارج ہیں۔
اس کو استدراج کہا جا سکتا ہے، ٹھیک ہے نا، مطلب یہ والی بات ہے۔
تو یہ ما شاء اللہ یہ chapter پورا ہو گیا اب۔