جادو کی حقیقت، نقصانات اور ہاروت و ماروت کا امتحان

درس نمبر 49: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 102۔ (اشاعتِ اول)،19 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دوسرا واقعہ جو ہاروت و ماروت والا واقعہ ہے تو اس میں بابل جو ہے نا

بابل عراق کا مشہور شہر تھا۔ ایک زمانے میں وہاں جادو کا بڑا چرچا ہو گیا تھا، اور یہودی بھی اس ناجائز کام میں بُری طرح ملوث ہو گئے تھے۔ انبیائے کرام اور دوسرے نیک لوگ انہیں جادو سے منع کرتے تو وہ بات نہ مانتے تھے۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ لوگوں نے جادوگروں کے شعبدوں کو معجزے سمجھ کر انہیں اپنا دینی مقتدا بنالیا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتے جن کا نام ہاروت اور ماروت تھا دنیا میں انسانی شکل میں بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کریں، اور یہ بتائیں کہ خدائی معجزات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ معجزہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جس میں کسی ظاہری سبب کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جادو کے ذریعے جو کوئی شعبدہ دکھایا جاتا ہے وہ اسی عالمِ اسباب کا ایک حصہ ہے۔ یہ بات واضح کرنے کے لئے ان فرشتوں کو جادو کے مختلف طریقے بھی بتانے پڑتے تھے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ کس طرح وہ سبب اور مسبب کے رشتے سے منسلک ہیں، لیکن جب وہ ان طریقوں کی تشریح کرتے تو ساتھ ساتھ لوگوں کو متنبہ بھی کر دیتے تھے کہ


یاد رکھو! یہ طریقے ہم اس لئے نہیں بتا رہے ہیں کہ تم ان پر عمل شروع کردو، بلکہ اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر جادو اور معجزے کا فرق واضح ہو، اور تم جادو سے پرہیز کرو۔ اس لحاظ سے ہمارا وجود تمہارے لئے ایک امتحان ہے کہ ہماری باتوں کو سمجھ کر تم جادو سے پرہیز کرتے ہو یا ہم سے جادو کے طریقے سیکھ کر ان پر عمل شروع کر دیتے ہو۔ یہ کام انبیاء کے بجائے فرشتوں سے بظاہر اس بنا پر لیا گیا کہ جادو کے فارمولے بتانا، خواہ وہ صحیح مقصد سے کیوں نہ ہو، انبیائے کرام کو زیب نہیں دیتا تھا۔ اس کے برعکس فرشتے چونکہ غیر مکلف ہوتے ہیں، اس لئے ان سے بہت سے تکوینی کام لئے جا سکتے ہیں۔ بہرحال! نافرمان لوگوں نے ان فرشتوں کی طرف سے کہی ہوئی باتوں کو تو نظر انداز کر دیا، اور ان کے بتائے ہوئے فارمولوں کو جادو کرنے میں استعمال کیا اور وہ بھی ایسے گھناؤنے مقاصد کے لئے جو ویسے بھی حرام تھے، مثلاً میاں بیوی میں پھوٹ ڈال کر نوبت طلاق تک پہنچا دینا۔

آج بھی یہ چیز بہت زیادہ عام ہے۔ بہت زیادہ عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جادو میں گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ جو بہت بڑا ایلیمنٹ (Element) ہے وہ یہی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان فساد ڈالنا۔ یہ ابھی بھی یہ چلا آ رہا ہے۔ تو جو لوگ جادوگروں کے ساتھ رابطے رکھتے ہیں وہ باقاعدہ ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اور وہ لوگوں کے خاندانوں کو تباہ کرتے ہیں۔ اس میں کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کوئی عورت کسی سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وہ اگر کسی اور جگہ کر لے تو پھر وہ حسد ہو جاتا ہے اس حسد کی وجہ سے پھر وہ جادوگروں تک پہنچ جاتی ہے اور پھر جو ہے نا وہ ان سے وہ جادو وغیرہ کرواتی ہیں اور وہ خاندان جو ہے نا وہ بالکل تباہ ہو جاتے ہیں۔ بڑے خوش خرم رہنے والے لوگ اچانک جو ہے نا مطلب ہے کہ ان کے اوپر ایسی بیماریاں آنی شروع ہو جاتی ہیں ایسی عجیب و غریب احوال شروع ہو جاتے ہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ تو یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ تو یہ سلسلہ ابھی تک چلا آ رہا ہے اور یہ بہت خطرناک جادو ہے۔ قرآن میں اسی کا ذکر ہے۔ ویسے بھی بہت سے چیزوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں کوئی حسد کی وجہ سے کوئی اچھے جاب (Job) پہ لگ گیا اس کے ساتھ اس طرح کیا، کوئی اور مطلب جو ہے نا وہ... تو یہ چلتا تو حسد سے ہے۔ لیکن حسد سے پھر دو چیزیں نکلتی ہیں، ایک نظرِ بد، نظر لگنا جس کو کہتے ہیں یہ بھی حسد کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایک پھر یہ ہے کہ اگر اس سے آگے بڑھ کر کوئی... کیونکہ نظرِ بد میں ضروری نہیں کہ اس کا ارادہ شامل ہو لیکن حسد دل میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اور جادو میں تو ارادہ بھی شامل ہوتا ہے۔

تو آگے فرماتے ہیں یہاں سے جملہ معترضہ کے طور پر ایک اور اصولی غلطی پر متنبہ کیا جا رہا ہے، اور وہ یہ کہ جادو پر ایمان رکھنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جادو میں بذاتِ خود ایسی تاثیر موجود ہے جس سے مطلوبہ نتیجہ خود بخود اللہ کے حکم کے بغیر ہی برآمد ہو جاتا ہے، گویا اللہ چاہے یا نہ چاہے، وہ نتیجہ پیدا ہو کر رہے گا۔ یہ عقیدہ بذاتِ خود کفر تھا۔ اس لئے یہ واضح کر دیا گیا کہ دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح جادو بھی محض ایک سبب ہے اور دُنیا میں کوئی سبب بھی اپنا مسبب یا نتیجہ اس وقت تک ظاہر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کی مشیت اس کے ساتھ متعلق نہ ہو۔ کائنات کی کسی چیز میں بذاتِ خود نہ کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت ہے نہ نقصان پہنچانے کی۔ لہٰذا اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔ البتہ چونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے اس لئے یہاں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی گناہ کرنا چاہتا ہے یا کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ تکوینی مصلحت کے مطابق سمجھتا ہے تو اپنی مشیت سے وہ کام کرا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ظالم کو گناہ اور مظلوم کو ثواب ملتا ہے، ورنہ اگر اللہ اسے اس کام کی قدرت ہی نہ دے تو امتحان کیسے ہو؟ لہٰذا جتنے گناہ کے کام دُنیا میں ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور مشیت سے ہوتے ہیں، اگرچہ اس کی رضامندی ان کو حاصل نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی رضامندی میں فرق یہی ہے کہ مشیت اچھے بُرے ہر کام سے متعلق ہو سکتی ہے، مگر رضامندی صرف جائز اور ثواب کے کاموں سے مخصوص ہے۔

یہ بڑا نکتہ حضرت نے بیان فرمایا۔ مشیت ہر جائز و ناجائز کام کے ساتھ منسوب ہو سکتی ہے۔ اور جو رضامندی ہے وہ صرف جائز کاموں کے ساتھ مخصوص ہے۔ تو کرتے تو ہر کام اللہ ہی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن اللہ پاک نے چونکہ اس دنیا کو دارالابتلاء بنایا ہوا ہے لہٰذا اگر کوئی کرنا چاہے تو اس کو کرنے دیا جاتا ہے۔ جب اللہ چاہے۔ یہ نہیں کہ مطلب جو ہے نا اس کو روک دیں اگر روک دیں تو پھر وہ کر ہی نہیں سکتا نتیجۃً پھر وہ امتحان ہی نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر میں بتاتا ہوں۔ اگر کوئی ایگزامنر (Examiner) کھڑا ہے اور انویجلیٹ (Invigilate) کر رہا ہے اور ایک طالبِ علم ایک سوال کا جواب غلط لکھ رہا ہے اور اس ایگزامنر کو پتا ہے کہ یہ غلط لکھ رہا ہے اور اس کو روک دے کہ تم غلط لکھ رہے ہو، تو کیا خیال ہے وہ امتحان ہوگا؟ وہ تو ظاہر ہے انویجلیشن نہیں ہوگی پھر۔ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ بھی اللہ نے بھی جو دارالاسباب بنایا ہوا ہے تو ان اسباب کو کرنے کا حکم ہے کہ جن اسباب... جیسے آگ کو جلانے کا حکم ہے۔ اب اگر کوئی آگ میں کسی کو ڈالے گا تو آگ خود نہیں جلا سکتا اللہ کا حکم چل رہا ہے وہ۔ وہ چل رہا ہے۔ اب جو بھی اس میں ڈالے گا تو وہ جل جائے گا۔ چونکہ جس نے ڈالا ہے وہ اس نے ظلم سے ڈالا ہے لہٰذا وہ ظالم ہوگا اور اس کو سزا ہوگی لیکن آگ کو کوئی سزا نہیں ہوگی آگ جو ہے نا مطلب وہ تو مشیتِ الٰہی سے چل رہا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ جو... ہاں البتہ کبھی کبھی اس حکم کو روک دیتے ہیں جیسے ابراہیم علیہ السلام کے لیے روک دیا تھا۔ تو لوگوں نے ان کو جلانا چاہا لیکن نہیں جل سکا۔ تو یہ بات ہے کہ اسی طریقے سے مطلب عالمِ اسباب کے اندر ہر چیز کے لیے اللہ پاک کے احکامات ہیں۔ اور وہ احکامات کنٹنیوس (Continuous) ہوتے ہیں۔ الا یہ کہ اللہ پاک کسی خاص مقصد کے لیے روکیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص ہے کسی کو دریا میں ڈال رہا ہے۔ اب دریا کو تو حکم ہے ڈبونے کا وہ تو ڈبوئے گا۔ لیکن ادھر سے کسی نے دعا کی یا اللہ اس کو بچا دے اور اللہ جل شانہ نے دریا کے حکم کو روک لیا کہ اس کو نہیں ہونا۔ تو بس وہ نہیں ڈبویا۔ اب وہ یار پہلا بھی ایک سبب تھا یہ بھی سبب ہے دعا بھی تو ایک سبب ہے۔ دعا بھی تو ایک سبب ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ وہ ادھر اس کا حکم ہے ادھر اس کا حکم ہے تو ہر چیز کے لیے اپنا اپنا اللہ تعالیٰ کا نظام ہے اور یہی تکوینی اور تشریعی نظام اس طرح چلتے ہیں۔

اس آیت کے شروع میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ جو مشرکانہ جادو کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، لیکن آیت کے آخری حصے میں فرمایا ہے کہ ’’کاش وہ علم رکھتے‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں ہے۔ بظاہر دونوں باتیں متضاد لگتی ہیں، لیکن درحقیقت اس اندازِ بیان سے یہ عظیم

سبق دیا گیا ہے کہ وہ علم جس پر عمل نہ ہو حقیقت میں علم کہلانے کا مستحق نہیں، بلکہ وہ کالعدم ہے۔ لہٰذا اگر وہ یہ بات جانتے تو ہیں مگر ان کا عمل اس کے بر خلاف ہے تو وہ علم کس کام کا؟ کاش کہ وہ حقیقی علم رکھتے تو اس پر ان کا عمل بھی ہوتا۔ یہ مطلب مطلب قرآنِ پاک کی بلاغت ہے نا کہ ایک چیز بیان کر رہے ہیں درمیان میں کتنی ساری چیزیں اور آ جاتی ہیں۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ انسان کو جو علم حاصل ہوتا ہے وہ علم تب کہلا سکتا ہے جب اس کے اوپر وہ عمل بھی کرنا چاہتا ہو۔ مثلاً دیکھیں یہ علم ہے کہ آگ جلا رہی ہے۔ سب کو پتا ہے۔ کوئی آدمی اس کو جانتے ہوئے بھی آگ میں کودتا ہے تو اس کو کیا کہیں گے یہ کیا چیز اس کو حاصل ہے؟ مطلب اس کو اپنے علم پر یقین نہیں تھا۔ وہ متردد تھا۔ تو اس وجہ سے جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ اس کو نقصان ہوا دنیا کا۔ یہ مثال کے طور پر یہ ڈاکٹر حضرات ہوتے ہیں اگر ان کو شوگر ہو جائے۔ تو وہ پرواہ نہیں کرتے بعض لوگ وہ جو ہے نا وہ میٹھی چیزیں کھاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو ان تمام ریسرچز (Researches) پر یقین نہیں ہے۔ ہاں ویسے جانتے ہیں لیکن ان کو یقین اس پر نہیں ہے۔ نتیجۃً وہ اس کا جو علم ہے وہ اس کے لیے فضول ہے۔ اس کے علم نے اس کو بچایا نہیں۔ تو اصل علم جو ہے نا وہ یہی ہے جو انسان کو عمل پہ آمادہ کرے۔ ورنہ پھر وہ صرف معلومات ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ


جادو کی حقیقت، نقصانات اور ہاروت و ماروت کا امتحان - درسِ قرآن - دوسرا دور