اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (يَقُولُ اللّٰهُ تَعَالَى: مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَآءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهٗ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهٗ إِلَّا الْجَنَّةُ)۔ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے پاس مومن انسان کے لیے جب میں اس کی دنیاوی محبوب چیز کو چھین لوں اور وہ صبر کرے، سوائے جنت کے کوئی بدلہ نہیں۔
یہ اصل میں اللہ جل شانہ کا کرم ہے اور احسان ہے کہ جو چیز اللہ نے دی ہے اور اللہ ہی کی ہے، لیکن اگر کسی انسان کو وہ محبوب ہو اور محبت اس کے ساتھ کرتا ہو اور پھر اللہ پاک اس کو لے لے تو اس پر اس کو بہت اجر عطا فرماتے ہیں۔ جیسا کہ بچہ اگر کسی کا مر جائے اور اس پر ظاہر ہے چونکہ بچہ سب کے لیے محبوب ہوتا ہے تو اللہ جل شانہ اس پر اس کو بہت اجر عطا فرماتے ہیں۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ جب اللہ کسی کے محبوب کی روح کو قبض کر لے پھر وہ اس پر صبر کرے، تو اس صبر کی وجہ سے اس کا اللہ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ اللہ جل شانہ اس بندے کو جنت دیے بغیر راضی اور خوش نہیں ہوں گے۔
جب آدمی کو اس قسم کا کوئی صدمہ پہنچے تو اس کریمانہ وعدے کو یاد کرکے صبر کرے تو ان شاء اللہ العزیز صبر میں اس کو ایک لذت و حلاوت ملے گی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً جنت بھی ہوگی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا: كِتَابُ الرِّقَاقِ، بَابُ الْعَمَلِ الَّذِي يُبْتَغَى بِهٖ وَجْهُ اللّٰهِ تَعَالَى۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو اللہ جل شانہ جو ہم سے چاہتے ہیں اس کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ پاک ہم سے راضی ہو اور اس راضی ہو کر پھر ہم سے ناراض نہ ہو۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ