رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ اور بیانِ فضائلِ نبوی کی شرعی حیثیت

(اشاعتِ اول) جمعہ، 16 فروری، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

             آیتِ کریمہ ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ کی تفسیر اور مفہوم۔

             توحید کے ساتھ رسالت کی گواہی کا لازم و ملزوم ہونا۔

              اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ حضور ﷺ کے ذکر کی معیّت (اذان، نماز، کلمہ میں)۔

              درود شریف بطور مظہرِ رفعتِ شانِ نبوی۔

              حضور ﷺ کا منبر پر خود اپنے حسب و نسب اور فضائل (قریش و بنی ہاشم سے ہونا) کو بیان کرنا۔

            حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ذریعے نعت گوئی اور فضائلِ مدحیہ کا بیان اور اس کا جواز۔

الحمد لله وكفى، وسلامٌ على عباده الذين اصطفى، أما بعد:

فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم.


﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

اللهم صل على محمد وعلی آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنك حميد مجيد.

اللهم بارك على محمد وعلی آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنك حميد مجيد.

مشروعیت و مطلوبیتِ ذکر شریف

قال الله تعالىٰ: ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾

اللہ کریم نے اپنے حبیب ﷺ کے متعلق فرمایا: ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾۔ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔

سید السادات، فخرِ انبیاء و مکملِ توحید حضرت محمد ﷺ نے رفعتِ ذکر کی یوں تشریح فرمائی:

أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ رَبُّكَ: أَتَدْرِي كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟

قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ.

قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي.

(فتح الباري، جلد نمبر 8، صفحہ نمبر 547)

میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہ کہا کہ آپ کا رب فرماتا ہے کہ: کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کا ذکر کس طرح بلند کیا ہے؟

حضور ﷺ نے فرمایا: یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

تو جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا کہ: جب میرا ذکر ہوگا تو میرے ساتھ تیرا بھی ذکر ہوگا۔

اس سے خود حق تعالیٰ کا اس ذکر شریف کو بلند کرنا ثابت ہوا۔

اسلامی عقائد و شریعت میں یہ عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ توحید باری تعالیٰ پر ایمان اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ سیدِ عالم ﷺ کی رسالت کی شہادت کوئی نہ دے۔

اسی طرح جہاں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوگا وہاں سیدِ عالم ﷺ کا ذکر بھی ہوگا۔ کلمہ طیبہ، اذان، اقامت، نماز سب جگہ آپ کا ذکرِ عالی ساتھ ساتھ مذکور ہے۔ کوئی تقریر یا تحریر، کوئی مجلس یا وعظ ایسی نہیں جس میں حمد کے ساتھ صلاۃ نہ ہو۔

کائناتِ ارضی و سماوی میں رفعتِ شان محمد ﷺ کا مظہر درود شریف ہے۔ جس کو خود حق تعالیٰ شانہ نے پہلے اپنے سے شروع فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِماً أَبَداً

عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

اللہ تعالیٰ کی رفعت اور شہرت تو ظاہر ہے، جو اس کے ساتھ مقرون ہوگا وہ رفعت و شرف میں بھی آپ کے ساتھ ہوگا۔

يَا مُحِبَّ الْمُصْطَفٰی زِدْ صَبَابَةً

وَدَمِّعْ لِسَانَ الذِّكْرِ مِنْكَ بِطِيْبِهِ

وَلَا تَعْبَأَنَّ بِالْمُبْطِلِيْنَ فَإِنَّمَا

عَلَامَةُ حُبِّ اللهِ حُبُّ حَبِيْبِهِ

)سن رکھ اے عاشقِ مصطفیٰ ﷺ! تو عشق میں خوب ترقی کر اور اپنی زبان کو خوشبوئے ذکرِ نبوی سے خوب معطر کر۔ اور اہلِ بطالت کی کچھ پروا مت کر کیونکہ علامتِ حبِ الٰہی اس کے حبیب کی محبت ہے۔(

آپ کا مجمع میں خود اپنے فضائل بیان کرنا:

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں کون ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا آپ رسول اللہ ﷺ ہیں۔

آپ نے فرمایا: میں رسول تو ہوں ہی مگر دوسرے فضائل حسبی و نسبی بھی رکھتا ہوں۔ چنانچہ میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے خلق کو، جو کہ جن وغیرہ کو بھی شامل ہے، پیدا کیا اور مجھ کو ان کے بہترین یعنی انسان میں سے کیا۔ پھر ان انسانوں کے دو فرقے (عجم و عرب) بنائے اور مجھ کو بہترین فرقہ یعنی عرب میں کیا۔ پھر عرب کے مختلف قبیلے بنائے اور مجھ کو بہترین قبیلہ یعنی قبیلہ قریش میں بنایا۔ پھر قریش کے کئی خاندان بنائے اور مجھ کو بہترین خاندان یعنی بنی ہاشم میں بنایا۔ پس میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی سب سے افضل ہوں اور خاندان کے اعتبار سے بھی سب سے افضل ہوں۔ روایت کیا اس کو ترمذی نے کذا فی المشکوٰۃ ۔

اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنے فضائل کا ذکر بر سرِ منبر فرمایا۔

اور ایک دوسرے موقع پر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اعلان کروا کر لوگوں کو جمع کیا اور اپنے فضائل بیان فرمائے۔

دوسری روایت:

فقیہ ابو اللیث نے "تنبيه الغافلين" میں اپنی سندِ متصل سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب سورہ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ﴾ آپ کے مرض میں نازل ہوئی تو آپ نے توقف نہیں فرمایا۔ جمعرات کے روز باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا کہ مدینہ میں اعلان کر دو کہ رسول کریم ﷺ کی وصیت سننے کو جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکار دیا اور چھوٹے بڑے سب جمع ہو گئے۔

آپ نے کھڑے ہو کر حمد و ثناء اور الصلاۃ علی الانبیاء کے بعد فرمایا کہ: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ہوں، عربی حرمی مکی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اس طرح شعراءِ صحابہ و تابعین نے بھی اہتمام کر کے اشعار میں اپنے فضائل بیان فرمائے۔

تیسری روایت:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے، جس پر کھڑے ہو کر رسول کریم ﷺ کے مفاخر بیان کرتے اور مشرکین کے مطاعن کا جواب دیتے۔ اور آپ ارشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ حسان کی تائید روح القدس سے فرماتے ہیں جب تک یہ رسولِ کریم ﷺ کی طرف سے مفاخرت یا مدافعت کرتے رہیں گے۔

(بخاری شریف)

اس سے آپ کا اپنے فضائل کا بیان کرانا بھی ثابت ہوا اور اس کے منظوم ہونے کا جواز بھی ثابت ہوا جب کہ حدِ شرعی کے اندر ہو۔






جاری ہے ان شاءاللہ







صحابہ اور تابعین کا ذکرِ شریف سننے اور حلیہ مبارک ذہن میں جمانے کا اشتیاق:

خوشا چشمے کہ دید آں روئے زیبا

خوشا دل کہ دارد خیالِ محمد

یعنی وہ آنکھ کتنی خوش قسمت ہے جس کو محبوب ﷺ کے چہرہ انور کی زیارت نصیب ہوئی اور وہ دل کس قدر خوش نصیب ہے جس میں آپ ﷺ کا خیال آتا ہے۔

سَلَامٌ عَلَى أَنْوَارِ طَلْعَتِكَ الَّتِيْ

أَعِيْشُ بِهَا شُكْراً وَأَفْنَى بِهَا وَجْدَا

یا رسول اللہ! آپ کے روئے مبارک کے جلووں اور پیشانی کو سلام، جس کو دیکھ کر میں شکر کی کیفیت میں زندہ رہتا ہوں اور وجد کی کیفیت میں فنا ہو جاتا ہوں۔

چوتھی روایت:

حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے جنابِ رسول کریم ﷺ کے شمائل کی نسبت سوال کیا اور وہ آپ کے حلیہ شریف کا بکثرت ذکر کیا کرتے تھے اور میں اشتیاق رکھتا تھا کہ میرے سامنے کچھ بیان کریں تو میں اس کو اپنے ذہن میں جما لوں۔

(ترذی شریف کے شمائل)

اس سے دو امر ثابت ہوئے: حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا شوق آپ کے شمائل کا ذکر سننے کا، اور حضرت ہند کا ذوق بکثرت آپ کے شمائل کے ذکر کرنے کا۔ نیز شمائل میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کی سیرت، مجالست، اور ہم نشینی کی کیفیت کی نسبت سوال کرنا مروی ہے۔

پانچویں روایت:

خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مجمع حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں رسول کریم ﷺ سے کچھ باتیں کیجیے۔ انہوں نے فرمایا میں کیا کیا باتیں کروں؟ یہ تو بیان سے خارج ہے۔ اس کے بعد کچھ حالات بیان فرمائے۔

اس سے تابعین کے اشتیاق آپ کے حالات سننے کا ثابت ہوا۔

غرض حق تعالیٰ کے ارشاد سے، حضور ﷺ کے قول و فعل سے، صحابہ و تابعین کے عمل سے ذکر شریف کا مندوب و محبوب ہونا معلوم اور مفہوم ہوا۔

احتیاط:

محفل کے آخر میں وہ مواقع مذکور ہوئے کہ جہاں درود شریف پڑھنا خلافِ ادب ہے۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ذکر شریف بھی اگر قواعدِ شرعیہ کے خلاف ہوگا، جیسا بعض بے احتیاطوں نے آج کل اس میں بعض منکرات کو ضم کر لیا ہے، وہ سوئے ادب ہونا شمار ہوگا۔

خلاصہ یہ کہ محبت کے ساتھ ادب نہایت ضروری ہے۔

تُرْكُ الْعِشْقِ كُلُّهَا آدَابٌ

أَدِّبِ النَّفْسَ أَيُّهَا الْأَصْحَابُ

یعنی عشق تمام کا تمام ادب ہی ہے، اے دوستو اپنے آپ کو با ادب بناؤ۔

قصیدہ کا ترجمہ ہے: میں نے آپ ﷺ کی مدح و نعت سے حمد و خدمت کی کہ میں اس سے اس عمر کے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں جو شعر گوئی اور دنیا کی خدمت میں اور مدح و ثناء میں گزاری۔ اور جب سے میں نے آپ ﷺ کی مدح کو واجب کر لیا ہے تو میں نے اس کو اپنی نجات کے لیے نہایت عمدہ ضامن پایا۔ اور وہ توانگری جو بذیریعہ آپ ﷺ کے حاصل ہوگی وہ ہرگز کسی کے ہاتھ کو خالی اور محتاج نہیں چھوڑے گی، بلکہ ہمارے سب کو مالا مال کر دے گی۔ کیونکہ آپ کا فیض مثلِ بارانِ عام ہے کہ وہ لائقِ زراعت زمین کو، جس میں اس کا پانی بخوبی ٹھہرتا ہے، تر و تازہ کرتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حضور ﷺ کا ذکر و مدح بغرضِ انتفاعِ اہلِ دنیا سے نہ ہونا چاہیے۔

مطلب یہ ہے کہ یہ جو بعض حضرات مستقل پیشہ بنا لیتے ہیں نعتوں کے ذریعے سے کمائی کا، تو اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

یہ تو محبت کی بات ہے، محبت پہ کوئی پیسے لیتا ہے؟

مطلب یہ تو عجیب بات ہے کہ محبت پر بھی انسان کوئی پیسے... عبادت پر بھی پیسے نہیں لیے جا سکتے، محبت پر بھی پیسہ نہیں لیا جا سکتا۔

ایک دفعہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ اگر میں گانے کے طرز پر کوئی نعت سنوں تو میرے سر میں درد ہو جاتا ہے، تکلیف ہوتی ہے بہت زیادہ۔

تو ایک جگہ پر مجھے بلایا گیا تھا دو نعت خوانوں کا میزبان۔ وہ آئے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا کہ آپ ان کی میزبانی کریں گے۔ تو خیر، وہ مجبوری تھی پھر ان کے لیے تو بیٹھنا تھا، لیکن آج کل چونکہ گانے کے طرز پہ نعتیں ہوتی ہیں تو ایسے محافل میں میں نہیں بیٹھا کرتا۔ خیر ایسا ہوا کہ وہ تو مجھے سننی تھی کیونکہ وہ سب نعتیں گانے کے طرز پہ ہو رہی تھیں۔ بہت تکلیف ہوئی مجھے، لیکن بہرحال وہ تو برداشت کرنا تھا۔ پھر ان کو میں لے گیا تھا اپنے گھر۔ جب کھانا کھا رہے تھے تو میں نے ان دونوں سے عرض کیا، بہت نرمی سے عرض کیا۔ میں نے کہا کہ آپ حضرات سے ایک درخواست ہے کہ نعت کو گانے کے طرز پہ کہنا ایسا ہے جیسے قرآن کو لیٹرین میں پڑھنا۔ یہ تو بہت سخت بے ادبی ہے، تو آپ اگر مہربانی کر کے ایسی نعتیں پڑھیں جو گانے کے طرز پہ نہ ہو تو بہت اچھا ہوگا۔

نعت کہنا تو بہت ظاہر ہے قابلِ تعریف کام ہے۔ آپ ﷺ کی تعریف کرنا، وہ تو بہت اعلیٰ کام ہے۔ آپ ﷺ کے صحابہ نے کیا ہے اور اللہ پاک نے کیا ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے قرآن میں کیا ہے۔ اور بھی ظاہر ہے ہمارے جتنے اکابر ہیں ان کا یہ رہا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ماشاءاللہ بڑے اچھے نعتیں ہیں، قصائد ہیں۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اس کو اس چیز سے ملوث نہیں کرنا چاہیے۔

تو دونوں کی زبان سے بیک وقت یہ بات نکلی کہ: "بغیر گانے کے طرز کے تو اب نعت ہے ہی نہیں!"

تو مجھے اس انتہائی درجہ کی تکلیف ہوئی کہ بات غلط تھی، ایسا نہیں ہے، وہ یہ کیوں نہیں؟ اس کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ میں بغیر گانے کے طرز کے جو ہے نا وہ نعتیں جمع کروں گا۔ ان کی ایک "سی ڈی" (CD) بناؤں گا تاکہ لوگوں کے اوپر ثابت ہو جائے کہ ایسی نعتیں ہیں۔

اللہ کا شکر ہے پھر ہم نے جمع کی اور اب تو میرے خیال میں ایک سی ڈی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ ہاں جی؟

تو جو گانے کے طرز پہ نہیں ہیں اور اچھے اچھے شعراء کے کلام ہیں۔

تو وہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ جو اچھے لوگوں نے پڑھا بھی ہے، بہرحال یہ ہے کہ یہ بہت بد ذوقی کی بات ہے کہ انسان جو ہے نا نعت کے لیے اس قسم کا جو ہے نا وہ ترتیب بنائے کیونکہ دیکھو نا، وہ جو مطلب خوب... خود حسین ہوتا ہے، کیا اس کو میک اپ کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہاں جی؟

تو نعت تو بذاتِ خود بہت اچھا کلام ہے اور اس کے ساتھ تو محبت والا معاملہ ہے، تو محبت کے لیے تو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کو ڈھول سنہڑے کے ساتھ لگا دیا جائے یا ان کے طرز پر...

اور ویسے بھی حدیث شریف ہے کہ جو جن کی مشابہت کرے گا وہ ان میں سے ہوگا۔ تو اب اگر نعت خواں جو ہے نا مطلب اس کی مشابہت کریں گے، اس کی جو ہے نا وہ یعنی گانے والوں کی، تو ظاہر ہے وہ ان میں سے اٹھائے جائیں گے۔ تو وہ مناسب نہیں ہے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمالے۔ یہ بہت ہی سخت غلط بات ہے۔ البتہ نعت، اس کی بھی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ افراط و تفریط بہت زیادہ پایا جاتا ہے آج کل۔

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ غلط لوگوں کی سزا اچھے لوگوں کو دی جاتی ہے۔ یعنی جو غلط لوگ کام کرتے ہیں نا جو غلط، اس کی سزا میں ان لوگوں کی مخالفت کی جاتی ہے جو صحیح کر رہے ہیں۔ اس کو میں مثال دیتا ہوں جیسے آپ "واپڈا" (WAPDA) والے ہمارے ساتھ کرتے ہیں۔ کہ جو بجلی چوری کرتے ہیں تو ان کے پیسے بھی ان سے لیتے ہیں جو بل ادا کرتے ہیں۔

یہ مطلب آج کل الٹی بات ہے نا کہ جو شریف ہیں ان کو رذیلوں کی سزا دے دو۔ تو یہ بہت غلط بات ہے، یہ تو ڈبل ظلم ہے۔ ہاں جی؟

تو بہرحال یہ ہے کہ انسان کو جو اچھے لوگ ہیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔ اب اگر کوئی نعت خوانی کو غلط کہتا ہے، نعوذ باللہ من ذلک، یہ بات بہت دور تک چلی جائے گی۔ کوئی نعت خوانی کو کوئی غلط کہتا ہے، کیونکہ ظاہر ہے آپ ﷺ نے خود اپنی تعریف بیان فرمائی ہے، جیسے ابھی گزرا ہے۔ پھر صحابہ کرام کی ہمارے پاس نعتیں جمع ہیں الحمدللہ عربی میں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ہے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ہے، اس طرح کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان سب کی جو ہے نا مطلب یہ نعتیں موجود ہیں، عرب میں تو شعراء بہت تھے۔ ہاں جی؟ تو ظاہر ہے مطلب وہ گھڑ گھڑ میں شاعر ہوتے تھے۔ تو وہ جو ہے نا مطلب ظاہر ہے ایسے موقع پر نعتیں بھی کرتے تھے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو ہے نا نعت خوانی کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ غلط طریقے سے نعت پڑھنے والوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔

وہ ایک دفعہ مجھے کسی مولوی صاحب نے ایک کیسٹ (Cassette) دے دیا۔ بہت افسوس ہوا، مجھے کیسٹ دے دیا کہ یہ بہت اچھا کیسٹ ہے اور "بِنوں ٹاؤن" (Billo Town?) سے آیا ہے۔ ہاں جی؟

تو خیر میں نے کہا اچھی بات ہے، اب ظاہر ہے مجھے اگر "بِنوں ٹاؤن" کے حوالے سے دے رہے ہیں تو اچھا ہی ہوگا۔ اور وہ آدمی بھی بالکل صحیح مطلب پڑھے ہوئے بھی ہیں "بِنوں ٹاؤن" سے تھے۔

وہ میں نے سنا تو اس کے ساتھ ذکر ہے نا ذکر: اللہ ھو، اللہ، اللہ ھو، اللہ، اللہ ھو، اللہ...

یہ "اللہ ھو اللہ" ابتداء میں صرف پتہ چلتا تھا اور پھر آہستہ جب تیز ہو جاتا تو اس کی آواز طبلے کی طرح ہو جاتی۔ وہ جیسے مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ طبلہ بج رہا ہے۔

اب یہ کتنی توہین ہے! اس کو کوئی برداشت کر سکتا ہے؟ بہت بڑی توہین ہے۔

تو مجھے تو اتنا غصہ آ گیا کہ میں نے کہا اس پر میں کچھ لکھوں گا اور پھر جو ہے نا رسائل کو بھیجوں گا تاکہ جو ہے نا اس کا قلع قمع ہو جائے۔ اگر ہمارے ہاں اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر اور کس سے گلہ کیا جائے گا؟ ہاں جی؟

تو خیر ایسا ہوا اللہ کا بھلا کرے "ضربِ مؤمن" والوں کا، اس میں ہی فتویٰ آ گیا کہ ایسا کرنا ایسا حرام ہے۔ ہاں جی؟ مطلب کسی نے پوچھا ہوگا، تو وہاں مفتی محمد صاحب کا فتویٰ آیا کہ یہ حرام ہے، مطلب اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ یہ بہت غلط بات ہے، ہم لوگ دوسرے لوگوں کو دیکھا دیکھی بس یہ غلطیاں کرتے ہیں۔

دو قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ مطلب باطل لوگوں کا توڑ انہی کے طریقوں میں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیعہ جلوس نکالتے ہیں تو عید میلاد النبی بھی جلوس نکلنا چاہیے تاکہ ہماری بھی کچھ نمائندگی ہو۔ مطلب ظاہر ہے وہ غلط بات ہے بھئی، غلط کو غلط کہنا چاہیے، چاہے وہ کسی طریقے سے بھی ہو۔ ہاں جی؟

اور دوسری طرف جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ وہ جو صحیح چیز ہے اس کی بھی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ ہاں جی؟ تو یہ غلط بات ہے، غلط کو غلط کہنا چاہیے لیکن یہ ہے کہ غلط کی وجہ سے صحیح کو غلط نہیں کہنا چاہیے۔ مطلب یہ بہت اہم بات ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعتدال نصیب فرمائے۔

حضورِ اقدس ﷺ کے ارشاد فرمودہ احکام کا ذکر اور آپ ﷺ کی پیاری سنتوں کا ذکر بھی ذکرِ رسول ہی ہے۔ اور بہت اہم ہے کہ ان کا بیان وجوبِ شرعی ہے۔ اور ذاتِ مقدسہ کے شمائل اور فضائل کے ذکرِ شریف کو وجوبِ عشقی کہنا چاہیے۔

لیکن ایک سوال میں آپ حضرات سے کرتا ہوں کہ جو چیز ایمان کا شرط ہو، تو اس کی بقاء کے لیے ایسے اعمال، ایسے کام جس سے وہ چیز رہے، وہ اس کا حکم کیا ہوگا؟ ہاں جی؟ اس کا حکم کیا ہوگا؟

فرض!

مطلب یہ ایمان تو لازم رکھنا ہے نا، تو آپ ﷺ کی محبت یہ ایمان کا جز ہے یا نہیں ہے؟

آپ ﷺ نے خود فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا (عربی کے الفاظ ہیں: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ)۔ ٹھیک ہے علماء نے اس کا ترجمہ مشروط کر دیا کہ "اے تم میں سے کوئی آدمی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا اس وقت تک"، یہ اس کے ساتھ یہ لگا دیا، ٹھیک ہے اس کی وجہ ہے کیونکہ ہمارے احناف کا مسلک ہے نا وہ مطلب اس میں جو ہے نا وہ یہ ہے کہ جو ہے نا مطلب یہ کہ اس کے درجات ہیں۔ ہاں جی؟ تو بہرحال یہ ہے کہ وہ صحیح ہے ہم لوگ بھی اس کی مخالفت نہیں کرتے لیکن اگر ظاہر الفاظ کو دیکھا جائے تو ظاہر الفاظ کیا ہیں؟ "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ" تم میں سے کوئی ایمان، مؤمن نہیں ہو سکتا۔

تو بہرحال یہ کہ آپ ﷺ کی محبت کے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا۔ اور محبت بھی کس درجہ کا؟ اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، سارے لوگوں سے زیادہ، اپنے آپ سے بھی زیادہ۔ اب بتاؤ! اس درجہ کا ایمان شرط ہے، ایمان... مطلب آپ ﷺ کی محبت جو ہے نا اس درجہ کا شرطِ ایمان ہے۔ ہاں جی؟

تو اب اس کو باقی رکھنا ضروری ہے یا نہیں ہے؟

تو باقی رکھنے کے لیے فضائل اور یہ جو ہے نا یہ سارے آپ ﷺ کی محبت کی باتیں بیان کرنا، یہ لازم ہو گیا یا نہیں ہوا؟ ہاں جی؟

تو یہ جو بیان کرنا ہے یہ وہ... ٹھیک ہے وجوبِ عشقی آپ ان کو کہہ دیں لیکن یہ تو ایمان کا مسئلہ ہے۔ ایمان کا مسئلہ ہے۔ اس پہ اعمال ہیں، باقی پھر اعمالِ سنت کے لیے بات کرنا کیا ہے؟ یہ اعمال کی بات ہے۔ اور یہ کونسی عمل... یہ کونسی بات ہے؟ ایمان کی بات ہے۔ تو ایمان کی بات کو سنبھالا دینا کتنا اہم ہوگا؟

تو یہ بات ہے کہ محبت کے بغیر ایمان ہی نہیں، فرمایا حضرت نے۔ ایسی حالت میں اعمال بجائے اخلاص کے نفاق ہوگا۔ لہٰذا ذکرِ مبارک کی کثرت محبتِ ایمان کا تقاضا بھی ہے اور محبت کو بڑھانے والے بھی ہیں۔ لیکن یہ بھی رہے کہ سچی محبت کے حصول کی علامت اتباعِ سنت ہے۔

حضرت نے یہ بات فرمائی لیکن شیطان ظالم ہے اور شیطان نے ایسا زبردست ناٹک رچایا ہے کہ ہم میں دو گروہ پیدا کر دیے۔ دو گروہ، بڑے گروہ، چھوٹے گروہ بھی نہیں، دو بڑے گروہ پیدا کر دیے۔

ایک گروہ آپ ﷺ کی ذات کی ایمان کو لازم قرار دیتا ہے اور سنتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔

اور ایک گروہ سنتوں کی بات کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی ذات کی محبت کی بات نہیں کرتے۔

ایسا ہے یا نہیں ہے آج کل دو گروہ؟ ہے نا؟ کہ نہیں ہے؟

اور اس پر بڑی عجیب تعجب ہے، تعجب ہے کہ شیطان نے یہ کیسے کر دیا؟ یعنی آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے والا کیسے محبت کا مخالف ہو سکتا ہے اور محبت والا کیسے سنت کی مخالفت کر سکتا ہے؟ یہ تصور میں آ سکتا تھا پہلے؟ نہیں آ سکتا تھا لیکن آج کل ہے یا نہیں ہے؟

تو بڑے گروہ اس طرح مطلب ہم میں پائے گئے کہ ایک جو ہے نا ذات کی محبت کی بات کرتے ہیں اور سنتوں کی بات نہیں کرتے۔ ہاں جی؟

اور دوسرے جو ہے نا سنتوں کی بات کرتے ہیں، ذات کی محبت کی بات نہیں کرتے۔

یہ آج کل بہت افراط و تفریط ہے۔

اس وجہ سے کہتے ہیں آخری وقت میں ایسا وقت آئے گا، آج صبح کو آدمی مسلمان ہوگا، رات کو کافر ہوگا۔ رات کو مسلمان ہوگا، شام کو... صبح کو کافر ہوگا۔

یعنی اس وقت... مطلب یہ ارتداد کا زمانہ جو ہے نا بہت تیزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ بچائے بڑھ رہا ہے۔ اس وقت اس لیے حضرت نے فرمایا: صحبتِ صالحین فرضِ عین ہے۔

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: صحبتِ صالحین فرضِ عین ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان بھی قائم نہیں رہتا۔

وہ یہ ایمان ہے جس کے بارے میں ابھی میں نے عرض کر لیا کہ وہ روایت ہے نا کہ صبح کو مؤمن ہوگا شام کو کافر اور شام کو مؤمن ہوگا صبح کو کافر۔ وجہ کیا ہے؟ جس چیز کا تذکرہ نہیں ہوگا۔ جس چیز کے بارے میں بتایا نہیں جائے گا، تو موٹی موٹی باتیں جن کے بارے میں آپ نہیں بتائیں گے، لوگوں کے ذہنوں سے نکل جاتی ہے۔ نکل جاتی ہے۔ پھر وہ بڑی عجیب لگتی ہیں۔

ایک دفعہ میں اذان ہو رہی تھی تو اذان کے بعد وہ کہتے ہیں نا مسلم شریف کی روایت ہے کہ پہلے درود شریف پڑھ لو پھر اس کے بعد وہ دعا پڑھو "اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة..."، یہ ہے نا دعا؟ مسلم شریف کی روایت ہے۔

تو میں نے درود شریف پڑھا، ذرا الفاظ بلند ہو گئے، تو ایک صاحب نے فوراً وہ "اللهم رب هذه الدعوة التامة..." وہ جلدی سے پڑھا تاکہ مجھے پتہ چل جائے کہ بھئی یہ تو نہیں ہے! اس کے بعد میں نے بھی وہ دعا پڑھنی تھی، اس کے بعد میں نے بیان بھی کرنا تھا، تو بیان میں پھر میں نے خوب ان کی خبر لی۔

میں نے کہا یہ مسلم شریف کی روایت ہے! اس پہ چڑنا نہیں چاہیے۔

ہاں یہ مسلم شریف کی روایت ہے، ٹھیک ہے اگر کوئی نہیں کرتا تو وہ مستحب عمل ہے، مستحب عمل ہے بس ٹھیک ہے، نہیں کرتا تو واجب... وہ کوئی ملامت والی بات نہیں ہے۔ مخالفت تو جائز نہیں ہوگی نا؟ مخالف تو مستحب کی بھی جائز نہیں ہے۔ کوئی عمل نہیں کرتا، ٹھیک ہے کوئی ملامت نہیں لیکن مخالفت جائز نہیں، مستحب کی بھی۔

آپ اشراق کی نماز کی مخالفت کر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے مطلب مستحب ہے۔ کوئی نہیں پڑھے گا اس کو کوئی کچھ نہیں کہے گا، وہ کہے گا تو وہ ملامت کے قابل ہوگا۔ ہاں جی؟ لیکن بہرحال اس کی مخالفت تو جائز نہیں ہے نا۔

اس طرح "بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"۔

کس کو پتہ ہے؟ کتنے لوگوں کو پتہ ہے؟ پتہ ہے؟

ماشاءاللہ، الحمدللہ۔

حدیث شریف میں ہے نا کہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے کیا پڑھ لیں؟ درود و سلام پڑھ لیں۔ ہاں جی؟

مسجد میں داخل ہونے کی دعا کیا ہے؟ "بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"۔ مسجدِ نبوی کی پیشانی پر موٹا موٹا لکھا ہوا ہے۔ ہاں جی؟

اس طریقے سے نکلنے کی دعا: "بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ"۔ یا اور بھی دعائیں ہیں، اور قسم کی دعائیں بھی ہیں لیکن بہرحال یہ بھی ہیں۔

تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ جب تذکرہ نہیں ہوگا تو پھر یہ بات ہوگی۔ پھر جو صحیح بات ہوگی اس کو لوگ کہیں گے یہ دین میں اضافہ ہے یا دین میں کمی ہے۔ جو دین صحیح بیان نہیں کیا جائے گا تو پھر یہ ہوگا۔ تو اب ایسی صورت حال ہے کہ کوئی ذکر بالجہر کرے، کہتے ہیں یہ تو کوئی دوسرا ہے! یہ پتہ نہیں ہم میں کہاں سے آ گیا۔ ہاں جی؟

کوئی درود شریف پڑھے، بھئی یہ یہ کیا بات ہو گئی؟

وہ نعت پڑھے گا تو پھر تو، پھر تو کیا بات ہے، پھر تو کہیں گے بھئی یہ تو بالکل پکا ہی ان کا ہو گیا۔

ہاں جی؟

بھئی خدا کے بندو! یہ ہمارے ہی ہیں۔ ایک دفعہ حضرت قاضی زاہد الحسینی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: کیا کریں! حنفیت بھی ان لوگوں نے چھین لی ہم سے، اہل بیت کی محبت بھی چھین لی، ہاں جی؟ اور آپ ﷺ کی محبت بھی چھین لی، اب ہم کیا رہ گئے ہیں؟ اب ہم کیا رہ گئے ہیں؟

بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یہ فکر کی باتیں ہیں۔ آخر ہم کیا رہ گئے ہیں؟

تو محبت کو ختم نہیں کرنا چاہیے، محبت بہت بڑی دولت ہے۔

ابھی آپ کے آنے سے پہلے میں نے بات کی تھی چونکہ ہم "درود تنجینا" بھی پڑھتے ہیں اور درود شریف بھی پڑھتے ہیں تو اعلان میں نے کیا، میں نے کہا بھئی "درود تنجینا" ہم دعا کی نیت سے پڑھتے ہیں۔ اور درود شریف جو یہ ہے اس میں ثواب زیادہ سمجھتے ہیں کیونکہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔

کیونکہ ہم پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں، یہ ایک غیر منصوص، جس کو کہتے ہیں غیر منصوص درود شریف کو عام کرتے ہیں۔

کیا ہے مطلب لوگوں نے؟ ایک جگہ میں گیا تھا وہاں پر ایک عالم آئے مجھے کہتے ہیں: آپ لوگ غیر منصوص درود شریف کو عام کر...

میں نے کہا خدا کے بندے! یہ دعا ہے۔ آپ ذرا پڑھ تو لیں، کیا ہے؟

"اللهم صل على سيدنا مولانا محمد وعلى آل سيدنا مولانا محمد صلاة تنجينا بها من جميع الأهوال والآفات وتقضي لنا بها جميع الحاجات وتطهرنا بها من جميع السيئات وترفعنا بها عندك أعلى الدرجات..."

یہ ساری دعا ہے یا نہیں ہے؟

میں نے کہا بھئی دعا ہے، دعا تو کسی بھی الفاظ میں کر لو آپ۔ اس کے لیے منصوص ہونا ضروری ہے؟ دعا کے لیے؟ کیا خیال ہے؟ منصوص دعائیں ہیں، لیکن کیا دعا کے لیے منصوص ہونا ضروری ہے؟

اس طرح درود شریف ٹھیک ہے، منصوص افضل ہے، لیکن اس کے لیے منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور درود شریف ہے۔ ساری کتابوں میں لکھا ہوا ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جو مطلب پڑھا کرتے تھے۔ اس طرح اور حضرات کے بھی ہیں۔

یہ تو اصل میں ﴿صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ پر عمل ہے۔ قرآن میں تو الفاظ نہیں بتائے گئے نا کہ کس طریقے سے ﴿صَلُّوا وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ کا... ٹھیک ہے ایک منقول چیز بھی ہے وہ افضل ہے، لیکن غیر افضل کو جائز ناجائز کہیں گے ہم؟ غیر افضل کو ناجائز تو کم از کم نہیں کہیں گے نا، چلو ٹھیک ہے جی وہ افضل پڑھیں، آپ کو کس نے کہا غیر افضل پڑھیں؟ لیکن اگر کوئی غیر افضل پڑھتا ہے آپ اس کا انکار نہ کریں کیونکہ ﴿صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ پر عمل ہے یا نہیں ہے؟

ہاں جی؟

تو بس ٹھیک ہے جی اللہ پاک نے فرمایا کہ جو ہے نا درود و سلام، ہاں جی؟ تو پڑھو، کثرت کے ساتھ پڑھو، اہتمام کے ساتھ پڑھو۔

تو بہرحال اس کے لیے جو ہے نا جو بھی الفاظ ادب کے ساتھ اور محبت کے ساتھ، سیاق و سباق کے ساتھ مل جل کر ہوں، جیسے قرآن و سنت میں ترتیب ہے اس کے مطابق ہوں، سبحان اللہ بالکل ٹھیک ہے وہ غلط بات نہیں ہے، ناجائز بات نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر کوئی ایسے غیر شرعی لفظ ہو درمیان میں جس میں آپ ﷺ کا مقام ظاہر ہے مطلب الٰہی صفات میں شامل کیا گیا ہو یا کچھ اور نعوذ باللہ من ذلک کچھ ایسی بات ہو جو شرک کیا ہو یا کوئی غلط چیز ہو تو ٹھیک ہے اس کو تو ہم غلط کہیں گے۔ اس کو تو ہم غلط کہیں گے۔ لیکن الفاظ... درود شریف کے الفاظ، تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو ہے نا ہم دعا کی نیت سے پڑھتے ہیں۔ اور دعا کی نیت سے پڑھنے پر کوئی وہ نہیں ہے۔

اب دیکھیں مجھے اگر آج خواب میں آپ ﷺ کوئی فرما دیں کہ آپ اس طرح دعا مانگیں، تو کیا خیال ہے میں نہیں مانگوں گا؟ مانگوں گا یا نہیں مانگوں گا؟

تو یہ بھی ایک بزرگ کو فرمایا گیا نا، ایک بزرگ کو فرما دیا، اس پر عمل بھی ہو گیا اور اس سے اس کا نتیجہ بھی سامنے آ گیا۔ تو اس قسم کی چیزیں جو ہوتی ہیں برکت کے لیے تو ہوتی ہیں، البتہ اس کو دین کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔ لہٰذا ہم ان کو درودِ منصوص نہیں کہیں گے۔ البتہ ﴿صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ پر عمل ہے اور باقی دعا ہے، دعا کے لیے کوئی الفاظ منصوص ہونا ضروری نہیں ہے، وہ جو ہے نا وہ ظاہر ہے جیسے بھی الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگنا چاہے تو دے۔

اور ہر دعا کے ساتھ درود شریف تو ہے ہی نا۔ ہر دعا کے ساتھ درود شریف تو مستحسن ہے ہی نا، وہ تو پہلے سے مطلب حدیث شریف میں ہے کہ جو ہے نا وہ دعا کے ابتداء میں... بلکہ آپ ﷺ نے تو اس پر ذرا تنبیہ بھی فرمائی ہے کہ مجھے سوار کا پیالہ نہ بناؤ۔ ہاں، تو یہ تنبیہ ہے نا کہ مطلب اس طرح نہ کرو کہ بس اخیر میں پڑھ لیا، نہیں پہلے بھی پڑھ لو، بعد میں پڑھ لو، درمیان میں پڑھ لو۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بغیر درود شریف کے دعا معلق رہتی ہے، یہ مشہور اثر ہے مطلب دعا کی۔

تو ٹھیک ہے جی ظاہر ہے مطلب ہے کہ درود شریف دعاؤں کے لیے بھی بڑا مجرب ہے۔ اور سب سے بڑی بات ہے کہ اللہ کی رحمت۔

اللہ کی رحمت وہ لفظ ایک ہے لیکن پتہ نہیں کیا ہے، معنی میں کتنا سمندر ہے۔ رحمت!

ہاں جی؟ تو رحمت اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں اس شخص پر جو ایک بار درود پاک پڑھتا ہے۔ بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے۔

دیکھو ہم کون سے، کتنے غلط اعمال کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں کوئی ایسا عمل تو ہونا چاہیے نا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت آئے اور وہ چیزیں زائل ہو جائیں۔ ہاں جی؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دعوت دینا چاہیے اور یہ جو گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں اور کتا ہوتا ہے، اس قسم کی چیزیں جو ہوتی ہیں اس سے رحمت کے فرشتے بند ہو جاتے ہیں۔ تو ان چیزوں سے بچنا چاہیے اور جو رحمت کو یعنی بلانے والے اعمال ہوں ان کو کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔

میں اکثر اگر جو مجھ سے پوچھتے ہیں میں ان کو بتاتا ہوں جن گھروں میں لڑائی اور ناچاقیاں ہوتی ہیں۔ آج کل گھر گھر میں مسئلہ ہے۔ تو ان کو بتاتا ہوں کہ دیکھو بات سنو، ایک تو گھر سے کتا نکالو اگر ہے، تصویریں نکالو اگر ہے اور اس قسم کے جو تصویروں کے ذرائع ہیں ان کو نکالو، اور ساتھ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بندوبست کرو۔ گھروں میں درود شریف پڑھنا شروع کر لو، جب اللہ کی رحمت آئے گی دلوں میں خود بخود محبت آئے گی ایک دوسرے کی اور یہ ساری چیزیں ختم ہو جائیں گی۔

یہ سب شیطان کی کارروائی ہے۔ یہ جو ہماری آپس میں لڑائیاں ہوتی ہیں، شیطان بہت ظالم ہے۔ تو شیطان کیا کرے گا؟ کسی ایک کے دل میں ایک وسوسہ ڈالتا ہے، دوسرے کے دل میں دوسرا وسوسہ ڈالتا ہے۔ اس کے لیے تو بند نہیں ہے نا یہ چیز۔ تو بس آپس میں لڑ پڑیں گے: ایک کہے گا تو نے یہ کیا، دوسرا کہے گا تو نے یہ کیا۔ اور دونوں وہمی چیزیں ہوں گی، کوئی اس کی حقیقت نہیں ہوگی۔ وہمی طور پہ گمان ہوگا جی آپ نے یہ بات اس طرح کی ہے۔ اور دوسری طرف جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ دوسرا بھی اس کے، اس کے دل میں بھی کوئی بات آئی ہوگی۔ نتیجتاً آپس میں لڑائی، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے گا تو درمیان میں کچھ بھی نہیں ہوگا۔

تو شیطان کی کارروائی ہے۔ تو شیطان کی کارروائی سے اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے۔ اس کے لیے اللہ پاک نے جو ہمیں ذرائع دیے ہیں ان ذرائع کو استعمال کرنا چاہیے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ ان ذرائع کو بند کرنا چاہیے جو شیاطین کو بلانے والے ہوں۔ جیسے میں نے عرض کیا ہاں، ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ان کو گھروں سے نکال لیں۔

وہ ایک صاحب تھے، وہ میرے پاس آئے، بڑے ہی پریشان تھے بیچارے، بہت پریشان تھے۔ ایک محکمے میں بہت بڑے عہدے پہ تھے۔ تو ان کو کچھ لوگ مخالف تھے، ایسے دیانتدار لوگوں کے مخالف ہوتے ہیں لوگ بہت زیادہ، تو مخالف تھے ان کے کچھ لوگ۔ تو انہوں نے سازش کر کے ان کو ایسی کمیٹی کا کنوینر بنا دیا جو بڑے بڑے مچھلیوں کے خلاف تحقیقات کر رہی تھی۔ ہاں جی؟ تو میرے پاس بہت پریشان آئے، کہتے: شاہ صاحب کچھ دعا کرو، مجھے تو ایسی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے، اب اگر میں سچ بولتا ہوں تو یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور اگر ان کے ساتھ، ان کا ساتھ دیتا ہوں تو حکومت مجھے چھوڑے گی نہیں، تو آگے کنواں پیچھے کھائی والی بات ہے، میں کیا کروں؟

اور واقعتاً ایسی چیزیں ہوتی ہیں ہمارے حالات میں، اس قسم کے ہیں آج کل، آپ اخباروں میں پڑھتے ہوں گے۔

تو پریشان تھے بہت زیادہ۔ میں نے کہا آپ بالکل پروا نہ کریں، آپ دیانتدار آدمی ہیں، مجھے پتہ ہے آپ کو اللہ تعالیٰ، آپ کی اللہ مدد کریں گے۔ البتہ آپ ٹھیک ہے اپنے دل کی تسلی کے لیے ایک وظیفہ میں آپ کو دیتا ہوں، یہ وظیفہ آپ پڑھیں، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائیں گے۔

اچھا وظیفہ اس نے لیا، کچھ عرصے کے بعد بڑا خوش خوش آیا، کہتے مجھے میرا ٹرانسفر (Transfer) ہو گیا سیالکوٹ! ٹرانسفر ہو گیا۔ اب ٹرانسفر سیالکوٹ ہو گیا تو کمیٹی سے نکل گئے۔ ظاہر ہے، لیکن سیالکوٹ ایسے لوگوں کے لیے سونے کی چڑیا ہے جو یہ کام کرتے ہیں نا کرپشن (Corruption) وغیرہ، ان کے لیے سونے کی چڑیا ہے۔ اب اس کا یہ فائدہ ہو گیا کہ ہر ایک اس کے ساتھ "میوچل ٹرانسفر" (Mutual Transfer) کرنا چاہتا تھا۔ تو لہٰذا دو تین مہینے میں واپس اسلام آباد!

واپس اسلام آباد بھی آ گئے لیکن کمیٹی سے نکل گئے۔ اللہ پاک نے حفاظت فرمائی۔ بڑے خوش تھے کہ شاہ صاحب آپ کے وظیفے نے بڑا کام کر دیا۔ میں نے کہا میرے وظیفے نے نہیں، بھئی آپ کی دیانتداری مطلب تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحم کیا، تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے بچایا ہے، اللہ کا شکر ہے۔

خیر وہ تو نہیں مانتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک اور صاحب کو لے آئے جو اسی کے برابر کے عہدے دار تھے، بڑے پریشان تھے۔ کہتے: جی شاہ صاحب ان کا کچھ کریں، بہت پریشان ہیں۔ میں نے کہا کیا ہوا ہے بھئی آپ کو؟ مجھے کہتے ہیں کہ مجھ پر کوئی جادو کرتا ہے، پھر میں اس کا توڑ کرواتا ہوں، وہ چند دن کے لیے ٹھیک ہوتا ہوں پھر سے وہ بڑا جادو کر لیتا ہے، پھر میں اس کا توڑ کرواتا ہوں، کہتے میں یہاں تک آ گیا ہوں اپنی زندگی سے، اب کیا کروں؟

میں نے جب اس کو غور سے دیکھا تو مجھے وہ ان کی طرح نظر نہیں آیا۔ ہاں جی؟

میں نے کہا بھئی بات یہ ہے کہ آپ میری بات مانیں گے تو نہیں مجھے پتہ ہے، لیکن چونکہ آپ میرے پاس آئے ہیں تو مجبوری ہے میں نے آپ کو سچ بتانا ہے۔ ہاں جی؟ آپ اس طرح کر لیں کہ یہ چار کام آپ کر لیں:

ایک حلال رزق کا انتظام کر لیں، حرام رزق چھوڑ دیں۔

دوسرا تصویریں گھر سے نکالیں۔

تیسرا ٹی وی (TV) گھر سے نکالیں۔

چوتھا گھر میں کتا ہو تو اس کو نکالیں۔

پھر میں آپ کو چھوٹا سا وظیفہ دوں گا، آپ کا کام ہو جائے گا انشاءاللہ۔ جب تک آپ نے یہ چار کام نہیں کیے میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے، کام نہیں ہوگا۔

ہاں جی؟

خیر وہ مجھے خالی خالی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، چلے گئے۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ اس نے میری بات سنی ہے نہ مانی ہے۔

بیس پچیس دن کے بعد میں نے پوچھا اس سے، میں نے کہا بھئی کیا ہوا آپ کے دوست کا؟

کہتا ہے: وہ تو مر گیا۔

﴿إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ﴾

ایسے حالات ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے دشمن آپ ہیں۔ اپنے آپ کو نہیں بدلتے اور حالات بدلنا چاہتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اپنے آپ کو بدلو، اللہ کی رحمت کو کھینچ لو۔

اللہ کی رحمت تو بے تحاشہ ہے، اس کی تو کوئی حد نہیں ہے، لیکن اس کی رحمت کے اسباب ہیں نا، ایک سمندر ہے، سمندر ہے پانی میٹھے پانی کا دریا ہے، آگے دیوار ہے تو آپ کے لیے کیا؟

بس وہ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ تو ہے اپنی جگہ پہ بیٹھا، پڑا ہوا ہے نا۔ اب اس کے لیے کوئی پائپ کا بندوبست کر لو، کوئی نالی کا بندوبست... کوئی جس طریقے سے بھی ہو، ادھر سے آ جائے گا نا پانی آ جائے گا۔

تو اسی طریقے سے مطلب رحمت کا سمندر ہے لیکن اس کے لیے لینے کا کوئی ذریعہ تو ہوگا نا؟ لینے کا کوئی ذریعہ ہو، سب کچھ ٹھیک ہے، ہمارے پاس ہے، قریب ہے، اللہ بہت قریب ہے۔ اللہ بہت قریب ہے، ہاں جی ہمارے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ مہربان بھی بہت ہے، بہت زیادہ مہربان ہے۔ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔

تو پھر کیوں مسئلہ... مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نعوذ باللہ من ذلک اللہ تعالیٰ کی مان نہیں رہے۔ اللہ جل شانہ کا ماننا شروع کر لیں خود بخود سارے مسئلے ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم لوگ اپنے آپ کو تبدیل کرنا شروع کر لیں، نیت کم از کم کر لیں نا۔ یہ تو نہیں... باغی تو نہ ہوں نا کم از کم۔ گناہ گار سے... باغی سے گناہ گار اچھا ہے۔ باغی والا معاملہ خطرناک ہے۔ کم از کم بغاوت تو نہ کریں نا، مان لیں کہ ہم گناہ گار ہیں، ہم لوگ اپنے آپ کو گناہ گار مان لیں، غلطیوں کو تسلیم کر لیں کہ ایسا نہیں ہے اور پھر توبہ کر لیں اور پھر آئندہ بچنے کی کوشش کر لیں۔

انشاءاللہ اللہ پاک مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو، سب کی مدد فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

اب ہم ذکر کرتے ہیں، وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے، تو انشاءاللہ باقی باتیں پھر بعد میں ہوں گی۔


رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ اور بیانِ فضائلِ نبوی کی شرعی حیثیت - فضائل درود شریف